Monday, July 3, 2023

عیدالاضحی پاکستان میں

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ تمام عزیزواقارب کو عید قربان کی قربانیاں اور عبادات مبارک ہوں-
ایک طویل عرصے کےبعد میں اپنے۔مادر وطن میں عیدالاضحی منارہی ہوں-جہاں جابجا بکروں کے ممیانے اور گائیوں کے ڈکرانےکی آواز یں آرہی ہیں ۔ ۔۔لیکن نہ تو میں مساجد میں ادا ہو نیوالے نماز عید کے نظام الاوقات دیکھ رہی ہوں اور نہ ہی ان میں شرکت کی جستجو ہے--
جن ممالک میں اب بسیرا ہے وہاں جانوروں کی آوازیں سنائی دیتی ہے ، نہ قصائی اور گوشت کی تقسیم اور سنبھالنے کاغم ، نہ ہی یہ فکر کہ کھال کسکو جائیگی--ہاں نماز عید میں حاضری لازمی، مرد و خواتین برابر تعداد میں بلکہ اکثر خواتین اور بچوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے -بلند آواز تکبیر ات ، جاندار خطبات اور جوش و خروش--کیا اب وہ ممالک اسلام کا قلعہ بن رہے ہیں یا بنائے جارہے ہیں، قربانیاں اور گوشت یہاں اور باجماعت نماز عید وہاں--- کیونکہ یہاں کی مساجد میں خواتین کا داخلہ ممنوع ہے --- سوائے معدودے چند کے -  مسیساگا میں ایک بہے بڑا اجتماع مشہور عالم اور قاری مشاری العفاسی کی امامت میں منعقد ہوا-خبروں کے مطابق تقریبا 20 ہزار افراد شریک ہوئے ، جنمیں ایک بڑی تعداد میں خواتین اور بچے تھے  - 
تمام اہل وطن کو پاکستان میں عیدالاضحی مبارک ہو--
طالب دعا--
عابدہ رحمانی

امام طبرانی کی کتاب سے --

امام طبرانی کی کتاب میں ایک واقعہ
پڑھا آنسو ہیں کہ رک نہیں رہے
آپ بھی پڑھیں

حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ دروازہ
رسول الله ﷺ
پر کلمہ پڑھنے آئے
مسلمان ہونے کے بعد
نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں
عرض کرنے لگے
یا رسول الله ﷺ ایک بات پوچھنی ہے
حضور ﷺ نے فرمایا پوچھو
کہنے لگے یا رسول الله ﷺ دور جاہلیت میں ہم نے جونیکیاں کی ہے
اُن کا بھی الله ہمیں آجر عطا کرے گا
کیا اُسکا بھی آجر ملے گا
تو
نبی کریمﷺ نے فرمایا تُو بتا
تُو نے کیا نیکی کی
تو کہنے لگے
یا رسول الله ﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کر
اپنے دو اونٹوں
کو ڈھونڈنے نکلا
میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اُس پار نکل گیا
جہاں پرانی آبادی تھی
وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا
ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا
اُس کو جا کر میں نے بتایا
کہ
یہ دو اونٹ میرے ہیں
وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئے تھے تمہارے ہیں تو لے جاؤ
اُنہی باتوں میں اُس نے پانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو
بوڑھا پوچھنے لگا
بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا
میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگر بیٹا ہوا تو
قبیلے کی شان بڑھائے گا
اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اُسے زندہ دفن کرا دوں گا
اِس لیئے کہ
میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا
میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا
میں ابھی دفن کرا دوں گا
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ فرمانے لگے
یا رسول الله ﷺ
یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا
میں نے اُسے کہا
پھر پتہ کرو بیٹی ہے کہ بیٹا ہے
اُس نے معلوم کیا تو پتہ چلا
کہ
بیٹی آئی ہے
میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا
کہنے لگا ہاں !
میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے
میں لے جاتا ہوں
یا رسول اللّٰه ﷺ وہ مجھے کہنے لگا
اگر
میں بچی تم
کو دے دوں تو تم کیا دو گے
میں نے کہا
تم میرے دو اونٹ رکھ لو
بچی دے دو کہنے لگا
نہیں
دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے
آیا ہے یہ بھی لے لیں گے
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو
یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اُسے واپس دےدیتا ہوں
یا رسول اللّٰه ﷺ
میں نے تین اونٹ دے کر ایک بچی لے لی
اُس بچی کو لا کے میں نے اپنی
کنیز کو دیا نوکرانی اُسے دودھ پلاتی
یا رسول الله ﷺ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی
وہ میرے سینے سے لگتی
حضور ﷺ پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا
کہ
کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے
یا رسول الله ﷺ
میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا
یا رسول الله ﷺ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ہے
میری حویلی میں تین سو ساٹھ
بچیاں پلتی ہیں
حضور ﷺ مجھے بتائیں
میرا مالک مجھے اِس کا اجر دے گا ؟
کہتے ہے حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا
میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے
یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے
رب نے تجھے دولتِ ایمان عطا کر دی ہے
نبی کریم ﷺ فرمانے لگے
یہ تیرا دنیا کا اجر ہے
اور
تیرے رسولﷺ کا وعدہ ہے
قیامت کے دن رب کریم تمہیں
خزانے کھول کے دے گا۔

