Saturday, October 17, 2026

پاکستانی معاشرہ اور ذات پات کی تقسیم

 پاکستانی معاشرہ اور ذات پات کی تقسیم 

مٹی دے باوے

از 

عابدہ رحمانی

مٹی دے باوے ( مٹی کے بابے )

ڈرامہ دیکھتے ہوئے مجھے اپنے گاؤں اور علاقے کے مراثی بری طرح یاد آ رہے ہیں اور انتہا ئی دکھ بھی ہو رہا ہے کہ اول تو اسلام کے پیروکار اور یہ جدید ترین دور بھی ان  پیشہ ورانہ ذاتوں کی تقسیم کو ختم نہ کر پایا ۔

آپ کے ذہن میں میرے علاقے سے متعلق  سوال ہوگا ۔ میرا بنیادی تعلق خیبر پوختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے ۔ ان مراثیوں کو ہمارے علاقے میں ڈم جسکی جمع ڈمان ہے کہا جاتا ہے ۔۔اردو میں انکو ڈوم اور مراثی کہا جاتا ہے ۔

یہ سب راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ، پشتو انکی زبان ہے لیکن یہ پختون اور خان نہیں بلکہ ڈم ہیں ۔

میرے بچپن میں انکی ایک بڑی تعداد ہمارے گاؤں اور ارد گرد کے علاقے میں رہائش پذیر اور پختونوں کی خدمت پر مامور تھی ۔۔ اسی طرح دیگر پیشہ ور ،کمہار،ترکان ، سنار ، نائی ، جولاہا ، دہقان وغیرہ بھی تھے ۔ ڈم کی مؤنث ڈمہ کہلاتی ہم انکے ساتھ عزت سے پیش آتے اور بڑوں کو پکارنے کیلئے ماما، چاچا ، بھائی اور اسی طرح خواتین کو بھی ماسی ، بہن ، پھو پھو وغیرہ کہہ کر پکارتے تھے ۔

یہ لوگ غمی ، خوشی پر پیغام رسانی کا کام کرتے تھے - شادی ،منگنی کی تاریخ جب طے کی جاتی تھی یا لڑکے کی پیدائش پر خوشی کا نقارہ بجاتے اور گانے بجانے کا اہتمام کرتے ،گانا بجانا ، ناچنا ، مذاق کرنا  اور تعریفوں کے گانے گانا خواتین اور مردوں کا کمال تھا -جس پر انہیں خوب خوب ویلیں ملتیں — زنانے اور مردانے میں جسے حجرہ کہتے ہیں یہ اپنی رونق لگاتے اور شائقین کو لطف اندوز کرواتے ۔ دعوتوں میں تمام تیاری اورمہمانوں کی خورد و نوش پر مامور ہوتے اور اسی کے بدلے نیگ اور انعامات پاتے ۔ پوختونوں سے انہیں فصلانہ بھی ملتا تھا یعنی گرمیوں میں گیہوں اور سردیوں میں مکئی ۔۔انکے مکانات بھی بیشتر پختونوں یا خانوں کے کچے مکان ہوتے تھے ہاں چند ایک کے ذاتی مکان بھی تھے —

انکے بچے ہمارے سنگی ساتھی تھے ، ہمارے ساتھ اسکول میں پڑھتے اور کھیلتے کودتے تھے — ہمارے گھروں میں انکا کھلم کھلا آنا جانا بھی تھا ۔لیکن بیشتر کام یا گانے بجا نے کیلئے ۔


اس ڈرامے کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس قدر قریبی تعلقات ہو نے کے باوجود کسی پختون لڑکی یا لڑکے اور ڈم یا ڈمہ کا کو ئی عشقیہ سکینڈل ، داستان میری دانست میں نہیں ہے - شاید انہوں نے یا ہم نے ہمیشہ حد ادب ملحوظ رکھا ہو —لیکن اس تمام ہم آہنگی اور میل جول کے باوجود ہم پختون تھے اور وہ ڈم ۔۔اور اس تفاوت کی وجہ سےکسی پختون اور ڈم کے جائز رشتے کا تو شاید اب بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔

 اگر کوئی سکینڈل ہوتا تو وہاں بھی خون کی ندیاں بہہ جاتیں -حالانکہ انکی اپنی برادری میں اور آپس میں انکے بے شمار سکینڈل مشہور تھے ۔۔جن سے ہم بھی محظوظ ہوتے تھے ۔۔

