Friday, May 6, 2016

بہار اردو یوتھ فورم کے سیمینار میں عابدہ رحمانی کا مقالہ پیش کیا گیا۔۔


Firstly you see News File & then go to www.urduyouthforum.org and see the video, Please release this news in News Papers of Pakistan & others .I have not any email id of Pakistan & others International News Papers.
پٹنہ:معروف ادبی لسانی سماجی اورثقافتی تنظیم اورحکومت بہارسے رجسٹرڈ’’ بہاراردویوتھ فورم ‘‘کے زیراہتمام اردوزبان وادب کی نشرواشاعت میںانٹرنیٹ کاکردارکے موضوع پرپہلی بارعالمی سمینارکاانعقادکیاگیاجس میںریاست وملک وبیرون ممالک کے ناموراسکالروںنے اس اہم موضوع پراپنے پرمغزمقالات پیش کئے،اورجدیددورمیںانٹرنیٹ کی اہمیت وافادیت پربھرپورروشنی ڈالی۔بہاراردواکاڈمی کے کانفرنس ہال میں منعقدہ اس عالمی سمینارمیں ماہرین نے اردوزبان وادب کی نشرواشاعت میں انیٹر نیٹ کے کردارپرتفصیلی روشنی ڈالی۔بہار اردویوتھ فورم کے صدراورمعروف ملی سماجی اورسیاسی رہنماجاویدمحمودنے اپنے استقبالیہ کلمات میںاپنی نوعیت کے اس پہلے سمینارمیںکثیرتعدادمیںماہرین انٹرنیٹ ،ناموراسکالروں،صحافیوںاوردانشوروںکی شمولیت پراظہارمسرت کرتے ہوئے ان کاشکریہ اداکیااوریقین دہانی کرائی کہ مستقبل قریب میںبھی اس طرح کے سمینارکاانعقادکیاجائے گااورپروگرام کواوربہتربنایاجائے گا۔کولکاتہ سے تشریف لائے اردوکے معروف اسکالرخورشیداقبال نے اپنے تحقیقی مقالہ میںبتایاکہ ہم آج کسی نہ کسی شکل میںانٹرنیٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے اس حقیقت کاانکشاف کیاکہ سب سے پہلے عرب اورایران نے خط نسخ کے ذریعہ کمپیوٹر پردستک دیامگراردوکمپیوٹنگ کے خواب کوشرمندہ تعبیرکرنے میںقدرے تاخیرہوئی کیونکہ ہم کسی بھی قیمت پرنستعلیق کوچھوڑنے کیلئے تیار نہیںہیں۔خورشیداقبال نے اردوکمپیوٹنگ کی تاریخ پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے مرزاجمیل احمدنے اسے ڈیولپ کیااورانہوں نے نوری نستعلیق کے نام سے اردوفونٹ کاایجادکیا انہوں نے بتایاکہ سب سے پہلے مملکت خدادادپاکستان کے کراچی شہرسے شائع ہونے والے کثیرالاشاعت اردوروزنامہ’’جنگ‘‘نے نوری نستعلیق میں1991میںاخبارچھاپا۔بعدمیںدیگراخبارات نے اس کی تقلیدکی ۔امریکہ میںمقیم اردوکے معروف اسکالرتنویرپھول نے اپنامقالہ پاورپوائنٹ کی مددسے پیش کیا۔انہوں نے اپنے مقالہ میں اس بات کی وضاحت کی کہ ترقی یافتہ دورمیںبغیرانٹرنیٹ کے ہم ترقی کے دوڑمیںشامل نہیں ہوسکتے ۔اگرہم انٹرنیٹ سے  منسلک ہیں تودنیاکے تمام واقعات حادثات سیاسی وسماجی تبدیلی سے باخبررہیںگے۔کناڈہ میںمقیم پاکستانی نژادخاتون ادیبہ عابدہ رحمانی نے اپنے مقالہ میںانٹرنیٹ کووقت کی اشدضرورت قراردیتے ہوئے اردوآبادی کواس سے بھرپوراستفادہ کرنے کی اپیل کی ۔انہوں نے کہاکہ 21 ویں صدی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدی ہے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے دنیا کو سمیٹ کر ایک گلوبل ویلج ،چھوٹے سے گاؤں میں بدل دیاہے -کمپیوٹر کے بعد انٹرنیٹ کے اجرائ�  نے دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا اور دنیا کو نت نئے طرز بیان، طور طریقوں اور الفاظ سے روشناس کر دیا ہے وہ معلومات، خط و کتابت جسکی دنیا میں ترسیل ایک دقّت طلب مسئلہ ہوا کرتا تھا وہ پلک جھپکتے کمپیوٹر کے ماؤس کی ایک کلک سے دنیا کے آر پار پہنچ جاتی ہیں۔انٹر نیٹ سے حاصل ہونیوالے فوائد اور نقصانات کی فہرست کافی طویل ہے--
کمپیوٹر اب جیسے ہماری زندگی کا جزو لا ینفک بن گیا ھے اسکی روز افزوں ترقی اور نت نئے اضافوں نے بنی نوع انسان کو ہکا بکا کر دیا ہے- اتنے اضافی اور نت نئے اپپس apps ہوتے ہیں کہ عقل دنگ بلکہ ماؤف رہ جاتی ہے کمپیوٹر کی ہر بنانے والی کمپنی کی کوشش ہیکہ کچھ ایسا نیا پن لے آئے جو پچھلے میں نہ ہو- مجھے سب سی زیادہ ای-میل نے متاثر کیا مجھے اسکی اشد ضرورت بھی تھی کیونکے میرے بچے امریکا میں زیر تعلیم تھے -اس زمانے میں عام خط کو امریکا پہونچنے میں دس بارہ روز لگتے تھے ، ٹیلیفون کی کال بھی مہنگی تھی 3 منٹ کی کال 155 روپے کی تھی جو اسوقت کچھ قیمت رکھتے تھے - واپسی کی بعد پہلا کام یہ کیا کہ IBM کا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر خریدا اور بیٹے نے اس پر ڈائیل اپ انٹرنیٹ کی لائن لگوائی- UNDP کے تعاون سے  SDNPK کے نام سے کلفٹن میں انکا دفتر تھایہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں  بلکہ پورے پاکستان میں واحد اور اولین انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرنے والے تھے- ہم انکے معدود چند صارفین میں سے تھیاس زمانے میں ابھی عام لوگ اس سہولت سے ناواقف تھے- مجھے تو اسمیں بیحد لطف آیا- بچوں ،بھایء ، رشتہ دار اور دوستوں  سے باقاعدہ رابطہ استوار ہوا ابھی بمشکل دو چار ہی کے پاس انٹر نیٹ کی سہولت تھی --دیگر کو ترغیب دی کہ وہ اس سہولت سے مستفید ہوں- اسی کے ذریعے اہنے انگریزی مضامین بھی لکھے اور جب اخبارات کو یہ سہولت ملی تو بھیجنے شروع کیے،اس طرح کمپیوٹر سے دوستی کچھ اتنی بڑھی کہ ہم دونوں  ایک جان دو قالب ہو گئے ! تم ہوئے ہم ،اور ہم ہوئے تم  ،والا حال ہوا-- اسلئے میں نے اپنے ایک کمپیوٹر کا نام رکھا" میرا نیا دوست "
روزنامہ قومی تنظیم کے ایڈیٹر ایس ایم اشرف فریدنے کہاکہ زبان کے فروغ کیلئے جدیدتکنیک سے آہنگی ضروری ہے۔اگراردوصحافت انٹرنیٹ سے نہیںجڑتی تواردواخبارات کافی پیچھے رہ جاتے ۔آج روزنامہ قومی تنظیم پٹنہ،رانچی اورلکھنؤسے بوقت شائع ہونے والا کثیرالاشاعت روزنامہ ہے۔جوویب سائٹ پر دستیاب ہے۔روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹراحمدجاویدنے کہاکہ کل کادوراسی کاہوگاجوانٹرنیٹ کی تکنیک سے باخبرہوگاکیوںکہ دنیاتیزی سے پیپرلیس ہورہی ہے۔معروف صحافی ومصنف اشرف استھانوی نے اطلاعاتی انقلاب کے اس دورمیںانٹرنیٹ وقت کی اشدضرورت قراردیتے ہوئے اردوآبادی سے گذارش کی کہ وہ انٹرنیٹ کاضروراستعمال کریںتاکہ دنیاسے آپ کارشتہ براہ راست بنارہے۔اشرف استھانوی نے کہاکہ اردوکے فروغ میںانٹرنیٹ کااہم کردارہے۔سوشل میڈیاکے توسط سے بالخصوص فیس بک اورواٹس اپ کے ذریعہ ہم اپنے نظریات افکارخیالات اپنی تہذیب وتمدن اوراپنی زبان کے فروغ میںاہم کرداراداکرسکتے ہیں۔مولاناآزادریونیورسٹی کولکاتہ کے ریجنل ڈائریکٹرڈاکٹرامام اعظم نے وکی پیڈیاکی خصوصیات پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔اردوکے نامورادیب ڈاکٹرسیداحمدقادری نے انٹرنیٹ کی افادیت سے اردوآبادی کوباخبرکرتے ہوئے اردوکے دانشوروںسے اپیل کی کہ اپنے خیالات وتاثرات انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیاتک پہنچاسکتے ہیںجس کاہمیں بھرپوراستعمال کرناچاہئے۔
