Friday, August 14, 2015

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہین



Subject: اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہین 

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں  
 
 از

عابدہ رحمانی

ہر جانب سبز ہلالی پرچم  لہرا رہے ہیں ۔۔چھتوں پر،چھوٹی بڑی گاڑیوں پر سائیکلوں ،موٹر سائیکلوں پر مختلف اشیاء بیچنے والوں کے ٹھیلوں پر ،ہر طرف پر چم بیچنے والوں کے غول کے غول جابجا سٹال سجے ہیں پر چم کے رنگ کے سفید اور سبز وگ ،چہروں پر سجانے والے ماسک ، بالوں کے رکن کلہ بینڈ جلتی بجھتی جھنڈیاں  اور کیوں نہ ہو 14 اگست پاکستان کا یوم آزادی ہے اور ہر آزاد قوم کی طرح پاکستانی بھی اپنا یوم آزادی خوب کر و فر سے مناتے ہیں ۔اسلام آباد میں ہر جانب جشن آزادی کا سماں ہے ۔۔اور صرف اسلام آباد ہی کیوں تمام پاکستان میں یہی جوش و جذبہ ہے ۔۔عمارات پر رات کو  انتہائی دیدہ زیب جھل لاتا چرا غاں ان روشنیوں سے  گھر بازار سب سجے ہوئے۔ جابجا منچلے اور شائقین پٹاخے چھوڑ رہے ہیں ۔آتش بازیاں ہو رہی ہیں ۔۔ایک رونق ہے ایک ہما ہمی ہے لگتا ہے امن کا دور لوٹ رہا ہے ۔۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو اللہ نظر بد سے بچائے۔۔
برسوں کے بعد میں یہ یوم آزادی مادر وطن پاکستان میں منا رہی ہوں ۔۔ اور حد درجہ لطف آرہا ہے۔۔

الحمد للہ پاکستان آج 68 برس کا ہوا چاہتا ہے- ترقی یافتہ دنیاکے لحاظ سے اسکی حیثئیت عمر کے لحاظ سے ایک معمر کی ہے جبکہ پاکستانی لحاظ سے ساٹھا پاٹھا بڑہاپے کی سرحد میں داخل ہے- 14 اگست 1947 کو رمضان المبارک کی 27 شب کو پاکستان معرض وجود میں آیا جسے عام طور سے شب قدر مانا جاتا ہے -
تقسیم ہند کے دوران والی نسل بھی اب بڑھاپے میں ہے وقت کا پہیہ تیزی سے گھومتا ہے-- آج کو کل بننے میں چند گھنٹے ہی صرف ہوتے ہیں-

تقسیم ہند کے دوران خاک و خون کے کتنے دریا پاٹے گئے - عالمی تاریخ میں ایک اور انوکھی مثال قائم ہوئ، لاکھوں لوگ ہجرت کرکے ایک سر زمین سے دوسری سرزمین پر آگئے- بے بسی ، تباہی و بربادی ، ایثار و قربانی کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی، پھر اس لٹے پٹے مملکت کی تعمیر نو کا آغاز ہوا اینٹ پر اینٹ جمائی گئی  -اس مملکت کے ناخدا کو جلد ہی مایوس ہوکر بالآخر یہ بھی کہنا پڑا" میری دونوں جیبوں میں کھوٹے سکے ہیں"- ایک سال کے اندر وہ کمزور و ناتواں ،لیکن گھن گرج والی آواز اور اصولوں کا پکا مخلص ناخدا اس کشتی کو بیچ منجدھار چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوا- اسکے بعد بڑے زیر و بم آئے- اکتوبر 1951 کو قائد کے دست راست ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپینڈی میں قتل کردیا گیا-اسی لیاقت باغ نے دوسری بھینٹ بے نظیر بھٹو کی صورت میں لی--

کڑی آزمائیشوں اور ناگفتہ بہ حالات سے نبرد آزما ہوتے ہوۓ یہ وطن اور ملت اپنی بقا کی کوششوں میں مصروف رہا ہے اور اسوقت زیادہ شدت سے ہے -بقول اقبال'
یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فا تح عالم -جہاد زندگانی میں ہے یہ مردوں کی شمشیریں- 


اگر ہم پاکستانی تاریخ کا ایک سرسری اجمالی جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس مملکت خداداد کو ابتداء سےہی بیرونی و اندرونی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا - دائمی حریف بھارت سے پے در پے کئی جنگیں ہوئیں 1971 کی جنگ کے نتیجے میں اپنے ایک حصے اور تقریبا نصف مملکت مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھونے پڑے- اور یہ کتنا سنگین اور کسقدر اندوہناک المیہ تھا کہ اسکی شدت ، تباہی و بربادی، ہلاکت آفرینی اور قتل و غارت گری کا ا حاطہ کرنا نا ممکن ہے- یہاں ہرگز کفر و اسلام کا معرکہ نہیں تھا بلکہ زبانوں (بولیوں) ، تہذیب اور نظریات ، نا انصافی اور غلط فہمیوں کے معرکے تھے- دشمنوں نے انہیں خوب خوب ہوا دی - سب سے بڑی اسلامی مملکت دو لخط ہوئی-- پاکستانی فوج کو حد درجہ ہزیمت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا-

کشمیر کے تصفیئے کے لئے پاکستان کو بے انتہا قربانیاں دینی پڑیں جبکہ یہ مسئلہ ابی تک تصفیہ طلب ہے اور پاکستان کی پوزیشن بھارتی دباؤ کے پیش نظر کافی کمزور ہو چکی ہے- افغانستان میں روسی فوجوں کی آمد کے ساتھ پاکستان افغان مسئلے میں اتنا الجھ گیا کہ الجھتا ہی چلا گیا - وقت اور حالات کے پلٹنے سے جہاد افغانستان اور مجاہدین دہشت گرد بن گئے اور وہ جو امریکہ کی آنکھ کا تارا تھے اور جنکی وجہ سے روس کے ٹکڑے ٹکڑ ے ہو گئے وہ امریکہ کی نظر میں سب سے زیادہ خطرناک اور بڑے مجرم کہلائے - پھر 11 ستمبر 2001 کا ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا واقع ہوا- اسکا ملبہ جہاں افغانستان ، عراق اور دیگر مسلم دنیا پر گرا وہاں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا بند، ساتھی اور ہراول دستہ بن گیا- ان مسائل میں الجھ کر پاکستانیوں اور پاکستان کے حالات عراق، افغانستان اور فلسطین جیسے ہو گئے--وہ جو ہم سوچتے تھے، کس کے گھر جائیگا طوفان بلا میرے بعد -اس طوفان بلا نے ہمارے اپنے گھروں ، شہروں ،گلیوں ، درسگاہوں ، مساجد، فوجیوں اور پولیس کو لپیٹ میں لے لیا - خود کش دھماکے ، فوجی رد عمل ، ڈرون حملے اور امریکی در اندازی نے جہاں ہمیں خانہ جنگی اور ایک نئی تباہی و بربادی میں ڈالدیا -وہاں حفاظتی تدابیر کی خاطر تمام حساس اداروں ، بلکہ تجارتی مراکز،ہسپتالوں، بنکوں اور دفاتر تک کو بم اور بارود کی نشاندہی والے آلات ، سکینرز اور ڈیٹیکٹرز لگانے پڑے-- جگ ہنسائی، طنز و تشنیع کے مواقع بھی اغیار کو مئیسر آئے-

پاکستان کی معیشت ،تجارت اور سیا حت بری طرح متاثر ہوئی۔۔اور بیرون ملک اسکی ساکھ ایک انتہائی خطرناک ملک کے طور پر جانی گئی۔۔

 مدینہ منورہ میں ایک بنگالی سے بنگلہ میں گفتگو ہو رہی تھی لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ اصلاًُ میں پاکستانی ہوں تو کہنے لگا" آپ پاکستانی لوگ بھی کیسا ہے - پہلے ہم سے مارا ماری کیا اب خود سے مارا ماری کرتا ہے"-(جبکہ وہ بھی ۴۴سال گزرنے کے بعد مارا ماری سے باز نہیں آئے - -

لاکھوں جانیں اس تباہی کی بھینٹ چڑھ گیئں - مرنے والے بھی اپنے ، مارنے والے بھی اپنے-