میرے بچپن میں ڈمہ  ہفتے میں ایک یا دو مر تبہ آکر نانی ، دادی کے بال دھوتیں اور پھر انکی باریک باریک چٹیائیں بناتی جس سے بال ایک جگہ جم کر رہتے تھے ۔ اسی طرح کے اور کام بھی انکے سپرد ہوتے ۔

ان میں سے کئی لوگوں نے اپنا پیشہ  یعنی گانا بجانا چھوڑ رکھا تھا ۔۔ کوئی فوج میں بھرتی ہوا ، کسی نے کھیتی باڑی کی ، اور کئی نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی ۔۔استاد ، وکیل، ڈاکٹر انجینئر بن گئے ، 1965 کی جنگ میں اسی برادری کے ایک سپوت کو اپنی بہادری پر ستارہ جرآت ملا۔ اسکی بیوہ اور گھر والوں کی قسمت بدل گئی ۔ گھرانے میں تعلیم آئی تو لڑکیو ں نے بھی اعلی تعلیم حاصل کی ۔ انکی اپنی بیٹی نے غالبا ایم ایڈ کیا ہوا ہے لیکن اس سب کے باوجود انکی ذات نے پیچھا نہیں چھوڑا اور پھر بیٹی کی شادی اس سے کئی سال چھوٹے ماموں زاد سے کردی گئی ۔۔ ہاں اسی خاندان کی ایک ڈاکٹر لڑکی کی پختون ڈاکٹر سے شادی ہوئی ہے جو در حقیقت بہت انوکھی بات ہے — چونکہ باہر سے رشتے نہیں ملتے یعنی دوسری برادریاں بھی ان سے رشتہ نہیں کرتیں اس لئے یہ آپس میں عمر اور تعلیم کی کمی بیشی پر بے جوڑ رشتے کر لیتے ہیں ۔۔

اسی خاندان کے رباب نواز محمد ضمیر کو کئی سال پہلے حکومت پاکستان سے بہترین حسن کارکردگی کا انعام ملا تھا -ان میں سے کئی لوگ موسیقار اور فنکار بن گئے اور کئی تبلیغ کی طرف نکل گئے ۔ 

کئی لوگ اقبال چنن کی طرح اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسر ی جگہو ں میں آباد ہو گئے ۔۔ جہاں پر انہیں عزت دار پختون سمجھا جاتاہے کیونکہ زبان تو پشتو ہے ۔۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم جو اسلام کے پیروکار ہیں اور  قرآن پاک میں صاف کہا گیا ہے کہ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جسمیں تقویٰ ہو -تو ہم کیسے ذات پات کی تقسیم کر سکتے ہیں ۔۔

قرآن پاک میں سورہ حجرات کی آیت ۱۳ میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے —

اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔

Tuesday, September 29, 2026

Uzbekistan trip in 2019

During September 2019 it was my first ever trip with PTF to Uzbekistan. I didn’t know anyone in the group and was quite sceptical about the trip. 
Met Tariq and Basar for the first time at G-9 ( Karachi company) van stop at 8:pm. We were travelling to Lahore to get the 5:30 am flight to Tashkent by Uzbek air. 
On the Van Asma sat besides and turned out to be so friendly and expressive. She introduced me to Shaheen and Sadia and told me about their backgrounds.
Basar informed me that she’s Nuzhat just officially.
In that particular trip developed long lasting bonding with all these friends. With Tasnim, Rasheeda, Razia, Shahida and their husbands we were a bunch of Pashto speakers.
So many other lovely friends, Shaista, Saman, Shagufta, Rukhsana, Ayeza, Aisha, Sanaa, Rakhshanda and many brothers, it turned out to be an adorable trip.
I have close ties and contacts with many of them, especially Shaheen with whom I keep in touch regularly.
Forgive me if I forgot someone.
Thanks to PTF for bringing all these lovely people to my life.❤️💝
I’m posting my travelogue that wrote after that trip.
Abida Rahmani

Tuesday, September 1, 2026

بچپن کی یادیں

 غانړ‎کئی چہ زہ وړ‎ہ ووم نو مابہ ملڰرو څرہ د غرونو نہ نیولے بیا بہ ورلہ ملا کښ تار اوتړ‎ہ او چہ الو تے بہ نو حد نہ زیاتہ خوشحالی بہ وہ ۔ ټراں ټراں آواز بہ ئے د وزرو نہ راتہ ۔ 

