Saturday, May 30, 2026

کٹھ پتلی

 یہ افسوسناک اور عجیب و غریب واقعہ گیارہ مارچ ۲۰۲۶ کی شام کو مجھے پیش آیا تھا۔یہ سو فیصد سچا واقعہ ہے کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے ۔ آج تک مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ساری کار گزاری میں نے کیسے اور کیوں انجام دی  ۔ محض ایک ٹیلی فون کال تھی جسے میں کسی وقت بھی منقطع کر سکتی تھی ،ایسا کیوں نہیں کیا ؟۔؟ ۔۔ 

اللہ تعالیٰ سے رحم وکرم اور شرح صدر اور ذہن کی درخواست ہے ۔۔

کٹھ پتلی ۔
از :
عابدہ رحمانی

میرا ہمدرد ، میرا بہی خواہ مستقل فون پر میرے ساتھ تھا ۔اسنے مجھ سے پوچھ لیا تھا کہ فون کی بیٹری کتنی ہے ۔
“ اسی فیصد “ اور وہ مطمئن ہو کیا ۔ اسطرح ہم لمبے وقت کے لئے ساتھ رہ سکتے ہیں “ اسنے جواب دیا ۔
آدھا گھنٹہ پہلے ہی اس سے رابطہ ہوا تھا تو اسنے مجھے بتایا کہ میں کس مشکل میں گرفتار ہو چکی ہوں اور وہ ہر طرح سے مجھے اس مشکل سے نکالنا چاہتا ہے ۔ مجھے یوں لگا جیسے مجھے ایک فرشتہ مل گیا ہے ۔۔ اسنے گوگل پر اپنی تصویر دکھائی ،اور یہ کہ وہ ووڈ سٹاک کے کراؤن پولیس سے ہے ۔۔ نام ، badge  نمبر ، دیگر تفصیلات اور وہ خط بھی واٹس ایپ پر بھیجا جس میں جعلسازی کی الزامات کی تفصیل تھی اور وہ مجھ معصوم کو ان الزامات سے بری کر نا چاہ رہا تھا ۔۔ اس نے مجھ سے تمام اکاؤنٹ کی تفصیلات پو چھیں ،جو میں نے پورے اعتماد سے اسکو بتائے ۔ اسنے اپنا نام ڈیوڈ مچل ( David Mitchell) بتایا اور یہی نام اسکے پروفائل پر تھا — حالانکہ اسکا لہجہ انڈین ، پاکستانی لگ رہا تھا لیکن میں نے کو ئی تکرار مناسب نہیں سمجھی ۔۔ 
“ مجھے اندازہ ہے کہ یہ رقم آپنے بہت محنت سے پس انداز کی ہو گی ، یوں لگتا ہے کہ آپکے خلاف کسی نے سازش کی ہے یا تو بینک سے یا آپکے کسی عزیز نے کی ہے ۔ کیا آپکو کسی پر شک ہے ؟ “ اسکا لہجہ ہمدردی سے بھر پور تھا ۔۔اور پھر مجھے دو اختیار دیے —
“ایک تو یہ کہ آپکے سارے اکاؤنٹ چھ ماہ کیلئے منجمد ہو جائنگے ۔۔اور آپ کچھ کار گزاری نہیں کر پائینگی “۔ 
“ نہیں نہیں یہ ہر گز نہیں ہو نا چاہئے ، ہر مہینے میرے مختلف بل ادائیگی کے لئے جمع ہیں اور یہ میرے لئے بہت مشکل ہو جائیگا “
اسنے پھر دوسری صورت بتائی ۔ کہ تم کو کم ازکم پاکستانی حساب سے سترہ لاکھ روپیہ اکاؤنٹ سے نکال کر ایک مخصوص مشین میں جمع کرنا ہوگا ۔ یہ رقم دو روز کے بعد تمہارے اکاؤنٹ میں واپس آ جائیگی اور سارا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔۔ یہ سب الزامات ختم ہو جائینگے۔ میں تمہاری رہنمائی کرونگا اور جیسے جیسے بتاؤں ویسے ویسے کرنا ۔۔
پھر اسنے میرا پوسٹل کوڈ پوچھا جو میں نے اسے بہت تفصیل سے بتا دیا ۔۔
“ہاں اب تم اپنے قریبی ٹی ڈی بنک میں جاؤ اور وہاں سے یہ رقم نکال لو ۔۔ اگر بینک کیشئیر تم  سے اسکے متعلق پوچھے تو کہنا کہ تم کو فرنیچر خریدنا۔ اچھا کیا تم پیدل جاؤگی ؟”
“ نہیں نہیں میں ڈرائیو کر کے جاؤنگی لیکن بینک تو بند ہوگا “
“ نہیں تم ابھی جاؤ بینک چھ بجے تک کھلا ہے ، جتنی جلدی اس کام کو نپٹا لو ، تمہارے لئے بہتر ہے ، پانی کی ایک بوتل بھی ساتھ رکھنا“
“ نہیں میں روزے سے ہوں “  میں اسکے احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل پیرا تھی اور ساتھ ساتھ میں دعائیں بھی مانگ رہی تھی کہ اس مشکل سے نکل جاؤں ۔۔
میں نے اسے بتایا کہ گاڑی نکالتے ہوئے اس سے میرا رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ جس کی اسنے مجھے یقین دہانی کی کہ وہ دوبارہ کال کر لے گا۔۔ 
عمر کے اس حصے میں زندگی کے تلخ و شیریں کو چکھتے ہوئے مجھے اس کی باتوں پر پورا بھروسہ تھا اور میں اس کاروائی کے بارے میں کسی سے بات نہیں کر نا چاہتی تھی۔
بنک کے پارکنگ میں پہنچنے کے بعد اس نے کہا کہ جب میں رقم نکال لوں تو اسے ان رسیدوں کی تصویر بھیجوں اور میں نے انتہائی فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا ہی کیا ۔۔ 
