Monday, October 19, 2026

کینیڈا کا یوم تشکر اور امریکہ کا یو م کولمبس

 کینیڈا کا یوم تشکر Thanksgiving Day

اور امریکہ کا یوم کولمبس Columbus Day

از --

عابدہ رحمانی

امریکہ اور کینیڈا کا یوں سمجھیئے چولی دامن کا ساتھ ہے -لیکن پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین بر آمدات پر بھاری محصولات لگا کر کینیڈا کا جینا دوبھر کر دیا ہے —جس سے حالات قدرے کشیدہ ہو گئے ہیں ۔۔

اگرچہ یہ دو الگ ملک ہیں اور کینیڈا کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی انفرادیت برقرار رکھے-- پہلے تواسپر امریکہ کو ہر گز کوئی اعتراض نہیں تھا—کیونکہ سیانوں کے مطابق امریکہ کو کینیڈا سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے--

انکی  چھٹیاں یا لمبے سہ روزہ ویک اینڈ بیشتر ساتھ ہی منائے جاتے ہیں -اسکے نام البتہ مختلف ہوتے ہیں --کینیڈا میں یوم وکٹوریہ ہوگا تو امریکہ میں یوم صدر ہوگا-- بارہ  اکتوبر کو کینیڈا میں یوم تشکر تھینکس گیونگ ڈے منایا گیا  اور امریکہ میں کولمبس ڈے-  

کینیڈا میں یہ دن اکتوبر کے دوسرے سوموارکو منایا جاتا ہے جبکہ امریکہ میں نومبر کے آخری جمعرات پر --

لیکن چاروں دانگ جو دھوم دھڑکا امریکی یوم تشکر کا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ اسکے اگلے روز کے سیاہ جمعے بلیک فرائڈے  کا ہوتا ہے کہ کافی سارے کینیڈین بھی اسکے دیوانے ہوتے ہیں-- اسکے بر عکس کینیڈا کی تھینکس گیونگ خاموشی سے گزر جاتی ہے -- نہ ہی وزیر اعظم یا گورنر جنرل کسی ٹرکی کی جان بخشی کرتے ہیں --نہ ہی کدو کا میٹھا(  بنتا ہے کیونکہ ابھی تو سارے پمپکن ہالوین( کے انتظار میں سجے ہوئے ہیں--

امریکی اور کینیڈین تھینکس گیونگ میں ایک ہی روایت کی پیروی کی جاتی ہے اور ایک ہی قسم کی اشیاء خورد و نوش تیار ہوتی ہیں -- وہی ٹرکی یا فیل مرغ روسٹ کیا جاتا ہے اسکے ساتھ اسکے لوازمات بنتے ہیں آلو کا بھرتا ، گریوی ، کرین بیری کی میٹھی چٹنی وغیرہ وغیرہ--

اللہ بلا کرے مقامی باشندوں کا جنہوں نے دور دیس سے  آنے والوں کی خاطر تواضع کی انہیں کھلایا پلایا اپنے ہاں بسایا اور اسکے بعد کیا ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے --

کچھ وہی حال ہوا ہوگا --

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ-- ہاۓ اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

یہ چھٹیاں جاتی ہوئی گرمیوں کی ، آتے ہوئے موسم خزاں اور سرد موسم کا پیغام دیتی ہیں --

جب اس خزاں کے آغاز میں درختوں کے رنگ بدلتے ہوئے پتے ایک سے ایک  حسیں پھب اور بہار دکھاتے ہیں--جب میپل کا پتہ سبز سے لال ، سرخ اور پھر پیلا ہوجاتا ہے اسطرح دوسرے پودوں اور درختوں کے پتے شوخ رنگوں میں ملبوس ہو جاتے ہیں --کیا دیوانہ کرنے والا منظر ہوتا ہے -سبحان اللہ