دا بہ مونږ‎ دبیرے پہ پانړ‎و باندے ساتلے ۔ یو مرتبان کښ بہ ډیرے د بیرو پانړ‎ے واچولے ۔ اڰئی بہ ئے ھم اچولے او چہ مړ‎ے بہ شوے نو وزرے بہ م ورلہ ساتلے ۔۔😎

Friday, August 21, 2026

Retreats from technology, دور جدید کی ٹیکنالوجی سے پسپائی

یہاں پر کچھ اداروں کی طرف سے اس طرح کے retreats کروائے جاتے ہیں-
 میرے بیٹے کی کمپنی نے کروایا تھا ایک ہفتے کے لئے - تمام جدید ٹیکنالوجی کے بغیر پرانے ٹیلیفون کے ذریعے رابطہ تھا---
وہ بھی زما نہ تھا کہ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا  -مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی مرتبہ فون استعمال کیا تو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سننے والا کونسا ہے اور بولنے والا کونساہے ---

Wednesday, August 5, 2026

A comment

 What an innovative concept - half on land, half on a cruise! I wish I could join in on the fun 🤓. I've had the pleasure of going on two cruises with Norwegian cruise ships, one to Alaska and the other to the Caribbean. The cruises themselves were enjoyable, with a variety of cuisines and shows to choose from. The ships also offered great shopping, casinos, and a wide selection of drinks. What impressed me most, however, was the decency and courtesy of the staff and passengers. On one trip, I was with two other ladies of Pakistani origin, and on another, there were seven of us from the USA. We didn't face any problems or discrimination, which was great to see. I'm curious to see how this new concept will work out, especially with Tariq on board - he can get a bit out of control! The shore docks were mostly small towns with some excursions, but they weren't particularly fascinating. Let's see how it goes! 😎

Saturday, May 30, 2026

کٹھ پتلی

 یہ افسوسناک اور عجیب و غریب واقعہ گیارہ مارچ ۲۰۲۶ کی شام کو مجھے پیش آیا تھا۔یہ سو فیصد سچا واقعہ ہے کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے ۔ آج تک مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ساری کار گزاری میں نے کیسے اور کیوں انجام دی  ۔ محض ایک ٹیلی فون کال تھی جسے میں کسی وقت بھی منقطع کر سکتی تھی ،ایسا کیوں نہیں کیا ؟۔؟ ۔۔ 

