Tuesday, April 9, 2024

عید مبارک

ٹورنٹو کینیڈا سے 

الوداع  اے ماہ رمضان 
اور
عیدالفطر کی دلی مبارکباد
از

عابدہ رحمانی

 اب جبکہ رمضان کے  آخری عشرے کے آخر ی ایام ہیں ۲۹ویں شب گزر چکی ہے اب کیا کہا جا سکتا ہے کہ لیلۃ القدر آج کی رات ہو  یا گزر چکی ہو ۔ ہم تو اللہ کے حضور پوری دلجمعی اور امید کے ساتھ درخواست گزار ہیں کہ ہمارے ان شکستہ اعمال ، کوششوں اور عبادات کا بہترین اجر عطا فرمائے——
مغفرت اور نار جہنم سے نجات کا عشرہ ابھی جاری ہے۔اس مرتبہ تیس روزے ہونگے انشاللہ ، بس دو دن اور۔۔۔۔۔
 اب بجائے ختم کے ُ"تکمیل قرآن " کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے جو درست ہے -بیشتر مساجدآج  تراویح میں ختم القرآن کا انعقاد کر رہے ہیں - روزے دار اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار ہیں مساجد ہیں کہ ماشاءاللہ نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں - پورے پورے خاندان کے ساتھ لوگ کشاں کشاں چلے آرہے ہیں - بچوں کے لئے کھیلنے کے کمرے ہیں، بے بی سٹنگ کا انتظام بخوبی موجود ہے - بوڑھے بچے جوان، ایک چہل پہل ، ایک ہما ہمی نماز ختم ہونے کے بعد یوں لگتا ہے ایک میلہ لگا ہوا ہے  بھانت بھانت کی بولیاں ، مختلف رنگ اور نسل کے مسلمان ایک رشتہ اخوت میں جڑے ہوۓ ، زیادہ تر ان ممالک کے باسی ہیں جہاں قتل و غارت گری ، فرقہ پرستی،مذہبی سیاسی یا فوجی دہشت گردی انتہائی عروج پر ہے - لیکن اس سکون اور اطمینان میں اپنے دینی فرائض کی انجام دہی کے لئے ان ممالک کا انتخاب بھی کیا خوب انتخاب ہے کہ دیار مغرب کے امن و امان میں خوب دل کھول کر عبادات کریں ، پنج وقتہ فرض نماز کی ادائیگی اپنی جگہ ،رمضان کی رونقیں ، افطار ، مغرب عشاء ، تراویح اور پھر قیام الیل، خوش الحان قاریوں کی قراءت کیا روح پرور سماں آیات وعید پر قاریوں کا پھوٹ پھوٹ کر گریہ و زاری کرنا اور وتر کی دعاؤں کا سماں ،کہیں پر تو سحری کا بھی شاندار انتظام ہوتا ہے -حرمین شریفین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے مجھے شافعی اور مالکی طریقے کی وتر بہت پسند ہے کیا رقت آمیز دعائیں ہوتی ہیں بس اللہ کے ہاں قبولیت کی دیر ہے-   روحانی سکون اور بالیدگی کے لئے اس سے بہترماحول کیا ہو سکتا ہے --
الحمد للّٰہ رب العالمین  کہ کووڈ کی عالمی وبا سے انسانیت نے نجات پالی - تین برس کی خاموشی اور دوری کے بعد پھر وہی صف بندیاں ، چہل پہل ،ہما ہمی تمام مساجد اور حر مین شریفین میں بحال ہو گئی ہے ۔۔
یہاں تو وہ حال ہے ،

مسلماں کو مسلمان کردیا طوفان مغرب نے 
  غزہ میں چھ ماہ سے جاری قیامت ، ہلاکت خیزی ، تباہی اور بربادی میں کوئی وقفہ نہیں آرہا ہے ۔۔ ۳۴ ہزار افراد صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور جنتوں کے باسی ہوگئے ۔ تمام آبادی ملبے میں بدل گئی۔۔ ۔
اور اسلامی ممالک کے سربراہان دم سادھے بیٹھے ہیں ۔۔و
 
فلسطین اور بیت المقدس میں خاص طور پر رمضان میں اسرائیلی مظالم میں شدت آجاتی ہے ۔۔ اور پاکستان میں سیاسی رسہ کشی اور معاشی بد حالی نے اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کی نیندیں اڑا ئی ہوئی ہیں --  اسی طرح طالبان یا دہشت گرد آئے دن اپنی کاروائیاں کر رہے ہیں - 

