Wednesday, April 29, 2026

Amazing trip to Spain and Morocco

Visiting Spain and Morocco!
By
Abida Rahmani
I was in Islamabad at the end of 2019 , that my friends living in Los Angeles, CA convinced me to join them for a trip to Spain. It had always been a great passion and desire to visit Spain and see the lost grandeur of almost 600  years Muslims rule in Spain:
After completing all the financial obligations we were supposed to leave on 25th March 2020 for Barcelona. 
Soon after the Covid-19 Pandemic ruled the world and Spain along with USA and rest of the world was badly affected. 
Finally after a wait of two years , curb and control over the pandemic with vaccines , measures and other restrictions we were able to visit Spain. I was the only one that traveled from Toronto to Barcelona, rest of the group arrived from LAX. I was traveling through Aerlingus and had a connection through Dublin because it’s an Irish airline. 
After arrival at Barcelona there was no to receive me. Luckily has got the name of the hotel from our agent and tour operator Yazmin Ahmed. 
After changing the currency figured out that the language problem is quite imminent. However with the help of airport security guard, got the shuttle van to hotel for 20 euros. It was
hotel
Roger de lluria
28, 08010, 
Barcelona, spain

I reached there in the morning while rest of the group arrived in the evening!
After taking rest, had some food went around the block .
After the arrival of rest of the group went to a nearby restaurant for food.

Next day we started touring Barcelona with a guide in the morning!

Catalonia's vibrant capital, Barcelona is a stunning seaside city that flaunts her beauty and sunny lifestyle. Gorgeous scenery, breathtaking architecture, and superb cultural attractions make for an alluring destination. Of course, the balmy Mediterranean climate adds to the charm.

Barcelona has an atmospheric medieval quarter, the Barri Gòtic, with an almost magical old-world ambience, but it's even more famous for its Modernist architecture. Antoni Gaudí left a lasting mark on Barcelona with his avant-garde Surrealist buildings; several are UNESCO listed.

Arrived at Barcelona:

Fes, Morroco 
We stayed two nights at Fes where we flew from Malaga.  A city with grand Muslim architecture. We stayed at Dar bin Sauda a 17th century mansion turned into a hotel. For the first night I stayed upstairs but climbing the stairs was a daunting task for me. Next night I requested a room down stairs. There was ham-am and Spa , some of the friends enjoyed. Great hospitality but felt the difference of living standards and poverty compared with Spain.
Travelled many areas Molai Idrees, Menkes ,Chefchaouen. Then one night at Rabat and Casablanca!

Coming back to Orange County from Caribbean cruise

 I and my friend are on united flight from Orlando to Chicago on way back to orange county.

The cruise went fantastic among bikinis and a lot many bars. We were seven Muslim or desi ladies among more than 4000 travellers. Met one Somali Muslim couple with two kids. The Caribbean was hot and humid. In a boat ride got almost soaked with a big wave.

Had a variety of cuisine, Chinese, Japanese, Italian, desi , Mexican etc.

Alhamdolillah for everything!

بنگالی سوغات

مرحوم مشرقی پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش میں ساور کے رشوگلے اور سم سم اب  بھی مشہور ہونگے، اسی طرح نواب پور اور کومیلا کی رس ملائی ۔ 
یہاں مسی ساگا میں ہماری پسندیدہ ایک مشہور اور بہترین بنگالی مٹھائی،چٹخارے اور ذائقوں کی دکان اور ریسٹورنٹ ہے premium sweets
جو ہماری پسندیدہ ہے --بارہ ڈالر میں ایک پونڈ کے حساب سے بہترین رس ملائی ، مٹی کی ہانڈی میں میٹھا دہی اور تمام بنگالی مٹھائیاں مل جاتی ہیں- وہاں کی مشہور ہلسا مچھلی بھی مل جاتی ہے ،جو زیادہ کانٹوں کی وجہ سے ہم نہیں کھاتےتھے ۔۔
ہرے کچے ناریل کو عام طور سے ڈاب کہتے ہیں- اسکا پانی انتہائی غذائیت بخش ہو تا ہے--