اللہ تعالیٰ سے رحم وکرم اور شرح صدر اور ذہن کی درخواست ہے ۔۔

کٹھ پتلی ۔
از :
عابدہ رحمانی

میرا ہمدرد ، میرا بہی خواہ مستقل فون پر میرے ساتھ تھا ۔اسنے مجھ سے پوچھ لیا تھا کہ فون کی بیٹری کتنی ہے ۔
“ اسی فیصد “ اور وہ مطمئن ہو کیا ۔ اسطرح ہم لمبے وقت کے لئے ساتھ رہ سکتے ہیں “ اسنے جواب دیا ۔
آدھا گھنٹہ پہلے ہی اس سے رابطہ ہوا تھا تو اسنے مجھے بتایا کہ میں کس مشکل میں گرفتار ہو چکی ہوں اور وہ ہر طرح سے مجھے اس مشکل سے نکالنا چاہتا ہے ۔ مجھے یوں لگا جیسے مجھے ایک فرشتہ مل گیا ہے ۔۔ اسنے گوگل پر اپنی تصویر دکھائی ،اور یہ کہ وہ ووڈ سٹاک کے کراؤن پولیس سے ہے ۔۔ نام ، badge  نمبر ، دیگر تفصیلات اور وہ خط بھی واٹس ایپ پر بھیجا جس میں جعلسازی کی الزامات کی تفصیل تھی اور وہ مجھ معصوم کو ان الزامات سے بری کر نا چاہ رہا تھا ۔۔ اس نے مجھ سے تمام اکاؤنٹ کی تفصیلات پو چھیں ،جو میں نے پورے اعتماد سے اسکو بتائے ۔ اسنے اپنا نام ڈیوڈ مچل ( David Mitchell) بتایا اور یہی نام اسکے پروفائل پر تھا — حالانکہ اسکا لہجہ انڈین ، پاکستانی لگ رہا تھا لیکن میں نے کو ئی تکرار مناسب نہیں سمجھی ۔۔ 
“ مجھے اندازہ ہے کہ یہ رقم آپنے بہت محنت سے پس انداز کی ہو گی ، یوں لگتا ہے کہ آپکے خلاف کسی نے سازش کی ہے یا تو بینک سے یا آپکے کسی عزیز نے کی ہے ۔ کیا آپکو کسی پر شک ہے ؟ “ اسکا لہجہ ہمدردی سے بھر پور تھا ۔۔اور پھر مجھے دو اختیار دیے —
“ایک تو یہ کہ آپکے سارے اکاؤنٹ چھ ماہ کیلئے منجمد ہو جائنگے ۔۔اور آپ کچھ کار گزاری نہیں کر پائینگی “۔ 
“ نہیں نہیں یہ ہر گز نہیں ہو نا چاہئے ، ہر مہینے میرے مختلف بل ادائیگی کے لئے جمع ہیں اور یہ میرے لئے بہت مشکل ہو جائیگا “
اسنے پھر دوسری صورت بتائی ۔ کہ تم کو کم ازکم پاکستانی حساب سے سترہ لاکھ روپیہ اکاؤنٹ سے نکال کر ایک مخصوص مشین میں جمع کرنا ہوگا ۔ یہ رقم دو روز کے بعد تمہارے اکاؤنٹ میں واپس آ جائیگی اور سارا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔۔ یہ سب الزامات ختم ہو جائینگے۔ میں تمہاری رہنمائی کرونگا اور جیسے جیسے بتاؤں ویسے ویسے کرنا ۔۔
پھر اسنے میرا پوسٹل کوڈ پوچھا جو میں نے اسے بہت تفصیل سے بتا دیا ۔۔
“ہاں اب تم اپنے قریبی ٹی ڈی بنک میں جاؤ اور وہاں سے یہ رقم نکال لو ۔۔ اگر بینک کیشئیر تم  سے اسکے متعلق پوچھے تو کہنا کہ تم کو فرنیچر خریدنا۔ اچھا کیا تم پیدل جاؤگی ؟”
“ نہیں نہیں میں ڈرائیو کر کے جاؤنگی لیکن بینک تو بند ہوگا “
“ نہیں تم ابھی جاؤ بینک چھ بجے تک کھلا ہے ، جتنی جلدی اس کام کو نپٹا لو ، تمہارے لئے بہتر ہے ، پانی کی ایک بوتل بھی ساتھ رکھنا“
“ نہیں میں روزے سے ہوں “  میں اسکے احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل پیرا تھی اور ساتھ ساتھ میں دعائیں بھی مانگ رہی تھی کہ اس مشکل سے نکل جاؤں ۔۔
میں نے اسے بتایا کہ گاڑی نکالتے ہوئے اس سے میرا رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ جس کی اسنے مجھے یقین دہانی کی کہ وہ دوبارہ کال کر لے گا۔۔ 
عمر کے اس حصے میں زندگی کے تلخ و شیریں کو چکھتے ہوئے مجھے اس کی باتوں پر پورا بھروسہ تھا اور میں اس کاروائی کے بارے میں کسی سے بات نہیں کر نا چاہتی تھی۔
بنک کے پارکنگ میں پہنچنے کے بعد اس نے کہا کہ جب میں رقم نکال لوں تو اسے ان رسیدوں کی تصویر بھیجوں اور میں نے انتہائی فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا ہی کیا ۔۔ 
اسنے کہا “ میرا باس تو آپکو ۹۳ کلو میٹر دور بھیج رہاتھا لیکن میں نے اسے کہا کہ نزدیک اوک ویل بھیج دیتے ہیں اور وہاں یہ کام بخوبی ہو جائیگا۔۔ اچھا اب یہ پتہ میں بھیج رہا ہوں اسکو جی پی ایس میں ڈال دو ، میں فون پر مستقل رہنمائی کرونگا ۔ گھبرانا نہیں ، کوئی مشکل نہیں ہوگی “ 
