Friday, November 25, 2016

موت کا ایک دن معین ہے۔

موت کا ایک دن معین ہے 
از
عابدہ رحمانی

مرزا غالب نے فرمایا ،
موت کا ایک دن معین ہے ،نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
کارخانہ اجل میں روزانہ لاکھوں کروڑوں نفوس کا آنا جانا  لکھا ہوا ہے ۔ کسی کو موت سے فرار نہیں ہر ذی روح جو ا س دنیا میں آئی ہے اسے اس دنیا سےرخصت ہونا  ہے  اور یہ ایک ا اٹل  اور واشگاف حقیقت ہے۔قرآن پاک  کے ہر دوسرے صفحے پر موت  کی ماہیت ، اللہ کے پاس واپسی ، جنت دوزخ  ، عذاب وثواب  اور أخرت میں سر خروئی کا ذکر ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے” کل نفس ذائقۃ الموت “ہر نفس یا شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ سورہ رحمان  میں ارشاد باری تعالی  ہے” کل  من علیھا فان و یبقی وجه  ربک ذوالجلال والاکرام  “ ہر ایک چیز فنا ہو جائے گی اور باقی رہے گا تمہارا رب جو رعب ، دبدبے اور عزت والا ہے ۔۔


ایک حکایت میں درج تھا کہ جب اللہ تعالی نے زمین پر انسانوں کی پیدائش کا فیصلہ کیا تو فرشتوں کومشاہدہ کرایا کہ قیامت تک اتنے انسان روئے زمین پر آئینگے۔فرشتوں نے کہا اے باری تعالی یہ تو بے شمار لوگ ہیں اور زمین بہت چھوٹی ہے ۔اسپر اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ سب ایک وقت میں نہیں ہونگے بلکہ انکے پیچھے موت لگی ہوگی یہ  پیدا ہونگے اور مرتے رہینگے۔ اس پر فرشتوں نے کہا کہ اے خالق پھر تو  یہ ہر وقت موت سے  خوفزدہ  رہینگے اور زندگی کا کوئی لطف   حاصل نہیں کر پائیں گے اسپر اللہ  تعالی نے فرمایا کہ میں دنیا میں انکے لئے اسقدر دلچسپیاں اور رونقیں پیدا کر دونگا کہ وہ انمیں کھو کر موت کو بھولے رہینگے۔
اور یہ ایک حقیقت ہے  کہ زندگی میں اسقدر مصروفیات ، دلچسپیاں ، رونقیں اور گہما گہمی ہے  کہ بسا اوقات اسمیں غرق ہوگر ہم موت کو وقتی طور پر فراموش کر دیتے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ نہ جانے ہم کب تک زندہ رہینگے ،  زندگی کی جائز خوشیوں کے حصول کا اللہ تعالی نے ہمیں حقدار بنایا ہےاور انکے  جائزحصول میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
طبی سائنس نے بے انتہا ترقی کر لی ہے ۔۔ مہلک بیماریوں کے نت نئے علاج دریافت ہوئے ، جن سے عمروں میں اضافہ  تو ہو گیا  لیکن ترقی یافتہ  ممالک میں بوڑھوں کی ایک فوج ظفر موج ہے بلکہ  اکثر ممالک میں  جوانوں کی  نسبت بوڑھوں کی أبادی  زیادہ ہے۔۔ انمیں جو بوڑھےفعال   اور  قدرے صحت مندہیں وہ تو ابھی تک کار أمد  ہیں ۔  ورنہ اکثر نہ ہی زندوں میں ہیں  نہ مردوں میں ہیں ۔ 
زندگی کی سب سے بڑی اور اٹل حقیقت موت ہےکہتے ہیں زندگی موت کی امانت ہے ۔۔ ایک مومن کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے کہ ہر انسان دنیا میں آتے ہوئے اپنا نوشتہ اجل حق تعالی کے پاس سے لکھوا کر آتا ہے  اور وقت مقررہ پر اسکا خاتمہ ہو جاتاہے ۔
قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے لا یستاخرون ساعتہ و لا یستقدمون۔ ہم اسمیں ایک گھڑی کی تاخیر و تقدیم نہیں کرتے۔

