پاکستانی معاشرہ اور ذات پات کی تقسیم
مٹی دے باوے
از
عابدہ رحمانی
مٹی دے باوے ( مٹی کے بابے )
ڈرامہ دیکھتے ہوئے مجھے اپنے گاؤں اور علاقے کے مراثی بری طرح یاد آ رہے ہیں اور انتہا ئی دکھ بھی ہو رہا ہے کہ اول تو اسلام کے پیروکار اور یہ جدید ترین دور بھی ان پیشہ ورانہ ذاتوں کی تقسیم کو ختم نہ کر پایا ۔
آپ کے ذہن میں میرے علاقے سے متعلق سوال ہوگا ۔ میرا بنیادی تعلق خیبر پوختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے ۔ ان مراثیوں کو ہمارے علاقے میں ڈم جسکی جمع ڈمان ہے کہا جاتا ہے ۔۔اردو میں انکو ڈوم اور مراثی کہا جاتا ہے ۔
یہ سب راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ، پشتو انکی زبان ہے لیکن یہ پختون اور خان نہیں بلکہ ڈم ہیں ۔
میرے بچپن میں انکی ایک بڑی تعداد ہمارے گاؤں اور ارد گرد کے علاقے میں رہائش پذیر اور پختونوں کی خدمت پر مامور تھی ۔۔ اسی طرح دیگر پیشہ ور ،کمہار،ترکان ، سنار ، نائی ، جولاہا ، دہقان وغیرہ بھی تھے ۔ ڈم کی مؤنث ڈمہ کہلاتی ہم انکے ساتھ عزت سے پیش آتے اور بڑوں کو پکارنے کیلئے ماما، چاچا ، بھائی اور اسی طرح خواتین کو بھی ماسی ، بہن ، پھو پھو وغیرہ کہہ کر پکارتے تھے ۔
یہ لوگ غمی ، خوشی پر پیغام رسانی کا کام کرتے تھے - شادی ،منگنی کی تاریخ جب طے کی جاتی تھی یا لڑکے کی پیدائش پر خوشی کا نقارہ بجاتے اور گانے بجانے کا اہتمام کرتے ،گانا بجانا ، ناچنا ، مذاق کرنا اور تعریفوں کے گانے گانا خواتین اور مردوں کا کمال تھا -جس پر انہیں خوب خوب ویلیں ملتیں — زنانے اور مردانے میں جسے حجرہ کہتے ہیں یہ اپنی رونق لگاتے اور شائقین کو لطف اندوز کرواتے ۔ دعوتوں میں تمام تیاری اورمہمانوں کی خورد و نوش پر مامور ہوتے اور اسی کے بدلے نیگ اور انعامات پاتے ۔ پوختونوں سے انہیں فصلانہ بھی ملتا تھا یعنی گرمیوں میں گیہوں اور سردیوں میں مکئی ۔۔انکے مکانات بھی بیشتر پختونوں یا خانوں کے کچے مکان ہوتے تھے ہاں چند ایک کے ذاتی مکان بھی تھے —
انکے بچے ہمارے سنگی ساتھی تھے ، ہمارے ساتھ اسکول میں پڑھتے اور کھیلتے کودتے تھے — ہمارے گھروں میں انکا کھلم کھلا آنا جانا بھی تھا ۔لیکن بیشتر کام یا گانے بجا نے کیلئے ۔
اس ڈرامے کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس قدر قریبی تعلقات ہو نے کے باوجود کسی پختون لڑکی یا لڑکے اور ڈم یا ڈمہ کا کو ئی عشقیہ سکینڈل ، داستان میری دانست میں نہیں ہے - شاید انہوں نے یا ہم نے ہمیشہ حد ادب ملحوظ رکھا ہو —لیکن اس تمام ہم آہنگی اور میل جول کے باوجود ہم پختون تھے اور وہ ڈم ۔۔اور اس تفاوت کی وجہ سےکسی پختون اور ڈم کے جائز رشتے کا تو شاید اب بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔
اگر کوئی سکینڈل ہوتا تو وہاں بھی خون کی ندیاں بہہ جاتیں -حالانکہ انکی اپنی برادری میں اور آپس میں انکے بے شمار سکینڈل مشہور تھے ۔۔جن سے ہم بھی محظوظ ہوتے تھے ۔۔
میرے بچپن میں ڈمہ ہفتے میں ایک یا دو مر تبہ آکر نانی ، دادی کے بال دھوتیں اور پھر انکی باریک باریک چٹیائیں بناتی جس سے بال ایک جگہ جم کر رہتے تھے ۔ اسی طرح کے اور کام بھی انکے سپرد ہوتے ۔
ان میں سے کئی لوگوں نے اپنا پیشہ یعنی گانا بجانا چھوڑ رکھا تھا ۔۔ کوئی فوج میں بھرتی ہوا ، کسی نے کھیتی باڑی کی ، اور کئی نے اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی ۔۔استاد ، وکیل، ڈاکٹر انجینئر بن گئے ، 1965 کی جنگ میں اسی برادری کے ایک سپوت کو اپنی بہادری پر ستارہ جرآت ملا۔ اسکی بیوہ اور گھر والوں کی قسمت بدل گئی ۔ گھرانے میں تعلیم آئی تو لڑکیو ں نے بھی اعلی تعلیم حاصل کی ۔ انکی اپنی بیٹی نے غالبا ایم ایڈ کیا ہوا ہے لیکن اس سب کے باوجود انکی ذات نے پیچھا نہیں چھوڑا اور پھر بیٹی کی شادی اس سے کئی سال چھوٹے ماموں زاد سے کردی گئی ۔۔ ہاں اسی خاندان کی ایک ڈاکٹر لڑکی کی پختون ڈاکٹر سے شادی ہوئی ہے جو در حقیقت بہت انوکھی بات ہے — چونکہ باہر سے رشتے نہیں ملتے یعنی دوسری برادریاں بھی ان سے رشتہ نہیں کرتیں اس لئے یہ آپس میں عمر اور تعلیم کی کمی بیشی پر بے جوڑ رشتے کر لیتے ہیں ۔۔
اسی خاندان کے رباب نواز محمد ضمیر کو کئی سال پہلے حکومت پاکستان سے بہترین حسن کارکردگی کا انعام ملا تھا -ان میں سے کئی لوگ موسیقار اور فنکار بن گئے اور کئی تبلیغ کی طرف نکل گئے ۔
کئی لوگ اقبال چنن کی طرح اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسر ی جگہو ں میں آباد ہو گئے ۔۔ جہاں پر انہیں عزت دار پختون سمجھا جاتاہے کیونکہ زبان تو پشتو ہے ۔۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم جو اسلام کے پیروکار ہیں اور قرآن پاک میں صاف کہا گیا ہے کہ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جسمیں تقویٰ ہو -تو ہم کیسے ذات پات کی تقسیم کر سکتے ہیں ۔۔
قرآن پاک میں سورہ حجرات کی آیت ۱۳ میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے —
اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
No comments:
Post a Comment