میں نے اسے بتایا کہ شام ہو رہی ہے ، میرا روزہ ہے اور میں بہت تھک گئی ہوں لیکن اسنے میری ہمت بندھائی ۔ اوک ویل روانہ ہونے سے پہلے میں نے اپنے بھائی کو ٹیکسٹ کیا “ میں ایک مصیبت میں پھنس گئی ہوں “ میری مراد ان الزامات سے تھی جن میں بقول رچرڈ کے مجھے پھنسایا گیا ۔۔
موسم بھی خراب تھا ،میں دعائیں کرتے ہوئے اوک ول جو آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھا اس پلازہ میں پہنچی جس میں بقول اسکے ایک دوکان Beck میں وہ مشین نصب تھی جو میری قسمت کا فیصلہ کرنیوالی تھی اپنی ہمت کو اکٹھا کر کے میں اسکی ہدایات کے مطابق اس مشین کو ڈھونڈنے لگی ، آخر کار وہ پیلے رنگ کی مشین ایک کونے میں نظر آئی ۔۔
میں نے یہ مشین پہلی دفعہ دیکھی “ لیکن اس پر تو Bitcoin لکھا ہے۔؟” ۔۔ “ہاں ہاں یہی مشین ٹی ڈی بنک کی خاص مشین ہے ۔یہ رقم إسمیں جاکر تمہارے اکاؤنٹ میں واپس چلی جائیگی اور سارا مسئلہ حل ہو جائیگا “ ۔۔
اسکی ہدایات جاری تھیں “اب تم اس پینل میں اپنا فون نمبر ڈالو تو ایک کوڈ آئے گا وہ کوڈ تم ڈالو تو تمہارے فون پر QR codeآئے گا اس پر ایک ونڈو کھلے گی اس کو یہ کوڈ دکھانا تو ایک Slot کھلے گا اسمیں سو سو ڈالر کے نوٹ ڈال دینا ایک وقت میں چھ سو تک کے نوٹ جائنیگے اور یہ پورا عمل بار بار دہرانا ہوگا جب تک کہ پوری رقم نہ چلی جائے “۔۔ 
یہ عمل میں نے کئی دفعہ دہرایا لیکن وہ Slot نہیں کھلا ۔۔میں نے اسے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ مشین خراب ہے ۔ اس کے کہنے پر میں نے اسے مشین کی تصویر بھی بھیجی ۔ پھر اسنے مجھے گیارہ منٹ دور ایک Hasty Market کا پتہ بھیجا اور وہا ں جانے کیلئے کہا ۔۔
افطار کا وقت قریب تھا ، HastyMarket پہنچ کر میں نے افطار کیلئے ایک جوس کا ڈبہ خریدا اور دعائیں کرتی ہوئی Bitcoin مشین ڈھونڈی اور کارروائی شروع کی ، ڈیوڈ مستقل رابطے میں تھا ، میں اپنی کاگزاری سے بہت خوش اور مطمئن تھی ۔ یہ مشین ٹھیک تھی اور میں نے انتہائی مستعدی سے تمام رقم یکے بعد دیگرے مشین کو سپرد کردی بقول ڈیوڈ کے یہ ایک خاص اکاؤنٹ میں جا رہی تھی جو بعد میں میرے اکاؤنٹ میں آجائیگی ۔ 
مجھ جیسی جہان دیدہ خاتون کٹھ پتلی کی طرح اسکے احکامات کے طابع تھی ۔ 
اسی دوران دو چار گھونٹ جوس پی کر میں نے روزہ افطار کیا اور یہ مشن بخوبی پورا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔ ڈیوڈ بھی میری کارگزاری سے پوری طرح خوش تھا پھر اسنے ایک اور آدمی سے میری بات کرائی کہ یہ میرا باس ہے ۔ انہوں مجھے سختی سے منع کیا کہ میں اس سارے واقعے کا کسی سے ذکر نہ کروں اور دوسرے بنک اکاؤنٹ کیلئے اسی طرح کی کاروائی کر نے کیلئے اگلی صبح ساڑھے دس بجے کا وقت طے پایا ۔۔
میں واپس گھر کیلئے روانہ ہوئی بیچ میں بھابھی اور بھائی کی کال آئی لیکن میں نے بات نہیں کی ۔ بارش ہو رہی تھی اور اندھیرے میں مجھے ڈرائیونگ میں مشکل ہو رہی تھی ۔۔ خدا خدا کر کے گھر پہنچی تو بھائی ،بھابھی پریشان دروازے پر کھڑے تھے۔۔
انکو حالت زار بتاتے ہوئے میں نے ذکر کر ہی لیا تو بھائی نے کہا “آپکے ساتھ تو بہت بڑا فراڈ ہوا ہے “ “ نہیں نہیں یہ دیکھو ،میں اسکو فون پر تمام دستاویز دکھانے لگی ،”یہ سب جھوٹ اور من گھڑت ہے “- پھر بھتیجے نے پولیس رپورٹ کرنے کو کہا ۔۔
اگلی صبح مقررہ وقت پر اسکا فون آنے لگا تو میں کال بلاک کردی ، اسکو اندازہ ہوگیا اور واٹس ایپ پر بھیجے ہوئے تمام دستاویز ڈیلیٹ کردئے ۔۔ پولیس رپورٹ بھی ہوگئی ، بنک میں فراڈ کا کیس کیا لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی ، کیونکہ سارا کارنامہ کٹھ پتلی نے خود انجام دیا تھا ۔۔

