Saturday, October 24, 2026

کیکٹس گارڈن

[10-22, 11:23 p.m.] AbidaR: @⁨Aysha Aijaz⁩ کراچی میں، میرے ہاں ایک کیکٹس گارڈن ہم نے بڑے شوق سے بنایا تھا اور اس میں کئی اقسام کے کیکٹس تھے- سب اسکو خوب سراہتے۔۔
لیکن ایک سہیلی نے دیکھ کر کہا " اسے دیکھ کر مجھے جہنم کے پودے یاد آجاتے ہیں۔۔ 😳 کیا آپکو یاد ہے؟
[10-23, 10:43 a.m.] AbidaR: قرآن پاک میں زقوم کا ذکر ہے - کیکٹس کے بھی بے شمار اقسام ہیں اور کئی بہت خوشنما ہیں- دراصل یہ گرم اور شدید گرم علاقے کا پودا ہے اور جہنم میں یہی اگ سکتا ہے -- اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں-
اللهم اعوذبك من النار 🔥
[10-23, 11:04 a.m.] AbidaR: ناگ پھنی، چوڑے پتے کی شکل یعنی ناگ کے پھن کی طرح ہوتا ہے اسکے کنارے سرخ رنگ کا پھل لگتا ہے جو پک کر کافی لذیذ ہوتا ہے ۔۔ 
یہاں اریزونا میں کیکٹس کے بڑے بڑے درخت ہیں جنہیں Saguaro Cacti کہتے ہیں- اسکی ساخت سے ایسا لگتا ہے کہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں- یہ بہت قیمتی اور محفوظ پودے ہیں-- 
یہاں کیکٹس کے بے شمار اقسام ہیں-
[10-23, 11:04 a.m.] AbidaR: https://share.google/xEX73lzc0Rkc7FqNz

Monday, October 19, 2026

کینیڈا کا یوم تشکر اور امریکہ کا یو م کولمبس

 کینیڈا کا یوم تشکر Thanksgiving Day

اور امریکہ کا یوم کولمبس Columbus Day

از --

عابدہ رحمانی

امریکہ اور کینیڈا کا یوں سمجھیئے چولی دامن کا ساتھ ہے -لیکن پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین بر آمدات پر بھاری محصولات لگا کر کینیڈا کا جینا دوبھر کر دیا ہے —جس سے حالات قدرے کشیدہ ہو گئے ہیں ۔۔

اگرچہ یہ دو الگ ملک ہیں اور کینیڈا کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی انفرادیت برقرار رکھے-- پہلے تواسپر امریکہ کو ہر گز کوئی اعتراض نہیں تھا—کیونکہ سیانوں کے مطابق امریکہ کو کینیڈا سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے--

انکی  چھٹیاں یا لمبے سہ روزہ ویک اینڈ بیشتر ساتھ ہی منائے جاتے ہیں -اسکے نام البتہ مختلف ہوتے ہیں --کینیڈا میں یوم وکٹوریہ ہوگا تو امریکہ میں یوم صدر ہوگا-- بارہ  اکتوبر کو کینیڈا میں یوم تشکر تھینکس گیونگ ڈے منایا گیا  اور امریکہ میں کولمبس ڈے-  

کینیڈا میں یہ دن اکتوبر کے دوسرے سوموارکو منایا جاتا ہے جبکہ امریکہ میں نومبر کے آخری جمعرات پر --

لیکن چاروں دانگ جو دھوم دھڑکا امریکی یوم تشکر کا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ اسکے اگلے روز کے سیاہ جمعے بلیک فرائڈے  کا ہوتا ہے کہ کافی سارے کینیڈین بھی اسکے دیوانے ہوتے ہیں-- اسکے بر عکس کینیڈا کی تھینکس گیونگ خاموشی سے گزر جاتی ہے -- نہ ہی وزیر اعظم یا گورنر جنرل کسی ٹرکی کی جان بخشی کرتے ہیں --نہ ہی کدو کا میٹھا(  بنتا ہے کیونکہ ابھی تو سارے پمپکن ہالوین( کے انتظار میں سجے ہوئے ہیں--

امریکی اور کینیڈین تھینکس گیونگ میں ایک ہی روایت کی پیروی کی جاتی ہے اور ایک ہی قسم کی اشیاء خورد و نوش تیار ہوتی ہیں -- وہی ٹرکی یا فیل مرغ روسٹ کیا جاتا ہے اسکے ساتھ اسکے لوازمات بنتے ہیں آلو کا بھرتا ، گریوی ، کرین بیری کی میٹھی چٹنی وغیرہ وغیرہ--

اللہ بلا کرے مقامی باشندوں کا جنہوں نے دور دیس سے  آنے والوں کی خاطر تواضع کی انہیں کھلایا پلایا اپنے ہاں بسایا اور اسکے بعد کیا ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے --

کچھ وہی حال ہوا ہوگا --

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ-- ہاۓ اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

یہ چھٹیاں جاتی ہوئی گرمیوں کی ، آتے ہوئے موسم خزاں اور سرد موسم کا پیغام دیتی ہیں --

جب اس خزاں کے آغاز میں درختوں کے رنگ بدلتے ہوئے پتے ایک سے ایک  حسیں پھب اور بہار دکھاتے ہیں--جب میپل کا پتہ سبز سے لال ، سرخ اور پھر پیلا ہوجاتا ہے اسطرح دوسرے پودوں اور درختوں کے پتے شوخ رنگوں میں ملبوس ہو جاتے ہیں --کیا دیوانہ کرنے والا منظر ہوتا ہے -سبحان اللہ

خِزاں کے دور میں لُطفِ بہار لیتا ہُوں 


 ریاستہاۓ متحدہ امریکہ میں  کولمبس ڈے منایا جائےگا- اسوجہ سے یہ سہ روزہ ویک اینڈ ہوگا  چونکہ یہ ایک وفاقی  چھٹی ہےاوریہاں کے معاشرے میں سہ روزہ ویک اینڈ کا بڑی شدت سے انتظار ہوتا ہے -یہاں کے کافی ریاستوں میں اسکے ساتھ موسم خزاں کی چھٹیوں کو ملا دیا جاتا ہے-کافی لوگ اس طرح کے ویک اینڈ پر سیر و تفریح کا پروگرام بنا ڈالتے ہیں - اور کچھ نہیں تو سٹوروں میں زبردست سیل لگ جاتے ہیں اور خریداری کا لطف اٹھایا جاتا ہے- کیونکہ آیئندہ  اور کرسمس کے تحائف کی بھی خریداری کرنی ہے--- یہ ساہوکاری اور کاروباری معاشرہ ہے ہمہ وقت سٹور اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کب اور کیسے خریداروں کو نشانہ بنایا جاءے اسی کو ٹارگٹ مارکیٹنگ کہتے ہیں- 

امریکہ کرسٹوفر کولمبس کا ممنون احسان ہے کہ اسنے اسے مغالطے میں دریافت کرلیا وگرنہ ابھی تک دنیا امریکہ سے محروم رہتی اور وہ کہیں گوشہ گمنامی میں پڑا رہتا-ذرا سوچئے اگر امریکہ اب تک دریافت نہ ہو چکا ہوتا تو کیا ہوتا شائد دنیا کا کچھ بھلا ہی ہوجاتا- جاپان، چین ،ویٹنام، عراق، افغانستان ،ایران ، پاکستان ، شمالی کوریا اور اب ایران ودیگر بے شمار ممالک چین کی بانسری بجاتے رہتے اور باقی دنیا میں بھی راوی چین ہی چین لکھتا- نہ ہی یہ دنیا ایک گلوبل ولیج بنتی نہ ہمیں ان کمپیوٹروں کی لت پڑتی -  پھریہ ڈھیروں ڈھیر سائینسی ایجادات کا کیا ہوتا؟ بقول حسن نثار کے" ہم تو اپنے پوتڑے بنانے کے قابل بھی نہیں" بہر کیف دنیا اسکے باوجود بھی چل رہی تھی لوگ زندہ تھے کھا پی رہے تھے اور خوب لڑ جھگڑ بھی رہے تھے- البتہ ہاں یہ ایٹمی دوڑ اور یہ ڈرون خدا کی پناہ---- امریکہ نے دنیا کا جانے انجانے میں وہی حشر کیا جو کولمبس نے امریکہ دریافت کرنے کے بعد وہاں کے مقامی باشندوں کا کیا --جسکی لاٹھی اسکی بھینس!

  ہاں  دنیا کا بھلا ہوتا  نہ ہوتا امریکہ کا تو ہو ہی جاتا -- ہر وقت امریکہ کو کتنی گالیاں پڑتی ہیں ، جھنڈے جلائے جاتے ہیں  صدر کے پتلے جلائے جاتے ہیں، شرم دلائی جاتی ہے لیکن امریکہ ایسا ڈھیٹ کہ ٹھس سے مس ہی نہیں ہوتا بلکہ پھیلتا ہی چلا جاتا ہے-پاکستان میں ہر جلوس میں نعرے بازی ہوگی” گو امریکہ گو اس سے ایک تو وہ دوبئی چلو والا قصہ لگتا ہے کہ جاؤ چلے جاؤ امریکہ چاہے جیسے بھی ممکن ہو ، اللہ کا بے حد احسان  ہے کہ ٹرمپ آجکل پاکستان اور فیلڈ مارشل پر بے حد مہربان ہے اور پاکستانیوں نے امریکہ کی جان بخشی کر دی ہے ۔۔


 اسوقت بھی امریکہ کا یہ حال ہے کہ ویزے کے لئے سب سے لمبی لائینیں اسی کی ایمبیسی میں لگی ہوتی ہیں ہر ایک کی خواہش ہے کہ وہ امریکہ جائے ، کم از کم ایک مرتبہ تو جائےاور جس کو ویزہ نہیں ملتا وہی سب سے زیادہ برا بھلا کہتا ہے , ہاں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جیسے میرے والد صاحب مرحوم کو ایک مرتبہ میں نے مشورہ دیا کہ آپ امریکہ گھوم آئیے ، کہنے لگے اللہ تعالی مجھ سے یہ ہرگز نہیں پوچھے گا کہ امریکہ گئے تھے یا نہیں ؟--میں نے انکو قائل کرنے کی کافی کوشش کی کہ دیکھئے گا "فردوس گر بر روئے زمیں است --ہمیں است وہمیں است وہمیں است" لیکن وہ نہیں مانے ،اسی جنت کو تو بچانے کے لئے امریکہ ساری دنیا کو تگنی کا ناچ نچاتا رہتا ہے ہے--

