Wednesday, January 16, 2013

ایک افسانچہ

ایک افسانچہ
عابدہ رحمانی


بیوی باورچی خانے سے چلا رہی ہے ،میاں کمپیوٹر ڈیسک ٹاپ پر کانو ںمیںائیر پلگ لگایے بیٹھا ہے
"ارے سنتے ہو شام کو راشدہ کے سسرال والے آرہے ہیں ذرا بازار جاکر یہ سامان تو لۓ آؤ- خدا کی پناہ کیا منہ میں گھنگنیاں ڈالکر بیٹھے ہو بولتے کیون نہیں؟'
تنگ آکر سامنے بکتی جھکتی کھڑی ہوئی تو میاں نے ائر پلگ نکال کر کہا "ارے بیگم کیا کہہ رہی ہیں آپ میں کچھ ضروری کام کر رہاتھا'
"ہاں ہاں خوب جانتی ہوں تمہارے ضروری کاموں کو اب تو ریٹائر ہوۓ کئی مہینے ہوگئے بھلے چنگے ہو کوئی دوسری ملازمت کیوں نہیں ڈھونڈھ لیتے - دیکھ رہے ہو گھر کا خرچ کتنی مشکل سے چلتا ہے" مہنگائی دیکھو آسمان سے باتیں کر رہی ہے ابھی بیٹی کو بیاہنا بھی ہے"
"ہاں ہاں وہی تو کر رہاتھا اسپر ملازمت ہی تو ڈھونڈھ رہا تھا - تم کیا جانو اب تو ساری ملازمتیں بھی اسی پر ہیں، ہاں تو تم کیا کہہ رہی تھیں اچھا یہ لسٹ دے دو میں مسجد میں نماز پڑھکر واپسی پر لیتا آونگا-" میاں لسٹ لیکر ٹوپی پہن کر مسجد کو روانہ ہوئے
بیوی کو تجسس ہوا کہ آخر کو وہ کمپیوٹر پر اتنا کھویا ہوا کیوں تھا -خود تو وہ اس سے واقف نہیں تھی بیٹھ کر ماؤس ہلانے لگی تو سکرین پر ایک سے ایک  حسین و جمیل بنی ٹھنی پوز مارتی ہوئی لڑکیاں جلوہ آرا ہیں 
غصے سے بھنتے ہوئے ایک مرتبہ تو اسنے سوچا اسکے ٹکڑے ٹکڑے  کردے 
اتنے میں میاں ٹوپی پہنے تسبیح لہراتے ہوئے داخل ہوئے" ارے بیگم بٹوہ تو گھر میں ہی بھول گیا" ہاں تمہیں ان کلموہیوں سے فرصت ہو تو تمہارا دماغ کچھ کام کرے- راشدہ کے ابا ویسے تمہاری بیٹی سے چھوٹی ہی ہونگی کچھ تو خدا کا خوف کروو!!
اچھا اچھا چلو اس بہانے تم نے اس کمپیوٹر کو چھو تو لیا -ارے بھئی یہ سب اس کمپنی کی ماڈل ہیں جہاں میں سکرپٹ رائٹر کی درخواست دے رہا ہوں - بہت اچھی نوکری ہے اور تنخواہ بھی کافی معقول ہے - سوچ لو

Tuesday, January 15, 2013

Journey of life: سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ

Journey of life: سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ: سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ --  عابدہ رحمانی تھوڑی دیر پہلے وال اسٹریٹ جرنل میں ایک وفات شدہ لڑکی کے انٹرنیٹ کے اثاثے یا اسکے ...

سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ


سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ

-- 
عابدہ رحمانی
تھوڑی دیر پہلے وال اسٹریٹ جرنل میں ایک وفات شدہ لڑکی کے انٹرنیٹ کے اثاثے یا اسکے چھوڑے ہوئے اکاؤنٹس کے متعلق ایک مضمون پڑھ رہی تھی کچھ عجیب سی کیفیت ہوئی اس سولہ سالہ لڑکی کو بڑی آنت کی بیماری تھی وہ اپنے آخری ایام میں زیادہ تر وقت کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر گزارتی تھی - اسکے پاس ای میلز ، فیس بک ، ٹوئٹر اور دوسرے کیئ اکاؤنٹ تھے جس سے وہ اپنے آن لائن دوستوں اور باقی دنیاکی دلچسپیوں اور سرگرمیوں  سے واسطہ اور رابطہ رکھتی تھی- اسکے دنیا سے جانے کے بعد اسکی دوسری بہن ان صفحات کو  کھول لیتی تھی جو کھلے ھوئے تھے لیکن جب پاس ورڈ کا مرحلہ آیا تو اسے ناکامی ہوئی-اسنے پاس ورڈڈھونڈنے کیلئے اپنے طور پر کوششیں بھی کیںجسے انگریزی میں پاس ورڈ کریک کرنا یا توڑنا کہتے ہیں- اور  اب انہوں نے ان کمپنیوں یا انٹرنیٹ اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی اور بہن کی تحاریر دیکھنا چاہتے ہیں اسکے خیالات جاننا چاہتے ہیں وہ کافی کچھ لکھا کرتی تھی ، شاعری بھی کرتی تھی ہوسکتا ہے وہ ان تحاریر کو کتابی صورت میں شائع کر دیں-اسکی بیشمار تصاویر ہیں-انکے بقول انکو اسے دیکھنے اور پڑھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور جسطرح اسکی دیگر اشیاء انکے تصرف میں آئی ہیں اسی طرح یہ بھی انکی ملکیت اور وراثت ہے-  اسکے لئے ان اکاؤنٹ والے ادارے انکو پاس ورڈ مہیا کر کے انکی مدد کریں-
  جب سے کمپیوٹر اور آنلائن سہولیات ہماری زندگی کا اہم اور لا ینفک جز بن چکے ہیں-  ہم اب اس سہولت یا علت کے اسقدر عادی ہوگئے ہیں اس تانے بانے میں ، مکڑی کے جالے میں بری طرح الجھ چکے ہیں- ہماری تمام تر خط وکتابت ، بات چیت ، لکھائی پڑھائی ، تمام تحاریر اسی کمپیوٹر،( اسکو آپ جو بھی نام دے دیں ، نوٹ بک ،منی، لیپ ٹاپ ، ٹیبلٹ پی سی )جو بھی کہہ دیں اسی پر ہیں - بلکہ گوگل ، یاہو، ہاٹمیل، فیس بک ، ٹوئٹر،پکاسا، شٹرفلائی اور اور اور---  پر ہیں- تمام تصاویر اب اس پر ہیں کیمرے سے تصاویر اسی پر ڈالدیں اور اسی پر وضع شدہ مختلف ذرایع سے اپنے اعزاء واقارب سے شریک کردیں - سارےالبم اسی پر ہیں - انہی اکاؤنٹ پر مختلف فولڈرز بناکر انمیں اور تحاریر کو عنوانات اور دلچسپیوں کے لحاظ سے  تقسیم کیا ہوا ہے اور زیادہ ترتیب دینے کو جی چاہا تو بلاگ بنا ڈالا یا ویب سائٹ بنا ڈالی ، فیس بک پر ڈالدیا بلکہ فیسبک کی ایک اور اتنی وسیع دنیا ہے - فون ہے تو وہ بھی اسی قسم کا اب ایک موبائل فون سے زیادہ موبائل کمپیوٹربن چکا ہے ٓٓ- کاغذ  کاا ستعمال تقریبا متروک ہو رہاہے لکھنا  تو دور کی بات پرنٹ آؤٹ بھی بہت کم نکالتے ہیں اکثر خیال آتا ہے کاغذ کا غیر ضروری ڈھیر لگانے کی کیا ضرورت ہے-  ماحولیات کے دوست کہتے ہیں کاغذ کا استعمال کم کرکے ماحولیات پر احسان کریں - ان کمپیوٹروں سے پہلے سب کچھ کاغذ پر ہی لکھا مل جاتا تھا مرنے والے یا والی کے اچھے برے تمام راز فاش ہو جایا کرتے تھے- ورنہ ردی کی نذرہو جاتےا
بقول چچا غالب 
چند تصویر بتاں اور کچھ حسینوں کے خظوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ سامان نکلا

  ہم بذات خود تو اتنے امتداد یا انقلابات زمانہ سے گزرے ہیں کہ کافی ساری یادداشتوں اور خطوط کو اپنے ہاتھوں تلف کیا ہے - اور کافی ضائع ہوگیئں-پرکھوں کے ساتھ یہ صورتحال نہیں ہوئی ں

انکی یہی تحاریر بعد میںہمارے سامنے آئیں، میں تو اپنے داداجی کی لکھائی دیکھ کر حیران رہ گیئ  گلستان سعدی کے کناروں پر انہوں نے فارسی میں جو دلکش حاشیہ آرائیاں کی ہوئی ہیں انکی بچی ہوئی تحاریر اب تو خاصی کرم خوردہ ہوگئی ہیں والد صاحب نے تو ایک ایک خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے پورے بکس بھرے ہوئے ہیں پوری ایک تاریخ محفوظ ہے انکے ابتدائے ملازمت کے رومن میں لکھے ہوئے خطوط ہیں - پچھلے سال بھائی کو جوش آیا تو زندہ افراد کو انکے اپنے تحریر کردہ خطوط واپس کر دئے ان خطوط اور نامہ و پیام کا بھی کیا وقت تھا- میری ایک سہیلی کے والد کا ٹرانسفر ہوگیا اسکے خطوط والد صاحب کے پتے پر آتے تھے اور سینسر ہوکر مجھ تک پہنچتے تھے آدھے سے زیادہ خط فراق کے اشعار سے بھرا ہوتا تھا - چلا چل لفافے کبوتر کی چال- محبت جو ہوگی تو دیگی جواب 
قسم کے' دو چار خطوط تو انہوں نے برداشت کئے اور پھر بالاخر ہمارادائمی فراق ہوگیا  ایک اور دوست لفافے کو کچھ ایسا معطر کر کے بھیجتی کہ اباجی کو اسکے اخلاق پر بھی کافی شک ہوا-اب ماں باپ کو دھوکہ دینا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اگرچہ اس زمانے میں بھی چالاکوں کی کمی نہیں تھی - لیکن ہماری شخصیت ہی کچھ برخوردار قسم کی تھی- ہمارے کچھ اعزاء جو بیرون ملک مقیم تھے انکے خطوط پورے خاندان کے لئے مشترک ہوتے تھے سب خوب لطف لے لے کر پڑھتے ایک عزیز کا تو طرز تحریر ہی اس قسم کا ہوتا تھا فلاں ، فلاں ، فلاں کے لئے مضمون واحد ہے-  کچھ اسی قسم کا جو اب ہم ایک ای میل کو کئی لوگوں کے ساتھ شریک کردیں-   یہ سب باتیں اب خواب وخیال ہوگیئں اب وہ عزیز و اقارب جو کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے انسے تقریبا رابطہ ہی ختم ہوگیا ہے خط لکھنے اور بھیجنے کا رحجان ایسا ختم ہوا ہے کہ ہاتھ کی لکھائی شاذونادر ہی نظر آتی ہے- ایک صاحب نے  بتایا میرے ساتھ بہت بڑی ٹریجڈی ہوگئی" اللہ خیر کرے مجھے تو بڑی گھبراہیٹ ہوئی" کہنے لگے میں ایک صاحب پر بہت دلچسپ مضمون لکھ رہاتھا کہ میرا کمپیوٹر کریش ہوگیا میں نے کہا کہ یقینا انہوں نے کوئی تعویذ گنڈہ کر دیا ہوگا- ایسا میرے ساتھ بھی ہوا لیکن آللہ کا شکر ہے کہ کچھ تحاریر آن لائن تھیں تو دوبارہ مل گئیں
ہم کمپیوٹر کے ماروں کا تو یہ  حال ہوگا ہمارے دنیا سے جانے کے بعد

