| صادقین سے ایک غیر متوقع دلچسپ ملاقات
یہ اس زمانے کی بات ہے جب صادقین فریر ہال میں سنگ مرمر پر اپنی خطاطی کی نمائش کرنے والے تھے اخبارات سے خبریں مل رہی تھیں میری والدہ کراچی آئی تھیں- انکو سیر و تفریح کرتے ہووے فریر ہال پونچے وہاں کے سبزازار پر بڑی خوبصورتی سے سنگ مرمر کی تختیاں سورہ الرحمن کی آیات سے آراستہ سجی ہوئی تھیں ہر ایک کے نیچے روشنی کا انتظام تھا ابھی روشنی تھی- کام کرنے والے نے بتایا کہ باقاعدہ نمائش کل سے شروع ہورہی ہے ابھی ہم تیاری کر رہے ہیںصرف ہم لوگ تھے -اتنے میں صادقین ایک خاتون کے ہمراہ اندر سے برآمد ہوے- دبلا پتلا سراپا اٹنگا سا پاجامہ اوپرقدرے گرم سرمئی کرتا بال الجھے بےترتیب، جیسے ان بالوں نے مدتوں سے حجام اور کنگھی کی شکل نہ دیکھی ہو - مری والدہ ذرا نفاست پسند تھیں ، انکا حلیہ دیکھ کر کہنے لگیں 'اس کا حلیہ دیکھو ،شہرت اور کام دیکھو " بہت تپاک سے ملے ایک ایک تختی کے پاس جا کر اپنے کام کی تفصیلات بتاتے رہے اتنے میں روشنیاں جل اٹھیں سبحاناللہ کیا منظر تھا سنگ مرمر کا ایک ایک رگ و ریشہ نمایاں ہو چکا تھا اور اس پر خوبصورت خطاطی کہ ہم عش عش کر رہے تھے -انہوں نے بتایا کہ یہ تخلیقات انہوں نے ٣-١/٢ سال کے عرصے میں پوری کی ہیں - کراچی شہر اور شہریوں کے لئے انکا تحفہ ہے - میںنے انکے لاہور عجائب گھر میں انتہائی خوبصورت کام کے حوالے سے بات کی - جس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ چھت پر سورہ یاسین کی خطاطی انہوں نے لیٹ کر کی ہے اور کبھی کبھی تو وہ گھنٹوں چت لیٹے رہتے اور کمر بری طرح اکھڑ جاتی-
ایک شیٹ پر اپنے ہاتھ سے سورہ الرحمن کی آیت لکھ کرہمیں دی -کیا بہترین تحفہ تھا اور کیا فیاضی ؟
حق مغفرت کرے کیا آزاد مرد تھا !
عابدہ رحمانی
|
Friday, February 17, 2012
مشہور مصور صادقین سے ایک ملاقات--
An old page of diary: "Trip to Montreal"
This is the first trip of its kind that I planned ,executed& traveled all alone all by myself.
Last night was quite disturbing, I just could not sleep well. The idea of waking up early in the morning & going to VIA station was so much on my mind that I ultimately decided to wake up at 3:30 am. Offered my prayers first tahajjud then fajr, got ready , had breakfast , rolled out my pull man out of the door. After locking the door recited my duas and started walking to the station. It was still almost dark , luckily the area is well lit.It was nice that I don't have to go too far . The station is just next to my building. Walked under the tunnel ; when arrived at the station , the doors were not even open yet. what an early bird?It was just like a kid going on his first day of school. Eventually a lot of passengers started arriving but the train was late by 45 minutes.The ride was quite comfy and the food was sufficient for today. At the station , tried to find my way to Rene Levesque Blvd. My hotel Travelogue was just down the street. I got a nice room , freshened up and walked around to look in the area. Us embassy was just 10 minutes away from the hotel,I was visiting US Embassy @ Montreal for my immigration interview. Montreal and the people looked like I am in a French country. Most of the people speaking french , all the street signs, every sign board was in French. While talked to a few , I was told that they do not understand English.
The down town is quite impressive. A bit similar to Toronto's down town , tall uprising buildings, narrow streets, a lot of Tulips blooming around and a lot of pedestrians. Mcgill and Concordia universities were just around the corner. The China town starts up after the hotel with typical architecture of big Pagoda Golden arch
and the white lions. There were Chinese, Vietnamese and Korean restaurants. Had my dinner and brewed some coffee. The manager seemed like an Arab Muslim. Most of the French speaking Arabs are settled in here.
This is the first trip of its kind that I planned ,executed& traveled all alone all by myself.
Last night was quite disturbing, I just could not sleep well. The idea of waking up early in the morning & going to VIA station was so much on my mind that I ultimately decided to wake up at 3:30 am. Offered my prayers first tahajjud then fajr, got ready , had breakfast , rolled out my pull man out of the door. After locking the door recited my duas and started walking to the station. It was still almost dark , luckily the area is well lit.It was nice that I don't have to go too far . The station is just next to my building. Walked under the tunnel ; when arrived at the station , the doors were not even open yet. what an early bird?It was just like a kid going on his first day of school. Eventually a lot of passengers started arriving but the train was late by 45 minutes.The ride was quite comfy and the food was sufficient for today. At the station , tried to find my way to Rene Levesque Blvd. My hotel Travelogue was just down the street. I got a nice room , freshened up and walked around to look in the area. Us embassy was just 10 minutes away from the hotel,I was visiting US Embassy @ Montreal for my immigration interview. Montreal and the people looked like I am in a French country. Most of the people speaking french , all the street signs, every sign board was in French. While talked to a few , I was told that they do not understand English.