ابھی تو رمضان شروع ہی ہوا تھا اور دیکھتے دیکھتے ۳۰ ویں شب بھی آپہنچی، - 

رمضان کا تحفہ اہل ایمان کے لئے عید الفطر کا دن ہے جب وہ اللہ کی بڑائی اور کبریائی بیان کرتے ہوئے اپنی خوشی مناتے ہیں-  روزے دار تو روزوں سے بے حال ہو چکے ہوتے ہیں  اکثر وہ مسلمان جو روزے نہیں رکھتے عید زیادہ جوش و خروش سے مناتے ہیں اور انکی تیاریاں بھی خوب ہوتی ہیں اب وہ اتنے بھی گئے گزرے مسلمان نہیں ہیں کہ عید بھی جی بھر کر نہ منائیں- اتنی مسلمانی پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے-

"ارے بھئی آپ تو عید کا چاند ہوگئے نظر ہی نہیں آتے"
اردو بولنے والے از راہ گرمجوشی اپنے ملنے والوں میں یہ جملہ یا محاورہ جا بجا بولتے ہیں- جب کہ ہم مسلمان ابھی رمضان کے اختتام پر عید کا چاند ڈھونڈھنے کی کوشش کرینگے-آختتام سے مراد ہے 29 کی شب کیونکہ 30 کو تو  چاند کو بہر حال نکلنا ہی ہوتا ہے- ہلال عید یا عید کا چاند ہماری آدھی نہیں تو کم ازکم ایک تہائی اردو شاعری کا احاطہ کئے ہوے ہے۔اس چاند کو ڈھونڈھنے  اور پانے کیلئے کیا کیا رومانی اور جذباتی  اشعار کہے گئے ہیں کہ انمیں سے ایک بھی ابھی میرے ذہن میں نہیں آرہا ہے شائد گوگل کرنا پڑیگا  - پھر اس چاند اور محبوب کے حسن جمال کا موازنہ ، جذ با تیت تو بر صغیر میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی ہے -پھر اس پر مستزاد اردو محاورے جنمیں عید کا چاند جا بجا استعمال ہوتا ہے-چاند اور عید کے چاند کو حسن و جمال کے استعاروں میں وصال و فراق کے محاؤروں میں خوب خوب چاشنی ملاکر بیان کی گیا ہے- ہماری ایک مغنیہ کیا لہک لہک کر یہ گیت گاتیں
انوکھا لاڈلا ، کھلن کو مانگے چاند
رمضان کی 29 کو جتنی ڈھونڈیا اس چاند کی ہوتی ہے کہ چاند کو خود بھی  اس اہمیت کا اندازہ نہیں ہوگا-یا شائد ہے جب ہی تو وہ جھلک نہٰیں دکھلاتا یا ہلکی سی جھلک دکھلا کر غائب ہوجاتا ہے- عرب دنیا میں نہ معلوم چاند اور عید کے چاند کے ساتھ کیا رومانیت منسلک ہے وہ عربی میں اپنی تہی دامنی کے سبب میں نہیں جانتی لیکن یقینا وہاں کے مؤمنین بھی چاہتے ہونگے کہ 29 پر چاند ہو جائے اور وہ ایک اور روزے سے بچ جایئں - 