اسنے کہا “ میرا باس تو آپکو ۹۳ کلو میٹر دور بھیج رہاتھا لیکن میں نے اسے کہا کہ نزدیک اوک ویل بھیج دیتے ہیں اور وہاں یہ کام بخوبی ہو جائیگا۔۔ اچھا اب یہ پتہ میں بھیج رہا ہوں اسکو جی پی ایس میں ڈال دو ، میں فون پر مستقل رہنمائی کرونگا ۔ گھبرانا نہیں ، کوئی مشکل نہیں ہوگی “ 
میں نے اسے بتایا کہ شام ہو رہی ہے ، میرا روزہ ہے اور میں بہت تھک گئی ہوں لیکن اسنے میری ہمت بندھائی ۔ اوک ویل روانہ ہونے سے پہلے میں نے اپنے بھائی کو ٹیکسٹ کیا “ میں ایک مصیبت میں پھنس گئی ہوں “ میری مراد ان الزامات سے تھی جن میں بقول رچرڈ کے مجھے پھنسایا گیا ۔۔
موسم بھی خراب تھا ،میں دعائیں کرتے ہوئے اوک ول جو آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھا اس پلازہ میں پہنچی جس میں بقول اسکے ایک دوکان Beck میں وہ مشین نصب تھی جو میری قسمت کا فیصلہ کرنیوالی تھی اپنی ہمت کو اکٹھا کر کے میں اسکی ہدایات کے مطابق اس مشین کو ڈھونڈنے لگی ، آخر کار وہ پیلے رنگ کی مشین ایک کونے میں نظر آئی ۔۔
میں نے یہ مشین پہلی دفعہ دیکھی “ لیکن اس پر تو Bitcoin لکھا ہے۔؟” ۔۔ “ہاں ہاں یہی مشین ٹی ڈی بنک کی خاص مشین ہے ۔یہ رقم إسمیں جاکر تمہارے اکاؤنٹ میں واپس چلی جائیگی اور سارا مسئلہ حل ہو جائیگا “ ۔۔
اسکی ہدایات جاری تھیں “اب تم اس پینل میں اپنا فون نمبر ڈالو تو ایک کوڈ آئے گا وہ کوڈ تم ڈالو تو تمہارے فون پر QR codeآئے گا اس پر ایک ونڈو کھلے گی اس کو یہ کوڈ دکھانا تو ایک Slot کھلے گا اسمیں سو سو ڈالر کے نوٹ ڈال دینا ایک وقت میں چھ سو تک کے نوٹ جائنیگے اور یہ پورا عمل بار بار دہرانا ہوگا جب تک کہ پوری رقم نہ چلی جائے “۔۔ 
یہ عمل میں نے کئی دفعہ دہرایا لیکن وہ Slot نہیں کھلا ۔۔میں نے اسے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ مشین خراب ہے ۔ اس کے کہنے پر میں نے اسے مشین کی تصویر بھی بھیجی ۔ پھر اسنے مجھے گیارہ منٹ دور ایک Hasty Market کا پتہ بھیجا اور وہا ں جانے کیلئے کہا ۔۔
افطار کا وقت قریب تھا ، HastyMarket پہنچ کر میں نے افطار کیلئے ایک جوس کا ڈبہ خریدا اور دعائیں کرتی ہوئی Bitcoin مشین ڈھونڈی اور کارروائی شروع کی ، ڈیوڈ مستقل رابطے میں تھا ، میں اپنی کاگزاری سے بہت خوش اور مطمئن تھی ۔ یہ مشین ٹھیک تھی اور میں نے انتہائی مستعدی سے تمام رقم یکے بعد دیگرے مشین کو سپرد کردی بقول ڈیوڈ کے یہ ایک خاص اکاؤنٹ میں جا رہی تھی جو بعد میں میرے اکاؤنٹ میں آجائیگی ۔ 
مجھ جیسی جہان دیدہ خاتون کٹھ پتلی کی طرح اسکے احکامات کے طابع تھی ۔ 
اسی دوران دو چار گھونٹ جوس پی کر میں نے روزہ افطار کیا اور یہ مشن بخوبی پورا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔ ڈیوڈ بھی میری کارگزاری سے پوری طرح خوش تھا پھر اسنے ایک اور آدمی سے میری بات کرائی کہ یہ میرا باس ہے ۔ انہوں مجھے سختی سے منع کیا کہ میں اس سارے واقعے کا کسی سے ذکر نہ کروں اور دوسرے بنک اکاؤنٹ کیلئے اسی طرح کی کاروائی کر نے کیلئے اگلی صبح ساڑھے دس بجے کا وقت طے پایا ۔۔
میں واپس گھر کیلئے روانہ ہوئی بیچ میں بھابھی اور بھائی کی کال آئی لیکن میں نے بات نہیں کی ۔ بارش ہو رہی تھی اور اندھیرے میں مجھے ڈرائیونگ میں مشکل ہو رہی تھی ۔۔ خدا خدا کر کے گھر پہنچی تو بھائی ،بھابھی پریشان دروازے پر کھڑے تھے۔۔
انکو حالت زار بتاتے ہوئے میں نے ذکر کر ہی لیا تو بھائی نے کہا “آپکے ساتھ تو بہت بڑا فراڈ ہوا ہے “ “ نہیں نہیں یہ دیکھو ،میں اسکو فون پر تمام دستاویز دکھانے لگی ،”یہ سب جھوٹ اور من گھڑت ہے “- پھر بھتیجے نے پولیس رپورٹ کرنے کو کہا ۔۔
اگلی صبح مقررہ وقت پر اسکا فون آنے لگا تو میں کال بلاک کردی ، اسکو اندازہ ہوگیا اور واٹس ایپ پر بھیجے ہوئے تمام دستاویز ڈیلیٹ کردئے ۔۔ پولیس رپورٹ بھی ہوگئی ، بنک میں فراڈ کا کیس کیا لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی ، کیونکہ سارا کارنامہ کٹھ پتلی نے خود انجام دیا تھا ۔۔