نہ ہی پاس ورڈ ملا نہ ہی اکاؤنٹ کھلا
مرنیوالی کا راز ساتھ ہی مرقد میں گیا

 مجھ جیسے خانہ بدوش کی آدھی زندگی اس کمپیوٹر میں قید ہوگئی ہے یہی میری کتاب ہے ، یہی میرا اخبار ہے ، تلاوت ترجمہ اس سے سن اور پڑھ لیتی ہوں یہی میرا ریڈیو اور ٹی وی  ہے یہی میرا روزنامچہ یہی قلم یہی قرطاس زیادہ تر ڈرامے اور پروگرام اسپر دیکھ لیتی ہوں، یہیں میرے تصاویر کے البم ہیں  - میری بیشتر کلاسز اس پر ہوتی ہیں بلکہ آپ سب کا حال بھی کچھ مجھ سے مختلف نہ ہوگا اب تو میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اصلی کتاب کو  نہ ہی اٹھاؤں ایک زمانہ تھا کہ نیند کتاب، اخبار یا رسالہ پڑھتے ہوۓ ہی آتی تھی اتنا برا چسکا تھا -اب ان چھوٹے ہلکے پھلکے نوٹ بک اور ٹیبلٹس کومیں انکے نعم البدل کے طور پراستعمال کرتی ہوں- بالکل ایک کتاب کی طرح جب میرا نیا منی لیپ ٹاپ  آیا تھا تو اسکا نام میں نے رکھا،" میرا نیا دوست"-- پہلے جو دوستی کتابوں سے تھی اب اس سے ہوئی- جب -کہ بعض کہتے ہیں کہ جب تک کتاب کو چھو نہ لیں تسلی نہیں ہوتی-
وال سٹریٹ والا مضمون پڑھنے کے بعد   پہلا کام میں نے یہ کیا کہ اپنے پاس ورڈز اپنی ایک ڈائری میں لکھے اور پاس ورڈ بھی کتنے ہیں اللہ کی پناہ انٹرنیٹ اکؤنٹوں کے، بنک اکاؤنٹوں کے الگ ، کریڈٹ کارڈز کے الگ ، باقی دکانوں یا سٹوروں کو تو جانے دیجئے اب تو  تمام بل سٹور کی رسیدیں بھی ای میل میں آتی ہیں اور اسی کے ذریعے ادائیگی ہوتی ہے-
سوچا  کیا خبر بعد میں میر ے بچوں کو تجسس ہو کہ امی کا آدھا بلکہ بیشتر وقت تو کمپیوٹر پر گزرتا تھا نہ جانے کیا کیا گل کھلاتی ہونگی؟ ورنہ اس بھاگتے دوڑتے زمانے میں کس کے پاس فرصت ہے ؟اگر کسی کو خیال آیا تو اسے دقت نہ ہو- میری ایک دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ اپنی سوانحعمری لکھ کر رکھ دو اور بچوں کو وصیت کردو کہ وہ بعد میں شائع کردیں - میں نے کہا اتنا کھٹن اور غیر دلچسپ کام انکے لئے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی اسلئے مجھے جو اپنا مطبوعہ غیر مطبوعہ جو کچھ ملا اسکا ایک مجموعہ بنا کر جلدی سے شایع کردیا سوچ رہی ہوں باقی کو بھی جلدی سےٹھکانے لگا دوں میرے پاس روزانہ اسقدر ای میلز آتی ہیں انمیں سے آدھی تو بغیر پڑھے حذف یا ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں  کتنی تو سپام یا جنک میں چلی جاتی ہیں-ضروری کو میں فورا پڑہتی اور جواب دیتی ہوں دلچسپ کو روک لیتی ہوں کہ فرصت میں پڑھونگی اوراکثر یہ فرصت بہت دیر سے آتی ہے یا آتی ہی نہیں- وہ تو اللہ بھلا کرے ان ای میل سروس مہیا کرنیوالے اداروں کا کہ بے حساب ای میلز آرہی ہیں جارہی ہیں اور اکٹھی ہو رہی ہیں اور انہوں نے ہمیں یہ سہولت ایک طرح سے مفت مہیا کی ہوئی ہے اور یہی اس تمام سلسلے کا گورکھ دھندہ ہےٓ