 اور یہ سب کولمبس کا قصور ہے نہ وہ امریکہ دریافت کرتا نہ ہی امریکہ کو یہ دن دیکھنے پڑتے-اب کولمبس نکلا تو ہندوستان کی تلاش میں تھا لیکن جا پہنچا امریکہ ، اب نجانے اسوقت امریکہ کا کیا نام تھا؟ وہ اپنے تیئں یہی سمجھا کہ وہ ہندوستان پہنچ گیا ہے کولمبس اطالوی نژاد ہسپانوی جھاز راں تھا اسوقت ہندوستان سونے کی چڑیا کہلایا کرتا تھا- کولمبس کو 1492 عیسوی میں باد شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا نے مالی امداد کے ساتھ اس مہم پر روانہ کیا، اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ کامیاب لوٹے گا تو اسکو امیرالبحر یا گورنر بنادینگے - فرڈیننڈ اور ازابیلا مسلمانوں کے جانی دشمن جنہوں نے اسپین سے اسلامی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور مسلمانؤں کا مکمل خاتمہ کردیا تھا- جب مسلمان یورپ میں آئے اسوقت یورپ مکمل تاریکی میں تھا - یہ اسلام کا سنہری دور تھا وہ اپنے ساتھ علم و دانش، علوم و فنون لائے - اسپین میں اب بھی انکے سنہرے شاندار ماضی کے آثار نمایا ں ہیں- کولمبس پہلی مرتبہ تین جھازوں کے بیڑے میں جزیرہ بہاماس کے پاس اترا ان سب علاقوں میں قبائیلی اطوار تھے یہاں کے لوگ نسبتا پر امن تھے- کولمبس کو یہاں عیسائیت پھیلانے  اور اپنی نو آبادیا ں بسانے کی کافی گنجائش نظر ائی اور اسکے بعد اسنے مزید تین سفر کئے اور کافی جہازوں کی معئیت میں ہر قسم کے آبادکاروں کو لایا جنمیں کسان ، تاجر ، کاریگر اور صناع شامل تھےاور یوں اپنی نو آبادیا ں بسا کر یہاں کا وائس رائے بن بیٹھا البتہ اسکے ظلم و ستم کی اتنی داستانیں بادشاہ کو پہنچیں کہ بالاخر بادشاہ نے اسکو پابہ جولاں داخل زنداں کیا جھاں 54 سال کی عمر میں وہ دار فانی سے کوچ کرگیا-

اس سارے قصے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کولمبس کا ذیادہ عمل دخل اور حاکمئیت جزائر غرب الہند اور کیوبا میں رہی  اور وہ مرکزی امریکہ میں جو اب ریاستہائے متحدہ امریکہ کہلاتا ہے میں کبھی داخل ہی نہی ہوا لیکن پھر بھی امریکہ والے اسکو اپنا سمجھتے ہیں اور اسکی اس دریافت پر فخر کرتے ہیں کیونکہ اسکے آنے کے بعد ہی یوروپی آباد کاروں کو امریکہ اپنے خوابوں کی منزل کی صورت میں نظر آیا اور شمالی امریکہ یوروپی سفید فام تارکین وطن کا نیا ملک بن گیا --جبکہ لاطینی امریکہ میں ہسپانوی نو آبادیا ں بنیں-

پچھلے برس کیریبین کروز کے دوران ہمارا جہاز ڈومینیکن کے ساحلی قصبے پورٹا پلاٹا میں رکھا - اسی بندرگاہ کو کولمبس نے سب سے پہلے شرف باریابی بخشا ۔۔

 اسی خراج تحسین کی خوشی  میں نیویارک میں بہت بڑا کولمبس کا مجسمہ ایستادہ ہے اور وہ کولمبس اسکوائیر کہلاتا ہے-البتہ اس مجسمے پر دل جلے ریڈ انڈئینز   نے خوب سنگ باری بھی کی ہے اب کولمبس نہیں تو اسکا مجسمہ ہی سہی - سی این این پر دکھا رہے تھے کہ اب 560 سال کے بعد  ایک کولمبس اپارٹمنٹ بھی بن گیا ہے جس سے مین ہٹن کا بڑا خوبصورت نظارہ دکھائی دیتا ہے-شائد کولمبس کی روح اسمیں آکر قیام کرے--

امرود ہی امرود

 امرود اور امرود

کچھ یادیں ، کچھ باتیں 

از 

عابدہ رحمانی 

پچھلے دنوں امرود اور اسکے پتوں کے فوائد پر ایک منقول مضمون سوشل میڈیا پر چسپاں یا نشر کر دیا ۔۔ ایک ساتھی نے فورا اسپر قند مکرر کا تبصرہ کیا ۔ وہ اسطرح کے تبصرے سے کبھی نہیں چوکتے ۔۔


اب جو کچھ لکھنے یا ٹائپ کرنے جارہی ہوں وہ میرے اپنے بقلم خود ، طبع زا د خیالات ہیں ۔


کینیڈا کے ساتھیوں کے ایک گروپ پر اس مضمون سے خوب ہلچل مچی اور سب نے امرودوں کو خوب یادکیا اور اپنے اپنے طور پراظہار خیال کیا۔۔

ایک ساتھی نے لکھا ،” کینیڈا میں امرود ہماری دسترس سے باہر ہے ، اسکو جسٹن ٹروڈو ہی خرید سکتا ہے ۔۔” اور یہ بات بالکل درست ہے کہ یہاں پر امرود ایک مہنگا پھل ہے ،عام طور سے ایک درمیانہ امرود ایک ڈالر کا ملے گا۔۔ یہ امرود دنیا کے مختلف خطوں سے آتے ہیں ، پاکستانی امرود کو بھی یہاں آتے آتے پر لگ جاتے ہیں ۔ مصر اور لاطینی امریکہ سے بھی آتے ہیں ۔ مصر پر مجھے یاد آیا کہ پہلی مرتبہ امرود کا شربت قاہرہ میں پیا تھا یہ ۱۹۹۸ کی بات ہے ،یہ اسقدر مفرح اور لذیذ لگا کہ وہاں پر پھر یہی  ہمارامشروب رہا ۔ وہاں پر امرود کا سائز کافی بڑا تھا ۔ ۔ ایک دو امرود ڈال کر تھوڑی برف اور پانی ڈال کر بلینڈ کر کے گلاس میں ڈال دیتے ۔ بعد میں مصری ائر لائن یا طیران مصر سے سفر کرتے ہوئے  بھی یہی میرا پسندیدہ مشروب رہا۔ پاکستان میں اس وقت اس مشروب کا رواج ہر گز نہیں تھا ۔ شکر ہے کہ اب وہ خوب بنانے لگے ہیں ،کاش کہ بغیر چینی کے بنانا شروع کردیں ۔۔۔


لیکن امریکہ کے جنوبی علاقوں میں ایسا نہیں ہے ، کیلیفورنیا جہاں ہر قسم کے پھل اور پودے کاشت ہوتے ہیں  کا ایک عام محاورہ ہے “ every thing grows in California “ وہاں شمالی کیلیفورنیا میں بھی لوگوں نے گھروں میں امرود لگائے ہیں لیموں کے ذائقے کا امرود پہلے وہیں کھایا اور جنوب کی جانب یعنی لاس اینجلس میں ابھی ایک حالیہ قیام میں ایک سہیلی نے اپنے گھر کے بہترین امرود تھیلا بھر کر دیے ۔ اندر سے گلابی رنگت کے یہ امرود ذائقے میں بھی لاجواب تھے ۔۔۔

لیکن شاید باغات کا رواج نہیں ہے ۔

پاکستان میں امرود ایک عام پھل ہے جو کہ غریب کی دسترس میں بھی ہے اور ہمیشہ درمیانی قیمت پر دستیاب ہے ۔۔ یہ امرود اپنی لذت اور ذائقے میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ مختلف علاقوں کے امرود میں تھوڑا بہت ذائقے اور ساخت کا فرق ہے ۔

کراچی میں گول اور گدرے امرود ملیر سے آتے ہیں ،یہ عام طور سے سبز اور سفیدی مائل ہوتے ہیں ، بیج قدرے کم ۔۔جبکہ ناشپاتی کے شکل سے ملتے ہوئے سفیدی مائل لاڑکانہ سے آتے ہیں ۔ لاڑکانہ میں ہمارے رشتہ دار موسم پر اسکی کئی ٹوکریاں بھیجتے تھے ، بہترین ، ذائقہ دار امرود اور سارا گھر  اسکی خوشبو سے مہک جاتا تھا ۔

قدرے گلے ہوؤں سے میں جیلی بنالیتی تھی ۔ ۔۔۔ جو کہ  اپنے استعمال کے علاوہ دوست احباب میں بھی تقسیم ہو جاتی ۔۔

کراچی میں گھر میں تین امرود کے پودے تھے جو بیج سے اگے تھے ۔ اسکے امرودوں میں کیڑا لگ جاتا تھا لیکن باہر امرود کی بہتات کے باعث اس پر توجہ ہی نہیں دی ۔۔ 

پاکستان میں امرود یوں تو ہر موسم میں دستیاب ہے لیکن موسم ہو تو ٹھیلوں کے ٹھیلے بھرے ہوتے ہیں ۔

امرود چاہے ویسے ہی کھالو، کالا نمک ، مرچ لگا کر یا فروٹ چاٹ بنالو اسکی لذت اپنی جگہ ہے ۔فروٹ چاٹ کا تو جیسے لازمی جز ہے۔ اکثر جب امرود نہیں میسر تو پھر خوشبو کیلئے اسکا جوس ملا دیا جاتاہے۔۔

بھارت میں الہ آباد کے امرو کی بے حد تعریف سنی ہے لیکن نہ کبھی دیکھا ، نہ کھایا ۔۔

پاکستان میں امرود کے جا بجا باغات ہیں اور خوب  پیداوار ہوتی ہے ، ہری پور ، کوہاٹ ، سیالکوٹ اور دیگر کئی علاقوں میں کثرت سے پیداوار ہوتی ہے ۔۔۔

میرے بھائی  پاک فوج کی جانب سے سیالکوٹ میں تعینات تھے ۔ ہم لوگ انکے ہاں گئے تو دیکھا کہ امرود کے کئی پیڑ ہیں جو پھل سے لدے ہوئے تھے ۔ اندر سے گلابی بہترین  اور خوب میٹھے ، ہمارا سارا زور امرود خوری پر رہا اور آتے وقت بوریوں کی بوریاں گاڑی میں بھر لیں  ۔ اب جب گاڑی میں بیٹھے  تو کچھ دیر میں وہی خوشبو ناقابل برداشت محسوس ہونے لگی ۔۔ 

یہی انسان کے تھڑ دلے اور ناشکرے پن کی نشانی ہے ۔۔ استغفراللہ

ابھی کنکون ، میکسیکو  میں پہلی مرتبہ امرود کا میٹھا کھا یا ۔۔ چھوٹی سی پیسٹری کی شکل میں امرود کو پیس کر کسٹرڈ کے ساتھ ملا کر بنایا تھا ۔ انتہائی لذیذ اور ذائقہ دار ۔

فباي آلاء ربكما تكذبان 

اور اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤگے ۔۔۔


Saturday, October 17, 2026

پاکستانی معاشرہ اور ذات پات کی تقسیم

 پاکستانی معاشرہ اور ذات پات کی تقسیم 

مٹی دے باوے

از 

عابدہ رحمانی

مٹی دے باوے ( مٹی کے بابے )