Sunday, April 30, 2023

Trip to Spain and Morocco! 3- On way to Cordoba قر طبہ کی جانب مسجد قرطبہ

 Trip to Spain and Morocco!

3- On way to Cordoba

قر طبہ کی جانب مسجد قرطبہ

جامع مسجد قرطبہ یا قرطبہ کی جامع مسجد (انگریزی: 

Great Mosque of Córdoba ہسپانوی: Mezquita de Córdoba جسے ایک کیتھیڈرل یعنی بڑے گرجے میں تبدیل کر دیا گیا اور اب اسے قرطبہ کی مسجد-کیتھیڈرل (انگریزی: Mosque–Cathedral of Córdoba) ہسپانوی: Mezquita-Catedral de Córdoba)‏) بھی کہا جاتا ہے۔ 

اب غالبا اسکی حیثیت ایک تاریخی ورثے کی ہے۔۔

میری جذباتی کیفیت معراج پر تھی جب میں وہاں داخل ہوئی ، سیاحوں کا ایک ہجوم تھا انہی کے ساتھ ہمارا گروپ گائیڈ کے ہمراہ داخل ہوا ۔تاریخ کی سفاکی اور بھول بھلیاں میرے دماغ پر حاوی تھے ، ایک ستون کے سہارے کھڑے ہوکر میں نے نفل دوگانہ ادا کئے  ، اللہ تعالی ۔۔سے اسلام کی سر بلندی، استحکام و اتحاد  کی دعا کی

ہماری گائیڈ با ر بار 

reconquest 

کا ذکر کر رہی تھی کہ کسطرح ہسپانیوں نے مسلمانوں جنکو وہ مقامی زبان میں مورش کہتے ہیں زیر اور نیست و نابود کیا ۔۔۔