جاپان کے ناصرناکاگاوانے اپنے مقالہ میںکہاکہ1822 میںجام جہاں نما(اردوکاپہلااخبار)کی اشاعت کے وقت کسی نے سوچابھی نہیں ہوگاکہ ایک وقت ایسا بھی آئے گاکہ اخبارات اسم بامسمیٰ ’’جام جہاںنما‘‘ ہوںجائیںگے۔ 21ویں صدی میںسائبرورلڈکی دریافت نے اخبارات ورسائل کی دنیا میںانقلاب برپاکردیاہے۔ دنیااب ہماری انگلیوں کے اشاروںپرگھوم رہی ہے۔ سائبرورلڈکی کھوج اوراس کی ترقی نے نہ صرف سرحدوں کے فرق کومٹادیاہے بلکہ تہذیبی ولسانی افتراق کی دیواریں بھی مسمارکردی ہیں۔ سائبرکی دنیا میں سفرکرنے کیلئے نہ توکسی پاسپورٹ کی ضرورت ہے اورنہ ہی ویزاکی ،بس چندکلک اورانگلیوںکے اشارے پردنیاہماری اسکرین کے سامنے ہوتی ہے۔،
پاکستان کی محترمہ عینی نیازی نے اپنے مقالہ میںکہاکہ ہرانسان کی خواہش ہوتی ہے کہ جس چیز کووہ جذبہ دل سے طلب کرے وہ فوراًحاضرہوجائے منزل کیلئے دوگام چلے سامنے منزل آجائے انٹرنیٹ کی دنیا اسی خواہش کوپوراکرتی نظرآتی ہے موجودہ دورمیں سائنس کی بے شمار ایجادات کے ساتھ انٹرنیٹ کپیوٹر نے ہماری زندگیوں میں سہولتیںفراہم کی ہیں وہاں شعروادب کی دنیا بھی اس کی احسان وممنون ہے۔
پاکستان کی معروف ادیبہ محترمہ صبانازکامقالہ اسکرین کے ذریعہ پیش کیاگیاجس میںانہوں نے کہاکہ دورِجدیدمیں انٹرنیٹ ہماری بنیادی ضرورت کالازمی جزبن چکاہے۔ اس میں اب کوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کادورہے آج کوئی فیلڈیسی نہیں رہی جس میں کسی نہ کسی مرحلے پر کمپیوٹر بالخصوص انٹر نیٹ کاعمل دخل نہ رہاہو۔ پہلے پہل اپنے خیالات کے اظہار کیلئے خطوط تحاریر کیے جاتے تھے جووصول کنندہ کوکئی کئی ہفتوں اورماہ بلکہ اکثرسال میں وصول ہوتے تھے لیکن آج انٹرنیٹ نے ہمیں اتناگلوبولائز کردیاہے کہ خط کی جگہ ای۔ میل نے لے لی ہے۔ یہ سب نت نئی ٹیکنالوجی کے سبب ہی ہے جس نے ہمیں انتظارکی جھنجھٹ سے آزادکرایااور پوری دنیا کوگلوبل ویلیج بناڈالا۔
ممبئی کے سیدنثاراحمدنے اپنے مقالہ میں کہاکہ انٹرنیٹ اورانٹرنیٹ پرسماجی ابلاغ کواسٹرانگ میڈیاتسلیم کیاجاچکاہے۔ پرنٹ میڈیا کامقام بھی کچھ کم نہیں ہے، مگردستیابی کی بنیادپرانٹرنیٹ کافی مقبول ہوچکاہے۔ اب خواہ اخبارہوںکہ رسالے، لغات ہوکہ دائرۃ المعارف، سائٹ ہوکہ بلاگ ہوکہ بروشر، تمام کے تمام انٹرنیٹ کے ذریعہ حاصل کرنااور پڑھنا، لکھنا اور اپ لوڈ ڈائون لوڈ کرناایک معمولی بات ہوگئی ہے۔ انٹرنیٹ پر علم کے ہرشعبہ میں معلومات کاحاصل ہوناایک عظیم نعمت سے کم نہیں۔
دہلی کے جناب غوث سیوانی نے اپنے مقالہ میں کہاکہ عہدحاضرسائنس اور ٹیکنالوجی کادورہے اورانسانی زندگی کاانحصار بہت حدتک مشینوں پر ہوچکاہے۔ انسانوں کی طرح ان کی زبانیں بھی جدیدٹیکنالوجی پرمنحصرہوتی جارہی ہیں۔ اس وقت حالات ایسے ہیں کہ دنیاکی جوزبان جدیدٹکنالوجی سے دورہوگی وہ تاریخ کاحصہ بن جائے گی۔ اس لئے آج ضرورت بھی ہے کہ زبانوں کوعہدحاضرکے تقاضوں سے ہم آہنگ کیاجائے۔ اردوزبان دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے۔ اسے بولنے اور سمجھنے والوں کی بڑی تعدادموجودہے اور اسے لکھنے پڑھنے والے بھی کم نہیں ہیں۔اردوزبان میں علمی کتابوں کابڑاذخیرہ موجودہے مگرآج ضرورت اس بات کی ہے کہ اردوزبان کوعہدحاضرکی نئی دریافت انٹرنیٹ سے منسلک کیاجائے۔ خوشی کی بات ہے کہ اہل اردو نے اس کام کاآغازبھی کردیاہے اورجہاں ایک طرف اردوکے سینکڑوںاخبارات ،میگزین انٹرنیٹ پراپنی سائٹس رکھتے ہیں وہیں بہت تیزی سے انٹرنیٹ لائبریریاںبھی اپنی جگہ بناتی جارہی ہیں۔
حیدرآبادکے سیدفاضل حسین پرویز،دہلی کی محترمہ مسرت انجم،اترپردیش کے انجینئرمحمدفرقان سنھلی،دہلی کے  فیروزہاشمی،عبدالحئی اورنوئیڈاکے ڈاکٹر محمدآصف،راجستھان کے عمران عاکف خان کا مقالہ اسکرین کے ذریعہ پیش کیاگیاجس سے لوگوںنے بھرپوراستفادہ کیا۔
معروف ادیب اورکثیرالاتصانیف مصنف ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈیافتہ ڈاکٹرمناظرعاشق ہرگانوی نے اردوکے نوواردصحافیوںاورقلمکاروںسے اپیل کی کہ وہ انٹرنیٹ کاضرور استعمال کریں،اس کے رازونیازسے ضرورباخبرہوںاگرانٹرنیٹ سے آپ منسلک ہیںتوپوری دنیاآپ کی مٹھی میںہے۔جلسہ کے مہمان ذی وقاراور بہاراردواکاڈمی کے سکریٹری مشتاق احمدنوری نے بہارمیںپہلی باراس اہم موضوع پرعالمی سمینارکے انعقادپراردویوتھ فورم کے صدرجاویدمحمودکومبارکباددیتے ہوئے کہاکہ آج کے سمینارمیںجومقالے پڑھے گئے ہیںاس کے نتائج دورس ہوںگے۔جلسہ کی نظامت اردوہندی کے معروف اسکالرقاسم خورشیدنے بحسن خوبی انجام دیا۔جلسہ سے  کامران غنی،ایس اے حق نے بھی خطاب کیا۔مہمان خصوصی ڈکٹرتنویرحسن نے انٹرنیٹ کے موضوع پرتاریخی سمینارکے انعقادکیلئے اردو یوتھ فورم
  کے روح رواںکی حددرجہ ستائش کی۔جناب شاہد جمیل نے اس موقع پرانٹرنیٹ  کے موضوع پر اپنی مشہور غزل پیش کی۔اس موقع پراس شعبہ میں گراں قدرخدمات انجام دینے والے قلمکاروںاوراس کے ماہرین کی عزت افزائی شال پیش کرکی گئی۔ایوارڈیافتگان میںروزنامہ فاروقی تنظیم کے سب ایڈیٹر اورانٹرنیٹ کے ماہرمحمدایوب،ارون کمارپاٹھک،مطیع الرحمان باری ،خورشیداقبال ،سیدوسیم الحسن دانش اورشمس الدین انصاری وغیرہم کے نام قابل ذکرہے۔
چار گھنٹہ سے اوپر چلے اس پروگرام کوویڈیواسٹریمنگ کے ذریعہ انٹرنیٹ سے جوڑدیاگیاجس سے پوری دنیا میں پھیلے اردوکے شائقین نے پروگرام کودیکھا۔ یہ ویڈیو بہاراردویوتھ فور م کے ویب سائٹ پر موجودہے۔


