Tuesday, January 8, 2013

قا ضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے


قاضی حسین احمد
ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے

عابدہ رحمانی

نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کاررواں کیلئے

علامہ اقبال نے یہ شعر غالبا قاضی حسین احمد کے لئے لکھا تھا -ایک ہمہ وقت متحرک ، چھا جانیوالی شخصیت آواز میں گھن گرج ، سراپے میں رعب و دبدبہ'اللہ کے دین کا مجاہد اور علمبردار،بے باک ، نڈر ، بے خوف ، دیانت دار، بے داغ اور اجلی شخصیت-- 
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ میں نوشہرہ کے قریب زیارت کاکا خیل کے قاضی خانوادے کے اس چشم و چراغ نے جب جماعت کی امارت کو  اپنایا تو جماعت اسلامی پاکستان قاضی صاحب کے نام سے ہی چار دانگ عالم میں جانی پہچانی جانے لگی- جماعت والے اور اسکے موسس اعلے سید ابوالاعلیٰ مودودی شخصیت پرستی کے مخالف اور نفی کرتے تھے- لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ اپنے آپکو منوا کر ہی دیتی ہیں اور قاضی صاحب انہی شخصیات میں سے ایک تھے- جماعت کا اپنا ایک تشخص اور شناخت تھی قاضی صاحب نے اسکو چار چاند لگا دئے، لگاتار چار مرتبہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوئے اس پر تو میں نے بھی کہا کہ اب قاضی صاحب کو امارت سے دستبردار ہونا چاہئے- 

ابھی پچھلے ہفتے تو پر وفیسر غفور احمد کا انتقال ہوا تھا- قاضی صاحب اپنے بھائی کے جنازے کو کندھا دے رہے ہیں انکے لئے دعا گو ہیں ،  انسے جنت الفردوس میں ملنے کی دعا کرتے ہیں اور یہ دعا اس قدر جلدی قبول ہوگئی-- کون سوچ سکتا تھا کیاا تنی لگن و محبت تھی- مرحوم پروفیسر صاحب کے لئے الفلاح مسجد اوکول کینڈا میں تعزیتی اجلاس میں شریک ہوئ تھی سوچا تھا اسکے متعلق کچھ اظہار خیال کرونگی معروف عربی سکالر زاہد ابی غدہ نے دعا کی تھی - پروفیسر صاحب کے ایک شاگرد  نے اظہار خیال کیا  اس وعدے کے ساتھ کہ ایک اور باقاعدہ تعزیت انکے صاحبزادے کی پاکستان سے واپسی کے بعد ہوگی- اب ان دونوں کے تعزیتی اجلاس ساتھ ہو رہے ہیں-

