Wednesday, October 7, 2015
Thursday, September 24, 2015
Remembering hajj
Saturday, September 19, 2015
کراچی کے رنگ
Reply-To: Abida Rahmani <abidarahmani@yahoo.com>
کراچی کے رنگازعابدہ رحمانیاس مرتبہ کراچی میں میری آمد کے موقع پر موسم غیر متوقع طور پر بے حد سہانا ہو گیا تھا ۔ہلکی ہلکی پھوار ، ٹھنڈی ہوائیں اور پھر حد درجہ خیال رکھنے والے میزبان ۔۔ جس سے بھی ملو بات کرو وہ حالات کے سدھرنے ، بہتر ہونے کی بات کرتا یوں لگ رہا تھا کہ مدتوں کے انتشار،بد آمنی اور خونریزی کے بعد کراچی والوں نے سکھ کا سانس لیا ہےاللہ کرے کہ یہ سکون اور امن دیر پا ہو اور پھر کسی نئے فساد اور انتشار کا آغاز نہ ہو ۔۔اس تباہی و برباد ی نے اس شہر کو گہنا دیا تھا کوئی دن نہ جاتا تھا جب -15 -20 بے گناہ اس بد آمنی کی بھینٹ نہ چڑھ جاتے ۔۔مہاجروں یا اردو داں طبقے کی نمائندگی کرنے والے سیاسی گروہ کی تشدد کا نشانہ بیشتر اردو داں ہی تھے ۔۔ اسطرح کے دوسرے لسانی اور سیاسی گروہوں کے علمبرداروں نے اس آگ اور خون کے کھیل کا مزید ہوا دی۔۔دعا ہے کہ جرائم و جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع ہوجائے ۔۔ اس مرتبہ کی عید اور رمضان کراچی کی رونق کو دوبالا کئے ہوئی تھی۔۔کراچی کے ساتھ اچھے برے وقتوں کا ایک طویل ساتھ ہے اب اس ساتھ کو چھوٹے بھی طویل عرصہ بیت گیا ۔۔ بیتنے کا کیا ہے وقت ہے کہ گزرا ہی چلا جاتا ہے۔مدتوں کے بعد بحیرہ عرب پر ہاکس بےپر ایک خوبصورت آرام دہ ہٹ میں دن گزارا ۔موہنے سے بچے کی سالگرہ ،اونٹ کی سواری ،سمندر کی موجیں ، سانپ اور نیولے کا تماشہ ،ساحل پر لطف اندوز ہونیوالوں کا ہجوم لیکن ہر آنیوالی موج کے ساتھ آتا ہوا کوڑا کچرا کہ پورا ساحل کوڑے سے اٹا ہوا ۔۔جی میں تو بہت آیا کہ اعلان کروں کہ ہر ایک شخص ایک تھیلا لے اور کوڑا چننا شروع کردے ۔۔لیکن ہر شخص بے نیاز دکھائی دیا ۔۔کراچی میں یوں بھی جہاں جاؤ کوڑے کے ڈھیر کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں ۔ ایک کرمفرماکے گھر کا حدود اربعہ بھول گئی تھی تو انہوں نے اسطرح نشاندہی کی کہ پہلی کچرا کنڈی کو چھوڑکر دوسری سے سیدھے ہاتھ مڑجائیں۔۔محل نما مکانات کی پہچان کوڑے اور گندگی کے ڈھیر سے،ہے تو انوکھی بات!میرے میزبان بتانے لگے کہ اوّل اوّل تویہ غلاظتیں کافی ناگوار تھیں لیکن اب انکو کراچی شہر سے کوڑے اور گندگی سمیت پیار ہوگیا۔۔چڑھتے اترتے فلائی اوورز یا بالائی گزر گاہیں جسنے ٹریفک کو رواں دواں کیا ہوا ہے ۔۔ اس مرتبہ دو دریا کا دیدار ہوا نام سے کچھ اچنبھا ہو رہا تھا لیکن یہ نام لب سمندر یا لب بحر ہوتا تو کہیں بہتر تھا۔۔ مائی کلاچی میں ڈیڑھ گھنٹا انتظار تھا تو دوسرا ریسٹورنٹ ہی غنیمت جانا ۔۔سمندر کے اندر بنے ہوئے کاٹجکے اندر خوراک کا انتظام لطف دے گیا۔۔پچھلے مئیر مصطفے کمال کی آمد کی باز گشت سنی ۔۔کراچی کا حلیہ درست کرنے میں انکا کردار مشہور ہے ۔۔ معلوم ہوا کہ اپنے قائد کے زیر عتاب ہیں اور بھاگے ہوئے ہیں کوئی بتا رہا تھا کہ دوبئی کے شیخ نے انکو دوبئی کو مزید خوشنما بنانے پر بحال کیا ہوا ہے کسی نے انکے گورنر بنانے کی نوید سنائی، کراچی کی بہتری کا کام انسے پہلے میئر نعمت اللہ خان صاحب نے شروع کیا تھا۔۔اسوقت تو شہر کی بدحال صورتحال کو دیکھ کر یوں لگا کہ شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔۔ لوگ امن و امان سے ہی بے حد خوش و مطمئن تھے ۔۔صفائی جاۓ بھاڑ میں۔۔ ملیر چھاؤنی میں یوں محسوس ہوتا ہے کراچی سے کہیں اور پہنچ گئے۔۔صاف ستھرے اطراف ناقابل یقین ہیں۔۔جہاں آدھے شہر پر پانی کے ٹینکروں کا راج ہے وہاں ایک عزیز ایسے بھی ہیں کہ برسوں سے انکے ہاں چھت والی ٹنکی پر براہ راست پانی چڑھ جاتا ہے ۔۔پانی کا ذکر تو میرے اپنے زخموں کو تازہ کر دیتا ہے ۔کوئل کی کوک کراچی میں کافی عرصے کے بعد سنی۔۔شاخوں میں چپھی ہلکی سی نظر آرہی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ میرے تمام پھل دار درختوں کو ٹھونک بجا کر دیکھتی تھی اور کوک کوک کر برا حال ہو جاتا۔۔ میں سوچتی کاش کہ یہ خاموش ہوجائے!قائد اعظم ہاؤس میوزیم کی سیر کا بے حد لطف آیا ۔۔ اسکو فلیگ اسٹاف ہاؤس کہا جاتا تھا۔۔My visit to the historical house of Quaid I Azam in Karachi.There Rasheed guided us . A Pakhtun from Manki sharif , he serves this house for the last 35,years. A great devot of Quaid and Fatima Jinnah , he himself is a history. He has devoted himself to that house and the artifacts ,knowing each and every detail about its make and history . This nation servives because of these legends!Pictures link is down on Facebook.https://www.facebook.com/abidar1/posts/ 10152925115946426 اس میوزیم کی کچھ تصاویر منسلک ہیں ۔۔رشید نے کمال مہربانی سے تصاویر کی اجازت تھی ۔۔قائد اعظم اور فاطمہ جناح کے لئے اسکاجوش وِ جذبہ دیدنی تھا۔۔15' 16 سال كي عمر میں اسنے یہاں ملازمت شروع کی تھی اور اس مکان اور اسکے اشیاءکی حفاظت اور دیکھ بھال میں اپنی زندگی گزار دی۔۔ اسکو ایک ایک نوادر کی تفصیلات اور جذئیات یاد تھیں ۔ 1994 میں حکیم محمد سعید نے بطور گورنر سندھ اسکو عجائب گھر کا درجہ دیدیا۔۔شاپنگ مالز کے کیا کہنے ! کلفٹن پر عظیم الشان ڈولمن مال دنیا کے کسی بھی عمدہ مال کا مقابلہ کر سکتا ہے۔وسیع و عریض ، صاف ستھرا ، سنٹر لی ائر کنڈیشنڈ ،صاف غسل خانے اور مصلے ۔ یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ اپنا پاکستان ہے۔اسی طرح کے دیگر بھی ۔۔ جیسے اوشن اور ایٹرئم ۔۔بن روئےُ"نئی نئی ریلیز ہوئی تھی ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی مگر ناکامی ہوئی۔انہی میں گھومتے پھرتے پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔۔ محمد علی شہکی کو بہت عرصے کے بعد ایک گروپ کے ساتھ دیکھا ہاتھ ہلایا۔۔میں تو شاید پہچان نہ پاتی اگر چند روز پہلے ایک انٹرویو میں نہ دیکھا ہوتا۔ملک ریاض جو پاکستان کےاب صف اوّل کے معمار بن چکے ہیں انہوں نے کراچی میں بھی ڈھیرے جمائے ۔۔کلفٹن میں ایک زیریں گزرگاہ کی خوبصورت تزین و آرائش ہورہی تھی اوپر ملک ریاض کی بڑی سی تصویر ۔۔انہوں نے سیاسی،ابلاغ عامہ اور حکومتی ٹھیکیداروں کو خوب خوب رام کیا ہوا ہے۔۔کلفٹن کا پلے لینڈ اور فن لینڈ ڈھونڈھنے کی کوشش کا نتیجہ ایک بڑے پارک کی صورت میں بر آمد ہوا۔۔کئی پرانے رابطوں کو ازسر نو استوار کیا اور کچھ نئے دوستوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں ۔۔نئی کتابوں کی اشاعت کی نوید لئے بات چیت ہوئی۔۔دعا ہے کہ روشنیوں کے اس شہر کی روشنیاں اور رونقیں قائم و دائم ہوں ۔۔۔