خِزاں کے دور میں لُطفِ بہار لیتا ہُوں 


 ریاستہاۓ متحدہ امریکہ میں  کولمبس ڈے منایا جائےگا- اسوجہ سے یہ سہ روزہ ویک اینڈ ہوگا  چونکہ یہ ایک وفاقی  چھٹی ہےاوریہاں کے معاشرے میں سہ روزہ ویک اینڈ کا بڑی شدت سے انتظار ہوتا ہے -یہاں کے کافی ریاستوں میں اسکے ساتھ موسم خزاں کی چھٹیوں کو ملا دیا جاتا ہے-کافی لوگ اس طرح کے ویک اینڈ پر سیر و تفریح کا پروگرام بنا ڈالتے ہیں - اور کچھ نہیں تو سٹوروں میں زبردست سیل لگ جاتے ہیں اور خریداری کا لطف اٹھایا جاتا ہے- کیونکہ آیئندہ  اور کرسمس کے تحائف کی بھی خریداری کرنی ہے--- یہ ساہوکاری اور کاروباری معاشرہ ہے ہمہ وقت سٹور اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کب اور کیسے خریداروں کو نشانہ بنایا جاءے اسی کو ٹارگٹ مارکیٹنگ کہتے ہیں- 

امریکہ کرسٹوفر کولمبس کا ممنون احسان ہے کہ اسنے اسے مغالطے میں دریافت کرلیا وگرنہ ابھی تک دنیا امریکہ سے محروم رہتی اور وہ کہیں گوشہ گمنامی میں پڑا رہتا-ذرا سوچئے اگر امریکہ اب تک دریافت نہ ہو چکا ہوتا تو کیا ہوتا شائد دنیا کا کچھ بھلا ہی ہوجاتا- جاپان، چین ،ویٹنام، عراق، افغانستان ،ایران ، پاکستان ، شمالی کوریا اور اب ایران ودیگر بے شمار ممالک چین کی بانسری بجاتے رہتے اور باقی دنیا میں بھی راوی چین ہی چین لکھتا- نہ ہی یہ دنیا ایک گلوبل ولیج بنتی نہ ہمیں ان کمپیوٹروں کی لت پڑتی -  پھریہ ڈھیروں ڈھیر سائینسی ایجادات کا کیا ہوتا؟ بقول حسن نثار کے" ہم تو اپنے پوتڑے بنانے کے قابل بھی نہیں" بہر کیف دنیا اسکے باوجود بھی چل رہی تھی لوگ زندہ تھے کھا پی رہے تھے اور خوب لڑ جھگڑ بھی رہے تھے- البتہ ہاں یہ ایٹمی دوڑ اور یہ ڈرون خدا کی پناہ---- امریکہ نے دنیا کا جانے انجانے میں وہی حشر کیا جو کولمبس نے امریکہ دریافت کرنے کے بعد وہاں کے مقامی باشندوں کا کیا --جسکی لاٹھی اسکی بھینس!

  ہاں  دنیا کا بھلا ہوتا  نہ ہوتا امریکہ کا تو ہو ہی جاتا -- ہر وقت امریکہ کو کتنی گالیاں پڑتی ہیں ، جھنڈے جلائے جاتے ہیں  صدر کے پتلے جلائے جاتے ہیں، شرم دلائی جاتی ہے لیکن امریکہ ایسا ڈھیٹ کہ ٹھس سے مس ہی نہیں ہوتا بلکہ پھیلتا ہی چلا جاتا ہے-پاکستان میں ہر جلوس میں نعرے بازی ہوگی” گو امریکہ گو اس سے ایک تو وہ دوبئی چلو والا قصہ لگتا ہے کہ جاؤ چلے جاؤ امریکہ چاہے جیسے بھی ممکن ہو ، اللہ کا بے حد احسان  ہے کہ ٹرمپ آجکل پاکستان اور فیلڈ مارشل پر بے حد مہربان ہے اور پاکستانیوں نے امریکہ کی جان بخشی کر دی ہے ۔۔


