رشتوں میں محبت کیسے پیدا کریں؟1. ایک دوسرے کو سلام کریں - (مسلم: 54)2. ان سے ملاقات کرنے جائیں - (مسلم: 2567)3. ان کے پاس بیٹھنے اٹھنے کا معمول بنائیں۔ - (لقمان: 15)4. ان سے بات چیت کریں - (مسلم: 2560)5. ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آئیں - (سنن ترمذی: 1924، صحیح)6. ایک دوسرے کو ہدیہ و تحفہ دیا کریں - (صحیح الجامع: 3004)7. اگر وہ دعوت دیں تو قبول کریں - (مسلم: 2162)8. اگر وہ مہمان بن کر آئیں تو ان کی ضیافت کریں - (ترمذی: 2485، صحیح)9. انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں - (مسلم: 2733)10. بڑے ہوں تو ان کی عزت کریں - (سنن ابو داؤد: 4943، سنن ترمذی: 1920، صحیح)11. چھوٹے ہوں تو ان پر شفقت کریں - (سنن ابو داؤد: 4943، سنن ترمذی: 1920، صحیح)12. ان کی خوشی و غم میں شریک ہوں - (صحیح بخاری: 6951)13. اگر ان کو کسی بات میں اعانت درکار ہو تو اس کا م میں ان کی مدد کریں - (صحیح بخاری: 6951)14. ایک دوسرے کے خیر خواہ بنیں - (صحیح مسلم: 55)15. اگر وہ نصیحت طلب کریں تو انہیں نصیحت کریں - (صحیح مسلم: 2162)16. ایک دوسرے سے مشورہ کریں - (آل عمران: 159)17. ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں - (الحجرات: 12)18. ایک دوسرے پر طعن نہ کریں - (الھمزہ: 1)19. پیٹھ پیچھے برائیاں نہ کریں - (الھمزہ: 1)20. چغلی نہ کریں - (صحیح مسلم: 105)21. آڑے نام نہ رکھیں - (الحجرات: 11)22. عیب نہ نکالیں - (سنن ابو داؤد: 4875، صحیح)23. ایک دوسرے کی تکلیفوں کو دور کریں - (سنن ابو داؤد: 4946، صحیح)24. ایک دوسرے پر رحم کھائیں - (سنن ترمذی: 1924، صحیح)25. دوسروں کو تکلیف دے کر مزے نہ اٹھائیں - (سورہ مطففین سے سبق)26. ناجائز مسابقت نہ کریں۔ مسابقت کرکے کسی کو گرانا بری عادت ہے۔ اس سے ناشکری یا تحقیر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں - (صحیح مسلم: 2963)27. نیکیوں میں سبقت اور تنافس جائز ہےجبکہ اس کی آڑ میں تکبر، ریاکاری اور تحقیر کارفرما نہ ہو - (المطففین : 26)28. طمع ، لالچ اور حرص سے بچیں - (التکاثر: 1)29. ایثار و قربانی کا جذبہ رکھیں - (الحشر: 9)30. اپنے سے زیادہ آگے والے کا خیال رکھیں - (الحشر: 9)31. مذاق میں بھی کسی کو تکلیف نہ دیں - (الحجرات: 11)32. نفع بخش بننے کی کوشش کریں - (صحیح الجامع: 3289، حسن)33. احترام سے بات کریں۔بات کرتے وقت سخت لہجے سے بچیں - (آل عمران: 159)34. غائبانہ اچھا ذکر کریں - (ترمذی: 2737، صحیح)35. غصہ کو کنٹرول میں رکھیں - (صحیح بخاری: 6116)36. انتقام لینے کی عادت سے بچیں - (صحیح بخاری: 6853)37. کسی کو حقیر نہ سمجھیں - (صحیح مسلم: 91)38. اللہ کے بعد ایک دوسرے کا بھی شکر ادا کریں - (سنن ابو داؤد: 4811، صحیح)39. اگر بیمار ہوں تو عیادت کو جائیں - (ترمذی: 969، صحیح)40. اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو جنازے میں شرکت کریں - (مسلم: 2162)
Friday, November 4, 2016
رشتوں میں محبت کیسے پیدا کریں ۔۔
Tuesday, November 1, 2016
ہیلری ڈونلڈ ٹرمپ اور برنجلینا
ہیلری ڈونلڈ ٹرمپ اور برنجلینا
ہیلری ، ڈونلڈ ٹرمپ اور برنجلیناازعابدہ رحمانیامریکی انتخابات میں بمشکل 10 ,11روز باقی ہیں اتنے مرحلے سر ہونیکے بعد اب اونٹ کا سوئے کے ناکے نکلنا باقی ہے ۔ شواہد بتا رہے ہیں کہ ہیلری کی جیت ہی جیت ہے۔ ہیلری کی جیت سے امریکی تاریخ کا ایک انوکھا نیا باب رقم ہو نے جا رہا ہے۔ امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کو صدارتی نامزدگی حاصل ہوئی جو عہدہ صدارت تک پہنچنا ہی چاہتی ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اسکی کردار کشی یا بد کر داری کا ٹرمپ کارڈ سامنے لے آئی یہ سب عین موقع پر ہیلری کے حواریوں اسکے ابلاغ عامہ کے حامیوں کے باعث ہی ممکن ہوا ہوگا اس ویڈیو میں ڈونلڈ کی اخلاق باختہ ،بیہودہ شیخی خوریوں نے اسکی صدارتی امیدواری کا بٹّہ بٹھا دیا ۔۔ اسکے متنازغہ بیانات میکسیکن اور مسلمانوں کے خلاف اور اسکے روئے سے پہلے ہی کافی ووٹر اور امریکی عوام نالاں تھے ۔خود ریپلکن میں صدر جارج بش نے کہا کہ وہ اس مرتبہ ڈیمو کریٹک امیدوار یعنی ہیلری کو ووٹ دینگے۔۔اریزونا کے مشہور اخبار اریزونا ریپبلک نے پہلی مرتبہ ڈیمو کریٹک امیدوار کی حمایت کی ہے ۔