The down town is quite impressive. A bit similar to Toronto's down town , tall uprising buildings, narrow streets, a lot of Tulips blooming around and a lot of pedestrians. Mcgill and Concordia universities were just around the corner. The China town starts up after the hotel with typical architecture of big Pagoda Golden arch
and the white lions. There were Chinese, Vietnamese and Korean restaurants. Had my dinner and brewed some coffee. The manager seemed like an Arab Muslim. Most of the French speaking Arabs are settled in here.
Thursday, February 16, 2012
"خزاں کے بعد " عابدہ رحمانی
"خزاں کے بعد " عابدہ رحمانی
کل رات سے تیز آندھی اور جھکڑ چل رہے تھے- یہاں کی سونڈ پروف کھڑکیوں اور دروازوں سے بھی ہوا کے غرانے کے آوازیں آرہی تھیں، ٹیلے وِثِن کے چنل مستقل موسم کا حال بتا رہے تھے ساٹھ ستر میل کے رفتار سے ہوا چل رہی تھی خزاں رسیدہ پتوں کی بوچھاڑ تھی اور سرسرانے کے آوازیں- قدرت کا قانون بھی نرالا ہے کچھ دِن پہلے ہی ان درختوں کے پتوں پر رنگوں کا ایک جوبن تھا یوں لگتا تھا ہر ایک پتا ایک پھول بن گیا ہے مجھے یہاں کا یہ موسم بہت پیارا لگتا ہے موسم بہار میں تو پتے کھلتے ہیں اور اس موسم میں کیا دلکش رنگ، سبحان الہ-میں تو ان رنگوں سے بلکل سحر زدہ ہو جاتی ہوں جب دیکھنے سے طبیعت نہیں سیر ہوتی تو کیمرے کو لیا اور تصویریں لینا شروع کیا -گھنے درختوں میں لال پیلے ہرے قرمزی جامنی رنگ کے پتے کیا قدرت کی صناعی، کہ انسان عش عش کر اٹھے -یہ بہار دکھانے کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے - یہاں پر انکو fall colors کہا جاتا ہے - - ہم اسکو" خزاں کے رنگ" کہتے ہیں - سردی کے شدت کے ساتھ یہ پتے جھڑنے لگتے ہیں اور نیچےگرے ہوے بھی اپنا حسن دکھاتے ہیں -
باقی پتے تیزی سے پیلے اور پھر بھورے ہونے لگتے ہیں یوں لگتا ہے اب انکا آخری وقت آن پہونچا ان پتوں کو پایا انجام تک پہونچانے کے لئے ایک تیز زوردار آندھی اور جھکڑ چلتے ہیں اور رہے سہی پتے بھی گر جاتے ہیں -
دوپہر کو جاب کچھ خاموشی چا گئی تو میں نے اپنےجوگرس اور جکٹ پہنی فون جیب میں ڈالا اور دروازہ کھول کر باہرنکل آئی - میں جب سے ان ممالک میں ہوں روزمرہ کے چہل قدمی یا واک کو اپنے معمول کا حصہ بنالیا ہے -اس کے بہت سے فوائد ہیں - صحت کے لحاظ سے بھی اور نفسیاتی لحاظ سے بھی - باہر کے تازہ ہوا خوبصورت روشوں اور صاف ستھرے پاتھوں پر گھوم پھر میں کافی تازہ د م ہوجاتی ہوں ، کچھ لوگوں سے ہیلو ہائی بھی ہوجاتے ہے - ہر طرف پتوں کا ڈھیر لگا تھا کچھ لوگ نکل کر اسے سمیٹنے میں مصروف نظر آئے ،کچھ بچے rack کر کے شغل کر رہے تھے -مجھے قدرے دور سے ایک بوڑھی خاتون نظر آئیں -ایک وکوم کلینرچلا کر اسکے موٹے پائپ سے کچھ پتوں کو یکجا کرکےلرزتے ہاتھوں سے ساتھ رکھے ہوئی ڈرم میں ڈالتی -پتوں کا ایک ڈھیر تھا اور وہ بمشکل دو چار پتے اٹھاتی -مجھ میں حسب معمول خدمت خلق کا جذبہ جاگا - میں نے سوچا کہ اسکی مدد کرنی چاہیے -"کیا میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں ؟"