 اسوقت بھی امریکہ کا یہ حال ہے کہ ویزے کے لئے سب سے لمبی لائینیں اسی کی ایمبیسی میں لگی ہوتی ہیں ہر ایک کی خواہش ہے کہ وہ امریکہ جائے ، کم از کم ایک مرتبہ تو جائےاور جس کو ویزہ نہیں ملتا وہی سب سے زیادہ برا بھلا کہتا ہے , ہاں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جیسے میرے والد صاحب مرحوم کو ایک مرتبہ میں نے مشورہ دیا کہ آپ امریکہ گھوم آئیے ، کہنے لگے اللہ تعالی مجھ سے یہ ہرگز نہیں پوچھے گا کہ امریکہ گئے تھے یا نہیں ؟--میں نے انکو قائل کرنے کی کافی کوشش کی کہ دیکھئے گا "فردوس گر بر روئے زمیں است --ہمیں است وہمیں است وہمیں است" لیکن وہ نہیں مانے ،اسی جنت کو تو بچانے کے لئے امریکہ ساری دنیا کو تگنی کا ناچ نچاتا رہتا ہے ہے--

 اور یہ سب کولمبس کا قصور ہے نہ وہ امریکہ دریافت کرتا نہ ہی امریکہ کو یہ دن دیکھنے پڑتے-اب کولمبس نکلا تو ہندوستان کی تلاش میں تھا لیکن جا پہنچا امریکہ ، اب نجانے اسوقت امریکہ کا کیا نام تھا؟ وہ اپنے تیئں یہی سمجھا کہ وہ ہندوستان پہنچ گیا ہے کولمبس اطالوی نژاد ہسپانوی جھاز راں تھا اسوقت ہندوستان سونے کی چڑیا کہلایا کرتا تھا- کولمبس کو 1492 عیسوی میں باد شاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا نے مالی امداد کے ساتھ اس مہم پر روانہ کیا، اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ کامیاب لوٹے گا تو اسکو امیرالبحر یا گورنر بنادینگے - فرڈیننڈ اور ازابیلا مسلمانوں کے جانی دشمن جنہوں نے اسپین سے اسلامی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور مسلمانؤں کا مکمل خاتمہ کردیا تھا- جب مسلمان یورپ میں آئے اسوقت یورپ مکمل تاریکی میں تھا - یہ اسلام کا سنہری دور تھا وہ اپنے ساتھ علم و دانش، علوم و فنون لائے - اسپین میں اب بھی انکے سنہرے شاندار ماضی کے آثار نمایا ں ہیں- کولمبس پہلی مرتبہ تین جھازوں کے بیڑے میں جزیرہ بہاماس کے پاس اترا ان سب علاقوں میں قبائیلی اطوار تھے یہاں کے لوگ نسبتا پر امن تھے- کولمبس کو یہاں عیسائیت پھیلانے  اور اپنی نو آبادیا ں بسانے کی کافی گنجائش نظر ائی اور اسکے بعد اسنے مزید تین سفر کئے اور کافی جہازوں کی معئیت میں ہر قسم کے آبادکاروں کو لایا جنمیں کسان ، تاجر ، کاریگر اور صناع شامل تھےاور یوں اپنی نو آبادیا ں بسا کر یہاں کا وائس رائے بن بیٹھا البتہ اسکے ظلم و ستم کی اتنی داستانیں بادشاہ کو پہنچیں کہ بالاخر بادشاہ نے اسکو پابہ جولاں داخل زنداں کیا جھاں 54 سال کی عمر میں وہ دار فانی سے کوچ کرگیا-