اندلس (عربی: الأندلس) میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا عرصہ تقریباً سات سو برس پر محیط ہے۔ جو آٹھویں صدی عیسوی میں جامع مسجد قرطبہ (ہسپانوی: Mezquita) کی تعمیر شروع کیے جانے سے لے کر پندرھویں صدی عیسوی میں غرناطہ کے قصر الحمراء کے مکمل ہونے کے زمانہ پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دوران میں سینکڑوں عمارات مثلاً حمام، محلات، مساجد، مقابر، درس گاہیں اور پل وغیرہ تعمیر ہوئے جن کی اگر تفصیل لکھی جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے۔ اندلس میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہاں کے مسلمان حکمران اور عوام کی اکثریت پرانی ثقافت کی کورانہ تقلید کے قائل نہیں تھی۔ بلکہ یہاں ایک نئی تہذیب نے جنم لیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ایک نیا معاشرہ وجود میں آیا تھا۔ اس نئی تہذیب کے آثار ان کی تعمیر ات کے ہر انداز سے جھلکتے نظر آتے ہیں۔ عرب فاتحین کا یہ قاعدہ رہا تھا کہ وہ جہاں کہیں فاتح بن کر جاتے وہاں کی علاقائی تہذیب و ثقافت کو اپنا لیتے اور اپنی تعمیرات میں اس علاقہ کی طرز تعمیر کے خدو خال کو شامل کر لیتے۔ چنانچہ سندھ سے لے کر مراکش تک کی تعمیرات میں عربوں کی یہ خصوصیت واضح طور پر جلوہ گر نظر آتی ہے۔ لیکن اندلس میں انہوں نے یکسر ایک نیا رویہ اپنایا اور ایک ایسی نئی طرز تعمیر کے موجد بنے جس میں عرب، ہسپانوی (Visigothic)، صیہونی اور اندلس کی دیگر اقوام کی خصوصیات یکجا نظر آتی ہیں۔ ہم یہاں پر اسی طرز تعمیر کی زندہ مثال جامع مسجد قرطبہ کا ذکر کرنے جا رہے ہیں۔ اس مسجد کی طرز تعمیر میں قدیم اسلامی طرز تعمیر صیہونی اور مسیحی طرز تعمیر کے پہلو بہ پہلو ایک نئے امتزاج کے ساتھ ملتا ہے۔

مسجد قر طبہ میں سیاحوُ

ں کا ایک اژ دھام تھا - داخلی دروازے کے  اندر دیواروں پر  قدیم عمارت کے شہتیر آویزاں تھے  جن پر بہترین کندہ کاری نمایاں تھی  ۔ انہی خطوط پر عمارت کی تزئین نو جاری رہتی ہے ۔

میرے جذبات کا مد وجذر معراج پر تھا ۔ اقوام کے عروج و زوال کے باب اور خاصکر امت مسلمہ کے زوال کے اسباب سے دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔

مسجد  کی تعمیر اور قطار در قطار محراب فن تعمیر کا نادر نمونہ  ہیں ۔ علامہ اقبال کی مسجد قرطبہ میں نماز کی ادائیگی ایک تاریخی حقیقت ہے ۔ میں  قبلہ رو ہوکر ایک ستون کے ہمراہ ٹیک لگا کر کھڑی ہوئی  اور کھڑے کھڑے اشارے سے دو رکعت نوافل ادا کئے ۔ میرا رب  ہر حال سے واقف ہے ۔ 


اندلس  کی گلیوں میں 

،اللہ تعالٰی نے اس خطے کی سیر کروائی بچپن میں نسیم حجازی کے ناولوں  شاہین ، یوسف بن تاشفین ،داستان مجاہد میں  اندلس کی کہانیاں اور  داستانیں پڑھی تھیں اور اس خطے میں آنا ایک دیرینہ خواہش تھی  جو الحمد للّٰہ  پوری ہوئی ۔ تصویروں کی زبانی آپ  لوگ اس کہانی سیر وتفریح اور سیاحت میں میرے ساتھ شامل ہوں 

اگلے روز ہم اشبیلیہ Seville کی جانب روانہ ہوئےوہاں پر اندلس کے اسلامی دور کی تعمیرات میں القصر گئے جسے ہسپانوی زبان میں Alkazar ۔کہتے ہیں ۔ انتہائی نادر تعمیرات تھے۔


محل القصر میں داخل ہوں تو مسلمانوں کے فن تعمیر کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ دیدہ زیب اشکال، خوبصورت محرابیں، دیواروں اور چھتوں پہ بنے خوبصورت نقش و نگار، کونے اور فوارے سب قابل دید ہیں۔ یہ محل القصر بنو عباد کے شاہی خاندان نے بنایا تھا۔ یہ خاندان بنو امیہ کی اندلس میں حکمرانی کے خاتمے کے بعد آیا۔ اس خاندان نے اشبیلیہ پر 1023 سے 1091 تک حکمرانی کی۔ مسلمانوں کی شکست کے بعد عیسائی حکمرانوں نے یہ محل مختلف تبدیلیوں کے ساتھ اپنی رہائش کےلیے استعمال کیا لیکن وہ اس معیار اور بلند فن تعمیر کی سطح تک نہ پہنچ سکے جو مسلم حکمرانوں کا خاصا تھا۔ اسپین کا موجودہ حکمران شآتا ہے تو یہیں قیام کرتااہی خاندان جب دورے پر یہاں  ہے۔































































