Sunday, May 10, 2026

Happy Mother's day!

‏ Happy Mother's Day!

‎ماؤں کا عالمی دن
‎از

‎عابدہ رحمانی

‎ پچھلے کئی ہفتے سے ہر تجارتی اور نشریاتی ادارے،چھوٹے بڑے سٹورز یعنی دکانیں ،ائر لائنز،ہوٹل ریسٹورنٹ آن لائن ترسیل اور آرڈر لینے والےادارےجن میں پھولوں کے گلدستوں سے لے کر ملبوسات ،خوشبویات،اشیائے خورد ونوش گھر پر فراہم کرتے ہیں   "مدرز ڈے کی تشہیر میں مصروف ہیں انکا ایک ہی نعرہ ہے کہ ہم سے خریداری کرو اور اپنی اماں کو خوش کردو۔
 اس برس دس ۱۰ 
 مئی  کو عالمی سطح پر ماؤں کا دن یا مدرز ڈے  منایا جاۓ گا یہ روز سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے-اسی کے حساب سے تاریخیں بدل جاتی ہیں--امریکہ کوئی دن منائے اور دنیا اسکی پیروی نہ کرے یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ اور یوں ساری دنیا میں ہر طرف مادرز ڈے کا شور مچا ہوا ہے مادر ڈے اور اسکے بعد جون کے دوسرے اتوار کو فادر زڈے -