Tuesday, April 21, 2026

زندگی کاسفر

آج کادن ۔زندگی کا سفر
عابدہ رحمانی

مرحوم اس دنیا میں تقریباً ایک صدی گزار کر اپنے رب کے حضور دو دن پہلے جاچکے تھے ۔ آج انکا جنازہ مسی ساگا کی جامعہ اسلامیہ یا کو پر مسجد میں تھا۔ 
یہاں کی روایت کے مطابق کسی کی تعزیت کرنی ہو تو جنازے میں شرکت کر نی چاہئے ، تمام اہل خانہ وہاں موجود ہوتے ہیں ۔ میت کو بھی روانگی کے لئے تیار کر کے دیدار کے لئے رکھ دیا جاتا ہے ۔ اس لئے ہم نے بہتر یہی جانا کہ جنازے میں شرکت کی جائے —
مرحوم کو میں بزرگ شہریوں یا senior citizens کے اجتماعات میں باقاعدگی سے پچھلے تین سال سے اس قصبے میں آنے کے بعد دیکھتی تھی ۔ بزرگ سنی کے باوجود کافی فعال ، سوشل اورمتحرک تھے ۔ میری سوائے سلام کے ان سے کبھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ،لیکن انکی بہو ، بیٹے اور بیٹی وغیرہ سے اچھی جان پہچان ہے ۔۔ انکی بہو سے انکی خود مختاری اور خود اعتمادی کے متعلق جانا کہ وہ اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں اور اپنے تمام کام خود انجام دیتے ہیں —
اللہ کی شان نرالی ہے لیکن مرحوم راحت علی پر اللہ تعالیٰ کی کس قدر رحمت تھی کہ تمام کنبے ، جنمیں پڑپوتے ، پڑ پوتیاں یا پڑ نواسوں ، نواسیاں یا شاید ان سے بھی اگلی نسل ،لیکن وہ کسی پر بوجھ نہیں بنے اور صرف دو دن کی بیماری جھیل کر اس جہاں سے رخصت ہوئے ۔ یہ سب بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے ممکن ہوتاہے ۔ ورنہ بے بس عاجز انسان کے بس میں کیا ہے ۔۔
بڑے بیٹے نے نماز جنازہ پڑھائی اور دعاؤں کے ساتھ وہ ابدی آرام گاہ کی جانب رخصت ہوئے —
اللہ تعالیٰ انہیں جنتوں کا مکین بنائے ۔
جنازے سے پہلے اسی مسجد میں نکاح کی تقریب تھی ، دولھا ، دلھن ، عزیز واقارب مسجد کی حرمت کو مد نظر رکھ کے بھی زرق برق لباس میں ملبوس تھے ۔یہی زندگی ہے اور اسکے یہی رخ ہیں -
اور شام کو انہی بزرگ شہریوں کی عید ملن تھی ، جہاں مرحوم پابندی سے موجود ہوتے تھے ۔کچھ عجیب اتفاق ہے کہ وہاں مجھے ایک حضرت بالکل انکے جیسے دکھائی دیے ۔
محفل حسب معمول شباب پر تھی۔
میں ذرا دیر سے پہنچی تھی ۔ مجھے معلوم نہیں ہو سکا لیکن انہو ں نے یقیناً اپنے دیرینہ ساتھی کو یاد کیا ہوگا ۔
دنیا اسی طرح چل رہی ہے اور چلتی رہے گی تا قیامت ۔۔

Saturday, March 7, 2026

ایرانی جنگ

#اسوقت جب کہ ہم ایرانی لیڈر آیت اللہ خمنائی اور انکے اہل خانہ کی شہادت پر دکھ اور صدمے سے دوچار ہیں ، آزاد منش ایرانی خوب خوشیاں منا رہے ہیں — 
ایرانیوں نے امریکہ ، کینیڈا اور یوروپ میں پچھلے دنوں لمبے چوڑے جلوس نکالے ، امریکہ اور اسرائیل سے ایران پر حملہ کرنے پر انتہائی زور دیتے رہے ۔ دو روز پہلے ایک ایرانی خاتون ملی اور وہ یہی بات کہہ رہی تھی کہ امریکہ کو چاہئے کہ ان دینی رہنماؤں کو ختم کر کے شاہ ایران کے بیٹے کو لے آئے - اسنے الزام لگایا کہ انہوں نے چالیس ہزار ایرانیوں کو اپنے اقتدار کے لئے مار ڈالا ۔۔اور بقول اسکے افغانستان اور عراق سے قاتل بلوائے گئے ۔ کیونکہ وہ فارسی نہیں بولتے تھے۔۔ ہم ان سے نجات چاہتے ہیں ۔ اسی طرح ہمارے حالیہ دورہ ایران میں گائیڈ خسرو کے یہی خیالات ہیں ۔ جب ملک کے اندر میر جعفر میر صادق مو جود ہوں اور قوم باغی ہو گئی ہو تو حملہ آوروں کے لئے دروازے واہ ہو جاتے ہیں ۔۔
عابدہ رحمانی 
مارچ ۲، ۲۰۲۶