اس سارے قصے کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کولمبس کا ذیادہ عمل دخل اور حاکمئیت جزائر غرب الہند اور کیوبا میں رہی  اور وہ مرکزی امریکہ میں جو اب ریاستہائے متحدہ امریکہ کہلاتا ہے میں کبھی داخل ہی نہی ہوا لیکن پھر بھی امریکہ والے اسکو اپنا سمجھتے ہیں اور اسکی اس دریافت پر فخر کرتے ہیں کیونکہ اسکے آنے کے بعد ہی یوروپی آباد کاروں کو امریکہ اپنے خوابوں کی منزل کی صورت میں نظر آیا اور شمالی امریکہ یوروپی سفید فام تارکین وطن کا نیا ملک بن گیا --جبکہ لاطینی امریکہ میں ہسپانوی نو آبادیا ں بنیں-

پچھلے برس کیریبین کروز کے دوران ہمارا جہاز ڈومینیکن کے ساحلی قصبے پورٹا پلاٹا میں رکھا - اسی بندرگاہ کو کولمبس نے سب سے پہلے شرف باریابی بخشا ۔۔

 اسی خراج تحسین کی خوشی  میں نیویارک میں بہت بڑا کولمبس کا مجسمہ ایستادہ ہے اور وہ کولمبس اسکوائیر کہلاتا ہے-البتہ اس مجسمے پر دل جلے ریڈ انڈئینز   نے خوب سنگ باری بھی کی ہے اب کولمبس نہیں تو اسکا مجسمہ ہی سہی - سی این این پر دکھا رہے تھے کہ اب 560 سال کے بعد  ایک کولمبس اپارٹمنٹ بھی بن گیا ہے جس سے مین ہٹن کا بڑا خوبصورت نظارہ دکھائی دیتا ہے-شائد کولمبس کی روح اسمیں آکر قیام کرے--

امرود ہی امرود

 امرود اور امرود

کچھ یادیں ، کچھ باتیں 

از 

عابدہ رحمانی 

پچھلے دنوں امرود اور اسکے پتوں کے فوائد پر ایک منقول مضمون سوشل میڈیا پر چسپاں یا نشر کر دیا ۔۔ ایک ساتھی نے فورا اسپر قند مکرر کا تبصرہ کیا ۔ وہ اسطرح کے تبصرے سے کبھی نہیں چوکتے ۔۔


اب جو کچھ لکھنے یا ٹائپ کرنے جارہی ہوں وہ میرے اپنے بقلم خود ، طبع زا د خیالات ہیں ۔


کینیڈا کے ساتھیوں کے ایک گروپ پر اس مضمون سے خوب ہلچل مچی اور سب نے امرودوں کو خوب یادکیا اور اپنے اپنے طور پراظہار خیال کیا۔۔

ایک ساتھی نے لکھا ،” کینیڈا میں امرود ہماری دسترس سے باہر ہے ، اسکو جسٹن ٹروڈو ہی خرید سکتا ہے ۔۔” اور یہ بات بالکل درست ہے کہ یہاں پر امرود ایک مہنگا پھل ہے ،عام طور سے ایک درمیانہ امرود ایک ڈالر کا ملے گا۔۔ یہ امرود دنیا کے مختلف خطوں سے آتے ہیں ، پاکستانی امرود کو بھی یہاں آتے آتے پر لگ جاتے ہیں ۔ مصر اور لاطینی امریکہ سے بھی آتے ہیں ۔ مصر پر مجھے یاد آیا کہ پہلی مرتبہ امرود کا شربت قاہرہ میں پیا تھا یہ ۱۹۹۸ کی بات ہے ،یہ اسقدر مفرح اور لذیذ لگا کہ وہاں پر پھر یہی  ہمارامشروب رہا ۔ وہاں پر امرود کا سائز کافی بڑا تھا ۔ ۔ ایک دو امرود ڈال کر تھوڑی برف اور پانی ڈال کر بلینڈ کر کے گلاس میں ڈال دیتے ۔ بعد میں مصری ائر لائن یا طیران مصر سے سفر کرتے ہوئے  بھی یہی میرا پسندیدہ مشروب رہا۔ پاکستان میں اس وقت اس مشروب کا رواج ہر گز نہیں تھا ۔ شکر ہے کہ اب وہ خوب بنانے لگے ہیں ،کاش کہ بغیر چینی کے بنانا شروع کردیں ۔۔۔


