Sunday, April 26, 2015

The importance of family ties!

The importance of family/relatives in today's world - By : Abida Rahmani

imageThe family, which is the basic unit of civilization, is now disintegrating. Islam’s family system brings the rights of the husband, wife, children, and relatives into a fine equilibrium. It nourishes unselfish behavior, generosity, and love in the framework of a well-organized family system. The peace and security offered by a stable family unit is greatly valued, and it is seen as essential for the spiritual and emotional growth of its members. A harmonious social order is created by the existence of extended families and by treasuring children.

Human being is socially bonded to many relations. First of all there are blood relations, from whom you are born or who are born from you. One of the most important bondage or relation is that of a husband and wife or spouses. Then it goes on with kinship to different levels and categories.

A family bondage is very important for the wellbeing or nurturing of a person and it’s a great trial or impossible to survive without those family ties. These family ties are adorable but trying too at certain times. One badly needs a family or relatives support in hard, trying and sensitive times. Their consolation and moral support helps a lot in building up the self-esteem and handle the grief and pain.

In Islam respect of elders and to be kind and loving with Youngers is a great part of religion. Respect for others shows great amounts of self-esteem to them. It is interesting to see how a child-orientated and religious orientated culture operates. Sacrificing own whims and desires for the benefit of family is a great part of Islamic society.

Individuals comprising any society are tied together by related group bonds. The strongest of all societal bonds is that of the family. And while it can be justifiably argued that the basic family unit is the foundation of any given human society, this holds particularly true for Muslims. As a matter of fact, the great status that Islam affords to the family system is the most important factor that so often attracts many new converts to Islam, particularly women. Family values play an integral role in the formation of Muslim society.

So, what are the particular values or traits of Islamic family life that so many are finding so appealing? 

One can see that family values in Islam are one of its major attractions. These values stem from God and His guidance, through the Quran and the example and teaching of His Messenger, Muhammad, may the mercy and blessings of God upon him, who indicates the family unit as being one of the mainstays of religion and Islamic way of life. The importance of forming a family is underscored by a saying of the holy Prophet himself, who said:
“When a man marries, he has fulfilled half of his religion, so let him fear God regarding the remaining half. (al-Baihaqi)

The Family is a part of the Islamic social order. The society that Islam wants to establish is a clean pure society. It establishes an ideological society, with a high level of moral awareness, strong commitment, attitude and fulfillment of an amazing human behavior. Its discipline is not an imposed discipline, but one that flows out of every individual's commitment to the values and ideals of Islam. In this society a high degree of social responsibility prevails. The entire system operates in a way that strengthens and fortifies the family and not otherwise.
Thus we can truly claim that family relations are the back bone of Muslim society, which protect it from many evils.

A strong family is a great asset to value.


Saturday, April 25, 2015

ادھار

ادھار
حقیقت پر مبنی کہانی

عابدہ رحمانی


میں لاہور میں تھی کہ اسکا ٹیکسٹ (ایس ایم ایس )آیا ۔۔ "میری بیوی کی زچگی ہونیوالی ہے میں اسے فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال میں داخل کرنے آیا ہوں ۔۔ میرا ہاتھ بہت تنگ ہے بلکہ تہی دست ہوں ۔ آپ میری مدد کریں میں چند روز میں آپکو لازمی واپس لوٹا دونگا۔۔
مجھے اس بات سے کافی اچنبھا سا ہوا وہ میرا  پراپرٹی ڈیلر تھا ۔اسکے ذریعے میں نے دو سودے کروائے تھے اسنے اپنی کمیشن لی اور بات ختم ہوگئی۔۔میرا اس سے عرصہ دراز سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پاکستان آمد پر ایک اور ایجنٹ سے اسکا نمبر مانگا اور یوں میرا دوبارہ رابطہ ہوا وہ بھی ایک زمین کی قیمت کی تحقیق کے سلسلے میں ۔
میں نے اپنے بھائی کو اس قصے کا بتایا تو وہ اسے ایک جعل سازی سمجھے ۔۔ شمالی آ مریکہ میں اس قسم کے قصے انٹر نیٹ اور فون پر آئے دن ہوتے رہتے ہیں ۔۔ پھر بھی میں نے اسے جواب دیا کہ میں لاہور میں ہوں اور تمہاری مدد کرنے سے قاصر ہوں ۔۔ چند روز بعد از راہ ہمدردی میں نے اسے ٹیکسٹ کیا " تمہاری بیوی کی طبیعت اب کیسی ہے؟
میرا بچہ پیدا ہوا تھا لیکن فوت ہو گیا اور میں بیوی کو لیکر ملتان اپنے والدین کے پاس آگیا ہوں ۔۔"
مجھے کافی افسوس ہوا اور اس سے دریافت کیا کہ اسکے اور کتنے بچے ہیں؟
جی میرے دو اور بچے ہیں ۔
میں نے ان بچوں کے لئے دعائیں لکھیں۔۔
چند روز بعد اسکا فون ایا ،کیا آپ واپس آگئی ہیں ؟
میرا جواب سنکر وہ مجھے مختلف سودے دکھانے کی بات کرنے لگا ۔وہ بات چیت میں کافی نارمل لگ رہا تھا ۔میں نے بھی اسکا دکھ بڑھانے کی کوئی  بات نہ کی۔۔
دوپہر کو میں لیٹی تھی کہ اسکا فون آیا ۔۔ میں بہت پریشانی میں ہوں خدا کیلئے مجھے پانچ ہزار عنایت کریں میں نے ایک مکان کرائے پر لگایا ہے پرسوں لازمی مجھے کمیشن مل جائیگا اور میں آپکے مطالبے سے پہلے ہی ادائیگی کر دونگا ۔۔
مجھے اسکی یہ بات بہت عجیب لگی ۔۔" تمہارا اور میرا کاروباری تعلق ہے اور اس طرح کی باتیں اسمیں ہرگز زیب نہیں دیتیں ۔۔تم اپنے کسی دوست یا ساتھی سے کیوں نہیں مانگتے؟
جی ان سے بھی مانگتا ہوں ابھی کوئی دینے پر تیار نہیں ہے ۔۔
اسکی یہ صاف گوئی مجھے بری طرح کھٹکی۔۔"جی میں بہت مجبور ہوں اگر اسوقت آپ میری مدد کریں تو میں ہمیشہ یا د رکھو ں گا اللہ آپکو اسکا اجر دے گا۔۔ نہ جانے کیوں میں اسکی باتوں سے پسیج سی گئی۔۔ اچھا اب تو میں لیٹی ہوئی ہوں تم پانچ بجے آنا۔
ٹھیک پانچ بجے فون کی گھنٹی بجی وہ باہر دروازے پر موجود تھا ۔۔ ایسا کرو میں تمہیں چیک دے دیتی ہوں میں نے اسے فون پر ہی کہا۔۔ جی آب تو بنک بند ہو چکے ہیں اگر کیش دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔۔ میں نے بٹوے کی تلاشی لی تو پانچ ہزار نکل آئے۔۔میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ یہ پیسے واپس نہیں ملنے اور اگر نہیں ملتے تو زکوُٰةکی نیت سے دے دو۔۔
رقم لے کر میں گیٹ پر گئی تو اس سمارٹ ،خوش لباس نوجوان کی جگہ ایک نحیف و نزار شخص میلے کچیلے حلیے میں کھڑا تھا ۔۔زرد آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہوئے ،پاؤں میں ایک پرانی سی سینڈل ۔۔ اسے دیکھ کر مجھے عجیب دھچکا سا لگا۔۔
اسنے مجھے ایک للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا۔۔" یہ تمہارا کیا حلیہ بنا ہے کیا تم نشہ کرنے لگے ہو" ؟نہیں جی میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور پھر کاروبار ماندہ ہوگیا۔ وہ کچھ عجیب سے انداز سے کہنے لگا۔۔اور تمہاری فیملی؟
باپ تو فوت ہو گیا ہے ، ما ں جی ٹین میں رہتی ہے" اور بیوی بچے ؟ اپنی ماں کے گھر ہیں جی لے کے آؤنگا -وہ بالکل بھول چکا تھا کہ چند روز پہلے  اسنےمجھے۔کیا د استان سنائی تھی۔۔
 جلدی جلدی وہ مجھے ایک مکان کے بارے میں بتانے لگا اور پھر یہ یقین دہانی کہ وہ میری رقم پرسوں ضرورلوٹا دے گا۔۔میں نے اسے اتنا کہا کہ اگر تم نے یہ رقم مقررہ وقت میں ادا نہیں کی تو آئندہ مجھے اپنی شکل نہیں دکھانا اور نہ ہی کوئی رابطہ رکھنا۔۔
اسکے جانے کے بعد مجھے خیال آیا کہ مجھے آصف سے جسنے اسکا نمبر دیا تھا پوچھنا چاہئیے ۔۔کہ حقیقت کیا ہے ؟ اسنے میرے خدشات پر مہر تصدیق ثبت کی اور یہ یقین دہانی کہ آپ اس رقم کو بھول جائیں ۔۔ ساتھ ہی اسنے بتایا کہ وہ اسی طرح جھوٹ گھڑ کے لوگوں سے رقم لیتا  رہتا ہے۔ اور پچھلے ایک سال سے اس لت میں مبتلا ہو چکا ہے ۔ کیا اسکا کوئی دوست ،عزیز یا ہمدرد نہیں جو اسکا علاج کرے ۔جو اسکو ذلالت کے اس دلدل سے نکالے ۔؟۔
ایک ہفتہ گزرنے کے بعد میں نے اسے محض آزمانے کے لیئے ٹیکسٹ کیا"تم نے ابھی تک میری رقم واپس نہیں کی؟ 
دو ہفتے گزر چکے ہیں اور وہ خاموش ہے ۔۔
میری قوم کا ایک اور نوجوان اس طرح تباہ ہو رہا ہے ۔۔ افسوس صد افسوس