                                        مطیع الرحمان باری                                            سکریٹری
                                بہاراردویوتھ فورم
                                رابطہ:9308054929


On Sat, Apr 30, 2016 at 9:10 PM, Jawaid Mahmood <biharurduyouthforum@gmail.com> wrote:
Many many thanks for your email,I will reply to you if need.
Kindly visit my websites : www.urduyouthforum.org
www.imrozehind.com
www.muslimyouthmajlis.org


Monday, April 25, 2016

چلو بھر پانی۔۔


چلو بھر پانی----- عابدہ رحمانی
چلو بھر پانی؛ میں ڈوب جاؤ یا ڈوب مرو،اردو زبان کا مشہور محاورہ ہے اور زبان زد عام ہے ۔عام طور سے یہ غیرت دلانے اور شرمندہ کرنیکے لئے کہا جاتاہے اسلئے کہ چلو بھر پانی میں ڈوبنا تو درکنار کوئی گیلا بھی نہیں ہوسکتا ، البتہ پیاس سے تڑپتے ہوئے شخص کے لئے چلو بھر پانی بھی کافی ہوتا ہے ۔۔
امریکی ریاست مشی گن کے قصبے فلنٹ ' میں پانی کی آلودگی نے پورے امریکہ میں ایک ہلچل اور تشویش پھیلادی۔۔پانی اس حد تک آلودہ تھا کہ اسکا رنگ بھورا تھا اور اسمیں سیسے کی آمیزش خطرناک حد تک تھی۔۔اس سے کئی لوگ بیمار اور متاثر ہوئے۔۔اسطرح کا ألودہ پانی اور وہ بھی امریکہ میں پورے ملک میں ایک زبردست ہنگامہ مچ گیا ۔۔ اسکو نسلی ، طبقاتی رنگ بھی دیا گیا کیونکہ اس علاقے میں بیشتر أبادی سیاہ فام لوگوں کی ہے ۔۔ مشہور و معروف حق کی أواز بلند کرنیوالے ہالی ووڈ کے متنازغہ فلمسازاور ہدایت کار مائیکل مور کا تعلق بھی اسی قصبے سے ہے ۔۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے یہاں کے باشندوں کو سہارا دینے کیلئے یہاں ایک صدارتی امیدواروں کا مبا حثہ رکھا۔۔ابھی حال ہی میں ان افسران کا کڑا احتساب کیا گیا ،انکو معطل کیا گیا اور کڑی سزائیں تجویز ہوئیں وہ جو فلنٹ میں پانی کی رسد اور ترسیل کے ذمہ دار تھے اور جنکی مجرمانہ غفلت کے باعث یہ افسوسناک واقع ظہور پذیر ہوا۔۔
 اس واقعے سے مجھے اپنے کراچی میں رہائش کے وہ تکلیف دن یادآگئے جب پانی کی حصول کی کوششیں زندگی   کا ایک اہم اور انتہائی تکلیف دہ حصہ تھا اسپر تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے
 اب بھی اکثر راتوں کو میں گھبرا کر اٹھ جاتی ہوں کہ میری ٹنکی میں پانی نہیں آیا، یا میں پمپ چلانا بھول گئی ہوں ۔۔یہ بھیانک خواب مجھے جو آتا ہے اسکی کئی وجوہات ہیں- 
 میری زندگی کا آدھا وقت پانی والوں، واٹر بورڈ کے انجینئروں کو فون کرنے اور ان سے ملاقاتیں کرنے میں گزرتا،میری فون بک میں آدھے نمبر پانی والوں کے ہوتے تھے، والو مین valve manتو جیسےہمارا خاص الخاص شخص  تھا جسے خوش رکھنےکی ہر ممکن کوشش ہوتی اور یہ سو فیصد حقیقت ہے،ہرگز ہرگز مبالغہ آرایئ نہیں ہے اور پھر منہ مانگے ٹینکروں کا حصول اللہ کی پناہ اور اس مشقت میں کتنی تکالیف اٹھایئ ہیں وہ میں اور میرا رب یا میرے گھر والے جانتے ہیں ۔ جب میرے ہاں رہائشی مہمان أتے تھے تو سب سے زیادہ پریشانی یہ ہوتی تھی کہ پانی کی رسد میں فراوانی کیسے کی جائے ۔۔؟ ایسی صورتحال اکثر پیش أئی کہ اوپر نیچے کی دونوں ٹنکیاں پونچھ پانچھ کے رکھ دیں اور پھر مہنگے داموں پانی کے حصول کے لئے دوڑتے رہے۔ افسوس کی اسوقت پانی کے ڈسپنسر اورپانی کی بوتلیں میسر نہیں تھیں۔۔
ٹنکی میں گرتےہوئے پانی کی آواز سے مدھر آواز میری زندگی میں کوئی نہیں تھی اور اس روز کی خوشی کا کیا عالم ،جب اوپر نیچے کی دونوں ٹنکیاں بھر جاتیں اور میرے پیڑ پودے بخوبی سیراب ہو جاتے، پاکستان کی زندگی بھی کیا خوشیوں سے بھر پور ہوتی ہے- پانی آنے کی خوشی ان میں سے ایک تھی- اور اسکو حاصل کرنے کے لیےکئ فون کال 'واٹر بورڈ کےکئ چکر اور والو مین کے مختلف مشورے شامل ہوتے- قسم قسم کے suction pump ،جا بجا کھدائیاں لمبے لمبے پائپ اور اگر پانی آجائے تو کیا کہنے!! جو ہالیجی کا گدلہ پانی آتا تھا اسکو پینے کے قابل بنانا بھی ایک کار دارد—ابال کر اس میں پھٹکڑ ی پھیری جاتی ، جب گدلہ نیچے بیٹھ جاتا تو صاف اوپر سے نتھار لیا جاتا- یہ تمام تگ و دو میری زندگی کا ایک لازم حصہ تھا — اسکے باوجود واٹر بورڈ کے پانی کے ایک بھاری بل کی ادائیگی بھی لازم تھی  یہ سوچے بغیر کہ سال میں کتنی مرتبہ واقعی ہمیں انکی جانب سے پانی میسر تھا ،کیونکہ ہم ایک قانون پسند شہری ہیں اور ہمیں احتجاج کرکے کسی قسم کے انصاف کی امید نہیں تھی-  پھر بھی ہم خوش تھے کہ زندہ تو ہیں-کیونکہ اس پانی کے فراہمی پربعد میں اس  سیاسی پارٹی کی  اجارہ داری تھی  جن سے ٹکر لینا ہم جیسے بے  بسوں کے بس میں نہیں تھا۔۔
اب بھی کراچی میں وہی حال ہے شہر کاأدھا ٹریفک پانی کے ٹینکروں کا ہوتا ہے۔۔پورا ٹینکر مافیا ہے جسکی شہر میں اجارہ داری ہے۔کراچی کے وہ باشندے اور شہری جنکے ہاں پانی کی فراوانی ہے خوش قسمت ترین شہری کہلانے کے حقدار ہیں۔۔

