Saturday, October 18, 2014

دل کی بیماریاں

دل کی بیماریاں از عابدہ رحمانی

آج کل کے زمانے میں جب کہ ہر طرف دل کی بیماریوں کا تذکرہ ہے اوراس کے علاج معالجے میں نت نئی تحقیقات ہو رہی ہیں آئیے۔
ہم یہ دیکھیں کہ دینی اصطلاح میں دل کن بیماریوں میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ حضوراکرمﷺ کا ارشا دہے۔ ’’آگاہ ہو جاؤ کہ سینے میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب یہ تندرست ہو تو تمام بدن تندرست رہتا ہے اور اگر اس میں خرابی و فساد پیدا ہو جائے تو سارے جسم میں خرابی و فساد پیدا ہو جاتا ہے۔
دل کی بیماریوں سے مراد تکبر، ریا، غصہ، بغض، حسد، کینہ، منافقت یہ  بیماریاںانسانی اخلاق و کردار کو گھن کی طرح کھا جاتی ہیں۔
اَبیٰ وَ ستکَبرَ
(1 غرور و تکبر ابلیس کی سرشت ہے۔ اس نے ان کار کیا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔ غرور کا مطلب دھوکا، تکبر کا برائی، تفاخر جتانا اور دوسروں کو حقیر جاننا۔
(2 ابلیس کے تکبر کی بنیاد یہ کہ وہ آگ سے اور آدم مٹی سے ہیں۔
(3 تکبر اور کبریائی صرف اللہ کے لیے ہے ہم کہتے ہیں اللہ اکبر۔
(4 تکبر کن باتوں پر(الف)حسب و نسب(ب) مال و دولت و اولاد کے لحاظ سے (ج) خوشحالی کے لحاظ سے (د) خوش شکلی کے لحاظ سے (ر) تقویٰ دینداری و علم یہ تمام عطیہ خداوندی ہیں اور اس ذات کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔
(5 حسب ، نسب، مرتبہ۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے اِنَّ اَکرَمَکُم عنداللہِ اَتقاکُم۔
(6 مال و دولت اور اولاد کے لیے قرآن میں ارشاد ہے۔
اَلمالُ و البُنُون زینتَ الحیوٰۃ الدین و الباقیات الصالحات خیر عِندَربک ثَواباًو خیرامَلَا۔
مال اور اولاد دنیا کی رونق ہیں۔ باقی رہنے والے تو نیک اعمال ہیں۔ وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب اور امید کے لحاظ سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔
(6 دنیا کی زندگی کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہے۔
وما الحیٰوۃ الدنیا اَلاَّ متاع الغرورْ
دنیا کی زندگی دھوکے کے سرمائے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
(7 غرور کے معنی دھوکے کے ہیں اور اس طرح ہم اپنی برائی جتلا کر دوسروں کو حقیر جان کر اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کرتے ہیں۔اللہ جب چاہے تو یہ سارے عطیے ہم سے چھین سکتا ہے۔ وہی عزت دینے والا ہے، وہی ذلت دینے والا ہے، وتعزمن تشاء وتُذِلُ مَن تشاء۔
(8 شکل وصورت بھی اللہ کی عطا کردہ ہے اس نے کسی کا رنگ گورا بنایا تو کسی کا کالا، کوئی پیلا ہے تو کوئی بھورا، کسی کا ناک نقشہ کیسا ہے اور کوئی کیسا، کسی کو جسمانی معذوری دی ہے اور کوئی ذہنی معذور ہے۔ اپنے حسن پر ناز کرنا بھی غرور وتکبر کی نشانی ہے۔ حجتہ الوداع کے خطبے میں حضورﷺ کا ارشاد ہے کسی عربی کو عجمی پرعربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی ، گورے کو کالے پر اورکالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اگر فضیلت ہے تو تقویٰ کی بنیاد پر۔
(9 دینداری پر غرور۔ اب جو لوگ اپنی زندگیوں میں نیک اور عمل صالح کر رہے ہیں وہ اس بناء پر غرور کے پندار میں مبتلا ہو جائیں کہ ہم تو نیک ہیں اچھے ہیں باقی لوگ بے حد خراب ہیں اور اس بناء پر دوسروں کو کم تر و حقیر جانیں یہ طریقہ بھی اللہ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ حضوراکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ نہ تو میرا عمل مجھے جنت میں لے جائے گا اور جہنم سے بچا سکے گا اورنہ تمہارا مگر اللہ کے فضل و کرم سے۔ اس لیے اللہ کا خوف اور اس سے امید رکھنی چاہیے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا جس کے دل میں رائی برابر بھی غرور ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گ
غصہ:-
دل کی بیماریوں میں غصہ کی حیثیت کافی اہم ہے۔ روحانی لحاظ کے علاوہ طبی لحاظ سے بھی غصہ ہماری صحت اورخصوصاً صحت قلب کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جو صفات بیان کی ہیں ان میں یہ اہم ہے ۔ والکاظمین الغیض۔ اور جو غصے کو پی جاتے ہیں۔
غصے کے عالم میں انسان اپنے آپے سے باہر ہو جاتا ہے اس لیے حضورﷺکی حدیث ہے کہ کسی شخص کو پچھاڑنے سے آدمی پہلوان نہیں ہوتا بہادر وہ ہے جو غصے میں اپنے نفس کو پچھاڑ دے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺکی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے نصیحت کیجیے۔