‎جنوں کا نام خرد رکھ دیا اور خرد کا جنوں  
جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے 
‎امریکہ میں پہلا مادر ڈے مغربی ورجینیا کےشہر گریفٹن میں اینا جاروس نے اپنی ماں کی یاد میں 1908 کو منا یا  ، وہ اپنی ماں کے 1905 میں انتقال کے بعد اسکی کوشش کر رہی تھی کہ اس روز کو سرکاری سر پرستی حاصل ہو لیکن جب یہ دن ایک کاروباری حیثیت اختیار کر گیا تو اینا کافی دل برداشتہ ہوئی- یہاں تک کہ اسنے پھر اس قراردا د کو واپس لینے کی کوشش کی اور اس سے لاتعلقی اختیار کی۔
‎کاروباری حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا  اب ہر سال کمرشل بازاری سطح پر ہر طرف ہلچل مچ جاتی ہےبلکہ اب تو دنیا کے ہر ملک میں مدرز ڈے کا شور ہے ، اور پاکستان و پاکستانی پیچھے کیوں رہیں  - نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر لاپرواہ اولاد  ماؤں کو یاد کر لیتی ہے ۔کوئی تحفہ،کارڈ، پھول یا کیک وغیرہ --ماں کو بھی کم ازکم مغربی معاشرے میں احساس ہوتا ہے کہ اسکا بھی کوئی وجود ہے- خاصکر بوڑھی مائیں جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا--حالانکہ انمیں سے بیشتر وہ ہوتی ہیں جنہوں نے تنہا اولاد کی پرورش کی ہوتی ہے --اللہ بھلا کرے ڈی این اے ٹیسٹ کا ورنہ بیشتر کو تو باپ کا معلوم ہی نہ ہو پاتا--
‎اب دنیا کے تمام ممالک مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں مادرز ڈے اپنے اپنے لحاظ سے منایا جاتا ہے-
‎ماں کی اہمیت تو آفرینش سے مجسم ہے ٍ-ماں کے وجود اور اسکی قربانیوں سے کون انکار کرسکتا ہے وہ نو ، دس مہینے حمل( جسکے معنی بوجھ کے ہیں) کی تکالیف اٹھاتی ہے -تکلیف دہ درد زہ سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے ، پھر پالنے پوسنے کا عمل  شروع ہوتا ہے دودھ پلانے سے لیکر تمام پرورش کی بیشتر ذمہ واری ماؤں پر ہی عائد ہوتی ہے --دودھ چاہے اپنا ہو چاہے بوتل کا ہو- ایک کمزور محتاج بچہ ماں کی توجہ اور محبت سے ہی پلتا بڑھتا ہے-اسلئے ہمارے معاشرے میں دودھ کو جتلانا پرانی ماؤں کا ایک مؤثر ہتھیار ہوتا تھا "دودھ نہیں بخشونگی" وہ بات بے بات اپنی اولاد کو دھمکی دیتیں - ماں کی اہمیت ، محبت اور ایثار پوری دنیا اور تمام معاشروں میں مسلم ہے - جب ڈائپرز کا زمانہ نہیں تھا تو مائیں گیلے پر لیٹ کر بچے کو سوکھے پر ڈالدیتیں بچے کی نجاست اور صفائی کے مرحلے سر کرتی۔ یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں کتنی ماؤں کو بے انتہا قربانیوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے- یہ قربانیاں ہمیشہ مختلف صورتوں سے جاری رہتی ہیں چاہے بچے بڑی عمروں کے ہو جائیں-- ماں بنناایک عورت کی ذات کی تکمیل ہے ایک حسین ترین جذبہ ہے اسکی محرومی کا احساس بے اولاد ماؤں سے بہتر کون جان سکتا ہے-
‎اکثر مسلمان گھرانے جو مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں کہتےہیں ہمارے لئے تو ہر روز ہی مادر ڈے اور فادر ڈے ہے --