الحمد للّٰہ اللہ کے فضل وکرم سے فوج اور حکومت کی سخت کاروائیوں اور بے انتہا قربانیوں سے ایک حد تک امن وامان بحال ہو رہا ہے ۔۔
کراچی شہر جو پاکستان کی شہ رگ کہلاتا ہے اور یقینا ہے 2 ڈھائی کروڑ آبادی والا شہر ، علم و دانش کا گہوارہ، جو منی پاکستان کہلاتاہے ، پاکستان کا غریب پرور شہر جہاں پاکستان کے ہر خطے ہر بولی والے لوگ آباد ہیں- اس شہر کو لسانیت ، شدت پسندی اور بد امنی کی آماجگاہ بنا دیا گیا- اسکی خون آشامیاں اور خونریزیاں بے حساب ہیں ، جہاں روزانہ دس ، بارہ بیگناہوں یا گناہگاروں کا قتل بیشتر کچھ رقم چھیننے کی کوشش، موبائیل فون چھیننے کی کوشش میں یا گاڑی چھیننے کی کوشش میں ایک عام بات تھی جہاں کے باشندوں کو اسی بد امنی اور قتل و غارتگری کے ساتھ جینے کی عادت سی ہو گئی تھی ۔اسکے علاوہ ایک اور محاورہ ٹارگیٹ کلنگ کا ،جنمیں مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا ۔ اب اس پر قابو پالیا گیا ہے ایک مدت کے بعد لوگوں نے سکھ چین کا سانس لیا۔۔۔

 
بلوچستان کے حالات میں بھی سدھار آرہا ہے۔۔ جو شدید بد امنی کی لپیٹ میں تھا روزانہ افسوسناک واقعات کی خبروں سے سے دل لرزتا رہتا ۔آۓ دن خونریزی کے بڑے بڑے واقعات ہوتے ۔ خیبر پختون خواہ تو میدان کارزار تھا ہی- ضرب عضب آپریشن کے نتائج دور رس نظر آ رہے ہیں ۔۔جس عفریت نے پاکستان کو پچھلے ۱۴ برس سے جھکڑا ہوا تھا ۔اس سے نجات نظر آرہی ہے۔۔آج جرنل راحیل شریف نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنیوالے اور منصوبہ بندی کرنیوالے سات دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔۔ 

 
کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف بھی مؤثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔۔پاک فوج نے اپنے جرنیل اور متعدد افسران کو اس جرم میں سخت سزا سنائی ہے اور انکی تمام مراعات ختم کر دی ہیں ۔۔ ورنہ  اس عفریت نے تو اوپر سے نیچے تک سب کو لپیٹا ہوا ہے رشوت ستانی اور بدعنوانی کا ایک بازار گرم ہے اپنا جائز کام کرنے کیلئے آپ دینے پر مجبور ہیں - پچھلے دنوں اسلام آباد میں سی ڈی اے سے کچھ کام تھا میرا ایجنٹ کہنے لگا " باجی پندرہ ہزار انڈر دی ٹیبل دینے سے کام فوری ہوجائیگا" اور یہ انڈر دی ٹیبل والے ماتھے پر سجدے کا ٹیکہ اور اکثر بڑی بڑی داڑھیاں بھی رکھتے ہیں اور پہر اسی رقم سے حج اور عمرے بہی ادا کرتے ہیں - نہ معلوم وہ اسکو کوئی جائز نام کیوں نہیں دیتے؟
اس سب کے باوجود پاکستان ایک واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے یہ جہاں پاکستانیوںکیلئے باعث صد افتخار ہے- وہاں ساری دنیا کیلئے باعث تشویش بھی ہے - 



لیکن اس سب کے باوجود میری یہ قوم ایک باہمت، محنتی ، جفا کش، زندہ دل ، بہادر ، نڈر اور دلیر قوم ہے - ساری دنیا پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی سے خوف زدہ اور تھر تھرا رہی ہے - اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کے بارے میں محتاط رویہ اپنانے کا مشورہ دیتی ہے- لیکن پاکستانی بے پرواہ ہیں موت کو وہ ایک کھیل اور مقدر سمجھتے ہیں- اس قوم اور ملک پر ناگہانی اور قدرتی آفات بھی بھر پور انداز سے آئیں 2005 کے تباہ کن زلزلہ اور 2010 کے تباہ کن سیلاب سے ہمت اور جرآت سے نمٹنے کے بعد زندگی ایک نئی سمت اور جہت کے ساتھ رواں دواں ہے - تمام ملک میں قرئے قرئے میں وہ بے پناہ چہل پہل اور رونق ہوتی ہے کہ چند لمحوں کے لئے تمام بد امنی، لاقانونیت اور دہشت گردی کے قصے محض افسانہ لگتے ہیں- گرانی اور مہنگائی جھوٹ اور فریب دکھائی دیتا ہے اگر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کی جائے اور دولت و دکھاوے کی ریل پیل دیکھی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ کسقدر صاحب حیثیت ہیں--لوگوں کا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے علاوہ معدودے چند کے-

زندہ قوموں کی طرح ہم اپنا یوم آزادی بیحد دھوم دھام سے مناتے ہیں- میڈیا تو اسے اور شد و مد کے ساتھ مناتا ہے ( اب یہ میڈیا مذکر ہے یا مؤنث) لیکن عوام مین جذبہ حبالوطنی بڑھ چڑھ کر نظر آتا ہے-ہر طرف لہراتا ہوا پاکستان کا ہلالی پرچم ، لڑکے لڑکیوں کے سبز ،سفید لباس بلکہ لڑکیوں نے اسی مناسبت سے چوڑیاں پہن رکھی ہیں ، ہر طرف بجتے ہوئے ملی نغمے ایک زندہ اور پایندہ قوم کو ظاہر کر رہے ہیں-اور پھر آتش بازیاں جنکی چکا چوند اسمانپر ایک ہلچل پیدا کرتی ہے-

بیرونی ممالک میں بھی پاکستانی بساط بھر یوم آزادی منانے کی کوشش کرتے ہیں --ٹورنٹو میں سٹی سنٹر جسکا نام ناتھن فلپس اسکوائیر ہے میں یوم آزادی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے-ایک میلے کا سا سماں ، اسمیں سفیر پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی حکومت کینیڈا کے اہلکارعام طور سے اونٹاریوکے پریمئیر کو مدعو کرتی ہے - سہیل رعنا کی ٹیم انکے دائمی ملی نغموں کے ساتھ موجود ہوتی ہے - وہ نغمے جنکو سنکر ہم اپنی ماضی میں کھو جاتے ہیں-

سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے- سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے-

دعا کریں کہ اللہ تعالی اس سرزمین کو ظلم و استحصال و استبداد کے پنجے سے نجات دے اور پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی اسلامی  مملکت اور ریاست بنائے، اغیار اور دشمنوں کی چیدہ دستیوں سے محفوظ رکھے ---آمین



عابدہ

Abida Rahmani


Tuesday, July 14, 2015

آ لوداع اے ماہ رمضان اور پاکستان سے عیدالفطر کی دلی مبارکباد



Subject: لوداع اے ماہ رمضان اور پاکستان سے عیدالفطر کی دلی مبارکباد

الوداع اے ماہ رمضان

اور پاکستان سے

عیدالفطر کی دلی مبارکباد


از

عابدہ رحمانی


اب جبکہ رمضان آخری عشرے کے آخری ایام  میں داخل ہوگیا ہے اعتکاف والے معتکف ہوچکے -مغفرت اور نار جہنم سے نجات کا عشرہ جاری ہے - آج رات ستایسویں شب ہے  بیشتر مساجد تراویح میں ختم القرآن کا انعقاد کر رہے ہیں - روزے دار اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار ہیں

15 برس کے طویل وقفے کے بعد میرا رمضان اور عید الفطر پاکستان میں گزر رہا ہے --

یہاں کی رمضان اور عید کی رونقیں اور چہل پہل ویسے ہی ہیں جیسے کہ ہوا کرتی تھیں -افطاریاں ، افطار پارٹیاں ، عید کی چہل پہل ،خریداریاں، بازاروں میں رونق ،بجلی کی کمی کے باوجود تمام بازار بقعہ نور بنے ہوئے ہیں اور پھر ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی تمام ریسٹورانوں نے اپنا افطار ، ڈنر مینو مشتہر کردیا -- پھلوں کے ٹھیلوں پر اور دوکانوں پر انواع و اقسام کے پھل ،آم، لیچی ِ انواع و اقسام کے خربوزے ، تربوز، آڑو، خوبانی ِ آلوبخارے ، جامن ، فالسے ، کیلے اور دیگر بہت سارے، انکے رنگ ،ذائقہ، تازگی اور تراوٹ سبحان اللہ -- دوکانوں نے افظاریاں تلنے کے لئے ٹینٹ اور چبوترے لگائے ہیں انواع و اقسام کی اشیاء لذت کام و دہن کے لئے ۔۔ سوچتی ہوں اس ملک میں کیا کمی ہے پھر وہی لمحہ فکریہ ، وہی قباحتیں وہی سہولتیں ، سوچنے کا مقام اور پھر وہی اپنے زخموں کو کریدنا--