 قاضی صاحب پچھلے کچھ عرصے سے میرے ساتھ فیس بک پر تھے( اب جو بھی یہ صفحہ انکے نام سے چلاتاہے؟) لیکن میرے پاس تحاریر قاضی حسین احمد صاحب کے نام سے آتی ہیں - پروفیسر غفور صاحب کے جنازے کو کاندھا دے رہے ہیں ، چارسدہ میں الخدمت کے دو کارکنوں کے قتل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں یہ بس کل ہی کی بات ہے ابھی تو اخبارا ت نے اپنی شہ سرخیاں بھی نہیں بدلیں-
کہ آنا فانا وہ خود آللہ تبارک و تعالئ کے حضور چلے گۓ-یہی اس زندگی کا انجام ہے اس لمحے کے لئے ہر انسان اور بالخصوص ایک مومن کو تیا ر رہنا چاہئے - اسلئے کہ یہ لمحہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے-
پرانی بات ہے، ایک مرتبہ میں لاہور گئی تھی میرا بھائی خالد کہنے لگا یہاں منصورہ میں میرے ایک دوست قاضی صاحب رہتے ہیں چلئے آپکو انکے ہاں ملانے لے جاتے ہیں، ہم گئے تو قاضی صاحب کی اہلیہ اور چھوٹی بیٹی بہت تپاک سے ملی کہنے لگی بابا لائبریری میں ہیں چھوٹا بیٹا لقمان بھی تھا- بات چیت ہونے لگی میں نے اچانک انکی بیگم سے پوچھا یہ قاضی کا پورا نام کیا ہے؟ "قاضی حسین احمد"
انہوں نے جواب دیا اسپر میں نے دوبارہ کہا لیکن وہ  آجکل جو جماعت کے سکرٹری جنرل ہیں انکا بھی تو یہی نام ہے " کہنے لگی وہی تو ہیں - اور یہ ایک دلچسپ خوشگوار حیرت ناک بات تھی ، مجھے اسوقت تک یہ ہرگز معلوم نہیں تھا کہ قاضی صاحب پٹھان بھی ہیں - پھر میں نے بھائی کی خبر لی کہ اسنے مجھے تفصیلات کیوں نہ بتائیں؟،یہ منصورہ کا ایک چھوٹا سا دو بیڈ روم کا مکان تھا -قاضی صاحب کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا یونیورسٹی ٹاؤن پشاور اور غالبا اسلام آباد میں انکے شاندار بڑے بڑے مکانات تھے - قاضی صاحب سرحد چیمبرز آف کامرس کے نائب صدر رہ چکے تھے لیکن سکرٹری جنرل بننے کے بعد اور امارت کے 8 سال انہوں نے اسی دو کمرے کے  مکان میں گزار دئے انکی بیگم اور بیٹیاں گھر کے تمام کام کاج اپنے ہاتھ سے انجام دیتیں تھیں سادہ سا گھر صرف ضروری اشیاء سے مزین، میرا چھوٹا بیٹا ساتھ تھا اسنے لقمان سے پوچھا کہ وہ آجکل کونسے کارٹون ں دیکھتا ہے جسپر انکی بیگم نے کہا کہ بیٹا ہمارے ہاں ٹی وی نہیں ہے - مجھے یاد ہے کہ انہوں نے جلدی جلدی ہمارے لئے چائے کے ساتھ بڑے لذیز گرم گرم پکوڑے تلے-بھائی سے تو انکے تعلقات کی نوعیت یہ تھی کہ جب قاضی صاحب جماعت اسلامی سرحد کے امیر تھے ، خالد اسوقت پشاور انجینیرنگ کالج میں جمیعت کا ناظم تھا - بھٹو کا زمانہ تھا کیمپس میں سیاسی افراد کے داخلے پر پابندی تھی لیکن قاضی صاحب خالد کے مہمان کے طور پر پشاور یونیورسٹی میں داخل ہوتے تھے - اس بات کا ذکر وہ اکثر کافی فخر اور تشکر سے کرتے تھے-