Great Mosque of Córdoba ہسپانوی: Mezquita de Córdoba جسے ایک کیتھیڈرل میں تبدیل کر دیا گیا اور اب اسے قرطبہ کی مسجد-کیتھیڈرل (انگریزی: Mosque–Cathedral of Córdoba) ہسپانوی: Mezquita-Catedral de Córdoba)‏) بھی کہا جاتا ہے۔ 


اندلس (عربی: الأندلس) میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا عرصہ تقریباً سات سو برس پر محیط ہے۔ جو آٹھویں صدی عیسوی میں جامع مسجد قرطبہ (ہسپانوی: Mezquita) کی تعمیر شروع کیے جانے سے لے کر پندرھویں صدی عیسوی میں غرناطہ کے قصر الحمراء کے مکمل ہونے کے زمانہ پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دوران میں سینکڑوں عمارات مثلاً حمام، محلات، مساجد، مقابر، درس گاہیں اور پل وغیرہ تعمیر ہوئے جن کی اگر تفصیل لکھی جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے۔ اندلس میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہاں کے مسلمان حکمران اور عوام کی اکثریت پرانی ثقافت کی کورانہ تقلید کے قائل نہیں تھی۔ بلکہ یہاں ایک نئی تہذیب نے جنم لیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ایک نیا معاشرہ وجود میں آیا تھا۔ اس نئی تہذیب کے آثار ان کی تعمیر ات کے ہر انداز سے جھلکتے نظر آتے ہیں۔ عرب فاتحین کا یہ قاعدہ رہا تھا کہ وہ جہاں کہیں فاتح بن کر جاتے وہاں کی علاقائی تہذیب و ثقافت کو اپنا لیتے اور اپنی تعمیرات میں اس علاقہ کی طرز تعمیر کے خدو خال کو شامل کر لیتے۔ چنانچہ سندھ سے لے کر مراکش تک کی تعمیرات میں عربوں کی یہ خصوصیت واضح طور پر جلوہ گر نظر آتی ہے۔ لیکن اندلس میں انہوں نے یکسر ایک نیا رویہ اپنایا اور ایک ایسی نئی طرز تعمیر کے موجد بنے جس میں عرب، ہسپانوی (Visigothic)، صیہونی اور اندلس کی دیگر اقوام کی خصوصیات یکجا نظر آتی ہیں۔ ہم یہاں پر اسی طرز تعمیر کی زندہ مثال جامع مسجد قرطبہ کا ذکر کرنے جا رہے ہیں۔ اس مسجد کی طرز تعمیر میں قدیم اسلامی طرز تعمیر صیہونی اور مسیحی طرز تعمیر کے پہلو بہ پہلو ایک نئے امتزاج کے ساتھ ملتا ہے۔

مسجد قر طبہ میں سیاحوُ

ں کا ایک اژ دھام تھا - داخلی دروازے کے  اندر دیواروں پر  قدیم عمارت کے شہتیر آویزاں تھے  جن پر بہترین کندہ کاری نمایاں تھی  ۔ انہی خطوط پر عمارت کی تزئین نو جاری رہتی ہے ۔

میرے جذبات کا مد وجذر معراج پر تھا ۔ اقوام کے عروج و زوال کے باب اور خاصکر امت مسلمہ کے زوال کے اسباب سے دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔

مسجد  کی تعمیر اور قطار در قطار محراب فن تعمیر کا نادر نمونہ  ہیں ۔ علامہ اقبال کی مسجد قرطبہ میں نماز کی ادائیگی ایک تاریخی حقیقت ہے ۔ میں  قبلہ رو ہوکر ایک ستون کے ہمراہ ٹیک لگا کر کھڑی ہوئی  اور کھڑے کھڑے اشارے سے دو رکعت نوافل ادا کئے ۔ میرا رب  ہر حال سے واقف ہے ۔ 