زندگی اور موت کا یہ کھیل مختلف صورتوں سے  ازل   سے جاری ہے اور ابدتک جاری رہے گا۔ موت کیلئے نہ عمر کی حد ہے  نہ ہی کوئی اور تعین ۔ بچہ ، جوان  بوڑھا جسکی اجل     جب أجائے  اسے رخصت ہونا پڑتا ہے ۔
سب ٹاٹ پڑا رہ جائے گا ، جب لاد چلے گا بنجارا
سامان سو برس کا ، پل کی خبر نہیں ۔
ہر ذی روح جسکا جو بھی  مذہب ، مسلک اور عقیدہ ہے اسے موت سے فرار نہیں ہے ۔ دنیا میں روزانہ  ہی کہیں پر فساد  برپا ہے ، جنگ ہے حادثات ہیں  جنمیں  مجموعی  طور پر بےشمار  انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔  دنیا کی تاریخ میں بے شمار شقی ،ظالم ،جابر ،قاہرحکمران اور  لوگ  آئے جنکی وحشت ،  دہشت  اورجبروت سے ایک عالم کانپتا تھا ۔۔کسی نے کھوپڑیوں کے مینار بنائے کسی نے اتنا قتل عام کیا کہ گلیوں میں خون کی نہریں بہتی رہیں  انکے نام سے ایک عالم دہشت زدہ ہوتا  تھا   لوگ انکا نام سنکر تھر تھر کانپتے تھے ۔لیکن  جب اجل أئی تو  ہر ایک نے موت کے سامنے ہتھیار ڈال دئے ۔ انکی اکثریت  انتہائی عبرت ناک حالات میں دنیا سے ر خصت  ہوئی۔۔
 انبیاء، صدیقین، شہداء   اور  صالحین جو اس دنیا سے رخصت ہوئے انکے لئے اللہ تبارک و تعالی نے بلند درجات اور اعلے مقام رکھے ہیں ۔۔  ہم بحیثیت مسلمان  حیات بعد الموت میں سرخروئی  اور کامیابی کے طلبگار ہیں  ۔ پوری زندگی اسکے لئے جدوجہد کرتے   ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں وہ فوز عظیم بلند کامیابی عطا فرمائے ۔  انبیاء ، صدیقین ، شہدا اور صالحین کی صحبت عطا فرمائے  اور اپنی جنتوں کاحق دار  بنائے۔۔
اللہ تعالی سے  انتہائی گڑ گڑا کر دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا و أخرت کی رسوائی سے اور ہر طرح کی جسمانی وذہنی معذوری سےأ ّخری وقت تک  بچائے اپنی رضا ،ایمان کی سلامتی اورأسانی کے  ساتھ خاتمہ بالخیر کرے  اور أخرت میں سرخروئی عطا فرمائے۔۔ أمین ثم أمین 
کون کہتا ہے کہ موت ائی تو مر جاؤںگا 
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤ نگا 
Sincerely,

Friday, November 4, 2016

رشتوں میں محبت کیسے پیدا کریں ۔۔



رشتوں میں محبت کیسے پیدا کریں؟


1. ایک دوسرے کو سلام کریں - (مسلم: 54)

2. ان سے ملاقات کرنے جائیں - (مسلم: 2567)

3. ان کے پاس بیٹھنے اٹھنے کا معمول بنائیں۔ - (لقمان: 15)

4. ان سے بات چیت کریں - (مسلم: 2560)

5. ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آئیں - (سنن ترمذی: 1924، صحیح)

6. ایک دوسرے کو ہدیہ و تحفہ دیا کریں - (صحیح الجامع: 3004)

7. اگر وہ دعوت دیں تو قبول کریں - (مسلم: 2162)

