--چلو بھر پانی----- عابدہ رحمانیچلو بھر پانی؛ میں ڈوب جاؤ یا ڈوب مرو،اردو زبان کا مشہور محاورہ ہے اور زبان زد عام ہے ۔عام طور سے یہ غیرت دلانے اور شرمندہ کرنیکے لئے کہا جاتاہے اسلئے کہ چلو بھر پانی میں ڈوبنا تو درکنار کوئی گیلا بھی نہیں ہوسکتا ، البتہ پیاس سے تڑپتے ہوئے شخص کے لئے چلو بھر پانی بھی کافی ہوتا ہے ۔۔امریکی ریاست مشی گن کے قصبے فلنٹ ' میں پانی کی آلودگی نے پورے امریکہ میں ایک ہلچل اور تشویش پھیلادی۔۔پانی اس حد تک آلودہ تھا کہ اسکا رنگ بھورا تھا اور اسمیں سیسے کی آمیزش خطرناک حد تک تھی۔۔اس سے کئی لوگ بیمار اور متاثر ہوئے۔۔اسطرح کا ألودہ پانی اور وہ بھی امریکہ میں پورے ملک میں ایک زبردست ہنگامہ مچ گیا ۔۔ اسکو نسلی ، طبقاتی رنگ بھی دیا گیا کیونکہ اس علاقے میں بیشتر أبادی سیاہ فام لوگوں کی ہے ۔۔ مشہور و معروف حق کی أواز بلند کرنیوالے ہالی ووڈ کے متنازغہ فلمسازاور ہدایت کار مائیکل مور کا تعلق بھی اسی قصبے سے ہے ۔۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے یہاں کے باشندوں کو سہارا دینے کیلئے یہاں ایک صدارتی امیدواروں کا مبا حثہ رکھا۔۔ابھی حال ہی میں ان افسران کا کڑا احتساب کیا گیا ،انکو معطل کیا گیا اور کڑی سزائیں تجویز ہوئیں وہ جو فلنٹ میں پانی کی رسد اور ترسیل کے ذمہ دار تھے اور جنکی مجرمانہ غفلت کے باعث یہ افسوسناک واقع ظہور پذیر ہوا۔۔اس واقعے سے مجھے اپنے کراچی میں رہائش کے وہ تکلیف دن یادآگئے جب پانی کی حصول کی کوششیں زندگی کا ایک اہم اور انتہائی تکلیف دہ حصہ تھا اسپر تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہےاب بھی اکثر راتوں کو میں گھبرا کر اٹھ جاتی ہوں کہ میری ٹنکی میں پانی نہیں آیا، یا میں پمپ چلانا بھول گئی ہوں ۔۔یہ بھیانک خواب مجھے جو آتا ہے اسکی کئی وجوہات ہیں-میری زندگی کا آدھا وقت پانی والوں، واٹر بورڈ کے انجینئروں کو فون کرنے اور ان سے ملاقاتیں کرنے میں گزرتا،میری فون بک میں آدھے نمبر پانی والوں کے ہوتے تھے، والو مین valve manتو جیسےہمارا خاص الخاص شخص تھا جسے خوش رکھنےکی ہر ممکن کوشش ہوتی اور یہ سو فیصد حقیقت ہے،ہرگز ہرگز مبالغہ آرایئ نہیں ہے اور پھر منہ مانگے ٹینکروں کا حصول اللہ کی پناہ اور اس مشقت میں کتنی تکالیف اٹھایئ ہیں وہ میں اور میرا رب یا میرے گھر والے جانتے ہیں ۔ جب میرے ہاں رہائشی مہمان أتے تھے تو سب سے زیادہ پریشانی یہ ہوتی تھی کہ پانی کی رسد میں فراوانی کیسے کی جائے ۔۔؟ ایسی صورتحال اکثر پیش أئی کہ اوپر نیچے کی دونوں ٹنکیاں پونچھ پانچھ کے رکھ دیں اور پھر مہنگے داموں پانی کے حصول کے لئے دوڑتے رہے۔ افسوس کی اسوقت پانی کے ڈسپنسر اورپانی کی بوتلیں میسر نہیں تھیں۔۔ٹنکی میں گرتےہوئے پانی کی آواز سے مدھر آواز میری زندگی میں کوئی نہیں تھی اور اس روز کی خوشی کا کیا عالم ،جب اوپر نیچے کی دونوں ٹنکیاں بھر جاتیں اور میرے پیڑ پودے بخوبی سیراب ہو جاتے، پاکستان کی زندگی بھی کیا خوشیوں سے بھر پور ہوتی ہے- پانی آنے کی خوشی ان میں سے ایک تھی- اور اسکو حاصل کرنے کے لیےکئ فون کال 'واٹر بورڈ کےکئ چکر اور والو مین کے مختلف مشورے شامل ہوتے- قسم قسم کے suction pump ،جا بجا کھدائیاں لمبے لمبے پائپ اور اگر پانی آجائے تو کیا کہنے!! جو ہالیجی کا گدلہ پانی آتا تھا اسکو پینے کے قابل بنانا بھی ایک کار دارد—ابال کر اس میں پھٹکڑ ی پھیری جاتی ، جب گدلہ نیچے بیٹھ جاتا تو صاف اوپر سے نتھار لیا جاتا- یہ تمام تگ و دو میری زندگی کا ایک لازم حصہ تھا — اسکے باوجود واٹر بورڈ کے پانی کے ایک بھاری بل کی ادائیگی بھی لازم تھی یہ سوچے بغیر کہ سال میں کتنی مرتبہ واقعی ہمیں انکی جانب سے پانی میسر تھا ،کیونکہ ہم ایک قانون پسند شہری ہیں اور ہمیں احتجاج کرکے کسی قسم کے انصاف کی امید نہیں تھی- پھر بھی ہم خوش تھے کہ زندہ تو ہیں-کیونکہ اس پانی کے فراہمی پربعد میں اس سیاسی پارٹی کی اجارہ داری تھی جن سے ٹکر لینا ہم جیسے بے بسوں کے بس میں نہیں تھا۔۔اب بھی کراچی میں وہی حال ہے شہر کاأدھا ٹریفک پانی کے ٹینکروں کا ہوتا ہے۔۔پورا ٹینکر مافیا ہے جسکی شہر میں اجارہ داری ہے۔کراچی کے وہ باشندے اور شہری جنکے ہاں پانی کی فراوانی ہے خوش قسمت ترین شہری کہلانے کے حقدار ہیں۔۔پچھلے سال یہاں امریکہ میں گھر میں گرم پانی کی لائن میں مسئلہ ہوا ایک عجیب پریشانی، گرم پانی کے بغیر کیسے گزارہ ہوگا؟ انشورنس کمپنی نے ہوٹل لے جانے کی پیشکش کی تاکہ مسئلے کے حل تک وہیں رہا جائے، اسے کیا معلوم کہ ہم پاکستانی ہیں اور کھال موٹی ہے بلکہ ایسے بحرانوں کو معمولی جانتے ہیں - لیکن جو بچے یہاں کے پیدا شدہ ہیں اور بقول کسےABCD ہیں یہ تو آپ سب جانتے ہی ہونگے( born confused desis American) -وہ حیران پریشان کہ اس آفت کا مقابلہ کیونکر ہوگا- وال مارٹ سے ایک پوچے کی بڑی با لٹی ڈھونڈھ کر خریدی گئی پتیلی میں پانی گرم کیا جاتا اور یوں گزارہ ہوا -What a hassle?24 گھنٹے، نہ رکنے والا پانی کہاں سےآتاہے اور کیسے آتا ہے ہمیں فکر اور ترددکرنے کی کوئی ضرورت نہیں،ہمیں مطلب ہے تو اس سے کہ اس میں ہرگز کوئی رکاؤٹ نہیں ہوگی اور یہ صاف پانی ہوگا- ہاں لیکن یہاں پر پانی بھاری اور سخت ہے جسکے لئے ایک مشین لگی ہوئی ہے ، ساتھ میں ایک جدید فلٹر لگا ہوا ہے ۔اور یہی وجوہات ہیں کہ زندگی کی انہی آسائشوں اور سہولتوں کے حصول کے لئے سات سمندر پار ہم لوگ اپنا وطن ، اپنی تہذیب و ثقافت کو پیچھے چھوڑ آئے اور یہاں ،جہاں دین بھی داؤ پر لگا ہوا ہے- مختلف ذرائع سے ہمیں ان ممالک سے روکنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن بھلا ہم کہاں باز آنے والے ہیں- اب جب اپنے مادر وطن جانا ہوتا ہے تو سب سے زیادہ احتیاط پانی کی جاتی ہے ورنہ بد ہضمی لازم ہے-پانی انسان کی ایک بنیاد ی ضرورت ہے اس پانی کی تلاش میں قافلے سرگرداں رہتے تھے اورجہاں پانی مل جاتا وہیں بود و باش اختیار کرتے اسی طرح شہر اور بستیاں آباد ہوئیں پانی واقعی زندگی ہے- انسانی جسم کی ساخت میں 80 فیصد پانی ہے اور اس جسم کی بقاء کا انحصار بھی ہوا،پانی اور غذا پر ہے- اسی اصول کے مطابق دنیا کی بیشتر أبادی دریا، جھیلوں ، تالابوں اور چشموں کے گرد و نواح میں ہے۔۔ابراہیم علیہ السلام جب بی بی حاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاہ سرزمین پر چھوڑ آۓ توبی بی حاجرہ پانی کی تلاش میں صفا ومروہ کے درمیان سرگرداں تھیں، دیکھا کہ ننھے اسماعیل کی ایڑیوں تلے اللہ کی قدرت سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا ہے- انھوں نےکہا’ زم زم" رک جا اے پانی یہیں رک جا اور اپنے ہاتھوں سے اس کے گرد بند باندھا -آیک قافلہ بھی یہیں آکر رک گیا اور یوں یہ بستی بسی اور ایسے بسی کہ مرجع خلائق ہوگئی- اللہ تبارک و تعالیٰ کو بھی یہ بستی اتنی بھائی کہ اسکو اپنے محترم گھر کے لیے چن لیا اس پانی میں اسقدر خیر و برکت ڈال دی کہ ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی اسکی سیرابی میں فرق نہیں آیا— اس پانی میں معدنیاتی تاثیر انتہائی مشفی ہے موجودہ سعودی حکومت نے اس پانی کی ترسیل کا بہترین انتظام حرمین شریفین میں کیا ہے ۔ حرم شریف میں تو یہ کنوواں موجود ہے اور زم زم کے پانی کی جانچ پڑتال کی لیبارٹری ہے تاکہ پانی میں کسی قسم کی ألودگی نہ ہونے پائے لاکھوں کے حساب سے صاف ستھرے کولر حرمین میں موجود رہتے ہیں ۔۔جس سے لاکھوں زائرین روزانہ فیض یاب ہوتے ہیں ۔۔دنیا میں اسوقت صاف پانی کی فراہمی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے ،دریا ، کنوئیں ، ندیاں ألودگی کے مسئلے سے دوچار ہیں ۔کتنے ممالک ہیں جہاں کی أبادیوں کو صاف اور پینے والا پانی دستیاب نہیں ہے ۔ عرب اور مشرق وسطے کے ممالک نے سمندر کے پانی سے نمک ہٹاکر استعمال کے قابل لانیکے لئے بڑے بڑے پلانٹ لگائے ہیں۔ وہاں پر پینے کے پانی اور پٹرول کی قیمت یکساں ہے ۔اس لحاظ سے کینیڈا اور امریکہ کی شمالی ریاستوں میں میٹھے پانی کی وسیع و عریض جھیلیں پانی کا ایک بڑا خزانہ اور ذریعہ ہیں۔۔پانی سے زندگی ہے اللہ تعالی قرأن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ہم نے تمام زندہ چیزوں کو پانی سے پیدا کیا ہے ۔۔ اسلئے زندہ اشیاءکی زندگی پانی کی مرہون منت ہیں۔۔اور مصیبت کے وقت ایک چلو بھی کافی ہو جاتا ہے۔۔
Monday, April 25, 2016
چلو بھر پانی۔۔
Saturday, April 16, 2016
کچھ بیان چائے کا
کچھ بیان چائے کا
از
عابدہ رحمانی
چائے چینیوں کی ایجاد ہے لیکن وہ یاسمینی قہوہ شوق سے پیتے ہیں کیتلی میں دم کرکے بجائے پانی کے قہوہ پیتےرہتے ہیں شاید یہ وجہ ہے کہ چینیوں میں موٹاپا نظر نہیں آتا۔۔ قہوہ یا سبز چائے کی ہر قسم کی میں بھی رسیا ہوں بلکہ سبز چائے تو میری گھٹی میں پڑی ہے کیوں کہ دادی جان نے پہلی خوراک ایک چمچ یا چند قطرےسبز چائے پلائی تھی--شمالی امریکہ میں جب پہلی مرتبہ" چائے" کاا شتہار دیکھا اور آرڈر دیا تو وہ مصالحہ دار چائے نکلی جو وہاں پرچائے کے نام سے مقبول ہے -
Chai
teavana
ایک بڑا اچھا سٹور بلکہ فرنچائز ہے اسمیں چائے کے ایک سے ایک ذائقے ، برانڈ اور خوشنما کیتلییاں ہیں شاید دوبیئ وغیرہ میں بھی ہوں-
Japanese tea party
جسطرح سے انجام پاتی ہے اسمیں انکی تہذیب و ثقافت کی نشاندہی ہوتی ہے کیا خوبصورتی سے کیمونو پہنے ہوئے جاپانی لڑکیاں اس رسم کو ایک عبادت کی طرح انجام دیتی ہیں-یہ پینے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔
جب ہندوستان میں پہلی مرتبہ فوجیوں کو چائے سے متعارف کرایا گیا ،میرے ایک نانا جی جو انگریزی فوج میں صوبیدار تھے چھٹیوں پر آتے ہوئے ایک ٹین کا بڑا ڈبہ چائے کی پتی کا لائے - نانی نے اسکو خشک ساگ سمجھ کر چولھے پر چڑھا دیا ااسوقت وہ گھر سے باہر تھے جب واپس ہوئے تو نانی نے اس بدذائقہ ساگ کی شکائت کی اور نانا سر پیٹ کر رہگئےکیونکہ یہ انکا ایک مہینے کا راشن تھا - اب ہمارے گاؤں میں بچہ بچہ پیالی پر پیالیا ں چڑھاتا رہتا ہے اور تھرموس بھرے ہوئے گردش میں رہتے ہیں میرے بچوں کو میرے گاؤں کی میٹھی چائے بہت پسند تھی- اور کراچی والے، انکی رگوں میں تو خون کی بجائے چائے گردش کر رہی ہے جب ہی تو خون بے قیمت ہوگیا -پنجاب والے اب بھی اچھے ہیں جہاں ابھی تک بخار میں بھی لسی پی جارہی ہے اور سندھ میں چورہ چائے کی قسمت کی چمک دمک ہے
ایل اے میں ایک پرانی دوست کے ہاں گئی انہوں نے بڑے اہتمام سے کیتلی اور پیالیاں گرم پانی سے کنگالیں ،پتی کیتلی میں ڈال کر ٹی کوزی لگا کر چائے دم کی ساتھ کاڑھا ہوا دودھ، امریکہ میں اتنا اہتمام دیکھ کر چائے کا لطف آگیا - حالانکہ امریکہ نے ہماری زندگیوں سے ان تکلفات کو کافی حد تک ختم کردیا ہے جہاں فاسٹ فوڈ نے ہمیں کھانے کی میز کی تکلفات سے آزاد کردیا ہے وہاں ٹی بیگ نے ٹی سیٹ کا تصور ختم کردیا ،بڑے بڑے مگوں نے چینی کےنفیس پرچ پیالیوں اور چائے کے سیٹوں سے بے نیاز کر دیا ۔ میری ایک عزیز دوست کافی میکر میں فلٹر ڈالکر چائے بناتی ہے اور میرے بھائی کے ہاں دودھ پتی کا رواج ہے۔
مجھے چھوٹی الائچی کی خوشبو والی بلکہ ہر معقول قسم کی چائے پسند ہے - حتی کہ ایر لائنز کی بے ذائقہ چائے بھی چل جاتی ہے -پہلے چائے کے نقصان ہی نقصان تھے اب فائدے ہی فائدے ہیں -اور ہماری کشمیری گلابی چائے کیا کہنے اسکے - ڈھاکہ کے نواب فیملی کے ہاں جو کشمیری چائے بنتی تھی وہ اسقدر میوے اور بالائی والی ہوتی تھی کہ پینے سے زیادہ کھانے کےلائق تھی-
میری اپنی چائے تو آجکل زیادہ تر مائکرو ویو میں بنتی ہے پھیکی چائے، لیکن ساتھ میں گلاب جامن' برفی یا کوئی اور میٹھا ہو تو کیا کہنے۔۔ اکثر دیکھنے والے حیران ہوتے ہیں چائے میں چینی نہیں لیکن میٹھے کا شوق خوب ہے۔اور سبز چائے میں الائچی کے ساتھ ایک چٹکی سونف اور اجوائن بھی ڈال دیتی ہوں ۔
ہماری چائے تو زیادہ تر کالی دودھ والی یا سبز چائے ہوتی ہے لیکن مجھے دوسرے ذائقوں اور خوشبو کی چائے بھی پسند ہے ۔ ابھی چند روز پیشترhibiscus اور لیموں کی چائے بہت اچھی لگی ۔۔ میرے ایک بیٹے کو مختلف ذائقوں کی چائے کا بہت شوق ہے اسنے ایک مرتبہ مجھے سموکڈ ٹی smoked tea پلائی تو مجھے اپنے گاؤں کی لکڑیوں پر بنی دھوؤاں لگی چائے خوب یاد آئی۔۔ہم لوگ تو چائے ایک طرح سے اپنا کیفین کا نشہ پورا کرنیکے لئے پیتے ہیں ۔ایک مرتبہ ڈاکٹر نے ایک عارضے کے بعد مجھے ڈی کیف (بغیر کیفین)کے چائے پینے کا مشورہ دیا ۔ اسکے بہت سے برانڈ ہیں لیکن کیفین کے بغیر بہت ہی بے کیفی رہی اور معاملہ چل نہ پایا۔
دنیا بھر میں چائے کے باغات مختلف مقامات پر شہرت کے حامل ہیں مجھےان باغات کو ایک مرتبہ مانسہرہ میں دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ لیکن اصلی لطف ملائشیا کے کیمرون ہائی لینڈ کے باغات کا آیا ۔۔ حد نظر تک پہاڑوں پر پھیلے ہوئے تہہ در تہہ ،مشینوں سے خوبصورتی سے تراشے ہوئےان باغات میں کہیں کہیں ہاتھوں سے پتے چننے والے اور والیاں بھی نظر آئیں۔۔ پھر انہی چائے کے پتوں کو مختلف مراحل سے گزار کر استعمال کے قابل کرنے والی کمپنی "بوہ" کا پرانا کارخانہ جسمیں اس تمام طریقہ کار کو پوری طرح دکھایا گیا ہے ۔۔ اسکا پورا سنٹر ہے جسمیں اسکی تصویری تاریخ اور یادداشتیں ہیں ۔دوکانیں اور ریسٹورنٹ بلندی پر واقع ہے اور سیاحوں کی آماجگاہ ہے ۔۔
تمام دنیا کے گرم مشروبات میں چائے کا اہم مقام ہے اسے پینے کا ہر ایک کا اپنا انداز اور پسند ہے ۔۔
مصری شیشے کے مگ میں چینی کےاوپر پتی پر ابلا پانی ڈال کر بغیر دودھ کی چائے پیتے ہیں ۔۔ جبکہ مدینہ میں تازہ
پودینہ چائے کی پتی اور چینی کے ہمراہ ابلا پانی ڈال کر پودینہ والی چائے تیار ہوتی ہے ۔۔اسی طرح ایرانی بغیر دودھ کا قہوہ چینی کی ڈلی منہ میں ڈال کر پیتے ہیں ۔۔
پاکستان میں باہر پی جانے والی عوامی چائے پٹھانوں کے چائے خانوں میں سماوار میں بننے والی" چینک چائے" ہے جو مقبول عام ہےاور بیشتر دفتروں اور دوکانوں میں اسکی مانگ ہے ۔۔ اسی لئے کراچی کے ساحل پر ایک عمدہ چائے خانے کا نام سماوار رکھا گیا ہے۔۔
چینیوں کی طرح پٹھانوں یا پشاور کے سبز چائے کے قہوہ خانوں کا تذکرہ دلچسپی کا باعث ہوگا ۔۔جہاں خوشبودار سبز الائچی والی چائے دنبے کے تکوں اور کڑھائی پر پی جاتی ہے ۔۔ پشاوری سبز چائے کی ہلکی سنہری رنگت ،الائچی کی خوشبو کے ساتھ مرغن خوراک کے ہاضمے کے لئے بہترین ہے ۔۔
چائے کے شائقین کے لئے چائے کی خوشبو اور ذائقہ اہم ہے اور نفیس برتن میں اسکے ذائقے اور خوشبو میں اضافہ ہو جاتاہے ۔۔
جیسے دل چاہے چائے پئیں ،خوب پئیں اور خوش رہیں ۔۔
Wednesday, April 13, 2016