Saturday, April 4, 2015

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے
از

عابدہ رحمانی



بینظیر بھٹو 

ائر پورٹ پر اترتےہی خنک ہوا نے استقبال کیا ۔۔ ائر پورٹ وہی پرانے ڈھب کا۔ لدھے پھندے سیڑھیوں سے نیچے اترے۔۔بس میں بیٹھ کر ٹرمینل آئے ۔۔ کچھا کچھ بھرے ہوئے بوئنگ 777 سے مسافر وں کا انخلاء شروع ہوا ۔۔ایمیگرشن پر مسافر قطار بنا کر کھڑے ہوئے تو منظم ہونے کا احساس ہوا ایک جانب معمر شہریوں اور بچوں والی خواتین کا کاؤنٹر بھی موجود تھا۔ 

میرے استقبال کو آنے والے میرے  عزیز بھائی نے سہولت کے پیش نظر سامان کی وصولی کا اہتمام کیا تھا ۔

میں اس خصوصی سہولت سے گھبرا سی گئی کہ کوئی اور میرا سامان وصول کر کے مجھے پہنچائے ۔کیا کریں کہ ہم ان خصوصی چونچلوں کے عادی ہی نہیں ۔۔سامان لیکر 
باہر نکلے تو مسلح فوجی اور بکتربند گاڑیاں جا بجا مستعد نظر آئیں جنہیں دیکھ کر طبیعت عجیب  پریشان اور افسردہ سی ہو گئی۔  
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں  احتیاطی تدابیر نے ملک کو  جنگی حالت میں مبتلا کیا ہوا ہے 

موسم قدرے گیلا اور ٹھنڈا،خشک موسم کے بعد کافی بارشیں ہو چکی ہیں ۔۔ مٹی دھول ،بے ہنگم ٹریفک، ہر جگہ بے پناہ رش ہر کوئی آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے۔ یہ میرا مادر وطن ہے ۔ میرا موبائل فون کام نہیں کررہا ۔سم بند کر دیا گیا ہے اسے چالو کرنے کیلئے مجھے دفتر جانا ہے کیونکہ پیغام یہی آرہا ہے ۔۔ایک نئی  اصطلاح مجھے پہلی مرتبہ  سنائی دے رہی ہے کہ وہاں  میرا" بائیو میٹرک "چیک کیا جائے گا--
میں اسکا درست ادراک نہیں کر پا رہی ہوں۔۔ دفتر کی کھڑکی پر میرے انگوٹھوں کی لکیروں کو بذریعہ مشین دیکھا جاتا ہے ۔۔ ۔۔ اور پھر مجھے بتایا جاتا ہے کہ میرے انگوٹھوں کے نشان میرے شناختی کارڈ کی نشان سے نہیں ملتے اس کی تشخیص کے لئے مجھے نادرا کے دفتر جانا ہوگا۔۔
پاکستان دہشت گردی کے تناظر میں احتیاطی تدابیر میں  کافی ترقی یافتہ ہوتا جارہاہے

دفتر کے باہر خواتین کی  ایک کھڑ کی ہے میں اسپر جاکر کھڑی ہوں مجھے یہاں سے ٹوکن حاصل کرنا ہے ۔ کھڑکی پر بیٹھی خاتون دوسرے کاموں میں مصروف ہے دروازے پر سے کئی دوسرے لوگ اندر جا جا کر اس سے اپنا کام کروارہے ہیں وہ میری طرف متوجہ ہی نہیں ہوتی۔۔ میری بے صبری
بڑھی تو گھر فون ملایا مجھے بتایا گیا کہ یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہوگا۔۔ اپکے اس مسئلے کے حل کیلئے ملاقات  کاانتظام کروایا جائے گا۔۔

اگلے روز میرے لئے نادرا کے دفتر میں ملاقات کا انتظام کر دیا گیا ۔ مینیجر پڑھا لکھا آدمی ہے۔مراد یہ کہ شستہ زبان اور شائستگی سے اسکے ادبی اور با ادبی ہونیکا اظہار ہو رہا ہے۔

یہ نیا شناختی کارڈ سمارٹ کارڈ کہلائے گا اسپر ایک چپ بھی نصب ہوگی کمپیوٹر پر میرے اگلے پچھلے کوائف سامنے آگئے اور اسطرح مجھے اپنے دونوں کارڈوں کو یکجا کرنا پڑا۔۔

اس مسئلے سے فراغت پاتے ہی پشاور روانگی ہو ئی جسے دنیا کا خطرناک ترین شہر قرار دیا جاتا ہے  