8. اگر وہ مہمان بن کر آئیں تو ان کی ضیافت کریں - (ترمذی: 2485، صحیح)

9. انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں - (مسلم: 2733)

10. بڑے ہوں تو ان کی عزت کریں - (سنن ابو داؤد: 4943، سنن ترمذی: 1920، صحیح)

11. چھوٹے ہوں تو ان پر شفقت کریں - (سنن ابو داؤد: 4943، سنن ترمذی: 1920، صحیح)

12. ان کی خوشی و غم میں شریک ہوں - (صحیح بخاری: 6951)

13. اگر ان کو کسی بات میں اعانت درکار ہو تو اس کا م میں ان کی مدد کریں - (صحیح بخاری: 6951)

14. ایک دوسرے کے خیر خواہ بنیں - (صحیح مسلم: 55)

15. اگر وہ نصیحت طلب کریں تو انہیں نصیحت کریں - (صحیح مسلم: 2162)

16. ایک دوسرے سے مشورہ کریں - (آل عمران: 159)

17. ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں - (الحجرات: 12)

18. ایک دوسرے پر طعن نہ کریں - (الھمزہ: 1)

19. پیٹھ پیچھے برائیاں نہ کریں - (الھمزہ: 1)

20. چغلی نہ کریں - (صحیح مسلم: 105)

21. آڑے نام نہ رکھیں - (الحجرات: 11)

22. عیب نہ نکالیں - (سنن ابو داؤد: 4875، صحیح)

23. ایک دوسرے کی تکلیفوں کو دور کریں - (سنن ابو داؤد: 4946، صحیح)

24. ایک دوسرے پر رحم کھائیں - (سنن ترمذی: 1924، صحیح)

25. دوسروں کو تکلیف دے کر مزے نہ اٹھائیں - (سورہ مطففین سے سبق)

26. ناجائز مسابقت نہ کریں۔ مسابقت کرکے کسی کو گرانا بری عادت ہے۔ اس سے ناشکری یا تحقیر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں - (صحیح مسلم: 2963)

27. نیکیوں میں سبقت اور تنافس جائز ہےجبکہ اس کی آڑ میں تکبر، ریاکاری اور تحقیر کارفرما نہ ہو - (المطففین : 26)

28. طمع ، لالچ اور حرص سے بچیں - (التکاثر: 1)

29. ایثار و قربانی کا جذبہ رکھیں - (الحشر: 9)

30. اپنے سے زیادہ آگے والے کا خیال رکھیں - (الحشر: 9)

31. مذاق میں بھی کسی کو تکلیف نہ دیں - (الحجرات: 11)

32. نفع بخش بننے کی کوشش کریں - (صحیح الجامع: 3289، حسن)

33. احترام سے بات کریں۔بات کرتے وقت سخت لہجے سے بچیں - (آل عمران: 159)

34. غائبانہ اچھا ذکر کریں - (ترمذی: 2737، صحیح)

35. غصہ کو کنٹرول میں رکھیں - (صحیح بخاری: 6116)

36. انتقام لینے کی عادت سے بچیں - (صحیح بخاری: 6853)

37. کسی کو حقیر نہ سمجھیں - (صحیح مسلم: 91)

38. اللہ کے بعد ایک دوسرے کا بھی شکر ادا کریں - (سنن ابو داؤد: 4811، صحیح)

39. اگر بیمار ہوں تو عیادت کو جائیں - (ترمذی: 969، صحیح)

40. اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو جنازے میں شرکت کریں - (مسلم: 2162)