پچھلے سال یہاں امریکہ میں گھر میں گرم پانی کی لائن میں مسئلہ ہوا ایک عجیب پریشانی، گرم پانی کے بغیر کیسے گزارہ ہوگا؟ انشورنس کمپنی نے ہوٹل لے جانے کی پیشکش کی تاکہ مسئلے کے حل تک وہیں رہا جائے، اسے کیا معلوم کہ ہم پاکستانی ہیں اور کھال موٹی ہے بلکہ ایسے بحرانوں کو معمولی جانتے ہیں - لیکن جو بچے یہاں کے پیدا شدہ ہیں اور بقول کسےABCD ہیں یہ تو آپ سب جانتے ہی ہونگے( born confused desis American) -وہ حیران پریشان کہ اس آفت کا مقابلہ کیونکر ہوگا- وال مارٹ سے ایک پوچے کی بڑی با لٹی ڈھونڈھ کر خریدی گئی پتیلی میں پانی گرم کیا جاتا اور یوں گزارہ ہوا -What a hassle?
24 گھنٹے، نہ رکنے  والا پانی کہاں سےآتاہے اور کیسے آتا ہے ہمیں فکر اور ترددکرنے کی کوئی ضرورت نہیں،ہمیں مطلب ہے تو اس سے کہ اس میں ہرگز کوئی رکاؤٹ نہیں ہوگی اور یہ صاف پانی ہوگا- ہاں لیکن یہاں پر پانی بھاری اور سخت ہے جسکے لئے ایک مشین لگی ہوئی ہے ، ساتھ میں ایک جدید فلٹر لگا ہوا ہے ۔اور یہی وجوہات ہیں کہ زندگی کی انہی آسائشوں اور سہولتوں کے حصول کے لئے سات سمندر پار ہم لوگ اپنا وطن ، اپنی تہذیب و ثقافت کو پیچھے چھوڑ آئے اور یہاں ،جہاں دین بھی داؤ پر لگا ہوا ہے- مختلف ذرائع سے ہمیں ان ممالک سے روکنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن بھلا ہم کہاں باز آنے والے ہیں- اب جب اپنے مادر وطن جانا ہوتا ہے تو سب سے زیادہ احتیاط پانی کی جاتی ہے ورنہ بد ہضمی لازم ہے-
پانی انسان کی ایک بنیاد ی ضرورت ہے اس پانی کی تلاش میں قافلے سرگرداں رہتے تھے اورجہاں پانی مل جاتا وہیں بود و باش اختیار کرتے اسی طرح شہر اور بستیاں آباد ہوئیں پانی واقعی زندگی ہے- انسانی جسم کی ساخت میں 80 فیصد پانی ہے اور اس جسم کی بقاء کا انحصار بھی ہوا،پانی اور غذا پر ہے- اسی اصول کے مطابق دنیا کی بیشتر أبادی دریا، جھیلوں ، تالابوں اور چشموں کے گرد و نواح میں ہے۔۔
ابراہیم علیہ السلام جب بی بی حاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاہ سرزمین پر چھوڑ آۓ توبی بی حاجرہ پانی کی تلاش میں صفا ومروہ کے درمیان سرگرداں تھیں، دیکھا کہ ننھے اسماعیل کی ایڑیوں تلے اللہ کی قدرت سے  پانی کا چشمہ  پھوٹ پڑا ہے- انھوں نےکہا’ زم زم" رک جا اے پانی یہیں رک جا اور اپنے ہاتھوں سے اس کے گرد بند باندھا -آیک قافلہ بھی یہیں آکر رک گیا اور یوں یہ بستی بسی اور ایسے بسی کہ مرجع خلائق ہوگئی- اللہ تبارک و تعالیٰ کو بھی یہ بستی اتنی بھائی کہ اسکو اپنے محترم گھر کے لیے چن لیا اس پانی میں اسقدر خیر و برکت ڈال دی کہ ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی اسکی سیرابی میں فرق نہیں آیا— اس پانی میں معدنیاتی تاثیر انتہائی مشفی ہے موجودہ سعودی حکومت نے اس پانی کی ترسیل کا بہترین انتظام حرمین شریفین میں کیا ہے ۔ حرم شریف میں تو یہ کنوواں موجود ہے اور زم زم کے پانی کی جانچ پڑتال کی لیبارٹری ہے تاکہ پانی میں کسی قسم کی ألودگی نہ ہونے پائے لاکھوں کے حساب سے صاف ستھرے کولر حرمین میں موجود رہتے ہیں ۔۔جس سے لاکھوں زائرین روزانہ فیض یاب ہوتے ہیں ۔۔
دنیا میں اسوقت صاف پانی کی فراہمی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے ،دریا ، کنوئیں ، ندیاں ألودگی کے مسئلے سے دوچار ہیں ۔کتنے ممالک ہیں  جہاں کی أبادیوں کو صاف اور پینے والا پانی دستیاب نہیں ہے ۔ عرب اور مشرق وسطے کے ممالک نے سمندر کے پانی سے نمک ہٹاکر  استعمال کے قابل لانیکے لئے بڑے بڑے پلانٹ لگائے ہیں۔ وہاں پر پینے کے پانی اور پٹرول کی قیمت یکساں ہے ۔اس لحاظ سے کینیڈا اور امریکہ کی شمالی ریاستوں میں میٹھے پانی کی وسیع و عریض جھیلیں پانی کا ایک بڑا خزانہ اور ذریعہ ہیں۔۔
پانی سے زندگی ہے اللہ تعالی قرأن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ہم نے تمام زندہ چیزوں کو پانی سے پیدا کیا ہے ۔۔ اسلئے زندہ اشیاءکی زندگی پانی کی مرہون منت ہیں۔۔اور مصیبت کے وقت ایک چلو بھی کافی ہو جاتا ہے۔۔


-- 

Saturday, April 16, 2016

کچھ بیان چائے کا


 کچھ بیان چائے کا

از

عابدہ رحمانی


چائے چینیوں کی ایجاد ہے لیکن وہ یاسمینی قہوہ شوق سے پیتے ہیں کیتلی میں دم کرکے بجائے پانی کے قہوہ پیتےرہتے ہیں شاید یہ وجہ ہے کہ چینیوں میں موٹاپا نظر نہیں آتا۔۔ قہوہ یا سبز چائے کی ہر قسم کی میں بھی رسیا ہوں بلکہ سبز چائے تو میری گھٹی میں پڑی ہے کیوں کہ دادی جان نے پہلی خوراک ایک چمچ یا چند قطرےسبز چائے پلائی تھی--شمالی امریکہ میں جب پہلی مرتبہ" چائے" کاا شتہار دیکھا اور آرڈر دیا تو وہ مصالحہ دار چائے نکلی جو وہاں پرچائے   کے نام سے مقبول ہے -

Chai

 teavana


ایک بڑا اچھا سٹور بلکہ فرنچائز ہے اسمیں چائے کے ایک سے ایک ذائقے ، برانڈ اور خوشنما کیتلییاں ہیں شاید دوبیئ وغیرہ میں بھی ہوں-

Japanese tea party

جسطرح سے انجام پاتی ہے اسمیں انکی تہذیب و ثقافت کی نشاندہی ہوتی ہے کیا خوبصورتی سے کیمونو پہنے ہوئے جاپانی لڑکیاں اس رسم کو ایک عبادت کی طرح  انجام دیتی ہیں-یہ پینے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔

جب ہندوستان میں پہلی مرتبہ فوجیوں کو چائے سے متعارف کرایا گیا ،میرے ایک نانا جی جو انگریزی فوج میں صوبیدار تھے چھٹیوں پر آتے ہوئے ایک ٹین کا بڑا ڈبہ چائے کی پتی کا لائے - نانی نے اسکو خشک ساگ سمجھ کر چولھے پر چڑھا دیا ااسوقت وہ گھر سے باہر تھے جب واپس ہوئے تو نانی نے اس بدذائقہ ساگ کی شکائت کی اور نانا سر پیٹ کر رہگئےکیونکہ یہ انکا ایک مہینے کا راشن تھا - اب ہمارے گاؤں میں بچہ بچہ پیالی پر پیالیا ں چڑھاتا رہتا ہے اور تھرموس بھرے ہوئے گردش میں رہتے ہیں میرے بچوں کو میرے گاؤں کی میٹھی چائے بہت پسند تھی- اور کراچی والے، انکی رگوں میں تو خون کی بجائے چائے گردش کر رہی ہے  جب ہی تو خون بے قیمت ہوگیا -پنجاب والے اب بھی اچھے ہیں جہاں ابھی تک بخار میں بھی لسی پی جارہی ہے اور سندھ میں چورہ چائے کی قسمت کی چمک دمک ہے 