وہاں پر زندگی پوری طرح رواں دواں ،چہل پہل ، رونق ,گہما گہمی کہیں بھی کسی دہشت گردی کا پرتو نظر نہیں آتا لیکن سڑک سے گزرتے ہوئے اچانک آرمی پبلک اسکول دکھائی    دیا جسے حال ہی میں بد ترین دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے ۔ دیواروں پر چاروں جانب خاردار ،تیز دھار تار لپٹے ہوئے ہیں اس سانحے نے تو پوری قوم کو دہلا دیا اور قوم دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہوئی۔۔ پھر جا بجا شہداء کے نام کی سڑکیں ۔ بینرز اور چوک ۔صفوت غیور چوک سے گزرتے ہوئے دیگر خونریزی کے مقامات بھی مختلف ناموں سے نظر آئے ۔ آرمی پبلک اسکول کی خوںریز داستانیں ہر ایک کی زبان پر تھیں کہ کیسے اسکول کے اندر کینٹین میں اسلحہ رکھا گیا اور مخبری کی گئی ۔ جب تک معاونت اور آلہ کاری نہ ہو اس طرح کا خونریز معرکہ باآسانی طے نہیں پاتا۔ لواحقین اور طلباء کی دلجوئی مختلف طریقوں سے جاری تھی ۔۔ شہدا اور زخمیوں کے والدین کو عمرے کیلئے لے جایا گیا   انکے ساتھ وہ زخمی بھی تھے جو صحتیاب ہو چکے تھے۔۔ شدید زخمیوں کو علاج کیلئے سرکاری اور فلاحی اداروں کے اخراجات پر بیرون ملک بہتر علاج کیلئے بھیجا گیا ہے۔ میرے ایک قریبی عزیز کا بیٹا جسکو اللہ نے محفوظ رکھا تھا چین کی دعوت پر اسکول کے ایک گروپ کے ہمراہ اپنے والد کے ساتھ چین اور ہانگ کانگ کی سیر کو گیا تھا

۔پشاور میں منعقدہ شادیوں میں  رونق اپنے عروج پرتھی ۔میرے میزبانوں نے خاطر داری میں کوئی کسر نہ چھوڑی چرسی کے تکے ،بوٹی ،کڑھائی ،باربی کیو مچھلی، دم پخت ، دیگی اور نہ جانے کیا کیا۔۔

اور پھراپنے ایک نادیدہ بزرگ و شفیق، برقی قلمی دوست اور انکی اہلیہ سے ملاقات اس دورے کا ما حاصل تھی۔۔۔

۔

 اسوقت وطن عزیز میں یوم جمہوریہ پاکستان کی کامیاب پریڈ کی گھن گرج جاری ہے۔۔      ۲۳ مارچ کی اس پریڈ کی زور شور سے  تیاریاں دیکھنے کا موقع ملا پہلے اسکی فل ڈریس ریہرسل دیکھنےکی سعادت ملی جو اس پوری پریڈ پر مشتمل تھی ۔۔ جوش و جذبوں اور امنگوں پر مشتمل یہ پریڈ پاکستان کی مسلح افواج کی شاندار کارکردگی اور ترقی کی آئینہ دار تھی۔پاکستان ائر فورس کی شاندار کارکردگی ، کرتب اور مہارت لاجواب تھی ۔۔سب سے لاجواب تو ڈرون طیارے تھے جنمیں پاکستان خود کفیل ہو گیا ہے ۔۔ مسلسل دہشت گردی کی وجہ سے یہ پریڈ عرصہ سات سال کے بعد ہو ئی ہے ۔۔ اسکے لئے حد درجہ حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔۔ بعد اآذاں 23مارچ کو دوبارہ اصلی پریڈ کو اصلی وزیراعظم ، صدر پاکستان اور دیگر عمائدین کے ہمراہ دیکھنے کا موقع ملا۔۔۔مسلح افواج میں خواتین کے دستے کی شمولیت پاکستانی خواتین کی نمائندہ ہے اس سے پہلے طبی شعبے میں خواتین شامل تھیں اب خواتین کا ملٹری کور ہے اور ائر فورس میں بطور پائلٹ کام کر رہی ہیں ۔۔ یہ خواتین حجاب پہنے ہوئے مناسب باپردہ وردی میں ملبوس تھیں  ۔۔

پاکستان اور پاکستانی اپنی مسلح افواج اور حربی صلاحیتو ں کے عموماً معترف ہوتے ہیں اور اپنی مسلح افواج پرناز کرتے ہیں ۔۔

اس پریڈ کے کامیاب انعقاد سے عوام میں حد درجہ اعتماد بحال ہوا ہے ۔۔

اس تمام شدت پسندی کے باوجود ترقیاتی منصوبے اور کام زور و شور سے جاری ہیں ۔راولپنڈی اسلام اباد میں میٹرو بس سروس کی بالائی گزگاہ تیار ہو رہی ہے اسکے لئے شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے ابھی کافی کام ہونآ باقی ہے۔ موسم بہار کاحسن اس دھول مٹی کے ساتھ شباب پر ہے جابجا پھولوں کے رنگ بکھرے پڑے ہیں ۔۔ایک سے ایک بڑھ کردکانیں ،خوشنما مال ،دیدہ زیب ملبوسات اور زیورات اعلی قسم کی طعام گاہیں (ریسٹورنٹ ) ان سب کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی پسماندگی کا احساس نہیں ہوتا۔۔ لیکن ہر اسٹاف پر پیشہ ور فقیروں ، ہیجڑوں ،اپاہجوںاور بچوں کو مانگتے ہوئے دیکھ کر ایک اور دنیا دکھائی دیتی ہے۔۔

لاہور کیلئے ڈائیو بس کی بس اور اسکی سروس انتہائی بہترین تھی۔۔ یہ پریمیم بس تھی کٹتی ملتی وائی فائی کی سہولت سے آحساس ہو رہا تھا کہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں دنیا کے بڑے بڑے ہوائی جہازوں میں اگر یہ سہولت ہے تو پاکستان کی بس میں بھی ہے۔۔ برابر کی سیٹ پر براجماں خاتون مجھے آگاہ کرتی۔ ابھی آرہی ہے ابھی بند ہے۔۔۔ !

لاہور کی شاندار سڑکوں نے ماسوائے چند علاقوں کے دل موہ لیا ۔۔کشادہ چار چار لین کی یکطرفہ انتہائی عمدہ بنی ہوئی سڑک اسکے ساتھ عمدہ ٹائلوں کی فٹ پاتھ سائیکل کی لین ، بین الاقوامی معیار کی  جسکے بیچوں بیچ سر سبز و شاداب گل و گلزار چوڑی  پٹی انتہائی دلکش اور دیدہ زیب تھی۔۔، شریف برادراں ملک کی انفرا سٹرکچر کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں ۔۔ لاہور میں اسوقت بہترین موسم ہے خوشنما پھولوں سے کیا ریا ں بھری ہوئی ہیں ۔لاہور میں بہت ہی پیار بھرے نئے تعلقات استوار ہوئے ۔اور خوب خاطریں ہوئیں ایک  عزیز کی شادی میں وقت کی پابندی ،کھانے میں ایک ڈِش یعنی چاول ،ایک سالن،روٹی ایک میٹھا خوب لگا اور سب سے زبردست یہ کہ ٹھیک دس بجے ہال کی بتیاں بجھنے لگیں اور رخصتی ہو گئی کراچی میں تو یہ حال تھا کہ برات رات کو بارہ ایک بجے روانہ ہوتی تھی ۔۔نہ جانے وہاں بھی کچھ سدھار  آیا ہے ؟۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن جاری ہے۔۔ پاکستان تحریک انصاف نے عزیز آباد میں جناح گراؤنڈ میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں ۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں ۔۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔۔ ہماری تو بس یہی دعا ہے کہ اس ملک اور اسکے خلاف کام کرنیوالے راندہ درگاہ ہو جائیں اور ملک اور عوام چین اور سکھ کا سانس لیں ۔اور چین کی بانسری بجائیں۔

Tuesday, February 17, 2015

نیا سال 2015 مبارک

<


نیا سال 2015 مبارک

از

عابدہ رحمانی


دعا ہے کہ یہ نیا سال آپ اور ہم سب کیلئے امن ، سکون ،صحت تندرستی ، خوشحالی اور خوشیوں کا باعث اور ضامن ہو-- اللہ تبارک وتعالٰی آپ سبکو خوشیاں اور آسانیا ں عطا فرمائےاور خوشیاں اور آسانیاں بانٹنے والا بنائے--