اندلس  کی گلیوں میں 

،اللہ تعالٰی نے اس خطے کی سیر کروائی بچپن میں نسیم حجازی کے ناولوں  شاہین ، یوسف بن تاشفین ،داستان مجاہد میں  اندلس کی کہانیاں اور  داستانیں پڑھی تھیں اور اس خطے میں آنا ایک دیرینہ خواہش تھی  جو الحمد للّٰہ  پوری ہوئی ۔ تصویروں کی زبانی آپ  لوگ اس کہانی سیر وتفریح اور سیاحت میں میرے ساتھ شامل ہوں 

اگلے روز ہم اشبیلیہ Seville کی جانب روانہ ہوئےوہاں پر اندلس کے اسلامی دور کی تعمیرات میں القصر گئے جسے ہسپانوی زبان میں Alkazar ۔کہتے ہیں ۔ انتہائی نادر تعمیرات تھے۔


محل القصر میں داخل ہوں تو مسلمانوں کے فن تعمیر کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ دیدہ زیب اشکال، خوبصورت محرابیں، دیواروں اور چھتوں پہ بنے خوبصورت نقش و نگار، کونے اور فوارے سب قابل دید ہیں۔ یہ محل القصر بنو عباد کے شاہی خاندان نے بنایا تھا۔ یہ خاندان بنو امیہ کی اندلس میں حکمرانی کے خاتمے کے بعد آیا۔ اس خاندان نے اشبیلیہ پر 1023 سے 1091 تک حکمرانی کی۔ مسلمانوں کی شکست کے بعد عیسائی حکمرانوں نے یہ محل مختلف تبدیلیوں کے ساتھ اپنی رہائش کےلیے استعمال کیا لیکن وہ اس معیار اور بلند فن تعمیر کی سطح تک نہ پہنچ سکے جو مسلم حکمرانوں کا خاصا تھا۔ اسپین کا موجودہ حکمران شآتا ہے تو یہیں قیام کرتااہی خاندان جب دورے پر یہاں  ہے۔

Trip to Spain and Morocco !

From Granada to Malaga and by Ryan air to Fes Madina Morroco.


As initial plan we were supposed to leave in a Ferry through Malaga to Gibraltar and then Tangier.

However this program was changed because of some restrictions on Ferry service. We all had a PCR test of Covid a day earlier. Then it was decided that we’re going by air to Fes not Tangier. It’d have been desirable to visit the birthplace of Ibn I Batuta.

It was almost 3 hours drive from Granada to Malaga airport. Stopped on the way for Lunch and washroom.

The driver was in a rush to drop us at the airport.Therefore We didn’t go around in Malaga. Arrived quite a bit early and waited for checking in.

Going in the plane through stairs was quite challenging and disorganised. I went through back stairs to reach my seat in front which was impossible!

Any way after arrival at Fes, cleared all the formalities, we were received warmly and embarked into our small coaster bus .

Neighbouring Spain, Morocco looked a humble country. As our bus stopped in front of a fabulous hotel we all were excited. How ever this was not the case, we have to walk up and down in narrow winding streets , pitch dark at some places. It seemed like we’re inside a walled city. Our guide saleem and another boy was very helpful to me. Two man pulled carts were there to pull our luggage.

We’re almost a century behind inside these old streets! Finally the light came at the end of dark tunnel and we arrived at a 17th century mansion turned into hotel “ Dar Bin Sauda”. We were greeted warmly with Moroccon hospitality of mint tea and buiscuits. 

This place looked like a historic museum not a modern hotel. We were told that western visitors die for such places! 

The climax was when my room was allotted on 2nd or 3rd floor. There were no railings and had to climb holding walls. The room was warm and comfortable. However for the bathroom I have to climb 10 more stairs. Spend the night some how,in the morning asked them to give me another room with attached bathroom because we were staying there for another night!

Next morning we started exploring Fes with two guides. Street by street in walled old city. Moroccans are good artisans and all the handicrafts were made by them. Didn’t find anything “ Made in China “.

Here are the details in pictures!