وائے فائے نے نکما کردیا مجھکو
ورنہ میں بھی آدمی تھی کام کی






Wednesday, January 9, 2013

امریکہ سوگوار ہے ! سینڈی طوفان کے بعد سینڈی ہک سکول کا المیہ

امریکہ سوگوار ہے !
سینڈی طوفان کے بعد سینڈی ہک سکول کا المیہ"

عابدہ رحمانی

جمعہ چودہ دسمبر کی صبح ساڑھے نو بجے کا وقت ہے کنیکٹی کٹ کے قصبے نیوٹاؤن میں سینڈی ہک نامی ایلیمنٹری سکول میں( پرائمری سکول) معمول کی چہل پہل ہے ابھی کلاسز شروع ہی ہوئی ہیں بچوں اور استادوں کے کھلے  ہوئےچہرے ایک نئی صبح کا آغاز لئے ہوئے ہیں کرسمس کی آمد آمد ہے اکثر بچے اور استانیاں تفریحا لال سفید پھندنے والی ٹوپی اور شرٹ پہنی ہوئی ہیں ہر طر ف ایک خوشی و انبساط کی کیفیت ہے آج ہفتے کا آخری دن ہے اور ویک اینڈ کے لئے سب بیچینی سے  منتظر ہیں- بچے اپنے روزمرہ کے کام میں مصروف ہیں کہ اچانک ایک زور دارفائر نگ کی آواز سب کو چونکا دیتی ہے اور پھر تھڑ تھڑ گولیاں چلنے کی اورچینخ پکار کی آوازٰیں ،27 سالہ استانی وکٹوریا سوٹو اپنی کلاس کے بچوں کو جلدی جلدی الماریوں اور غسل خانے میں بند کرنے لگتی ہے اسکے  پاس بچوں کو بچانے کا یہی ایک راستہ ہے وہ انہٰں  بند کرکے آگے  ہوئی ہی  ہےکہ اتنے میں خونخوار 20 سالہ آدم لینزا اسے اپنی گولیوں کا نشانہ بناتا ہے جس قاتلانہ رائفل کا وہ استعمال کرتا ہے اسکی ایک گولی ہی انسان کو ڈہیر کرنے کیلئے کافی ہے- اسنے ابتدا اپنی ماں نینسی لینزا سے کی تھی اسکی لاش بعد میں اسکے گھر سے ملی- ماں کو مارکر وہ سینڈی ہک اسکول پوری طرح مسلح ہوکر پہنچا وہ اس اسکول میں چار سال تک طالبعلم بھی رہ چکا تھا- اب اسے اپنی ماں سے کیا کدورت اور بغض تھا اسکے ساری شواہد نے اسنے اپنے اس ناپاک مشن پر آنے سے پہلے قلع قمع کردئے اپنے کمپیوٹر کو اسنے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تاکہ بعد میں تحقیقاتی ادارے ٹامک ٹوئیان مارتے رہیں اور تعئین کرتے رہیں کہ ایسا کیوں ہوا اور کیسے ہوا؟ اس دوران کچھ لوگ 911 کو فون کر چکے ہیں 20 بچوں اور 6 اساتذہ کی جان لینے کے بعد آدم نے اپنی جان بھی لے لی- 911 والے آئے تو دیر ہو چکی تھی کچھ زخمی تھے -مرنے والے 20 بچوں کی عمریں 5سے 10 سال کے درمیان تھیں " حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے" اس المئے پر پورے امریکہ میں اور تمام دنیا میں ایک کہرام مچ گیا -ایک ہفتہ گزر چکا ہے آج پنسلوانیا میں تین لوگوں کی جان لیکر قاتل نے اپنے آپ کو مار دیا - اسواردات اور خود کش دھماکوں میں کوئی فرق نہیں ہےمحض یہ کہ  وہ اپنے جسموں پر بم -باندھتے --ہیں اور یہ اسالٹ رائفل لے کر نکلتے ہیں اور پھر اپنی جان لے لیتے ہیں  
ہم تو امریکہ میں  اس طرح کی ہر واردات ہونے کے بعد سب سے  پہلے اللہ کا یہ شکر ادا کرتے ہیں کہ اس برے فعل کا کرنے والا کوئی مسلمان ہر گز نہیں ہے ورنہ پوری مسلم کمیونٹی اس جرم کی لپیٹ میں آجاتی، جبکہ دوسری صورت میں یہ ایک انفرادی فعل قرار دیتا ہے- لیکن اس غم میں اس دکھ میں پوری طرح شریک ہیں اسلئے کہ ہم اب اسی ملک کے باشندے ہیں اور ہمارے بچے بھی یہاں کے درس گاہوں کا حصہ ہیں- دہشت گردی اور قتل عام دنیا میں کہیں بھی ہو ایک انتہائی ناپسندیدہ فعل  ہےاللہ تعالی نے انسانی جان کو ایک مقدس ا مانت کہا ہے قرآن میں آللہ تعالی کا ارشاد ہے" اور جو ایک انسان کی جان بچاتا ہے وہ پوری انسانیت کی جان بچاتاہے"امریکہ کی  محفوظدرسگاہیں اتنی غیر محفوظ کیوں  ہیں یہ ایک کافی اہم سوال ہے- آدم لینزا اور اسکے خاندان کے بارے میں آئے دن تفصیلات آرہی ہیں  اسکے ماں باپ میں طلاق ہوچکی تھی اور باپ  اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رہتا ہے - اسنے ایک سال سے اپنے باپ سے ملنا چھوڑ دیا تھا اسنے باہر نکلنا اور دوستوں سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا تھا - اسکی ماں نینسی کو بندوقیں خریدنے کا کافی شوق تھا اسکے پاس 6 بندوقیں تھیں وہ اپنے بچوں کو لیکر اکثر نشانہ بازی کی مشق کرتی تھی  اور یہ امریکہ میں کوئی انہونی بات نہیں ہے - نشانی بازی کے شائقیں کے لئے ڈرائونگ رینج بنے ہوئے ہین اور دیگر کلبوں کی طرح اس کے ممبر یہاں نشانہ بازی کا شوق پورا کرتے ہیں- آدم لینزا کے   نفسیاتی عوارض اور شواہد کو کنگالا جارہاہے-شائد آئندہ کے لئے کوئی سدباب ہو جائے؟امریکی عوام بچے بوڑھے ان مقتولین کی یاد میں سینڈی ہک اسکول کو پھولوں ، موم بتیوں، کھلونوں اور کارڈوں سے لاد دیا ہے- یہاں پر ڈاک کے ذریعے اس قدر تحائف آرہے ہیں کہ اضافی انتظامات کر دئے گئے ہیں-- اس قصبے کے علاوہ پورے امریکہ بلکہ دیگر ممالک حتی کہ پاکستان کے کئی اسکولوں نے بھی اس دکھ کو منایا- جبکہ پاکستان کے اپنے دکھ اس سے سو گنا ہیں -
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسطرح کے حادثات اور اقدامات کو کیسے روکا جائے-
 امریکہ کے اسکولوں میں ہلاکتوں کا یہ قصہ 1999 سے شروع ہوا  جب سے کولوراڈو کے کولمبائن ھائی اسکول میں ہلاکتیں ہوئیں اسکے بعد سے مختلف اسکولوں میں 258 طلباء ، استاد اور دیگر لوگ مارے گئے ہیں 212 زخمی ہوئے ہیں اور یہ سب -بندوقوں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں
اسوقت امریکہ کی  تمام میڈیا ، کانگریس اور سینیٹ میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے  کہ بندوقوں کو کیسے قابو میں کیا جائے؟ - مظاہرے ہو رہے ہیں، کہ بندوقوں کی کھلی فروخت پر پابندی لگاؤ- نیشنل  رائفل ایسوسی ایشن جو این آر اے کے نام سے مشہور ہے وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتی ہے - ظاہر ہے اسلحے اور ہتھیاروں کی خرید وفروخت مییں یہاں کی موثر لابی  کا عمل دخل ہے-امریکہ میں ھتھیاروں کی خرید فروخت ایک بڑا پسندیدہ مشغلہ ہے - بہت سے پاکستانی اور ہمارے پٹھان  اسلحہ کے شائقین بھی یہاں کا   اسلحہ ضرور خرید کر لے جاتے ہیں اگر چہ ہمارے جیسوں کے پاس  باورچی خانہ کے   چاقو چھری کے علاوہ کوئی ہتھیار  نہیں ہوتآ، کینیڈا میں چونکہ ہتھیاروں پر پابندی ہے تو وہان پر امریکہ سے ہتھیار سمگل کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ اسکے لئے کافی چوکس رہتے ہیں لیکن ہتھیار مجرموں کے پاس پھر بھی کسی نہ کسی طرح پہنچ جاتے ہیں- جسکے لئے وہ ہمیشہ امریکہ کو مورد الزام ٹہراتے ہیں لیکن امریکہ کے کان پر جوں نہیں رینگتی