 جب میں جماعت کے ذرا زیادہ قریب آئی اسوقت قاضی صاحب کی امارت تھی قاضی صاحب سے خط و کتابت ہوئی میں نے انکے خطوط کو کافی سنبھال کر رکھا تھا فون پر بھی باتیں ہوئیں لیکن بالمشافہ ملاقات کبھی نہ ہوسکی - انکے ساتھ لانگ مارچ کئے ، ملین مارچ کئے،مظاہرے کئے، دھرنے دئے اجتماعات اور جلسون میں شرکت کی وہ اور دیگر زعماء ہمارے کافی قریب ہوتے تھے، ہمارے جماعتی بھائی اپنی بہنوں کی حفاظت پر مستعد ہوتے تھے - پاکستان میں نظم و ضبط سیکھنا ہو تو جماعت اسلامی سے سیکھنا چاہئے--شمالی امریکہ کی اثنا  اسلامک سوسائیٹی آف نارتھ امریکہ ، اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ اکنا انہی کا پرتو ہیں- انکی تقاریر کی گھن گرج ابھی بھی کانوں میں گونج رہی ہے بے حد شستہ زبان بولتے تھے لیکن پشتو لب ولہجہ غماز ہوتا تھا جماعت کو مقبول عام کرنیکے لئے وہ مسلسل نئی نئی تجاویز اور محرکات کو سامنے لاتے تھے 
اگر یہ کہا جائے کہ صوبہ سرحد یا خیبر پختونخواہ میں جماعت کی تحریک کو آگے بڑھانے میں قا ضی صاحب کا ہاتھ سب سے زیادہ ہے تو بیجا نہ ہوگا- اگرچہ ان کوششوں کو بعد میں تحریک طالبان اور لال مسجد کے افسوسناک واقعے سے بہت دھچکا لگا - قاضی صاحب جب کسی حکومت کی مخالفت میں ڈٹ جاتے تو یقین ہوتا تھا کہ یہ اب جانے ہی والی ہے-  پاکستان کے تمام سیاستدانوں سے انکے اچھے مراسم تھے لیکن انکی غلطیوں پر انکا کڑا احتساب کرتے تھے - زرداری صاحب جب بد عنوانیوں کے مقدمے میں جیل میں تھے تو قاضی صاحب انہیں تفہیم القرآن اور دیگر کتابوں کا سیٹ دے آئے جو بقول زرداری اسنے پڑہیں اور اس سے بہت کچھ سیکھا-واللہ اعلم، عمران خان اپنے اسلام فہمی کا ذمہ دار قاضی صاحب کو ٹھیراتے ہیں باقی تمام سیاست دانوں سے اگرچہ انکے مراسم تھے لیکں انکی غلطیوں پر ببانگ دہل نکتہ چینی اور اعتراض کرتے تھے - پنجاب یونیورسٹی میں جب جمیعت کے اہل کاروں نے عمران خان کے ساتھ بد تمیزی کی تو اس رنج میں انکی طبیعت خراب ہوگئی - عمران کو گلے لگا کر ان سب کی طرف سے معذرت کی- نواز شریف کے گھرانے سے خصوصی تعلقات تھے- ابھی حال میں ہی بشیر بلور کی تعزیت کی اسطرح اے این پی سے بھی اپنے تعلقات نبھاتے تھے -انسے اکثر یہ سوال ہوتا تھا کہ وہ اسلامی جماعتوں کے اتحاد پر زور کیوں نہیں دیتے - انہوں نے جب متحدہ مجلس عمل بنائی تو شاہ احمد نورانی کو اسکا صدر بنایا تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ یہ  جماعت کی سرپرستی میں ایک جماعت ہے-