لیکن امریکہ کے جنوبی علاقوں میں ایسا نہیں ہے ، کیلیفورنیا جہاں ہر قسم کے پھل اور پودے کاشت ہوتے ہیں  کا ایک عام محاورہ ہے “ every thing grows in California “ وہاں شمالی کیلیفورنیا میں بھی لوگوں نے گھروں میں امرود لگائے ہیں لیموں کے ذائقے کا امرود پہلے وہیں کھایا اور جنوب کی جانب یعنی لاس اینجلس میں ابھی ایک حالیہ قیام میں ایک سہیلی نے اپنے گھر کے بہترین امرود تھیلا بھر کر دیے ۔ اندر سے گلابی رنگت کے یہ امرود ذائقے میں بھی لاجواب تھے ۔۔۔

لیکن شاید باغات کا رواج نہیں ہے ۔

پاکستان میں امرود ایک عام پھل ہے جو کہ غریب کی دسترس میں بھی ہے اور ہمیشہ درمیانی قیمت پر دستیاب ہے ۔۔ یہ امرود اپنی لذت اور ذائقے میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ مختلف علاقوں کے امرود میں تھوڑا بہت ذائقے اور ساخت کا فرق ہے ۔

کراچی میں گول اور گدرے امرود ملیر سے آتے ہیں ،یہ عام طور سے سبز اور سفیدی مائل ہوتے ہیں ، بیج قدرے کم ۔۔جبکہ ناشپاتی کے شکل سے ملتے ہوئے سفیدی مائل لاڑکانہ سے آتے ہیں ۔ لاڑکانہ میں ہمارے رشتہ دار موسم پر اسکی کئی ٹوکریاں بھیجتے تھے ، بہترین ، ذائقہ دار امرود اور سارا گھر  اسکی خوشبو سے مہک جاتا تھا ۔

قدرے گلے ہوؤں سے میں جیلی بنالیتی تھی ۔ ۔۔۔ جو کہ  اپنے استعمال کے علاوہ دوست احباب میں بھی تقسیم ہو جاتی ۔۔

کراچی میں گھر میں تین امرود کے پودے تھے جو بیج سے اگے تھے ۔ اسکے امرودوں میں کیڑا لگ جاتا تھا لیکن باہر امرود کی بہتات کے باعث اس پر توجہ ہی نہیں دی ۔۔ 

پاکستان میں امرود یوں تو ہر موسم میں دستیاب ہے لیکن موسم ہو تو ٹھیلوں کے ٹھیلے بھرے ہوتے ہیں ۔

امرود چاہے ویسے ہی کھالو، کالا نمک ، مرچ لگا کر یا فروٹ چاٹ بنالو اسکی لذت اپنی جگہ ہے ۔فروٹ چاٹ کا تو جیسے لازمی جز ہے۔ اکثر جب امرود نہیں میسر تو پھر خوشبو کیلئے اسکا جوس ملا دیا جاتاہے۔۔

بھارت میں الہ آباد کے امرو کی بے حد تعریف سنی ہے لیکن نہ کبھی دیکھا ، نہ کھایا ۔۔

پاکستان میں امرود کے جا بجا باغات ہیں اور خوب  پیداوار ہوتی ہے ، ہری پور ، کوہاٹ ، سیالکوٹ اور دیگر کئی علاقوں میں کثرت سے پیداوار ہوتی ہے ۔۔۔