یوٹاہ کی ریپبلکن ریاست بھی پیچھے ہٹ رہی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بل کلنٹن کے مونیکا اور دوسرے سکینڈل کو اچھالنے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا اسے محض ہیلری کے ای میلز ہیک ہونے اور بن غازی میں امریکی سفیر کے ہیلری کے وزارت خارجہ کے دور میں مارے جانے کے علاوہ کوئی نئی بات نہیں مل سکی ۔ اس موضوع پر کانگریس اور سینیٹ کمیٹی ہیلری کا کڑا احتساب کر چکی ہے ۔بس اب تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھوصدارتی انتخابات میں کامیابی کسکا مقدر ہے۔یہ آٹھ نومبر کو امریکی عوام فیصلہ کرینگے۔أنجلينا جولي اور بریڈپٹ جب ایک جان دو قالب ہوئے تو بر نجیلینا کہلائے ۔سالہا سال بغیر شادی کے جوڑا بنے رہے ،چند اپنے بچے پیدا کئے اور چند بچے گود لئے جنمیں مختلف رنگ و نسل کے بچے ہیں ۔۔بڑی مشکلوں سے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے کہ انکی شادی ہوئی اور انا فانا طلاق کی نوید آگئی اب اسکی نوبت کیسے اور کیوں آئی اسکی تفصیل میں کون جائے ۔۔مجھے فلموں اور فلمی اداکاروں کی انتہائی معمولی شد بد ہے ۔انجلینا جولی کو اسکے فلموں سے زیادہ اسکے رضاکارانہ اور مخیرانہ کام سے جانا جب وہ دنیا بھر کے آفت زدہ علاقوں میں جاتی اور متاثرین کے دکھ درد کا مداوا بنتی ۔پاکستان کے زلزلہ زدگان اور سیلاب زدگان کے امداد کے لئے وہ پاکستان میں پاکستانی سادہ سے لباس میں سر پر دوپٹہ اوڑھے موجود تھی۔ یونیسکو نے اسے اپنا خیر سگالی سفیر بنایا ہوا ہے ۔۔بریڈپٹ ،جینیفر انیسٹون کا شوہر نامدار تھا جب مسٹر اور مسز سمتھ کے ٹی وی ڈرامے میں انجلینا کے ساتھ آیا اور یوں جینیفر کو روتا دھوتا چھوڑ کر وہ برنجلینا بنتے گئے۔ہالی ووڈ کی اپنی ہی دنیا ہے ،عزت ،دولت ،شہرت ،دغابازیاں ،بے وفائیاں اپنے معراج پر ہیں ۔۔کچھ تھوڑے بہت فلاح و بہبود کے کام کرکے نیک نام بن گئے ورنہ اس معاشرے میں بھی بدنامیوں کی کمی نہیں۔۔ امریکہ میں اس اسطرح کی بیوفائیاں کوئی گردن زدنی جرم نہیں ہےاور یوں تو کہیں بھی نہیں ابلاغ عامہ اور اب سوشل میڈیا کا پیٹ بھرنے کو بہت کچھ مل جاتا ہے ۔ ہاں عہدہ صدارت پر آنیوالوں کا کڑا احتساب ہوتا ہے اور کوئی بے قاعدگی اور بیہودگی برداشت نہیں ہوتی۔۔
Sent from my iPad
Monday, June 13, 2016
An encounter with child beggars!
An encounter with the child beggars!
Today while walking in a nearby park, came across a bitterly crying small girl of Afghan origin. We went towards her and asked her if some thing went wrong with her. She was barely 6,7 years old a beautiful young lady holding a wiper and duster in her hand. I first talked to her in Pushtu but she told me that she is better in Urdu, therefore we conversed in Urdu. She told that her brother and sister are taken away by police to the police station and that is the reason of her crying . She pointed to a nearby police station across the road and further told us that her father has died and the mother is under debt, therefore they are working or begging to help her out. She told us that the mother is studying Quran at home and they live in Golra.(Golra is a nearby slums)
The girl was wearing nice clothes but quite a bit dusty and dirty. We decided to help her as we approached the road she pointed to the oncoming police truck," this is it, my brother and sister are inside this truck. We signalled the truck to stop. It was full with small kids like them and a whole team of police was sitting with them and on the front seat in plain clothes. One of the gentleman came down and told us that they are from Police working with Child protection and welfare bureau, CPWB . These kids run after cars on busy thoroughfares and any of them can come under the wheels and any bad accidents can happen. No one under 14 is allowed on road to beg or work.( Why the over 14 then?) We take these kids into custody and hand them over to Child protection agency , who sends them to schools.The small ones go to Edhi centre from there they are handed over to their parents with an affidavit that they would not beg again.
A boy screamed from the truck , they do not follow it and come again. " What about you I asked?"
