یہ افسوسناک اور عجیب و غریب واقعہ گیارہ مارچ ۲۰۲۶ کی شام کو مجھے پیش آیا تھا۔یہ سو فیصد سچا واقعہ ہے کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے ۔ آج تک مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ساری کار گزاری میں نے کیسے اور کیوں انجام دی ۔ محض ایک ٹیلی فون کال تھی جسے میں کسی وقت بھی منقطع کر سکتی تھی ،ایسا کیوں نہیں کیا ؟۔؟ ۔۔
اللہ تعالیٰ سے رحم وکرم اور شرح صدر اور ذہن کی درخواست ہے ۔۔
کٹھ پتلی ۔
از :
عابدہ رحمانی
میرا ہمدرد ، میرا بہی خواہ مستقل فون پر میرے ساتھ تھا ۔اسنے مجھ سے پوچھ لیا تھا کہ فون کی بیٹری کتنی ہے ۔
“ اسی فیصد “ اور وہ مطمئن ہو کیا ۔ اسطرح ہم لمبے وقت کے لئے ساتھ رہ سکتے ہیں “ اسنے جواب دیا ۔
آدھا گھنٹہ پہلے ہی اس سے رابطہ ہوا تھا تو اسنے مجھے بتایا کہ میں کس مشکل میں گرفتار ہو چکی ہوں اور وہ ہر طرح سے مجھے اس مشکل سے نکالنا چاہتا ہے ۔ مجھے یوں لگا جیسے مجھے ایک فرشتہ مل گیا ہے ۔۔ اسنے گوگل پر اپنی تصویر دکھائی ،اور یہ کہ وہ ووڈ سٹاک کے کراؤن پولیس سے ہے ۔۔ نام ، badge نمبر ، دیگر تفصیلات اور وہ خط بھی واٹس ایپ پر بھیجا جس میں جعلسازی کی الزامات کی تفصیل تھی اور وہ مجھ معصوم کو ان الزامات سے بری کر نا چاہ رہا تھا ۔۔ اس نے مجھ سے تمام اکاؤنٹ کی تفصیلات پو چھیں ،جو میں نے پورے اعتماد سے اسکو بتائے ۔ اسنے اپنا نام ڈیوڈ مچل ( David Mitchell) بتایا اور یہی نام اسکے پروفائل پر تھا — حالانکہ اسکا لہجہ انڈین ، پاکستانی لگ رہا تھا لیکن میں نے کو ئی تکرار مناسب نہیں سمجھی ۔۔
“ مجھے اندازہ ہے کہ یہ رقم آپنے بہت محنت سے پس انداز کی ہو گی ، یوں لگتا ہے کہ آپکے خلاف کسی نے سازش کی ہے یا تو بینک سے یا آپکے کسی عزیز نے کی ہے ۔ کیا آپکو کسی پر شک ہے ؟ “ اسکا لہجہ ہمدردی سے بھر پور تھا ۔۔اور پھر مجھے دو اختیار دیے —
“ایک تو یہ کہ آپکے سارے اکاؤنٹ چھ ماہ کیلئے منجمد ہو جائنگے ۔۔اور آپ کچھ کار گزاری نہیں کر پائینگی “۔
“ نہیں نہیں یہ ہر گز نہیں ہو نا چاہئے ، ہر مہینے میرے مختلف بل ادائیگی کے لئے جمع ہیں اور یہ میرے لئے بہت مشکل ہو جائیگا “
اسنے پھر دوسری صورت بتائی ۔ کہ تم کو کم ازکم پاکستانی حساب سے سترہ لاکھ روپیہ اکاؤنٹ سے نکال کر ایک مخصوص مشین میں جمع کرنا ہوگا ۔ یہ رقم دو روز کے بعد تمہارے اکاؤنٹ میں واپس آ جائیگی اور سارا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔۔ یہ سب الزامات ختم ہو جائینگے۔ میں تمہاری رہنمائی کرونگا اور جیسے جیسے بتاؤں ویسے ویسے کرنا ۔۔