امریکہ کے روشن خیال مسلمانوں کو کیلنڈر بنانے کا خیال آیا اور اسکے حساب سے چاند کی تاریخیں طے کیں اس حساب سے ہم کیلنڈر والوں کو امسال ۲۹ روزے رکھنے ہیں اور ہماری زندگی سے چاند کا انتظار غائب ہوگیا -- لیکن دیگر کافی تعداد میں بھائی بندے اس پر متفق نہ ہو سکے ، انہوں نے چاند دیکھنے اور ڈھونڈنے کو ہی صحیح جانآ- اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں چاند کو کھلی آنکھ سے دیکھنا افضل ہے ، لیکن ان ممالک میں یہ تفرقہ حد درجہ افسوسناک اور باعث شرمندگی ہو جاتاہے ۔۔
 شمالی امریکہ میں اگر مسلمان ایک ہی دن عید منا لیں تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ورنہ وضاحتوں پر وضاحتیں اور شرمندگی الگ - ایک ہی ملک ایک ہی محلے میں بسا اوقات تین مختلف دن عید منائی جاتی ہے  -امریکہ کے صدر بائیڈن  اور جسٹن ٹروڈیو بھی مخمصے میں کہ عید کی مبارکباد کس روز دی جائے- اسکول والے الگ پریشان اور انکا ایک ہی سوال " تم لوگ اپنا تہوار ایک دن ساتھ کیوں نہیں مناتے؟ ہم نے تو یہ طریقہ اپنایا ہے کہ عید کے روز روزہ رکھنا حرام ہے اور عید کے روز شیطان کا روزہ ہے اسلئے جو پہلے عید مناتا ہے اسکے ساتھ ہم بھی مناتے ہیں
 پاکستان میں روئیت ہلال کمیٹی بنی ہوئی ہے جنکا اہم کام عید اور رمضان کے چاند کو نکالنا ہوتا ہے، اسکے سرپرست اعلے  اسوقت اور پچھلے کئی برس سے مفتی منیب الرحمان تھے، انکی اور پشاور کے مولانا پوپلزئ کی ہر سال ہی ٹھنی رہتی ہے ۔ حد درجہ افسوس کا مقام ہے جو چاند پشاور میں نظر آجاتا ہے وہ اسلام آباد میں کیوں نہیں دکھتا۔اب اس ادارے کا سربراہ کون ہے میں لاعلم ہوں ۔لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ پاکستان نے ہم سے پہلے روزہ رکھا ۔۔ 
 پاکستان میں کافی   تکلفات ہوتے ہیں چاند کو ڈھونڈھنا ایک اہم ترین فریضہ ہوتا ہے - پوری قوم دم بخود ہوتی ہے کہ اب چاند نکلا کہ نکلا اکثر اوقات ایسا ہوا کہ چاند کی خبر رات کو با رہ بجنے کے بعد آئی اور اکثر نے اگلے روزے کی سحری بھی کرلی اور معلوم ہوا کہ عید ہوگئی-ہمارے خیبر پختونخواہ والے عید کو پشتو میں" اختر" کہتے ہیں - عیدالفطر چھوٹی عید کہلاتی ہے جبکہ عیدالاضحی بڑی عید - اور وہ کبھی بھی بقیہ پاکستان سے عید اور رمضان پر متفق نہیں ہوتے بلکہ ایک روز پہلے مناتےتھے-، چاہے روئیت ہلال والے پشاور میں ہی چاند نکال ڈالیں-

 بھارت،بنگلہ دیش ، ملایشیا انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے مسلمان بھی اپنےحساب سے عید کا اہتمام کرتے ہیں - 
عرب ممالک میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے چاند کی ڈھونڈیا ہوتی ہے- یوروپ، آسٹریلیا، کینیڈا، دیگر ممالک  اور امریکہ والےیا تو اپنے طور پر چاند کو ڈھونڈتے ہیں کچھ اپنے موروثی ممالک کی پیروی بھی کر ڈالتے ہیں کہ عید انکے ساتھ منائی جاۓ-