Monday, February 9, 2026

انڈر دی ٹیبل ،Under the table

انڈر دی ٹیبل
Under the table:
تحریر از
عابدہ رحمانی

اپنےعزیز مادر وطن میں کیسے کیسے استعارے ،انداز اور طریقہ کارپنپ رہے ہیں ، خدا کی پناہ ۔۔بعض اوقات بہت کچھ ناقابل یقین سالگتا ہے ۔
پچھلے دنوں میں جائیداد کے چند سودوں میں بری طرح الجھی ہوئی تھی ۔۔ ایسے مواقع بھی آئے جن میں یوں لگ رہا تھاکہ خواہ مخواہ کام میں رکاؤٹ پڑ جائیگی لیکن میرے پراپر ٹی ڈیلر نے مجھ سے ایک معقول رقم لے کر اسکا سد باب کر رکھا تھا جسکا اسنے مجھے بعد میں حساب دیا ۔ کہ کیسے وہ رقم کس کس کو انڈر دی ٹیبل دی گئی ۔۔
خدا کی پناہ یہ انڈر دی ٹیبل کا حصول کرنے والے ایسے ویسے لوگ ہر گز نہیں تھے بلکہ حلیے اور جثے سے نمازی پر ہیز گار ، خدا ترس قسم کے لوگ تھے ۔۔ کیونکہ انڈر دی ٹیبل کے حصول کے بعد انہیں مجھ پر ترس آہی گیا—بعد میں ڈیلر نے مجھے ایک لمبی فہرست تھمائی کہ کس کس کو کتنی ادائیگی ہوئی اور یہ بھی اسکا دین و ایمان جانے۔۔۔
اسنے مجھے بتایا کہ فلاں شخص مجھے غسلخانے یا ٹوائلٹ (بیت الخلا) لے گیا کہ وہاں پر ادائیگی ہو جائے اسلئے کہ وہاں کیمرے نہیں تھے ۔۔
 کیا اس بات پر کسی نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ کی ذات اور کراما کاتبین پر کیمرہ کیسےفضیلت لے گیا ۔۔ جبکہ ٹوائلٹ تو کیا، اللہ کی ذات ہر جگہ ہر مقام پر ہے اور اس سے کسی کا ظاہر و باطن کیسے چھپا رہ سکتا ہے ۔ کاش کہ ہمارے مسلمان اسکو سوچتے ۔۔لیکن یہ اللہ کو ماننے والے اللہ کی کب مانتے ہیں ۔۔
اس ناجائز آمدنی کیلئے انکے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں اور اسکا نام انہوں نے فضل ربی رکھا ہوا ہے ۔۔ کسی بھی سرکاری دفتر میں کوئی کام درپیش ہو تو چوکیدار یا گارڈ سے لے کر چپڑاسی اور پھر حکام بالا سب کو خوش رکھنا پڑتا ہے اور یہ خوشی انکو مناسب رقم کی ادائیگی ہے ورنہ اتنی رکاوٹیں ہونگی کہ انسان خوار ہو جاتا ہے ۔۔
یہ ذلالت عدلیہ سے لے کر انکم ٹیکس ،پولیس اور شہری اداروں میں سب جگہ موجود ہے ۔
اللہ کا شکر ہے کہ ڈیفنس کے معاملات قاعدے کے مطابق ہوتے ہیں ۔ 
مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب سندھ ہائی کورٹ میں اپنے جائز کام کے سلسلے میں وکیل صاحبہ نے کہا “ بیگم صاحبہ خرچہ کرنا پڑے گا تو آپکے فائیل کو پہئیے لگ جائینگے ورنہ یہیں پڑی رہے گی “ اور پھر ان پہیوں سے بھی کام نہیں چلا اور جج صاحب کو متاثر کر نے کیلئے کچھ قریبی تعلقات کام أئے ۔ اسی طرح جب ایک انکم ٹیکس کمشنر نے این او سی دینے کے لئے کھلم کھلا رقم کا مطالبہ کیا اور میں انکے ماتھے پر سجدے کے نشان اور داڑھی کو دیکھتی رہی ، استغفراللٰہ ، اللہ جانے کیا مجبوریاں یا مطالبات انہیں اس حرام پر مجبور کرتے ہیں ۔۔
جابجا لکھا ہوتا ہے “ الراشی والمرتشی فی النار “ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔۔ تو کیا ہم دینے والے جو مجبوری سے دیتے ہیں اس گناہ سے بری الذمہ ہیں ؟؟