ڈرامہ دیکھتے ہوئے مجھے اپنے گاؤں اور علاقے کے مراثی بری طرح یاد آ رہے ہیں اور انتہا ئی دکھ بھی ہو رہا ہے کہ اول تو اسلام کے پیروکار اور یہ جدید ترین دور بھی ان  پیشہ ورانہ ذاتوں کی تقسیم کو ختم نہ کر پایا ۔

آپ کے ذہن میں میرے علاقے سے متعلق  سوال ہوگا ۔ میرا بنیادی تعلق خیبر پوختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے ۔ ان مراثیوں کو ہمارے علاقے میں ڈم جسکی جمع ڈمان ہے کہا جاتا ہے ۔۔اردو میں انکو ڈوم اور مراثی کہا جاتا ہے ۔

یہ سب راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ، پشتو انکی زبان ہے لیکن یہ پختون اور خان نہیں بلکہ ڈم ہیں ۔

میرے بچپن میں انکی ایک بڑی تعداد ہمارے گاؤں اور ارد گرد کے علاقے میں رہائش پذیر اور پختونوں کی خدمت پر مامور تھی ۔۔ اسی طرح دیگر پیشہ ور ،کمہار،ترکان ، سنار ، نائی ، جولاہا ، دہقان وغیرہ بھی تھے ۔ ڈم کی مؤنث ڈمہ کہلاتی ہم انکے ساتھ عزت سے پیش آتے اور بڑوں کو پکارنے کیلئے ماما، چاچا ، بھائی اور اسی طرح خواتین کو بھی ماسی ، بہن ، پھو پھو وغیرہ کہہ کر پکارتے تھے ۔

یہ لوگ غمی ، خوشی پر پیغام رسانی کا کام کرتے تھے - شادی ،منگنی کی تاریخ جب طے کی جاتی تھی یا لڑکے کی پیدائش پر خوشی کا نقارہ بجاتے اور گانے بجانے کا اہتمام کرتے ،گانا بجانا ، ناچنا ، مذاق کرنا  اور تعریفوں کے گانے گانا خواتین اور مردوں کا کمال تھا -جس پر انہیں خوب خوب ویلیں ملتیں — زنانے اور مردانے میں جسے حجرہ کہتے ہیں یہ اپنی رونق لگاتے اور شائقین کو لطف اندوز کرواتے ۔ دعوتوں میں تمام تیاری اورمہمانوں کی خورد و نوش پر مامور ہوتے اور اسی کے بدلے نیگ اور انعامات پاتے ۔ پوختونوں سے انہیں فصلانہ بھی ملتا تھا یعنی گرمیوں میں گیہوں اور سردیوں میں مکئی ۔۔انکے مکانات بھی بیشتر پختونوں یا خانوں کے کچے مکان ہوتے تھے ہاں چند ایک کے ذاتی مکان بھی تھے —

انکے بچے ہمارے سنگی ساتھی تھے ، ہمارے ساتھ اسکول میں پڑھتے اور کھیلتے کودتے تھے — ہمارے گھروں میں انکا کھلم کھلا آنا جانا بھی تھا ۔لیکن بیشتر کام یا گانے بجا نے کیلئے ۔


اس ڈرامے کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس قدر قریبی تعلقات ہو نے کے باوجود کسی پختون لڑکی یا لڑکے اور ڈم یا ڈمہ کا کو ئی عشقیہ سکینڈل ، داستان میری دانست میں نہیں ہے - شاید انہوں نے یا ہم نے ہمیشہ حد ادب ملحوظ رکھا ہو —لیکن اس تمام ہم آہنگی اور میل جول کے باوجود ہم پختون تھے اور وہ ڈم ۔۔اور اس تفاوت کی وجہ سےکسی پختون اور ڈم کے جائز رشتے کا تو شاید اب بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔

 اگر کوئی سکینڈل ہوتا تو وہاں بھی خون کی ندیاں بہہ جاتیں -حالانکہ انکی اپنی برادری میں اور آپس میں انکے بے شمار سکینڈل مشہور تھے ۔۔جن سے ہم بھی محظوظ ہوتے تھے ۔۔

میرے بچپن میں ڈمہ  ہفتے میں ایک یا دو مر تبہ آکر نانی ، دادی کے بال دھوتیں اور پھر انکی باریک باریک چٹیائیں بناتی جس سے بال ایک جگہ جم کر رہتے تھے ۔ اسی طرح کے اور کام بھی انکے سپرد ہوتے ۔

ان میں سے کئی لوگوں نے اپنا پیشہ  یعنی گانا بجانا چھوڑ رکھا تھا ۔۔ کوئی فوج میں بھرتی ہوا ، کسی نے کھیتی باڑی کی ، اور کئی نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی ۔۔استاد ، وکیل، ڈاکٹر انجینئر بن گئے ، 1965 کی جنگ میں اسی برادری کے ایک سپوت کو اپنی بہادری پر ستارہ جرآت ملا۔ اسکی بیوہ اور گھر والوں کی قسمت بدل گئی ۔ گھرانے میں تعلیم آئی تو لڑکیو ں نے بھی اعلی تعلیم حاصل کی ۔ انکی اپنی بیٹی نے غالبا ایم ایڈ کیا ہوا ہے لیکن اس سب کے باوجود انکی ذات نے پیچھا نہیں چھوڑا اور پھر بیٹی کی شادی اس سے کئی سال چھوٹے ماموں زاد سے کردی گئی ۔۔ ہاں اسی خاندان کی ایک ڈاکٹر لڑکی کی پختون ڈاکٹر سے شادی ہوئی ہے جو در حقیقت بہت انوکھی بات ہے — چونکہ باہر سے رشتے نہیں ملتے یعنی دوسری برادریاں بھی ان سے رشتہ نہیں کرتیں اس لئے یہ آپس میں عمر اور تعلیم کی کمی بیشی پر بے جوڑ رشتے کر لیتے ہیں ۔۔

اسی خاندان کے رباب نواز محمد ضمیر کو کئی سال پہلے حکومت پاکستان سے بہترین حسن کارکردگی کا انعام ملا تھا -ان میں سے کئی لوگ موسیقار اور فنکار بن گئے اور کئی تبلیغ کی طرف نکل گئے ۔ 

کئی لوگ اقبال چنن کی طرح اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسر ی جگہو ں میں آباد ہو گئے ۔۔ جہاں پر انہیں عزت دار پختون سمجھا جاتاہے کیونکہ زبان تو پشتو ہے ۔۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم جو اسلام کے پیروکار ہیں اور  قرآن پاک میں صاف کہا گیا ہے کہ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جسمیں تقویٰ ہو -تو ہم کیسے ذات پات کی تقسیم کر سکتے ہیں ۔۔

قرآن پاک میں سورہ حجرات کی آیت ۱۳ میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے —

اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔

Tuesday, September 29, 2026

Uzbekistan trip in 2019

During September 2019 it was my first ever trip with PTF to Uzbekistan. I didn’t know anyone in the group and was quite sceptical about the trip. 
Met Tariq and Basar for the first time at G-9 ( Karachi company) van stop at 8:pm. We were travelling to Lahore to get the 5:30 am flight to Tashkent by Uzbek air. 
On the Van Asma sat besides and turned out to be so friendly and expressive. She introduced me to Shaheen and Sadia and told me about their backgrounds.
Basar informed me that she’s Nuzhat just officially.
In that particular trip developed long lasting bonding with all these friends. With Tasnim, Rasheeda, Razia, Shahida and their husbands we were a bunch of Pashto speakers.
So many other lovely friends, Shaista, Saman, Shagufta, Rukhsana, Ayeza, Aisha, Sanaa, Rakhshanda and many brothers, it turned out to be an adorable trip.
I have close ties and contacts with many of them, especially Shaheen with whom I keep in touch regularly.
Forgive me if I forgot someone.
Thanks to PTF for bringing all these lovely people to my life.❤️💝
I’m posting my travelogue that wrote after that trip.
Abida Rahmani

Tuesday, September 1, 2026

بچپن کی یادیں

 غانړ‎کئی چہ زہ وړ‎ہ ووم نو مابہ ملڰرو څرہ د غرونو نہ نیولے بیا بہ ورلہ ملا کښ تار اوتړ‎ہ او چہ الو تے بہ نو حد نہ زیاتہ خوشحالی بہ وہ ۔ ټراں ټراں آواز بہ ئے د وزرو نہ راتہ ۔ 

دا بہ مونږ‎ دبیرے پہ پانړ‎و باندے ساتلے ۔ یو مرتبان کښ بہ ډیرے د بیرو پانړ‎ے واچولے ۔ اڰئی بہ ئے ھم اچولے او چہ مړ‎ے بہ شوے نو وزرے بہ م ورلہ ساتلے ۔۔😎

Friday, August 21, 2026

Retreats from technology, دور جدید کی ٹیکنالوجی سے پسپائی

یہاں پر کچھ اداروں کی طرف سے اس طرح کے retreats کروائے جاتے ہیں-
 میرے بیٹے کی کمپنی نے کروایا تھا ایک ہفتے کے لئے - تمام جدید ٹیکنالوجی کے بغیر پرانے ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ تھا---
وہ بھی زما نہ تھا کہ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا  -مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی مرتبہ فون استعمال کیا تو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سننے والا کونسا ہے اور بولنے والا کونساہے ---

Wednesday, August 5, 2026

A comment

 What an innovative concept - half on land, half on a cruise! I wish I could join in on the fun 🤓. I've had the pleasure of going on two cruises with Norwegian cruise ships, one to Alaska and the other to the Caribbean. The cruises themselves were enjoyable, with a variety of cuisines and shows to choose from. The ships also offered great shopping, casinos, and a wide selection of drinks. What impressed me most, however, was the decency and courtesy of the staff and passengers. On one trip, I was with two other ladies of Pakistani origin, and on another, there were seven of us from the USA. We didn't face any problems or discrimination, which was great to see. I'm curious to see how this new concept will work out, especially with Tariq on board - he can get a bit out of control! The shore docks were mostly small towns with some excursions, but they weren't particularly fascinating. Let's see how it goes! 😎

Saturday, May 30, 2026

کٹھ پتلی

 یہ افسوسناک اور عجیب و غریب واقعہ گیارہ مارچ ۲۰۲۶ کی شام کو مجھے پیش آیا تھا۔یہ سو فیصد سچا واقعہ ہے کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے ۔ آج تک مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ساری کار گزاری میں نے کیسے اور کیوں انجام دی  ۔ محض ایک ٹیلی فون کال تھی جسے میں کسی وقت بھی منقطع کر سکتی تھی ،ایسا کیوں نہیں کیا ؟۔؟ ۔۔ 