Sunday, February 28, 2016
Monday, February 8, 2016
تکبر ، تزکیہ نفس
تکبر کے لغوی معنی بڑائی کے ہیں اور کبریائی صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔
بڑائی اور کبریائی تو صرف اللہ کے لیے ہے ہم کہتے ہیں اللہ اکبر ( اللہ بڑا ہے)۔ یعنی اس سے بڑا اور صاحب اختیار کوئی نہیں ہے۔ تو پھر انسان کس بات پر فخر و غرور جتاتا ہے؟
تکبر کی کئی وجوہات ہیں۔
حسب نسب کے لحاظ سے جو برتری ہم جتاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے۔
اَنَّ اَکرَامَکُم عَنداللہ اتقاکُم۔ بیشک تم میں اللہ کے نزدیک وہی عزت والا ہے جس میں تقویٰ ہو۔
پھر مال و دولت اور اولاد کے لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
اَلمالُ و البُنُون زینتَ الحیوٰۃ الدین و الباقیات الصالحات خیر عِندَربک ثَواباًو خیرامَلَا۔
مال اور اولاد تو دنیا کی رونق ہیں اور جو اعمال باقی رہ جانے والے ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں۔
پھر یہ پوری دنیاوی زندگی جس کے گھمنڈ میں ہم مبتلا رہے ہیں اس کے لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَماَالحیٰوۃُ الدنیااَلاَّمَتَاعُ الغرور۔دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سرمایہ ہے۔
جیسے کہ متعدد احادیث سے اس کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ ہم اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے اعمال کو قبول نہ کر لے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
پھر اکڑنا، اترا کر چلنا بھی غرور و تفاخر کی نشاندہی ہے۔
سورہ لقمان میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَلاَتصَعّر خَدَّکَ للنَّاسِ وَلاَتمشِ فی لارضِ مَرَحاً ْ اِنَّ اللہَ لاَیُحِبُّ کُلَّ مُختاًلِ فَخُورْ
اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیرو اور زمین پر اترا کر مت چلو بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔
ایک اور حدیث میں حضرت حارثہ بن ۔۔۔۔۔۔۔سے روایت ہے کہ میں نے رسولﷺ سے سنا ہے کہ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر دوں جس میں سرکش، بخیل اور متکبر ہیں۔
ہم یہ سوچیں کہ دعوت دین دیتے وقت کہیں ہم تکبر میں تو مبتلا نہیں ہوگئے۔ نفس ہمیں فریب دینے میں تو کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ اگر ہمارا نفس ہم پر غالب آ گیا وہ پھول گیا تو گویا ہم شکست کھا گئے، تکبر و غرور کے مریضوں کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے وہ لوگ ہرگز خدا کی بندگی نہیں کر سکتے جو اپنے نفس کی بندگی میں مبتلا ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر و تفاخر سے محفوظ رکھے۔ آمین
***
عربی زبان میں تزکیہ کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا اور اس کو نشوونما دے کر پروان چڑھایا جائے۔ ایک اور اصلاح میں تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو غلط رجحانات، میلانات اور اعمال سے ہٹا کر نیکی اور تقویٰ کی راہ پر ڈالا جائے۔
اپنا تزکیہ نفس کس طرح کر سکتے ہیں؟
(1 اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کیا کیا خرابیاں اور برائیاں ہیں اور انہیں دور کرنا۔
(2 اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کونسی اچھائیاں نہیں ہیں اور اس کے لیے کوشش کر کے اسے اپنے اندر پیدا کرنا۔
اب جو شخص اپنے نفس کا تزکیہ چاہے گا وہ ان اعمال کا جائزہ لے گا جن سے برائیاں اس سے دور ہوں اور اچھائیوں کا اس میں اضافہ ہو گا اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اس میں بھی کامیاب نہیں ہوگا۔
انسانی نفس ان اعمال کو بے فائدہ اور لاحاصل سمجھتا ہے جس کے فوائد اس کے ذہن نشین نہ ہوں اس لیے تزکیہ نفس کا خیال اسی کے دل میں آسکتا ہے جو کہ یہ سمجھ لے کہ برائیاں میرے لیے ہلاکت خیز اوراچھائیاں فائدہ مند ہیں۔ اس لیے انسان کو پہلے تو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ نے مجھے جن باتوں سے روکا ہے وہ اس لیے کہ وہ میرے لیے تباہ کن ہیں اور جن باتوں کا حکم دیا ہے وہ مجھے دنیوی اور اخروی سعادتوں سے ہمکنار کرنے والی ہیں۔
سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔قَد اَفلَح مَن زکّٰھَاْ وَقَدخابَ مَن دَسَّھَاْ
یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور برباد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا۔
نفس کا تزکیہ کرنے اور دبا دینے کی تشریح یوں ہے کہ تزکیہ کا مطلب ہے پاک کرنا، ابھارنا اور نشوونما دینا یعنی جو اپنے نفس کو فسق و فجور سے پاک کر دے، اس کو ابھار کر تقویٰ اور بلندی پر لے جائے اور اس کے اندر بھلائی کو نشوونما دے وہ فلاح پائے ا۔