میں نے انگریزی میں کہا -"ہاں ہاں کیوں نہیں "-"مجھے دستانے دے دو اگر ہو سکے-"وہ جلد ہی میرے لئے باغبانی کے دستانے لے آئی- اسکو پہن کر میں نے دونوں ہاتھوں سے پتے ڈرم میں بھرے وہ بھی تھوڑی مدد کر نے لگی -پتے سمٹے تو اس نے مارے محبت کے مجھے چمٹالیا اور یوں اے لن سے میری دوستی ہوگئی - میں نے اس سے اجازت لی تو اس وعدے کے ساتھ کے میں اس سے ملنے اونگی- "میں زیادہ تر گھر پہ ہوتی ہوں -تم جب جی چاہے آجانا -" دو چار دیں کے بعد پھر وہاں سے گزر ہوا تو میں نے سوچا گھنٹی بجا کر دیکھ لیتی
ہوں -گھنٹی کی آوازکے ذرا در بعد اس نے دروازہ کھولا اس نے چمکیلا سرخ رنگ کا بند گلے اور پوری آستیں کا بلوز اور سیاہ سکرٹ زیب تن کیا تھا
ہلکا مک اپ ونچی ایڑی کے جوتے ،غرض یہ کے خوب تیار تھی -"وہ میں کیا غلط وقت پر آگئی ہوں ،تم لگتا ہے کسی پارٹی میں جا رہی ہو ؟-" " نہیں نہیں بلکل صحیح ائی ہو میں بس ابھی چرچ سے آئی ہوں -"اس نے مجھے کرسی پیش کی " ہاں وہ آج اتوار ہے - اے لن تم کونسے چرچ میں جاتی ہو؟ " "میں مؤرمون ہوں -" اور اس نے مجھے اپنے چرچ کا محل وقوع بتانا شروع کیا - ایک لمحے کے توقف کے بعد بولی "اور تمہارا چرچ اور مذہب
کونسا ہے؟ _" "میں مسلم ہوں " اس نے ذرا غور کے بعد کہا" اوہ موزلم! " میں اس کے چہرے پر آنے والے تاثرات دیکھ رہی تھی -مسلمانوں
کو یہاں اب جتنا تفتیشی انداز سے یہاں دیکھا جاتا ہے اور میڈیا میں دکھایا جاتا ہے ،یہ کچھ غیر متوقعہ نہیں تھا -"اچھے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں
اس نے میرا ہاتھ تھام کر کہا - پھر میں نےسوچا کہ یہ اچھا موقع ہے اسے اپنے دین کہ بارے میں بتانے کا -" ہم لوگ مسجد جاتے ہیں اور گھر
میں بھی پڑھ سکتے ہیں -ہم لوگ دِن میں پانچ دفع نماز ادا کرتے ہیں -"اسے کافی حیرت ہو رہی تھی -اس کے بعد ہمارا گھریلو تعارف ہوا - اس نے بتایا کہ وہ ٣ بچوں کی ماں سولہ کی نانی دادی اور چھتیس کی پر نانی پر دادی ہے -"واو بہت بڑا خاندان ہے تمہارا !" حقیقتاً میں حیرت زدہ تھی کیونکے یہاں لوگ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنا ہی نہیں چاہتے -"ہم مورمون میں شادیاں جلد ہوجاتی ہیں اور ہم زیادہ اولاد کی پیدائش پر یقین رکھتے ہیں،اسکے علاوہ ہم جائز ازواجی تعلقات قائم کرتے ہیں- باکریت اور پاکیزہ رہتے ہیں "-یہ جملہ تو مجھے بیحد بھایا اور الله کا شکر ادا کیا کہ یہاں ایسے لوگ بھی رہتے ہیں -وگرنہ جنسی لحاظ سے تو جانوروں والا حال ہے - میں بیحد حیران ہوتی ہوں کہ اتنی منظم قوم نے اس شعبے کو بلکل ہی کھلا اور بے لگام چھوڑ رکھا ہے -(مورموں عیسائی فرقہ ہے لیکن اس میں اب بھی پغمبر آتے ہیں بہت سے عیسائی انھی عیسائی نہیں مانتے )
ای لن کا صاف ستھرا سجا سجایا گھر بہت خاموش تھا -ایک طرف اس کا پوڈل پھر رہا تھا جو وقتاً فوقتاً آکر اسکی گود میں بیٹھ جاتا اور وہ اس کو پیار سے سہلانے لگتی'یہ میرا چھوٹا سا بچہ ہے اور بہت ہی پیارا !"اتنے بڑے خاندان کے ہوتی ہوئی وہ بلکل تنہا تھی اور یہی تنہائی یہاں کے بوڑھوں