Thursday, September 10, 2015
Remembering 9/11/2001
-
Remembering 9/11/2001ByAbida RahmaniAfter 09/11/2001 generally known and referred as Nine Eleven the world has gone upside down. About 3700 innocent people were killed in twin towers , world trade centre New York . USA suffered a great jolt economically and then went into war with saboteurs or terrorists. All the debris of world trade centre fell upon Muslim and Muslim world . Millions of Muslims got killed in Afghanistan , Pakistan , Iraq and other countries in repercussions . Now there is another episode of genocide going on in Syria and adjoining areas with millions people displaced and thousands being killed.On that particular day my son with his family was traveling to Toronto from Sacramento , California .We all were waiting for them impatiently. A lot of preparations were going on in the house. Cooking, cleaning and decorating around. My daughter in law was busy in cooking delicacies .I was in the bed after my morning prayers that heard the phone bell rang. It was picked up and then I heard a scary scream of her. I rushed downstairs where she was flabbergasted looking at the TV. As I looked on, saw a plane hitting the world trade centre's tower and then another plane did the Same. It looked like any Disney animation, film or video game is going on. At first I thought it an accident but the news poured in of Pentagon and the 4th one destroyed in fields of Pennsylvania.It was just a total chaos not knowing what's going on. Hurriedly I called my son who was traveling to us. His wife picked up the phone and told me that their flight returned back from mid of the air and now they are asked to go back home In Shuttles, leaving all the stuff and car behind. They went through a great ordeal. She told that it was announced , " we are under attack by enemy and we have to get back." The flight back was very rough and speedy. They wondered that who could attack America? They could only collect there hand luggage and asked to go home in shuttles.I got satisfied ,relieved and grateful to almighty that they aresafe and sound.We were just glued to the news and I was praying that no Muslim name comes out. As a curiosity I searched the passengers list but just found a couple of Muslim names. It didn't took long and before evening it was established that this attack was organized by Al Qaida and its operatives. For the first time we heard about Al Qaida and rest is history .14 years have been passed to that enormous tragedy that shook the whole world .We are unsure and skeptical who the real culprits were?
--
Sent from Gmail Mobil
Wednesday, August 26, 2015
جنرل حمید گل مرحوم سے ایک دلچسپ اور مختصر ملاقات ۔۔
Friday, August 21, 2015
Pakistan independence day celebrations!