We asked the girl if she wishes to join them on truck because the gentleman told us that we are doing this exercises for their protection and to make them better citizens. She insisted that she wants her siblings back . On our assurance three kids came down from the truck , one boy two girls. To my utter amazement small girl may be 3 and the boy a year older,tiny small lovely kids.The other girl may be 8 years old. The boy told us that he had Rs.500 earnings which he handed over to police . The other girl had Rs100 .They promised us not to beg and went to towards their home.
Such a weired feeling about their mother , how she left these tiny small kids on the streets to beg and run after cars and how are we promoting these beggars by giving our alms, charity and donations.How could we help these kids to be useful and productive citizenz of Pakistan?
Are we the counter parts to help these emotional black mailers? There are so many unanswered questions...
Abida Rahmani
Islamabad Pakistan
Sent from my iPad
رمضان کا چاند
رمضان کا چاند تو دیکھا نہیں
از
عابدہ رحمانی
مغرب کے وقت بے خبر برآمدے میں بیٹھے رہے پھر مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد واٹس ایپ پر تاکاجا نکی کی تو جابجا چاند دیکھنے کی تصاویر ،مبارکبادیں اور خبریں ۔ وقت گزر چکا تھا پھر بھی باہر دوڑ لگائی ، گویا کہ پہلی کا چاند اب بھی ہمارا ہی منتظر ہوگا۔۔ اب حبیب جالب تو ہیں نہیں کہ کہیں ،
" اے چاند یہاں نہ نکلا کر ۔بے نام سے سپنے دیکھا کر۔
ہمارے خیال کے مطابق رویت ہلال کمیٹی اپنی دکان سجاتی ، چاند دیکھنے یا نہ دیکھنے کی خبریں موصول ہوتیں اور پھر فیصلہ ہوتا کہ کل روزہ ہوگا یا نہیں ۔۔لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس مرتبہ باآسانی رمضان کا چاند بہتوں کو دکھائی دیا ، مدتوں بعد اہل پاکستان نے ساتھ روزہ رکھا اور اسی طرح دنیا کے دیگر خطوں میں بھی ہوا ۔۔ پاکستان میں مولانا پوپل زئی اور مفتی منیب کا معرکہ اپنی موت آپ مرگیا۔ اب اللہ کرے کہ اسی طرح عید کے چاند کی بھی جلوہ أرائی ہو جائے۔۔ اور یک جہتی کی ایک مثال قایم ہو۔
ہاں چاند تو دیکھا نہیں پر پہلا روزہ رکھ کر دن میں تارے نظر آرہے تھے۔۔ گرمی کی شدت اور پھر چاہنے والوں کے فون پر فون ، رمضان کی مبارکباد اور طویل گپ شپ ۔۔ واٹس ایپ کی مفت سہولت اگر وائی فائی موجود ہو اور آواز صاف ہو تو کیا کہنے ۔۔اور کال دوسری جانب سے آرہی ہو تو اس شخص کی دل شکنی کرنیکا کیا فائدہ جسنے اتنی چاہت سے رمضان مبارک کا فون کیا ہو۔۔"بس خدا کیلئے کسی تیسرے شخص کی بات نہ کرو چاہے اسنے آپکو کتنا ہی کیوں نہ ستایا اور دل دکھایا ہو ۔۔میری جان اپنا اور میرا روزہ پرائی غیبت سے آلودہ نہ کرو ساری محنت اکارت جائیگی اور اجر وہ کمبخت مفت میں لے جائے گا" لیکن یہ تاکید مجھے بات ختم کرنیکے بعد ہی یاد آئی اور میں مارے مروت کے بے مقصد سب سنتی رہی اور ہاں میں ہاں ملاتی رہی۔ وہ رحمان و رحیم میری مغفرت فرمادے ۔۔ استغفار کرتی رہی ۔۔بندہ بشر ہوں بھول چوک ہوسکتی ہے۔۔ زبان سوکھ کر کانٹا ہوا چاہتی تھی ۔۔ذہن میں آیا جاکر غٹا غٹ تین گلاس ٹھنڈا پانی پی لوں ۔۔ قدم اٹھایا ہی تھا کہ یاد آیا میرا روزہ ہے ۔۔ بھول چوک ہو جاتی تو اللہ کی مہربانی اور رحم ہوتا ۔۔ یہی تو اس عبادت کی خاصیت ہے بندے اور أقا کا ایسا تعلق کہ وہی اپنے بندےکے ظاہر و باطن سے باخبر ہے اسلئے اسنے اس عبادت کو اپنے لئے مخصوص ہی کر لیا۔۔
شروع شروع کے روزوں میں اسی طرح اکثر ہوجاتا ہے ،مہینے کے اختتام پر عید کے بعد بھی ایسی عادت ہوگئی ہوتی ہے کہ کچھ کھاتے پیتے ہوئے ایک لمحہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیں روزہ تو نہیں ہے ۔۔ایک مرتبہ تو تقریباً پورا کھانا کھانے بعد یاد آیا کہ روزہ ہے ۔۔یہ مضمون شروع کیا ہی تھا اور آج ساتواں روزہ بھی آن پہنچا اتنی تیزی سے ، میں تو پانچواں سمجھ رہی تھی۔۔اللہ کی شان کہ ادھر گرمی بڑھی اور ادھر دھؤواں دھار بارش ہوگئی جس سے موسم خوشگوار ہوگیا ۔۔