پاکستان میں چاند رات کو بڑے شہروں اور کراچی میں جو چہل پہل ہوتی ہے اور چاند رات کا بازاروں میں جو رت جگا ہوتا ہے وہ منچلوں اور نوجوانوں کے لئے ایک حد درجہ لطف اور سرگرمی  کا باعث ہوتا ہے- لڑکیاں بالیاں ساری رات مہندی اور چوڑیوں کے چکر میں کاٹ دیتی ہیں چوڑیوں والے منہ مانگے دام لیتے ہیں -کتنے سٹال بن جاتے ہیں کالج یونیورسٹی کے لڑکے باجیوں کو چوڑیاں پہنانے کے لئے ایک سے ایک بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اورکتنی با پردہ اور با حیا خواتین بھی چوڑیاں بچانے کی چکر میں ہاتھ بڑھا لیتی ہیں ارے ڈاکٹر، درزی اور چوڑی والے سے کیسا تکلف؟ کیا چناکے ہوتے ہیں جب تنگ سے تنگ چوڑیا ں پہنائی جائیں--لیکن اس طرح سے ٹوٹنے والی ساری کی ساری چوڑی والے کی ہوتی ہیں-- یہ ریت شایدابھی تک قائم ہو ؟- اس سے پہلے تو خواتین دعائیں مانگتی تھیں کہ آج چاند نہ ہو اور انکو عید کی تیاری کرنے کا ایک اور روز مل جاۓ- آخری وقت کی خریداریاں ، پکوان کی تیاریاں ، کئی اقسام کی سویئاں، ہوائیاں کٹ رہیں ، مصالحے پس رہے ہیں،ساری ساری رات خواتین کی اگلے دن کی تیاریوں میں گزر جاتی ہے  -اس سے پہلے جب گھروں میں سلیقہ شعار خواتین سلائیاں کرتی تھیں تو  گوٹے لچکےٹانکنا ،تر پائیاں کرنا اور پھر تمام ملبوسات کا اہتمام کہ تینوں دنوں میں کیا کیا پہننا ہے کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے- موجودہ دور میں بوتیک اور درزیوں نے عید کے اہتمام کو لوٹ لیا ہے -رمضان کے پہلے ہی سے درزیوں کے مزاج بگڑنے شروع ہوتے ہیں اور پہر اس پر لوڈ شیڈنگ کا عارضہ یا بہانہ- اب چاند رات میں بوتیک اپنی قیمتیں کم از کم دگنی کر دیتے ہیں-اسکے ساتھ پارلروں کا راج ہوتا ہے مردانہ اور زنانہ دونوں-مہندی کا کام تو تمام دنیا میں کون کی ایجاد سے کافی آسان ہوگیا ہے اس کون کے ایجاد کرنیوالے کو ایک مہندی ایوارڈ براۓ تجدیدئیت ضرور دینا چاہئے تھا- اگلے روز عید کی نماز کے لئے گھر کے مرد ہی جاتے تھے اسوقت تک خواتین کی باقی تیاریاں ہوچکتی تھیں-
 ہم لوگوں کے ہاں عید کا کیا اہتمام ہوتا تھا اکثر گھروں میں رنگ روغن تک ہو جاتا تھا - گملے تک رنگ دئے جاتے ہر چیز اجلی اور جاذب نظر ہو -پھر عیدیوں کا سلسلہ اگلے روز صبح سے ہی شروع ہوتا تھا جسنے رات کو سب سے زیادہ پریشان کیاتھا ڈھول پیٹنے والا وہ سب سے پہلے ، پھر گلی کا خاکروب جو عیدیں پر ہی نظر اتا تھا 'چوکیدار، مالی، ڈاکیہ جو سارے مہینے کی ڈاک جمع کرکے صرف عید کے دن لاکر دیتا ایک سے ایک عید کارڈ، بھیجنے والوں کی محبت کی گواہ ہوتے- ہم نے بھی درجنوں عید کارڈ بھیج دئے ہوتے تھے ان عید کارڈ کی خریداری بھی ایک دلچسپ اور بڑا مشن ہوتا تھا کہ ہر مرتبہ کچھ انوکھا پن ہو جو آپکی ذوق سلیم کا آئینہ دار ہو، پوری فہرست بنتی تھی کہیں کوئی عزیز، یار دوست رہ نہ جائے، ان کارڈز کو سپرد ڈاک کرنیکا مسئلہ ، ڈاکخانے والے بھی ایک حتمی تاریخ دے دیتے تھے-   ہماری زندگیوں سے بہت سے حسین لمحےاور تکلفات خود بخود غائب ہوتے جارہے ہیں-اب انٹرنیٹ اور ای کارڈز نے اس تکلف سے بے نیاز کر دیا ہے -- پھر اللہ فیس بک اور واٹس ایپ کو سلامت رکھے اسنے مزید کام آسان کردیا ہے 
ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکا آئے ۔۔
 ایک تانتا سا بندھ جاتا ملازمین، اپنے بچوں ، عزیز رشتہ داروں کی عیدی کا سلسلہ الگ جاری رہتا - بچے اپنی عیدی گن گن کر خوش ہوۓ جاتے تھے-
میں اس نوسٹالجیا سے نکنا چاہتی ہوں یاد ماضی عذاب ہے یا رب - یہ وقت خوش ہونے کا ہے-
 اب جن ممالک میں ہوں اگر تو عید ویک اینڈ پر ہے تو کیا کہنے ورنہ خصوصا چھٹی کا انتظام کرنا پڑتا ہے اسکولوں سے بچؤں کی اکثر چھٹی کرا دی جاتی ہے-لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اسطرح نئی نسل کو اپنے دین اور روایات سے جوڑا جاۓ- اسکے لئے عید کے اہتمام پر کافی توجہ دی جاتی ہے- بہت سے بچوں کو یہ شعور دلاتے ہیں کہ ہم کرسمس نہیں بلکہ عید مناتے ہیں اسلئے بچوں کو عید کے تحائف دئے جاتے ہیں بلکہ خاندان کے تمام لوگ ایک دوسرے کو تحائف دیتۓ ہیں، گھروں کو کرسمس کی بتیوں سے سجا دیتے ہیں اندرونی خانہ بھی غباروں اور جھنڈیوںسے آرائش کر دی جاتی ہے ٹورنٹو مین کافی سارے مقامی سٹورزنے عید مبارک اور رمضان سیل لگائی ہوئی ہے اسی کوٹارگٹ مارکیٹنگ کہتے ہیں- ہم بھی خوش وہ بہی خوش -یہاں   یوں بھی محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے قریب پہنچ گئے ہیں- مساجد میں مستحقین کو عید کے تحائف دۓ جارہے ہیں اسکے لئے پہلے ہی سے فطرہ دینے کی اپیل کی جاتی ہے- فوڈبنک میں کافی خشک خوراک جمع ہوچکی ہے ، بچوں کے لئے کھلونے بھی جمع ہیں - ہم نے ان ممالک سے بہت سی اچھے طور طریقے بھی سیکھ لئے ہیں- عید کی نماز کے لئے  علی الصبح تیاری اور روانگی ہوتی ہے - اکثر مساجد دوبلکہ تین نمازیں ادا کرتے ہیں اسلامک سنٹر آف ملٹن میں تین نمازیں ہونگی-  اسمیں جو چہل پہل ہوتی ہے ، سبحان اللہ ماشااللّہ نمازیوں کے جوش و خروش کے کیا کہنے ۔۔
ان مساجد نے مسلمانوں کو جتنا متحرک کیا ہوا ہے کہ اللہ نظر بد سے بچاۓ -ذرا دیر قبل  نصف شب کا قیام ، سحر اور فجر کر کے آرہے ہیں-ماشاءاللہ!
عید کی تیاریاں یہاں بھی پورےزور شور سے ہوتی ہیں اب تو آن لائن پاکستان کے بوتیک سے آرڈر پر کپڑے منگوائے جاسکتے ہیں ،یہاں پر ہر دوسری تیسری خاتون کا یہی بزنس ہے  اور دیگر لوازمات بھی مل رہے ہوتے ہیں- اسکے علاوہ عید میلے بھی لگ جاتے ہیں جن میں خوب رونق ہوتی ہے-
اکثر لوگوں کے ہاں چاند رات کا خوب اہتمام ہوتا ہے بڑی بڑی پارٹیاں ہو جاتی ہیں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں اسمیں مدعو ہوتی ہیں مہندیاں سج رہی ہیں ، چوڑیاں پہنی جا رہٰی ہیں، ڈھولک کی تاپ، گیت گائے جا رہے ہیں کبھی گیت لگا کر کچھ پھیرے بھی لگا لئے جاتے ہیں آخر کو خوش ہونے کا بھی حق ہے اور جائزبھی ہے- یہاں عام طور پر عید میں لوگ اوپن ہاؤس کا اعلان کرکے احباب کو مدعو کرتے ہیں - یہ سلسلہ کافی دلچسپ ہوتا ہے کافی دوست احباب سے ملاقات ہو جاتی ہے لیکن صاحب خانہ کو کافی اہتمام کرنا پڑتاہے- اسکے لئے اوقات کا تعئین کردیا جاتا ہے- مساجد کی سطح پر بھی چاند رات اور عیدملن کی پارٹیاں ہوجاتی ہیں اور یہ پارٹیاں روزے داروں کے لئے جہاں ایک انعام ہوتی ہیں وہاں ان سے روزے نہ رکھنے والے بھی لظف اندوز ہوتے ہیں- اور کیوں نہ ہوں بقول کسے' ہم کم ازکم عید تو مناتے ہیں'-