اللہ تعالیٰ سے رحم وکرم اور شرح صدر اور ذہن کی درخواست ہے ۔۔

کٹھ پتلی ۔
از :
عابدہ رحمانی

میرا ہمدرد ، میرا بہی خواہ مستقل فون پر میرے ساتھ تھا ۔اسنے مجھ سے پوچھ لیا تھا کہ فون کی بیٹری کتنی ہے ۔
“ اسی فیصد “ اور وہ مطمئن ہو کیا ۔ اسطرح ہم لمبے وقت کے لئے ساتھ رہ سکتے ہیں “ اسنے جواب دیا ۔
آدھا گھنٹہ پہلے ہی اس سے رابطہ ہوا تھا تو اسنے مجھے بتایا کہ میں کس مشکل میں گرفتار ہو چکی ہوں اور وہ ہر طرح سے مجھے اس مشکل سے نکالنا چاہتا ہے ۔ مجھے یوں لگا جیسے مجھے ایک فرشتہ مل گیا ہے ۔۔ اسنے گوگل پر اپنی تصویر دکھائی ،اور یہ کہ وہ ووڈ سٹاک کے کراؤن پولیس سے ہے ۔۔ نام ، badge  نمبر ، دیگر تفصیلات اور وہ خط بھی واٹس ایپ پر بھیجا جس میں جعلسازی کی الزامات کی تفصیل تھی اور وہ مجھ معصوم کو ان الزامات سے بری کر نا چاہ رہا تھا ۔۔ اس نے مجھ سے تمام اکاؤنٹ کی تفصیلات پو چھیں ،جو میں نے پورے اعتماد سے اسکو بتائے ۔ اسنے اپنا نام ڈیوڈ مچل ( David Mitchell) بتایا اور یہی نام اسکے پروفائل پر تھا — حالانکہ اسکا لہجہ انڈین ، پاکستانی لگ رہا تھا لیکن میں نے کو ئی تکرار مناسب نہیں سمجھی ۔۔ 
“ مجھے اندازہ ہے کہ یہ رقم آپنے بہت محنت سے پس انداز کی ہو گی ، یوں لگتا ہے کہ آپکے خلاف کسی نے سازش کی ہے یا تو بینک سے یا آپکے کسی عزیز نے کی ہے ۔ کیا آپکو کسی پر شک ہے ؟ “ اسکا لہجہ ہمدردی سے بھر پور تھا ۔۔اور پھر مجھے دو اختیار دیے —
“ایک تو یہ کہ آپکے سارے اکاؤنٹ چھ ماہ کیلئے منجمد ہو جائنگے ۔۔اور آپ کچھ کار گزاری نہیں کر پائینگی “۔ 
“ نہیں نہیں یہ ہر گز نہیں ہو نا چاہئے ، ہر مہینے میرے مختلف بل ادائیگی کے لئے جمع ہیں اور یہ میرے لئے بہت مشکل ہو جائیگا “
اسنے پھر دوسری صورت بتائی ۔ کہ تم کو کم ازکم پاکستانی حساب سے سترہ لاکھ روپیہ اکاؤنٹ سے نکال کر ایک مخصوص مشین میں جمع کرنا ہوگا ۔ یہ رقم دو روز کے بعد تمہارے اکاؤنٹ میں واپس آ جائیگی اور سارا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔۔ یہ سب الزامات ختم ہو جائینگے۔ میں تمہاری رہنمائی کرونگا اور جیسے جیسے بتاؤں ویسے ویسے کرنا ۔۔
پھر اسنے میرا پوسٹل کوڈ پوچھا جو میں نے اسے بہت تفصیل سے بتا دیا ۔۔
“ہاں اب تم اپنے قریبی ٹی ڈی بنک میں جاؤ اور وہاں سے یہ رقم نکال لو ۔۔ اگر بینک کیشئیر تم  سے اسکے متعلق پوچھے تو کہنا کہ تم کو فرنیچر خریدنا۔ اچھا کیا تم پیدل جاؤگی ؟”
“ نہیں نہیں میں ڈرائیو کر کے جاؤنگی لیکن بینک تو بند ہوگا “
“ نہیں تم ابھی جاؤ بینک چھ بجے تک کھلا ہے ، جتنی جلدی اس کام کو نپٹا لو ، تمہارے لئے بہتر ہے ، پانی کی ایک بوتل بھی ساتھ رکھنا“
“ نہیں میں روزے سے ہوں “  میں اسکے احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل پیرا تھی اور ساتھ ساتھ میں دعائیں بھی مانگ رہی تھی کہ اس مشکل سے نکل جاؤں ۔۔
میں نے اسے بتایا کہ گاڑی نکالتے ہوئے اس سے میرا رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ جس کی اسنے مجھے یقین دہانی کی کہ وہ دوبارہ کال کر لے گا۔۔ 
عمر کے اس حصے میں زندگی کے تلخ و شیریں کو چکھتے ہوئے مجھے اس کی باتوں پر پورا بھروسہ تھا اور میں اس کاروائی کے بارے میں کسی سے بات نہیں کر نا چاہتی تھی۔
بنک کے پارکنگ میں پہنچنے کے بعد اس نے کہا کہ جب میں رقم نکال لوں تو اسے ان رسیدوں کی تصویر بھیجوں اور میں نے انتہائی فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا ہی کیا ۔۔ 
اسنے کہا “ میرا باس تو آپکو ۹۳ کلو میٹر دور بھیج رہاتھا لیکن میں نے اسے کہا کہ نزدیک اوک ویل بھیج دیتے ہیں اور وہاں یہ کام بخوبی ہو جائیگا۔۔ اچھا اب یہ پتہ میں بھیج رہا ہوں اسکو جی پی ایس میں ڈال دو ، میں فون پر مستقل رہنمائی کرونگا ۔ گھبرانا نہیں ، کوئی مشکل نہیں ہوگی “ 
میں نے اسے بتایا کہ شام ہو رہی ہے ، میرا روزہ ہے اور میں بہت تھک گئی ہوں لیکن اسنے میری ہمت بندھائی ۔ اوک ویل روانہ ہونے سے پہلے میں نے اپنے بھائی کو ٹیکسٹ کیا “ میں ایک مصیبت میں پھنس گئی ہوں “ میری مراد ان الزامات سے تھی جن میں بقول رچرڈ کے مجھے پھنسایا گیا ۔۔
موسم بھی خراب تھا ،میں دعائیں کرتے ہوئے اوک ول جو آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھا اس پلازہ میں پہنچی جس میں بقول اسکے ایک دوکان Beck میں وہ مشین نصب تھی جو میری قسمت کا فیصلہ کرنیوالی تھی اپنی ہمت کو اکٹھا کر کے میں اسکی ہدایات کے مطابق اس مشین کو ڈھونڈنے لگی ، آخر کار وہ پیلے رنگ کی مشین ایک کونے میں نظر آئی ۔۔
میں نے یہ مشین پہلی دفعہ دیکھی “ لیکن اس پر تو Bitcoin لکھا ہے۔؟” ۔۔ “ہاں ہاں یہی مشین ٹی ڈی بنک کی خاص مشین ہے ۔یہ رقم إسمیں جاکر تمہارے اکاؤنٹ میں واپس چلی جائیگی اور سارا مسئلہ حل ہو جائیگا “ ۔۔
اسکی ہدایات جاری تھیں “اب تم اس پینل میں اپنا فون نمبر ڈالو تو ایک کوڈ آئے گا وہ کوڈ تم ڈالو تو تمہارے فون پر QR codeآئے گا اس پر ایک ونڈو کھلے گی اس کو یہ کوڈ دکھانا تو ایک Slot کھلے گا اسمیں سو سو ڈالر کے نوٹ ڈال دینا ایک وقت میں چھ سو تک کے نوٹ جائنیگے اور یہ پورا عمل بار بار دہرانا ہوگا جب تک کہ پوری رقم نہ چلی جائے “۔۔ 
یہ عمل میں نے کئی دفعہ دہرایا لیکن وہ Slot نہیں کھلا ۔۔میں نے اسے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ مشین خراب ہے ۔ اس کے کہنے پر میں نے اسے مشین کی تصویر بھی بھیجی ۔ پھر اسنے مجھے گیارہ منٹ دور ایک Hasty Market کا پتہ بھیجا اور وہا ں جانے کیلئے کہا ۔۔
افطار کا وقت قریب تھا ، HastyMarket پہنچ کر میں نے افطار کیلئے ایک جوس کا ڈبہ خریدا اور دعائیں کرتی ہوئی Bitcoin مشین ڈھونڈی اور کارروائی شروع کی ، ڈیوڈ مستقل رابطے میں تھا ، میں اپنی کاگزاری سے بہت خوش اور مطمئن تھی ۔ یہ مشین ٹھیک تھی اور میں نے انتہائی مستعدی سے تمام رقم یکے بعد دیگرے مشین کو سپرد کردی بقول ڈیوڈ کے یہ ایک خاص اکاؤنٹ میں جا رہی تھی جو بعد میں میرے اکاؤنٹ میں آجائیگی ۔ 
مجھ جیسی جہان دیدہ خاتون کٹھ پتلی کی طرح اسکے احکامات کے طابع تھی ۔ 
اسی دوران دو چار گھونٹ جوس پی کر میں نے روزہ افطار کیا اور یہ مشن بخوبی پورا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔ ڈیوڈ بھی میری کارگزاری سے پوری طرح خوش تھا پھر اسنے ایک اور آدمی سے میری بات کرائی کہ یہ میرا باس ہے ۔ انہوں مجھے سختی سے منع کیا کہ میں اس سارے واقعے کا کسی سے ذکر نہ کروں اور دوسرے بنک اکاؤنٹ کیلئے اسی طرح کی کاروائی کر نے کیلئے اگلی صبح ساڑھے دس بجے کا وقت طے پایا ۔۔
میں واپس گھر کیلئے روانہ ہوئی بیچ میں بھابھی اور بھائی کی کال آئی لیکن میں نے بات نہیں کی ۔ بارش ہو رہی تھی اور اندھیرے میں مجھے ڈرائیونگ میں مشکل ہو رہی تھی ۔۔ خدا خدا کر کے گھر پہنچی تو بھائی ،بھابھی پریشان دروازے پر کھڑے تھے۔۔
انکو حالت زار بتاتے ہوئے میں نے ذکر کر ہی لیا تو بھائی نے کہا “آپکے ساتھ تو بہت بڑا فراڈ ہوا ہے “ “ نہیں نہیں یہ دیکھو ،میں اسکو فون پر تمام دستاویز دکھانے لگی ،”یہ سب جھوٹ اور من گھڑت ہے “- پھر بھتیجے نے پولیس رپورٹ کرنے کو کہا ۔۔
اگلی صبح مقررہ وقت پر اسکا فون آنے لگا تو میں کال بلاک کردی ، اسکو اندازہ ہوگیا اور واٹس ایپ پر بھیجے ہوئے تمام دستاویز ڈیلیٹ کردئے ۔۔ پولیس رپورٹ بھی ہوگئی ، بنک میں فراڈ کا کیس کیا لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی ، کیونکہ سارا کارنامہ کٹھ پتلی نے خود انجام دیا تھا ۔۔

Sunday, May 10, 2026

Happy Mother's day!