این آر اے کا اصرار ہے کہ اسکولوں میں مسلح گارڈ کھڑے کئے جائیں تاکہ وہ ایسے حملہ آوروں کا مقابلہ کرسکیں کیونکہ بقول انکے، حملہ آور جانتے ہیں کہ اسکولوں میں مدافعت کے لئے کوئی اسلحہ نہین ہے اسی وجہ سے انکے لئے یہ ایک آسان نشانہ ہیں-  اسطرح مزید بندوقوں کی فروخت ہوگی اور - کاروبار کو مذید تقویت ملے گی- این آر اے کے مطابق لابی کو پر تشدد فلموں اور ویڈیو گیمز پر پابندی لگانی چاہئے جبکہ اسکا کاروبار  چلانے والے اپنی توضیحات اور ترجیحات سامنے لے آیئنگے - در حقیقت  یہ سب عوامل یقینا ذمہ دار ہیں لیکن سب سے بڑھ کر ہتھیار ہیں جسکی موجودگی اور استعمال  سے انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے -
 -  کرا چی شہر میں جب تک بچے بچے   کے پاس ٹی ٹی اور کلاشنکوف نہیں آیا تھا اس شہر میں کافی حد تک چین ہی چین -
تھا 
این آر اے کے وائس پریزیڈنٹ کا یہ جملہ دائیں بازو کے چینلوں سے بار بار سنایا جاتا ہے کہ ایک برے آدمی کے حملے کو روکنے کیلئے ایک اچھے آدمی کو بندوق کی سخت  ضرورت ہے -اب اس برے آدمی کا تعین کیسے ہوگا ؟یہاں تو یہ حال ہے کہ سڑک پر کسی نے غلطی کرنے پر ہارن بجا دیا تو دوسرے نے  جھٹ سے پستول نکالا اور اسے گولی ماردی - ایک گولفر کی گیند شیشہ توڑتی  ہوئی ایک گھر کے اندر آئی اور گھر والے نے گولفر کو گولی مار کر خاتمہ کر دیا ڈرائو وے پر جھگڑا ہوا اور بندوق نکال کر گولی ماردی-  اس طرح کےواقعات تو بہت عام ہیں 
کافی اسکولوں نے جنکی عمومی تعداد ہ ہے23300 اپنے طور پر اپنے مسلح گارڈ پہلے سے کھڑے کئے ہیں اجکل اکثر فوجی جو چٹھیوں پر ہیں ، وردی پہن کر  اسکولوں پر پہرہ دے رہے ہیں- امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق لاکھوں اسلحہ بیچنے کے سٹور ہیں اور لوگوں کے پاس  اسی طرح لاکھوں کروڑوں کے حساب  سے ہتھیار ہیں 
ڈیمو کیٹ پارٹی ہتھیاروں یا بندوقوں  پر پابندی لگانے کے حق میں ہے اوبامہ خود اس کے بارے میں کوئی سنجیدہ قدم اٹھانا چاہتا ہے اس حادثے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے اوبامہ بار بار اپنے آنسو پونچھتے رہے- وہ بندوقوں پر   پابندی کے بل پر دستخط کرنیکو بالکل  تیار ہے لیکں اسکے ھاتھ اتنی مضبوظ لابی کے سامنے بندھے ہوئے ہیں بلکہ بے بس ہیں--
کیلیفورنیا سے سینیٹر ڈیان فائنسٹائن اورسینیٹر باربرا بوکسر کہتی ہیں کہ یہ تشدد اس صورت میں رک سکتا ہے کہ اسلحے پر پابندی لگائی جائے-معصوموں کا یہ قتل عام بند ہونا چاہئے ہم ہر وہ حملہ جو ہم کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے نہیں روک سکتے لیکن  ہم کچھ ایسے دانشمندانہ اقدام اٹھا سکتےہیں جنسے ہمارا بچاؤ ہوسکے-
اب تو یہ خبریں آرہی ہیں  کہ مختلف صنعت کار بچوں کے لئے بلٹ پروف بستے ، جیکٹیں اور کپڑے بنارہے ہی جنکو پہن کر بچے اسکول جایا کرینگے تاکہ وہ گولیوں سے محفوظ رہیں"
اب جو بھی اپکا حسن کرشمہ سازکرے ؟
عنقریب بچوں کے کپڑے بیچنے والے معروف سٹور ز کارٹرز، اوش کوشبگوش، جمبوری ، والمار ٹ اور سئیرز میں گولیوں سے بچاؤ کے لباس تیار ہونگے اور بچے بکتر بند ہوکر اسکول جایا کرینگے- لیکں این آر آے اپنی من مانی ضرور کریگا  اور -اس سے اندازہ ہوگا کہ صدر اوباما میں کتنا دم خم ہے-