پھر اسنے میرا پوسٹل کوڈ پوچھا جو میں نے اسے بہت تفصیل سے بتا دیا ۔۔
“ہاں اب تم اپنے قریبی ٹی ڈی بنک میں جاؤ اور وہاں سے یہ رقم نکال لو ۔۔ اگر بینک کیشئیر تم سے اسکے متعلق پوچھے تو کہنا کہ تم کو فرنیچر خریدنا۔ اچھا کیا تم پیدل جاؤگی ؟”
“ نہیں نہیں میں ڈرائیو کر کے جاؤنگی لیکن بینک تو بند ہوگا “
“ نہیں تم ابھی جاؤ بینک چھ بجے تک کھلا ہے ، جتنی جلدی اس کام کو نپٹا لو ، تمہارے لئے بہتر ہے ، پانی کی ایک بوتل بھی ساتھ رکھنا“
“ نہیں میں روزے سے ہوں “ میں اسکے احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل پیرا تھی اور ساتھ ساتھ میں دعائیں بھی مانگ رہی تھی کہ اس مشکل سے نکل جاؤں ۔۔
میں نے اسے بتایا کہ گاڑی نکالتے ہوئے اس سے میرا رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ جس کی اسنے مجھے یقین دہانی کی کہ وہ دوبارہ کال کر لے گا۔۔
عمر کے اس حصے میں زندگی کے تلخ و شیریں کو چکھتے ہوئے مجھے اس کی باتوں پر پورا بھروسہ تھا اور میں اس کاروائی کے بارے میں کسی سے بات نہیں کر نا چاہتی تھی۔
بنک کے پارکنگ میں پہنچنے کے بعد اس نے کہا کہ جب میں رقم نکال لوں تو اسے ان رسیدوں کی تصویر بھیجوں اور میں نے انتہائی فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا ہی کیا ۔۔
اسنے کہا “ میرا باس تو آپکو ۹۳ کلو میٹر دور بھیج رہاتھا لیکن میں نے اسے کہا کہ نزدیک اوک ویل بھیج دیتے ہیں اور وہاں یہ کام بخوبی ہو جائیگا۔۔ اچھا اب یہ پتہ میں بھیج رہا ہوں اسکو جی پی ایس میں ڈال دو ، میں فون پر مستقل رہنمائی کرونگا ۔ گھبرانا نہیں ، کوئی مشکل نہیں ہوگی “
میں نے اسے بتایا کہ شام ہو رہی ہے ، میرا روزہ ہے اور میں بہت تھک گئی ہوں لیکن اسنے میری ہمت بندھائی ۔ اوک ویل روانہ ہونے سے پہلے میں نے اپنے بھائی کو ٹیکسٹ کیا “ میں ایک مصیبت میں پھنس گئی ہوں “ میری مراد ان الزامات سے تھی جن میں بقول رچرڈ کے مجھے پھنسایا گیا ۔۔
موسم بھی خراب تھا ،میں دعائیں کرتے ہوئے اوک ول جو آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھا اس پلازہ میں پہنچی جس میں بقول اسکے ایک دوکان Beck میں وہ مشین نصب تھی جو میری قسمت کا فیصلہ کرنیوالی تھی اپنی ہمت کو اکٹھا کر کے میں اسکی ہدایات کے مطابق اس مشین کو ڈھونڈنے لگی ، آخر کار وہ پیلے رنگ کی مشین ایک کونے میں نظر آئی ۔۔
میں نے یہ مشین پہلی دفعہ دیکھی “ لیکن اس پر تو Bitcoin لکھا ہے۔؟” ۔۔ “ہاں ہاں یہی مشین ٹی ڈی بنک کی خاص مشین ہے ۔یہ رقم إسمیں جاکر تمہارے اکاؤنٹ میں واپس چلی جائیگی اور سارا مسئلہ حل ہو جائیگا “ ۔۔