اللہ تبارک و تعالیٰ اپکو شب قدر کی فضیلتوں ، سعادتوں اور برکات سے فیض یاب کرے--
ہماری تمام عبادات اور محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے ہماری تمام خطاؤں  کو بخش دے

آپ سب کو  عیدلفطر کی دلی مبارکباد ، اللہ کرے یہ آپ کیلئے اور اپکے تمام اہل خانہ کے لئے مسرتوں اور رحمتوں کا پیامبر ہو
عید مبارک
 اللھم تقبل منا و تقبل منکم کل عام و انتم بخیر

عابدہ

Abida Rahmani

Sunday, March 31, 2024

visit to Haran Minar

Interestingly visited Haran Minar for the first time in early September with visiting friends from US. It was a muggy hot day. 
Had a golf buggy ride from the parking. These rides were available at Minar I Pakistan too to the Fort and around.  Charges are reasonable and kind of a guided tour.  Anyway it was a great disappointment to see haran Minar in decay and completely closed. Toured the outside area around, nice garden and fountains.

Friday, March 22, 2024

Bata Shoes Museum

At “Bata shoes Museum “ Toronto! 
Abidarahmani@yahoo.com 
The name Bata shoes reminds me the famous,comfortable and an affordable shoe brand for us back in Pakistan. 
In Canada or North America there’s no Bata shoes store however there’s this fabulous museum that provides us almost whole history of shoes!
How a Personal Passion Grew Into An Internationally Acclaimed Collection
 
Sonja Bata’s involvement in the global shoe industry enabled her to build one of the world’s finest collections and to create North America’s foremost shoe museum. Within our stunning building lies a wealth of fashion lore and invaluable information.

Shoes are an indication of personal taste and style. Yet shoes can also tell us much about the world’s technological development, and can mark shifts in society’s attitudes and values. Footwear illustrates entire ways of life, reflecting climate, religious beliefs and the development of trades, and how attitudes to gender and social status changed through the ages.