لیکن یہ خوشی کا موقع ہے اور ہمیں اسے ضایع نہیں کرنا چاہیئے-- تمام ٹی وی چینلوں سے رمضان پر بھانت بھانت کے پروگرام --مجھے تمام چینلوں میں وہی اپنا پرانا پی ٹی وی اچھا لگتا ہے --، زکٰوٰۃ، صدقہ ، خیرات،غریب پروری اپنی انتہا پر ہے -- کل گھر کے بچے ایس او ایس ولیج کے تقریبا 40 بچوں کے لئے تحائف لے گئے-- یہ یتیم اور بے سہارا بچے ان تحائف سے یقینا خوش ہونگے --

رمضان اور عید پاکستان کا اپنا تہوار ہے  اور اپنی چیز تو اپنی ہی ہوتی ہے -- اسلئے یہ رونق ، یہ چہل پہل چاروں جانب ہے--کسی کو یہ تفصیلات بتانے کی اور ان تفصیلات میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ یہ سب کیوں اور کس لیے ہو رہاہے اور یہ کہ روزہ کیا ہے اسے ہم کیسے اور کیوں رکھتے ہیں اور عید کیوں منائی جاتی ہے ؟

ہاں یہ ایک کمی ، ایک خلش مجھے کیوں کھل رہی ہے کہ وہ جو کفار کے ملک ہیں جہاں سے میں آئی ہوں وہاں پر

مساجد ہیں کہ ماشاءاللہ نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں - پورے پورے خاندان وہاں کشاں کشاں چلے آرہے ہیں - بچوں کے لئے کھیلنے کے کمرے ہیں، بے بی سٹنگ کا انتظام بخوبی موجود ہے - بوڑھے بچے جوان، ایک چہل پہل ، ایک ہما ہمی نماز ختم ہونے کے بعد یوں لگتا ہے ایک میلہ لگا ہوا ہے  بھانت بھانت کی بولیاں ، مختلف رنگ اور نسل کے مسلمان ایک رشتہ اخوت میں جڑے ہوۓ ، زیادہ تر ان ممالک کے باسی جہاں قتل و غارت گری ، فرقہ پرستی،مذہبی سیاسی یا فوجی دہشت گردی انتہائی عروج پر ہے - لیکن اس سکون اور اطمینان میں اپنے دینی فرائض کی انجام دہی کے لئے ان ممالک کا انتخاب بھی کیا خوب انتخاب ہے کہ دیار مغرب کے امن و امان میں خوب دل کھول کر عبادات کریں ، پنج وقتہ فرض نماز کی ادائیگی اپنی جگہ ،رمضان کی رونقیں ، افطار ، مغرب عشاء ، تراویح اور پھر قیام الیل، خوش الحان قاریوں کی قراءت کیا روح پرور سماں آیات وعید پر قاریوں کا پھوٹ پھوٹ کر گریہ و زاری کرنا اور وتر کی دعاؤں کا سماں ، حرمین شریفین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے مجھے شافعی اور مالکی طریقے کی وتر بہت پسند ہے کیا رقت آمیز دعائیں ہوتی ہیں بس اللہ کے ہاں قبولیت کی دیر ہے۔۔

لیکن پاکستان میں خال خال ہی کوئی مسجد ہوگی جہاں خواتین کی نماز کا انتظام ہے اور پھر خواتین خود بھی جانا پسند نہیں کرتیں وہ بھی اسی فتوے پر عمل کرتی ہیں کہ عورت کے لئے افضل نماز اسکے گھر کے اندر ہے۔ --مارے باندھے کچھ لوگ تراویح کی ادائیگی کے جاتے ہیں

مفتی منیب الرحمان کو چاند دکھائی نہ دیا اور ہمارے سرحد ارے بھئی خیبر پختون خوا والوں نے روزہ رکھ لیا اب عید بھی ویسے ہی ہوگی انکی جمعے کو اور ہماری ہفتے کو ایک سرکاری ایک غیر سرکاری یہ روایت تو نہ جانے کب سے جاری ہے۔۔ اسلامی دنیا اسی طرح منقسم ہے ابھی تو رمضان شروع ہی ہوا تھا ۔اور دیکھتے دیکھتے 27 واں روزہ بھی آن پہنچا - -ا

ناصر جہاں کا سلام آخر آجکل میرے کانوں میں گونجتا ہے اب اسکا رمضان سے کیا تعلق؟

بس اتنا ہی، جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے

سلام آخر کو رمضان آخر کہہ سکتے ہیں--

شروع کے دو روزے خوب گرم تھے ۔پھر اللہ کو اہل اسلام آباد۔ پر رحم آگیا۔۔


رمضان کا تحفہ اہل ایمان کے لئے عید الفطر کا دن ہے جب وہ اللہ کی بڑائی اور کبریائی بیان کرتے ہوئے اپنی خوشی مناتے ہیں-  روزے دار تو روزوں سے بے حال ہو چکے ہوتے ہیں  اکثر وہ مسلمان جو روزے نہیں رکھتے عید زیادہ جوش و خروش سے مناتے ہیں اور انکی تیاریاں بھی خوب ہوتی ہیں اب       وہ اتنے بھی گئے گزرے مسلمان نہیں ہیں کہ عید بھی جی بھر کر نہ منائیں- اتنی مسلمانی پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے-


"ارے بھئی آپ تو عید کا چاند ہوگئے نظر ہی نہیں آتے"

اردو بولنے والے از راہ گرمجوشی اپنے ملنے والوں میں یہ جملہ یا محاورہ جا بجا بولتے ہیں- جب کہ ہم مسلمان ابھی رمضان کے اختتام پر عید کا چاند ڈھونڈھنے کی کوشش کرینگے-آختتام سے مراد ہے 29 کی شب کیونکہ 30 کو تو  چاند کو بہر حال نکلنا ہی ہوتا ہے- ہلال عید یا عید کا چاند ہماری آدھی نہیں تو کم ازکم ایک تہائی اردو شاعری کا احاطہ کئے ہوے ہے۔اس چاند کو ڈھونڈھنے  اور پانے کیلئے کیا کیا رومانی اور جذباتی  اشعار کہے گئے ہیں کہ انمیں سے ایک بھی ابھی میرے ذہن میں نہیں آرہا ہے شائد گوگل کرنا پڑیگا  ہاں ابھی ایک شعر جلیل نظامی کا ملا ہے

ماہ نو دیکھنے تم چھت پہ نہ جانا ہرگز

شہر میں عید کی تاریخ بدل جائیگی۔  

- پھر اس چاند اور محبوب کے حسن جمال کا موازنہ ، جذ با تئیت تو بر صغیر میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی ہے -پھر اس پر مستزاد اردو محاورے جنمیں عید کا چاند جا بجا استعمال ہوتا ہے-چاند اور عید کے چاند کو حسن و جمال کے استعاروں میں وصال و فراق کے محاؤروں میں خوب خوب چاشنی ملاکر بیان کی گیا ہے- ہماری ایک مغنیہ کیا لہک لہک کر یہ گیت گاتیں

انوکھا لاڈلا ، کھلن کو مانگے چاند

رمضان کی 29 کو جتنی ڈھونڈیا اس چاند کی ہوتی ہے کہ چاند کو خود بھی  اس اہمیئت کا اندازہ نہیں ہوگا-یا شائد ہے جب ہی تو وہ جھلک نہٰیں دکھلاتا یا ہلکی سی جھلک دکھلا کر غائب ہوجاتا ہے- عرب دنیا میں نہ معلوم چاند اور عید کے چاند کے ساتھ کیا رومانئیت منسلک ہے وہ عربی میں اپنی تہی دامنی کے سبب میں نہیں جانتی لیکن یقینا وہاں کے مؤمنین بھی چاہتے ہونگے کہ 29 پر چاند ہو جائے اور وہ ایک اور روزے سے بچ جایئں -آجکل تو وہاں پر شدید ترین گرم موسم ہے -ہاں البتہ انپر ایر کنڈیشننگ کے لحاظ سے اللہ کا احسان ہے- امریکہ کے روشن خیال مسلمانوں کو کیلنڈر بنانے کا خیال آیا اور اسکے حساب سے چاند کی تاریخیں طے کیں اس حساب سے ہم کیلنڈر والوں یافقہ کونسل والوں  کو زندگی سے چاند کا انتظار غائب ہوگیا -- لیکن دیگر کافی تعداد میں بھائی بندے اس پر متفق نہ ہو سکے ، انہوں نے چاند دیکھنے اور ڈھونڈنے کو ہی صحیح جانآ- اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں چاند کو کھلی آنکھ سے دیکھنا افضل ہے ، ہم اپنے مطالب کیلئے سنت کی پیروی خوب کرتے ہیں-