-- 

Tuesday, January 8, 2013

امریکہ کا مالیاتی بحران Fiscal cliff


 Fiscal Cliff
یا مالیاتی بحران


-- Fiscal Cliff
یا مالیاتی بحران



عابدہ رحمانی
ہر بیجان بیمعنی سلسلے کو نام دینا کوئی امریکہ سے سیکھے اب اس فسکل کلف کو دیکھئے  کلف وہ چٹانی عمودی پہاڑی چوٹی ہوتی ہےجسپر چڑھنا اترنا بغیر کسی سہارے کے انتہائی مشکل ہوتا ہے-
ٹیکس بڑھانے کی شرح اور حد کو لیکر جو معاملات طے ہونے تھے اسکو فسکل کلف کا نام دیا گیاہے-
اسکو اسقدر اہمئت دی گئی اور اس معاملے کو اتنا اچھالا گیا جیسے کہ سن دو ہزار کی آمد سے پہلے  وائی ٹو کے کو اچھالا گیا تھا کہ اگر نئے سال کے آغاز تک یہ پاس نہ ہوسکا تو نہ جانے امریکہ کس انجام سے دوچار ہوگا- میڈیا اور خبر رساں ادرے ہر بات کو مشتہر کر کے اور آسمان پر پہنچا دیتے ہیں - سال نو کی رات کو ہر گھڑی یہ اعلان ہوتا رہا کہ اب اس چوٹی کو سر کرنے میں بس تھوڑا ہی وقت کافی ہے اور اگر یہ بحران دور نہ ہوسکا تو نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں- نیا سال حسب معمول دھوم دھڑکے سے  بھی آیا اور آج اسکا دوسرا دن بھی اختتام پذیر ہے کہ خبر آئی کہ کانگریس کے دونوں پارٹیوں میں اس بل پر مفاہمت ہوگئی ہے اور متوسط طبقے پر ٹیکس عائد نہیں کئے جائینگے- جبکہ بالائی طبقہ زیادہ ٹیکس کی لپیٹ میں آجائیگا-
امریکہ کے شمال مشرقی , وسطی ریاستوں میں  اور پڑوسی ملک کینیڈا میں سخت سردی کا موسم ہے
جب چاروں طرف ڈہیروں  برف پڑ چکی ہو اور حد نظر تک سفیدی ہی سفیدی چھائی ہودرجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی گر چکا ہو اس منجمد  کردینے والی سردی میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک زبردست گرما گرمی اور چہل پہل چل رہی تھی - اوبامہ ہوائی میں کرسمس مناکر سال نو کی چھٹیوں کو مختصر کرکے واشنگٹن دوڑے آئے - کانگریس اور سینیٹ کے اراکین بھی سال نو کو بھول بھال کر واشنگٹن میں بیٹھے ہوئے ہیں - حالانکہ سال نو کی یہ چٹھیاں یہاں کے معاشرے میں بے انتہا اہم ہیں یہ وقت عام طور پر لطف اندوزی کا ہوتاہے سیر و تفریح کا ہوتا ہے کچھ ہمارے ہاں کے رمضان اور عید والا حال ہوتا ہے-  لیکن اسوقت امریکی قوم کو ایک چوٹی پر لٹکا دیا گیا تھا اس چوٹی سے لڑھکے یا گرے تو چاروں شانے چت، دونوں صورتوں میں تباہی اور بربادی ہے- البتہ آرام سے رسی وغیرہ لگا کر اتار دیا گیا تو بچ گئے- 
 ایک بار پھر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کا معرکہ تھا- 
   اوبامہ اور اسکی ٹیم بیحد خوش ہے  کہ اسنے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کردیا ہے اور سرخرو ہو گئے ہیں اوبامہ انتظامیہ کا یہ وعدہ کہ متوسط طبقے پر ٹیکس نہیں بڑھایا جائے گا پورا ہو گیا ہے - حالانکہ سارا شور اسکا تھا کہ 31 دسمبر  2012 کے خاتمے سے پہلے فیصلہ ہونا چاہئے- متوسط طبقے پر ٹیکس کم کیاجائے  اور مالدار طبقے پر زیادہ ٹیکس لاگو کیا جائے اوبامہ نے اسکی حد ڈھائی لاکھ سالانہ رکھی ہے جبکہ ریپبلکن اسکی حد پانچ لاکھ سالانہ رکھنا چاہتے ہیں کانگریس کی اکثرئیتی پارٹی کے لیڈر ہیری ریڈ ( ڈی) اور ریپبلکن پارٹی کے لیڈر میں زور شور سے مذاکرات چل رہے ہیں دونوں اس پر متفق ہوگئے ہیں کہ ٹیکس بڑھانے کی حد ساڑھے چار لاکھ سالانہ ڈالر رکھی جائے- ملیئن ڈالر سالانہ کمانے والے 11-1/2٪ ٹیکس ادا کرینگے جب کہ باقی کا ٹیکس ساڑھے چار سے پانچ فیصد بڑھ جائگا- وارن بفے  امریکہ کے امیر ترین شخص جسکی سالانہ آمدن 66 ملین ڈالر ہے اور اسکا ٹیکس اپنی سکرٹری سے کم تھا اب دو  ملین ڈالر زیادہ ٹیکس ادا کریگا  صدر اوبامہ اس کامیابی کا جشن منانے اپنے بیوی بچوں کے پاس ہوائی چلے گئے ہین جاتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ یہ ایک انتخابی وعدہ تھا جو وہ پورا کر رہا ہے،کل انکو اس بل پر قانون بنانے کےلئے دستخط کرنے ہیںاب وہ راتوں رات واپس آتے ہیں یا بل انکے پاس جاتا ہے -یہ کل بتایا جائے گا- کیونکہ اس پر دستخط کل ہونے چاہئں اور یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے-