 دینا کی تمام جہادی تنظیموں سے انکا رابطہ تھا  بلکہ انکے پشت پناہ تھے افغانستان ، کشمیر، بوسنیا ، چیچنیا ، فلسطین ، عراق ،برما ، فلپائن ، تھائ لینڈ ، مسلمانوں اور   عالم اسلام کے ہر دکھ اور المئے پر  ہر ایک کے لئے اواز اٹھانے والے انکے دکھ درد میں شریک اور انکی پشت پناہی کرنیوالے ، قاضی صاحب دو مرتبہ دل کی بائی پاس سرجری کروا چکے تھے - چاہے ترکی ہو ، افغانستان ہو ، فلسطین ہو، مصر ہو یا دیگر اسلامی ممالک انکے آپس کے معاملات طے کرنیکیلئے اکثر انکو مصالحتی مشن پر جانا پڑتا  تھا -  گلبدین حکمتیار کے متعلق نہ جانے کیسے یہ غلط مشہور ہوگیا کہ وہ انکے داماد ہیں ؟ اسکی وجہ غالبا یہ تھی کہ جہاد افغانستان میں حد درجہ عمل دخل اور  اثر تھا جہاد کشمیر کے لئے جماعت اسلامی پاکستان نے حد درجہ قربانیاں دیں
اخوان المسلمین کی مصر میں کامیابی پر بے حد خوش تھے -  طیب اردگان ، نجم الدین اربکان عرب و عجم کے تمام مسلم لیڈران سے انکے تعلقات اور روابط تھے- حماس کے رہنما خالد مشعل کے متعلق یہ مشہور ہے کہ انکے والد نے انہیں قاضی صاحب کی خدمت میں تربیت کے لئے بھیجا - ایک اسلامی روشن خیال رہنما تھے انکے بچوں نے اعلے تعلیم حاصل کی بڑی بیٹی راحیل کو حال ہی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی - وہ قومی اسمبلی کی ممبر بھی رہ چکی ہیں وہ خود  ایک طویل عرصے تک سینیٹر اور دو  مرتبہ ممبر قومی اسمبلی رہ چکے تھے -پاکستان اکے حالیہ واقعات پر از حد ملول اور رنجیدہ رہتے تھے- جب انہوں نے جماعت کو مزید متحرک کرنیکے لئے نیشنل سالیڈیریٹی فرنٹ بنایا اسوقت جماعت اسلامی کا ایک گروہ جو جدیدیت کو اپنانے کے خلاف تھا علیحدہ ہوگیا - ہمارے لئے یہ ایک کافی کڑا اور پر آزمائش وقت تھا کتنی ہی اچھی اور بے لوث ساتھی اس دھڑے کے ساتھ مل گیئں- لیکن قاضی صاحب اپنے موقف پر ڈٹے رہے کہ انہوں نے یہ قدم جماعت کی بہتری کے لئے اٹھایا ہے اس طرح انہوں دیگر تجربات کئے - پاسبان بنائی ، شباب ملی بنائی وہ چاہتے تھے کہ وہ نوجوان وہ صالح عنصر جو تھوڑے بہت بھی دین کے قریب ہوں وہ تحریک کا حصہ بن جائیں انکی یہ کاوشیں کس حد تک کامیاب ہوئیں اسکے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن بہت حد تک ایک عام پاکستانی ذہن دین کو سمجھنے ضرور لگا ہے-
ایک مرد حق و صادق اپنے رب کے حضور جا چکا ہے اللہ تبارک و تعالی انکی خدمات کو قبول فرمائے اور انکی کوتاہیوں کو معاف کرے -
-- 