In 1979, when Mrs. Bata’s private collection had outgrown its home, the Bata family established the Bata Shoe Museum Foundation. Over the years the Foundation funded fieldwork to collect and research footwear in communities where traditions are changing rapidly – notably North America’s Indigenous cultures and circumpolar groups in Canada, Siberia, Alaska and Greenland. These field studies have resulted in many academic publications for the Foundation, from The Typology of Native Footwear to Spirit of Siberia: Traditional Native Life, Clothing and Footwear.

The main objective of the Foundation, however, was to establish an international centre for footwear research. The result was the Bata Shoe Museum, with its unrivalled collection of over 14 000 shoes and related objects.

On May 6, 1995, the Bata Shoe Museum opened its doors at 327 Bloor Street West in downtown Toronto, in an iconic building designed by Moriyama and Teshima Architects. As a unique, world-class specialized museum, it has become a major destination point for visitors and residents alike.

Monday, February 5, 2024

Trip to Russia with PTF

Arrived at Moscow!
After delayed flights and spending whole day at Dubai airport , finally arrived at Moscow hotel last night at 2:30 am.
Had a walk in the downpour with co travellers now friends!
It seemed like walking in Toronto downtown but the buildings are not very high. They have changed the names of US outlets and franchises.


Good buy to incredible Russian trip and our amazing courteous group!😍💕
After spending 10 memorable days at Moscow, St . Petersburg and Kazan, we are flying back home to Pakistan!
I’m going from Russia with lots of love. I was quite interested in this enormous country when it was USSR. However after falling apart it still is the biggest country and I am pretty mesmerised with some spots!
We faced language problems 
زبان یار من روسی و من روسی نمی دانم
but thanks to Tariq , our guides and helpers they never left us alone.
Extremely grateful to all those who helped me with my luggage or hold my hand on stairs and path. Young Shaima helped me with luggage out of the way. May Allah SWT bless all you and may we be joined together in another trip!
It was a very well organised journey to explore the palaces, kremlin , Cathedrals, Masajid and the surroundings of incredible Russia.
Despite so many seniors or (older adults as they are called these days) everyone participated in all the activities and remained healthy!
Had sumptuous breakfasts, lovely dinners 
with great variety , McDonald’s and KFC on our flight layovers!
Pakistan’s Independence day celebrations on the cruise were exceptional minus Belly dancing. Moreover the Ballet we watched was icing on the cake!
My suggestion to Tariq, kindly try to make travel route a bit simple and convenient if possible!
Wishing Tariq, Basar and the whole group all the best!

Thursday, February 1, 2024

Coming back from Chitral!

 Coming back from Chitral:

At some points the road situation is pretty bad. Road to Kalash is rugged, narrow and unpaved. 

We were lucky to go there, the next day roads were closed because of the landslide.

It took us 10 hours in jeep and Coaster with a few stops from Chitral to Swat Serena hotel!

انجر پنجر ہل گیا

Anyway overall it was an incredible and enjoyable trip with great company , history narratives in deep by Mr. Ziaul Haq and great arrangements by friendly, smart and supportive Yusuf of Syah group!

Saturday, January 27, 2024

مٹھے sweet lime

یہاں کے پاکستانی گروسری اسٹور (کریانے کی دوکان ) میں عمدہ مٹھے  تین ڈالر فی  پونڈ ملے اسے یہاں  sweet  lime کہتے ہیں -میں انہیں پاکستانی سمجھی لیکن سٹکر ( اب sticker کی اردو؟) دیکھا تو  یو ایس اے لکھاتھا -- مالٹے اور کینو پر اپنا مشاہداتی تبصرہ لکھونگی انشاءاللہ۔ 

Tuesday, January 9, 2024

ٹورنٹو میں موسم سرما کی آمد

 ٹورنٹو میں موسم سرما کی آمد

یہ موسم سرد ہواؤں کا ، کیوں لوٹ کے پھر سے آیا ہے۔۔

از 

عابدہ رحمانی


 موسم نے کیا چولا بدلا ، یخ بستہ ہواوؤں کا راج ہوا اور اس سے بچاؤ کے لئے لوگوں نے موٹے کوٹ ، جیکٹ، دستانے ، ٹوپی گرم اور موٹے کپڑوں میں پناہ لی ۔(ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جو دو ماہ پہلے مختصر ترین لباس میں ملبوس تھے)۔ تقریبا ہر جگہ ہیٹنگ یا اندرون خانہ گرمائش کا نظام شروع ہوچکا ہے ۔ درختوں کے پتوں نےجو حسین رنگ برنگے پیرہن اوڑھ لئے تھے ، سبحان اللہ انکا حسن بے حد سحر انگیز ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنگلوں میں صناعی ہو گئی ہے اور قدرت کی یہ صناعی لا جواب ہوتی ہے  ۔لیکن ہر حسن کو زوال ہے اور اب ا سکے زوال کا وقت شروع ہوا یہی اس خطے میں قدرت کا قانون ہے ۔ رفتہ رفتہ زرد اور بھورے کملاتے ہوئے یہ پتے ایک تند و تیز ہوا کی لپیٹ میں آ کر زمین بوس ہو جاتے ہیں۔یہ ٹند منڈ درخت سخت سردی اور برفباری جھیلتے ہوئے موسم بہار کی آمد کےمنتظر ہوتے ہیں۔