Sunday, May 10, 2026

Happy Mother's day!

‏ Happy Mother's Day!

‎ماؤں کا عالمی دن
‎از

‎عابدہ رحمانی

‎ پچھلے کئی ہفتے سے ہر تجارتی اور نشریاتی ادارے،چھوٹے بڑے سٹورز یعنی دکانیں ،ائر لائنز،ہوٹل ریسٹورنٹ آن لائن ترسیل اور آرڈر لینے والےادارےجن میں پھولوں کے گلدستوں سے لے کر ملبوسات ،خوشبویات،اشیائے خورد ونوش گھر پر فراہم کرتے ہیں   "مدرز ڈے کی تشہیر میں مصروف ہیں انکا ایک ہی نعرہ ہے کہ ہم سے خریداری کرو اور اپنی اماں کو خوش کردو۔
 اس برس دس ۱۰ 
 مئی  کو عالمی سطح پر ماؤں کا دن یا مدرز ڈے  منایا جاۓ گا یہ روز سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے-اسی کے حساب سے تاریخیں بدل جاتی ہیں--امریکہ کوئی دن منائے اور دنیا اسکی پیروی نہ کرے یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ اور یوں ساری دنیا میں ہر طرف مادرز ڈے کا شور مچا ہوا ہے مادر ڈے اور اسکے بعد جون کے دوسرے اتوار کو فادر زڈے -

‎جنوں کا نام خرد رکھ دیا اور خرد کا جنوں  
جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے 
‎امریکہ میں پہلا مادر ڈے مغربی ورجینیا کےشہر گریفٹن میں اینا جاروس نے اپنی ماں کی یاد میں 1908 کو منا یا  ، وہ اپنی ماں کے 1905 میں انتقال کے بعد اسکی کوشش کر رہی تھی کہ اس روز کو سرکاری سر پرستی حاصل ہو لیکن جب یہ دن ایک کاروباری حیثیت اختیار کر گیا تو اینا کافی دل برداشتہ ہوئی- یہاں تک کہ اسنے پھر اس قراردا د کو واپس لینے کی کوشش کی اور اس سے لاتعلقی اختیار کی۔
‎کاروباری حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا  اب ہر سال کمرشل بازاری سطح پر ہر طرف ہلچل مچ جاتی ہےبلکہ اب تو دنیا کے ہر ملک میں مدرز ڈے کا شور ہے ، اور پاکستان و پاکستانی پیچھے کیوں رہیں  - نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر لاپرواہ اولاد  ماؤں کو یاد کر لیتی ہے ۔کوئی تحفہ،کارڈ، پھول یا کیک وغیرہ --ماں کو بھی کم ازکم مغربی معاشرے میں احساس ہوتا ہے کہ اسکا بھی کوئی وجود ہے- خاصکر بوڑھی مائیں جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا--حالانکہ انمیں سے بیشتر وہ ہوتی ہیں جنہوں نے تنہا اولاد کی پرورش کی ہوتی ہے --اللہ بھلا کرے ڈی این اے ٹیسٹ کا ورنہ بیشتر کو تو باپ کا معلوم ہی نہ ہو پاتا--
‎اب دنیا کے تمام ممالک مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں مادرز ڈے اپنے اپنے لحاظ سے منایا جاتا ہے-
‎ماں کی اہمیت تو آفرینش سے مجسم ہے ٍ-ماں کے وجود اور اسکی قربانیوں سے کون انکار کرسکتا ہے وہ نو ، دس مہینے حمل( جسکے معنی بوجھ کے ہیں) کی تکالیف اٹھاتی ہے -تکلیف دہ درد زہ سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے ، پھر پالنے پوسنے کا عمل  شروع ہوتا ہے دودھ پلانے سے لیکر تمام پرورش کی بیشتر ذمہ واری ماؤں پر ہی عائد ہوتی ہے --دودھ چاہے اپنا ہو چاہے بوتل کا ہو- ایک کمزور محتاج بچہ ماں کی توجہ اور محبت سے ہی پلتا بڑھتا ہے-اسلئے ہمارے معاشرے میں دودھ کو جتلانا پرانی ماؤں کا ایک مؤثر ہتھیار ہوتا تھا "دودھ نہیں بخشونگی" وہ بات بے بات اپنی اولاد کو دھمکی دیتیں - ماں کی اہمیت ، محبت اور ایثار پوری دنیا اور تمام معاشروں میں مسلم ہے - جب ڈائپرز کا زمانہ نہیں تھا تو مائیں گیلے پر لیٹ کر بچے کو سوکھے پر ڈالدیتیں بچے کی نجاست اور صفائی کے مرحلے سر کرتی۔ یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں کتنی ماؤں کو بے انتہا قربانیوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے- یہ قربانیاں ہمیشہ مختلف صورتوں سے جاری رہتی ہیں چاہے بچے بڑی عمروں کے ہو جائیں-- ماں بنناایک عورت کی ذات کی تکمیل ہے ایک حسین ترین جذبہ ہے اسکی محرومی کا احساس بے اولاد ماؤں سے بہتر کون جان سکتا ہے-
‎اکثر مسلمان گھرانے جو مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں کہتےہیں ہمارے لئے تو ہر روز ہی مادر ڈے اور فادر ڈے ہے --