پاکستان میں روئیت ہلال کمیٹی بنی ہوئی ہے جنکا اہم کام عید اور رمضان کے چاند کو نکالنا ہوتا ہے، اسکے سرپرست اعلے   آجکل مفتی منیب الرحمان ہیں - -- لمبی چوڑی تقریریں اور تکلفات ہوتے ہیں چاند کو ڈھونڈھنا ایک اہم ترین فریضہ ہوتا ہے - پوری قوم دم بخود ہوتی ہے کہ اب چاند نکلا کہ نکلا اکثر اوقات ایسا ہوا کہ چاند کی خبر رات کو با رہ بجنے کے بعد آئی اور اکثر نے اگلے روزے کی سحری بھی کرلی اور معلوم ہوا کہ عید ہوگئی-ہمارے خیبر پختونخوا والے عید کو پشتو میں" اختر" کہتے ہیں - عیدالفطر چھوٹی عید کہلاتی ہے جبکہ عیدالاضحی بڑی عید - اور وہ کبھی بھی بقیہ پاکستان سے عید اور رمضان پر متفق نہیں ہوتے بلکہ ایک روز پہلے مناتےتھے-، چاہے روئیت ہلال والے پشاور میں ہی چاند نکال ڈالیں-

بھارت،بنگلہ دیش ، ملایشیا انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے مسلمان بھی اپنےحساب سے عید کا اہتمام کرتے ہیں -

عرب ممالک میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے چاند کی ڈھونڈیا ہوتی ہے- یوروپ، آسٹریلیا، کینیڈا، دیگر ممالک  اور امریکہ والےیا تو اپنے طور پر چاند کو ڈھونڈتے ہیں کچھ اپنے موروثی ممالک کی پیروی بھی کر ڈالتے ہیں کہ عید انکے ساتھ منائی جاۓ-

شمالی امریکہ میں اگر مسلمان ایک ہی دن عید منا لیں تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ورنہ وضاحتوں پر وضاحتیں اور شرمندگی الگ - ایک ہی ملک ایک ہی محلے میں بسا اوقات تین مختلف دن عید منائی جاتی ہے بیچارے اوباما اور سٹیفن ہارپر بھی مخمصے میں کہ عید کی مبارکباد کس روز دی جائے- اسکول والے الگ پریشان اور انکا ایک ہی سوال " تم لوگ اپنا تہوار ایک دن ساتھ کیوں نہیں مناتے؟ ہم نے تو یہ طریقہ اپنایا ہے کہ عید کے روز روزہ رکھنا حرام ہے اور عید کے روز شیطان کا روزہ ہے اسلئے جو پہلے عید مناتا ہے اسکے ساتھ مناتے ہیں-


پاکستان میں چاند رات کو بڑے شہروں میں جو چہل پہل ہوتی ہے اور چاند رات کا بازاروں میں جو رت جگا ہوتا ہے وہ منچلوں اور نوجوانوں کے لئے ایک حد درجہ لطف اور سرگرمی  کا باعث ہوتا ہے- لڑکیاں بالیاں ساری رات مہندی اور چوڑیوں کے چکر میں کاٹ دیتی ہیں چوڑیوں والے منہ مانگے دام لیتے ہیں -کتنے سٹال بن جاتے ہیں کالج یونیورسٹی کے لڑکے باجیوں کو چوڑیاں پہنانے کے لئے ایک سے ایک بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اورکتنی با پردہ اور با حیا خواتین بھی چوڑیاں بچانے کی چکر میں ہاتھ بڑھا لیتی ہیں ارے ڈاکٹر، درزی اور چوڑی والے سے کیسا تکلف؟ کیا چناکے ہوتے ہیں جب تنگ سے تنگ چوڑیا ں پہنائی جائیں--لیکن اس طرح سے ٹوٹنے والی ساری کی ساری چوڑی والے کی ہوتی ہیں-- یہ ریت ابھی تک قائم ہے ؟- اس سے پہلے تو خواتین دعائیں مانگتی تھیں کہ آج چاند نہ ہو اور انکو عید کی تیاری کرنے کا ایک اور روز مل جاۓ- آخری وقت کی خریداریاں ، پکوان کی تیاریاں ، کئی اقسام کی سویئاں، ہوائیاں کٹ رہیں ، مصالحے پس رہے ہیں،ساری ساری رات خواتین کی اگلے دن کی تیاریوں میں گزر جاتی ہے  -اس سے پہلے جب گھروں میں سلیقہ شعار خواتین سلائیاں کرتی تھیں تو  گوٹے لچکےٹانکنا ،تر پائیاں کرنا اور پھر تمام ملبوسات کا اہتمام کہ تینوں دنوں میں کیا کیا پہننا ہے کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے- موجودہ دور میں بوتیک اور درزیوں نے عید کے اہتمام کو لوٹ لیا ہے -رمضان کے پہلے ہی سے درزیوں کے مزاج بگڑنے شروع ہوتے ہیں اور پہر یہ لوڈ شیڈنگ کا عارضہ یا بہانہ- اب چاند رات میں بوتیک اپنی قیمتیں کم از کم دگنی کر دیتے ہیں-اسکے ساتھ پارلروں کا راج ہوتا ہے مردانہ اور زنانہ دونوں-مہندی کا کام تو تمام دنیا میں کون کی ایجاد سے کافی آسان ہوگیا ہے اس کون کے ایجاد کرنیوالے کو ایک مہندی ایوارڈ براۓ تجدیدئیت ضرور دینا چاہئے تھا- اگلے روز عید کی نماز کے لئے گھر کے مرد ہی جاتے تھے اسوقت تک خواتین کی باقی تیاریاں ہوچکتی تھیں-

ہم لوگوں کے ہاں عید کا کیا اہتمام ہوتا تھا اکثر گھروں میں رنگ روغن تک ہو جاتا تھا - گملے تک رنگ دئے جاتے ہر چیز اجلی اور جاذب نظر ہو -پھر عیدیوں کا سلسلہ اگلے روز صبح سے ہی شروع ہوتا تھا جسنے رات کو سب سے زیادہ پریشان کیاتھا ڈھول پیٹنے والا وہ سب سے پہلے ، پھر گلی کا خاکروب جو عیدیں پر ہی نظر اتا تھا 'چوکیدار، مالی، ڈاکیہ جو سارے مہینے کی ڈاک جمع کرکے صرف عید کے دن لاکر دیتا ایک سے ایک عید کارڈ، بھیجنے والوں کی محبت کی گواہ ہوتے- ہم نے بھی درجنوں عید کارڈ بھیج دئے ہوتے تھے ان عید کارڈ کی خریداری بھی ایک دلچسپ اور بڑا مشن ہوتا تھا کہ ہر مرتبہ کچھ انوکھا پن ہو جو آپکی ذوق سلیم کا آئینہ دار ہو، پوری فہرست بنتی تھی کہیں کوئی عزیز، یار دوست رہ نہ جائے، ان کارڈز کو سپرد ڈاک کرنیکا مسئلہ ، ڈاکخانے والے بھی ایک حتمی تاریخ دے دیتے تھے-   ہماری زندگیوں سے بہت سے حسین لمحے خود بخود غائب ہوتے جارہے ہیں-اب انٹرنیٹ اور ای کارڈز نے اس تکلف سے بے نیاز کر دیا ہے -- پھر اللہ فیس بک اور وہاٹس ایپ  کو سلامت رکھے اسنے مزید کام آسان کردیا ہے

ایک تانتا سا بندھ جاتا ملازمین، اپنے بچوں ، عزیز رشتہ داروں کی عیدی کا سلسلہ الگ جاری رہتا - بچے اپنی عیدی گن گن کر خوش ہوۓ جاتے تھے-

میں اس نوسٹالجیا سے نکنا چاہتی ہوں یاد ماضی عذاب ہے یا رب - یہ وقت خوش ہونے کا ہے-

اب جن ممالک میں ہوں اگر تو عید ویک اینڈ پر ہے تو کیا کہنے ورنہ خصوصا چھٹی کا انتظام کرنا پڑتا ہے اسکولوں سے بچؤں کی اکثر چھٹی کرا دی جاتی ہے-لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اسطرح نئی نسل کو اپنے دین اور روایات سے جوڑا جاۓ- اسکے لئے عید کے اہتمام پر کافی توجہ دی جاتی ہے- بہت سے بچوں کو یہ شعور دلاتے ہیں کہ ہم کرسمس نہیں بلکہ عید مناتے ہیں اسلئے بچوں کو عید کے تحائف دئے جاتے ہیں بلکہ خاندان کے تمام لوگ ایک دوسرے کو تحائف دیتۓ ہیں، گھروں کو کرسمس کی بتیوں سے سجا دیتے ہیں اندرونی خانہ بھی غباروں اور جھنڈیوںسے آرائش کر دی جاتی ہے ،