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی


قاضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے-

Thursday, December 20, 2012

سقوط ڈھاکہ!

mashriq e-paper

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قلانچیں

بدلتے موسموں کی رت

بدلتے موسموں کی رت




عابدہ رحمانی
کہتے ہیں موسم انسان کے اندر ہوتا ہے اندر کا موسم خوشگوار ہو تو باہر کا موسم کسی کا کچھ نہین بگاڑتا جبکہ میرے مطابق باہر کا موسم انسان کے اندر کے موسم سے مربوط ہے اور اسپر پوری طرح اثر انداز ہوتا ہے-دنیا میں چار موسموں کا چرچا ہے - بہار، خزاں ، گرما ، سرما یا گرمی سردی ہاں دنیا کے  کچھ شہروں اور خطوں میں موسم میں برائے نام تبدیلی آتی ہے جیسے کراچی میں اتنی لمبی گرمیاں چلتیں کہ گرمی ، پسینوں اور رطوبت سے طبیعت بری طرح پریشان ہو جاتی, جتنی گرمی میں شدت آتی ہر کوئی لڑنے مرنے پر تیار اور سردیاں، کوئٹہ لہر کی مرہون منت ہوتیں گرم کپڑوں کے استعمال کا کچھ موقع مل جاتا ان دنوں مجھے اسلام آباد جاکر جاڑوں کا بیحد مزہ آتا تھا اور جیسا کہ پاکستان میں ہوتا ہے کہ ہمارے گھر اندر سے زیادہ ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اب تو گیس کی بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے--
جغرافیائی لحاظ سے منطقہ حارہ پر واقع ممالک میں موسم میں مرطوبیت اور گرمی زیادہ تر رہتی ہے جبکہ شمال کی طرف جیسے جیسے جائیں تو سردی ہی سردی اور پھر بحر منجمد شمالی کی طرف برف ہی برف--
  اب میرا حال دیکھئے چند روز پہلے جب میں ایل اے میں تھی کیا خوبصورت معتدل موسم تھا - گلابوں اور پھولوں کی بہار، البتہ کچھ درختوں پر پت جڑ کے آثار تھے ایل اے کا یہ موسم اپنے اعتدال کے لئے کافی مشہور ہے اور سان ڈیاگو کاا س سے بھی اعلئ  وہ تو تقریبا سال بھر یکساں رہتا ہے یعنی معتدل- یہاں  ایک عزیز کے ہاں مدعو تھی جب انکو بتایا کہ چند روز میں شکاگو جانے والی ہوں تو خوب ہنسے "اپکا تو جواب نہیں گرمیاں آپ پاکستان میں گزارتی ہیں اور سردیوں مین شکاگو جا رہی ہیں"- جب میں نے انہیں بتایا کہ میں برف باری کی عاشق ہوں اور گزشتہ سال مختلف وجوہات کی بناء پر برف باری نہ دیکھ سکی، تو وہ بہت حیران ہوئے کہ میرا یہ شوق اور ارمان ابھی تک پورا نہیں ہوا؟- اس برف باری کودیکھنے کے لئے ایک زمانے میں مری کا چکر ضرور لگتا تھا - مال روڈ کی ڈھلوان پر پھسلن میرا نشان امتیاز بن چکا تھا اسلئے کہ دو مرتبہ یہاں  برف پر اس دھڑام سے پھسلی تھی - پہلی بار تو اچھی خاصی چوٹ بھی آئی جنہوں نے میرا ہاتھ تھاما تھا وہ بھی ساتھ پھسلیں اور پیچھے آنے والی دونوں بھی ہمارے ٹکر سے گر گیئں بجائے اسکے کہ ہمیں اٹھانے کی مدد کی جاتی ادھر ادھر ایک تماشا کھڑا ہوگیا ہنسی ، ٹھٹھے ، آوازیں وہ تو اللہ بھلا کرے ہمارے مردوں کا کہ انہوں نے اپنی خریدی ہوئی لاٹھیاں بڑھائیں اور ہمیں سہارا دیا-- اسی برف باری میں برف کے گولے ایک دوسرے کو مارنا ایک پسندیدہ مشغلہ تھا جسقدر برف میں لت پت ہوتے اتنا ہی لطف آتا-برف باری میں چئیر لفٹ کی سواری کا اپنا ایک مزہ تھا کچھ خوابناک سی کیفیت ہو جاتی-- پھر نچلے ریسٹوراں میں گرم گرم نان کڑھائی چکن اور گرم گرم سبز چائے کیا لظف کیا ذائقہ آ؟ وہاں کے خشک میوؤں کی دکان سے خوب خریداری ہوتی ، اسی طرح گرم شالوں، کوٹیوں، واسکٹوں اور نمدوں کی بھی--چلغوزے یہاں کا خاصہ تھے - بلکہ ہمارے بچپن میں چلغوزوں اور سردیوں کا چولی دامن کا ساتھ تھا- بس کے اڈوں پر گرم گرم چلغوزے بیچنے والے پڑیا بنا کر کھڑے ہوتے ، راستے کا شغل لیتے جاؤ ، سفر آرام سے کٹ جائے گا- اور واقعی چلغوزے چھیلتے چھیلتے راستے کا پتہ ہی نہ لگتا اس زمانے کی بسوں میں زیادہ سے زیادہ ریڈیو بجتا تھا اور اباجی ہمیشہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر ڈرائیور کو زیادہ سے زیادہ خبریں لگانے کی ہی اجازت دیتے -  اب چلغوزوں کی جگہ مونگ پھلی نے لے لی-میرا ایک بیٹا چلغوزوں کا عاشق ہے اسے پاکستان کی ایک ہی سوغات چاہئے اور وہ ہے چلغوزے، امریکہ میں چھلے ہوئے چلغوزے خوب ملتے ہیں لیکن اسکو چھیلنے والے ہی چاہئیں کیونکہ اسکو اسی میں لطف آتاہے-  پاکستان چھوٹا ، پاکستانیئت چھوٹی لیکن چلغوزوں کا  وہ بیحد منتظر رہتا ہے جو کہ اب واقعی ایک سوغات بن چکے ہیں -
 خزان کے موسم یا سردیوں کی اپنی ایک خوبصورتی اور حسن ہے  دن کا پتہ ہی نہیں چلتا ابھی دن پوری طرح چڑھا ہی نہیں کہ شام ہوگئی اور خاص طور پر ان ممالک میں جہاں وقت گرمیوں میں ایک گھنٹہ پیچھے کر دیا جاتا ہے اور سردیوں میں پلٹا دیا جاتا ہے لیکن پھر بھی روشنی کو نہیں روک پاتے سکینڈے نیویا کے ممالک تو ہم سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں اور جہاں پر سردیوں میں رات ہی رات اور گرمیوں میں دن ہی دن ہوتا ہے-
 بقول شاعر