There are fireworks done by enthusiasts.
The day will bring more celebrations.
The live nations celebrate their independence days with this Zeal and fervor!
Long live Pakistan
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
(احمد ندیم قاسمی )
Sent from my iPad
--
Monday, August 17, 2015
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی۔۔
---
ہجرتوں کی دھوپ میں تائید ایزدی کے اشارےحصولِ پاکستان کی جدوجہد کا مختصر سا احوال)والد محترم مرحوم میجر محمد قاسم کی یاد داشتیں جس کوعابدہ رحمانی نے مرتب کیا اور شائع کروایا۔(از --
عابدہ رحمانیاللہ تبارک وتعالیٰ کا بیحد کرم اور بے پناہ احسان ہے کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے 67 برس پورے ہورہے ہیں۔ اگرچہ اس دوران ہم بہت بڑے سانحے سے دوچار ہوئے ہمارا ایک بازو ہم سے کٹ گیا۔ بے پناہ ذلت اور ہزیمت اٹھائی لیکن آج ہم پھر اس بچے کھچے ملک کی تعمیر میں مصروف ہو گئے ہیں۔ یہ ملک ہم مسلمانوں کے لیے ایک عطیۂ خداوندی ہے۔ دشمنانِ ملت جب اس کے خلاف سازشوں کا جال بچھاتے ہیں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اس لیے کہ ان سازشوں میں اپنے پہلے ہوتے ہیں اور دوسرے بعد میں آتے ہیں۔ مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب انگریز فوجی افسر ہم سے کہتے تھے’’ تم لوگ پاکستان بنانے کا شوق پورا کر لو لیکن ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ یہ چھ مہینے سے زیادہ نہیں چلے گا‘‘ انہوں نے ہر چال چلی لیکن مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق اور جذبہ مسلمانی کی برکت سے یہ ملک اللہ کی مہربانی سے قائم و دائم ہے۔
قیام پاکستان کے وقت میری تعیناتی جھانسی (بھارت) کے مقام پر تھی۔ جھانسی اس وقت متعصب ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کا گڑھ تھا اور ان کا مقصد اور مقولہ تھا ’’مسلمانوں کی تباہی اور بربادی‘‘۔ یکم اگست 1947ء کو میں نے جھانسی میں حاضری دی۔ کمانڈنگ آفیسر کرنل باورڈیگ سے انٹرویو ہوا۔ یہ افسر انتہائی باخبر تھا۔ وار آفس (جنگ کے دفتر) لندن میں بریفنگ کے لیے جاتا۔ دہلی اورشملہ سے کثرت سے رابطہ تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے اہل خانہ کو لانے اور اچھی رہائش دلانے کا وعدہ کیا کیونکہ اس کے خیال میں فروری 1948ء تک وہیں مقیم رہوں گا۔ یہ میرے لیے ایک لمحہ فکریہ تھا لیکن جب اس پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہندو لیڈروں گاندھی، نہرو، پٹیل، سکھ لیڈر (تارا سنگھ، بلدیو سنگھ وغیرہ) اور انگریز حکومت اور ان کے نمائندہ وائسرائے اور انڈین یونین کے پہلے گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن کی مشترکہ پالیسی تھی کہ پاکستان کو چھ ماہ کے اندر اندر شیر خوارگی ہی میں ختم کیا جائے اور اس کے لیے تمام حربے استعمال ہوئے۔