سوچا تھا اس مرتبہ رمضان میں تلی ہوئی چیزیں نہیں کھائینگے ۔کھجور ، پھل اور شربت لیکن بھلا کیسے صبر ہو ۔۔پکوڑے ، سموسے تو جیسے لوازم ہو گئے۔۔وہ بھی وقت تھا جب بچے کہتے تھے "کھانا تو سال بھر کھاتے ہی ہیں ۔۔یہی ایک مہینہ ان چٹخاروں کا ہے ۔ اور وہ اسی کو روزے کا نام دیتے تھے اور شاید اسی بہانے روزہ بھی رکھ لیتے تھے ۔۔
پاکستان میں ابھی رمضان أیا ہی چاہتا ہے کہ گرانی ساتھ أجاتی ہے ۔ اشیا ئے خورد و نوش کی قیمتیں أسمان پر أ جاتی ہیں۔۔ یہ أج کی بات نہیں ہے بلکہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے ہر رمضان یہی رونا ہوتا ہے ۔۔لیکن ہر ایک اپنی بساط بھرخوراک پر خرچ کرتا ہے ۔ دن کے وقت بازاروں میں عید کی خریداری کا ہجوم اور شام کو افطار سے ایک دو گھنٹے پہلے مشہور مٹھائی اور پکوان والے اپنے تلنے کے سٹال سجا لیتے ہیں جہاں اسقدر ہجوم ہوتا ہے ۔لمبی لمبی قطاریں ، جیسے کہ سب کچھ مفت بٹ رہاہے ۔۔ قسما قسم کے پکوڑے ، سموسے ، جلیبیاں ، چاٹ ، دہی بڑے اور نہ جانے کیا کیا اشیاء لذت کام و دہن کیلئے ۔ ہر شخص کے ہاتھ میں اشیائےخورد و نوش کا ایک تھیلا اسکی بساط کے مطابق ضرور ہوگا ۔ یہ وہ مہینہ ہے جب ہر ایک اپنی خواہش کے مطابق اچھا کھانا چاہتا ہے ایسا دنیا کے تمام مذاہب میں ہے کہ وہ اپنے خصوصی دنوں میں اہتمام کرتے ہیں اور مسلمانوں کا رمضان تو رمضان ہی ہے ۔۔پاکستان میں خربوزے اور تر بوز کے ماشاء اللہ ڈھیر لگے ہوئے ہیں اب تو أموں کی بہار بھی شروع ہوگئی ہے مہنگا کرنیکے باوجود خوب بک رہے ہیں رمضان کے اختتام تک قیمتیں خود بخود گر جائینگی ۔ ایک مرتبہ کراچی میں ایسے ہی موسم کے رمضان میں تربوز کی قیمت دگنی تگنی ہوگئی اور أخر میں خوب بارشیں ہوئیں ۔ٹرکوں نے جو ڈھیر لگایا تو سڑے ہوئے تربوز کے تعفن میں سانس لینا مشکل ہو گیا۔
سخی اور صاحب دل خواتین و حضرات اور اداریں رمضان راشن اور افطاریاں دل کھول کر تقسیم کر رہے ہیں۔۔رمضان جو کہ نیکیوں کا موسم بہار کہلاتا ہے ۔جب فرض کا اجر ستر گنا اور نفل کا فرض کے برابر ہو جاتا ہے اسی عالم ا لغیب پر ہمارا ایمان ہے اور ہماری تمام تگ و دو اسی عالم الأخرت کی کامیابی کے لئے ہے ۔۔ جسکے لئے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے کہ وہ سب سے بڑی کامیابی ہے جسکی تمنا کی جاسکتی ہے ۔۔
أپ سبھوں کو جاتے ہوئے رمضان کی دلی مبارکباد ۔۔ اپنی دعاؤں میں مجھ عاجز اور بالخصوص متفرق و منتشر ، لہو لہو امت مسلمہ کو ضرور یاد رکھیں۔۔
Wednesday, June 8, 2016
Ramzan ration distribution?
Thursday, June 2, 2016
امریکی سیاسی دنگل
Subject: امریکی سیاسی دنگل
امریکی سیاسی دنگل
از
عابدہ رحمانی
میرے شہر میں بہار کا موسم ہے باہر نکلو تو فضا میں ایک بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی ہے ہر طرف پرندوں کی چہچہا ہٹ ہے کچھ اپنے گھونسلوں کے لئے ٹھکا نے ڈھونڈھ رہے ہیں ۔ہمنگ برڈ۔ بالکل منا سا پرندہ جو اردو میں پدی کہلاتا ہے جا بجا درختوں اور پھولوں سے جھول رہا
ہے اسکا منا سا گھونسلا بھی ایک شاہکار ہوتا ہے ۔
۔ جو شاخ نازک پہ آشیانہ ..بنے گا نا پائدارہوگا ۔
اس مختصر سے پرندے کے لئے اردو میں یہ محاورہ بھی مشہور ہے "کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ "۔ لیکن یہ اس حقیقت سے بے خبر اسی چھوٹے سے أشیانے میں خوش و خرم ہے ۔ یہ امریکہ کا وہ خطہ ہے جہاں کی سردیاں مختصر اور گرمیاں ہولنا ک ہوتی ہیں ۔۔
لیکن امریکہ میں اسوقت صدارتی امیدواروں کو چننے کا موسم ہے اور اس موسم نے پورے ملک ، ٹھنڈے ، گرم سب شہروں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے پورے ملک میں بوڑھا، جوان ، بچہ سب ہی اس انتخابی مہم میں غلطاں و پیچاں ہے ۔وہ بھی جو ابھی قانوناووٹ دینے کے حقدار نہیں ہیں ۔ میڈیا کے ہر چینل سے امیدواروں کے بحث مبا حثے کا انتظام ہے ۔۔ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے تو امیداروں کی پوری ایک برات تھی جو اب چھٹتے چھٹتے ایک رہ گئی ہے
۔۔ مشہورارب پتی تاجر اور ساہوکار ڈونلڈ ٹرمپ اپنے تمام تر متعصب بیانات کے ساتھ سرفہرست ہے ۔۔۔
امریکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے اور حقیقتا ہے بھی- ہر چار سال کے بعد یہاں کے صدارتی انتخابات ہوتے ہیں ایک صدرچاہے کتنا ہی مقبول اور قابل کیوں نہ ہو ،دو مرتبہ سے زائد اقتدار پر قابض نہیں ہوسکتا- سوائے فرینکلن ڈی روزویلٹ کے جو چار مرتبہ صدارت کے عہدےپر فائز رہے اور انکا انتقال چوتھی مرتبہ کے انتخابات کے چند مہینے کے بعد ہوا۔ ۱۹۵۱ کے دوران امریکی أئین کی ۲۱ ویں ترمیم میں امریکی کانگریس نے یہ قانون منظور کر لیا کہ اب صدارتی میعاد کا دورانیہ لگاتار دو مرتبہ جیتنے تک محدود ہوگا۔
مخالف پارٹیاں عموما دو بڑی پارٹیاں ہیں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ - ریپبلکن جو عام طور پر جی او پی کہلاتی ہے اسکا کا انتخابی نشان ہاتھی ہے جبکہ ڈیموکریٹ کا گدھا ہے -ہاتھی کے مقابلے میں گدھا ایک کمزورسا جانور ہے لیکن باربرداری اور بوجھ ڈھونے کے لئے ہاتھی سے زیادہ مفید اور ہلکا پھلکا ، سیدھا سادا سا جانور ہے۔ ہاتھی کی نسبت اسکی ضروریات کافی قلیل ہیں-ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور --بہر حال یہ سب ہمارے دیسی محاورے اور استعارے ہیں جن سے امریکی قطعی نابلد ہیں نہ معلوم امریکیوں کو اپنے انتخابی نشان کے لئے ان ایشیائی، افریقی یا بر صغیری جانوروں کا خیال کیوں آیا؟ کیا امریکی جانوراس قابل نہیں تھے ؟--- اسپر غور کرنا پڑے گا
علاوہ ازیں ریپبلکن کا رنگ سرخ اور ڈیمو کریٹ کا نیلا ہے اسلئے جن ریاستوں میں ڈیموکریٹ اکثریت ہے انکو نیلی اور ریپبلکن اکثریت والی سرخ کہلاتی ہیں۔ووٹر (رائے دہندگان )بھی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کے لئے پہلے سے رجسٹر شدہ ہوتے ہیں ۔
۔۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کی نمائندگی حاصل کرنے ہیلری کلنٹن میدان میں ہیں برنی سینڈرز ابھی بھی ڈٹے ہوئے ہیں لیکن نامزدگی کی امیدیں دن بدن معدوم ہوتی جا رہی ہیں ۔۔۔۔ کھود کھود کر الزامات لگائے جارہے ہیں ۔۔ ریپبلکن کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ ہر ایک کی ایسی کی تیسی کر تے ہوئے نامزدگی کے دروازے پر کر و فر سے کھڑا ہے۔۔ اسی طرح ہیلری کلنٹن امریکہ میں پہلی خاتون صدارتی امیدوار کا اعزاز حاصل کرکے تاریخ رقم کر رہی ہیں ۔اب وہ اس تگ و دو میں ہے کہ کسی طرح برنی کو مفاہمت پر أمادہ کردے ۔ برنی ایک یہودی نژاد أزاد خیال سینیٹر ہے اگر وہ منتخب ہوتا تو امریکی تاریخ میں اولیں یہودی نامزد امیدوار ہوتا۔
اوباما اپنا ّأخری برس خیر و خوبی سے گزارنے کی کوشش میں ہیں اسلئے یہ الزامات کہ وہ مسلمان ہے، امریکہ میں پیدا ہی نہیں ہوا یا اسکا اوبامہ کیئر ایک ناکام پروگرام تھا ،اسکا بال بیکا نہیں کرسکتے وہائٹ ہاؤس میں اسکے ساڑھے سات برس پورے ہوا چاہتے ہیں ۔۔اور یہ کہ اب کب اور کیسے کوئی سیاہ فام قصر ابیض میں داخل ہوگا ،یہ تو وقت ہی بتائے گا اور یہ بھی کہ ہاتھی اور گدھا کس کروٹ بیٹھتے ہیں۔۔
پچھلی مرتبہ ۲۰۰۸ میں جب ڈیموکریٹک پارٹی اپنے امیدوار کو منتخب کر رہی تھی اور اس کیلئے باقاعدہ الیکشن کے طرز پر انتخاب ہو رہاتھا- اسوقت ہیلری کلنٹن کے متعلق سبکو یقین تھا کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہوںگی اور امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہونگی -امریکہ جو روشن خیالی اور آزادئی را ئے کا اتنا بڑا علمبردار ہے یہاں ابھی تک کوئی خاتون صدارتی نامزدگی تک حاصل نہیں کر سکی ۔سربراہ مملکت بننا تو بہت دور کی بات ہے ۔ نہ ہی صدر اور نہ ہی نائب صدر-اس معاملے میں تو ہمارے پسماندہ تیسری دنیا کے ممالک ان سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں -پاکستان ، بھارت ، سری لنکا ، بنگلہ دیش جہاں آئے دن خواتین حکمران ہوتی ہیں اب بھی آصف علی زرداری بی بی کے بل بوتے پرہی سیاست کر رہے ہیں-اور نواز شریف مریم کو جانشین بنانے کے لئے تیار کر رہے ہیں۔۔ بنگلہ دیشی حسینہ واجد ۴۵ برس کے بعد جماعت اسلامی کے معمر رہنماؤں کو پے درپے پھانسی دیکر اپنے انتقامی جذبے کی تسکین کر رہی ہے۔۔اور وہ جو اپنے ناکردہ گناہوں کی سزائیں پارہے ہیں۔۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔۔
کلنٹن مونیکا سکینڈل میں مجھے ہیلری کا اپنے شوہر سے باوفائی کا انداز بہت بھایا تھا ،کچھ اپنی اپنی سی لگتی تھی ۔ اس زمانے میں، میں امریکہ میں تھی کچھ امریکن خواتین سے بات ہوئی تو انکو اسکے روئے پر سخت اعتراض تھا ٓ ایک عورت کہنے لگی 'ہیلری کا رویہ ہرگز ایک امریکن عورت کا نہیں ہے- اسکو فورا اپنے شوہر سے طلاق لینی چاہئے " لیکن ہیلری اپنےشوہر کے ساتھ کھڑی رہی - بالکل ہمارے ہاں کی خواتین کی طرح کہ صبح کا بھولا شام کو گھرآجا ئے تو اسکو ہرگز بھولا مت کہو- کیونکہ ہم لوگ جس معاشرے اور ماحول سے ہیں وہاں پر عورت ایک وفا کا پیکر، وفا کی پتلی ہی تو ہے اور اس وجہ سے۲۰۰۸میں اس سے رابطے مٰیں تھی -بلکہ اسکے لئے رضاکارانہ کام کر رہی تھی- آئے دن میرے پاس ہیلری، بل کلنٹن اور چیلسی کے تعریفی اور شکرئے کے ای میلز آتے اور پرائمریزمیں ، ہیلری کی ٹاپ کالر اور ای میل بھیجنے والوں میں سے ایک بن گئی- کافی دلچسپ مشغلہ تھا- قصہ مختصر یہ کہ ہم نے ایڑی چوٹی کازور لگایا لیکن اوباما آیا اور چھا گیا - ہیلری نے ہار مان لی اور اوبامہ ڈیموکریٹ کا صدارتی نامزد بن گیا - لیکن امریکی سیاست اور مزاج دیکھئے دو دن پہلے وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئےہر حربہ آزمارہے تھےاور اب ہیلری نے اعلان کیا کہ اب ہمارے سارے رضاکار اوباما کیلئے کام کرنگے اور ہم جیت کر دکھائینگے- تو پھر ہم نے وہی کام اوبامہ کیلئے کیا اور پھر اوبامہ اور مشل کے ای میلز ملنے لگے -انگلی پر خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے والی بات تھی ۔۔ لیکن دلچسپ کام تھا ۔۔ اس مرتبہ میری کچھ اپنی مصروفیات تھیں اور ابھی تک نظر انداز کیا ہوا ہے۔۔
امریکہ معاشی کساد بازاری سے ایک حد تک تو نکل آیا ہے لیکن اب بھی کافی مقروض ہے ، ملازمتوں کی عدم دستیابی یعنی بیروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے۔۔ ٹرمپ ہر دوسرے جملے میں یہ اعلان کرتا پھر رہاہے کہ میں امریکہ کو از سر نوایک شاندار ملک بنا دونگا۔۔شروع میں اسنے غیر قانونی تارکین وطن لاطینی یا میکسیکن افراد کے لئے سخت بیانات دئے اور یہ کہ میکسیکو کی سرحد پر ایک دیوار بنا دی جائیگی تاکہ انکا امریکہ میں داخلہ بند ہو جائے ۔وہ بھی نت نئے جتن کرکے بہتر زندگی کی تمنا لئے امریکہ میں داخل ہوتے ہیں۔نسبتا کم داموں پر وہ کام اور مزدوری کرتے ہیں جنکی عام امریکی زیادہ اجرات لیتے ہیں ۔لیکن بقول ٹرمپ انکے ساتھ جرائم پیشہ افراد کی ایک بڑی تعداد آجاتی ہے ۔ اسمیں ایک حد تک حقیقت بھی ہے ۔
سان برنارڈینو اور پیرس کے واقعے کے بعد ٹرمپ نے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر پابندی کےسخت بیانات دئے جسکی عموماً اسکے ووٹر نے پذیرائی کی ۔۔حالانکہ ٹرمپ کے بزنس میں سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کا کافی بڑا سرمایہ ہے۔۔
ساتھ ہی اسنے یہ بیان بھی دئے ہیں کہ وہ اسلامی ممالک سے امریکی فوجوں کو ہٹا لیگا اور اسلامی ممالک میں دخل اندازی بند کردیگا۔۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہوگا جسکے متعلق امریکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ عامہ بالکل خاموش ہے ۔۔
امریکی خارجہ پالیسیوں مین افراد یا صدور کے أنے جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اب تو یہ أنے والا وقت ہی بتا ئے گا کہ اس صدارتی دنگل میں کوں جیتتا ہے اور کون چاروں شانے چت ہو جاتا ہے ۔۔۔
ایک عام امریکی کی زندگی میں کیا فرق پڑ سکتا ہے ۔۔
پھر وہی جہد مسلسل پھر وہی فکر معاش
منزل جاناں سے کوئی کامیاب أیا تو کیا ۔۔
abidarahmani@yahoo.com
Friday, May 20, 2016
15th of Shabaan rituals and innovation ( Bidaa )
Subject: 15th of Shabaan rituals and innovation ( Bidaa )
Shabi baraat , it's rituals, sunnah and Biddah !
by: Abida Rahmani
We are fast approaching into the night of 15th of Shaabaan. This night marks a night of festivity and celebrations in our culture and some of the Muslims all around the world.