ایل اے میں ایک پرانی دوست کے ہاں گئی انہوں نے بڑے اہتمام سے کیتلی اور پیالیاں گرم  پانی سے کنگالیں ،پتی کیتلی میں ڈال کر ٹی کوزی لگا کر چائے دم کی ساتھ کاڑھا ہوا دودھ، امریکہ میں اتنا اہتمام دیکھ کر چائے کا لطف آگیا - حالانکہ امریکہ نے ہماری زندگیوں سے ان تکلفات کو کافی حد تک ختم کردیا ہے جہاں فاسٹ فوڈ نے ہمیں کھانے کی میز کی تکلفات سے آزاد کردیا ہے وہاں ٹی بیگ نے ٹی سیٹ کا تصور ختم کردیا ،بڑے بڑے مگوں نے چینی کےنفیس پرچ پیالیوں اور چائے کے سیٹوں سے بے نیاز کر دیا ۔ میری ایک عزیز دوست کافی میکر میں فلٹر ڈالکر چائے بناتی ہے اور میرے بھائی کے ہاں دودھ پتی کا رواج ہے۔

مجھے چھوٹی الائچی کی خوشبو والی بلکہ ہر معقول قسم کی چائے پسند ہے - حتی کہ ایر لائنز کی بے ذائقہ  چائے بھی چل جاتی ہے -پہلے چائے کے نقصان ہی نقصان تھے اب فائدے ہی فائدے ہیں -اور ہماری کشمیری گلابی چائے کیا کہنے اسکے - ڈھاکہ کے نواب فیملی کے ہاں جو کشمیری چائے بنتی تھی وہ اسقدر میوے اور بالائی والی ہوتی تھی کہ پینے سے زیادہ کھانے کےلائق تھی- 

میری اپنی چائے تو آجکل زیادہ تر مائکرو ویو میں بنتی ہے پھیکی چائے، لیکن ساتھ میں گلاب جامن' برفی یا کوئی اور میٹھا ہو تو کیا کہنے۔۔ اکثر دیکھنے والے حیران ہوتے ہیں چائے میں چینی نہیں لیکن میٹھے کا شوق خوب ہے۔اور سبز چائے میں الائچی کے ساتھ ایک چٹکی سونف اور اجوائن بھی ڈال دیتی ہوں ۔

ہماری چائے تو زیادہ تر کالی دودھ والی یا سبز چائے ہوتی ہے  لیکن مجھے دوسرے ذائقوں اور خوشبو کی چائے بھی پسند ہے ۔ ابھی چند روز پیشترhibiscus اور لیموں کی چائے بہت اچھی لگی ۔۔ میرے ایک بیٹے کو مختلف ذائقوں کی چائے کا بہت شوق ہے اسنے ایک مرتبہ مجھے سموکڈ ٹی smoked tea پلائی تو مجھے اپنے گاؤں کی لکڑیوں پر بنی دھوؤاں لگی چائے خوب یاد آئی۔۔ہم لوگ تو چائے ایک طرح سے اپنا کیفین کا نشہ پورا کرنیکے لئے پیتے ہیں ۔ایک مرتبہ ڈاکٹر نے ایک عارضے کے بعد مجھے ڈی کیف (بغیر کیفین)کے چائے پینے کا مشورہ دیا ۔ اسکے بہت سے برانڈ ہیں لیکن کیفین کے بغیر بہت ہی بے کیفی رہی اور معاملہ چل نہ پایا۔

دنیا بھر میں چائے کے باغات مختلف مقامات پر شہرت کے حامل ہیں مجھےان باغات کو ایک مرتبہ مانسہرہ میں دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ لیکن اصلی لطف ملائشیا کے کیمرون ہائی لینڈ کے  باغات کا آیا ۔۔ حد نظر تک پہاڑوں پر پھیلے ہوئے تہہ در تہہ ،مشینوں سے خوبصورتی سے تراشے ہوئےان باغات میں کہیں کہیں ہاتھوں سے پتے چننے والے اور والیاں بھی نظر آئیں۔۔ پھر انہی چائے کے پتوں کو مختلف مراحل سے گزار کر استعمال کے قابل کرنے والی کمپنی "بوہ" کا پرانا کارخانہ جسمیں اس تمام طریقہ کار کو پوری طرح دکھایا گیا ہے ۔۔ اسکا پورا سنٹر ہے جسمیں اسکی تصویری تاریخ اور یادداشتیں ہیں ۔دوکانیں اور ریسٹورنٹ بلندی پر واقع ہے اور سیاحوں کی آماجگاہ ہے ۔۔

تمام دنیا کے گرم مشروبات میں چائے کا اہم مقام ہے اسے پینے کا ہر ایک کا اپنا انداز اور پسند ہے ۔۔

مصری شیشے کے مگ میں چینی کےاوپر پتی پر ابلا پانی ڈال کر بغیر دودھ کی چائے پیتے ہیں ۔۔ جبکہ مدینہ میں تازہ 

پودینہ چائے کی پتی اور چینی کے ہمراہ ابلا پانی ڈال کر پودینہ والی چائے تیار ہوتی ہے ۔۔اسی طرح ایرانی بغیر دودھ کا قہوہ چینی کی ڈلی منہ میں ڈال کر پیتے ہیں ۔۔

پاکستان میں باہر پی جانے والی عوامی چائے پٹھانوں کے چائے خانوں میں سماوار میں بننے والی" چینک چائے" ہے جو مقبول عام ہےاور بیشتر دفتروں اور دوکانوں میں اسکی مانگ ہے ۔۔ اسی لئے کراچی کے ساحل پر ایک عمدہ چائے خانے کا نام سماوار رکھا گیا ہے۔۔

چینیوں کی طرح پٹھانوں یا پشاور کے سبز چائے کے قہوہ خانوں کا تذکرہ دلچسپی کا باعث ہوگا ۔۔جہاں خوشبودار سبز الائچی والی چائے دنبے کے تکوں اور کڑھائی پر پی جاتی ہے ۔۔ پشاوری سبز چائے کی ہلکی سنہری رنگت ،الائچی کی خوشبو کے ساتھ مرغن خوراک کے ہاضمے کے لئے بہترین ہے ۔۔

چائے کے شائقین کے لئے چائے کی خوشبو اور ذائقہ اہم ہے اور نفیس برتن میں اسکے ذائقے اور خوشبو میں اضافہ ہو جاتاہے ۔۔