میرے بھائی  پاک فوج کی جانب سے سیالکوٹ میں تعینات تھے ۔ ہم لوگ انکے ہاں گئے تو دیکھا کہ امرود کے کئی پیڑ ہیں جو پھل سے لدے ہوئے تھے ۔ اندر سے گلابی بہترین  اور خوب میٹھے ، ہمارا سارا زور امرود خوری پر رہا اور آتے وقت بوریوں کی بوریاں گاڑی میں بھر لیں  ۔ اب جب گاڑی میں بیٹھے  تو کچھ دیر میں وہی خوشبو ناقابل برداشت محسوس ہونے لگی ۔۔ 

یہی انسان کے تھڑ دلے اور ناشکرے پن کی نشانی ہے ۔۔ استغفراللہ

ابھی کنکون ، میکسیکو  میں پہلی مرتبہ امرود کا میٹھا کھا یا ۔۔ چھوٹی سی پیسٹری کی شکل میں امرود کو پیس کر کسٹرڈ کے ساتھ ملا کر بنایا تھا ۔ انتہائی لذیذ اور ذائقہ دار ۔

فباي آلاء ربكما تكذبان 

اور اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤگے ۔۔۔


Saturday, October 17, 2026

پاکستانی معاشرہ اور ذات پات کی تقسیم

 پاکستانی معاشرہ اور ذات پات کی تقسیم 

مٹی دے باوے

از 

عابدہ رحمانی

مٹی دے باوے ( مٹی کے بابے )

ڈرامہ دیکھتے ہوئے مجھے اپنے گاؤں اور علاقے کے مراثی بری طرح یاد آ رہے ہیں اور انتہا ئی دکھ بھی ہو رہا ہے کہ اول تو اسلام کے پیروکار اور یہ جدید ترین دور بھی ان  پیشہ ورانہ ذاتوں کی تقسیم کو ختم نہ کر پایا ۔

آپ کے ذہن میں میرے علاقے سے متعلق  سوال ہوگا ۔ میرا بنیادی تعلق خیبر پوختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے ۔ ان مراثیوں کو ہمارے علاقے میں ڈم جسکی جمع ڈمان ہے کہا جاتا ہے ۔۔اردو میں انکو ڈوم اور مراثی کہا جاتا ہے ۔

یہ سب راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ، پشتو انکی زبان ہے لیکن یہ پختون اور خان نہیں بلکہ ڈم ہیں ۔

میرے بچپن میں انکی ایک بڑی تعداد ہمارے گاؤں اور ارد گرد کے علاقے میں رہائش پذیر اور پختونوں کی خدمت پر مامور تھی ۔۔ اسی طرح دیگر پیشہ ور ،کمہار،ترکان ، سنار ، نائی ، جولاہا ، دہقان وغیرہ بھی تھے ۔ ڈم کی مؤنث ڈمہ کہلاتی ہم انکے ساتھ عزت سے پیش آتے اور بڑوں کو پکارنے کیلئے ماما، چاچا ، بھائی اور اسی طرح خواتین کو بھی ماسی ، بہن ، پھو پھو وغیرہ کہہ کر پکارتے تھے ۔

یہ لوگ غمی ، خوشی پر پیغام رسانی کا کام کرتے تھے - شادی ،منگنی کی تاریخ جب طے کی جاتی تھی یا لڑکے کی پیدائش پر خوشی کا نقارہ بجاتے اور گانے بجانے کا اہتمام کرتے ،گانا بجانا ، ناچنا ، مذاق کرنا  اور تعریفوں کے گانے گانا خواتین اور مردوں کا کمال تھا -جس پر انہیں خوب خوب ویلیں ملتیں — زنانے اور مردانے میں جسے حجرہ کہتے ہیں یہ اپنی رونق لگاتے اور شائقین کو لطف اندوز کرواتے ۔ دعوتوں میں تمام تیاری اورمہمانوں کی خورد و نوش پر مامور ہوتے اور اسی کے بدلے نیگ اور انعامات پاتے ۔ پوختونوں سے انہیں فصلانہ بھی ملتا تھا یعنی گرمیوں میں گیہوں اور سردیوں میں مکئی ۔۔انکے مکانات بھی بیشتر پختونوں یا خانوں کے کچے مکان ہوتے تھے ہاں چند ایک کے ذاتی مکان بھی تھے —