 چونکہ یہ مضمون اردو میں ہے اسلئے چونکہ اہل پاکستان اور بھارت کی زندگی میں ٹیکسوں کی ادائیگی کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اور خلیجی و عرب ممالک میں کام کرنے والے ٹیکس سے مستثنی ہیں -لیکن یہاں کسی کا باپ بھی ٹیکس کی ادائیگی میں کوئی ہیر پھیر نہیں کر سکتا اور ایک سے ایک نامی گرامی لوگوں کو زبردست سزائیں دی جاتی ہیں اسمیں حالیہ مثال مارتھا     اسٹیورٹ اور کینیڈئین ٹائی کون رابرٹ بلیک کی ہے جنکو ٹیکسوں میں ہیرا پہیری کرنے پر جیل کاٹنی پڑی- جبکہ پاکستان میں ٹیکس چوری ایک عام بات ہے اربوں ، کھربوں میں کھیلنے والے برائے نام ٹیکس ادا کرتے ہیں پچھلے دنوں  نامی گرامی پاکستانی سیاستدانوں کی ٹیکس ادائیگی کی خبر آئی تھی جو چند ہزار سے زیادہ ہرگز نہیں تھی- یہی وجہ کہ ملک غریب سے غریب اور ایک طبقہ امیر سے امیر ہوتا جارہا ہے- ایک مرتبہ کراچی کے ایک مشہور ڈاکٹر کے متعلق معلوم ہوا کہ تکیوں اور گدوں میں نوٹ برے ہوئے ہیں  اب زمین میں گاڑنے  والی بات تو نہیں ہو سکتی بہت سے ساہوکار اور تاجر کالے دھن کو سفید کرنیکی کوششوں میں ہوتے ہیں- اور زیادہ سے زیادہ خرچ کرتے ہیں
 امریکہ میں اس کا سدباب یوں کیا جاتا ہے کہ فلاحی ادارے ٹرسٹ وغیرہ کھول دئے جاتے ہیں ،بڑے بڑے امدادی عطئے دئے جاتے ہیں تمام بڑے بڑے ہسپتالوں ، مخیر اداروں کو خطیر عطیات دئے جاتے ہیں تیسری دنیا کے ممالک میں چلنے والے این جی اوز بھی اسی امداد سے چلتے ہیں- دیگر بھی کئی طریقے ہیں لیکن حکومت ایک مقررہ ٹیکس برابر لیتی رہتی ہے جو بعد میں پنشن یا سوشل سیکورٹی کی صورت مٰیں دیا جائیگا- 
 سال نو کی آتش بازیاں اور دیگر ہنگامہ میں پوری قوم کی  ساری توجہ اس چوٹی کو سر کرنے پر لگی ہوئی تھی - اگر یہ چوٹی سر نہ کی جاتی تو 
بقول ڈیموکریٹ کے امریکہ ایک شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو جائے گا قرضوں کی ادائیگی مشکل ہوجائیگی اور ملک شدید کساد بازاری کا شکار ہوجاتا- اوبامہ اور جو بائڈن کے چہرے خوشی سے کھلے پڑ رہے تھے اوبامہ کے لئے یہ بڑی کامیابی ہےکہ  کانگرس نے ااس بل کو منظور کر لیا ہےاب متوسط درجے پر ٹیکس نہیںبڑھایا جائگا اس بل کی حمایت میں 257 ووٹ اور مخالفت میں 167 ووٹ آئے ہیں اوبامہ نے کہا کہ اقتصادیات کو مستحکم کرنیکے لئے یہ محض ایک قدم ہے، امیر لوگوں کے ٹیکس میں اضافہ ہوگا اور حکومتی امداد میڈی کئیر اور سوشل سیکورٹی میں کمی نہیں کی جائیگی-آج جیسے ہی خبر آئی سٹاک مارکیٹ کا بھاؤ انتہائی تیزی سے چڑھ گیا امریکہ کے علاوہ تمام دنیا کے سٹاک مارکیٹ پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور کافی تیزی دیکھی گئ-  اس سے طالبعلمون کو ٹیکس پر کٹوتی ، توانائی کی صاف فراہمیی اور دیگر بہت کافی سہولیات حاصل ہونگی  اب یہ وقت بتائے گا کہ آیا یہ فیصلہ امریکہ کے مالیاتی مفاد میں ہوا ہے  یا محض ایک بڑا ڈرامہ ہے؟







وقت سب سے قیمتی سرمایہ



نَّ فِى خَلۡقِ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَـٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّہَارِ لَأَيَـٰتٍ۬ لِّأُوْلِى ٱلۡأَلۡبَـٰبِ 
190 آل عمران
بیشک آسمان اور زمین کی تخلیق میںاور  رات دن کے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں-
 میرا یہ مضمون اسی وقت کی پیمائش سے منسلک ہے مجھے یقین ہے کہ ایک مکتبہ فکر سے یہ اعتراض یقینا ہوگا کہ یہ عیسوی سال ہے - حالانکہ ہمارے تمام نظام الاوقات اسی سال کے حساب سے اور اسی کیلنڈر کے حساب سے طۓ پاتے ہیں اور بیشتر کو یہ تک یاد نہیں ہوگا کہ آج ہجری کیلنڈر کا کونسا مہینہ تاریخ اور سال ہے بہرکیف سال نو کی بہترین خواہشات کے ساتھ
عابدہ رحمانی




Journey of life: قا ضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے

Journey of life: قا ضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے: قاضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے عابدہ رحمانی نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز یہی ہے رخت سفر میر کاررواں کیلئے ...