امرود اور امرود
کچھ یادیں ، کچھ باتیں
از
عابدہ رحمانی
پچھلے دنوں امرود اور اسکے پتوں کے فوائد پر ایک منقول مضمون سوشل میڈیا پر چسپاں یا نشر کر دیا ۔۔ ایک ساتھی نے فورا اسپر قند مکرر کا تبصرہ کیا ۔ وہ اسطرح کے تبصرے سے کبھی نہیں چوکتے ۔۔
اب جو کچھ لکھنے یا ٹائپ کرنے جارہی ہوں وہ میرے اپنے بقلم خود ، طبع زا د خیالات ہیں ۔
کینیڈا کے ساتھیوں کے ایک گروپ پر اس مضمون سے خوب ہلچل مچی اور سب نے امرودوں کو خوب یادکیا اور اپنے اپنے طور پراظہار خیال کیا۔۔
ایک ساتھی نے لکھا ،” کینیڈا میں امرود ہماری دسترس سے باہر ہے ، اسکو جسٹن ٹروڈو ہی خرید سکتا ہے ۔۔” اور یہ بات بالکل درست ہے کہ یہاں پر امرود ایک مہنگا پھل ہے ،عام طور سے ایک درمیانہ امرود ایک ڈالر کا ملے گا۔۔ یہ امرود دنیا کے مختلف خطوں سے آتے ہیں ، پاکستانی امرود کو بھی یہاں آتے آتے پر لگ جاتے ہیں ۔ مصر اور لاطینی امریکہ سے بھی آتے ہیں ۔ مصر پر مجھے یاد آیا کہ پہلی مرتبہ امرود کا شربت قاہرہ میں پیا تھا یہ ۱۹۹۸ کی بات ہے ،یہ اسقدر مفرح اور لذیذ لگا کہ وہاں پر پھر یہی ہمارامشروب رہا ۔ وہاں پر امرود کا سائز کافی بڑا تھا ۔ ۔ ایک دو امرود ڈال کر تھوڑی برف اور پانی ڈال کر بلینڈ کر کے گلاس میں ڈال دیتے ۔ بعد میں مصری ائر لائن یا طیران مصر سے سفر کرتے ہوئے بھی یہی میرا پسندیدہ مشروب رہا۔ پاکستان میں اس وقت اس مشروب کا رواج ہر گز نہیں تھا ۔ شکر ہے کہ اب وہ خوب بنانے لگے ہیں ،کاش کہ بغیر چینی کے بنانا شروع کردیں ۔۔۔
لیکن امریکہ کے جنوبی علاقوں میں ایسا نہیں ہے ، کیلیفورنیا جہاں ہر قسم کے پھل اور پودے کاشت ہوتے ہیں کا ایک عام محاورہ ہے “ every thing grows in California “ وہاں شمالی کیلیفورنیا میں بھی لوگوں نے گھروں میں امرود لگائے ہیں لیموں کے ذائقے کا امرود پہلے وہیں کھایا اور جنوب کی جانب یعنی لاس اینجلس میں ابھی ایک حالیہ قیام میں ایک سہیلی نے اپنے گھر کے بہترین امرود تھیلا بھر کر دیے ۔ اندر سے گلابی رنگت کے یہ امرود ذائقے میں بھی لاجواب تھے ۔۔۔
لیکن شاید باغات کا رواج نہیں ہے ۔
پاکستان میں امرود ایک عام پھل ہے جو کہ غریب کی دسترس میں بھی ہے اور ہمیشہ درمیانی قیمت پر دستیاب ہے ۔۔ یہ امرود اپنی لذت اور ذائقے میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ مختلف علاقوں کے امرود میں تھوڑا بہت ذائقے اور ساخت کا فرق ہے ۔
کراچی میں گول اور گدرے امرود ملیر سے آتے ہیں ،یہ عام طور سے سبز اور سفیدی مائل ہوتے ہیں ، بیج قدرے کم ۔۔جبکہ ناشپاتی کے شکل سے ملتے ہوئے سفیدی مائل لاڑکانہ سے آتے ہیں ۔ لاڑکانہ میں ہمارے رشتہ دار موسم پر اسکی کئی ٹوکریاں بھیجتے تھے ، بہترین ، ذائقہ دار امرود اور سارا گھر اسکی خوشبو سے مہک جاتا تھا ۔
قدرے گلے ہوؤں سے میں جیلی بنالیتی تھی ۔ ۔۔۔ جو کہ اپنے استعمال کے علاوہ دوست احباب میں بھی تقسیم ہو جاتی ۔۔
کراچی میں گھر میں تین امرود کے پودے تھے جو بیج سے اگے تھے ۔ اسکے امرودوں میں کیڑا لگ جاتا تھا لیکن باہر امرود کی بہتات کے باعث اس پر توجہ ہی نہیں دی ۔۔
پاکستان میں امرود یوں تو ہر موسم میں دستیاب ہے لیکن موسم ہو تو ٹھیلوں کے ٹھیلے بھرے ہوتے ہیں ۔
امرود چاہے ویسے ہی کھالو، کالا نمک ، مرچ لگا کر یا فروٹ چاٹ بنالو اسکی لذت اپنی جگہ ہے ۔فروٹ چاٹ کا تو جیسے لازمی جز ہے۔ اکثر جب امرود نہیں میسر تو پھر خوشبو کیلئے اسکا جوس ملا دیا جاتاہے۔۔
بھارت میں الہ آباد کے امرو کی بے حد تعریف سنی ہے لیکن نہ کبھی دیکھا ، نہ کھایا ۔۔
پاکستان میں امرود کے جا بجا باغات ہیں اور خوب پیداوار ہوتی ہے ، ہری پور ، کوہاٹ ، سیالکوٹ اور دیگر کئی علاقوں میں کثرت سے پیداوار ہوتی ہے ۔۔۔
میرے بھائی پاک فوج کی جانب سے سیالکوٹ میں تعینات تھے ۔ ہم لوگ انکے ہاں گئے تو دیکھا کہ امرود کے کئی پیڑ ہیں جو پھل سے لدے ہوئے تھے ۔ اندر سے گلابی بہترین اور خوب میٹھے ، ہمارا سارا زور امرود خوری پر رہا اور آتے وقت بوریوں کی بوریاں گاڑی میں بھر لیں ۔ اب جب گاڑی میں بیٹھے تو کچھ دیر میں وہی خوشبو ناقابل برداشت محسوس ہونے لگی ۔۔
یہی انسان کے تھڑ دلے اور ناشکرے پن کی نشانی ہے ۔۔ استغفراللہ
ابھی کنکون ، میکسیکو میں پہلی مرتبہ امرود کا میٹھا کھا یا ۔۔ چھوٹی سی پیسٹری کی شکل میں امرود کو پیس کر کسٹرڈ کے ساتھ ملا کر بنایا تھا ۔ انتہائی لذیذ اور ذائقہ دار ۔
فباي آلاء ربكما تكذبان
اور اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤگے ۔۔۔
No comments:
Post a Comment