Being a small kid, I remember impatiently waiting for this month of Shaabaan. This month marked the month of fireworks for us. We would make a big rag ball, dipped in kerosene oil for days. At night set it on fire and tried our muscles to throw it higher and higher.
Our elders would always participate in this fun. Sometimes this burning ball of rags would make ablaze here and there. Then we would get money from our elders for other fireworks, crackers, tracers, bombs (bums) and the innocent ones phuljarian , the twinkling stars. It was a month of celebrations and fun for us.
Then after growing up a little bit, we were told to offer at least 100 rakaas of nawafil (nonobligatory prayers) on that night. Our maulvis or scholars were against the fireworks and called it a night of worship and salvation. In our families the ladies would gather and try to offer at least 100 rakaas,. The ladies used to make and distribute special meals among friends and families on that night. it was considered rewarding to be awake whole night and doing ibada.
In Urdu speaking families mostly it was a big ritual of making different kind of halwas. (This tradition is mostly related to the loss of teeth of Prophet s.a.w in battle of Uhad). So much toil and efforts were done in the preparations, days before this ritual would start. A variety of Halwas of suji, gram( channa), eggs, dry dates, coconut etc. the kids would distribute the delicacies among neighbors and friends. Those with sweet tooth would wait whole year for these Halwas . Meanwhile the cooking ladies tried their best to show expertise .All other cultures were not far behind in cooking their best meals and distributing to poor and friends.In General it was considered a night of festivities. I remember some of my friends wearing new clothes on this evening ,especially stitched for this occasion .
The scholars or maulvis then asked the ladies not to get so tired in those preparations, it is not needed at all.They should preserve their energy for the night of worship, solitude and salvation. They have to fast the next day too.
Then after going through and interacting with some more learned and authentic scholars of Islam came to know that even this is not a night of worship and salvation , therefore no extra efforts are required for this night and no fast is authentic according to sunnah for the next day. The Ahadith related to this night are weak and this celebrated night of power is ليلة القدرin the last 10 nights of Ramadan and not ليلة البراءات .
Once when I was visiting Egypt. On 14th of Shaabaan in Old Muslim Cairo, saw people buying beautifully made lanterns, sweets and vermicelli. On my query I was told that it is for the celebrations of this night the 15th Shabban.
Next day we were in haram Baitullah Makkah for Umrah and many of the ladies were fasting.
It is great to practice authentic and pure religion and to simplify life but in this way we are taking all the beauty, fun and festivities from kids and families.
Here I ' m quoting some of the authentic narrations.
In preparation of Ramadan Muhammed (saaw) did fast frequently in the month of Sha’ban, and he recommended not to fast after 15th of Shabaan so that we can have full strength for Ramadan to fast.
There is no evidence of fasting on 15th of Sha'ban as compulsory/recommended ................ one can fast whenever, other than the obligatory fasting of RAMADHAN !
On The night of 15th Sha’ban the preparation for the Shab-e-Baraat festivities is also heating up. Most mainstream Sunni and Shia sects believe this night to be blessed and perform special prayers, keep a fast and distribute food.
There is only one blessed night mentioned in the Qur’an, which is Laila tul Qadr. The Qur’an was sent down in this night and it is one of the nights in the last 10 days of Ramadan. However, those who believe that 15th Sha’ban is blessed interpret the verses in Surah Ad-Dukhan to refer to this night rather than the night of Qadr.حمٓ (١) وَٱلۡڪِتَـٰبِ ٱلۡمُبِينِ (٢) إِنَّآ أَنزَلۡنَـٰهُ فِى لَيۡلَةٍ۬ مُّبَـٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ By the manifest Book (this Qur'ân) that makes things clear, (2) We sent it (this Qur'ân) down on a blessed night, addukhan 2,3
Many Scholars refer to this Ayah for Shabi Baraat or 15th of Shabaan anstead of Lailatul Qadar and made this night very special.
But is Surah Ad-Dukhan referring to the 15th Sha’ban or to the night of Qadr? The clue is in the reference to the revelation of the Qur’an:
Verily, We have sent it (this Qur’an) down in the night of Al-Qadr (Decree). [Surah Al-Qadr 97:1]
Therein descend the angels and the Ruh [Jibril (Gabril)] by Allah’s Permission with all Decrees. [Surah Al-Qadr 97:4]
The verses quoted above prove that the Qur’an was revealed on the night of Qadr, when Allah’s angels also descend with all Decrees (related to life, death and wealth). We then find the key evidence in Surah Al-Baqara which tells us exactly which month it is:
The month of Ramadan in which was revealed the Qur’an, a guidance for mankind and clear proofs for the guidance and the criterion (between right and wrong). So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Saum (fasts) that month, and whoever is ill or on a journey, the same number [of days which one did not observe Saum (fasts) must be made up] from other days. Allah intends for you ease, and He does not want to make things difficult for you. (He wants that you) must complete the same number (of days), and that you must magnify Allah [i.e. to say Takbir (Allahu Akbar; Allah is the Most Great] for having guided you so that you may be grateful to Him. [Surah Al-Baqara 2:185] [Emphasis added]
We can then conclude that the only night of blessing referred to in the Qur’an is the night of Qadr. There is no reference whatsoever to a Shab-e-Barat (or the night of 15th Sha’ban) as a blessed night.