کچھ حلقے یقینا معترض ہونگے کہ یہ تو ہما را سال ہرگز  نہیں ہے اور ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا یا یہ ہماری بلا سے کہ یہ سال آئے یا نہ آئے -- جناب فرق تو پڑتا ہے ہم 2014 سے 2015 میں داخل ہوجایئنگے اور اگر ہم اور کسی قابل نہیں ہیں توآپ سبکو  نیک خواہشات کے ساتھ مبارکباد تو دے ہی سکتے ہیں زندگی میں خوشیان یوں بھی اتنی مختصر ہیں --اور ہمارا شمار تو انمیں ہے جو نۓ جوتوں اور کپڑوں تک کی مبارکباد دیتے ہیں ورنہ پہننے والا ناراض ہو جاتا ہے کہ ہمیں مبارک ہی نہیں کہا-- اور یہ مبارکباد کیاہے در حقیقت دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اسمیںخیر و برکت ڈالدے اور یہ خیر و برکت کہ دعائیں تو ہمارا زندگی کا اثاثہ ہیں--

اگر یہ ہمارا سال نہیں تو پھر ہمارا کونسا سال ہے -- ؟ ہجری" ہاں یقینا  کیوں نہیں -- ذرا یہ فرمایئے آج کونسے ہجری مہینے کی کونسی تاریخ ہے اور کونساسال ہے ؟"ربیع الاول -البتہ تاریخ یاد نہیں ارہی چار یا پانچ شاید اور سال 1434 نہیں 1435 شایدَ" اور شمسی کیلنڈر ؟ واہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے دسمبر 2014 کی 31 تاریخ ہے ٓاور کل نیا سال شروع ہونیوالا ہے

--- لیکن مبارک نہیں کہینگے بھئی ہم نیا سال مناتے ہی نہیں --- منانے سے آپکی کیا مراد ہے چلیئے جانے دیجئے اسطرح سے تو ہم بھی نہیں مناتے --

ہم میں سے 90 فیصد مسلمان اسلامی کیلنڈر اور اسکی تاریخوں سے نابلد ہوتے ہیں اور جب ہم ایک ملک اورایک محلے میں رمضان ، عیدین مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں تو پھر ہمیں یہ اعتراضات زیب نہٰیں دیتے -- سوائے سعودی عرب کے کوئی اسلامی ملک نہیں جسکا روزمرہ کا حساب کتاب اسلامی تاریخوں اور کیلنڈر پر چلتا ہو-باقی دنیا میں اسلامی تاریخوں کی یہ گڈمڈ بہت پریشان اور افسردہ کرتی ہے کاش کہ ہم بھی اسلامی یا ہجری کیلنڈر پر متفق ہوں ،جوکہ چند سوچنے والے دماغوں نے بنا لیا ہے اور اسکا قمری حساب کتاب بالکل درست ہے -اسطرح ہم جگ ہنسائی سے بھی بچ جائینگے اور خود بھی مطمئن ہونگے-اسلامی مہینوں کی متفرق تاریخیں ہمیں ایک مخمصے میں ڈالدیتی ہیں --؟ آسان علاج یہ ہے کہ چشم پوشی اختیار کرو اور پھر اس سے بڑی دکھ کی بات کہ ہم تو نئے اسلامی سال پر بھی مبارکباد دیتے ہیں لیکن بہتوں کو یہ بھی بالکل نہیں بھاتآٓ--"یہ بھی کوئی بات ہے ہمارا نیا سال تو غم اور دکھ سے شروع ہوتا ہےاور آپکومبارکباددینے کی سوجھی ہے "-

اور پھر ہمارے برصغیری معاشرے میں ایک اور سال بھی منایا جاتا ہے جسے فصلی یا موسمی سال کہتے ہیں--جیٹھ ، ہاڑ، ساون بھادوں ہر سال کی طرح اسکے بھی پورے بارہ مہینے ہیں( راز کی بات یہ کہ ابھی مجھے اردو میں پورے فصلی مہینوں کے نام یاد نہیں آرہے ) - دیہاتی ، زمیندار، کاشتکار لوگ انہی مہینوں پر چلتے ہیں اور انہی مہینوں کا حساب رکھتے ہیں انکے سارے تہوار، فصل کی کٹائی ،بوائی ، بارشوں کا ہونا یا نہ ہونا انہی مہینوں اور تاریخوں میں ہوتا ہے -- یہ مہینے بھی شمسی کیلنڈر کی طرح ہیں کیونکہ یہ مقررہ موسم کے حساب سے آتے ہیں--

اب جبکہ ہمارا ساراروزمرہ کا  جدول ، حساب کتاب اسی شمسی یا عیسوی کیلنڈر کے حساب سے چلتا ہے تو اس کی آمد پر خوش ہوں یا اداس ہوں وہ تو آئے گا ہی -- بھلا وقت کے دھارے کو کوئی روک سکا ہے؟  

2015 کی بس آمد آمد ہے --مغربی دنیا تو لمبی چھٹیاں مناتی ہے عام طور سے ان چھٹیوں کو "میری کرسمس اور ہیپی نیو ائر" کہا جاتا ہے - ہم اور بہت سے انہیں" ہیپی ہالیڈیز happy holidays" کہتے ہیں -مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہمارے پاکستانی اسکول میں" بڑادن " کی چھٹیاں ہوا کرتی تھیں -- بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بڑادن کرسمس ہوا کرتا ہے - بعد میں یہ قائد اعظم کی یوم ولادت میں بدل گیا - اور بعد میں میرےلیئے اسدن کی اہمیئت اور بڑھ گئی ---

امریکن تھینکس گیونگ ک بعد کرسمس اور نیو ائر کی سجاؤٹ شروع ہو جاتی ہے --جھلملاتے ہوئے ایک سےایک بڑھ کر کرسمس ٹریز  گھروں میں ، بازاروں ، مالوں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر ایک سماں پیدا کر دیتے ہیں اور ہر طرف جھلملاہٹ ، قمقمے سارا ملک ، سارا خطہ ایک جشن کا سماں پیدا کر دیتا ہے --کرسمس تک تو سانٹا کلاز کا راج ہوتا ہے سرخ پھندنے والی ٹوپی بڑی سفید داڑھی، موٹی توند، سرخ و سفید کپڑوں میں ملبوس، مال میںسانٹا کے ساتھ اپنے بچوں کی  تصویر کھنچوانے والوں کی ایک لائن لگی ہوتی ہے-- اب تو کرسمس کی رات کو بہت سارے چینل سانٹا کی قطب شمالی سےرینڈیئرکی رتھ میں   روانگی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کرتے ہیں --تحائف سے  لدے پھندے سانٹا کی آمد کا سب بچے انتظار کرتے ہیں -- سانٹا عام طور سے یہ تحایف کرسمس ٹری کے نیچے رکھ جاتا ہے -- معمول کے مطابق سانٹا چمنی سے اترتا ہے لیکن اگر چمنی نہ ہو تو سانٹا تو سانٹا ہی ہے پھر بھی آجاتا ہے -- بچے تو بچے بڑوں کو بھی یہ تجاہل عارفانہ یا یہ خوبصورت جھوٹ اور کہانی بے حد مر غوب ہے --یہاں کی اسی فیصد عوام اس سے نابلد ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش کا دن ہے --اور یہ دن اور کرسمس بھی قدامت پسند یونانی اور آئر لینڈ کے لوگ مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں- ایک مرتبہ سی این این پر کرسمس کے بارے میں پروگرام تھا اسمیں اکثریت نے یہی کہا کہ یہ کرسمس ٹری سجانے ، رینڈیئر کے رتھ پر سانٹا کے آنے اور تحفے تحایف کا موقع ہے --اب تو ہمارے اکثر مسلمان بھی اس سجاؤٹ میں شریک ہوگئے ہیں --