خزاں کے موسم کی سرد شامیں
سراب یادوں کے ہاتھ تھا میں

کبھی جو تم سے حساب مانگیں
مایوسیوں کے نصاب مانگیں

بے نور آنکھوں سے خواب مانگیں
تو جان لینا کے خواب سارے

میری حدوں سے نکل چکے ہیں
تمہاری چوکھٹ پہ آ روکے ہیں

مسافتوں سے تھکے ہوئے ہیں
غبار راہ سے اٹے ہوئے ہیں

تمہاری گلیوں میں چپ کھڑے ہیں
کچھ اس طرح سے دارئ ہوئے ہیں

سوالی نظروں سے تک رہے ہیں
تمہاری چوکھٹ پہ جانے کب سے 
جبیں جھکائے ہوئے کھڑے ہیں
جب موسم کی پہلی برف باری ہوتی ہے تو عجیب سی ایک سر شاری کی کیفیئت ہوتی ہے جی چاہتا ہے بس دیکھتے ہی جاؤ  کبھی باریک اور کبھی روئی کے گالوں کی طرح خاموشی سے چھپ چھاپ گرتی ہوئی برف ہر چیز کو ایک سفید چادر کی طر ح ڈھانپ لیتی ہے درختوں کی ٹہنیوں پر کسقدر خوبصورتی سے جم جاتی ہے اور پھر چیڑ، دیار اور دیودار کے پتے انکا حسن تو برف کے ساتھ ہی نکھر آتا ہے اور یہان پر یہی تو کرسمس ٹریز کہلاتے ہیں- اسقدر اجلا پن ہوتا ہے کہ رات کو بھی چکا چوند ہو جاتی ہے- کرسمس اور برف کا چولی دامن کا ساتھ ہے دراصل کرسمس کے ساتھ  ؑعیسی علیہ السلام کی پیدائش کو تو زبردستی نتھی کردیا گیا ہے- حقائق کے پیش نظر انکی پیدائش گرمیوں میں ہوئی تھی-کرسمس دراصل ٹھنڈے ممالک کے باسیوں کا سردیوں کا تہوار ہے اور اگر کرسمس میں برف نہ ہو تو کرسمس کا لطف ہی جاتا رہتا ہے- سفید کرسمس خوشیوں کو دوبالا کر دیتی ہے  اور کیا طمانئت، خوشی و سرشاری ہوتی ہے کہ کرسمس سفید ہوگیا-آخر کو سانٹا کلاز نارتھ پول  یعنی شمال کے برفانی خطے سے رینڈئر سے دوڑاتی ہوئی رتھ پر سوار بچوں کے لئے ڈہیروں  تحائف لے کر آتا ہے -حالانکہ سانٹا ہر جگہ ہر شہر کے مال میں موجود ہے - میری ایک دوست اچھے خاصے معاوضے پر سانٹا بنی رہتی - ڈزنی لینڈ میں کرسمس پریڈ پر مصنوعی برف باری ہوتی ہے کیا خوبصورت منظر ہوتا ہے ، ہلکے ہلکے ارد گرد اچھا خاصا سفید ہوجاتا ہے-کیلی فورنیا اور اریزونا کے شہروں میں دیکھا کہ مصنوعی طور پر برفباری کا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہیں تو روئی بچھا دی جاتی ہے کہیں کوئی اور سفید چیز ورنہ قریبی پہاڑوں سے برف لاکر ڈہیر کر دیا جاتا ہے آئس سکیٹنگ ہورہی ہے آئس ہاکی ہوتی ہے سردیوں کے اولمپکس دیکھو تو برف کے کھیل ہی کھیل اور پہاڑوں پر سکیینگ کی تفریح گاہیں ، سڑکوں سے غائب ہو  ۓ تو  تفریح گاہوں میں موجود -زندگی سے لطف اٹھانا تو کوئی ان سے سیکھے
میرا تو ایسا جی مچلتا ہے  کہ جیکٹ ،دستانے ، ٹوپی پہن کر اسکا لطف لینے کے لئے پہنچ جاتی ہوں-ارد گردہر طرف خاموشی ہوتی ہے اکا دکا گاڑیاں آتی جاتی نظر آتی ہیں  اس سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ کاروبار زندگی میں کوئی فرق آجاتا ہے - ڈھیروں برف پڑ رہی ہو یا چھاجوں بارش برس رہی ہو کاروبار زندگی میں کوئی خلل نہیں آتا البتہ سڑکوں پر لوگ چلتے پھرتے نظر نہیں