اکثر لوگوں کے ہاں چاند رات کا خوب اہتمام ہوتا ہے بڑی بڑی پارٹیاں ہو جاتی ہیں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں اسمیں مدعو ہوتی ہیں مہندیاں سج رہی ہیں ، چوڑیاں پہنی جا رہٰی ہیں، ڈھولک کی تاپ، گیت گائے جا رہے ہیں کبھی گیت لگا کر کچھ پھیرے بھی لگا لئے جاتے ہیں آخر کو خوش ہونے کا بھی حق ہے اور جائزبھی ہے- یہاں عام طور پر عید میں لوگ اوپن ہاؤس کا اعلان کرکے احباب کو مدعو کرتے ہیں - یہ سلسلہ کافی دلچسپ ہوتا ہے کافی دوست احباب سے ملاقات ہو جاتی ہے لیکن صاحب خانہ کو کافی اہتمام کرنا پڑتاہے- اسکے لئے اوقات کا تعئین کردیا جاتا ہے- مساجد کی سطح پر بھی چاند رات اور عیدملن کی پارٹیاں ہوجاتی ہیں اور یہ پارٹیاں روزے داروں کے لئے جہاں ایک انعام ہوتی ہیں وہاں ان سے روزے نہ رکھنے والے بھی لظف اندوز ہوتے ہیں- اور کیوں نہ ہوں بقول کسے' ہم کم ازکم عید تو مناتے ہیں'-


اللہ تبارک و تعالیٰ اپکو شب قدر کی فضیلتوں ، سعادتوں اور برکات سے فیض یاب کرے

ہماری تمام عبادات، زکواة، صدقات اور محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے ہماری خطاؤں  کو بخش دے

۔ کل عالم اسلام کے دکھ ، بد آمنی ، قتل و غارت گری اور پریشانیوں کو اپنے فضل و کرم سے دور فرمادے۔

آپ سب کو  عیدلفطر کی دلی مبارکباد ، اللہ کرے یہ آپ کیلئے اور اپکے تمام اہل خانہ کے لئے مسرتوں اور رحمتوں کا پیامبر ہو

عید مبارک

اللھم تقبل منا و تقبل منکم کل عام و انتم بخیر





عابدہ

Abida Rahmani




-- 
Sent from Gmail Mobile

Wednesday, July 8, 2015

ہلاکت خیز گرمی یا اللہ کا عذاب!



----

 ہلاکت خیز گرمی یا اللہ کا عذاب

از عابدہ رحمانی
میرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں--

گرمی تو پاکستان میں ہر سال آتی ہے لیکن یہ اس مرتبہ کیا ہوا آمد رمضان کے ساتھ کراچی اور سندھ کے جنوبی علاقوں میں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں انکی تعداد اب تقریبا 1500 تک پہنچ گئی ہے -- یہ اللہ کا عذاب ہے یا ایک بہت بڑی آزمائش--
اہل پاکستان اور اہل کراچی کی قسمت میں جو دکھ لکھے ہیں یہ انمیں سے تازہ ترین دکھ ہے -- اس بد نصیب شہر کو جو عروس البلاد کہلتا ہے پاکستان کا مصروف ترین مرکزی شہر ہے پانی سے محروم ، بجلی سے محروم اور اسپر یہ قیامت خیز گرمی کہ سمندری ہوائیں بالکل بند ہو گئیں،لو کے تھپیڑے، جھلسا دینے والا سورج، بجلی غائب درجہ حرارت کا تناسب نمی کے ساتھ 49 ڈگری تک پہنچ گیا -- بہت سے  لوگوں نے روزے کی حالت میں تڑپ تڑپ کر جانیں دیں --
بروقت طبی امداد نہ پہنچ سکی ، روزہ داروں کا روزہ نہ تڑایا گیا یا انہوں نے خود نہ توڑا -- بچے اور بہت بوڑھے تو ظاہر ہے روزے کی حالت میں نہ ہونگے --(اور اللہ تعالٰ کی اس سہولت سے تو ہر مسلمان کو آگاہی ہونی چاہیئے کہ بیماری اور شدید نقاہت کی حالت میں روزہ توڑا جاسکتا ہے اور صحت یابی پر قضا کی ادائیگی ہے بوڑھے، بیمار اور کمزور اگر صا حب استظاعت ہوں تو روزہ نہ رکھ کر فدیہ ادا کریں-)- جو بھی وجہ ہو اسقدر ہلاکتوں میں کہیں نہ کہیں انتظامی اور حکومتی غفلت اور بد انتظامی موجود ہے --
بجلی و پانی کے مرکزی وزیر عابد شیر علی نے اپنی کلی برآت ظاہر کی ہے کہ یہ سب اموات  انکی غفلت کانتیجہ ہرگز  نہیں ہے -وہ کراچی الیکٹریک کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں - کہنے کو تو ہمارا ایمان ہے کہ آیا ہوا وقت ٹالا نہیں جاسکتا اورموت کا لمحہ اور وقت معین ہے - یہی وجہ باعث سکون بھی بن جاتی ہے -- عمر رض کا مشہور و معروف قول ہے کہ دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کتابھی  پیاس سے مر جائے تو عمر اسکے لئے جواب دہ ہوگا -- جبکہ بحیرہ عرب کے کنارے پیاس اور گرمی سے مرنیوالوں سے ہماری صوبائی اور مرکزی حکومت کی کسی کوتاہی کا تعلق نہیں ہےاور وہ بالکل بری الذمہ ہیں  -- چند روز پہلے تحریک انصاف کی ایک رہنما سے ملاقات ہویئ " ہم نے جگہ جگہ پانی کی بوتلیں مہیا کیں " کہاں کیں کتنی کیں؟ ہنگامی صورتحال میں تدابیر بھی ہنگامی بنیاد پر ہونی چاہئیں جب شہر پر آگ برس رہی ہو اور عوام کے پاس نہ بجلی ہو نہ پانی تو انکے لئے مرجانا ہی بہتر ہے اور سونے پر سہاگا یہ کہ مر نیوالوں کے دفنانے کو بھی دو گز زمین بھی میسر نہیں ہے لیکن 15 ، 16 سو ہلاکتوں کے ساتھ یہ زمین بھی کافی بڑھ جاتی ہے -- یوں محسوس ہوتا ہے کہ گرمی نہین بلکہ کوئی مہلک  وباپھیل گئی ہو--بعد میں یہ عقلمندی اختیار کی گئی کہ اجتماعی تدافین کی گئیں--بجلی نہ ہونیکی وجہ سے مردہ خانوں میں تعفن پھیل گیا تھا --
کراچی  جو غریب پرور شہر کے طور پر مشہور ہے - جہاں پر تھکے ماندے مزدور، بھکاری  فٹ پاتھوں ، چوراہوں کے بیچ ایک چندر تان کر سو جاتے ہیں ۔۔ہاں وہاں وہ طبقہ بھی ہے جو اپنی بجلی خود بناتا ہے انکے پاس اپنے جنریٹر اور فیڈر ہیں ۔۔
اس شہر میں پانی کی قلت کرواکر ٹینکر مافیا کا راج کروا دیا گیا ہے ۔۔اسمیں میں حکمراں ادارے تک ملوث ہیں ۔۔ بلکہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔۔ 
 ٹی وی پر سندھ اسمبلی کا اجلاس دیکھ رہی تھی ایک ممبر نے استدعا کی کہ شہر کے حالات دیکھتے ہوئے ایک گھنٹے کے لئےائرکنڈیشنر بند کرتے ہیں جسپر خوب لے دے ہوئی لیکن ایر کنڈؑیشنر بند نیں ہوا-- انسان جب عیاشیوں کا عادی ہو جاتا ہے تو اسکے لئے مشکل جھیلنا ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا-- 
پچھلے دنوں بھارت میں گرمی کی وجہ سے ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں ، ہم چین سے تھے تو اس دکھ کا احساس نہیں ہوا لیکن جب یہ بلا اپنے سر آن پہنچی تو اسکی ہلاکت خیزیوں کا اندازہ ہوا--
گرمی پاکستان کے میدانی علاقوں میں ہمیشہ سے آتی ہے --سبی ، جیکب آباد ، ملتان، تھر وغیرہ میں درجہ حرارت 50 سنٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے - تمام پاکستان کے میدانی علاقے گرمی کی لپیٹ میں ہوتے ہیں --کراچی میں گرمی کی شدت رطوبت سے مذید بڑھ جاتی ہے - بارشوں کا وہاں کوئی ٹھکانہ نہیں ہے --جب کبھی بارش ہوتی ہے سال میں ایک آدھ مرتبہ، تو خوب ہوتی ہے سب جل تھل ہو جاتا ہے --اہل کراچی جہاں بارش سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں ہزاروں مہلک اور دیگر چھوٹے موٹے  حادثات بھی ہوتے ہیں اور پورا شہر اتھل پتھل ہو جاتا ہے،سڑکیں چاند کا منظر پیش کرتی ہیں  -- 
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بجلی کا غائب ہونا اسقدر مہلک ہو سکتا ہے؟ بجلی کا غائب ہونا تکلیف دہ اور اذیت ناک ضرور ہے اور فی زمانہ بجلی زندگی کے لوازمات میں سے ہے لیکن مجھے یاد ہے میرے بچپن میں ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں تھی اور شدید گرمی میں رمضان کا مہینہ تھا علی الصبح لوگ اپنے باہر کے کام کرکے فارغ ہوجاتے -- جھالروں والے دستی پنکھے سب کے پاس ہوتے تھے - کسان مزدور درختوں کی چھاؤں میں بان کی چار پایئاں چٹایئاں ڈالکر لیٹ جاتے- زیادہ گرمی کی صورت میں چٹایئوں کو بگھو دیا جاتا تھا - خربوزے اور تربوز پہلے سے قاشیں کرکے پراتوں میں رکھ دیے جاتے ۔ لسی ، گڑکے ، املی ، تخم ملنگا کے شربت-جسکو جو بھی میسر تھا 
  - پانی تو زندگی کے لوازم میں سے ہے بلکہ انسانی جسم کا ستر فیصد پانی ہے تو ٹھنڈے کنوؤں سے پانی حاصل کیا جاتا تھا -مجھے یاد ہے کہ میری والدہ تولیہ بھگو کر سر پر رکھ دیتیں ایک بڑا سا کٹ کا پنکھا کھینچھنے والا بچہ دوپہروں کو خود بھی بے خبر سو جاتا--
پانی کے بغیر جینا محال ہے لیکن بجلی کے بغیر تکلیف اور بے چینی تو بہت ہے لیکن گزارا ہو سکتا ہےاور جیا جا سکتا ہے  ۔۔ آجکل فیسبک پر واپڈا کی طرف سے ایک لطیفہ گردش  کر رہا ہے " روزے جب بھی رکھے جاتے تھے جب بجلی نہیں تھی تو خاموشی سے روزہ رکھو اور زیادہ ٹر ٹر نہ کرو"