کرسمس گزرا تو نئے سال کا انتظار شروع ہوا -- سجاؤٹیں توپورے طور پر  جاری ہیں امریکہ میں نئے سال کی اپنی دھوم ہے باقی ممالک میں اپنی --نیویارک کے ٹایم اسکوائر میں ایک بڑ امصنوعی سر خ سیب یا بال نئے سال کی آمد کے ساتھ ٹھیک 12 بجے گرایا جاتا ہے ایک خلقت سخت سردی میں اسکا انتظار کرتی ہے اسکے ساتھ بے انتہا غل غپاڑہ ، ناچنا گانا، آتش بازیاں جو کہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہوتی ہیں -- پارٹیاں شباب پر ہوتی ہیںجانے دیجئے اسکی تفصیلات میں جانا شریفوں کا کام نہیں

کراچی اور پاکستان  میں یہ سب غیر سرکاری طور پر منایا جاتا تھا --رات کے ٹھیک 12بجے آٹومیٹک اسلحے کی جو تڑ تڑ فائرنگ شروع ہوتی تھی اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ لوگ کسقدر مسلح ہیں جبکہ ہمارے پاس چاقو چھری سے زیادہ کچھ نہ ہوتا-- یہاں پر بھی نجی پارٹیوں کا زور ہے --سی ویو پر نوجوان دیوانہ وار پہنچ جاتے اور خوب ہنگامہ کرتے --دوسری طرف دینی پارٹیوں کے نوجوان انکو روکنے کی کوشش کرتے -- جانے یہ سب اب بھی ہوتا ہوگا--

نیئے سال کی ریزیلوشن یعنی  قرارداد کا بڑا چرچا ہوتا ہے -- اب آپ اپنے ریزولوشن کا سوچیئے

ہمارا تو یہ ہے کہ سب کا بھلا تو ہمارا بھی بھلا ---

چلیئے عربی میں بھی دعا دیتے ہیں "کل عام و انتم بخیر" ---- آپکا نیا سال خوش آئیند ہو--





عابدہ

Abida Rahmani


Monday, February 16, 2015

شمالی امریکہ کے مسلمان





یہ 19 سالہ پرانی تحریر ہے -مسلمانوں کے لحاظ سے حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں اپنوں اور غیروں کی سازشوں 


نے انکو کافی الجھا دیا ہے اور قدرے کمزور کر دیا ہے- لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام اسکے باوجود

 

ان ملکوں میں خوب پنپ رہا ہے-

- 




شمالی امریکہ کے مسلما ن
مستقبل میں ایک موثر قوت بن کر ابھریں گے
1996ء کے ایک سفر شمالی امریکہ کے تاثرات


از

عابدہ رحمانی


گزشتہ چند ماہ امریکہ اور کینیڈا میں گزرے۔ رمضان کا مہینا تھا جب میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہوئی میرا پہلا پڑاؤ ٹیکساس آسٹن میں تھا۔ شروع شروع میں تو بیحد قلق ہوا کہ نہ اذان کی صدائیں، نہ سحر و افطار کی رونقیں یا اللہ تو اس ملک میں بھی اپنے دین کو غالب کر دے یہاں بھی تیرے دین کا بول بالا ہو، دل کے اندر سے دبی ہوئی خواہشوں کا اظہار دعاؤں کی صورت میں ہوتا تھا۔

یہاں کی مسلم ایسوسی ایشن نے سحر و افطار کا چارٹ تقریباً سب مسلمانوں کوبھجوایا تھا۔ نمازوں کے نظام اولاقات بھی تھے یا پھر مسلمان خود ہی جا کر مسجد سے لے کر آئے تھے۔ آنے کے بعد افطار پارٹیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو بیحد خوشی ہوئی کہ الحمد للہ مسلمان آپس میں کافی مربوط ہیں۔ اگرچہ گھریلو قسم کی دعوتیں تو پاکستانی گھرانوں میں ہوتیں لیکن مسجد میں دعوت میں مختتلف رنگ و نسل کے مسلمان نظر آئے۔ عرب، ہندوستانی، بنگلہ دیشی، مصری، فلسطینی اور دیگر قرآن کی آیات اور حضوؐر کے آخری خطبے کی بازگشت سنائی۔ اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جو سب سے متقی ہو (الحجرات)۔ عربی کو عجمی پر اور نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے اگر فضیلت ہے تو تقویٰ اور پرہیزگاری کی بدولت ہے۔ آسٹن کی اس مسجد جو کہ یونیورسٹی آف ٹیکساس کے قریب ہے گرجا گھر کی عمارت لے کر بنائی گئی ہے۔ افطار، نماز اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مسجد کی مزید تعمیر اور توسیع کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع ہوئی جس میں مسلمان مردوں اور خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کئی ہزار ڈالر جمع ہوئے یہاں چھوٹے، بڑے بچوں اور خواتین کی تدریس کا بھی انتظام ہے جس میں مزید توسیع کی جائے گی۔ یہاں پر اکثرخواتین پورے پردے سے تھیں جبکہ دیگر نے سکارف اوردوپٹے اوڑھ رکھے تھے۔ 

فرانسیسی نو مسلم لڑکی سٹیفنی نے بہت متاثر کیا۔ سٹیفنی نے اپنے ایک بنگلہ دیشی دوست سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔ کاش کہ ہم اپنے کردار اوراخلاق کی بدولت اسی طرح دیارِ غیر میں غیر مسلموں کو متاثر کر سکیں۔ سٹیفنی وہاں سے امریکہ آ گئی جہاں پر وہ ایک جگہ فرانسیسی مترجم کی ملازمت کر رہی ہے۔ اپنا زیادہ وقت مسلمانوں سے ملنے جلنے میں اور مسجد میں گزارتی ہے۔ اسلام کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کر رہی ہے، سوتے ہوئے چھوٹے بچوں کو اٹھا کر وہ بہت پیار سے چپ کرا رہی تھی کاش کہ سٹیفنی کو ایک مخلص مسلمان ہمسفر مل جائے۔ بنگلہ دیشی بہن مسز نور الدین بھی اپنی بیٹی اور نواسی کے ہمراہ موجود تھیں وہ اور میں ایک ہی جہاز سے دبئی سے آسٹن تک پہنچے تھے اور اس طرح آپس میں بات چیت اور دوستی ہو گئی تھی۔ مسز نور الدین نے برقعہ اوڑھ رکھا تھا اردو بھی بہت اچھی بول رہی تھیں ان کے شوہر نے جب ان سے بنگالی میں باتیں کیں تب ان کی زبان کا اندازہ ہوا جب پاکستان تقسیم ہوا تو افغانستان میں تھیں ان کے شوہر پاکستانی سفارتخانے میں سیکنڈ سیکرٹری تھے بعد میں بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے اچھے عہدوں پر فائز رہے۔ حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے ان کی صاحبزادی بھی پردے میں تھیں۔ مسز نور الدین میں بیحد دینی شعور اور جذبہ تھا۔ 1971ء کے سانحے پر افسردہ تھیں کہ بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا، خواتین حکمرانوں کی بنگلہ دیشی، پاکستانی دونوں کےخلاف تھیں ۔حسینہ کو بھی ناپسند کرتی تھیں۔ جماعت اسلامی کی ہم خیال بلکہ متفق تھیں ان سے مل کر اور باتیں کر کےبےحد خوشی ہوئی ۔ان کو میں نے بتایا کہ ڈھاکہ میں، میں نے بھی عمر عزیز کے آٹھ سال گزارے ہیں اور ڈھاکہ میں قیام کی بیحد خوشگوار یادیں ہیں جو کہ 1971ء کے سانحے کے بعد تکلیف دہ یادوں میں تبدیل ہو گئیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ بات مشاہدے میں آئی کہ الحمد للہ مسلمانوں میں اپنی شناخت کا جذبہ شدت سے ابھر رہا ہے اور اس کی بدولت اب وہاں کے معاشرے میں مسلمانوں کی پہچان کوئی مشکل نہیں رہی۔