افواج ہند کی تقسیم نہایت ہی مجبوری کی حالت میں عمل میں لائی گئی جو کہ قائداعظم کی مومنانہ فراست اور فولادی عزم کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ہندوستان بھر میں خاص کر مشرقی پنجاب میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ ہزاروں جوان لڑکیاں اورعورتیں اغواء ہوئیں اور تقریباً ایک کروڑ لوگ بے سروسامانی کی حالت میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور ان پر بھی راستوں میں قاتلانہ حملے ہوتے رہے۔ آگ اور خون کے دریا پار کر کے لوگ اس وطن پاکستان میں پہنچے۔میں میس کے سنگل آفیسرز کی ہٹس میں رہائش پذیر تھا اس لیے بہت سے افسروں (انگریز اور ہندوؤں) سے جان پہچان کا موقعملا۔ اپنے دفتری انتظام میں کام، قواعد و ضوابط کے مطالعے پر بھرپور توجہ دی اور اپنے سابقہ تجربے سے پورا فائدہ اٹھایا جو کہ دوسری عالمی جنگ میں 1939-1945ء کے دوران 16 ماہ کی فیلڈ سروس (شمالی افریقہ) کے علاوہ دو تین یونٹوں کی انسٹرکٹرشپ میں حاصل ہوا تھا۔ اس کے علاوہ لکھنؤ میں گیارہ سو بستروں کے سی ایم ایچ ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن اور ملٹری جیل خانہ جات اور حوالاتی بیرکوں میں گوروں کی کمان بھی میں کر چکا تھا۔
--14 اگست 1947ء کا دن آیا تو آفیسرز میس میں پارٹی دی گئی، سجاوٹ کے لیے پاکستان کی جھنڈیاں کوشش کے باوجود نہ مل سکیں ہم نے اصولی طور پر ہندو افسروں سے منوا لیا تھا کہ اب ہم ایک علیحدہ قوم ہیں اور ہمارا ملک پاکستان ہے۔ مسلمان سٹاف بکھرا ہوا اور حد درجہ غیر منظم تھا۔ آپس میں رابطہ نہ تھا اور اکثریت حالات سے بے خبر تھی۔ مشرقی پنجاب والے اپنے گھروں، اہل خانہ اور رشتہ داروں کے متعلق فکرمند تھے۔ سٹاف کی فلاح و بہبود کا کوئی بندوبست نہیں تھا اور نہ ہی انہیں کہیں سے رہنمائی حاصل تھی۔
میں نے پہلے ان پر توجہ دی، انہیں منظم کیا سب کو یکجا کر کے حالات کی نزاکت سے باخبر کیا۔ ملی جذبہ بیدار کیا، محنت، ایثار اور قربانی پر آمادہ کیا۔ رفتہ رفتہ بفضلِ ربِ کریم اچھی ٹیم بنتی چلی گئی۔ اس کے علاوہ حقوق کے حصول (ہمیں یہاں سے سروس ریکارڈزاور سٹیشنری وغیرہ لے کر پاکستان جانا تھا) کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ قدم قدم پر سٹاف کی رہنمائی کی اور کامیابی حاصل ہوتی ہوگئی۔
سٹاف میں کلرک وغیرہ پنجابی، پٹھان اور بنگالی مسلمان تھے۔ سب مل کر بہترین جذبے کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون کرتے تھے۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ ہم لوگ اگرچہ فوجی تھے لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہر وقت جان کا خطرہ لاحق تھا۔ عام مسلمان تو انتہائی خوف اور خطرے کی حالت میں تھے۔ کسی سے شکایت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ حکومت ہمارے مخالف تھی کانگریسی حکومتی پارٹی ہندو مہاسبھا وغیرہ سب ہی دشمن تھے۔ انہیں دنوں معمول تھا کہ بھوپال اور گوالیار کے درمیان چلتی ٹرینوں سے مسلمانوں کو پھینک دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا تھا۔ افواہیں زوروں پر تھیں۔ ریڈیو، اخبارات وغیرہ پر ہندوؤں اور سکھوں کا غلبہ تھا۔ انگریز بھی ان کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے رہتے تھے۔ ہمارے پاس نہ اپنی کرنسی تھی اور نہ ہی سرمایہ ان حالات میں عام آدمی کا مورال کیا ہو گی یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
میں مختلف سیکشنوں میں کام کرتا رہا اور گاہے بگاہے اپنے کمانڈر کو اس کی پروگریس بتاتارہا۔ سروس ریکارڈ حاصل کرنے کا کام کافی مشکل تھا۔ شروع میں چند دستاویزات ملیں اس کے بعد ہندوؤں اور سکھوں نے تعاون نہ کیا۔ خاص کر شمالی ہند کے ہندوؤں کا رویہ متعصبانہ رہا۔ اب ہم نے جنوبی ہند کے کلیریکل سٹاف کی مدد لی جو کہ غیر متعصب تھے وہ ہماری دستاویزات دینے پر آمادہ تھے اور یہ کام رات کی خاموشی میں ہوتا رہا جبکہ وہ لوگ ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔ دستاو یزات کے فائلوں پر نام دیکھ کر ان کو الگ کر دیتے تھے، مسلمان افسروں کی فائلیں کے ساتھ غلطی سے ہم چند عیسائی اور سکھوں کی فائلیں بھی لے آئے جسے بعد میں کمانڈر کو واپس کر دیا اور وہ بہت مشکور ہوئے۔سٹیشنری کا حصول نسبتاً آسان رہا اور رفتہ رفتہ ہمیں اپنے حصے کی سٹیشنری اور فارم ملتے گئے۔ میں نے متعلقہ ہندو افسر پر واضح کیا کہ انگریز اپنے حصے کی سٹیشنری لے کر بمبئی ارسال کر رہے ہیں اور جب ہم اپنا حصہ لیتے ہیں تو تم لوگوں کو کیوں تکلیف ہوتی ہے۔ اس نے کہا "خان صاحب آپ بھی اپنا حصہ لے لیں آپ کو کون منع کر سکتا ہے"ہم نے اپنے حصے کی سٹیشنری فارم وغیرہ اور 17 ہزار سٹینسل پیپرز حاصل کیے اور اسے میگزین کے کمرے میں خاموشی سے رکھتے رہے تاکہ تخریب کاروں کی نگاہوں سے دور رہیں۔ رات کو کلرک محمد خان اسی کمرے میں سوتا اور فجر کے وقت چلا جاتا۔
سٹیشنری کے ساتھ ہم نے دس عدد ٹائپ رائٹرز اور دو ڈپلیکیٹرز بھی لے لیے تھے مگر چند روز بعد جبکہ روانگی میں تاخیر ہوئی تو انڈین جی ایچ کیو سے اطلاع آئی کہ دونوں مملکتوں کا فیصلہ ہے کہ سٹیشنری میں ٹائپ رائرز اور ڈپلیکیٹرز شامل نہیں ہیں آپ لوگ یہ دونوں چیزیں نہیں لے جائیں گے۔ اس دوران مجھے جاٹ ہندو کپتان سے معلوم ہوا کہ یہ کام کپتان لالہ لاجیت رائے (تلوار، راولپنڈی) کی شرارت سے ہوا جو کہ آر ایس ایس کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے۔ سٹینسل پیپرز پاکستان میں اس وقت بالکل نایاب تھے اس لیے اسی کو غنیمت جانا۔