انکے بچے ہمارے سنگی ساتھی تھے ، ہمارے ساتھ اسکول میں پڑھتے اور کھیلتے کودتے تھے — ہمارے گھروں میں انکا کھلم کھلا آنا جانا بھی تھا ۔لیکن بیشتر کام یا گانے بجا نے کیلئے ۔


اس ڈرامے کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس قدر قریبی تعلقات ہو نے کے باوجود کسی پختون لڑکی یا لڑکے اور ڈم یا ڈمہ کا کو ئی عشقیہ سکینڈل ، داستان میری دانست میں نہیں ہے - شاید انہوں نے یا ہم نے ہمیشہ حد ادب ملحوظ رکھا ہو —لیکن اس تمام ہم آہنگی اور میل جول کے باوجود ہم پختون تھے اور وہ ڈم ۔۔اور اس تفاوت کی وجہ سےکسی پختون اور ڈم کے جائز رشتے کا تو شاید اب بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔

 اگر کوئی سکینڈل ہوتا تو وہاں بھی خون کی ندیاں بہہ جاتیں -حالانکہ انکی اپنی برادری میں اور آپس میں انکے بے شمار سکینڈل مشہور تھے ۔۔جن سے ہم بھی محظوظ ہوتے تھے ۔۔

میرے بچپن میں ڈمہ  ہفتے میں ایک یا دو مر تبہ آکر نانی ، دادی کے بال دھوتیں اور پھر انکی باریک باریک چٹیائیں بناتی جس سے بال ایک جگہ جم کر رہتے تھے ۔ اسی طرح کے اور کام بھی انکے سپرد ہوتے ۔

ان میں سے کئی لوگوں نے اپنا پیشہ  یعنی گانا بجانا چھوڑ رکھا تھا ۔۔ کوئی فوج میں بھرتی ہوا ، کسی نے کھیتی باڑی کی ، اور کئی نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی ۔۔استاد ، وکیل، ڈاکٹر انجینئر بن گئے ، 1965 کی جنگ میں اسی برادری کے ایک سپوت کو اپنی بہادری پر ستارہ جرآت ملا۔ اسکی بیوہ اور گھر والوں کی قسمت بدل گئی ۔ گھرانے میں تعلیم آئی تو لڑکیو ں نے بھی اعلی تعلیم حاصل کی ۔ انکی اپنی بیٹی نے غالبا ایم ایڈ کیا ہوا ہے لیکن اس سب کے باوجود انکی ذات نے پیچھا نہیں چھوڑا اور پھر بیٹی کی شادی اس سے کئی سال چھوٹے ماموں زاد سے کردی گئی ۔۔ ہاں اسی خاندان کی ایک ڈاکٹر لڑکی کی پختون ڈاکٹر سے شادی ہوئی ہے جو در حقیقت بہت انوکھی بات ہے — چونکہ باہر سے رشتے نہیں ملتے یعنی دوسری برادریاں بھی ان سے رشتہ نہیں کرتیں اس لئے یہ آپس میں عمر اور تعلیم کی کمی بیشی پر بے جوڑ رشتے کر لیتے ہیں ۔۔

اسی خاندان کے رباب نواز محمد ضمیر کو کئی سال پہلے حکومت پاکستان سے بہترین حسن کارکردگی کا انعام ملا تھا -ان میں سے کئی لوگ موسیقار اور فنکار بن گئے اور کئی تبلیغ کی طرف نکل گئے ۔ 