کا المیہ ہے ؟ -کرسٹمس کے دِن تھے اس کی چہل پھل ہر طرف تھی اسکا کرسمس tree جگمگا رہا تھا -کرسمس پر اسکا چھوٹا بیٹا اپنے بیٹے کے ساتھ آرہا تھا وہ سوچ سوچ کر بیحد خوش تھی -شوھر کو مرے ہوئی دس سال ہوچکے تهے اور اسکے بعد وہ تنہا تھی "میں نے کوئی دوسرا پارٹنر ڈھونڈھنے کی کوشش ہی نہیں کی " -چند دِن بعد میں اس کے لئے کرسمس کا تحفہ لے گئی قرآن پاک کا یوسف علی کا انگریزی ترجمہ اور پاکستان کا ایک کڑھا ہوا بیگ ،اسنے بھی مجھے بہت خوبصورت تصویری فرہم دیا اپنی بیک کی ہوئی کوکیز ...اور مجھے کرسمس پر کھانے کی دعوت دی - -ہم چھٹتیوں میں شہر سے باہر جا رہے تھے،اس وجہ سے میں نے معذرت کر لی - واپسی پر میں اس سے ملنے گئی تو گھر میں خاموشی تھی-نئی سال کی مبارکباد کے لئے میں نے اس کےفون پر پیغام دیا -فورن ہی اسکا جوابی پیغام آیاکہ وہ آجکلUtah میں اپنے خاندان کے پاسس چند دیں کے لئے گئی ہے -یھاں کے بوڑھوں میں تنہائی کے وجہ سے حد درجہ خود اعتمادی اور خود داری پائی جاتی ہے -وہ اپنے سارے کام خود انجام دیتی -
مجھے نئی سال کے لئے بہترین خواہشات دیں اور بتا کہ اس نے میرے bible کو تھوڑا پڑھ لیا ہے اور کچھ کہانیاں انکے bible کے
جیسے ہیں. میں آ کر تم کو کال کرونگی -
ہائی وے پر کوئی بہت برا حادثہ ہوگیا تھا-- خبروں میں مستقل آرہا ہے -ایک بوڑھی عورت نے غلط لین لیا تھا ، آگے پیچھے کی گاڑیاں لپیٹ میں آگئی تھیں زیادہ تفصیلات نہیں آئیں - اگلے روز میں اس کےفون کا انتظار کرتی رہی پھر خود ہی اسے کال کر کے پیغام دیا کوئی جواب نہیں آیا تو واک سے واپسی پر اسکے گھر کی طرف مڑ گئی -گھنٹی بجانے پر ایک جوان سال لڑکا باہر آیا "کیا میں آپکی کوئی مدد کر سکتا ہوں ؟" میں ائے لن کی دوست ہوں کیا وہ گھر پر ہے ؟" وہ سپاٹ لہجے میں بولا -" پرسوں کے حادثے میں اسکی موت ھوگئی ہے-" ہیں! میں نے بمشکل اپنے آپکو سنبھالا اور حسبی عادت منہ سے" انا للہ وہ انا الیھ راجعون" کہا لڑکا مجھے حیرت سے دیکھ رہا تھا - اس نے بتایا کہ جمعے کو میت funeral home میں آئیگی ،اگر تم اسکو دیکھنا چاہو تو وہاں آجانا یوں ہمارا خاندانی معاملہ ہے - میں نے اس سے راستہ اور پتا معلوم کیا - وقت مقررہ پر میں پیلے اور سفید گلاب کا گلدستہ لے کر وہاں پہونچ گئی - کچھ مرد اور خواتین سیاه لباس میں ملبوس تھے میں نے بھی کالا سوٹ پہنا تھا لیکن وہ اپنے درمیان ایک رنگدار عورت کو دیکھ کر حیران تھے اور ایک دوسرے کو کن آنکھوں سے دیکھنے لگے -
لڑکا Jeff اگے بڑھا مجھے آہستہ سے ہائی کہا اور ایک عورت کے کان میں کھسر پھسر کی - وہ آگے آئی اور مجھے تابوت کے پاس لے گئی آئی لن ویسے لگ رہی تھی جیسا میں نے اسے اس دِن چرچ سے واپسی پر دیکھا تھا اور وہی سرخ چمکدار بلوز پہنا تھا بلکل تیار ،مک اپ کیا ہوا، بال سامنے سے بنے ہوئی ،چہرے پر ہلکا جالی کا سیاہ نقاب -- - عورت آہستہ سے بولی پیچھے سے جسم بری طرح زخمی ہے - میں نے خاموشی سے گلدستہ تابوت کے ایک طرف رکھا پانچ منٹ خاموش کھڑی رہی ایک خزاں رسیدہ لرزیدہ پتا تیز آندھی سے زمیں بوس ہو چکا تھا ............................