‏ Happy Mother's Day!

‎ماؤں کا عالمی دن
‎از

‎عابدہ رحمانی

‎ پچھلے کئی ہفتے سے ہر تجارتی اور نشریاتی ادارے،چھوٹے بڑے سٹورز یعنی دکانیں ،ائر لائنز،ہوٹل ریسٹورنٹ آن لائن ترسیل اور آرڈر لینے والےادارےجن میں پھولوں کے گلدستوں سے لے کر ملبوسات ،خوشبویات،اشیائے خورد ونوش گھر پر فراہم کرتے ہیں   "مدرز ڈے کی تشہیر میں مصروف ہیں انکا ایک ہی نعرہ ہے کہ ہم سے خریداری کرو اور اپنی اماں کو خوش کردو۔
 اس برس دس ۱۰ 
 مئی  کو عالمی سطح پر ماؤں کا دن یا مدرز ڈے  منایا جاۓ گا یہ روز سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے-اسی کے حساب سے تاریخیں بدل جاتی ہیں--امریکہ کوئی دن منائے اور دنیا اسکی پیروی نہ کرے یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ اور یوں ساری دنیا میں ہر طرف مادرز ڈے کا شور مچا ہوا ہے مادر ڈے اور اسکے بعد جون کے دوسرے اتوار کو فادر زڈے -

‎جنوں کا نام خرد رکھ دیا اور خرد کا جنوں  
جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے 
‎امریکہ میں پہلا مادر ڈے مغربی ورجینیا کےشہر گریفٹن میں اینا جاروس نے اپنی ماں کی یاد میں 1908 کو منا یا  ، وہ اپنی ماں کے 1905 میں انتقال کے بعد اسکی کوشش کر رہی تھی کہ اس روز کو سرکاری سر پرستی حاصل ہو لیکن جب یہ دن ایک کاروباری حیثیت اختیار کر گیا تو اینا کافی دل برداشتہ ہوئی- یہاں تک کہ اسنے پھر اس قراردا د کو واپس لینے کی کوشش کی اور اس سے لاتعلقی اختیار کی۔
‎کاروباری حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا  اب ہر سال کمرشل بازاری سطح پر ہر طرف ہلچل مچ جاتی ہےبلکہ اب تو دنیا کے ہر ملک میں مدرز ڈے کا شور ہے ، اور پاکستان و پاکستانی پیچھے کیوں رہیں  - نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر لاپرواہ اولاد  ماؤں کو یاد کر لیتی ہے ۔کوئی تحفہ،کارڈ، پھول یا کیک وغیرہ --ماں کو بھی کم ازکم مغربی معاشرے میں احساس ہوتا ہے کہ اسکا بھی کوئی وجود ہے- خاصکر بوڑھی مائیں جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا--حالانکہ انمیں سے بیشتر وہ ہوتی ہیں جنہوں نے تنہا اولاد کی پرورش کی ہوتی ہے --اللہ بھلا کرے ڈی این اے ٹیسٹ کا ورنہ بیشتر کو تو باپ کا معلوم ہی نہ ہو پاتا--
‎اب دنیا کے تمام ممالک مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں مادرز ڈے اپنے اپنے لحاظ سے منایا جاتا ہے-
‎ماں کی اہمیت تو آفرینش سے مجسم ہے ٍ-ماں کے وجود اور اسکی قربانیوں سے کون انکار کرسکتا ہے وہ نو ، دس مہینے حمل( جسکے معنی بوجھ کے ہیں) کی تکالیف اٹھاتی ہے -تکلیف دہ درد زہ سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے ، پھر پالنے پوسنے کا عمل  شروع ہوتا ہے دودھ پلانے سے لیکر تمام پرورش کی بیشتر ذمہ واری ماؤں پر ہی عائد ہوتی ہے --دودھ چاہے اپنا ہو چاہے بوتل کا ہو- ایک کمزور محتاج بچہ ماں کی توجہ اور محبت سے ہی پلتا بڑھتا ہے-اسلئے ہمارے معاشرے میں دودھ کو جتلانا پرانی ماؤں کا ایک مؤثر ہتھیار ہوتا تھا "دودھ نہیں بخشونگی" وہ بات بے بات اپنی اولاد کو دھمکی دیتیں - ماں کی اہمیت ، محبت اور ایثار پوری دنیا اور تمام معاشروں میں مسلم ہے - جب ڈائپرز کا زمانہ نہیں تھا تو مائیں گیلے پر لیٹ کر بچے کو سوکھے پر ڈالدیتیں بچے کی نجاست اور صفائی کے مرحلے سر کرتی۔ یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں کتنی ماؤں کو بے انتہا قربانیوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے- یہ قربانیاں ہمیشہ مختلف صورتوں سے جاری رہتی ہیں چاہے بچے بڑی عمروں کے ہو جائیں-- ماں بنناایک عورت کی ذات کی تکمیل ہے ایک حسین ترین جذبہ ہے اسکی محرومی کا احساس بے اولاد ماؤں سے بہتر کون جان سکتا ہے-
‎اکثر مسلمان گھرانے جو مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں کہتےہیں ہمارے لئے تو ہر روز ہی مادر ڈے اور فادر ڈے ہے --

‎اسلام میں قرآن و حدیث میں ماں اور والدین کے حقوق کا پر زور تذکرہ ہے  “وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا۔ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔” (بنی اسرائیل:۲۳، ۲۴)
‎         ترجمہ:… “اور تیرے رَبّ نے حکم کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی “اُف” (ہوں) بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے اِنکساری کے ساتھ جھکے رہنا، اور یوں دُعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔”  
‎ایک حدیث میں ہے:

‎         “عن أبی أمامة رضی الله عنہ أن رجلًا قال: یا رسول الله! ما حق الوالدین علٰی ولدھما؟ قال: ھما جنتک أو نارک۔”                   (ابنِ ماجہ ص:۲۶۰)

‎         ترجمہ:… “حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! والدین کا اولاد کے ذمے کیا حق ہے؟ فرمایا: وہ تیری جنت یا دوزخ ہیں (یعنی ان کی خدمت کروگے تو جنت میں جاوٴگے، ان کی نافرمانی کروگے تو دوزخ خریدوگے)۔”

‎         ایک اور حدیث میں ہے:

‎         “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّة وان کان واحدًا فواحدًا ومن أصبح عاصیًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النّار ان کان واحدًا فواحدًا۔ قال رجل: وان ظلماہ؟ قال: وان ظلماہ وان ظلماہ وان ظلماہ۔”                                 (مشکوٰة ص:۴۲۱)
‎مئی  کو عالمی سطح پر ماؤں کا دن یا مدرز ڈے  منایا جاۓ گا یہ روز سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے-اسی کے حساب سے تاریخیں بدل جاتی ہیں--امریکہ کوئی دن منائے اور دنیا اسکی پیروی نہ کرے یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ اور یوں ساری دنیا میں ہر طرف مادرز ڈے کا شور مچا ہوا ہے مادر ڈے اور اسکے بعد جون کے دوسرے اتوار کو فادر زڈے -

‎جنوں کا نام خرد رکھ دیا اور خرد کا جنوں  
جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے 
‎امریکہ میں پہلا مادر ڈے مغربی ورجینیا کےشہر گریفٹن میں اینا جاروس نے اپنی ماں کی یاد میں 1908 کو منا یا  ، وہ اپنی ماں کے 1905 میں انتقال کے بعد اسکی کوشش کر رہی تھی کہ اس روز کو سرکاری سر پرستی حاصل ہو لیکن جب یہ دن ایک کاروباری حیثیت اختیار کر گیا تو اینا کافی دل برداشتہ ہوئی- یہاں تک کہ اسنے پھر اس قراردا د کو واپس لینے کی کوشش کی اور اس سے لاتعلقی اختیار کی۔
‎کاروباری حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا  اب ہر سال کمرشل بازاری سطح پر ہر طرف ہلچل مچ جاتی ہےبلکہ اب تو دنیا کے ہر ملک میں مدرز ڈے کا شور ہے ، اور پاکستان و پاکستانی پیچھے کیوں رہیں  - نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر لاپرواہ اولاد  ماؤں کو یاد کر لیتی ہے ۔کوئی تحفہ،کارڈ، پھول یا کیک وغیرہ --ماں کو بھی کم ازکم مغربی معاشرے میں احساس ہوتا ہے کہ اسکا بھی کوئی وجود ہے- خاصکر بوڑھی مائیں جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا--حالانکہ انمیں سے بیشتر وہ ہوتی ہیں جنہوں نے تنہا اولاد کی پرورش کی ہوتی ہے --اللہ بھلا کرے ڈی این اے ٹیسٹ کا ورنہ بیشتر کو تو باپ کا معلوم ہی نہ ہو پاتا--
‎اب دنیا کے تمام ممالک مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں مادرز ڈے اپنے اپنے لحاظ سے منایا جاتا ہے-
‎ماں کی اہمیت تو آفرینش سے مجسم ہے ٍ-ماں کے وجود اور اسکی قربانیوں سے کون انکار کرسکتا ہے وہ نو ، دس مہینے حمل( جسکے معنی بوجھ کے ہیں) کی تکالیف اٹھاتی ہے -تکلیف دہ درد زہ سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے ، پھر پالنے پوسنے کا عمل  شروع ہوتا ہے دودھ پلانے سے لیکر تمام پرورش کی بیشتر ذمہ واری ماؤں پر ہی عائد ہوتی ہے --دودھ چاہے اپنا ہو چاہے بوتل کا ہو- ایک کمزور محتاج بچہ ماں کی توجہ اور محبت سے ہی پلتا بڑھتا ہے-اسلئے ہمارے معاشرے میں دودھ کو جتلانا پرانی ماؤں کا ایک مؤثر ہتھیار ہوتا تھا "دودھ نہیں بخشونگی" وہ بات بے بات اپنی اولاد کو دھمکی دیتیں - ماں کی اہمیت ، محبت اور ایثار پوری دنیا اور تمام معاشروں میں مسلم ہے - جب ڈائپرز کا زمانہ نہیں تھا تو مائیں گیلے پر لیٹ کر بچے کو سوکھے پر ڈالدیتیں بچے کی نجاست اور صفائی کے مرحلے سر کرتی۔ یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں کتنی ماؤں کو بے انتہا قربانیوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے- یہ قربانیاں ہمیشہ مختلف صورتوں سے جاری رہتی ہیں چاہے بچے بڑی عمروں کے ہو جائیں-- ماں بنناایک عورت کی ذات کی تکمیل ہے ایک حسین ترین جذبہ ہے اسکی محرومی کا احساس بے اولاد ماؤں سے بہتر کون جان سکتا ہے-
‎اکثر مسلمان گھرانے جو مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں کہتےہیں ہمارے لئے تو ہر روز ہی مادر ڈے اور فادر ڈے ہے --