Saturday, January 24, 2026

سفر ہے شرط

الحمد للہ کہ بالآخر پی آئی اے کی نجکاری ہو گئی ہے ۔ امید ہے کہ اس سے ہمارے قومی ائر لائن کے لئےترقی اورکامیابی کی مزید راہیں کھل جائینگی ۔۔

سفر ہے شرط
از
عابدہ رحمانی
لدی پھندی لمبی مسافرت اور پرواز کے لئے روانگی ہوئی تو ڈرائیور نے اپنے ایک عزیز کے ذریعے سامان کی ترسیل میں مدد دلانے کا اظہار کیا۔نیکی اور پوچھ پوچھ، اسوقت اس مدد کی شدیدضرورت تھی۔ ائر پورٹ پر ایک اژدھام تھا۔ ایسے میں جبکہ ایک مستعد شخص مدد کے لئے ٹرالی لئے،سامان اور سیٹ کی سہولت بہم پہنچانے کے لئے تیار کھڑا ہو اس وقت اس سے بڑی نعمت کیا ہوسکتی تھی جبکہ ذہن سامان اور وزن میں الجھا ہوا ہو۔
  داخلی دروازے پر ایک ماں بیٹی کا وِ داعی منظر دلگداز اور رقت انگیز تھا بیٹی اور نواسے کو بمشکل رخصت کرتے ہوئے آنسو پونچھتی ہوئی ماں نے مجھے تھام لیا اس وعدے کے ساتھ کہ میں جہاز میں دوران پرواز انکی بیٹی اور نواسے کا خیال رکھونگی۔
تمام مراحل سے گزر کر اس مددگار نے مجھے خدا حافظ کہا اور میں سی آئی پی لاؤنج کے لئے روانہ ہوئی ۔
یہ لاؤنج ایک گوشہ عافیت تھا اسکا مجھے اسوقت احساس ہوا جب اسی پرواز پر جانے والی ایک دوست کا فون آیا کہ وہ میری منتظر ہیں ۔میرے پرزور اصرار پر بھی وہ اندر آنے پر تیار نہ ہوئیں۔ تو میں خود ہی باہر ہولی ہم دونوں نے اپنی طبع شدہ کتابیں ایک دوسرے کو دیں اس وعدے پر کہ اب جہاز میں ملاقات ہوگی۔وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ کئی پروازیں جا رہی تھیں اور مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی ۔اسلام آباد کا نیا ائرپورٹ کب کام شروع کریگا؟ ہم جیسی عوام کو شدت سے انتظار ہے ۔
سیڑھیوں پر ہاتھ کا سامان لے جانا اب کافی مشکل لگتا ہے ۔اللہ بھلا کرے انکا جو مدد کو تیار ہوجاتے ہیں۔
جہاز میں سیٹ سنبھالی بیچ کی سیٹ چھوڑ ایک لڑکا بیٹھ گیا۔ جب کچھ دیر کے بعد بات چیت ہوئی تو معلوم ہوا کہ اٹلانٹا میں نیورو سرجری میں ریزیڈنسی کر رہا ہے،ذہین اور فطین بچہ تھا۔ غنیمت ہے کہ بیچ کی سیٹ خالی رہی۔ اور ہم دونوں سکون سے رہے۔ 
پی آئی اے کا یہ جہاز یوں سمجھ لیں فضا کے دوش پر اڑتا ہوا پاکستان ہے ،پاکستان کے ہر خطے کے لوگ نظر آتے ہیں‎۔ تفریحی سسٹم اسوقت بھی خراب تھا اسکے باوجود کانوں میں لگانے والے پلگ تقسیم ہوئے ۔ جب فضائی میزبان سے پوچھا کہ یہ کس لئے ہیں ؟ تو مسکرا کر کہا ، "دعا کیجئے شاید چل جائے"
اسوقت جب دنیا کے تقریباً ہر جہاز میں یہ سسٹم موجود ہے پی آئی اے کے جہاز میں یہ پچھلے سال سے خراب ہے۔غالبا اسکی بحالی یا مرمت کو غیر ضروری سمجھا گیا ورنہ ٹھیک ہو چکا ہوتا۔ میرے لئے یوں باعث اطمینان ہے کہ اسی بہانے آنکھیں موند لی جاتی ہیں۔ اب تو بیشتر جہازوں میں وائی فائی کی سہولت ہے امارات ائر لائن کے جہازوں میں مفت سہولت ہے۔
پی آئی اے ایک زمانے میں دنیا کے بہترین ائر لائن میں شمار ہوتاتھا ۔ اسوقت کی کئی مشہور ائر لائنز مثلاً امارات ، ملائشین، اور دیگر کئ ایک کو اسنے رہنمائی اور تربیت فراہم کی ۔ آج بھی اسکے منجھے ہوئے ہواباز کسی سے کم نہیں ہیں۔ ابھی تک یہ حکومت کے زیر تصرف ہےاور قومی ایئرلائن کی حیثیت ہے ۔پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اورئنٹ ائر ویز کے بعد پی آئی اے کا قیام عمل میں آیا ۔اسکا مقولہ تھا
Great people to fly with
عظیم افراد پی آئی اے کے مسافر