ایک شاپنگ مال میں خریداری کرتے ہوئے سیلز گرل میرے لباس کو دیکھ کر مخاطب ہوئی کیا تم مسلمان ہو- پاکستانی ہو؟ کہنے لگی کہ تم مسلمان عورتیں اپنے آپ کو اس لیے ڈھکتی ہو کہ مرد تمہاری طرف متوجہ نہ ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ تمہارے مذہب میں بھی تو یہی ہے تم دیکھتی ہو کہ تمہاری نن اپنے آپ کو کیسے ڈھانپتی ہے۔
اگرچہ وہاں پر رہائش پذیر بیشتر مسلمان خواتین خاص کر جو کام کرتی ہیں انہی جیسا لباس پہنتی ہیں یعنی پتلون، ٹی شرٹ وغیرہ اور اکثر سکارف نہیں پہنتیں تاکہ وہ ان سے الگ نظر نہ آئیں یہ ایک قسم کا احساس کمتری ہے۔ وہاں کے معاشرے میں سکارف سے ڈھکا ہوا سر مسلمان عورت کی نشانی بن چکا ہے۔ اس لباس کو دیکھ کر اگلا مسلمان آگے سے السلام علیکم کہتا ہے۔ مجھے تو چلتے پھرتے مختلف جگہ مسلمان خواتین اور مردوں نے سلام کیا۔
سیاہ فام لیڈر لوئی فراخان کی تقریر میں نے شکاگو ٹی وی سے سنی ان کی جماعت کا نام نیشن آف اسلام ہے۔ یہ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ ان کی عورتیں پوری طرح سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہیں صرف چہرے کھلے ہوتے ہیں۔ شعلہ بیان مقرر ہے انہی دنوں لیبیا، سوڈان، ایران، عراق، شام، نائجیریا اور سعودی عرب کے دورے سے واپس گئے تھے کافی لمبی تقریر تھی۔ سعودی عرب میں انہوں نے عمرہ ادا کیا، امام کعبہ اور امام مسجد نبویؐ سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے اقوام متحدہ اور امریکہ کی پابندیوں کے باعث عراقی قوم کی حالت زار ہے۔ بمباریوں کے اثرات کے علاوہ غذا کی قلت، جان بچانے والی ادویات کی قلت اور جان توڑ مہنگائی ہے۔
اس زمانے میں امریکہ ٹی وی کے مختلف چیلنجز پر لوئی فراخان کا یہ فقرہ دکھایا جاتا تھا۔
America would be destroyed by the hands of Muslims.     امریکہ مسلمانوں کے ہاتھ تباہ ہوگا۔ 

لوئی فراخان نے بتایا کہ اس کے خلاف یہودیوں کا پروپیگنڈہ ہے پھر انہوں نے اپنی تقریر میں جس طرح امریکن حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جو اس نے نائیجیریا، سوڈان، ایران اور عراق کے خلاف اپنی معاندانہ کارروائیاں اختیار کی ہیں۔ کس کس طرح مسلمانوں کو اپنے ستم کا تختہ مشق بنایا ہوا ہے۔ فراخان نے کہا کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ امریکہ مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ ہو گا میں نے کہا ہے جیسے فرعون کے لیے اللہ نے حضرت موسیٰ کو پیدا کیا تھا ویسے امریکہ کے لیے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہ فقرہ میرے دل کو بہت لگا ہر فرعون راموسیٰ- واقعی عالم اسلام کے کسی لیڈر کی جرات نہیں کہ وہ امریکہ کے قلب میں کھڑا ہو کر اسے کچھ کہ سکے۔ جبکہ یہ امریکہ حکومت پر اس قدر کڑی تنقید کر رہے تھے۔ امریکی لگ تو میرے اپنے لوگ رہے ہیں لیکن امریکی حکومت اگر راستے سے بھٹک گئی ہے تو اسے سیدھے راستے پرآنا ہو گا۔ لوئی فراخان کو واشنگٹن ڈی سی میں دس لاکھ آدمیوں کے مارچ کے بعد سے بےحد شہرت حاصل ہوئی۔

تقریر کے اختتام پر ٹی وی سے اذان نشر ہوئی۔ امریکن ٹی وی سے اذان سن کر اللہ کا شکر ادا کیا اس کا ترجمہ سنایا گیا کہ اللہ اکبر Allah is the greatest پھر سورہ فاتحہ سنائی گئی، سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعدفراخان نے اس کا ترجمہ کیا اور پھر دعا ہوئی۔ یہ سب دیکھ کر میرے قلب و دماغ پر ایک سرشاری طاری ہوئی۔ اگرچہ فراخان پر دیگر مسلمان طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں لیکن مجھے یہ سارا سلسلہ ایک نئی صبح کی نوید لگ رہا ہے۔

ٹورنٹو کینیڈا میں مسلمان برداری بہت بڑی تعداد میں ہے اور مسلم تنظیمیں کافی مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ رمضان میں ٹورنٹو کی جامع مسجد طارق مسجد میں نمازوں، تراویح اور شب بیداریوں میں مسلمان مرد، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی رہی۔ کینیڈا کیحکومت مذہبی روادای کی قائل ہے اس لیے یہاں پر اسلام کے فروغ اور ترویج کے لیے کافی کام ہو رہا ہے۔ مسلمان تنظیمیں کافی مربوط ہیں۔ سکولوں میں اگر بچے اور ان کے والدین باعمل مسلمان ہیں تو بچوں کو نمازوں کے نظام اولاقات میں وقفہ دیا جاتا ہے اس کے علاوہ جمعہ کی نماز میں بھی شرکت کے لیے چھٹی دی جاتی ہے۔ یہاں پر بھی مسلمانوں کے ہاں افطاریوں کی دعوتیں ہوتی ہیں۔

 عیدالفطر کی نماز کے لیے کینیڈا کی ایک بڑی نمائش گاہ Canadian Exhibition Center میں انتظام کیا گیا تھا۔ اس میں ماشاء اللہ لگ بھگ بیس مسلمان

 


مرد، خواتین اور بچے شریک ہوئے۔ رنگ برنگے عید کے ملبوسات میں ملبوس مرد و خواتین اوربچے مسلمانوں کی انفرادیت کو ظاہر کر رہے تھے۔ ہر رنگ، نسل، زبان اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے مسلمان صرف اور صرف ایک پہچان رکھتے ہیں کہ وہ مسلم ہیں۔ولولہ انگیز تقریر اور خطبے کے بعد نماز عید ادا کی گئی۔ نماز کے بعد عید میلن کا سلسلہ شروع ہوا۔ بچوں نے آٹھ ڈالر کے ٹکٹ سٹمپ لگائے اور مختلف کھیلوں سے لطف اندوز ہونے لگے۔

شمالی امریکہ کے مسلمانوں نے یہ بہت اچھا طریقہ شروع کیا ہے کہ وہ عیدین کے مواقع پر بچوں کو کھلونوں وغیرہ کے کافی تحائف دیتے ہیں۔ تاکہ ان کوعیسائی بچوں کے مقابلے میں کوئی کمتری نہ ہو جن کو کرسمس اور ایسٹر کے تہواروں پر تحائف دیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ بچوں کو اس کی تلقین کرتے ہیں کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں اس لیے ہماراتہوار ان کے تہواروں سے مختلف ہوتے ہیں۔یہاں پر کھانے پینے کے کافی سٹال لگے ہوئے تھے جن سے لوگ اپنی پسند کی اشیاء خرید رہے تھے غرضیکہ ایک میلے کا سماں تھا۔ 