‎اسلام میں قرآن و حدیث میں ماں اور والدین کے حقوق کا پر زور تذکرہ ہے  “وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا۔ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔” (بنی اسرائیل:۲۳، ۲۴)
‎         ترجمہ:… “اور تیرے رَبّ نے حکم کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی “اُف” (ہوں) بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے اِنکساری کے ساتھ جھکے رہنا، اور یوں دُعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔”  
‎ایک حدیث میں ہے:

‎         “عن أبی أمامة رضی الله عنہ أن رجلًا قال: یا رسول الله! ما حق الوالدین علٰی ولدھما؟ قال: ھما جنتک أو نارک۔”                   (ابنِ ماجہ ص:۲۶۰)

‎         ترجمہ:… “حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! والدین کا اولاد کے ذمے کیا حق ہے؟ فرمایا: وہ تیری جنت یا دوزخ ہیں (یعنی ان کی خدمت کروگے تو جنت میں جاوٴگے، ان کی نافرمانی کروگے تو دوزخ خریدوگے)۔”

‎         ایک اور حدیث میں ہے:

‎         “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّة وان کان واحدًا فواحدًا ومن أصبح عاصیًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النّار ان کان واحدًا فواحدًا۔ قال رجل: وان ظلماہ؟ قال: وان ظلماہ وان ظلماہ وان ظلماہ۔”                                 (مشکوٰة ص:۴۲۱)

بنگالی سوغات

مرحوم مشرقی پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش میں ساور کے رشوگلے اور سم سم اب  بھی مشہور ہونگے، اسی طرح نواب پور اور کومیلا کی رس ملائی ۔ 
یہاں مسی ساگا میں ہماری پسندیدہ ایک مشہور اور بہترین بنگالی مٹھائی،چٹخارے اور ذائقوں کی دکان اور ریسٹورنٹ ہے premium sweets
جو ہماری پسندیدہ ہے --بارہ ڈالر میں ایک پونڈ کے حساب سے بہترین رس ملائی ، مٹی کی ہانڈی میں میٹھا دہی اور تمام بنگالی مٹھائیاں مل جاتی ہیں- وہاں کی مشہور ہلسا مچھلی بھی مل جاتی ہے ،جو زیادہ کانٹوں کی وجہ سے ہم نہیں کھاتےتھے ۔۔
ہرے کچے ناریل کو عام طور سے ڈاب کہتے ہیں- اسکا پانی انتہائی غذائیت بخش ہو تا ہے--

Wednesday, April 29, 2026

Amazing trip to Spain and Morocco

Visiting Spain and Morocco!
By
Abida Rahmani
I was in Islamabad at the end of 2019 , that my friends living in Los Angeles, CA convinced me to join them for a trip to Spain. It had always been a great passion and desire to visit Spain and see the lost grandeur of almost 600  years Muslims rule in Spain:
After completing all the financial obligations we were supposed to leave on 25th March 2020 for Barcelona. 
Soon after the Covid-19 Pandemic ruled the world and Spain along with USA and rest of the world was badly affected. 
Finally after a wait of two years , curb and control over the pandemic with vaccines , measures and other restrictions we were able to visit Spain. I was the only one that traveled from Toronto to Barcelona, rest of the group arrived from LAX. I was traveling through Aerlingus and had a connection through Dublin because it’s an Irish airline. 
After arrival at Barcelona there was no to receive me. Luckily has got the name of the hotel from our agent and tour operator Yazmin Ahmed. 
After changing the currency figured out that the language problem is quite imminent. However with the help of airport security guard, got the shuttle van to hotel for 20 euros. It was
hotel
Roger de lluria
28, 08010, 
Barcelona, spain

I reached there in the morning while rest of the group arrived in the evening!
After taking rest, had some food went around the block .
After the arrival of rest of the group went to a nearby restaurant for food.

Next day we started touring Barcelona with a guide in the morning!

Catalonia's vibrant capital, Barcelona is a stunning seaside city that flaunts her beauty and sunny lifestyle. Gorgeous scenery, breathtaking architecture, and superb cultural attractions make for an alluring destination. Of course, the balmy Mediterranean climate adds to the charm.

Barcelona has an atmospheric medieval quarter, the Barri Gòtic, with an almost magical old-world ambience, but it's even more famous for its Modernist architecture. Antoni Gaudí left a lasting mark on Barcelona with his avant-garde Surrealist buildings; several are UNESCO listed.

Arrived at Barcelona:

Fes, Morroco 
We stayed two nights at Fes where we flew from Malaga.  A city with grand Muslim architecture. We stayed at Dar bin Sauda a 17th century mansion turned into a hotel. For the first night I stayed upstairs but climbing the stairs was a daunting task for me. Next night I requested a room down stairs. There was ham-am and Spa , some of the friends enjoyed. Great hospitality but felt the difference of living standards and poverty compared with Spain.
Travelled many areas Molai Idrees, Menkes ,Chefchaouen. Then one night at Rabat and Casablanca!

Coming back to Orange County from Caribbean cruise

 I and my friend are on united flight from Orlando to Chicago on way back to orange county.

The cruise went fantastic among bikinis and a lot many bars. We were seven Muslim or desi ladies among more than 4000 travellers. Met one Somali Muslim couple with two kids. The Caribbean was hot and humid. In a boat ride got almost soaked with a big wave.

Had a variety of cuisine, Chinese, Japanese, Italian, desi , Mexican etc.

Alhamdolillah for everything!

Tuesday, April 21, 2026

زندگی کاسفر

آج کادن ۔زندگی کا سفر
عابدہ رحمانی

مرحوم اس دنیا میں تقریباً ایک صدی گزار کر اپنے رب کے حضور دو دن پہلے جاچکے تھے ۔ آج انکا جنازہ مسی ساگا کی جامعہ اسلامیہ یا کو پر مسجد میں تھا۔ 
یہاں کی روایت کے مطابق کسی کی تعزیت کرنی ہو تو جنازے میں شرکت کر نی چاہئے ، تمام اہل خانہ وہاں موجود ہوتے ہیں ۔ میت کو بھی روانگی کے لئے تیار کر کے دیدار کے لئے رکھ دیا جاتا ہے ۔ اس لئے ہم نے بہتر یہی جانا کہ جنازے میں شرکت کی جائے —
مرحوم کو میں بزرگ شہریوں یا senior citizens کے اجتماعات میں باقاعدگی سے پچھلے تین سال سے اس قصبے میں آنے کے بعد دیکھتی تھی ۔ بزرگ سنی کے باوجود کافی فعال ، سوشل اورمتحرک تھے ۔ میری سوائے سلام کے ان سے کبھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ،لیکن انکی بہو ، بیٹے اور بیٹی وغیرہ سے اچھی جان پہچان ہے ۔۔ انکی بہو سے انکی خود مختاری اور خود اعتمادی کے متعلق جانا کہ وہ اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں اور اپنے تمام کام خود انجام دیتے ہیں —
اللہ کی شان نرالی ہے لیکن مرحوم راحت علی پر اللہ تعالیٰ کی کس قدر رحمت تھی کہ تمام کنبے ، جنمیں پڑپوتے ، پڑ پوتیاں یا پڑ نواسوں ، نواسیاں یا شاید ان سے بھی اگلی نسل ،لیکن وہ کسی پر بوجھ نہیں بنے اور صرف دو دن کی بیماری جھیل کر اس جہاں سے رخصت ہوئے ۔ یہ سب بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے ممکن ہوتاہے ۔ ورنہ بے بس عاجز انسان کے بس میں کیا ہے ۔۔
بڑے بیٹے نے نماز جنازہ پڑھائی اور دعاؤں کے ساتھ وہ ابدی آرام گاہ کی جانب رخصت ہوئے —
اللہ تعالیٰ انہیں جنتوں کا مکین بنائے ۔
جنازے سے پہلے اسی مسجد میں نکاح کی تقریب تھی ، دولھا ، دلھن ، عزیز واقارب مسجد کی حرمت کو مد نظر رکھ کے بھی زرق برق لباس میں ملبوس تھے ۔یہی زندگی ہے اور اسکے یہی رخ ہیں -
اور شام کو انہی بزرگ شہریوں کی عید ملن تھی ، جہاں مرحوم پابندی سے موجود ہوتے تھے ۔کچھ عجیب اتفاق ہے کہ وہاں مجھے ایک حضرت بالکل انکے جیسے دکھائی دیے ۔
محفل حسب معمول شباب پر تھی۔
میں ذرا دیر سے پہنچی تھی ۔ مجھے معلوم نہیں ہو سکا لیکن انہو ں نے یقیناً اپنے دیرینہ ساتھی کو یاد کیا ہوگا ۔
دنیا اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی رہے گی تا قیامت ۔۔

Saturday, March 7, 2026

ایرانی جنگ

#اسوقت جب کہ ہم ایرانی لیڈر آیت اللہ خمنائی اور انکے اہل خانہ کی شہادت پر دکھ اور صدمے سے دوچار ہیں ، آزاد منش ایرانی خوب خوشیاں منا رہے ہیں — 
ایرانیوں نے امریکہ ، کینیڈا اور یوروپ میں پچھلے دنوں لمبے چوڑے جلوس نکالے ، امریکہ اور اسرائیل سے ایران پر حملہ کرنے پر انتہائی زور دیتے رہے ۔ دو روز پہلے ایک ایرانی خاتون ملی اور وہ یہی بات کہہ رہی تھی کہ امریکہ کو چاہئے کہ ان دینی رہنماؤں کو ختم کر کے شاہ ایران کے بیٹے کو لے آئے - اسنے الزام لگایا کہ انہوں نے چالیس ہزار ایرانیوں کو اپنے اقتدار کے لئے مار ڈالا ۔۔اور بقول اسکے افغانستان اور عراق سے قاتل بلوائے گئے ۔ کیونکہ وہ فارسی نہیں بولتے تھے۔۔ ہم ان سے نجات چاہتے ہیں ۔ اسی طرح ہمارے حالیہ دورہ ایران میں گائیڈ خسرو کے یہی خیالات ہیں ۔ جب ملک کے اندر میر جعفر میر صادق مو جود ہوں اور قوم باغی ہو گئی ہو تو حملہ آوروں کے لئے دروازے واہ ہو جاتے ہیں ۔۔
عابدہ رحمانی 
مارچ ۲، ۲۰۲۶