دَسَّھَا جس کامطب دبا دینے کے ہے وہ یہ کہ نامراد ہوا وہ شخص جو اپنے نفس میں نیکی کے جذبات کو ابھارنے کی بجائے اس کو دبا دے اور برائی کے رجحانات کو اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اورنیکیاں اس کے نیچے چھپ جائیں جیسے کہ مٹی کے نیچے لاش دبا دی جائے۔
ہمارے نفس میں دونوں قسم کی خواہشات دبی ہوئی ہیں۔ نیکی اور برائی۔ برے نفس کو نفسِ امارہ کہتے ہیں جبکہ نیک نفس کو نفسِ مطمئنہ اور جس نے نیک جذبات کو غالب کیا اس نے نفس کا تزکیہ کیا اور کامیاب ہوا۔
جب حضرت ابراہیمؑ اور اسمعیلؑ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو یہ دعا مانگتے تھے۔ ’’اے رب ان لوگوں میں خود ان کی قوم سے ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے، کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔‘‘
حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ خدایا میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اس کا تزکیہ کر تو ہی بہتر ہستی ہے جو اس کا تزکیہ کر سکتی ہے تو ہی اس کا سرپرست اور مولا ہے۔
تزکیہ نفس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان عملاً اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرنے اور اچھائیوں سے مزین کرنے کا کام شروع کر دے۔ اور اس سلسلے میں پہلا قدم یہ کہ اچھائیوں سے الفت اور برائیوں سے نفرت پیدا ہو۔ نیکی کی کروڑوں تعریفیں کرکنے سے بھی انسان کا نفس پاک نہیں ہوتا جب تک نیکی کو عملاً اختیار نہ کرے اور اس طرح وہ اجتماعی دکھ بھی دورنہیں ہوتے جن کا منبع گناہ ہے۔
Wednesday, February 3, 2016
قصہ کتابوں کی طباعت و اشاعت کا
قصہ کتابوں کی طباعت اور اشاعت کاازعابدہ رحمانیکہتے ہیں گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کو بھاگتا ہے -- کچھ یہی کیفیت ہماری بھی ہوئی ۔ہماری شامت آئی تواپنا جو کچھ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ مجموعہ تھا اسکو چھاپنے کی ٹھانی- غنیمت ہے کہ ایک فائیل بنا ڈالی تھی-دلچسپ امر یہ ہے کہ میرے قریبی خاندان ، اعزاء و اقارب اگلے پچھلوں میں، بڑے چھوٹوں میں کبھی کسی کی کتاب طبع یا شائع نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کے دماغ میں اسکا فتور أیا تھا- کتابیں پڑھنے اور خریدنے کے شوقین بہت سارے تھےاورکتابیں ان کے پاس ڈھیروں ڈھیرتھیں--یہی حال ہمارا اپنا بھی تھا--میرے بڑے بیٹے کو بچپن میں لکھنے کا کافی شوق ہوا اسنے ایک بچوں کی انگریزی کہانی کے کتاب سے متآثر ہوکر بڑی محنت سےپوری کتاب لکھی اور اس مسودے کو اپنے ایک دوست کے ہمراہ اردو بازار لے گیا -- ایک پبلشر نے اس سے یہ کہانی 25 روپے میں خریدی -- اور بچے کو چلتا کر دیا ---- میرے اور بچوں کے مضامین مختلف اخبارات اور رسائیل میں اکثر چھپ جاتےاور ہم اسی سے خوش ہو جاتے-- ڈان انگریزی اخبار میں میرا کوئی مضمون چھپتا تو خود بہ خود ایک ادائیگی کا چیک بھی آجاتا باقی جنگ اور جسارت تو مضامین چھاپ کر ایک طرح سے احسان کرتے - یہ ایک الگ ہی موضوع ہے- جانے دیجیئے پھر کبھی سہی--جب مجھے یہ سودا سمایا کہ اپنی تحاریر کو کتابی شکل دے دوں تو اپنی ایک دوست سے رابطہ کیا-انکی والدہ کی بھی کچھ اسی قسم کی ایک کتاب چھپی تھی --ان سے درخواست کی کہ مجھے ان پبلشر صاحب سے متعارف کرا دیں--اور انکے توسط سے اپنا پلندہ لے کر کر انکے ہاں پہنچی -- انکوغالبا دو ہزار روپے دئے انہوں نے بتایا کہ وہ اسکا مسودہ تیارکردینگے اور پھر آگے کام ہوگا -- انہوں نے مجھے کتاب کی کچھ ابتدائی شکل و صورت دکھائی کہ اس قسم کی کتاب تیار ہوگی -- لیکن شومئی قسمت سے کراچی کو جب ہم نے ایک طرح سے الوداع ہی کہہ دیا تو انسے رابطہ ختم ہو گیا۔ ایمیل کے ذریعے رابطہ رکھنے کی ناکام کوشش کی-پھر اپنی انہی دوست کے صاحبزادے کا سہارا لیا تو اللہ انکا بھلا کرے کہ انہوں نے اپنے ایک بھتیجے کی مدد سےاسکی پی ڈی ایف فائیل بعد میں بناکر مجھے ای میل سے بھیجی-- جسکو میں نے سنبھال کر رکھا -- اسکا پرنٹ بھی نکال دیا--اور عزیز وا اقارب کو بھی ارسال کیا۔۔ٹورنٹو میں بھی کتاب کی چھپائی کے لئے کچھ ہاتھ پاؤں مارے لیکن وہاں لاگت کافی زیادہ تھی-اور حالات سازگار نہ تھے-اسلام آباد میں ایک دور کے عزیز نے اپنی ایک کتاب چھپوائی تھی اس پبلشر کا اتا پتا لیکر وہاں پہنچی۔ انسے ملاقات کی انہوں نے اسی نسخے کو مائیکرو سافٹ ورڈ میں ڈھالنا شروع کیا کام اتنا سست اور غیر تسلی بخش تھا کہ میری واپسی کا وقت آن پہنچا اور میں نسخہ لیکر واپس آئی-- اگلی مرتبہ جب پھر پاکستان أ نا ہوا تو اس دوران تحریری بوجھ مزید بڑھ چکا تھا--میرے چھوٹے بھائی کو کچھ ترس آیا تو اسنے بتایا کہ اسکے ایک قریبی جاننے والے ہیں انکا چھاپہ خانہ ہے وہاں سے آپ اپنی کتاب چھاپ لیں-- اسوقت میری حالت بس یہ تھی کہ اللہ دے اور بندہ لے- اسکے ہمراہ انکے ہاں پہنچی-" ہم پبلشر نہیں ہیں بس کتاب چھاپ دینگے " وہ گویا ہوئے-- تومجھے پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ یہ پرنٹر اور پبلشر دو الگ الگ اجناس ہیں ورنہ میں تو ایک ہی سمجھتی تھی- میرے لئے یہی ایک نعمت غیرمترقبہ تھا کہ کتاب چھپ جائے-کرسٹل پرنٹر کےمالک تو اپنی بیگم کے علاج کے سلسلےمیں بیرون ملک تھے انکی بیٹی اور منیجر صاحب گرمجوشی سے ملے – کچھ چھوٹے بھائی کی وقعت اور تعلقات کا اندازہ ہوا-کتاب کا خاکہ تیار ہوا تفصیلی بات چیت ہوئی- رقم کچھ پیشگی ادا کردی اور انہوں نے تیزی سے رف پرنٹ نکال کر مجھے پکڑادئے -- میں نے اسکا جائزہ لیکر انکو واپس بھجوائے کہ کتاب تیار کر دیں-- اب انکو فون پہ فون ملا رہی ہوں کوئی جواب نہ دارد - یا الٰہی اب کیا ہوگا ؟--بھائی کو دوڑایا معلوم ہوا دفتر تبدیل ہورہا ہے چند روز میں سیٹ ہونگے تو کام شروع ہوگا اور پھر میری واپسی کے دن قریب تر أنے لگے --میری روانگی سے تین روز پیشتر انکے کمپوزر کے ہمراہ دفتر میں بیٹھ کر کتاب کمپوز کی ، " زندگی ایک سفر"کے نام سے ، جو چھاپے خانے گئی-- میری روانگی سے ایک دن پہلے بمشکل پچاس کتابیں چھپ کر آئیں جوابھی قدرے گیلی تھیں( بقایا دو سو تقریبا ڈیڑھ سال بعد پھر میری آمد پر چھپیں )-- بھاوج نےازراہ محبت کتاب کی تصاویر لیکر فیس بک پر ڈالدیں اور یوں میں اپنے خاندان میں اکلوتی” صاحب کتاب “کہلائی --خوب مبارکبادیں ملیں ۔بہت سے حیران بھی ہوئے۔ جو خوشی اور طمانیت مجھے ملی وہ ان اخراجات اور کلفتوں کا مداوا کر گئی-- میری یہ کتاب ۲۰۱۱ میں چھپی ۔۔کافی ساری کتابیں اپنے سامان میں ساتھ لے گئی۔۔ پاکستان میں اور بیرون ملک اپنے اعزاء، دوست و اقارب میں تقسیم کیں ۔۔بیشتر متاثر ہوئے اور خاص طور سے وہ جنکو میری لکھنے کی صلاحیت کا علم نہیں تھا ۔۔چند ایک نے کہا کہ یہ تو أپ نے چوں چوں کا مربہ تشکیل دیا ہے ، کوئی چیز چھوڑی نہیں۔۔ اور حقیقت بھی یہی تھی اسکا ایک حصہ خود نوشت ، افسانے ، سفرنامے ، دینی مضامین ، دیگر مضامین سب ہی کچھ شامل تھا وہ تو غنیمت ہوا کہ عین وقت پر بھائی نے انگریزی مضامین شامل کرنیسے منع کردیا۔۔انسے کافی کہا کہ کتاب کی اشاعت بھی کردیں لیکن انہوں نے بتا یا کہ وہ ناشر نہیں ہیں اور ناشر بیشتر لاہور اور کراچی میں ہیں بلکہ راولپنڈی ، اسلام أباد میں کوئی ناشر نہیں ہے ۔۔اس کتاب کے پہلےباب میں اپنے بچپن کی خود نوشت لکھی تھی اسپر ایک معزز قاری کاتبصرہ تھا” میں اسمیں بری طرح کھو گیا تھا لیکن اچانک یوں محسوس ہوا کہ ایک شدیدپیاسے سے پانی کا لبالب پیالہ چھین لیا گیا ہو"اور بھی کئی لوگوں کا اصرار ہوا کہ خود نوشت مکمل کریں ۔۔اب مکمل تو کیا ہوتی بس ایک دور کو مکمل کرنیکی ٹھانی اور یہ فیصلہ ہوا کہ ایک اور کتاب صرف ایک موضوع پر شائع کی جائے۔،اب کے فیصلہ کیا کہ پرنٹر اور پبلشر اکٹھا ڈھونڈا جائے۔۔ایک مشہور فوجی دندانساز کےانتظار گاہ میں بیٹھی تھی ۔۔دفتر کے رکھ رکھاؤ سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کرنل صاحب ایک صاحب ذوق شخصیت ہیں۔۔پاس رکھے ہوئے کتابوں کی ورق گردانی کرنے لگی اور ایک کتاب پر ایک ناشر کا پتہ اور فون نمبر دیکھ کر نوٹ کیا۔۔ اس نمبر پر فون کیا،کچھ بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ نشر و اشاعت دونوں کرتے ہیں –پھر ان حضرت سے ملاقات ہوئی نیک اور شریف سے بندے لگے کہنے لگے ،” کتاب أپکی مرضی کے مطابق تیار ہو جائے گی لیکن اسکی فروخت أن لائن ہوگی میں اپنے ویب سائٹ پر اشتہار دونگا پھر جو منگوائے گا انکو بھیجونگا۔ میں نے معاملہ طے کرکے حامی بھر دی ۔اسکا کچھ مواد تو موجود تھا باقی لکھنا شروع کیا وہ بھی اکثرایسے کہ کاغذ قلم لیکر محفل میں بیٹھی ہوں اور ماضی میں غوطےلگا رہی ہوں اللہ اللہ کرے کچھ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ ناشر صاحب اسوقت تو کافی تعاؤن برتتے رہے ایک اچھی دیدہ زیب خود نوشت ،"مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا" تیار ہوگئی ۔لاگت بھی اچھی أئی ۔ز ندگی کا ایک مکمل دور اسمیں سمٹ گیا کئی دوستوں ،ساتھیوں نے بھر پور تبصرے لکھے ۔۔کتاب چند دوست احباب نے بیرون ملک اور پاکستان میں منگوائی لیکن بازار میں کتاب نہیں أئی۔ کئی دوستوں نے شکوہ کیا کہ فلاں کتب فروش کے پاس آپکی کتاب کا پوچھنے گیا لیکن کتاب نہیں تھی ۔ناشر صاحب سے میں نے کہا تو وہ کہنے لگے کتب فروشوں سے میں بحث مباحثہ نہیں کر سکتا اور أپکو میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا ۔۔ذرا ذود رنج قسم کے تھےبس اسپر ناراض ہوگئے اور حساب کتاب بے باق کردیا ۔۔ کتاب اب بھی انکے ویب سائٹ پر موجود ہے اور اللہ جانے ناشرانہ حقوق کا کیا حساب کتاب ہے ۔ اس گورکھ دھندے کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔ اور شاید ہی آئے۔۔ اس کتاب کی کافی دھوم مچی کئی اخبارات میں تبصرے ہوئے اور مختلف دوستوں، خود نوشتوں کے ناقدوں نے سراہا۔