جیسے دل چاہے چائے پئیں ،خوب پئیں اور خوش رہیں ۔۔


Monday, February 8, 2016

تکبر ، تزکیہ نفس


’’تکبر‘‘

تکبر کے لغوی معنی بڑائی کے ہیں اور کبریائی صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔
انسان میں تکبر اور غرور آ جائے تو یہ اس کے لیے سراسر تباہی و بربادی ہے۔ اسی تکبر کے نتیجے میں شیطان راندۂ درگاہ ہوا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا صرف ابلیس نے نہ کیا۔ اَبٰی واستکبَرَ۔ اس نے ان کار کیا اور تکبر کیا۔ وَکَانَ من الکٰفرین۔ اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔
ابلیس نے یہ بڑائی کی کہ میں تو آگ سے بنا ہوں اور آدم مٹی سے بنا ہے مجھے اس پر فضیلت حاصل ہے اور یوں وہ تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوا اور اپنے رب کی سرکشی کی۔ اور یوں اس پر اللہ کی پھٹکار پڑی۔ اس لیے اگر ہم سوچیں تو تکبر ایک شیطانی صفت ہے اور اس صفت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی آزمائش میں ڈالا ہے۔
بڑائی اور کبریائی تو صرف اللہ کے لیے ہے ہم کہتے ہیں اللہ اکبر ( اللہ بڑا ہے)۔ یعنی اس سے بڑا اور صاحب اختیار کوئی نہیں ہے۔ تو پھر انسان کس بات پر فخر و غرور جتاتا ہے؟
تکبر کی کئی وجوہات ہیں۔
(1 اپنے آپ کو بلند و برتر سمجھنا حسب نسب کے لحاظ سے، خوش شکلی کے لحاظ سے، اچھی اولاد کے لحاظ سے۔ حالانکہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ تمام چیزیں عطیہ خداوندی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے اور دوسرے کو اس سے محروم کیا ہے تو یہ اس کی دین ہے کجا یہ کہ ہم ہر وقت اس کی شکرگزاری کریں ہم تفاخر و غرور میں مبتلا ہو جائیں۔ 
حسب نسب کے لحاظ سے جو برتری ہم جتاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے۔ 
اَنَّ اَکرَامَکُم عَنداللہ اتقاکُم۔ بیشک تم میں اللہ کے نزدیک وہی عزت والا ہے جس میں تقویٰ ہو۔
پھر مال و دولت اور اولاد کے لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
اَلمالُ و البُنُون زینتَ الحیوٰۃ الدین و الباقیات الصالحات خیر عِندَربک ثَواباًو خیرامَلَا۔
مال اور اولاد تو دنیا کی رونق ہیں اور جو اعمال باقی رہ جانے والے ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں۔
پھر یہ پوری دنیاوی زندگی جس کے گھمنڈ میں ہم مبتلا رہے ہیں اس کے لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَماَالحیٰوۃُ الدنیااَلاَّمَتَاعُ الغرور۔دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سرمایہ ہے۔
اس طرح تکبر کرنا سوائے دھوکے اور فریب کے کچھ نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ جن چیزوں کی بناء پر ہم تکبر کر رہے ہیں ایک تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہے تو یہ سب چیزیں ہم سے چھین بھی سکتا ہے اور پھر یہ اللہ کی عطا کردہ حیثیت اور مرتبہ ہے وہ چاہے تو ہمیں عزت دے وہ چاہے تو ہمیں ذلت دے۔ وَتُعِزُّمَن تَشاءُ وَتُذِلُ مَن تَشاءُ ۔
اب پچھلی آیات میں جو نشاندہی کی گئی ہے۔ تقویٰ اور اچھے اعمال کی یعنی اعمال صالحہ کی کہ اس کی بنیاد پر ہم اللہ کے ہاں سرخروہوں گے یا اللہ کے پسندیدہ بندے شمار کیے جائیں گے تو اب اس کی بناء پر ہم تکبر و تفاخر میں مبتلا ہو جائیں کہ ہم تو اتنے نیک ہیں، پرہیزگار ہیں، اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں اور یہ دوسرے بندگان خدا تو انتہائی نافرمان ہیں۔ ہمارے ساتھ تو اللہ یقیناً اچھا معاملہ کرے گا ان کی نسبت۔ اب یہ جو ہمارا نفس پھول گیا تو یہ ہماری اس تمام جدوجہد کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔
جیسے کہ متعدد احادیث سے اس کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ ہم اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے اعمال کو قبول نہ کر لے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
پھر اکڑنا، اترا کر چلنا بھی غرور و تفاخر کی نشاندہی ہے۔ 
سورہ لقمان میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَلاَتصَعّر خَدَّکَ للنَّاسِ وَلاَتمشِ فی لارضِ مَرَحاً ْ اِنَّ اللہَ لاَیُحِبُّ کُلَّ مُختاًلِ فَخُورْ
اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیرو اور زمین پر اترا کر مت چلو بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کسی نے کہا آدمی اچھے کپڑے اور اچھے جوتے پسند کرتا ہے تو فرمایا اللہ نفاست اور ستھرائی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق بات نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ 
ایک دوسری حدیث سے ہمیں اس آدمی کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ جو الٹے ہاتھ یعنی بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا۔ رسول ﷺ نے اس سے کہا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اس نے کہا نہیں کھا سکتا اس نے یہ بات غرور و تکبر کی بناء پر کہی تھی۔ آپﷺ نے کہا کہ نہ کھا سکو اور وہ پھر اپنا دایاں ہاتھ نہ اٹھا سکا۔
ایک اور حدیث میں حضرت حارثہ بن ۔۔۔۔۔۔۔سے روایت ہے کہ میں نے رسولﷺ سے سنا ہے کہ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر دوں جس میں سرکش، بخیل اور متکبر ہیں۔ 
اسی طرح ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ جو اپنا لباس غرور و تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا۔
ہم یہ سوچیں کہ دعوت دین دیتے وقت کہیں ہم تکبر میں تو مبتلا نہیں ہوگئے۔ نفس ہمیں فریب دینے میں تو کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ اگر ہمارا نفس ہم پر غالب آ گیا وہ پھول گیا تو گویا ہم شکست کھا گئے، تکبر و غرور کے مریضوں کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے وہ لوگ ہرگز خدا کی بندگی نہیں کر سکتے جو اپنے نفس کی بندگی میں مبتلا ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر و تفاخر سے محفوظ رکھے۔ آمین

***




تزکیہ نفس


عربی زبان میں تزکیہ کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا اور اس کو نشوونما دے کر پروان چڑھایا جائے۔ ایک اور اصلاح میں تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو غلط رجحانات، میلانات اور اعمال سے ہٹا کر نیکی اور تقویٰ کی راہ پر ڈالا جائے۔
اپنا تزکیہ نفس کس طرح کر سکتے ہیں؟
(1 اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کیا کیا خرابیاں اور برائیاں ہیں اور انہیں دور کرنا۔
(2 اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کونسی اچھائیاں نہیں ہیں اور اس کے لیے کوشش کر کے اسے اپنے اندر پیدا کرنا۔
اب جو شخص اپنے نفس کا تزکیہ چاہے گا وہ ان اعمال کا جائزہ لے گا جن سے برائیاں اس سے دور ہوں اور اچھائیوں کا اس میں اضافہ ہو گا اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اس میں بھی کامیاب نہیں ہوگا۔
انسانی نفس ان اعمال کو بے فائدہ اور لاحاصل سمجھتا ہے جس کے فوائد اس کے ذہن نشین نہ ہوں اس لیے تزکیہ نفس کا خیال اسی کے دل میں آسکتا ہے جو کہ یہ سمجھ لے کہ برائیاں میرے لیے ہلاکت خیز اوراچھائیاں فائدہ مند ہیں۔ اس لیے انسان کو پہلے تو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ نے مجھے جن باتوں سے روکا ہے وہ اس لیے کہ وہ میرے لیے تباہ کن ہیں اور جن باتوں کا حکم دیا ہے وہ مجھے دنیوی اور اخروی سعادتوں سے ہمکنار کرنے والی ہیں۔
سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
قَد اَفلَح مَن زکّٰھَاْ وَقَدخابَ مَن دَسَّھَاْ 
یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور برباد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا۔
نفس کا تزکیہ کرنے اور دبا دینے کی تشریح یوں ہے کہ تزکیہ کا مطلب ہے پاک کرنا، ابھارنا اور نشوونما دینا یعنی جو اپنے نفس کو فسق و فجور سے پاک کر دے، اس کو ابھار کر تقویٰ اور بلندی پر لے جائے اور اس کے اندر بھلائی کو نشوونما دے وہ فلاح پائے ا۔
دَسَّھَا جس کامطب دبا دینے کے ہے وہ یہ کہ نامراد ہوا وہ شخص جو اپنے نفس میں نیکی کے جذبات کو ابھارنے کی بجائے اس کو دبا دے اور برائی کے رجحانات کو اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اورنیکیاں اس کے نیچے چھپ جائیں جیسے کہ مٹی کے نیچے لاش دبا دی جائے۔
ہمارے نفس میں دونوں قسم کی خواہشات دبی ہوئی ہیں۔ نیکی اور برائی۔ برے نفس کو نفسِ امارہ کہتے ہیں جبکہ نیک نفس کو نفسِ مطمئنہ اور جس نے نیک جذبات کو غالب کیا اس نے نفس کا تزکیہ کیا اور کامیاب ہوا۔
جب حضرت ابراہیمؑ اور اسمعیلؑ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو یہ دعا مانگتے تھے۔ ’’اے رب ان لوگوں میں خود ان کی قوم سے ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے، کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔‘‘
حضرت زید بن ارقمؓ  بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ خدایا میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اس کا تزکیہ کر تو ہی بہتر ہستی ہے جو اس کا تزکیہ کر سکتی ہے تو ہی اس کا سرپرست اور مولا ہے۔
تزکیہ نفس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان عملاً اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرنے اور اچھائیوں سے مزین کرنے کا کام شروع کر دے۔ اور اس سلسلے میں پہلا قدم یہ کہ اچھائیوں سے الفت اور برائیوں سے نفرت پیدا ہو۔ نیکی کی کروڑوں تعریفیں کرکنے سے بھی انسان کا نفس پاک نہیں ہوتا جب تک نیکی کو عملاً اختیار نہ کرے اور اس طرح وہ اجتماعی دکھ بھی دورنہیں ہوتے جن کا منبع گناہ ہے۔
-- 