Tuesday, November 1, 2016

ہیلری ڈونلڈ ٹرمپ اور برنجلینا


ہیلری ڈونلڈ ٹرمپ اور برنجلینا 

ہیلری ، ڈونلڈ ٹرمپ اور برنجلینا

از
عابدہ رحمانی
امریکی انتخابات میں بمشکل 10 ,11روز باقی ہیں اتنے مرحلے سر ہونیکے بعد اب اونٹ کا سوئے کے ناکے نکلنا باقی ہے ۔ شواہد بتا رہے ہیں کہ ہیلری کی جیت ہی جیت ہے۔ ہیلری کی جیت سے امریکی تاریخ کا ایک انوکھا نیا باب رقم ہو نے جا رہا ہے۔ امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کو صدارتی نامزدگی حاصل ہوئی جو عہدہ صدارت تک پہنچنا ہی چاہتی ہے ۔ 
ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اسکی کردار کشی یا بد کر داری کا ٹرمپ کارڈ سامنے لے آئی یہ سب عین موقع پر ہیلری کے حواریوں اسکے ابلاغ عامہ کے حامیوں کے باعث ہی ممکن ہوا ہوگا اس ویڈیو میں ڈونلڈ کی اخلاق باختہ ،بیہودہ شیخی خوریوں نے اسکی صدارتی امیدواری کا بٹّہ بٹھا دیا ۔۔ اسکے متنازغہ بیانات میکسیکن اور مسلمانوں کے خلاف اور اسکے روئے سے پہلے ہی کافی ووٹر اور امریکی عوام نالاں تھے ۔خود ریپلکن میں صدر جارج بش نے کہا کہ وہ اس مرتبہ ڈیمو کریٹک  امیدوار یعنی ہیلری کو ووٹ دینگے۔۔اریزونا کے مشہور اخبار اریزونا ریپبلک نے پہلی مرتبہ ڈیمو کریٹک امیدوار کی حمایت کی ہے ۔یوٹاہ کی ریپبلکن ریاست بھی پیچھے ہٹ رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بل کلنٹن کے مونیکا اور دوسرے سکینڈل کو اچھالنے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا اسے محض ہیلری کے ای میلز ہیک ہونے اور بن غازی میں امریکی سفیر کے ہیلری کے وزارت خارجہ کے دور  میں مارے جانے کے علاوہ کوئی نئی بات نہیں مل سکی ۔ اس موضوع پر کانگریس اور سینیٹ کمیٹی ہیلری کا کڑا احتساب کر چکی ہے ۔
بس اب تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو
صدارتی انتخابات میں کامیابی کسکا مقدر ہے۔یہ آٹھ نومبر کو امریکی عوام فیصلہ کرینگے۔ 
 
أنجلينا جولي اور بریڈپٹ جب ایک جان دو قالب ہوئے تو بر نجیلینا کہلائے ۔سالہا سال بغیر شادی کے  جوڑا بنے رہے ،چند اپنے بچے پیدا کئے اور چند بچے گود لئے جنمیں مختلف رنگ و نسل کے بچے ہیں ۔۔بڑی مشکلوں سے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے کہ انکی شادی ہوئی اور انا فانا طلاق کی نوید آگئی اب اسکی نوبت کیسے اور کیوں آئی اسکی تفصیل میں کون جائے ۔۔
مجھے فلموں اور فلمی اداکاروں کی انتہائی معمولی شد بد ہے ۔انجلینا جولی کو اسکے فلموں سے زیادہ اسکے رضاکارانہ اور مخیرانہ کام سے جانا جب وہ دنیا بھر کے آفت زدہ علاقوں میں جاتی اور متاثرین کے دکھ درد کا مداوا بنتی ۔پاکستان کے زلزلہ زدگان اور سیلاب زدگان کے امداد کے لئے وہ پاکستان میں پاکستانی سادہ سے لباس میں سر پر دوپٹہ اوڑھے موجود تھی۔ یونیسکو نے اسے اپنا خیر سگالی سفیر بنایا ہوا ہے ۔۔
بریڈپٹ ،جینیفر انیسٹون کا شوہر نامدار تھا جب مسٹر اور مسز سمتھ کے ٹی وی ڈرامے میں انجلینا کے ساتھ آیا اور یوں جینیفر کو روتا دھوتا چھوڑ کر وہ برنجلینا بنتے گئے۔
ہالی ووڈ کی اپنی ہی دنیا ہے ،عزت ،دولت ،شہرت ،دغابازیاں ،بے وفائیاں اپنے معراج پر ہیں ۔۔کچھ تھوڑے بہت فلاح و بہبود کے کام کرکے نیک نام بن گئے ورنہ اس معاشرے میں بھی بدنامیوں کی کمی نہیں۔۔ امریکہ میں اس اسطرح کی بیوفائیاں کوئی گردن زدنی جرم نہیں ہےاور  یوں تو کہیں بھی نہیں ابلاغ عامہ اور اب سوشل میڈیا کا پیٹ بھرنے کو بہت کچھ مل جاتا ہے ۔ ہاں عہدہ صدارت پر آنیوالوں کا کڑا احتساب ہوتا ہے اور کوئی بے قاعدگی اور بیہودگی برداشت نہیں ہوتی۔۔