عید کے بعد عید ملن پارٹیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہاں پر جس اپارٹمنٹ بلڈنگ میں میرا قیام تھا وہاں پر بنگلہ دیشی مسلمان خاندان بھی آباد تھے۔ ایک خاندان کی بزرگ خاتون (گائے بندھا ضلع رنگپور) میں جماعت اسلامی کی ناظمہ تھیں، انہیں کافی دینی شعور تھا۔ مولانا مودودیؒ کی کتابوں کے بنگلہ تراجم ان کے پاس تقریباً سب موجود تھے۔ تفہیم القرآن بھی بنگلہ ترجمے کے ساتھ تھا۔ وہ اپنے خاندان میں اسلامی اقدار کی پابندیوں کے لیے کوششیں کرتی تھیں۔ ساتھ ہی وہ بنگلہ دیشی خواتین کے حلقوں میں درس قرآن دیتی تھیں۔ انہوں نے اپنے ہاں جب دعوت کی تو لگ بھگ، 80,90 افراد تھے۔ مرد ایک طرف اور خواتین دوسری طرف تھیں آنے والی تمام خواتین نے سکارف باندھ رکھے تھے اور مناسب طور پر ساڑھیاں پہنی تھیں۔ میں نے پہلی مرتبہ بنگلہ دیشی بہنوں کو اس اسلامی اہتمام کے ساتھ دیکھا۔نمعلوم یہ اماں کی صحبت کا اثر تھا یا اسلامی بیداری کا کہ وہ بنگلہ دیشی بہنیں جو کہ ایک ہندوانہ اثر لیے ہوئے تھیں اب مکمل مسلمان نظر آ رہی تھیں۔ 

                میرے بھائی جو کہ جمعیت  اورجماعت اسلامی کے دیرینہ کارکن اور ریاض (سعودی عرب) میں رکن کی حیثیت سے تھے، اب ٹورنٹو میں اپنے دینی خدمات اکنا کے ممبر کی حیثیت سے انجام دے رہے ہیں۔ ICNA سے مراد اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ہے۔ انہی کے پاس میرا قیام تھا اور ان کی وجہ سے دیگر مسلمانوں سے بھی ملاقات رہی۔ 

ہمارے اوپر والی منزل میں مقیم بنگلہ دیشی بہن شاہانہ کا خاندان تھا۔ وہ اور ان کے شوہر تبلیغی جماعت سے متاثر تھے اور الحمد للہ بہت اچھے مسلمان تھے۔ شاہانہ پردے کی پوری پابندی کرتی تھیں اور زیادہ تر شلوار قمیض میں ملبوس رہتی تھی وہ اس کو زیادہ اسلامی لباس سمجھتی تھی۔ پاکستان آ کر رائے ونڈ کے اجتماع میں شرکت کی ان دونوں کی بیحد خواہش تھی۔ ان کو اردو نہیں آتی تھی میں نے جب ان سے بنگلہ زبان میں گفتگو کی تو بیحد خوش ہوئیں۔ یہ دونوں خاندان اپنے روایتی محبت اور مہمان نوازی سے پیش آئے۔ مجھے بھی ایسا لگا جیسے کہ 1971ء سے پہلے کے زمانے میں چلی گئی ہوں۔وہی خلوص، وہی محبت، وہی جذبے، انقلابات زمانہ اور سیاسی چالوں اور سازشوں نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا لیکن الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں اور یہ سب سے مضبوط رشتہ ہے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں جمعے اور عیدین کے مواقع پرخواتین مساجد یا عیدگاہوں میں نہیں جاتیں لیکن یہاں پر اس کی اہمیت نظرآتی ہے اس لیے مردوں کے ساتھ خواتین بھی جاتی ہیں۔

عیسائیوں کے تہوار گڈ فرائیڈے کے موقع پر دو روز کی مسلسل برفباری کے بعد صبح سے دھوپ نکلی تھی۔ دھوپ میں تمازت کافی کم تھی لیکن پھر بھی موسم صاف تھا۔ طارق مسجد میں چونکہ اندر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اس لیے باہر بہت بڑے احاطے میں پلاسٹک کی شیٹیں بچھائی گئی تھیں جن پر ایک طرف مرد اور دوسری طرف خواتین تھیں۔خطبہ اور تقریر سفید فام عالم عبدالحکیم کوئیک کر رہے تھے۔ انہوں نے گڈ فرائیڈے کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور میڈ کاؤ (Mad cow)بیماری پر۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے گائے کی غذا سبزہ چارہ رکھا ہے اور نباتاتی اشیاء میں اس کی غذا ہے لیکن جب اسے حیوانی غذا دی جانے لگی تو وہ پاگل ہو گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ انگلستان میں مری ہوئی بھیڑوں کا چارہ بنا کر گائے کو کھلایا جاتا تھا تاکہ وہ فربہ ہوں۔ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کو جب تبدیل کیا جاتا ہے تو نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

گڈ فرائیڈے پر چونکہ یہاں عام تعطیل ہوتی ہے اس لیے ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نماز جمعہ میں شریک ہوئے اور یوں یہ مسلمانوں کا گڈ فرائیڈے ہو گیا گڈ فرائیڈے کی حیثیت عیسائی مذہب میں یہ ہے کہ یہ نعوذ باللہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب کیا گیا تھا تو تیسرے دن ان کی قبر سے وہ آسمان کی طرف اٹھا ئے گئے تھے یہ جمعے کا دن تھا اور اس کی یہ خوشی مناتے ہیں۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔

عالم صاحب نے بتایا کہ اس کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ہے۔ ٹھنڈے علاقے کے لوگوں نے سردی کے موسم کی مناسبت سے کرسمس کا تہوار منایا جس میں برفانی علاقوں کے درخت کرسمس ٹری، رینڈیئر (بارہ سنگھے کی ایک قسم) اور سانٹا کلاز وغیرہ کے قصے ہیں۔ اس طرح موسم بہار کے لحاظ سے یعنی موسم بہار کی آمد کے موقع پر ایسٹر کا تہوار منایا جاتا ہے جس میں رنگین انڈوں، چاکلیٹ کے بنے ہوئے خرگوش جیسے ایسٹر بنی Bunny کیا جاتا ہے اور اسی موسم میں کھلنے والے پھولوں کی اہمیت Lilly Easterوغیرہ اور ان دونوں تہواروں کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور مصلوبیت سے منسلک کر دیا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر اچھی خاصی تحقیق کی ہے۔
عیدالاضحیٰ کے لیے قربانی کی بکنگ بھی ہو رہی تھی اور نمازوں کی تیاریاں اور نظام الاوقات بھی تقسیم ہو رہے تھے۔ ساتھ ہی ہالی ووڈ سے ریلیز ہونے والی ایک دل آزار فلم کےخلاف پملفٹ بھی تقسیم ہو رہے تھے۔ جس میں مسلمانوں کو ایک وحشی اور دہشت گرد قوم دکھایا گیا ہے۔