Wednesday, February 3, 2016

قصہ کتابوں کی طباعت و اشاعت کا





قصہ کتابوں کی طباعت اور اشاعت کا
از
عابدہ رحمانی
کہتے ہیں گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کو بھاگتا ہے -- کچھ یہی کیفیت ہماری بھی ہوئی ۔ہماری شامت آئی تواپنا جو کچھ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ مجموعہ تھا اسکو چھاپنے کی ٹھانی- غنیمت ہے کہ ایک فائیل بنا ڈالی تھی-دلچسپ امر یہ ہے  کہ  میرے قریبی خاندان ، اعزاء و اقارب اگلے پچھلوں میں، بڑے چھوٹوں میں کبھی کسی کی کتاب طبع یا    شائع نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کے دماغ میں اسکا فتور أیا تھا- کتابیں پڑھنے  اور خریدنے کے شوقین بہت سارے تھےاورکتابیں ان کے پاس ڈھیروں  ڈھیرتھیں--یہی حال ہمارا اپنا بھی تھا--
میرے بڑے بیٹے کو بچپن میں لکھنے کا کافی  شوق ہوا اسنے ایک بچوں کی انگریزی کہانی کے کتاب سے متآثر ہوکر  بڑی محنت سےپوری کتاب لکھی اور اس مسودے کو اپنے ایک دوست کے ہمراہ اردو بازار لے گیا -- ایک پبلشر نے اس سے یہ کہانی 25 روپے میں خریدی -- اور بچے کو چلتا کر دیا ---- میرے اور بچوں کے مضامین مختلف اخبارات اور رسائیل میں اکثر چھپ جاتےاور ہم اسی سے خوش ہو جاتے-- ڈان انگریزی اخبار میں میرا کوئی مضمون چھپتا تو خود بہ خود ایک ادائیگی کا چیک بھی آجاتا باقی جنگ اور جسارت تو مضامین چھاپ کر ایک طرح سے احسان کرتے - یہ ایک الگ ہی موضوع ہے- جانے دیجیئے پھر کبھی سہی-- 
جب مجھے یہ سودا سمایا کہ اپنی تحاریر کو کتابی شکل دے دوں تو اپنی ایک دوست سے رابطہ کیا-انکی والدہ کی بھی کچھ اسی قسم کی ایک کتاب چھپی تھی --ان سے درخواست کی کہ مجھے ان پبلشر صاحب سے متعارف کرا دیں--اور انکے توسط سے اپنا پلندہ لے کر کر انکے ہاں پہنچی -- انکوغالبا دو ہزار روپے دئے انہوں نے بتایا کہ وہ اسکا مسودہ تیارکردینگے اور پھر آگے کام ہوگا -- انہوں نے مجھے کتاب کی کچھ ابتدائی شکل و صورت دکھائی کہ اس قسم کی کتاب تیار ہوگی -- لیکن شومئی قسمت سے کراچی کو جب ہم نے ایک طرح سے الوداع ہی کہہ دیا تو انسے رابطہ ختم ہو گیا۔ ایمیل کے ذریعے رابطہ رکھنے کی ناکام کوشش کی-پھر  اپنی انہی دوست کے صاحبزادے کا سہارا لیا تو  اللہ انکا بھلا کرے کہ انہوں نے  اپنے ایک بھتیجے کی مدد سےاسکی پی ڈی ایف فائیل بعد میں بناکر مجھے ای میل سے  بھیجی-- جسکو میں نے سنبھال کر رکھا -- اسکا پرنٹ بھی نکال دیا--اور عزیز وا اقارب کو بھی ارسال کیا۔۔
ٹورنٹو میں بھی کتاب کی چھپائی کے لئے کچھ ہاتھ پاؤں مارے لیکن وہاں لاگت کافی زیادہ تھی-اور حالات سازگار نہ تھے- 
اسلام آباد میں ایک دور کے عزیز نے اپنی ایک کتاب چھپوائی تھی اس پبلشر کا اتا پتا لیکر وہاں پہنچی۔ انسے ملاقات کی انہوں نے اسی نسخے کو مائیکرو سافٹ ورڈ میں ڈھالنا شروع کیا کام اتنا سست اور غیر تسلی بخش تھا کہ میری واپسی کا وقت آن پہنچا اور میں نسخہ لیکر واپس آئی-- اگلی مرتبہ جب پھر پاکستان أ  نا ہوا تو اس دوران تحریری بوجھ مزید بڑھ چکا تھا-- 
میرے چھوٹے بھائی کو کچھ ترس آیا  تو اسنے بتایا کہ اسکے ایک قریبی جاننے والے  ہیں انکا چھاپہ خانہ ہے وہاں سے آپ اپنی کتاب چھاپ لیں-- اسوقت میری حالت بس یہ تھی کہ اللہ دے اور بندہ لے- اسکے ہمراہ انکے ہاں پہنچی-" ہم پبلشر نہیں ہیں بس کتاب چھاپ دینگے " وہ گویا ہوئے--  تومجھے پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ یہ پرنٹر اور پبلشر دو الگ الگ اجناس ہیں ورنہ میں تو ایک ہی سمجھتی تھی- میرے لئے یہی ایک نعمت غیرمترقبہ تھا کہ کتاب چھپ جائے-
کرسٹل پرنٹر کےمالک تو اپنی بیگم کے علاج کے سلسلےمیں بیرون ملک تھے انکی بیٹی اور منیجر صاحب  گرمجوشی سے ملے – کچھ چھوٹے بھائی کی وقعت اور تعلقات کا اندازہ ہوا-کتاب کا خاکہ تیار ہوا تفصیلی بات چیت ہوئی- رقم کچھ پیشگی ادا کردی اور انہوں نے تیزی سے رف پرنٹ نکال کر مجھے پکڑادئے -- میں نے اسکا جائزہ لیکر انکو واپس بھجوائے کہ کتاب تیار کر دیں-- اب انکو فون پہ فون  ملا رہی ہوں کوئی جواب نہ دارد - یا الٰہی اب کیا ہوگا ؟--بھائی کو دوڑایا معلوم ہوا دفتر تبدیل ہورہا ہے چند روز میں سیٹ ہونگے تو کام شروع ہوگا اور پھر میری واپسی کے دن قریب تر أنے لگے --میری روانگی سے تین روز پیشتر انکے کمپوزر کے ہمراہ دفتر میں بیٹھ کر کتاب کمپوز کی ، " زندگی ایک سفر"کے نام سے ، جو چھاپے خانے گئی-- میری روانگی سے ایک  دن پہلے بمشکل پچاس کتابیں چھپ کر آئیں جوابھی قدرے گیلی تھیں( بقایا دو سو تقریبا ڈیڑھ سال بعد پھر میری آمد پر چھپیں )-- بھاوج نےازراہ محبت کتاب کی تصاویر لیکر فیس بک پر ڈالدیں اور یوں میں اپنے خاندان میں اکلوتی” صاحب کتاب “کہلائی --خوب مبارکبادیں ملیں ۔بہت سے حیران بھی ہوئے۔ جو خوشی اور طمانیت مجھے ملی وہ ان اخراجات اور کلفتوں کا مداوا کر گئی-- میری یہ کتاب ۲۰۱۱ میں چھپی ۔۔کافی ساری کتابیں اپنے سامان میں ساتھ لے گئی۔۔ پاکستان میں  اور بیرون ملک اپنے اعزاء، دوست و اقارب میں تقسیم کیں ۔۔بیشتر متاثر ہوئے اور خاص طور سے وہ جنکو میری لکھنے کی صلاحیت کا علم نہیں تھا ۔۔چند  ایک نے کہا  کہ یہ تو أپ نے چوں چوں کا مربہ تشکیل دیا ہے ، کوئی چیز چھوڑی نہیں۔۔ اور حقیقت بھی یہی تھی اسکا  ایک حصہ خود نوشت ، افسانے ، سفرنامے ، دینی مضامین ، دیگر مضامین سب ہی کچھ شامل تھا  وہ تو غنیمت ہوا کہ عین وقت پر بھائی نے انگریزی مضامین شامل کرنیسے منع کردیا۔۔انسے کافی کہا کہ کتاب کی اشاعت بھی کردیں  لیکن انہوں نے بتا یا کہ وہ ناشر نہیں ہیں اور ناشر بیشتر لاہور اور کراچی میں ہیں بلکہ راولپنڈی ، اسلام أباد میں کوئی ناشر نہیں ہے ۔۔ 
اس کتاب کے پہلےباب میں اپنے بچپن کی خود نوشت لکھی تھی اسپر ایک معزز قاری کاتبصرہ تھا” میں اسمیں بری طرح کھو گیا تھا لیکن اچانک یوں محسوس ہوا کہ ایک شدیدپیاسے سے پانی کا لبالب پیالہ چھین لیا گیا ہو"اور بھی کئی لوگوں کا اصرار ہوا کہ خود نوشت مکمل کریں ۔۔
اب مکمل تو کیا ہوتی بس ایک دور کو مکمل کرنیکی ٹھانی اور یہ فیصلہ ہوا کہ ایک اور کتاب صرف ایک موضوع پر شائع کی جائے۔،اب کے فیصلہ کیا کہ پرنٹر اور پبلشر اکٹھا ڈھونڈا جائے۔۔
ایک مشہور فوجی دندانساز کےانتظار گاہ میں بیٹھی تھی ۔۔دفتر کے رکھ رکھاؤ سے اندازہ ہو  رہا  تھا کہ کرنل صاحب ایک صاحب ذوق شخصیت ہیں۔۔پاس رکھے ہوئے کتابوں کی ورق گردانی کرنے لگی اور ایک کتاب پر ایک ناشر کا پتہ اور فون نمبر دیکھ کر نوٹ کیا۔۔ اس نمبر پر فون کیا،کچھ بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ  نشر و اشاعت  دونوں کرتے ہیں –پھر ان حضرت سے ملاقات ہوئی نیک اور شریف سے بندے لگے کہنے لگے ،” کتاب أپکی مرضی کے مطابق تیار ہو جائے گی لیکن اسکی فروخت أن لائن ہوگی میں اپنے ویب سائٹ پر اشتہار دونگا پھر جو منگوائے گا انکو بھیجونگا۔ میں نے معاملہ طے کرکے حامی بھر دی ۔
اسکا کچھ مواد تو موجود تھا باقی لکھنا شروع کیا وہ بھی اکثرایسے کہ کاغذ قلم لیکر محفل  میں بیٹھی ہوں اور ماضی میں غوطےلگا رہی ہوں اللہ اللہ کرے کچھ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ ناشر صاحب اسوقت تو کافی تعاؤن برتتے رہے ایک اچھی دیدہ زیب خود نوشت ،"مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا" تیار ہوگئی ۔لاگت بھی اچھی أئی ۔ز ندگی کا ایک مکمل دور اسمیں سمٹ گیا کئی دوستوں ،ساتھیوں نے بھر پور تبصرے لکھے ۔۔کتاب چند دوست احباب نے بیرون ملک اور پاکستان میں منگوائی لیکن بازار میں کتاب نہیں أئی۔ کئی دوستوں نے شکوہ کیا کہ فلاں کتب فروش کے پاس آپکی کتاب کا پوچھنے گیا لیکن کتاب نہیں تھی ۔ناشر صاحب سے میں نے کہا تو  وہ کہنے لگے کتب فروشوں  سے میں  بحث مباحثہ نہیں کر سکتا  اور أپکو میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا ۔۔ذرا ذود رنج قسم کے تھےبس اسپر ناراض ہوگئے اور حساب کتاب بے باق کردیا ۔۔ کتاب اب بھی انکے ویب سائٹ پر موجود ہے اور اللہ جانے ناشرانہ حقوق کا کیا حساب کتاب ہے ۔ اس گورکھ دھندے کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔ اور شاید ہی آئے۔۔  اس کتاب کی کافی دھوم مچی کئی اخبارات میں تبصرے ہوئے اور مختلف دوستوں، خود نوشتوں  کے  ناقدوں نے سراہا۔ٹورنٹو کی چند لائبریریوں میں کتابیں رکوائیں اور لائبریری أف کانگریس  واشنگٹن ڈی سی بھی بھیجی۔۔
اب ڈہیروں ڈھیر کتا بوں کوٹھکانے لگانا بھی ایک مر حلہ تھا ۔ مختلف کتب فروشوں کے پاس جا جا کر کتا بیں رکوائیں ۔ ہر ایک نے سب سے پہلے پوچھا " شاعری کی کتاب تو نہیں ہے ، اگر ہے تو وہ نہیں لینگے" اسوقت شاعری، جسے ہم کوہ گراں سمجھتے ہیں کی بے وقعتی کا اندازہ ہوا۔انکا حساب کتاب اللہ ہی جانے۔بکی کہ نہیں ، میں نے ابھی تک پلٹ کر نہیں پوچھا ۔ چند ایک نے سمجھایا کہ یہ آپکا کام نہیں ہے آپکے پبلشر کا کام ہے "۔تمام جاننے والوں کو حتی الامکا ن پہنچائیں، دوست احباب کو بذریعہ ڈاک بھی گئیں ۔۔ کراچی کے ایک مشہور پرنٹر پبلشر جو کہ ہمارے پرانے پڑوسی بھی تھے اور جن سے ان پرانے ناطوں کی بناء پر کچھ اپنائیت کا احساس بھی تھا انکو دونوں کتابوں کی دس دس جلدیں بھجوائیں ۔۔ شروع میں انہوں نے ایک انوایس بنا کر بھیجی تھی لیکن بعد میں ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ ۔۔ یہ اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنےأپکواسلام کا علمبردار سمجھتے ہیں ۔۔ کیا وہ سب سمجھتے ہیں کہ انسے میرے چند سو روپوں کا حساب نہیں ہوگا؟ 