Sent from my iPad

Monday, June 13, 2016

An encounter with child beggars!


An encounter with the child beggars!

Today while walking in a nearby park, came across a bitterly crying small girl of Afghan origin. We went towards her and asked her if some thing went wrong with her. She was barely 6,7 years old a beautiful young lady holding a wiper and duster in her hand. I first talked to her in Pushtu but she told me that she is better in Urdu, therefore we conversed in Urdu. She told that her brother and sister are taken away by police to the police station and that is the reason of her crying . She pointed to a nearby police station across the road and further told us that her father has died and the mother is under debt, therefore they are working or begging to help her out. She told us that the mother is studying Quran at home and they live in Golra.(Golra is a nearby slums)
The girl was wearing nice clothes but quite a bit dusty and dirty. We decided to help her as we approached the road she pointed to the oncoming police truck," this is it, my brother and sister are inside this truck. We signalled the truck to stop. It was full with small kids like them and a whole team of police was sitting with them and on the front seat in plain clothes. One of the gentleman came down and told us that they are from  Police working with Child protection and welfare bureau, CPWB  . These kids run after cars on busy thoroughfares and any of them can come under the wheels and any bad accidents can happen. No one under 14 is  allowed on road to beg or work.( Why the over 14 then?) We take  these kids  into custody and hand them over to Child protection agency , who sends them to schools.The small ones go to Edhi centre from there they are handed over to their parents with an affidavit that they would not beg again.
A boy screamed from the truck , they do not follow it and come again. " What about you I asked?"
We asked the girl if she wishes to join them on truck because the gentleman told us that we are doing this exercises for their protection and to make them better citizens. She insisted that she wants her siblings back . On our assurance three kids came down from the truck , one boy two girls. To my utter amazement  small girl may be 3 and the boy a year older,tiny small lovely kids.The other girl may be 8 years old. The boy told us that he had Rs.500 earnings which he handed over to police . The other girl had Rs100 .They promised us not to beg and went to towards their home.
Such a weired feeling  about their mother , how she left these tiny small  kids on the streets to beg and run after cars and how  are we promoting these beggars by giving our alms, charity  and donations.How could we help these kids to be  useful  and productive citizenz of Pakistan?
Are we the counter parts to help these emotional black mailers? There are so many unanswered questions...

Abida Rahmani
 Islamabad Pakistan
Sent from my iPad

رمضان کا چاند

رمضان کا چاند تو دیکھا نہیں

از

عابدہ رحمانی


مغرب کے وقت بے خبر برآمدے میں بیٹھے رہے پھر مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد واٹس ایپ پر تاکاجا نکی کی تو جابجا چاند دیکھنے کی تصاویر ،مبارکبادیں اور خبریں ۔ وقت گزر چکا تھا پھر بھی باہر دوڑ لگائی ، گویا کہ پہلی کا چاند  اب بھی ہمارا ہی منتظر ہوگا۔۔ اب حبیب جالب تو ہیں نہیں کہ کہیں ،