عیدالاضحیٰ کا سب سے بڑا اجتماع سکائی ڈوم میں ہوا یہ دنیا کے بلند ترین ٹاور سی این ٹاور کے پاس ہے اور شمالی امریکہ کا سب سے بڑا اندرون خانہ سٹیڈیم ہے۔ اس کے چھت کی خوبی یہ ہے کہ یہ بیچ سے دونوں طرف سلائیڈ جاتا ہے اور یوں کھلی چھت بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ عیدالاضحیٰ کی صبح فجر کی اذان سی این ٹاور سے دی جائے گی۔ اذان کے متعلق تو معلوم نہ ہو سکا لیکن نماز عید میں لگ بھگ تیس ہزار مسلمان مردوں اور خواتین کا اجتماع تھا تمام لوگ عید کے زرق برق لباسوں میں تھے۔
ہر ملک اور نسل کے مسلمانوں نے اپنے علاقائی بہترین لباس پہنے ہوئے تھے۔

یہاں کے معاشرے میں اب جب مسلمان کی پہچان ہو گئی ہے وہاں آئے دن کافی لوگ مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں۔ طارق مسجد کے اجتماعات کے اختتام پر اسلام قبول کرنے والے لوگ ہوتے تھے اور ان کے قبول اسلام پر اللہ اکبر کے نعرے لگتے تھے۔
حلال گوشت کی دکانیں جابجا ہیں۔ حلال بیف اور حلال Kentuckyبھی ملنے لگا ہے۔

ٹورنٹو میں افغانی مسلمان کافی تعداد میں ہیں یہ باہمت لوگ یہاں کے معاشرے میں بھی مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک بارہ سالہ افغانی لڑکے نے اپنے سکول ٹیچر کو اتنا متاثر کیا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ تو صرف ان تاثرات کانچوڑ ہے جو کہ میں نے خود دیکھے یا محسوس کیے۔ مجموعی طور پر شمالی امریکہ میں اثرات کہیں زیادہ ہیں۔ اگرچہ میڈیا کا مسلمان مخالف پروپیگنڈہ بھی ہے لیکن وہ دن دور نہیں ہے جب مسلمان انشاء اللہ یہاں کی ایک قوت بن کر ابھریں گے۔

یہاں کی مساجد کے حوالے سے ایک بات کروں گی کہ مساجد عبادت گاہ کے ساتھ کمیونٹی سینٹر اور مسجد سکول کا بھی درجہ رکھتے ہیں۔ طارق مسجد ٹورنٹو میں اندر باسکٹ بال اور دوسری اندرون خانہ کھیل کھیلنے کے انتظامات بھی تھے اور ایک جمنیزیم بھی تھا۔ اجتماعات بڑے ہونے کی صورت میں ان کی بھی شامل کر دیا جاتا تھا تاکہ جگہ بڑی ہو جائے اور انہیں باتوں میں درس و تدریس کا سلسلہ بھی رہتا تھا۔ انشاء اللہ العزیز وہ دن دور نہیں کہ اسلام کی روشن کرنیں یہاں کے بے دین معاشرہ کومزیدمتاثر کر دیں گی۔

 

 


عابدہ

Abida Rahmani

Saturday, January 17, 2015

The aftermath of attack on Charlie Hebdo

The aftermath of attack on Charlie Hebdo

By

Abida Rahmani

There is always a fine line in between Freedom of Speech and insult or mocking. It seems that the western world or media is unaware of these facts or they don’t value it when it comes to the sentiments of Muslims. Making and publishing satirical cartoons depicting Exalted Prophet Muhammad peace and blessings upon him.
However we condemned the killings of Charlie Hebdo cartoonist and editorial staff.  Next day more people were killed by those alleged killers including three of them, 17 people got killed. It was of course a tragic episode. We have witnessed a lot more tragic and brutal happenings in recent times by the so called intimidating super powers, terrorists and murderers.
What we saw in Paris was a march of 1.5 million or some claim 3 million and 40 head of states gathered at a notice of only a few hours for such an unprecedented gathering. Those head of states demonstrating for two basic reasons: some were brainwashed by the media frenzy, others did so for political reasons.
I support president Obama’s decision for not attending this March Of solidarity in Paris and not sending any of his envoys. World has seen more severe catastrophes in recent times than this one in Paris.
No one cares about hundreds of thousands Muslims killed all around the world by certain forces! May it be by western superpowers, Zionists and violent Muslims themselves. What discrimination between human lives. You mourn few to such extent and are oblivious to millions killed every day.
We don't believe in killing people, but we hate Charlie Hebdo and all those magazines and newspapers that are mocking and insulting our religion.
I don’t believe in Je suis Charlie or I’m Charlie tweets and posters, because while I’m definitely not in sympathy with those killers, I have no feeling of solidarity with mockers  and I would never say this.
It is really that simple. If we fear, hate and stop thinking – they win. If we refuse to fear, if we love and if we think – we win. Their entire Empire has been built on fear, hate and stupidity. Let’s bring it down by courage, love and intelligence!
What is the difference between freedom of expression and freedom to insult, humiliate, mockery and belittling our Prophet Muhammad (SAWS) and Islam.
Why do the Westerners feel quite acceptable without any remorse to insult the holy Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his holy progeny); a man who is respected, honored and venerated by millions and millions of Muslims and non-Muslims alike in the world around?
If anyone has any problem or any kind of disagreement with Islamic teachings or the holy Prophet, why don't they sit down with learned Muslim scholars who can clarify their misconceptions or misunderstandings?
It is time for Muslims to get united together against such hypocritical policies against Islam and the Muslims.  Humiliating and insulting the holy Prophet of Islam is absolutely unacceptable. However all this should be done in a peaceful, civilized manner.
The cartoons of the Prophet in the Paris-based satirical weekly Charlie Hebdo are offensive and juvenile. None of them are funny. And they expose a grotesque double standard when it comes to Muslims. In France a Holocaust denier, or someone who denies the Armenian genocide, can be imprisoned for a year and forced to pay a $60,000 fine. It is a criminal act in France to mock the Holocaust the way Charlie Hebdo mocked Islam. French high school students must be taught about the Nazi persecution of the Jews, but these same students read almost nothing in their textbooks about the widespread French atrocities, including a death toll among Algerians that some sources set at more than 1 million, in the Algerian war for independence against colonial France. French law bans the public wearing of the Muslim women full face veil that has a small slit for the eyes. Women who wear these in public can be arrested, fined the equivalent of about $200 and forced to carry out community service. France banned rallies in support of the Palestinians last summer when Israel was carrying out daily airstrikes in Gaza that resulted in hundreds of civilian deaths. The message to Muslims is clear: Your traditions, history and suffering do not matter. Your story will not be heard.
“It is a sad state of affairs when Liberty means the freedom to insult, demean and mock people’s most sacred concepts.
Charlie Hebdo, despite its insistence that it targets all equally, fired an artist and writer in 2008 for an article it deemed to be anti-Semitic.

Those marching world leaders showed solidarity with Charlie Hebdo! They chanted chorus not only in Paris but also in all major European cities: “We are all Charlie”. What does that mean? It means, like hateful Charlie Hebdo they too declared that they are equal abuser and hater of our beloved prophet (saw).  They are not ready to retreat an inch from that abusive path. The butcher of Gaza -the Israeli PM was cordially welcomed in their midst.
They talked  about protecting western values and culture. Do we need any lecture to understand the western values and culture? Didn't they display those values and culture during the last several centuries all over the world? Is it not the values and culture of military aggression, occupation, colonization, imperialism, ethnic cleansing, slave-trading, genocide, World Wars, gas chambers, dropping atom bombs, water boarding, Guantanamo Bay, Abu Ghraib, Sabra, Shatilla and Gaza? They killed 75 million only in two World Wars! Who else can match their brutality? Their war machines are still not withdrawn from the Muslim lands.
It’s the time for Muslims to get united against a common cause. Stop genocides in their own lands of their own brethren.
واعتصمو بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقو
Hold fast Allah’s rope tightly and do not disintegrate!