ٹورنٹو کی چند لائبریریوں میں کتابیں رکوائیں اور لائبریری أف کانگریس واشنگٹن ڈی سی بھی بھیجی۔۔اب ڈہیروں ڈھیر کتا بوں کوٹھکانے لگانا بھی ایک مر حلہ تھا ۔ مختلف کتب فروشوں کے پاس جا جا کر کتا بیں رکوائیں ۔ ہر ایک نے سب سے پہلے پوچھا " شاعری کی کتاب تو نہیں ہے ، اگر ہے تو وہ نہیں لینگے" اسوقت شاعری، جسے ہم کوہ گراں سمجھتے ہیں کی بے وقعتی کا اندازہ ہوا۔انکا حساب کتاب اللہ ہی جانے۔بکی کہ نہیں ، میں نے ابھی تک پلٹ کر نہیں پوچھا ۔ چند ایک نے سمجھایا کہ یہ آپکا کام نہیں ہے آپکے پبلشر کا کام ہے "۔تمام جاننے والوں کو حتی الامکا ن پہنچائیں، دوست احباب کو بذریعہ ڈاک بھی گئیں ۔۔ کراچی کے ایک مشہور پرنٹر پبلشر جو کہ ہمارے پرانے پڑوسی بھی تھے اور جن سے ان پرانے ناطوں کی بناء پر کچھ اپنائیت کا احساس بھی تھا انکو دونوں کتابوں کی دس دس جلدیں بھجوائیں ۔۔ شروع میں انہوں نے ایک انوایس بنا کر بھیجی تھی لیکن بعد میں ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ ۔۔ یہ اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنےأپکواسلام کا علمبردار سمجھتے ہیں ۔۔ کیا وہ سب سمجھتے ہیں کہ انسے میرے چند سو روپوں کا حساب نہیں ہوگا؟
کتابوں کی ترسیل کا سلسلہ ابھی بھی سلسلہ جاری ہے ۔سفری سامان میں بھی أ ٓدھی کتابیں ہوتی ہیں ۔ایسےمیں انگریزی مضامین کا مجموعہ چھاپنے کی ٹھانی جو اسلامی تعلیمات کے پس منظر میں تھیں ۔ یہ میرے زیادہ تر ان مضامین پر مشتمل ہے جو رسالہ" نور " (جو نیویارک سے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کی سرپرستی میں چھپتا ہے) کے لئے تحریر کی تھیں ۔ شکر اللہ کا کہ اپنی کتاب خود چھاپنے کا ایک عمدہ ویب سائٹ مل گیا جو امیزون کے اشتراک سے کام کرتا ہے ۔ قدرے وقت تو لگانا پڑا لیکن ایک اچھی کتاب تیار ہوگئی“Extremism is not our way of life” اس کتاب کا عنوان ہے۔یہ میرے ایک مضمون کا عنوان بھی ہے اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ أرڈر پر چھپتی ہے اور بھیجی جاتی ہے یہ انتظام مجھے بہترین لگااسلئے کہ نہ کتابوں کا بوجھ ہے نہ ڈھیر ، نہ درد سر۔ میں جب آرڈر دیتی ہوں تو وہ معاوضہ لے کر بھیج دیتے ہیں۔۔اب جو پچھلے چند سالوں میں اردو میں لگاتارلکھتی رہی ہوں ان افسانوں اور مضامین کی کتابوں کو چھپوانے کا سودا سمایا ہے ۔کراچی کے ایک کرمفرماپرنٹرپبلشر سے رابطے میں ہوں لیکن معاملہ ابھی تک سلجھ نہیں پارہاہے ۔۔ دیکھیں عملی صورت کب نکلتی ہے ۔۔اوریہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟ دیکھا جائے تو یہ کتابیں چھپوانا بھی ایک خبط ہی ہے اور اللہ تعالٰی کسی کو کسی خبط میں مبتلا نہ کرے۔۔اب تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے عزیز رشتہ دار ،دوست احباب یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ بس اور کتابیں نہیں ،خدا کیلئے ہمیں اپنی کتا بوں سے بچاؤ۔۔خدا لگتی اگر کہوں توخود اپنا یہ حال ہے کہ کئی احباب نے اتنی محبت سے اپنی کتابیں ارسال کیں لیکن بس ایک سرسری سا جائزہ لے پائی ہوں ۔۔تو میں کس منہ سے پوچھوں گی،" أپنے میری کتاب پڑھ ڈالی کیا ۔"
Thursday, January 28, 2016
MLK Day of Service!
|
Jan 19 (10 days ago)
![]() | ![]() ![]() | ||
| ||||
By
Abida Rahmani
Dr. Martin Luther King JR. Is an established icon of American history who fought racism relentlessly , nonviolently and changed the course of history.
MLK jr ( 15th January 1929--April 4 1968) was a clergy man. He is best known for his prominent role in African- American civil rights movement which was a nonviolent resistance civil disobedience movement.
On October 14 , 1964 MLK was awarded Nobel prize for combating racial inequality through a nonviolent movement. In the next few years he mainly focused on eliminating poverty and stood against Vietnam war.
On August 28, 1963, Clayborne Carson was one of hundreds of thousands of demonstrators at the March on Washington.
He witnessed Martin Luther King, Jr deliver his historic "I Have a Dream" speech. It was a day that changed his life.
In his new book, "Martin's Dream", Carson describes his journey through the civil rights era to today, including becoming a professor at Stanford University, being chosen by Coretta Scott King to edit Dr King's papers, and helping design the memorial to the civil rights leader that now stands in Washington DC.
King got assassinated on April 14, 1968 in Memphis, Tennessee.