ان حالات میں سٹاف کی سکیورٹی، ریکارڈز آف سروس اور سٹیشنری کی مناسب حفاظت کے ساتھ ساتھ ذاتی حفاظت پر بھی توجہ دی گئی۔ ہم حالات پر نظر رکھتے تھے۔ کوشش یہ تھی کہ ماحول ٹھیک رہے۔ لالٹین میں رات کے وقت دو سنتریوں کا ایک وقت میں بندوبست تھا۔ ان کے پاس سیٹیاں اور عام سونے کے لباس ہوتے تھے۔ انہیں ہدایت تھی کہ راؤنڈ کرنے والے افسروں اور وی سی او کو نہ پکارا جائے تاکہ انہیں شبہ نہ ہو کہ ہم ہوشیار ہیں اگر پوچھیں تو بتانا کہ رفع حاجت کے لیے اٹھا ہوں۔ پاکستان روانگی کے لیے رولنگ سٹاک (سپیشل ٹرین) کا انتظام ہو گیا۔ حرکت کرنے کا حکمنامہ مل گیا۔ 12 دسمبر 1947ء کو روانگی تھی۔
بھاری سامان مال کے ڈبوں میں لادا، آدمیوں کو ترتیب کے ساتھ بٹھا دیا کہ جہاں تک ہو سکے ایک پارٹی یونٹ کے آدمی ایک جگہ ہوں تاکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول میں آسانی ہو۔ سٹیشن پر موجود مہاجرین کو بھی مختلف ڈبوں میں بانٹ دیا۔ ہماری کوشش کے باوجود ریلوے والوں نے مال کے ڈبے آگے کی بجائے پیچھے لگا دیے۔ آگے لگانے میں ہمارے دو ہمارے دو مقاصد تھے کہ مال کے ڈبے کٹنے نہ پائیں گے اور پٹڑی سے اترنے کی حالت میں (جس میں کافی امکان تھا) انسانی جانوں کی بچت ہو گی۔ مگر انہوں نے تعاون نہ کیا اب مجبوراً میں نے یہ انتظام کیا کہ صوبیدار امیر علی خان کی ڈیوٹی لگائی کہ آپ آخری ڈبہ میں ہوں گے۔ ٹرین کی روانگی کے وقت پلیٹ فارم پر آگے ہوں گے اور تسلی کریں گے کہ ڈبے کٹ تو نہیں گئے۔ اگر کٹ گئے تو فوراً سیٹی بجائیں۔ آپ کے آدمی ڈبہ میں زنجیر کھینچ کر گاڑی رکوا دیں گے۔ چنانچہ آگے جب جالندھر میں ڈبے کٹ گئے تو اسی طریقے سے ہمیں معلوم ہوا ورنہ اگلے سٹیشن یا سٹاپ پر معلوم ہوتا تو تمام سامان، دستاویزات اور سٹیشنری سے ہاتھ دھونے پڑتے۔اللہ اللہ کر کے وہ وقت آ پہنچا جس کا شدت سے انتظار تھا۔ 12 دسمبر 1947ء کو شام کے وقت ملٹری سپیشل ٹرین میں جھانسی سے 6 آفیسراور تقریباً 400 سپاہی سوار ہوئے تھے۔ ان کے افراد خانہ اور سویلین ان کے علاوہ تھے۔ آگرہ سے تقریباً 11 آفیسر اور 800 مزید سپاہی سوار ہوئے تھے۔ ہماری ٹرین آخری ملٹری سپیشل تھی اس سے پہلے جو ملٹری سپیشل جھانسی سے روانہ ہوئی اس کے فوجی پوری طرح مسلح تھے، ٹینک تھے، کمانڈ مکمل تھی، وائرلیس، ٹیلیفون تھے۔ ہماری ٹرین مقابلتاً دشمن کے لیے تر نوالہ تھی اس لیے میں نے پوری حالت افسروں، جونیئر کمیشنڈ افسروں اور نان کمیشنڈ افسروں پر واضح کر دی کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ جب تک ہم پاکستان خیریت سے نہ پہنچ جائیں کوئی غفلت اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈسپلن کا اعلیٰ مظاہرہ کرنا ہے۔ راشن پانی کے استعمال میں ہر ممکن بچت کریں، ایثار و قربانی وقت کا تقاضا ہے، دیکھ بھال لازمی ہے۔رب کریم نے اپنا فضل و کرم فرمایا کہ ہماری ٹرین کے کسی آدمی یا پارٹی کی تلاشی وغیرہ نہیں ہوئی جو جتنا سامان ساتھ لا سکتا تھا ٹرین میں لوڈ کر دیا۔ رات کے 12 بجے ہماری ٹرین روانہ ہوئی۔ 13 دسمبر کی صبح 8:30 بجے آگرہ پہنچ گئے۔