کئی لوگ اقبال چنن کی طرح اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسر ی جگہو ں میں آباد ہو گئے ۔۔ جہاں پر انہیں عزت دار پختون سمجھا جاتاہے کیونکہ زبان تو پشتو ہے ۔۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم جو اسلام کے پیروکار ہیں اور  قرآن پاک میں صاف کہا گیا ہے کہ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جسمیں تقویٰ ہو -تو ہم کیسے ذات پات کی تقسیم کر سکتے ہیں ۔۔

قرآن پاک میں سورہ حجرات کی آیت ۱۳ میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے —

اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔

Tuesday, September 29, 2026

Uzbekistan trip in 2019

During September 2019 it was my first ever trip with PTF to Uzbekistan. I didn’t know anyone in the group and was quite sceptical about the trip. 
Met Tariq and Basar for the first time at G-9 ( Karachi company) van stop at 8:pm. We were travelling to Lahore to get the 5:30 am flight to Tashkent by Uzbek air. 
On the Van Asma sat besides and turned out to be so friendly and expressive. She introduced me to Shaheen and Sadia and told me about their backgrounds.
Basar informed me that she’s Nuzhat just officially.
In that particular trip developed long lasting bonding with all these friends. With Tasnim, Rasheeda, Razia, Shahida and their husbands we were a bunch of Pashto speakers.
So many other lovely friends, Shaista, Saman, Shagufta, Rukhsana, Ayeza, Aisha, Sanaa, Rakhshanda and many brothers, it turned out to be an adorable trip.
I have close ties and contacts with many of them, especially Shaheen with whom I keep in touch regularly.
Forgive me if I forgot someone.
Thanks to PTF for bringing all these lovely people to my life.❤️💝
I’m posting my travelogue that wrote after that trip.
Abida Rahmani

Tuesday, September 1, 2026

بچپن کی یادیں

 غانړ‎کئی چہ زہ وړ‎ہ ووم نو مابہ ملڰرو څرہ د غرونو نہ نیولے بیا بہ ورلہ ملا کښ تار اوتړ‎ہ او چہ الو تے بہ نو حد نہ زیاتہ خوشحالی بہ وہ ۔ ټراں ټراں آواز بہ ئے د وزرو نہ راتہ ۔ 

دا بہ مونږ‎ دبیرے پہ پانړ‎و باندے ساتلے ۔ یو مرتبان کښ بہ ډیرے د بیرو پانړ‎ے واچولے ۔ اڰئی بہ ئے ھم اچولے او چہ مړ‎ے بہ شوے نو وزرے بہ م ورلہ ساتلے ۔۔😎

Friday, August 21, 2026

Retreats from technology, دور جدید کی ٹیکنالوجی سے پسپائی

یہاں پر کچھ اداروں کی طرف سے اس طرح کے retreats کروائے جاتے ہیں-
 میرے بیٹے کی کمپنی نے کروایا تھا ایک ہفتے کے لئے - تمام جدید ٹیکنالوجی کے بغیر پرانے ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ تھا---
وہ بھی زما نہ تھا کہ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا  -مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی مرتبہ فون استعمال کیا تو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سننے والا کونسا ہے اور بولنے والا کونساہے ---

Wednesday, August 5, 2026

A comment

 What an innovative concept - half on land, half on a cruise! I wish I could join in on the fun 🤓. I've had the pleasure of going on two cruises with Norwegian cruise ships, one to Alaska and the other to the Caribbean. The cruises themselves were enjoyable, with a variety of cuisines and shows to choose from. The ships also offered great shopping, casinos, and a wide selection of drinks. What impressed me most, however, was the decency and courtesy of the staff and passengers. On one trip, I was with two other ladies of Pakistani origin, and on another, there were seven of us from the USA. We didn't face any problems or discrimination, which was great to see. I'm curious to see how this new concept will work out, especially with Tariq on board - he can get a bit out of control! The shore docks were mostly small towns with some excursions, but they weren't particularly fascinating. Let's see how it goes! 😎