The practices and beliefs associated with this night are a strange mish-mash of information found in the Qur’an and Sahih Hadith. Of the many things associated with this, it is said that Prophet Muhammad (SAW) visited a graveyard on the night of 15th Sha’ban. He prayed for the forgiveness of those who died as believers and were buried in Al-Baqi). Based on this hadith, Muslims have now created a ritual whereby they visit graveyards on this night every year. This 15 Sha’ban hadith is found in Tirmidhi. There is jirah (criticism) on this hadith and Tirmidhi himself acknowledged that the reference to 15th Sha’ban was based on a single report (this means that the hadith is classed as weak and is unreliable).
Crucially, we find authentic reports of this incident in Sahih Muslim (Sahih Muslim, Book #004, and Hadith #2127). There is no mention at all of Sha’ban, or of any other month when this incident happened. In fact, the Prophet (SAW) explained that he was ordered by angel Gabriel (AS) to pray for the forgiveness of the inhabitants of Al-Baqi. This is an isolated incident, in the sense that the Prophet (SAW) did not repeat this practice as a matter of routine. What we do learn from this hadith is a prayer for forgiveness for those who died as believers but we find no mention of a particular date, so we do not know which night it was.
Despite this, the 15 Sha’ban myths has gained acceptance and Muslims have started to visit graveyards on the 15th Sha’ban every year; this is a ritual that can only be classed as a Bidd’ah. Rather than sending a prayer for forgiveness regularly, what they have started to do instead is to congregate in graveyards, put flowers and kewra (fragrance) on graves and say Salat un Tasbeeh prayers all night. It is worth pointing out that Salat un Tasbeeh itself is an innovated prayer not proven from Prophet (SAW). And while some spend this night saying prayers, others light up fireworks and sparklers. As we do not tire of repeating, Bidd’ah tend to grow into more Bidd’ah very quickly and what we see is that one innovated festival makes room for many more.
It is also believed by these sects that reports of actions or deeds are taken to Allah on this night and this is why one should fast on the day. What we find in Sahih Hadith is that all matters are taken to Allah on Monday and Thursday every week, which is why Prophet (SAW) used to fast on these days. (Sahih Muslim, Book #006, Hadith #2603)
Abu Huraim reported Allah’s Messenger (may peace be upon him) as saying, “The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancor against his brother and it would be said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation. (Sahih Muslim, Book #032, Hadith #6224)
It is also believed that Allah’s decisions regarding matters of life, death and wealth are revealed to angels on 15 Sha’ban. This view contradicts the Qur’an, where we are told clearly that all such Decrees are brought by angels on the night of Qadr, which is a night in Ramadan.
We can conclude that:
There is only one blessed night, the night of Qadr, mentioned in the Qur’an. The Prophet (SAW) recommended nafl Ibadah in the last 10 nights of Ramadan, one of which may be the night of Qadr. This is the night when the Qur’an was revealed and when angels bring Allah’s Decrees.
The Prophet (SAW) visited the graveyard of Al-Baqi one night and said a prayer for those who died as believers. There are no authentic reports which tell us exactly which night this was.
Here is the Hadith:
Muhammad b. Qais said (to the people): Should I not narrate to you (a hadith of the Holy Prophet) on my authority and on the authority of my mother? We thought that he meant the mother who had given him birth. He (Muhammad b. Qais) then reported that it was ‘A’isha who had narrated this: Should I not narrate to you about myself and about the Messenger of Allah (may peace be upon him)? We said: Yes. She said: When it was my turn for Allah’s Messenger (may peace be upon him) to spend the night with me, he turned his side, put on his mantle and took off his shoes and placed them near his feet, and spread the corner of his shawl on his bed and then lay down till he thought that I had gone to sleep. He took hold of his mantle slowly and put on the shoes slowly, and opened the door and went out and then closed it lightly. I covered my head, put on my veil and tightened my waist wrapper, and then went out following his steps till he reached Baqi’. He stood there and he stood for a long time. He then lifted his hands three times, and then returned and I also returned. He hastened his steps and I also hastened my steps. He ran and I too ran. He came (to the house) and I also came (to the house). I, however, preceded him and I entered (the house), and as I lay down in the bed, he (the Holy Prophet) entered the (house), and said: Why is it, O ‘A’isha, that you are out of breath? I said: There is nothing. He said: Tell me or the Subtle and the Aware would inform me. I said: Messenger of Allah, may my father and mother be ransom for you, and then I told him (the whole story). He said: Was it the darkness (of your shadow) that I saw in front of me? She said: Whatsoever the people conceal, Allah will know it. He said: Gabriel came to me when you saw me.. He (gabriel) said: Your Lord has commanded you to go to the inhabitants of Baqi’ (to those lying in the graves) and beg pardon for them. I said: Messenger of Allah, how should I pray for them (How should I beg forgiveness for them)? He said: Say, Peace be upon the inhabitants of this city (graveyard) from among the Believers and the Muslims, and may Allah have mercy on those who have gone ahead of us, and those who come later on, and we shall, God willing, join you. this night was the 15th of Shaabaan.We should beg forgiveness for our deceased near and dear ones always. However this practice had become a norm in subcontinent and this is just one instance of Prophet S.a.w going to Baqee on the night of 15th of Shabaan.
والله اعلم بالصواب
عابدہAbida Rahmani
--
Sent from Gmail Mobile