‎اسلام میں قرآن و حدیث میں ماں اور والدین کے حقوق کا پر زور تذکرہ ہے  “وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا۔ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔” (بنی اسرائیل:۲۳، ۲۴)
‎         ترجمہ:… “اور تیرے رَبّ نے حکم کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی “اُف” (ہوں) بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے اِنکساری کے ساتھ جھکے رہنا، اور یوں دُعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔”  
‎ایک حدیث میں ہے:

‎         “عن أبی أمامة رضی الله عنہ أن رجلًا قال: یا رسول الله! ما حق الوالدین علٰی ولدھما؟ قال: ھما جنتک أو نارک۔”                   (ابنِ ماجہ ص:۲۶۰)

‎         ترجمہ:… “حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! والدین کا اولاد کے ذمے کیا حق ہے؟ فرمایا: وہ تیری جنت یا دوزخ ہیں (یعنی ان کی خدمت کروگے تو جنت میں جاوٴگے، ان کی نافرمانی کروگے تو دوزخ خریدوگے)۔”

‎         ایک اور حدیث میں ہے:

‎         “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّة وان کان واحدًا فواحدًا ومن أصبح عاصیًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النّار ان کان واحدًا فواحدًا۔ قال رجل: وان ظلماہ؟ قال: وان ظلماہ وان ظلماہ وان ظلماہ۔”                                 (مشکوٰة ص:۴۲۱)
‎مئی  کو عالمی سطح پر ماؤں کا دن یا مدرز ڈے  منایا جاۓ گا یہ روز سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے-اسی کے حساب سے تاریخیں بدل جاتی ہیں--امریکہ کوئی دن منائے اور دنیا اسکی پیروی نہ کرے یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ اور یوں ساری دنیا میں ہر طرف مادرز ڈے کا شور مچا ہوا ہے مادر ڈے اور اسکے بعد جون کے دوسرے اتوار کو فادر زڈے -

‎جنوں کا نام خرد رکھ دیا اور خرد کا جنوں  
جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے 
‎امریکہ میں پہلا مادر ڈے مغربی ورجینیا کےشہر گریفٹن میں اینا جاروس نے اپنی ماں کی یاد میں 1908 کو منا یا  ، وہ اپنی ماں کے 1905 میں انتقال کے بعد اسکی کوشش کر رہی تھی کہ اس روز کو سرکاری سر پرستی حاصل ہو لیکن جب یہ دن ایک کاروباری حیثیت اختیار کر گیا تو اینا کافی دل برداشتہ ہوئی- یہاں تک کہ اسنے پھر اس قراردا د کو واپس لینے کی کوشش کی اور اس سے لاتعلقی اختیار کی۔
‎کاروباری حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا  اب ہر سال کمرشل بازاری سطح پر ہر طرف ہلچل مچ جاتی ہےبلکہ اب تو دنیا کے ہر ملک میں مدرز ڈے کا شور ہے ، اور پاکستان و پاکستانی پیچھے کیوں رہیں  - نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر لاپرواہ اولاد  ماؤں کو یاد کر لیتی ہے ۔کوئی تحفہ،کارڈ، پھول یا کیک وغیرہ --ماں کو بھی کم ازکم مغربی معاشرے میں احساس ہوتا ہے کہ اسکا بھی کوئی وجود ہے- خاصکر بوڑھی مائیں جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا--حالانکہ انمیں سے بیشتر وہ ہوتی ہیں جنہوں نے تنہا اولاد کی پرورش کی ہوتی ہے --اللہ بھلا کرے ڈی این اے ٹیسٹ کا ورنہ بیشتر کو تو باپ کا معلوم ہی نہ ہو پاتا--
‎اب دنیا کے تمام ممالک مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں مادرز ڈے اپنے اپنے لحاظ سے منایا جاتا ہے-
‎ماں کی اہمیت تو آفرینش سے مجسم ہے ٍ-ماں کے وجود اور اسکی قربانیوں سے کون انکار کرسکتا ہے وہ نو ، دس مہینے حمل( جسکے معنی بوجھ کے ہیں) کی تکالیف اٹھاتی ہے -تکلیف دہ درد زہ سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے ، پھر پالنے پوسنے کا عمل  شروع ہوتا ہے دودھ پلانے سے لیکر تمام پرورش کی بیشتر ذمہ واری ماؤں پر ہی عائد ہوتی ہے --دودھ چاہے اپنا ہو چاہے بوتل کا ہو- ایک کمزور محتاج بچہ ماں کی توجہ اور محبت سے ہی پلتا بڑھتا ہے-اسلئے ہمارے معاشرے میں دودھ کو جتلانا پرانی ماؤں کا ایک مؤثر ہتھیار ہوتا تھا "دودھ نہیں بخشونگی" وہ بات بے بات اپنی اولاد کو دھمکی دیتیں - ماں کی اہمیت ، محبت اور ایثار پوری دنیا اور تمام معاشروں میں مسلم ہے - جب ڈائپرز کا زمانہ نہیں تھا تو مائیں گیلے پر لیٹ کر بچے کو سوکھے پر ڈالدیتیں بچے کی نجاست اور صفائی کے مرحلے سر کرتی۔ یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں کتنی ماؤں کو بے انتہا قربانیوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے- یہ قربانیاں ہمیشہ مختلف صورتوں سے جاری رہتی ہیں چاہے بچے بڑی عمروں کے ہو جائیں-- ماں بنناایک عورت کی ذات کی تکمیل ہے ایک حسین ترین جذبہ ہے اسکی محرومی کا احساس بے اولاد ماؤں سے بہتر کون جان سکتا ہے-
‎اکثر مسلمان گھرانے جو مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں کہتےہیں ہمارے لئے تو ہر روز ہی مادر ڈے اور فادر ڈے ہے --