ہوا کےتیز و تند جھونکوں سے یہ پت جھڑ شروع ہوا اور سر سراتے ہوئے پتے ہر جانب رواں دواں ہوئے۔ تیز ہوا اڑاتے ہوئے انہیں کونوں کدروں میں سمیٹنے لگی ۔گھروں کے آس پاس لوگ ان پتوں کو سمیٹ کر خاکی ردی کاغذ کے بڑے تھیلوں میں سمیٹ کر کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں کے لئے رکھ دیتے ہیں ۔ اور بعد میں ان سے کھاد تیار کی جاتی ہے۔


درجہ حرارت جب تک دس سنٹی گریڈ یا اس سے اوپر ہے تو موسم خوشگوار ہے لیکن رفتہ رفتہ ہم منفی درجہ حرارت اور برف باری کی جانب بڑھ رہے ہیں  اندرون خانہ تو گرم رہنے کے بہترین انتظامات ہیں لیکن باہر نکلنے کے لئے درجہ حرارت دیکھ کر اوڑھ لپیٹ کر نکلنا پڑتا ہے۔ کپڑوں کی تہیں چڑھانی پڑتی ہیں اسطرح کے جیکٹ اور اوور کوٹ جو اندر جاکر ہمیں اتارنے پڑیں تو کوئی دقت نہ ہو۔ اکثر تو اندر ون اسقدر گرمائش ہوتی  ہے کہ ایک کے بعد ایک کافی ساری تہیں اتارنی پڑ جاتی ہیں اور اگر لٹکانے کی مناسب جگہ نہ ہو تو لادے لادے گھومنا پڑتا ہے۔


بیشتر کھلے تفریحی مقامات موسم سرما کیلئے بند کر دئے گئے ہیں ۔ پارکوں اور تفریح گاہوں میں ایک ویرانی سی دکھائی دیتی ہے ۔ گرمیوں کی تمام چہل پہل ماند ہونے لگی ہے ۔ سردی کی وجہ سے  راہگیر بہت کم دکھائی دیتے ہیں ایک  تو وہ ہوتے ہیں جنہیں مجبورا نکلنا پڑتا ہے یا انکے پاس ذاتی سواری نہیں ہوتی۔ بصورت دیگر وہ شائقین جو اس سردی میں چہل قدمی اور جاگنگ کرتے ہیں۔


برف پگھلانے والے مواد اور نمک کی خرید اری زوروں پر ہے اسے گزرگاہوں اور سڑکوں پر برف باری ہونے کے بعد ڈالا جائے گا ۔شدید برف باری کی صورت میں یہ بھی اکثر ناکافی اور بیکار ہو جاتا ہے۔ سردی اور سخت سردی کا یہ موسم  ٹورنٹو اور کینیڈا کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس سے نمٹنے کی تدابیر اور کوشش کی جاتی ہے۔ مقامی باشندے اسے جھیلنے کے لئے تیار  ہوتے ہیں۔ معمر حضرات کی اکثریت سخت سردی سے نجات حاصل کرکے امریکہ کے گرم ریاستوں کا رخ کرتے ہیں ۔ ان میں کیلیفورنیا، فلوریڈا ، اریزونا ، ٹیکساس کے کچھ علاقے لوزیانا اور دیگر شامل ہیں ۔ کچھ مزید دور کریبئن اور میکسیکو چلے جاتے ہیں ۔ ان لوگوں نے سنو برڈ ( برفانی پرندے) ایسوسی ایشن بنا رکھی ہے ۔ گرمیوں کے آغاز پر انکی وطن واپسی ہوتی ہے۔


کینیڈا کی مشہور بطخیں بھی جنوب کی جانب گرم علاقوں کی جانب مائل پرواز ہوتی ہیں موسم کی خنکی کے ساتھ ساتھ وہ ٹیں تیں کرتی ہوئی جھنڈ کی جھنڈ اڑان بھرتی ہیں۔