2012/2/9 Abida Rahmani
"راشد اشرف اور کتابوں کا اتوار بازار "
( راشد سے معزرت کے ساتھ )
عابدہ رحمانی
لگ بھگ دو ڈھائی سال کا عرصہ گزرا ہوگا کہ میرے میل میں پاکستان سے اردو میں کافی ڈاک آنی شروع ہوئی - کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ ای- میل کا پتا کیسے کیسے نشر ہو جاتا ہے - میرے اکاونٹ پر اتنے گروپ کی ڈاک آتی کہ مجھے جن کو روکنا ہوتا ہے انکو spam میں ڈال دیتی ہوں ظاہر ہے کچھ وقت کا تعین بھی کرنا پڑتا ہے یہاں کی تمام time management کی کلاسوں میں اسی پر زور ہوتا ہے کہ اوقات کی بہترین اور صحیح تقسیم کریں اور کیسے کریں ؟- روز قیامت بھی ہم سے وقت کی صحیح اور غلط استعمال کے حوالے سے سوال ہوگا
الله تعالہ ہمیں سرخرو فرمائے آمین -
ان ای میلوں میں ایک لاہورکے فرحان ولایت بٹ اور ایک کراچی کے راشد اشرف تھے -فرحان کی mails یا اردو میں نوشتے کافی جاذب نظر ہوتے لاہور کے ثقافتی،سماجی اور ادبی پروگراموں کی جھلکیاں،سر گر میاں اور تصویریں اسمیں الحمرا اور آرٹس council وغیرہ میں ہونے والےتقاریب کی جھلکیاں ہوتیں اور کچھ تبصرہ بھی، اکثر وہ اچھی کہانیاں لکھتے --راشد اشرف کے"کتابوں کے اتوار بازار کا حال'جس سے مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید اس شخص کی اتوار بازار میں کتابوں کی دکان ہے اور یہاسکی تشہیر کرنا چاہتا ہے ایک مرتبہ فراغت میں اسے پڑھا تو جانا کہ یہ کوئی کتابوں کا شوقین اور خریدار ہے -سوچا اچھا ہے کوئی بوڑھا retired شخص ہوگا اچھا مشغلہ ہے کتابیں اس عمر میں خصوصاًبہترین ساتھی ہیںجب باقی ساتھی ساتھ چھوڑ جاتے ھیں'بسا اوقات اپنا سایہ بھی ، اور اگر آنکھیں ساتھ دے رہی ہیں تو -
چند مہینے پہلے میرا yahoo کا اکاونٹ hack ہوگیا اور اس سے میرے تمام رابطوں کو انتہائی غلط قسم کے پیغامات جانے لگے - جو مجھے جانتے تھے وہ جان گے کہ یہ میں ہرگز نہیں ہوں اور مجھے فورا مطلع کر دیا -میں نے اپنا اکاونٹ محفوظ کر لیا لیکن کافی سارے گروپس سے رابطہ منقطع ہوا اسی بھیڑ میں فرحان ولایت بھی غائب ہوگے ،انہیں ڈھونڈھنے کی کوشش بھی نہ کی ،اور میلbox میں قدرے خاموشی چھا گئی-چونکہ بزم میرے رابطے کی فہرست میں نہ تھا تو بچ گیا ( اپ لوگ اگلے حملے کی لئے تیار رہیں ) تو میں نے سپام کو ٹٹولا کچھ دلچسپ تحریریں نظر آئین اس میں راشد کی کافی تحاریر تھیں میں نے چند پر تبصرہ کیا اور یوں راشد اور بزم سے باقاعدہ رابطہ ہوا -پھر نامعلوم کس طرح یہ رابطہ قدرے مزید بڑھا حال ہی میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ ماشااللہ ایک گھبرو جوان ہیں،البتہ روح بوڑھی ہوسکتی ہے -لیکن اردو پر فدا اور اب تو ہندی حروف سے بھی گریزاں ہیں -جانکاری والے واقعے کے بعد ،فارسی کا استعمال بہت خوبصورتی سے کرتے ہیں -اردو زبان کی خوش قسمتی کہ ایسا جانثار بندہ مل گیا ہے - جہاں اکثریت اردو سے جان چھڑارھی ہے اور اردو بولنا ،پڑھنا اور لکھنا احساس کمتری کی نشانی سمجھا جاتا ہے -وہاں راشد کے اردو سے اس درجہ وفاداری قابلی قدر ہے -
کراچی سے جب میں نے اپنا سامان سمیٹا تو میرے پاس بچوں کے ادب کا ایک انبار تھا بلا مبالغہ ہزاروں کتابیں تھیں -میرے عزیز و اقارب، دوست احباب نے انگریزی کتابیں اٹھا لیں اور کہا " دیکھئے ہمارے بچے صرف انگریزی پڑھتے ہیں -ان میں لانڈھی کورنگی سے تعلق رکھنے والے اہل زبان بھی تھے ،ملازمین نے کسری نفسی کا مظاہرہ کیا اور کچھ اپنے بچوں کے لئے لےگئے باقی ردی والے --
ں
"راشد اشرف اور کتابوں کا اتوار بازار "
( راشد سے معزرت کے ساتھ )
عابدہ رحمانی