Monday, February 9, 2026

انڈر دی ٹیبل ،Under the table

انڈر دی ٹیبل
Under the table:
تحریر از
عابدہ رحمانی

اپنےعزیز مادر وطن میں کیسے کیسے استعارے ،انداز اور طریقہ کارپنپ رہے ہیں ، خدا کی پناہ ۔۔بعض اوقات بہت کچھ ناقابل یقین سالگتا ہے ۔
پچھلے دنوں میں جائیداد کے چند سودوں میں بری طرح الجھی ہوئی تھی ۔۔ ایسے مواقع بھی آئے جن میں یوں لگ رہا تھاکہ خواہ مخواہ کام میں رکاؤٹ پڑ جائیگی لیکن میرے پراپر ٹی ڈیلر نے مجھ سے ایک معقول رقم لے کر اسکا سد باب کر رکھا تھا جسکا اسنے مجھے بعد میں حساب دیا ۔ کہ کیسے وہ رقم کس کس کو انڈر دی ٹیبل دی گئی ۔۔
خدا کی پناہ یہ انڈر دی ٹیبل کا حصول کرنے والے ایسے ویسے لوگ ہر گز نہیں تھے بلکہ حلیے اور جثے سے نمازی پر ہیز گار ، خدا ترس قسم کے لوگ تھے ۔۔ کیونکہ انڈر دی ٹیبل کے حصول کے بعد انہیں مجھ پر ترس آہی گیا—بعد میں ڈیلر نے مجھے ایک لمبی فہرست تھمائی کہ کس کس کو کتنی ادائیگی ہوئی اور یہ بھی اسکا دین و ایمان جانے۔۔۔
اسنے مجھے بتایا کہ فلاں شخص مجھے غسلخانے یا ٹوائلٹ (بیت الخلا) لے گیا کہ وہاں پر ادائیگی ہو جائے اسلئے کہ وہاں کیمرے نہیں تھے ۔۔
 کیا اس بات پر کسی نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ کی ذات اور کراما کاتبین پر کیمرہ کیسےفضیلت لے گیا ۔۔ جبکہ ٹوائلٹ تو کیا، اللہ کی ذات ہر جگہ ہر مقام پر ہے اور اس سے کسی کا ظاہر و باطن کیسے چھپا رہ سکتا ہے ۔ کاش کہ ہمارے مسلمان اسکو سوچتے ۔۔لیکن یہ اللہ کو ماننے والے اللہ کی کب مانتے ہیں ۔۔
اس ناجائز آمدنی کیلئے انکے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں اور اسکا نام انہوں نے فضل ربی رکھا ہوا ہے ۔۔ کسی بھی سرکاری دفتر میں کوئی کام درپیش ہو تو چوکیدار یا گارڈ سے لے کر چپڑاسی اور پھر حکام بالا سب کو خوش رکھنا پڑتا ہے اور یہ خوشی انکو مناسب رقم کی ادائیگی ہے ورنہ اتنی رکاوٹیں ہونگی کہ انسان خوار ہو جاتا ہے ۔۔
یہ ذلالت عدلیہ سے لے کر انکم ٹیکس ،پولیس اور شہری اداروں میں سب جگہ موجود ہے ۔
اللہ کا شکر ہے کہ ڈیفنس کے معاملات قاعدے کے مطابق ہوتے ہیں ۔ 
مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب سندھ ہائی کورٹ میں اپنے جائز کام کے سلسلے میں وکیل صاحبہ نے کہا “ بیگم صاحبہ خرچہ کرنا پڑے گا تو آپکے فائیل کو پہئیے لگ جائینگے ورنہ یہیں پڑی رہے گی “ اور پھر ان پہیوں سے بھی کام نہیں چلا اور جج صاحب کو متاثر کر نے کیلئے کچھ قریبی تعلقات کام أئے ۔ اسی طرح جب ایک انکم ٹیکس کمشنر نے این او سی دینے کے لئے کھلم کھلا رقم کا مطالبہ کیا اور میں انکے ماتھے پر سجدے کے نشان اور داڑھی کو دیکھتی رہی ، استغفراللٰہ ، اللہ جانے کیا مجبوریاں یا مطالبات انہیں اس حرام پر مجبور کرتے ہیں ۔۔
جابجا لکھا ہوتا ہے “ الراشی والمرتشی فی النار “ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔۔ تو کیا ہم دینے والے جو مجبوری سے دیتے ہیں اس گناہ سے بری الذمہ ہیں ؟؟

Saturday, January 24, 2026

سفر ہے شرط

الحمد للہ کہ بالآخر پی آئی اے کی نجکاری ہو گئی ہے ۔ امید ہے کہ اس سے ہمارے قومی ائر لائن کے لئےترقی اورکامیابی کی مزید راہیں کھل جائینگی ۔۔

سفر ہے شرط
از
عابدہ رحمانی
لدی پھندی لمبی مسافرت اور پرواز کے لئے روانگی ہوئی تو ڈرائیور نے اپنے ایک عزیز کے ذریعے سامان کی ترسیل میں مدد دلانے کا اظہار کیا۔نیکی اور پوچھ پوچھ، اسوقت اس مدد کی شدیدضرورت تھی۔ ائر پورٹ پر ایک اژدھام تھا۔ ایسے میں جبکہ ایک مستعد شخص مدد کے لئے ٹرالی لئے،سامان اور سیٹ کی سہولت بہم پہنچانے کے لئے تیار کھڑا ہو اس وقت اس سے بڑی نعمت کیا ہوسکتی تھی جبکہ ذہن سامان اور وزن میں الجھا ہوا ہو۔
  داخلی دروازے پر ایک ماں بیٹی کا وِ داعی منظر دلگداز اور رقت انگیز تھا بیٹی اور نواسے کو بمشکل رخصت کرتے ہوئے آنسو پونچھتی ہوئی ماں نے مجھے تھام لیا اس وعدے کے ساتھ کہ میں جہاز میں دوران پرواز انکی بیٹی اور نواسے کا خیال رکھونگی۔
تمام مراحل سے گزر کر اس مددگار نے مجھے خدا حافظ کہا اور میں سی آئی پی لاؤنج کے لئے روانہ ہوئی ۔
یہ لاؤنج ایک گوشہ عافیت تھا اسکا مجھے اسوقت احساس ہوا جب اسی پرواز پر جانے والی ایک دوست کا فون آیا کہ وہ میری منتظر ہیں ۔میرے پرزور اصرار پر بھی وہ اندر آنے پر تیار نہ ہوئیں۔ تو میں خود ہی باہر ہولی ہم دونوں نے اپنی طبع شدہ کتابیں ایک دوسرے کو دیں اس وعدے پر کہ اب جہاز میں ملاقات ہوگی۔وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ کئی پروازیں جا رہی تھیں اور مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی ۔اسلام آباد کا نیا ائرپورٹ کب کام شروع کریگا؟ ہم جیسی عوام کو شدت سے انتظار ہے ۔
سیڑھیوں پر ہاتھ کا سامان لے جانا اب کافی مشکل لگتا ہے ۔اللہ بھلا کرے انکا جو مدد کو تیار ہوجاتے ہیں۔
جہاز میں سیٹ سنبھالی بیچ کی سیٹ چھوڑ ایک لڑکا بیٹھ گیا۔ جب کچھ دیر کے بعد بات چیت ہوئی تو معلوم ہوا کہ اٹلانٹا میں نیورو سرجری میں ریزیڈنسی کر رہا ہے،ذہین اور فطین بچہ تھا۔ غنیمت ہے کہ بیچ کی سیٹ خالی رہی۔ اور ہم دونوں سکون سے رہے۔ 
پی آئی اے کا یہ جہاز یوں سمجھ لیں فضا کے دوش پر اڑتا ہوا پاکستان ہے ،پاکستان کے ہر خطے کے لوگ نظر آتے ہیں‎۔ تفریحی سسٹم اسوقت بھی خراب تھا اسکے باوجود کانوں میں لگانے والے پلگ تقسیم ہوئے ۔ جب فضائی میزبان سے پوچھا کہ یہ کس لئے ہیں ؟ تو مسکرا کر کہا ، "دعا کیجئے شاید چل جائے"
اسوقت جب دنیا کے تقریباً ہر جہاز میں یہ سسٹم موجود ہے پی آئی اے کے جہاز میں یہ پچھلے سال سے خراب ہے۔غالبا اسکی بحالی یا مرمت کو غیر ضروری سمجھا گیا ورنہ ٹھیک ہو چکا ہوتا۔ میرے لئے یوں باعث اطمینان ہے کہ اسی بہانے آنکھیں موند لی جاتی ہیں۔ اب تو بیشتر جہازوں میں وائی فائی کی سہولت ہے امارات ائر لائن کے جہازوں میں مفت سہولت ہے۔
پی آئی اے ایک زمانے میں دنیا کے بہترین ائر لائن میں شمار ہوتاتھا ۔ اسوقت کی کئی مشہور ائر لائنز مثلاً امارات ، ملائشین، اور دیگر کئ ایک کو اسنے رہنمائی اور تربیت فراہم کی ۔ آج بھی اسکے منجھے ہوئے ہواباز کسی سے کم نہیں ہیں۔ ابھی تک یہ حکومت کے زیر تصرف ہےاور قومی ایئرلائن کی حیثیت ہے ۔پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اورئنٹ ائر ویز کے بعد پی آئی اے کا قیام عمل میں آیا ۔اسکا مقولہ تھا
Great people to fly with
عظیم افراد پی آئی اے کے مسافر

اقربا پروری عملے کی غیر ضروری زیادتی اور بد عنوانی نے اس محکمے کو گہنا دیا ہے اور کارکردگی بری طرح متاثر کی ہے ۔ ماضی میں نج کاری کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ۔نج کاری سے حالات شاید بہتر ہوجاتے ۔پی آئی اے والے دیگر ائیر لائن کے نفاذ کو مورد الزام ٹہراتے ہیں جبکہ یہ تو ہونا ہی تھا اسی سے تو مسابقت کی دوڑ ہوتی ہے ۔ شہری ہوا بازی میں عروج و زوال کی داستانیں کافی عام ہیں امریکہ میں آ ئے روز ائر لائن دیوالیہ ہو جاتے ہیں یا ایک دوسرے میں ضم ہوجاتے ہیں۔
 