‎اسلام میں قرآن و حدیث میں ماں اور والدین کے حقوق کا پر زور تذکرہ ہے  “وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا۔ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔” (بنی اسرائیل:۲۳، ۲۴)
‎         ترجمہ:… “اور تیرے رَبّ نے حکم کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی “اُف” (ہوں) بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے اِنکساری کے ساتھ جھکے رہنا، اور یوں دُعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔”  
‎ایک حدیث میں ہے:

‎         “عن أبی أمامة رضی الله عنہ أن رجلًا قال: یا رسول الله! ما حق الوالدین علٰی ولدھما؟ قال: ھما جنتک أو نارک۔”                   (ابنِ ماجہ ص:۲۶۰)

‎         ترجمہ:… “حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! والدین کا اولاد کے ذمے کیا حق ہے؟ فرمایا: وہ تیری جنت یا دوزخ ہیں (یعنی ان کی خدمت کروگے تو جنت میں جاوٴگے، ان کی نافرمانی کروگے تو دوزخ خریدوگے)۔”

‎         ایک اور حدیث میں ہے:

‎         “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّة وان کان واحدًا فواحدًا ومن أصبح عاصیًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النّار ان کان واحدًا فواحدًا۔ قال رجل: وان ظلماہ؟ قال: وان ظلماہ وان ظلماہ وان ظلماہ۔”                                 (مشکوٰة ص:۴۲۱)
‎مئی  کو عالمی سطح پر ماؤں کا دن یا مدرز ڈے  منایا جاۓ گا یہ روز سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے-اسی کے حساب سے تاریخیں بدل جاتی ہیں--امریکہ کوئی دن منائے اور دنیا اسکی پیروی نہ کرے یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ اور یوں ساری دنیا میں ہر طرف مادرز ڈے کا شور مچا ہوا ہے مادر ڈے اور اسکے بعد جون کے دوسرے اتوار کو فادر زڈے -