اسکی ہدایات جاری تھیں “اب تم اس پینل میں اپنا فون نمبر ڈالو تو ایک کوڈ آئے گا وہ کوڈ تم ڈالو تو تمہارے فون پر QR codeآئے گا اس پر ایک ونڈو کھلے گی اس کو یہ کوڈ دکھانا تو ایک Slot کھلے گا اسمیں سو سو ڈالر کے نوٹ ڈال دینا ایک وقت میں چھ سو تک کے نوٹ جائنیگے اور یہ پورا عمل بار بار دہرانا ہوگا جب تک کہ پوری رقم نہ چلی جائے “۔۔
یہ عمل میں نے کئی دفعہ دہرایا لیکن وہ Slot نہیں کھلا ۔۔میں نے اسے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ مشین خراب ہے ۔ اس کے کہنے پر میں نے اسے مشین کی تصویر بھی بھیجی ۔ پھر اسنے مجھے گیارہ منٹ دور ایک Hasty Market کا پتہ بھیجا اور وہا ں جانے کیلئے کہا ۔۔
افطار کا وقت قریب تھا ، HastyMarket پہنچ کر میں نے افطار کیلئے ایک جوس کا ڈبہ خریدا اور دعائیں کرتی ہوئی Bitcoin مشین ڈھونڈی اور کارروائی شروع کی ، ڈیوڈ مستقل رابطے میں تھا ، میں اپنی کاگزاری سے بہت خوش اور مطمئن تھی ۔ یہ مشین ٹھیک تھی اور میں نے انتہائی مستعدی سے تمام رقم یکے بعد دیگرے مشین کو سپرد کردی بقول ڈیوڈ کے یہ ایک خاص اکاؤنٹ میں جا رہی تھی جو بعد میں میرے اکاؤنٹ میں آجائیگی ۔
مجھ جیسی جہان دیدہ خاتون کٹھ پتلی کی طرح اسکے احکامات کے طابع تھی ۔
اسی دوران دو چار گھونٹ جوس پی کر میں نے روزہ افطار کیا اور یہ مشن بخوبی پورا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔ ڈیوڈ بھی میری کارگزاری سے پوری طرح خوش تھا پھر اسنے ایک اور آدمی سے میری بات کرائی کہ یہ میرا باس ہے ۔ انہوں مجھے سختی سے منع کیا کہ میں اس سارے واقعے کا کسی سے ذکر نہ کروں اور دوسرے بنک اکاؤنٹ کیلئے اسی طرح کی کاروائی کر نے کیلئے اگلی صبح ساڑھے دس بجے کا وقت طے پایا ۔۔
میں واپس گھر کیلئے روانہ ہوئی بیچ میں بھابھی اور بھائی کی کال آئی لیکن میں نے بات نہیں کی ۔ بارش ہو رہی تھی اور اندھیرے میں مجھے ڈرائیونگ میں مشکل ہو رہی تھی ۔۔ خدا خدا کر کے گھر پہنچی تو بھائی ،بھابھی پریشان دروازے پر کھڑے تھے۔۔
انکو حالت زار بتاتے ہوئے میں نے ذکر کر ہی لیا تو بھائی نے کہا “آپکے ساتھ تو بہت بڑا فراڈ ہوا ہے “ “ نہیں نہیں یہ دیکھو ،میں اسکو فون پر تمام دستاویز دکھانے لگی ،”یہ سب جھوٹ اور من گھڑت ہے “- پھر بھتیجے نے پولیس رپورٹ کرنے کو کہا ۔۔
اگلی صبح مقررہ وقت پر اسکا فون آنے لگا تو میں کال بلاک کردی ، اسکو اندازہ ہوگیا اور واٹس ایپ پر بھیجے ہوئے تمام دستاویز ڈیلیٹ کردئے ۔۔ پولیس رپورٹ بھی ہوگئی ، بنک میں فراڈ کا کیس کیا لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی ، کیونکہ سارا کارنامہ کٹھ پتلی نے خود انجام دیا تھا ۔۔