اقربا پروری عملے کی غیر ضروری زیادتی اور بد عنوانی نے اس محکمے کو گہنا دیا ہے اور کارکردگی بری طرح متاثر کی ہے ۔ ماضی میں نج کاری کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ۔نج کاری سے حالات شاید بہتر ہوجاتے ۔پی آئی اے والے دیگر ائیر لائن کے نفاذ کو مورد الزام ٹہراتے ہیں جبکہ یہ تو ہونا ہی تھا اسی سے تو مسابقت کی دوڑ ہوتی ہے ۔ شہری ہوا بازی میں عروج و زوال کی داستانیں کافی عام ہیں امریکہ میں آ ئے روز ائر لائن دیوالیہ ہو جاتے ہیں یا ایک دوسرے میں ضم ہوجاتے ہیں۔
 
امریکہ سے تو تمام پروازیں بند ہو چکی ہیں ٹورنٹو کی یہ پرواز پی آئی اے کی اسوقت مثالی پرواز ہے اگر راستے میں کہیں رکنے کی ضرورت نہ ہو تو تیرہ چودہ گھنٹے میں اسلام آباد کا سفر انتہائی آرام دہ ہوتا ہے۔
اب ان خاتون سے کیا ہوا وعدہ یاد آیا ۔ اٹھ کھڑی ہوئی یوں بھی تاکید تھی کہ ایک آدھ گھنٹے کے بعد کچھ حرکت ضروری ہے۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں لیکن وہ لڑکی مجھے نہ مل سکی ۔ قوی امید تھی کہ اب تک سنبھل چکی ہوگی لیکن کاش کہ مل جاتی ۔
جہاز منزل کی جانب رواں دواں تھا ۔ سوتے جاگتے ، کھاتے پیتے ، نمازیں ادا کرتے تھوڑا بہت چہل قدمی اور گپ شپ کرکے وقت تیزی سے گزر رہاتھا ۔
ٹورنٹو اترنے کیلئے جہاز نیچے آیا تو حد نظر تک برف کی سفید چادر بچھی ہوئی دکھائی دی۔ ۲۰ ڈگری سنٹی گریڈ سے ہم منفی ۲۰ کی جانب سات سمندر پار پہونچ چکے تھے ۔ اندرون چلنے والی گرمائش سے اس سردی اور ٹھنڈک کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا ۔ باہر کی فضاء میں تمام کوٹ جیکٹ سمیت پانچ منٹ نہیں گزارے جاتے۔اسلام آباد اور پاکستان کو ہم ہزاروں میل دور چھوڑ آئے تھے اور اس سرزمین پرپہنچ چکے تھے جسکو دوسرا وطن کہہ سکتے ہیں جہاں ہماری پہچان پاکستانی کینیڈئن کے طور پر ہے ۔
جہاز کو گیٹ میسر نہیں تھا تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد جہاز آکر رکا ۔ امیگریشن وغیرہ سے گزر کر سامان کی وصولی کے لئے پہنچی تو معلوم ہوا کہ ابھی تو سامان کی آمد شروع ہی نہیں ہوئی تھی۔ ادھر ادھر دیکھا تو وہ لڑ کی اپنے بچے کو بہلاتی ہوئی دکھائی دی ۔ میں لپک کے ملی اسکی خیریت دریافت کی خوش وخرم دکھائی دی سامان کی منتظر تھی ایک لوڈر لے رکھا تھا ،اسنے کہا کہ امی آپکا پوچھ رہی تھیں جہاز میں اسکی نشست مجھ سے کافی دور تھی۔ میرا فون نمبر لیا ۔ یوں مجھے بھی اطمینان ہوا ۔
ہمارا سامان آنے میں دو گھنٹے لگ گئے جہاز کے سامان کا دروازہ سخت سردی سے جم گیا تھا اور بڑی مشکلوں سے اسکو کھولاگیا ۔ تھکان سے چور، یوں محسوس ہو رہاتھا کہ ٹانگیں شل ہو گئی ہوں لیکن انجام بخیر تو سب بخیر۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے۔
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں۔

#people #fly #Great