‎جنوں کا نام خرد رکھ دیا اور خرد کا جنوں  
جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے 
‎امریکہ میں پہلا مادر ڈے مغربی ورجینیا کےشہر گریفٹن میں اینا جاروس نے اپنی ماں کی یاد میں 1908 کو منا یا  ، وہ اپنی ماں کے 1905 میں انتقال کے بعد اسکی کوشش کر رہی تھی کہ اس روز کو سرکاری سر پرستی حاصل ہو لیکن جب یہ دن ایک کاروباری حیثیت اختیار کر گیا تو اینا کافی دل برداشتہ ہوئی- یہاں تک کہ اسنے پھر اس قراردا د کو واپس لینے کی کوشش کی اور اس سے لاتعلقی اختیار کی۔
‎کاروباری حلقوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا  اب ہر سال کمرشل بازاری سطح پر ہر طرف ہلچل مچ جاتی ہےبلکہ اب تو دنیا کے ہر ملک میں مدرز ڈے کا شور ہے ، اور پاکستان و پاکستانی پیچھے کیوں رہیں  - نہ چاہتے ہوئے بھی اکثر لاپرواہ اولاد  ماؤں کو یاد کر لیتی ہے ۔کوئی تحفہ،کارڈ، پھول یا کیک وغیرہ --ماں کو بھی کم ازکم مغربی معاشرے میں احساس ہوتا ہے کہ اسکا بھی کوئی وجود ہے- خاصکر بوڑھی مائیں جنکا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا--حالانکہ انمیں سے بیشتر وہ ہوتی ہیں جنہوں نے تنہا اولاد کی پرورش کی ہوتی ہے --اللہ بھلا کرے ڈی این اے ٹیسٹ کا ورنہ بیشتر کو تو باپ کا معلوم ہی نہ ہو پاتا--
‎اب دنیا کے تمام ممالک مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں مادرز ڈے اپنے اپنے لحاظ سے منایا جاتا ہے-
‎ماں کی اہمیت تو آفرینش سے مجسم ہے ٍ-ماں کے وجود اور اسکی قربانیوں سے کون انکار کرسکتا ہے وہ نو ، دس مہینے حمل( جسکے معنی بوجھ کے ہیں) کی تکالیف اٹھاتی ہے -تکلیف دہ درد زہ سے گزر کر بچے کو جنم دیتی ہے ، پھر پالنے پوسنے کا عمل  شروع ہوتا ہے دودھ پلانے سے لیکر تمام پرورش کی بیشتر ذمہ واری ماؤں پر ہی عائد ہوتی ہے --دودھ چاہے اپنا ہو چاہے بوتل کا ہو- ایک کمزور محتاج بچہ ماں کی توجہ اور محبت سے ہی پلتا بڑھتا ہے-اسلئے ہمارے معاشرے میں دودھ کو جتلانا پرانی ماؤں کا ایک مؤثر ہتھیار ہوتا تھا "دودھ نہیں بخشونگی" وہ بات بے بات اپنی اولاد کو دھمکی دیتیں - ماں کی اہمیت ، محبت اور ایثار پوری دنیا اور تمام معاشروں میں مسلم ہے - جب ڈائپرز کا زمانہ نہیں تھا تو مائیں گیلے پر لیٹ کر بچے کو سوکھے پر ڈالدیتیں بچے کی نجاست اور صفائی کے مرحلے سر کرتی۔ یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں کتنی ماؤں کو بے انتہا قربانیوں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتاہے- یہ قربانیاں ہمیشہ مختلف صورتوں سے جاری رہتی ہیں چاہے بچے بڑی عمروں کے ہو جائیں-- ماں بنناایک عورت کی ذات کی تکمیل ہے ایک حسین ترین جذبہ ہے اسکی محرومی کا احساس بے اولاد ماؤں سے بہتر کون جان سکتا ہے-
‎اکثر مسلمان گھرانے جو مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں کہتےہیں ہمارے لئے تو ہر روز ہی مادر ڈے اور فادر ڈے ہے --

‎اسلام میں قرآن و حدیث میں ماں اور والدین کے حقوق کا پر زور تذکرہ ہے  “وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلٰھُمَا فَلَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا۔ وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔” (بنی اسرائیل:۲۳، ۲۴)
‎         ترجمہ:… “اور تیرے رَبّ نے حکم کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی “اُف” (ہوں) بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے اِنکساری کے ساتھ جھکے رہنا، اور یوں دُعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ہے۔”  
‎ایک حدیث میں ہے:

‎         “عن أبی أمامة رضی الله عنہ أن رجلًا قال: یا رسول الله! ما حق الوالدین علٰی ولدھما؟ قال: ھما جنتک أو نارک۔”                   (ابنِ ماجہ ص:۲۶۰)

‎         ترجمہ:… “حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! والدین کا اولاد کے ذمے کیا حق ہے؟ فرمایا: وہ تیری جنت یا دوزخ ہیں (یعنی ان کی خدمت کروگے تو جنت میں جاوٴگے، ان کی نافرمانی کروگے تو دوزخ خریدوگے)۔”

‎         ایک اور حدیث میں ہے:

‎         “عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: من أصبح مطیعًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من الجنّة وان کان واحدًا فواحدًا ومن أصبح عاصیًا لله فی والدیہ أصبح لہ بابان مفتوحان من النّار ان کان واحدًا فواحدًا۔ قال رجل: وان ظلماہ؟ قال: وان ظلماہ وان ظلماہ وان ظلماہ۔”                                 (مشکوٰة ص:۴۲۱)