ٹرین رکنے کا وقت ایک گھنٹا تھا مگر ہندو، سکھ، آر ٹی او اور ایس ایس او کی مداخلت اورگڑبڑ کی وجہ سے تقریباً چار گھنٹے ٹرین رکی رہی۔ ہماری مسلسل شکایت اور احتجاج کے بعد انہوں نے ٹرین کی روانگی کی اجازت دی۔ اب انہوں نے اپنی من مانی کے بعد ٹرین سے اپنا گارڈ ہٹایا ہمارے گارڈ نے چارج لیا۔مہاجرین ٹرین پرٹوٹ پڑے، منصوبے کے مطابق ہمارے آدمی ڈبوں میں کھڑے رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جگہ مل جائے لیکن دکھاوے کے طور پر شور مچاتے رے کہ مت آنے دو مگر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر انہیں ڈبوں میں سوار ہونے میں مدد دیتے اس کے بعد ٹرین روانہ ہوئی۔رات امرتسر سٹیشن پر گاڑی کھڑی ہوئی تو ایک ہندو جاسوس گاڑی کا جائزہ لینے کے لیے بڑھا کہ اتنے میں سنتری نے چھلانگ لگا کر ہالٹ پکارا اور سنگین کا نوک اس کے گلے سے لگایا ساتھ ہی جے سی او انچارج پستول لیے پہنچ گیا میں بھی پہنچا میں نے جے سی او کو تلاشی لینے کے لیے کہا۔ اس سے ہتھیار وغیرہ تو برآمد نہ ہوا اس سے پوچھا کہ ’’کون ہو تم؟‘‘ جواب ملا۔ شرنارتھی، میں نے کہا کہ شرنارتھی یا شرارتی’’ وہ معافیاں مانگنے لگا آگے کی جانب پلیٹ فارم پر تقریباً 100 گز دوردس آدمی بیٹھے آگ سینک رہے تھے۔ ظاہراً وہ اس واقعہ سے لاتعلق رہے مگر انہوں نے اپنے سرپرستوں کو یہ ضرور بتایا ہو گا کہ یہ لوگ الرٹ ہیں۔ آگے بیاس آیا کنارے پر ایک پہاڑی ہے جو کہ خطرناک جگہ تھی بلکہ کسی حد تک مقتل بتایا جاتا تھا وہاں سے بھی بفضل رب کریم خیریت سے گزرے۔ علی الصبح اذان سے قبل اٹاری پہنچ کر اطمینان کا سانس لیا۔ ٹرین کا چارج لینے کے لیے پاکستانی انجن ڈرائیور اور گارڈ وغیرہ آئے۔ اللہ کا بیحد شکر ادا کیا سٹاف نے پاکستانی جھنڈے کے مشابہ جھنڈا بنایا تھا اس پر 02 ای پاک کپڑے سے بنایا تھا وہ جھنڈا ہمارے کوپے کے باہر لگایا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ٹرین واہگہ پہنچ گئی۔
مادر وطن کی سرزمین پر پہنچ کر اور اتنی بڑی ذمہ داری بخوبی نبھانے کے بعد کیا جذبات تھے بیان سے باہر ہیں۔ سب سے پہلے تو نفل شکرانہ ادا کیا۔ پھر روح پرایسی سرمستی اور سرشاری کی کیفیت چھا گئی کہ میں بالکل غافل ہوگیا۔ چندھیاتی ہوئی تیز دھوپ میں آنکھ کھلی تو ٹرانزٹ کیمپ کے سائیڈنگ پر تھا۔اسی طرح یہ کارواں منزل آگے بڑھتا رہا۔ محنت، ایمانداری، عزم مصمم اور مسلسل جدوجہد سے یہ گلستان پُر بہار ہو گیا۔یہ داستان رقم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نئی نسل کو بھی معلوم ہو کہ ابتداء میں ہم نے کس کس طرح اس چمن کی آبیاری کی۔ میں اب بھی اپنی نئی نسل سے مایوس نہیں ہوں۔نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیزہے ساقی***عابدہAbida Rahmani
--