" اے چاند یہاں نہ نکلا کر ۔بے نام سے سپنے دیکھا کر۔

ہمارے خیال کے مطابق رویت ہلال کمیٹی اپنی دکان سجاتی ، چاند دیکھنے یا نہ دیکھنے کی خبریں موصول ہوتیں  اور پھر فیصلہ ہوتا کہ کل روزہ ہوگا یا نہیں ۔۔

 لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس مرتبہ باآسانی رمضان کا چاند بہتوں کو دکھائی دیا ، مدتوں بعد اہل پاکستان نے ساتھ روزہ رکھا اور اسی طرح دنیا کے دیگر خطوں میں بھی ہوا ۔۔ پاکستان میں مولانا پوپل زئی اور مفتی منیب کا معرکہ اپنی موت آپ مرگیا۔ اب اللہ کرے کہ اسی طرح عید کے چاند کی بھی جلوہ أرائی ہو جائے۔۔ اور یک جہتی کی ایک مثال قایم ہو۔

 ہاں چاند تو دیکھا نہیں پر پہلا روزہ رکھ کر دن میں تارے نظر آرہے تھے۔۔ گرمی کی شدت اور پھر چاہنے والوں کے فون پر فون ، رمضان کی مبارکباد اور طویل گپ شپ ۔۔ واٹس ایپ کی مفت سہولت اگر وائی فائی موجود ہو اور آواز صاف ہو تو کیا کہنے ۔۔اور کال دوسری جانب سے آرہی ہو تو اس شخص کی دل شکنی کرنیکا کیا فائدہ جسنے اتنی چاہت سے رمضان مبارک کا فون کیا ہو۔۔"بس  خدا کیلئے کسی تیسرے شخص کی بات نہ کرو چاہے اسنے آپکو کتنا ہی کیوں نہ ستایا اور دل دکھایا ہو ۔۔میری جان اپنا اور میرا روزہ پرائی غیبت سے آلودہ نہ کرو ساری محنت اکارت جائیگی اور اجر وہ کمبخت مفت میں لے جائے گا" لیکن یہ تاکید  مجھے بات ختم کرنیکے  بعد ہی یاد آئی اور میں مارے مروت کے بے مقصد سب سنتی رہی اور ہاں میں ہاں ملاتی رہی۔ وہ رحمان و رحیم میری مغفرت فرمادے ۔۔ استغفار کرتی رہی ۔۔بندہ بشر ہوں بھول چوک ہوسکتی ہے۔۔ زبان سوکھ کر کانٹا ہوا چاہتی تھی ۔۔ذہن میں آیا جاکر غٹا غٹ تین گلاس ٹھنڈا پانی پی لوں ۔۔ قدم اٹھایا ہی تھا کہ یاد آیا میرا روزہ ہے ۔۔ بھول چوک ہو جاتی تو اللہ کی مہربانی اور رحم ہوتا ۔۔ یہی تو اس عبادت کی خاصیت ہے بندے اور أقا کا ایسا تعلق کہ وہی  اپنے بندےکے ظاہر    و باطن سے  باخبر ہے  اسلئے اسنے  اس عبادت کو اپنے لئے مخصوص ہی کر لیا۔۔

شروع شروع کے روزوں میں اسی طرح اکثر ہوجاتا ہے ،مہینے کے اختتام پر عید کے بعد بھی ایسی عادت ہوگئی ہوتی ہے کہ کچھ کھاتے پیتے ہوئے ایک لمحہ سوچنا پڑتا ہے  کہ کیں روزہ تو نہیں ہے ۔۔ایک مرتبہ تو تقریباً پورا کھانا کھانے بعد یاد آیا کہ روزہ ہے ۔۔یہ مضمون شروع کیا ہی تھا اور آج ساتواں روزہ بھی آن پہنچا اتنی تیزی سے ، میں تو پانچواں سمجھ رہی تھی۔۔اللہ کی شان کہ ادھر گرمی بڑھی اور ادھر دھؤواں دھار بارش ہوگئی جس سے موسم خوشگوار ہوگیا ۔۔