کتابوں کی ترسیل کا سلسلہ ابھی بھی سلسلہ جاری ہے ۔سفری  سامان میں بھی أ ٓدھی کتابیں ہوتی ہیں  ۔ 
ایسےمیں انگریزی مضامین کا مجموعہ چھاپنے کی ٹھانی جو اسلامی تعلیمات کے پس منظر میں تھیں ۔ یہ میرے زیادہ تر ان مضامین پر مشتمل ہے جو رسالہ" نور " (جو نیویارک سے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کی سرپرستی میں  چھپتا ہے) کے لئے تحریر کی تھیں ۔ شکر اللہ کا کہ اپنی کتاب خود چھاپنے کا ایک عمدہ ویب سائٹ مل گیا جو امیزون کے اشتراک سے کام کرتا ہے ۔ قدرے وقت تو لگانا پڑا لیکن ایک اچھی کتاب تیار ہوگئی  
Extremism is not our way of life” اس کتاب کا عنوان ہے۔
یہ میرے ایک مضمون کا عنوان بھی ہے اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ أرڈر پر چھپتی ہے اور بھیجی جاتی ہے یہ انتظام مجھے بہترین لگااسلئے کہ نہ کتابوں کا بوجھ ہے نہ ڈھیر ، نہ درد سر۔ میں جب آرڈر دیتی ہوں تو وہ معاوضہ لے کر بھیج دیتے ہیں۔۔
اب جو پچھلے چند سالوں میں اردو میں  لگاتارلکھتی رہی ہوں ان افسانوں اور مضامین کی کتابوں کو چھپوانے کا سودا سمایا ہے ۔کراچی کے ایک کرمفرماپرنٹرپبلشر سے رابطے میں ہوں لیکن معاملہ ابھی تک سلجھ نہیں پارہاہے ۔۔ دیکھیں عملی صورت کب نکلتی ہے ۔۔اوریہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟  دیکھا جائے تو یہ کتابیں چھپوانا بھی ایک خبط ہی ہے اور اللہ تعالٰی کسی کو کسی خبط میں مبتلا نہ کرے۔۔
اب تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے عزیز رشتہ دار ،دوست احباب یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ  بس اور کتابیں نہیں ،خدا کیلئے   ہمیں اپنی کتا بوں سے بچاؤ۔۔
خدا لگتی اگر کہوں توخود اپنا  یہ حال ہے کہ کئی احباب نے اتنی محبت سے اپنی کتابیں ارسال کیں لیکن بس ایک سرسری سا جائزہ لے پائی  ہوں ۔۔تو میں کس منہ سے پوچھوں گی،" أپنے میری کتاب پڑھ ڈالی کیا ۔"