ہمارےقریبی گرم ترین خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں جہاں دن میں درجہ حرارت 52ٓ--54 کے درمیان ہوتی ہے۔ رمضان میں تمام تعمیراتی اور مشقتی کام رات کو یا افطاری سے سحری کے وقت تک جاری رہتا ہے --ہاں انکے پاس بجلی کی کوئی قلت نہیں ہے --
کراچی کے نوحوں میں ایک اور مر ثیے کا اضافہ ہوا کہ 1500 افراد کر بلا کی کیفیت سے دو چار ہوئے اور تڑپ ٹرپ کر جانیں دیں -- 
اللہ تبارک و تعالٰی انکو بلند ترین درجات پر فائز کردے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے-


-- 
Sent from Gmail Mobile

Saturday, June 6, 2015

قائد کے ذریں اصول




قائد کے ذریں اصول
اتحاد،ایمان،تنظیم
(Abida Rahmani,
Unity , faith ,discipline

فضائیہ کالونی سے باہر نکلتے ہوۓ اسلام آبادایکسپریس وے پر سامنے بنے ہوۓ ٹیلے پرقائداعظم کی نیون لائٹ سےمرصع ایک کافی بڑی تصویر پر نظر پڑتی ہے اسکے نیچے ایک جانب اردو میں اور دوسری جانب انگریزی میں اتحاد ،ایمان اور تنظیم بھی نظر آتے ہیں۔۔ابھی روشنی تھی اسلیۓ ان پر اندھیرا طاری تھآ لیکن جب  یہ روشن ہوتے ہیں تو خوب جگمگاتے ہیں؟ ہاں غور کا مقام یہ ہے  کہ کیا ہماری زندگی میں ان اصولوں کی چنداں اہمیت بھی ہے؟
اسوقت مجھے خواجہ معین آلدین کا لکھا ہوا تعلیم بالغان کا ڈرامہ شدت سے --یاد آیا جسمیں اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کی درگت بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے-اسوقت عمومی طور پر اگر ہم اپنے ملک اور اسکے حالات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ قائدکے یہ ذریں اصول ہم نے بچپن سے رٹے توضرور تھے اور جا بجا ہمیں لکھے ہوئے بھی نظر آتے ہیں، لیکن انکا ہم نے جانے انجانے میں جو حشر کر دیا ہے کہ اپنے آپ سے بھی شرم آتی ہے-سب سے پہلے اتحاد کو لیجئے کہ ہم من حیث ا لقوم کسقدر متحد ہیں ہم مذہبی۔لسانی، علاقائی، رنگ و نسل ، فرقہ وارانہ اور اقتصادی گروہوں میں بری طرح منقسم ہیں- تقسیم محض تقسیم کی حد تک غیر فطری فعل ہرگز نہیں ہے لیکن ہم تو دوسرے گروہ کو برداشت کرنیکو ہرگز تیارہی نہیں ہیں- پورے ملک میں قتل و غارتگری، دھوکے اور لوٹ مار کا ایک بازار گرم ہے کہیں کس بہانے اور کہیں کس بہانے سے -- روزانہ پورے ملک میں جدال و قتال کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے- خود کش دھماکے ، فرقہ وارانہ کشیدگی،انتقامی کار روائیاں جنکی کوئی حد نہیں کوئی انتہا نہیں ہے- میں تو اسقدر مایوس ہوگئی ہوں یا دوسرے الفاظ میں، میرا قلم اس دہشت گردی اور قتل و غارتگری کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے-دہشت گرد اسقدر منظم اور ظالم ہیں کہ پورے ملک کو تخت و تاراج کرنے پر تلے ہوئے ہیں-جہاں جی چاہتا ہے وہاں آدھمکتے ہیں ۔ملک کے حفاظتی دستے، قانون نافذ کرنے والے ادارے  بسا اوقات بالکل بے بس اور بے دست و پاہ نظر آرہے ہیں- پھر تنظیم اور یقین محکم یا ایمان کا جو حشر ہے کہ خدا کی پناہ -اگر قوت ایمانی ہے تو سادہ لوح اور بے بس عوام میں جو ہر طرح کی صورتحال اور تشدد کے ساتھ جی رہے ہیں اور اس تمام صورتحال کو اپنا مقدر جانکر جینے کی کوشش کر رہے ہیں-
کبھی  کبھی جب کوئی مژدہ جانفزا سننے کو ملتا ہے جیسے کہ کل اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان میٹرو بس کا افتتاح ہوایہ بس اسکا راستہ ، اسکا ٹرمینل دنیا کے جدید ترین مواصلاتی نظام کے تحت بنایا گیا ہے -میں بذات خود اسمیں سفر کروں تو بہتر تبصرہ کر سکونگی --اسکے راستے کی تعمیر کے سلسلے میں مشکلات سے پنڈی اسلام آباد کے رہائشی کافی نالاں تھے اور نواز حکومت پر کافی نکتہ چینی کر تے رہے --میں تو نواز حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی بے حد مداح ہوں ۔اللہ بھلا کرے اس موٹروے کی تعمیر سے کیا مثبت تبدیلی آئی ہے- اس سے پیشتر گوادر سے لیکر خنجراب  تک اقتصادی شاہراہ کی تعمیر انشاءاللہ پاکستان کی ترقی میں ایک نیا باب رقم کریگی- چند تنگ نظر سیاستدان اس پر مؑعترض ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارا پڑوسی ملک بھارت جو چین پاک تعلقات اور پاکستان کی ترقی سے خایف رہتا ہے-- اس سے پہلے ایک ایکسپریس ٹرین کا اسلام آباد تا کراچی افتتاح ہوا باقی تمام سہولتوں کے ساتھ ٹرین پر مفت وائی فائی کی سہولت ہے جو میرے جیسوں کے لئے اشد ضروری ہے-
آجکل پاکستانی کبوتر کی بھارت میں گرفتاری پر سوشل میڈیا میں ایک غلغلہ مچا ہواہے --اس جدید ترین مواصلاتی دور میں کبوتری انحصار دلچسپ تجربہ ہے -شاید کسی دل جلے نے اپنے محبوب کو پیغام بھیجا ہو پہلے تو ہم لفافوں کے اوپر لکھتے تھے ۔۔
چلا چل لفافے کبوتر کی چال
محبت جو ہوگی تو دیگی یا دیگا جواب
اب اس بیچارے کبوتر کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا   یہ تو آنیوالا وقت ہی ؟بتائے گا -
ایسے ماحول میں جہاں آئے دن کی قتل و غارتگری کی خبریں دہلا اور لرزا دیتی ہیں اس قسم کی خبریں آب حیات کا درجہ رکھتی ہیں
ایک کمپنی ایگزیکٹ ، اسکے ٹی وی چینل بول کا بہت بول بولا ہوا - کچھ تفصیلات جانیں تو گھپلوں اور دھاندلیو ں کا کمال ہے خود بھی مالا مال ہوئے اور ہزاروں کو گھر بیٹھے بیٹھے اونچی اونچی ڈگریوں سے مالا مال کیا --یونیورسٹیوں کے وہ اعلے اعلے نام وضع کئے ہیں کہ امریکہ والوں کو بھی خوب جچ رہے ہونگے یا انہوں نے خواب و خیال میں بھی نہ سوچے ہونگے  -وہ تو بھلا ہو نیویارک ٹایمز کا کہ اس گورکھ دھندے سے پردہ اٹھایا -- اب دیکھنا یہ ہے کہ کن پردہ نشینوں کے نام سامنے آتے ہیں  یا بیچارہ شعیب اور اسکے ساتھی سب کے گناہوں کا کفارہ ادا کرینگے -- زیر لب تو بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن باآواز بلند سب خاموش ہیں-ارے ملک کے وہ بلند و بالا جاسوسی ادارے ؟؟  اور پھر ایک ایان علی بھی ہیں جو جیل اور عدالت میں اپنے جلوے دکھارہی ہیں-
اگر پچھلےچند دنوں کا جائیزہ لیں تو کیا کچھ نہیں ہوامستونگ بس حملے  میں 20 سے زیادہ ہلاکتیں ،کراچی کے صفورا گوٹھ میں  اسماعیلیوں کی بس پر حملہ 45  معصوم مرد ،عورتوں اور بچوں کو چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۔ انکا قصور کیا اسماعیلی ہونا تھا ۔۔ بندوق کی گولیاں قصور نہیں د یکھتیں چشم زدن میں جانیں تلف کرتی ہیں جب بھی کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے حکومتی اور انتظامی مشنری حرکت میں آہی جاتی ہے اس سے پہلے کراچی میں سبین محمود کا قتل ایک مشہور شخصیت کا قتل تھا ورنہ کراچی کی قتل گاہ کی بھینٹ آئے دن کوئی نہ کوئی چڑھتا رہتا ہے اور پولیس والوں کا قتل تو روزمرہ کا واقعہ ہے ؐیں تو ان بچاروں کو سڑک پر دیکھتی ہوں تو یہی خیال آتا ہے کہ بیچارہ شام کو گھر حفاظت سے جائے ۔ کریم آغا خان ،اسماعیلی برادری اور پاکستان کے پرامن عوام اس قتل و غارت گری پر سراپا احتجاج بن گئے ۔ چیف آف آرمی اسٹاف ، وزیر اعظم سب کراچی پہنچے پہلا الزام را پر لگایا ایم کیو ایم بھی ملوث کی گئی ( یوں بھی ایم کیو ایم کے کردہ گناہ بے حساب ہیں ) لیکن ۔اب جو گرفتاریاں ہوئی ہیں تو ہوش اڑانے کو کافی ہیں نیک ، پارسا اچھے گھروں کے اعلے تعلیم یافتہ بچے ان جرائم میں ملو ث پائے گئے کیا ملک کا دانشور طبقہ اسکی تحقیقا ت کرنیسے قاصر ہے کہ ان بچوں نے یہ انتہا پسندانہ وحشت ناک اقدامات کیو ں کئے-
انکے اہل خانہ کے لئے یہ صدمہ زندہ درگور کرنیکو کافی ہوگا--