سوچا تھا اس مرتبہ رمضان میں تلی ہوئی چیزیں نہیں کھائینگے ۔کھجور ، پھل اور شربت لیکن بھلا کیسے صبر ہو ۔۔پکوڑے ، سموسے تو جیسے لوازم ہو گئے۔۔وہ بھی وقت تھا جب بچے کہتے تھے "کھانا تو سال بھر کھاتے ہی ہیں ۔۔یہی ایک مہینہ ان چٹخاروں کا ہے ۔ اور وہ اسی کو روزے کا نام دیتے تھے اور شاید اسی بہانے روزہ بھی رکھ لیتے تھے ۔۔

پاکستان میں ابھی رمضان أیا ہی چاہتا ہے  کہ گرانی ساتھ أجاتی ہے ۔ اشیا ئے خورد و نوش کی قیمتیں أسمان پر أ جاتی ہیں۔۔ یہ أج کی بات نہیں ہے بلکہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے ہر رمضان یہی رونا ہوتا ہے ۔۔لیکن ہر ایک اپنی بساط بھرخوراک  پر خرچ کرتا ہے ۔  دن کے وقت بازاروں میں عید کی خریداری کا ہجوم اور شام کو افطار سے ایک دو گھنٹے پہلے مشہور  مٹھائی اور پکوان والے اپنے تلنے کے سٹال سجا لیتے ہیں جہاں اسقدر ہجوم ہوتا ہے  ۔لمبی لمبی قطاریں ، جیسے کہ سب کچھ مفت بٹ رہاہے ۔۔ قسما قسم کے پکوڑے ، سموسے ، جلیبیاں ، چاٹ ، دہی بڑے اور نہ جانے کیا کیا  اشیاء لذت کام و دہن کیلئے ۔ ہر شخص کے ہاتھ میں اشیائےخورد  و  نوش کا ایک تھیلا  اسکی بساط کے مطابق ضرور ہوگا ۔ یہ وہ مہینہ ہے جب ہر ایک  اپنی خواہش  کے مطابق اچھا کھانا چاہتا ہے ایسا دنیا کے تمام مذاہب میں ہے کہ وہ اپنے خصوصی دنوں میں اہتمام کرتے ہیں اور مسلمانوں کا رمضان تو رمضان ہی ہے ۔۔پاکستان میں خربوزے اور تر بوز کے ماشاء اللہ ڈھیر لگے ہوئے ہیں اب تو أموں کی بہار بھی شروع ہوگئی ہے مہنگا کرنیکے  باوجود خوب بک رہے ہیں رمضان کے اختتام تک قیمتیں خود بخود گر جائینگی ۔ ایک مرتبہ کراچی میں ایسے ہی موسم کے رمضان میں تربوز کی قیمت دگنی تگنی ہوگئی اور أخر میں خوب بارشیں ہوئیں ۔ٹرکوں نے جو ڈھیر لگایا تو سڑے ہوئے تربوز کے تعفن میں سانس لینا مشکل ہو گیا۔

سخی اور صاحب دل  خواتین و حضرات اور اداریں رمضان راشن  اور افطاریاں دل کھول کر تقسیم کر رہے ہیں۔۔رمضان جو کہ نیکیوں کا موسم بہار کہلاتا ہے ۔جب فرض کا اجر ستر گنا  اور نفل کا فرض کے برابر ہو جاتا ہے  اسی عالم ا لغیب  پر ہمارا ایمان ہے  اور ہماری تمام تگ و دو اسی عالم الأخرت کی کامیابی کے  لئے ہے ۔۔ جسکے لئے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے کہ وہ سب سے بڑی کامیابی ہے  جسکی تمنا کی جاسکتی ہے ۔۔


أپ سبھوں کو جاتے ہوئے رمضان کی دلی مبارکباد ۔۔ اپنی دعاؤں میں مجھ عاجز  اور بالخصوص  متفرق و منتشر ، لہو لہو امت مسلمہ  کو ضرور یاد رکھیں۔۔