‎اسلام میں قرآن و حدیث میں ماں اور والدین کے حقوق کا پر زور تذکرہ ہے  “وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا۔ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔” (بنی اسرائیل:۲۳، ۲۴)
‎         ترجمہ:… “اور تیرے رَبّ نے حکم کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی “اُف” (ہوں) بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے اِنکساری کے ساتھ جھکے رہنا، اور یوں دُعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔”  
‎ایک حدیث میں ہے:

‎         “عن أبی أمامة رضی الله عنہ أن رجلًا قال: یا رسول الله! ما حق الوالدین علٰی ولدھما؟ قال: ھما جنتک أو نارک۔”                   (ابنِ ماجہ ص:۲۶۰)

‎         ترجمہ:… “حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! والدین کا اولاد کے ذمے کیا حق ہے؟ فرمایا: وہ تیری جنت یا دوزخ ہیں (یعنی ان کی خدمت کروگے تو جنت میں جاوٴگے، ان کی نافرمانی کروگے تو دوزخ خریدوگے)۔”

‎         ایک اور حدیث میں ہے:

‎         “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّة وان کان واحدًا فواحدًا ومن أصبح عاصیًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النّار ان کان واحدًا فواحدًا۔ قال رجل: وان ظلماہ؟ قال: وان ظلماہ وان ظلماہ وان ظلماہ۔”                                 (مشکوٰة ص:۴۲۱)

بنگالی سوغات

مرحوم مشرقی پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش میں ساور کے رشوگلے اور سم سم اب  بھی مشہور ہونگے، اسی طرح نواب پور اور کومیلا کی رس ملائی ۔ 
یہاں مسی ساگا میں ہماری پسندیدہ ایک مشہور اور بہترین بنگالی مٹھائی،چٹخارے اور ذائقوں کی دکان اور ریسٹورنٹ ہے premium sweets
جو ہماری پسندیدہ ہے --بارہ ڈالر میں ایک پونڈ کے حساب سے بہترین رس ملائی ، مٹی کی ہانڈی میں میٹھا دہی اور تمام بنگالی مٹھائیاں مل جاتی ہیں- وہاں کی مشہور ہلسا مچھلی بھی مل جاتی ہے ،جو زیادہ کانٹوں کی وجہ سے ہم نہیں کھاتےتھے ۔۔
ہرے کچے ناریل کو عام طور سے ڈاب کہتے ہیں- اسکا پانی انتہائی غذائیت بخش ہو تا ہے--