لگ بھگ دو ڈھائی سال کا عرصہ گزرا ہوگا کہ میرے میل میں پاکستان سے اردو میں کافی ڈاک آنی شروع ہوئی - کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ ای- میل کا پتا کیسے کیسے نشر ہو جاتا ہے - میرے اکاونٹ پر اتنے گروپ کی ڈاک آتی کہ مجھے جن کو روکنا ہوتا ہے انکو spam میں ڈال دیتی ہوں ظاہر ہے کچھ وقت کا تعین بھی کرنا پڑتا ہے یہاں کی تمام time management کی کلاسوں میں اسی پر زور ہوتا ہے کہ اوقات کی بہترین اور صحیح تقسیم کریں اور کیسے کریں ؟- روز قیامت بھی ہم سے وقت کی صحیح اور غلط استعمال کے حوالے سے سوال ہوگا
الله تعالہ ہمیں سرخرو فرمائے آمین -
ان ای میلوں میں ایک لاہورکے فرحان ولایت بٹ اور ایک کراچی کے راشد اشرف تھے -فرحان کی mails یا اردو میں نوشتے کافی جاذب نظر ہوتے لاہور کے ثقافتی،سماجی اور ادبی پروگراموں کی جھلکیاں،سر گر میاں اور تصویریں اسمیں الحمرا اور آرٹس council وغیرہ میں ہونے والےتقاریب کی جھلکیاں ہوتیں اور کچھ تبصرہ بھی، اکثر وہ اچھی کہانیاں لکھتے --راشد اشرف کے"کتابوں کے اتوار بازار کا حال'جس سے مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید اس شخص کی اتوار بازار میں کتابوں کی دکان ہے اور یہاسکی تشہیر کرنا چاہتا ہے ایک مرتبہ فراغت میں اسے پڑھا تو جانا کہ یہ کوئی کتابوں کا شوقین اور خریدار ہے -سوچا اچھا ہے کوئی بوڑھا retired شخص ہوگا اچھا مشغلہ ہے کتابیں اس عمر میں خصوصاًبہترین ساتھی ہیںجب باقی ساتھی ساتھ چھوڑ جاتے ھیں'بسا اوقات اپنا سایہ بھی ، اور اگر آنکھیں ساتھ دے رہی ہیں تو -
چند مہینے پہلے میرا yahoo کا اکاونٹ hack ہوگیا اور اس سے میرے تمام رابطوں کو انتہائی غلط قسم کے پیغامات جانے لگے - جو مجھے جانتے تھے وہ جان گے کہ یہ میں ہرگز نہیں ہوں اور مجھے فورا مطلع کر دیا -میں نے اپنا اکاونٹ محفوظ کر لیا لیکن کافی سارے گروپس سے رابطہ منقطع ہوا اسی بھیڑ میں فرحان ولایت بھی غائب ہوگے ،انہیں ڈھونڈھنے کی کوشش بھی نہ کی ،اور میلbox میں قدرے خاموشی چھا گئی-چونکہ بزم میرے رابطے کی فہرست میں نہ تھا تو بچ گیا ( اپ لوگ اگلے حملے کی لئے تیار رہیں ) تو میں نے سپام کو ٹٹولا کچھ دلچسپ تحریریں نظر آئین اس میں راشد کی کافی تحاریر تھیں میں نے چند پر تبصرہ کیا اور یوں راشد اور بزم سے باقاعدہ رابطہ ہوا -پھر نامعلوم کس طرح یہ رابطہ قدرے مزید بڑھا حال ہی میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ ماشااللہ ایک گھبرو جوان ہیں،البتہ روح بوڑھی ہوسکتی ہے -لیکن اردو پر فدا اور اب تو ہندی حروف سے بھی گریزاں ہیں -جانکاری والے واقعے کے بعد ،فارسی کا استعمال بہت خوبصورتی سے کرتے ہیں -اردو زبان کی خوش قسمتی کہ ایسا جانثار بندہ مل گیا ہے - جہاں اکثریت اردو سے جان چھڑارھی ہے اور اردو بولنا ،پڑھنا اور لکھنا احساس کمتری کی نشانی سمجھا جاتا ہے -وہاں راشد کے اردو سے اس درجہ وفاداری قابلی قدر ہے -
کراچی سے جب میں نے اپنا سامان سمیٹا تو میرے پاس بچوں کے ادب کا ایک انبار تھا بلا مبالغہ ہزاروں کتابیں تھیں -میرے عزیز و اقارب، دوست احباب نے انگریزی کتابیں اٹھا لیں اور کہا " دیکھئے ہمارے بچے صرف انگریزی پڑھتے ہیں -ان میں لانڈھی کورنگی سے تعلق رکھنے والے اہل زبان بھی تھے ،ملازمین نے کسری نفسی کا مظاہرہ کیا اور کچھ اپنے بچوں کے لئے لےگئے باقی ردی والے --
ں
فیس بک یا کتاب چہرہ - از عا بدہ رحمانی
فیس بک یا کتاب چہرہ - از عا بدہ رحمانی