آتے-لوگ حیران ہو  ہو کر دیکھتے ہیں،  ایک آدھ تو گاڑی روک کر خیر خیریت بھی پوچھ لیتے ہیں- کیونکہ ٹھنڈے علاقوں کے لوگ ایسے موسم میں سڑکوں سے  غائب اور گوشہ نشین ہوجاتے ہیں - لیکن جب ڈھیروں برف پڑ جائے تو برف صاف کرنے والی گاڑیاں حرکت میں آجاتی ہیں،سڑکوں، گلیوں اور فٹ پاتھوں سے برف ہٹانے کا کام شروع ہو جاتا ہے اسکے لئے برف پگھلانے کا مادہ اور نمک ڈالا جاتا ہے اگر درجہ حرارت بڑھ گیا تو یہ کام قدرتی طور پر ہوتا ہے اور یہ پگھلا ہوا پانی رات کو جب درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے تو اسکی  شیشے کی طرح برف جمتی ہے جوانتہائی خطرناک ہوتی ہے -خود پھسلو یا گاڑی پھسلے دونوں صورتوں میں خطرہ ہی خطرہ اسکو یہاں پر بلیک آئس کہتے ہیں-جب برف کے ڈہیروں پر پگھلانے والا مادہ اور نمک ڈال دیا جاتا ہےجس سے یہ ایک کیچڑ بن جاتا ہے اور اسمیں چلنا پھرنااورلتھڑے ہوئے جوتون کے ساتھ گھومنا پھرنا ، گاڑیوں اور گھروں کے پاؤندانوں پر کیچڑ اورنمک کا ڈھیر لگ جانا مجھے ہرگز پسند نہیں ہے- ایک مرتبہ برف باری میں اپنی گاڑی باہر پارک کی کچھ دیر کے بعد باہر نکلی تو معلوم ہوا کہ گاڑی کہیں برف کے ڈہیر میں غائب ہوگئی ہے-نرم برف تو آرام سے جھڑ جاتی ہے البتہ جمی ہوئی برف کو ہٹانا اور کھرچنا ایک کار دارد کم از کم دس منٹ گاڑی کو گرم کرنے میں لگ جاتے ہیں  باہر نکلو تو تہ در تہ مؤٹے موٹے کوٹ جیکٹ پہنو اور جیسے ہی اندر داخل ہو ایک ایک کر کے اتارنا شروع کرو کیونکہ اندر اسقدر گرم کیا ہوا ہوتا ہے -عجیب نفسیات ہے اے سی اتنا تیز ہوگا کہ کمبل اور جیکٹ لینے کی ضرورت  ہوتی ہےجبکہ ہیٹنگ اتنی زیادہ ہوگی کہ اندر اکثر لوگ گرمیوں کے لباس میں نظر آئینگے- ہاں جب یہ برفباری طول پکڑ جائے یا ایسی صورت ہو کہ جمی ہوئی برف کا طوفان آجائے تو پھر خدا کی پناہ ہر چیز کرسٹل کی طرح ہو جاے اور اس چکا چوند میں اکثر بجلی بھی غائب ہو جاتی ہے - انسان بھی عجیب چیز ہے ہر چیز کی زیادتی یا تسلسل سے  اکتا جاتا ہے  اور پھر گرم دنوں کی خواہش کرنے لگتا ہے اور یہان کے برفانی پرندے   سنو برڈز
جنکی اڑان گرم خطوں کی جانب ہوتی ہےانمیں اکثریت بوڑھے ریٹاریز  کی اور کینیڈا کی مرغابیاں ہوتی ہیں کینیڈا کا جو علاقہ امریکہ کے ساتھ ساتھ ہے نسبتا کم ٹھنڈا ہے جبکہ شمال کی جانب ٹھنڈک اور برف بڑھتی چلی جاتی ہے- مرغابیوں سے تو امریکہ والے خوب تنگ ہیں جبکہ بوڑھے سنو برڈز کیلئے پورے پورے شہر بسا رکھے ہیں-
اسوقت تو ہمارا موسم کنیٹیکٹ کے سکول میں بیگناہ مارے جانے والے بچوں اور استادوں کے غم میں سوگوار ہے لیکن 
کرسمس کی چہل پہل اور برفباری کا ارمان اپنی جگہ -کیونکہ شکاگو میں ابھی تک برفباری نہیں ہوئی نہ معلوم یہان کے  باسیوں کی قسمت میں اس مرتبہ سفید کرسمس ہے بھی کہ نہیں؟

 میں زندگی کی تمازت کو ڈھونڈنے نکلی
برف کے سرد موسم میں 


-- 



عابدہ