امریکہ سے تو تمام پروازیں بند ہو چکی ہیں ٹورنٹو کی یہ پرواز پی آئی اے کی اسوقت مثالی پرواز ہے اگر راستے میں کہیں رکنے کی ضرورت نہ ہو تو تیرہ چودہ گھنٹے میں اسلام آباد کا سفر انتہائی آرام دہ ہوتا ہے۔
اب ان خاتون سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا ۔ اٹھ کھڑی ہوئی یوں بھی تاکید تھی کہ ایک آدھ گھنٹے کے بعد کچھ حرکت ضروری ہے۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں لیکن وہ لڑکی مجھے نہ مل سکی ۔ قوی امید تھی کہ اب تک سنبھل چکی ہوگی لیکن کاش کہ مل جاتی ۔
جہاز منزل کی جانب رواں دواں تھا ۔ سوتے جاگتے ، کھاتے پیتے ، نمازیں ادا کرتے تھوڑا بہت چہل قدمی اور گپ شپ کرکے وقت تیزی سے گزر رہاتھا ۔
ٹورنٹو اترنے کیلئے جہاز نیچے آیا تو حد نظر تک برف کی سفید چادر بچھی ہوئی دکھائی دی۔ ۲۰ ڈگری سنٹی گریڈ سے ہم منفی ۲۰ کی جانب سات سمندر پار پہونچ چکے تھے ۔ اندرون چلنے والی گرمائش سے اس سردی اور ٹھنڈک کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا ۔ باہر کی فضاء میں تمام کوٹ جیکٹ سمیت پانچ منٹ نہیں گزارے جاتے۔اسلام آباد اور پاکستان کو ہم ہزاروں میل دور چھوڑ آئے تھے اور اس سرزمین پرپہنچ چکے تھے جسکو دوسرا وطن کہہ سکتے ہیں جہاں ہماری پہچان پاکستانی کینیڈئن کے طور پر ہے ۔
جہاز کو گیٹ میسر نہیں تھا تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد جہاز آکر رکا ۔ امیگریشن وغیرہ سے گزر کر سامان کی وصولی کے لئے پہنچی تو معلوم ہوا کہ ابھی تو سامان کی آمد شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔ ادھر ادھر دیکھا تو وہ لڑ کی اپنے بچے کو بہلاتی ہوئی دکھائی دی ۔ میں لپک کے ملی اسکی خیریت دریافت کی خوش وخرم دکھائی دی سامان کی منتظر تھی ایک لوڈر لے رکھا تھا ،اسنے کہا کہ امی آپکا پوچھ رہی تھیں جہاز میں اسکی نشست مجھ سے کافی دور تھی۔ میرا فون نمبر لیا ۔ یوں مجھے بھی اطمینان ہوا ۔
ہمارا سامان آنے میں دو گھنٹے لگ گئے جہاز کے سامان کا دروازہ سخت سردی سے جم گیا تھا اور بڑی مشکلوں سے اسکو کھولاگیا ۔ تھکان سے چور، یوں محسوس ہو رہاتھا کہ ٹانگیں شل ہو گئی ہوں لیکن انجام بخیر تو سب بخیر۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے۔
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں۔

#people #fly #Great

Monday, January 19, 2026

نور بصارت

 نور بصارت

از

عابدہ رحمانی


پچھلے دو سال سے تو یہی محسوس ہو تا تھا کہ آنکھیں دھندلا گئی ہیں ۔ گھڑی گھڑی چشمہ لیکوئیڈ سوپ سے دھو نا ایک عادت سی بن گئی تھی پھر اسکو نرم کپڑے یا تو لئے سے پہونچنا ورنہ پھر مائع سپرے سے صاف کرنا ۔ اس سے کچھ دیر کیلئے لگتا تھا کہ صاف دکھ رہا ہے ۔۔ گاڑی چلاؤ تو دور کے سائن بورڈ چشمہ لگا کر بھی نظر نہیں آتے تھے ۔اور پھر سب ماہر  امراض چشم یہی کہتے تھے کہ موتیا cataract تو ہے لیکن تیار نہیں ہے ۔ اسلئے ابھی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے ۔۔

ایک سال پہلے یہ طے پایا کہ اب اس آپریشن کا وقت آچکا ہے ۔ مختلف ماہر امراض چشم نے مختلف لینس دکھائے کہ اسمیں یہ فائدہ ہوگا اور اسمیں یہ ، لیکن پھر عمومی یا سٹینڈرڈ ( standard )لینس لگانے کا فیصلہ ہوا ۔۔آنکھیں انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمت ہے ۔۔ یوں تو جسم کا کوئی بھی حصہ خراب ہو جائے تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے لیکن کچھ اعضاء کے بغیر بھی گزر بسر ہو جاتی ہے ۔۔ جیسے کہ پتہ ( Gall bladder )یا گردہ ، اپنڈکس خراب ہو جائے تو  نکال دیا جاتا ہے لیکن آنکھوں کے بغیر دنیا اندھیر ہے ۔۔

خدا خدا کر کے آپریشن کا وقت آیا ، سن تو یہ رکھا تھا کہ چھوٹا سا آپریشن ہے لیکن اتنا چھوٹا بھی نہیں اور آپریشن کے بعد پورے فوائد حاصل کرنے کیلئے  اس قدر احتیاط۔۔۔چھوٹی بہن کا یہی آپریشن ایک ماہ پہلے ہو چکاتھا اسنے بھی کافی رہنمائی کی ۔۔ 

أپریشن کے بعد کم ازکم دو ہفتے تک جھکنا نہیں ہے ، بھاری وزن نہیں اٹھانا ، آنکھوں کو گیلا ہونے سے بچانا ہے ، آنکھ کے اندر کوئی صابن اور شیمپو نہیں جانا چاہئے ، آنکھوں کو تیز دھوپ سے بچانا ہے اور پھر آگ کے پاس نہیں جانا ہے ۔۔ آنکھ کے اندر ڈالنے کیلئے تین قسم کے قطروں کا استعمال کرنا ہے ۔۔ اینٹی بایوٹک ، کارٹی زون اور پھر آنکھ کو نم رکھنے والے قطرے ۔۔ 

پورے آپریشن کی تیاری تھی ،آپریشن سے آٹھ گھنٹے پہلے کھانا پینا بند کر دینا ہے۔ اینٹی بایوٹک قطرے چار روز پہلے سے استعمال کرنے تھے ۔۔

پہلے بائیں آنکھ کے آپریشن کا فیصلہ ہوا کیونکہ بقول ڈاکٹر  اسمیں موتیا کافی موٹا ہو چکا تھا ۔۔صبح میرا بیٹا آنکھوں کی سر جری   میں لے گیا ۔۔ مختلف کاغذات پر دستخط ہوئے ۔۔ امریکہ میں ڈاکٹر حفظ ما تقدم کے طور پر اور زیادہ احتیاط برتتے ہیں ۔۔میری دیکھ بھال پر مامور نرس نے مجھے جوتوں کپڑوں سمیت بستر پر لیٹنے کے لئے کہا ۔۔میں نے اسے کہا کہ جوتوں میں ،میں تنگ ہو نگی اسلئے جوتے اتار دیتی ہوں ،صرف موزے کافی ہیں ۔۔ فینکس میں ان دنوں شدید گرمی تھی لیکن اندر کافی ٹھنڈا تھا اسنے مجھے ایک کے بعد ایک گرم چادر جسکو وہ Blanket کہتے ہیں اوڑھائی اور میری دائیں آنکھ بند کرکے بائیں آنکھ میں ایک کے بعد ایک مختلف قطرے ڈالنے شروع کئے ۔بقول اسکے وہ میری آنکھ کو قطروں سے نہلانے والی ہے ۔۔میرے کان کے پاس اسنے موٹا سا تولیہ رکھا تاکہ یہ بہتے ہوئے قطرے کان میں نہ چلے جائیں ۔ ڈاکٹر نے جو وقت دیا تھا اس سے دیر ہو رہی تھی ۔۔ قطروں سے نہلاتے نہلاتے اسنے آنکھ میں میں کوئی جیلGel  ڈالی   جس سے آنکھ چپک گئی ۔

آپریشن تھیٹر جانے کا وقت آچکا تھا ڈاکٹر اور Anesthesiologist میری منتظر تھیں اسنے Anesthesia لگایا اور ڈاکٹر نے لینس نکالنے اور لگانے کا اپنا کام شروع گیا ۔۔ یہ انیستھیسیا اس قسم کا تھا کہ تکلیف کا احساس تو نہیں ہو رہا تھااورآنکھ کو کھلا رکھنا تھا ۔ ڈاکٹر نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ لینس لگا تے ہوئے تھوڑا دباؤ محسوس ہوگا ۔آپریشن مکمل ہوا تو میری آنکھ پر ایک پلاسٹک کی کٹوری سی لگا کر پٹی باندھ دی گئی جو اگلی صبح ڈاکٹر کے ہاں جا کر اسے کھولنی تھی ۔۔

گھر آنے کے بعد میرے بچوں نے کافی خیال رکھا ۔ قطروں کا چارٹ تھا ، دن میں چار چار مرتبہ دونوں قطرے ڈالنے تھے پھر اگلے ہفتے اینٹی بایوٹک بند کرکے سٹیرائیڈ تین مرتبہ ، اگلے ہفتے دو مرتبہ اور پھر ایک مرتبہ ڈالنا تھا ۔۔میں پہلے دن تو قدرے بے حال رہی ۔۔وضو احتیاط سے کیا ، آنکھ پر تو پٹی تھی ، نماز ایسے ادا کی کہ سر جھکانا نہ پڑے ۔

اس دن اتفاق سے میرا یوم پیدائش تھا ۔۔ میرے بیٹے اور بہو نے شام کو کھانا اور کیک لاکر میری سالگرہ منائی ۔۔


اگلی صبح ڈاکٹر کے ہاں اسکی اسسٹنٹ پٹی اتار رہی تھی کہ میرے بیٹے کو مذاق سوجھا  ،”ڈاکٹر مجھے کچھ نظر نہیں آرہا ہے؟

۔ الحمد للہ نظر تو آرہا تھا لیکن قدرے دھندلا۔۔ ڈاکٹر نے تسلی دی کہ چونکہ اس آنکھ میں موتیا موٹا ہو گیا تھااس لئے رفتہ رفتہ بہتر ہو جائے گا ،ساتھ ہی سخت تاکید کی کہ آنکھ کو ہرگز کجھلانا یا ملنا نہیں ہے اور سوتے وقت آنکھ کو ڈھکنا ہے ۔

چھوٹی بہن کے تجربے کے مطابق ہر قسم کے  سکرین فون ، کمپیوٹر، ٹی وی وغیرہ سے کم از کم ایک ہفتے تک گریز لازمی ہے ، اسکے ڈاکٹر نے یہی ہدایت کی تھی لیکن میری ڈاکٹر نے کہا کہ میں سب کچھ کر سکتی ہوں اور ٹی وی وغیرہ دیکھا جاسکتا ہے - سوتے وقت پلاسٹک والی کٹوری کے اوپر blinder پہن لیتی تھی ۔۔ 

آنکھ کو گیلا ہو نے سے بچانے کیلئے ایک ہفتے تک میں نے سر نہیں دھویا اور پھر بال پیچھے کرکے دھویا اور آنکھ کو پوری طرح بچایا ۔۔جنکی یہ سرجری ہوئی تھی انکے تجربات اور بھائی گوگل Google سے استفادہ کیا ۔۔ 

پورے ایک ہفتے کے بعد دوسری یعنی دائیں آنکھ کی سرجری ہوئی اوریہ سارا  عمل اسی طرح دہرایا گیا البتہ جب اس آنکھ کی پٹی کھولی گئی تو سب کچھ بہت روشن اور صاف نظر آرہا تھا ۔۔

اب تقریبا دو ماہ ہو نے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر اور احسان ہے کہ بینائی بحال ہو گئی ہے ۔قریب ، باریک پڑھنے لکھنے کیلئے چشمہ کی ضرورت ہے ورنہ بغیر چشمے کے بھی نظر آجاتا ہے ۔۔ہاں تیز دھوپ سے بچنے کے لئے ہیٹ اور کالا چشمہ پہن لیتی ہوں ۔۔۔۔۔

فباي ألاء ربكما تكذبان ، أپنے رب کی کون  کونسی نعمت کو جھٹلاؤگے ۔۔۔