فیس بک یا کتاب چہرہ - از عا بدہ رحمانیایک مرتبہ میں نے اپنے اکونٹ کا اردو ترجمہ کیا تو فیس بوک کا ترجمہ ہوا" کتاب چہرہ" - میرے ذہن میں عبیداللہ علیم کی غزل گونجنے لگی " چاند چہرہ ستارہ آنکھیں " کتابی چہرہ بھی اردو کی ایک اصطلاح ہے لیکن یہ کتاب چہرہ ، جس نے کتاب کی اہمیت ختم کردی ہےاور تمام دنیا کو ایسے لپیٹ لیا ہے جیسے کوئی اژدہا لپٹ جاتا ہے - ہر پڑھا لکھا دوسرے سے پوچھتا ہے " کیا آپ فیس بوک پر ہیں ، کیا نام ہے اور جب آپ انجانے میں انکی تلاش کریں تو ان جیسے - بیشمار نام آتے ہیں اس سے جہاں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا بہت چھوٹی ہے وہاں اپنے نام کی کم مائگی بلکّہ فراوانی کا احساس ہوتا ہے فیس بوک کے خالق Mark Zuckerberg نے اپنے دو ساتھیوں کو لات مار دی اور ٢٦ سال کی عمر میں time magazine 2011 کی بہترین شخصیت کے طور پر سامنے آیا - 2004 میں جب وہ ہارورڈ میں زیر تعلم تھا اس وقت اسنے اپنے دوستوں سمیت فیس بوک شرو ع کیا تھا اس وقت فیس بک کی قیمت وال سٹریٹ پر70 بلین ڈالر ہے بڑے بڑے سر مایہ دار اسکے شیرز خریدنے کی درپے ہیں -اس میں 45500 ملازمین ہیں اور استعمال کرنے والے کروڑوں بلکہ اربوں میں ہیں - اب مارک ایک انتہائی سمجھدار بزنس مین اور سلبرٹی یعنی مشہور اور اہم شخصئیت بن چکا ہے- اپنی ایک ساتھی کے ساتھ شادی شدہ زندگی گزار رہاہے-مارک جب اپنے مسکراتے شوخ و شنگ چہرے کے ساتھ مجھے کوئی پیغام دیتا ہے تو میں اس خوش فہمی میں ہوتی ہوں کہ یہ خاص میرے لئے ہے حالانکہ وہ لاکھوں لوگوں سے مخاطب ہوتا ہے - Hoodie جیکٹ پہنے ہوے یہ نو خیز لڑکا اس وقت دنیا پر چھایا ہوا ہے - apple کے " Steve jobs" کی طرح جو ایک جینز اور سویٹ شرٹ میں آکر دنیا کو اپنے کمالات دکھاتا تھا - ہمارے تو آدھی زندگی استری کرنے میں گزر تی ہے -کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد کے ساتھ نئی اصطلاحات نکل آئی ہیں - کمپیوٹر پر اسے social net working ( معاشرتی یا سماجی رابطے ) کی سب سے بڑی جگہsite قرار دیا جاتا ہے حالانکہ دیگر بیشمار معاشرتی ویب سائٹ ہیں-ویب سائٹ کو اردو میں مکڑی کا جال کہا جاتا ہے اور حقیقتا یہ انٹرنیٹ ایک مکڑی کا جال ہے جسمیں ہم ایک مکھی کی طرح الجھ گئے ہیں اور سلجھنے کی اب کوئی صورت نظر نہیں آتی -لاکھوں لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں ہزارہا مثبت مقاصد کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں اپنے کاروبار اور مشن کو پھیلانے کے لئے بہترین ذریعہ ھے- ہزاروں بچھڑے دوست,اسکول ، کالج ، یونیورسٹی کے بچھڑے ساتھی اسکے ذریعے ایک دوسرے سے ملے اور لاکھوں نئے لوگ ایک دوسرےکے دوست بنے ، کئی تو عاشق معشوق بھی بن گئے ،جہاں کتنے نئے رشتے جوڑ رہے ہیںوہیں پرانے ٹوٹ رہے ہیں - ان سارے رابطوں میں اپنی ذات پر قابو لازمی ہے - گھریلو تعلقات میں بڑے بڑے رخنے پڑ گئے طلاق تک نوبت پہنچ گیئ اکثر اوقات ان آن لا ئن تعلقات میں ایک ناگفتہ بہ اور انتہائی افسوسناک کیفئت ہو جاتی ہے یہ بھی سننے میں آیا کہ اکثر رومانی چیٹنگ کرنے والے کہیں باپ بیٹی اور کہیں بھائی بہن نکل آئے یہ سب ایک غلط شناخت اور پتے کی پروفائیل بنانے کے بعد ہوا جسمیں اکثر لوگ اپنے آپکو محفوظ خیال کرتے ہیں -اسوقت فیسبک ہر اخبار ، رسالے ، ٹیلی وژن پروگرام کے ساتھ منسلک ہے F پر شامل کرنے کا بٹن دبا دیں اور کوئی چٹ ہٹی خبر اپنے فیس بک کے صفحے کی زینت بنا دیں اسظرح ہم اپنے صفحے کی خبروں ، پوسٹنگ اور تصاویر کو اپنے تمام دوستوں کے ساتھ شیئرکرتے ہیں-دنیا کے حالات سے اسطرح ہم انتہائی با خبر رہتے ہیں - دلچسپ لطیفے، اشعار، مضامین، خوبصورت تبصرے ، دنیا بھر کی خبریں، ظلم زیادتی ، قتل عام خوبصورت کارڈ، اردو ، انگریزی اور دیگر زبانوں میں ہم دیکھتے اور پڑھتے ہیں اور خوب لطف اندوز ہوتے ہیں- اسلامی تعلیم کے لئے بے شمار صفحات ہیں جو روزانہ قرآن ، حد یث اور اقوال زریں سے مومنین کے دلوں کو منور کرتے ہیں- کوئی بھی ویڈیو یو ٹیوب اور باقی تمام ذرائع سے فیس بک پر پوسٹ کی جاسکتی ہے- اور یہ سب کچھ فیس بک کے ذریعے ہی ممکن ہوا-وہیں لاکھوں اسے منفی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں حتی کہ صدر اوبا ما کو بھی خبردار کرنا پڑا کہ فیس بوک پر تصویر ڈالتے ہوے احتیاط لازم ہے اور ظاہر ہے کہ یہ انتباہ خواتین