In a sermon delivered nearly 55 years ago, Dr. Martin Luther King Jr. described what he called the “Drum Major Instinct” to the congregation in Atlanta's Ebenezer Baptist Church. The words he spoke that day were the inspiration for a national service award that recognizes leaders who give their time serving others but seldom seek the spotlight.
The sermon includes the following passage from Dr. King that acknowledged the desire to lead but emphasizes selfless motives: “Yes, if you want to say that I was a drum major, say that I was a drum major for justice; say that I was a drum major for peace; I was a drum major for righteousness… We all have the drum major instinct.”
The Martin Luther king JR Drum Major program gives organizations and groups an opportunity to acknowledge and celebrate those volunteers who perform extraordinary everyday acts of service with reliability and commitment but seldom receive recognition. As part of the MLK Day of Service, the Corporation for National and Community Service (CNCS) provides two options to recognize individuals who have demonstrated the “drum major instinct” in their communities.
Dr. Martin Luther King Jr. once said, "Life's most persistent and urgent question is: 'What are you doing for others?'"
The MLK Day of Service is a part of United We Serve, the President's national call to service initiative. It calls for Americans from all walks of life to work together to provide solutions to our most pressing national problems.Americans from all 50 states will join thousands of organizations and commit to service this weekend as the Martin Luther King Jr. Day of Service coincides with the 57th Presidential Inaugural and National Day of Service.
Commemorating this day of Service we should remember about the service to humanity in Islam and as a Muslim what we are obligated to.
The verse of the Holy Qurán, which so comprehensively covers this concept of service to humanity, reads
O people of Islam, "You are the best people ever raised for "the good of" mankind "because you have been raised to serve others"; you enjoin what is good and forbid evil and YOU believe in Allah." (3:110)
You will remain the best as long as you are service-minded, promote good and promote the welfare of society. If you fail to do this, you no longer have a right to boast of the superiority of Islam and the Muslim Ummah. A society which is insensitive to the suffering of other human beings and is not always inclined to serve the cause of humanity cannot be described as an Islamic society, no matter how much it adhered to other aspects of Islamic teachings.
The fundamental qualities that we must all acquire to serve mankind or to develop a passion to serve mankind are: love for humanity, kindness in our hearts for others, a charitable disposition, humility, honesty, a thirst for knowledge, a desire to share knowledge with others and a constant desire to strive in the cause of Allah by doing good. We must be a people from whom goodness flows towards others. Most of our Muslims possess these characteristics.
The teachings of the Holy Qurán and the example of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) direct us on how best to serve mankind. The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) practiced the teachings of the Holy Qurán to the fullest extent and is the best example of the true representation of service to mankind and to Allah. That is why Allah says in the Holy Qurán:
"And do not forget to do good to one another." (2:238)
And about the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) the Holy Qurán says:
"and we have sent you not but as a blessing (mercy) for the entire universe (for all peoples)" (21:108)
"Verily you have in the prophet of Allah an excellent model." (33:22)
The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) emphasized love, sympathy, and kindness towards all. He also emphasized that we must show each other great appreciation. He said, "One who is not grateful to mankind is not grateful to Allah." (Tirmidhi)