آج اس چوکی پر اتنے اہلکار اور اتنے شدت پسند ہلاک ہوئے" - میں نے خبریں سننی ہی چھوڑ دی ہیں - میں سنوں یا نہ سنوں اس تمام صورتحال میں میری اس مملکت خدادا د میں قاید کے اقوال کی کون پرواہ کرتا ہے جہاں پوری قوم اس میں الجھی ہوئی ہو کہ بجلی آئی، بجلی گئی - میں پچھلے کئی سال سے مسلسل خوشگوار موسم بہار میں آتی ہوں اور اذیت ناک گرمیاں جھیلتی ہوں الحمدللہ کہ اس مرتبہ موسم ابھی تک خوشگوار ہے ،ذراسی گرمی ہویئ ابر آیا برسا اور ٹھنڈک ہوگئ-اللہ سے دعا ہے کہ رمضان المبارک اسی طرح گزرے-

قدرتی گیس سی این جی رفتہ رفتہ بند ہی ہوگئی  کتنون نے اپنی گاڑیوں میں اسکا خصوصی کٹ لگوایا تھا -

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی -

ہم بات کر رہے تھے قائد کے ذرٰیں اصولوں کی-تنظیم، نظم ، ڈسپلن اس لفظ کو رفتہ رفتہ ہم اپنی لغت سے خارج کرتے جارہے ہیں - بھئی یہ اصطلاح تومسلح افواج پر جچتی ہے یا ترقی یافتہ ممالک پر ، ہم تو اس سے مبراء ہیں اور جسقدر بد نظمی اور افرا تفری پھیلا سکیں آخر کو ایک آزاد قوم ہیں - پچھلے ہفتے ایک بڑے ہوٹل میں یوم تکبیر پر پروگرام  اور کھانا تھا - ملک کے جغادری رہنما اور مقرر تھے - بعد میں کھانے پر جو لوٹ مار مچی اور جو افرا تفری اور بدنظمی نظر آئی کہ خدا کی پناہ -
نظم و ضبط کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اور یہ مظاہرہ اکثر و بیشتر نظر آتا ہے - شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں جیسے کہ کئی روز کے فاقہ زدگان کا اجتماع ہو- ایک جگہ مجھے بطور خاص مدعو کیا گیا - تقریب کے اختتام پر میں نماز کی ادائیگی کے لئے کھڑی ہوگئی - واپسی پر خالی چائے کے تھرموس اور پلیٹیں میرا منہ چڑا رہے تھےیہی لوگ مغربی ممالک میں قطار در قطار کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں تو پھر اپنے ملک میں یہ بے صبری اور بد نظمی کیوں؟ اور پھر جسقدر خوراک کا ضیاع ہوتا ہے خدا کی پناہ -
اور ہماری مرضی جس طرح رہیں سب سے پہلے گندگی اور غلاظت ، اپنے گھروں کو صاف کرکے کوڑا باہر پھینکنا یا پھیلانا ،جابجا کوڑا گندگی توڑ پھوڑ،افرا تفری ہمارا قومی شعار ہے- فقیروں اور ہیجڑوں کی فوج ظفرموج ٹولیوں میں بھیک مانگتی نظر آتی ہے معذور اور اپاہج تو ایک جانب صحتمند ، ہاتھ پاؤن سے سلامت پورے پورے خاندان کے ساتھ بھیک مانگ رہے ہیں -یہ کون ہیں کہاں سے آتے ہیں اور ان تمام فلاح معاشرہ کی تنظیموں میں کوئی انکا پرسان حال نہیں ہے
لیکن قاید کے ذریں اصولوں کو شائد ہم کبھی تو سمجھ ہی لیں گے- ابھی تو صرف 68 سال ہونیکو جارہے ہیں--
اے  میرے پیارے وطن پاک وطن پاک وطن اے میرے پیارے وطن









Wednesday, June 3, 2015

Shabbi Baraat the 15th night of Shabaan






Shabi baraat , it's rituals, sunnah and Biddah !


by: Abida Rahmani


Tonight is the night of 15th Shaabaan. This night marks a night of festivity and celebrations in our culture and some of the Muslims all around the world.

Being a small kid, I remember impatiently waiting for this month of Shaabaan. This month marked the month of fireworks for us. We would make a big rag ball, dipped in kerosene oil for days. At night set it on fire and tried our muscles to throw it higher and higher.

Our elders would always participate in this fun. Sometimes this burning ball of rags would make ablaze here and there. Then we would get money from our elders for other fireworks, crackers, tracers, bombs (bums) and the innocent ones phuljarian , the twinkling stars. It was a month of celebrations and fun for us. 

Then after growing up a little bit, we were told to offer at least 100 rakaas of nawafil (nonobligatory prayers) on that night. Our maulvis or scholars were against the fireworks and called it a night of worship and salvation. In our families the ladies would gather and try to offer at least 100 rakaas,. The ladies used to make and distribute special meals among friends and families on that night. it was considered rewarding to be awake whole night and doing ibada.


In Urdu speaking families it was a big ritual of making different kind of halwas. So much toil and efforts were done in the preparations, days before this ritual would start. A variety of Halwas of suji, gram( channa), eggs, dry dates, coconut etc. the kid would distribute the delicacies among neighbors and friends. The scholars or maulvis then asked the ladies not to get tired in those preparations, it is not needed at all.They should preserve their energy for the night of worship, solitude and salvation. They have to fast the next day too.