کے لئےہے کیونکہ غلط لوگ انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں - لیکن شائقین کی ہرگز کمی نہیں ہے ادھر تصویریں کھینچیں اور فیس بوک پرفورا آگئیں ،ذرا ہی دیر میں سب دوست احباب نے دیکھ لیں--پسند کرنے کا انتخاب ہے لیکن ناپسند کا نہیں - اور پھر ہر تحریر پر تبصرہ ، چھوٹے چھوٹے چھبتے ہوئے فقرے قارئین کے لئے انتہائی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں-فیس بک اب ایک لازم و ملزوم بن گیا ہے - امریکہ میں بحرالکاہل کے نظام الاوقات کے مطابق جب میں اہنے فیس بک کے اکاؤنٹ پر ہوتی ہوں اسوقت ساتھ سمندر پار میرے عزیز و اقارب ، دوست احباب جنمیں زیادہ تر مجھ سے 12، 13 گھنٹے آگے ہیں وہ اپنے چھوٹی چھوٹی تحاریر، چٹکلوں، تصاویر اور ویڈیو سمیت اس صفحے پر میرے ساتھ ہوتے ہیں-اکثر سے چیٹنگ بھی ہوجاتی ہے بلکہ اب تو با آوازسکائپ کے انداز میں ویڈیو کے ساتھ بلند بات چیت بھی کی جاسکتی ہے- مجھے اسوقت کافی حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان میں فیس بک کی بیماری پڑھے لکھے طبقے میں خطرناک حد تک عام ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کا بھی فیس بک اکاؤنٹ ہے - لیکن اسکو کنٹرول کرنے کا ایک خود کار نظام لوڈ شیڈنگ کی صورت میں موجود ہے-لت کوئی بھی بری ہے چاہے وہ فیس بوک ہی کیوں نہ ہو - اس کی لت تو ایسی ہے کہ اب سمارٹ فون پر بھی گھڑی گھڑی دیکھتے رہو کہ فیس بک پر کون ہے یا کیا ہوا- عرب بہار کی مہم ہو ، روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار ، غزہ کی تباہی و بربادی ، شام کا قتل عام ہو یا پاکستان کی سیاسی شعبدہ بازی - ہر تحریر، بیان بازی اور تاثرات کے لئے فیس بک حاضر ہے - دنیا بھر کے کھیل ہیں اور فضول وقت گزاری کی چیزیں- اب یہ ہم پر منحصر کہ ہم کتنے پانی میں ہیں اور کتنا خوف خدا ہے ؟پچھلے سال یہں امریکا میں ماں نے 13 ماہ کے بچے کو ٹب میں بٹھایا اور خود فیس بوک میں اتنا کھو گئی کہ جب ہوش آیا تو بچہ ڈوب چکا تھا -ایک جاننے والے اپنی بیوی کو اس وجہ سے طلاق دینے والے ہیں کہ بیوی شوہر کو بری طرح نظر انداز کر رہی ہے اور زیادہ وقت فیس بک پر گزرتا ہے-میرے صفحے پر پچھلے ٣ سال سے ایک لڑکی منسلک تھی اپنی تصور بھی لگائی تھی - ابھی دو روز پہلے اس نے انکشاف کیا "کہ آپ برا نہ مانیں تو میں بتاؤں کہ میں در اصل لڑکا ہوں - " میں نے اس سے کہا کہ مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا تم اچھی طرح سوچ لو کہ تم کونسی جنس میں خوش ہو ؟اب اس کے ساتھ ٹوتٹر بھی منسلک ہوگیا ہمارے چھوٹے فقرے اب ساتھ ہی ساتھ اس پر چہچہا رہے ہیں -لیکن اب بھی ایسے ہٹ دھرم اور انوکھے موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں " ہمارا کوئی اکاونٹ فیس بوک وغیرہ کا نہیں ہے ان سب فضولیات کے لئے وقت کہاں ؟"فیس بک کے اتنے لطیفے اور واقعات اب سننے میں آتے ہیں " ایک صاحب کی بیگم کا انتقال ہوا تو انتہائی افسردگی کے عالم میں تھے، انکے دوست انکی دلجوئی کرنے میں لگے ہوئے تھے- وہ صا حب کہنے لگے،" ذرا میرا لیپ ٹاپ تو لادو میں اپنا سٹیٹس سنگل کردوں"-
Sunday, January 22, 2012
Journey of life: Hajj 2009 Trip to Madinah (notes from diary)
Journey of life: Hajj 2009 Trip to Madinah (notes from diary): Trip to Madina Nov 18 ,2009 When we arrived at Jeddah airport from Makkah , it was scheduled that we will leave for Madina shortly. Our ...
Friday, January 20, 2012
Journey of life: What is life?
Journey of life: What is life?: Life is a phenomenon that we have no control over it. We came to this world with out our will and will leave this world with out our will....
Subscribe to:
Posts (Atom)