 دنیا کے شمالی کرے میں موسم سرما اور جنوبی کرے میں موسم گرما کا آغاز ہو چکا ہے خط استوا سے دوری اور نزدیکی تغیر اور تبدیلی کا باعث بنتی ہے ۔کینیڈا مزید شمال کی جانب ہے جو شہر اور علاقے امریکہ کے ساتھ ہیں وہ یہاں کے گرم ترین علاقے ہیں ۔ جسقدر شمال کی طرف بڑھتے جائیں مزید 

ٹھنڈک کا راج ہوتا ہے۔ جہاں اگلو بنے ہوئے ہیں اور اسکیمو رہتے ہیں۔۔


اس مرتبہ کینیڈا یا ٹورنٹو میں زوردار لمبی گرمیاں گزریں۔ایسی گرمیا ں آئیں کہ بہت سے تو بلبلا اٹھے ۔مونٹریال میں کئی لوگ گرمی کی شدت سے ہلاک ہوگئے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قدر شدید سردی کو جھیلنے والی قوم میں گرمی جھیلنے کی تاب نہیں ہے۔


 گرمیوں کے یہ قصے  اس موسم کی آمد کے ساتھ  خواب و خیال ہوگئے ۔ یقین ہی نہیں آتا کہ یہاں کبھی کراچی جیسا حبس بھی تھا جبکہ ہمارے پیرہن پاکستان کے لون کے بنے ہوئے سوٹ تھے،ائر کنڈیشنر اور پنکھوں کے بغیر گزارہ مشکل تھا۔ گرمی کے موسم میں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہاں اس قدر شدید سردی بھی پڑتی ہے ۔

ا

۔یہاں کی سردی میں پاکستان کی طرح پکوان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا وہاں پر گرم گرم گاجر کا حلوہ، گجریلا اور دیگر حلوہ جات ،ٹن ٹن کرتی ہوئی چھابڑیوں پر بھنی مونگ پھلی ، ریوڑیاں اور گجک، کوئلوں پر سنکے بھٹے ، نمک میں بھنے مکئی اور چنوں کے دانے ،بڑے کے پائے اور گرم گرم نان جبکہ نہاری تو اب عام کھانا ہوگیا ہے ۔ ہاں ہم پاکستانی اپنے طور پر اسکا اہتمام کرنیکی کوشش کرتے ہیں۔ ایک زمانے میں بھنے ہوئے چلغوزوں کا راج ہوتا تھا ۔ خشک میوےسے مہمانوں کی خاطر تواضع کی جاتی تھی۔ یہ میوہ جات سردیوں کا خاسہ ہوتی تھیں۔


ان دنوں کرسمس کے لئے ا ٓرائش و زیبائش جاری ہے  کرسمس اور برفباری کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ کرسمس اگر سفید نہ ہوا تو وہ بھی کیا کرسمس ہے ۔ ٹورنٹو اور کینیڈامیں عام طور سے برف کی کوئی قلت نہیں ہوتی  لیکن بسا اوقات یوں بھی ہو جاتا ہے کہ برف کے ڈھیر کرسمس کے آنے سے پہلے ہی پگل گئےایسے میں لوگوں کی مایوسی دیدنی ہوتی ہے ۔ لوگ مایوس ہوں نہ ہوں میڈیا چلا چلا کر اعلانات کرتا ہے کہ ابکے کرسمس سفید نہ ہوئی۔


 امریکہ میں تھینکس گیوینگ کے بعد کرسمس کا اہتمام ہوگا۔جھلملاتی ہوئی رنگ برنگی بتیاں اور آرائش اس ٹھنڈک میں رونق ڈال دیتی ہیں اب کرسمس تک سانٹا کلاز ، کرسمس ٹری ، اسکی سجاؤٹ اور رینڈئیر زکا راج ہوگا  یہ تمام لوازمات یخ بستہ علاقوں سے متعلق ہیں ۔ عیسے علیہ السلام کی پیدائش سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔تمام سٹوروں میں کرسمس کی خریداری شروع ہوچکی ہے اسکا سب سے بڑا مظاہرہ بلیک فرائڈے اور اسکے بعد کی سیل پر ہوگا۔ کرسمس پریڈ ہونگے ، امریکہ میں میسی سٹور کا  تھینکس گیونگ پریڈ راک فیلر سکو ائر  کا ایک مشہور وقوعہ ہے ۔ کرسمس کے بعد نیو ائر کی رونق اور چھٹیوں کا موسم ۔ حالانکہ سردی اتنی شدید کہ سورج بھی پنا ہ مانگے ۔  سورج جو گرمی میں سوا نیزے پر تھا اب جیسے اپنی گرمی کہیں بھول آیا ہے جب چمکتا ہے تو شیشوں کے اندر سے محسوس ہوتا ہے کہ گرم ہے باہر نکلو تو گرمی نام کو نہیں ۔ایسی سردی ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے۔ خوش آمدید اے موسم سرما خوش آمدید