Then after going through and interacting with more learned and authentic scholars of Islam came to know that even this is not a night of worship and salvation , therefore no extra efforts are required for this night and no fast is authentic according to sunnah for the next day. The Ahadith related   to this night are weak and this celebrated night of power is in the last 10 nights of Ramadan.

Once when I was visiting Egypt. On 14th of Shaabaan in Old Muslim Cairo, saw people buying beautifully made lanterns, sweets and vermicelli. On my query I was told that it is for the celebrations of this night the 15th Shabban.
Next day we were in haram baitullah for Umrah and many of the ladies were fasting.

It is great to practice authentic and pure religion and to simplify life but in this way we are taking all the beauty, fun and festivities from kids And families.

Here I ' m quoting some of the authentic narrations.

In preparation of Ramadan Muhammed (saaw) did fast frequently in the month of Sha’ban, and he recommended not to fast after 15th of Shabaan so that we can have full strength for Ramadan to fast.

There is no evidence of fasting on 15th of Sha'ban as compulsory/recommended ................ one can fast whenever, other than the obligatory fasting of RAMADHAN !

On The night of 15th Sha’ban the preparation for the Shab-e-Baraat festivities is also heating up. Most mainstream Sunni and Shia sects believe this night to be blessed and perform special prayers, keep a fast and distribute food. 

There is only one blessed night mentioned in the Qur’an, which is Laila tul   Qadr. The Qur’an was sent down in this night and it is one of the nights in the last 10 days of Ramadan. However, those who believe that 15th Sha’ban is blessed interpret the verses in Surah Ad-Dukhan to refer to this night rather than the night of Qadr.

 حمٓ (١) وَٱلۡڪِتَـٰبِ ٱلۡمُبِينِ (٢) إِنَّآ أَنزَلۡنَـٰهُ فِى لَيۡلَةٍ۬ مُّبَـٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ By the manifest Book (this Qur'ân) that makes things clear, (2) We sent it (this Qur'ân) down on a blessed night, addukhan 2,3

Many Scholars refer to this Ayah for Shabi Baraat or 15th of Shabaan anstead of Lailatul Qadar and made this night very special.


But is Surah Ad-Dukhan referring to the 15th Sha’ban or to the night of Qadr? The clue is in the reference to the revelation of the Qur’an:


Verily, We have sent it (this Qur’an) down in the night of Al-Qadr (Decree). [Surah Al-Qadr 97:1]
Therein descend the angels and the Ruh [Jibril (Gabril)] by Allah’s Permission with all Decrees. [Surah Al-Qadr 97:4]
The verses quoted above prove that the Qur’an was revealed on the night of Qadr, when Allah’s angels also descend with all Decrees (related to life, death and wealth). We then find the key evidence in Surah Al-Baqara which tells us exactly which month it is:

The month of Ramadan in which was revealed the Qur’an, a guidance for mankind and clear proofs for the guidance and the criterion (between right and wrong). So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Saum (fasts) that month, and whoever is ill or on a journey, the same number [of days which one did not observe Saum (fasts) must be made up] from other days. Allah intends for you ease, and He does not want to make things difficult for you. (He wants that you) must complete the same number (of days), and that you must magnify Allah [i.e. to say Takbir (Allahu Akbar; Allah is the Most Great] for having guided you so that you may be grateful to Him. [Surah Al-Baqara 2:185] [Emphasis added]

We can then conclude that the only night of blessing referred to in the Qur’an is the night of Qadr. There is no reference whatsoever to a Shab-e-Barat (or the night of 15th Sha’ban) as a blessed night.

The practices and beliefs associated with this night are a strange mish-mash of information found in the Qur’an and Sahih Hadith. Of the many things associated with this, it is said that Prophet Muhammad (SAW) visited a graveyard on the night of 15th Sha’ban. He prayed for the forgiveness of those who died as believers and were buried in Al-Baqi). Based on this hadith, Muslims have now created a ritual whereby they visit graveyards on this night every year. This 15 Sha’ban hadith is found in Tirmidhi. There is jirah (criticism) on this hadith and Tirmidhi himself acknowledged that the reference to 15th Sha’ban was based on a single report (this means that the hadith is classed as weak and is unreliable).

Crucially, we find authentic reports of this incident in Sahih Muslim (Sahih Muslim, Book #004, and Hadith #2127). There is no mention at all of Sha’ban, or of any other month when this incident happened. In fact, the Prophet (SAW) explained that he was ordered by angel Gabriel (AS) to pray for the forgiveness of the inhabitants of Al-Baqi. This is an isolated incident, in the sense that the Prophet (SAW) did not repeat this practice as a matter of routine. What we do learn from this hadith is a prayer for forgiveness for those who died as believers but we find no mention of a particular date, so we do not know which night it was.

Despite this, the 15 Sha’ban myths has gained acceptance and Muslims have started to visit graveyards on the 15th Sha’ban every year; this is a ritual that can only be classed as a Bidd’ah. Rather than sending a prayer for forgiveness regularly, what they have started to do instead is to congregate in graveyards, put flowers and kewra (fragrance) on graves and say Salat un Tasbeeh prayers all night. It is worth pointing out that Salat un Tasbeeh itself is an innovated prayer not proven from Prophet (SAW). And while some spend this night saying prayers, others light up fireworks and sparklers. As we do not tire of repeating, Bidd’ah tend to grow into more Bidd’ah very quickly and what we see is that one innovated festival makes room for many more.

It is also believed by these sects that reports of actions or deeds are taken to Allah on this night and this is why one should fast on the day. What we find in Sahih Hadith is that all matters are taken to Allah on Monday and Thursday every week, which is why Prophet (SAW) used to fast on these days. (Sahih Muslim, Book #006, Hadith #2603)

Abu Huraim reported Allah’s Messenger (may peace be upon him) as saying, “The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancor against his brother and it would be said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation. (Sahih Muslim, Book #032, Hadith #6224)

It is also believed that Allah’s decisions regarding matters of life, death and wealth are revealed to angels on 15 Sha’ban. This view contradicts the Qur’an, where we are told clearly that all such Decrees are brought by angels on the night of Qadr, which is a night in Ramadan.

We can conclude that:

There is only one blessed night, the night of Qadr, mentioned in the Qur’an. The Prophet (SAW) recommended nafl Ibadah in the last 10 nights of Ramadan, one of which may be the night of Qadr. This is the night when the Qur’an was revealed and when angels bring Allah’s Decrees.

The Prophet (SAW) visited the graveyard of Al-Baqi one night and said a prayer for those who died as believers. There are no authentic reports which tell us exactly which night this was.


Here is  the Hadith:

Muhammad b. Qais said (to the people): Should I not narrate to you (a hadith of the Holy Prophet) on my authority and on the authority of my mother? We thought that he meant the mother who had given him birth. He (Muhammad b. Qais) then reported that it was ‘A’isha who had narrated this: Should I not narrate to you about myself and about the Messenger of Allah (may peace be upon him)? We said: Yes. She said: When it was my turn for Allah’s Messenger (may peace be upon him) to spend the night with me, he turned his side, put on his mantle and took off his shoes and placed them near his feet, and spread the corner of his shawl on his bed and then lay down till he thought that I had gone to sleep. He took hold of his mantle slowly and put on the shoes slowly, and opened the door and went out and then closed it lightly. I covered my head, put on my veil and tightened my waist wrapper, and then went out following his steps till he reached Baqi’. He stood there and he stood for a long time. He then lifted his hands three times, and then returned and I also returned. He hastened his steps and I also hastened my steps. He ran and I too ran. He came (to the house) and I also came (to the house). I, however, preceded him and I entered (the house), and as I lay down in the bed, he (the Holy Prophet) entered the (house), and said: Why is it, O ‘A’isha, that you are out of breath? I said: There is nothing. He said: Tell me or the Subtle and the Aware would inform me. I said: Messenger of Allah, may my father and mother be ransom for you, and then I told him (the whole story). He said: Was it the darkness (of your shadow) that I saw in front of me? She said: Whatsoever the people conceal, Allah will know it. He said: Gabriel came to me when you saw me.. He (gabriel) said: Your Lord has commanded you to go to the inhabitants of Baqi’ (to those lying in the graves) and beg pardon for them. I said: Messenger of Allah, how should I pray for them (How should I beg forgiveness for them)? He said: Say, Peace be upon the inhabitants of this city (graveyard) from among the Believers and the Muslims, and may Allah have mercy on those who have gone ahead of us, and those who come later on, and we shall, God willing, join you. this night was the 15th of Shaabaan.

 



عابدہ

Abida Rahmani