Tuesday, April 21, 2026

زندگی کاسفر

آج کادن ۔زندگی کا سفر
عابدہ رحمانی

مرحوم اس دنیا میں تقریباً ایک صدی گزار کر اپنے رب کے حضور دو دن پہلے جاچکے تھے ۔ آج انکا جنازہ مسی ساگا کی جامعہ اسلامیہ یا کو پر مسجد میں تھا۔ 
یہاں کی روایت کے مطابق کسی کی تعزیت کرنی ہو تو جنازے میں شرکت کر نی چاہئے ، تمام اہل خانہ وہاں موجود ہوتے ہیں ۔ میت کو بھی روانگی کے لئے تیار کر کے دیدار کے لئے رکھ دیا جاتا ہے ۔ اس لئے ہم نے بہتر یہی جانا کہ جنازے میں شرکت کی جائے —
مرحوم کو میں بزرگ شہریوں یا senior citizens کے اجتماعات میں باقاعدگی سے پچھلے تین سال سے اس قصبے میں آنے کے بعد دیکھتی تھی ۔ بزرگ سنی کے باوجود کافی فعال ، سوشل اورمتحرک تھے ۔ میری سوائے سلام کے ان سے کبھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ،لیکن انکی بہو ، بیٹے اور بیٹی وغیرہ سے اچھی جان پہچان ہے ۔۔ انکی بہو سے انکی خود مختاری اور خود اعتمادی کے متعلق جانا کہ وہ اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں اور اپنے تمام کام خود انجام دیتے ہیں —
اللہ کی شان نرالی ہے لیکن مرحوم راحت علی پر اللہ تعالیٰ کی کس قدر رحمت تھی کہ تمام کنبے ، جنمیں پڑپوتے ، پڑ پوتیاں یا پڑ نواسوں ، نواسیاں یا شاید ان سے بھی اگلی نسل ،لیکن وہ کسی پر بوجھ نہیں بنے اور صرف دو دن کی بیماری جھیل کر اس جہاں سے رخصت ہوئے ۔ یہ سب بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے ممکن ہوتاہے ۔ ورنہ بے بس عاجز انسان کے بس میں کیا ہے ۔۔
بڑے بیٹے نے نماز جنازہ پڑھائی اور دعاؤں کے ساتھ وہ ابدی آرام گاہ کی جانب رخصت ہوئے —
اللہ تعالیٰ انہیں جنتوں کا مکین بنائے ۔
جنازے سے پہلے اسی مسجد میں نکاح کی تقریب تھی ، دولھا ، دلھن ، عزیز واقارب مسجد کی حرمت کو مد نظر رکھ کے بھی زرق برق لباس میں ملبوس تھے ۔یہی زندگی ہے اور اسکے یہی رخ ہیں -
اور شام کو انہی بزرگ شہریوں کی عید ملن تھی ، جہاں مرحوم پابندی سے موجود ہوتے تھے ۔کچھ عجیب اتفاق ہے کہ وہاں مجھے ایک حضرت بالکل انکے جیسے دکھائی دیے ۔
محفل حسب معمول شباب پر تھی۔
میں ذرا دیر سے پہنچی تھی ۔ مجھے معلوم نہیں ہو سکا لیکن انہو ں نے یقیناً اپنے دیرینہ ساتھی کو یاد کیا ہوگا ۔
دنیا اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی رہے گی تا قیامت ۔۔