آپﷺ نے فرمایا کہ غصہ نہ کیا کرو ۔آپ ﷺ سے اس نے پھر پوچھا تو آپﷺ نے یہی جواب دیا۔
غصے کے عالم میں انسان کو اپنی زبان پر اختیار نہیں رہتا۔ گالی گلوچ، بدزبانی، لعن طعن حتیٰ کہ مارپیٹ کی نوبت آجاتی ہے۔ جیسا کہ آج کل ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں کہ غصے کی حالت میں مسلمان بھائی آپس میں دست و گریباں ہیں بات بے بات اسلحہ کا استعمال ہوتا ہے اور معمولی معمولی باتوں پر قتل و غارت گری ہو رہی ہے۔ روزانہ اخبارات اس قسم کی خبروں سے بھرے رہتے ہیں پھر غصے کے عالم میں انتقامی کارروائیاں ہوتی ہیں جس سے انسان حیوان کا روپ دھار لیتا ہے۔
البتہ خلاف شرع باتوں پر ناجائز افعال پر اور دین کی ہتک پر غصہ اور ناگواری لازم ہے۔ غصے کو اپنے تابع کرنے کے بعد ایسا کر دیا جیسا کہ شکاری کتا ہوتا ہے کہ جب مالک کہے تو وہ اپنے شکار کے پیچھے بھاگے اورحملہ کرے ورنہ خاموش بیٹھا رہے۔غصہ برداشت کرنے کی ایسی ترکیب ہونی چاہیے کہ نفس کی باگ قابو میں ہو۔ حلم و برداشت کی عادت ہواپنے _____ کی نافرمانی پر غصہ۔۔۔پھر جس کی کسی بات پر غصہ آ جائے تو یہ سوچا جائے کہ میرا اس پر کیا حق ہے اور اللہ کا مجھ پر کیا حق ہے پھر یہ کہ میں اس کا مالک نہیں، خالق نہیں، اس کورزق نہیں دیتا، اس کی زندگی اللہ کی عطا کردہ ہے۔ پھر یہ کہ میں خود اپنے مالک حقیقی کی کتنی نافرمانیاں کرتا ہوں، بیسیوں خطائیں مجھ سے سرزد ہوتی ہیں جب وہ سب برداشت کرتا ہے تو میری یہ حالت کیوں ہے کہ ذرا سی بات مزاج کے خلاف ہو تو میں اس کی جان کے درپے ہو جاتا ہوں پھر جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت سلیمان بن اوس ۔۔۔بیان کرتے ہیں کہ میں رسول ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ دو آدمی باہم گالی گلوچ کرنے لگے ان میں سے ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا گلے کی رگیں تَن گئیں تو رسولﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے اگر یہ شخص اسے کہ لے تو اس کی یہ حالت جاتی رہے۔ اعوذباللہ من الشیطن الرجیم۔
اس پر صحابہ نے اسے کہا کہ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ لے تو وہ کہنے لگا"کیامجھے جنون ہو گیا ہے؟"
اس لیے جب غصہ بہت آئے تو اعوذباللہ پڑھ لینا چاہیے کیونکہ غصہ شیطانی اثر ہے۔شیطان کے شر سے جب پناہ مانگی جائے تو اثر زائل ہو جاتا ہے۔
دوسری حدیث میں رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تمہیں کھڑا ہونے کی حالت میں غصہ آئے تو بیٹھ جاؤ، اور بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ اور اس سے بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہو تو وضو کر کے اپنا گال زمین پر رکھ دو۔ حدیث میں آیا ہے ’’اللہ کے نزدیک سب سے بہتر گھونٹ جو مسلمان پیتا ہے غصے کا گھونٹ ہے۔‘‘
رسولﷺ فرماتے ہیں کہ جس مسلمان کو اپنی بیوی، بچوں یا ایسے لوگوں پر غصہ آیا جن پر اپنا غصہ جاری رکھ سکتا ہے اور وہ اس کو ضبط کر لے یا تحمل سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اس کا قلب امن و ایمان سے لبریز فرما دے گا۔
بدگمانی:-
دلوں میں فساد ڈالنے کا ایک بڑا سبب بدگمانی بھی ہے۔ بدگمانی یہ کہ بغیر کسی ثبوت اور مضبوط بنیاد کے دوسروں کے بارے میں بدگمانی کی جائے کہ اس نے یوں کیا ہو گا تو اس کا یہ مطلب ہو گا۔ بہت سے جھگڑے فساد محض غلط فہمی اور بدگمانی کی بناء پر ہوت ہیں۔ آج کل انگریزی میں اس قسم کے شخص کو جو ہر ایک سے برا گمان رکھتا ہو اور ہر ایک کو اپنا دشمن سمجھتا ہو۔ Paranoidکہا جاتا ہے اور یہ ایک نفسیاتی بیماری بھی کہلاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ بچو بدگمانی سے کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ اور کرید نہ کیا کرو اور ٹوہ میں نہ رہا کرو اور باہم ایک دوسرے سے دشمنی نہ رکھا کرو اور کوئی شخص بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔
ام المومنین حضرت صفیہؓ بیان کرتے ہیں کہ رمضان کے آخری عشرے میں جب حضوؐر مسجد نبوی میں معتکف تھے تو وہ آپﷺ سے ملنے آئیں جب وہ واپس جانے لگیں تو رسول ﷺ بھی آپ کوچھوڑنے کے لیے اٹھے۔ اسی دوران میں انصار میں سے دو مرد گزرے انہوں نے رسولﷺ کو سلام کیا۔
نبی کریمﷺ نے ان سے کہا" یہ میری بیوی صفیہ ہیں۔"

ا

Thursday, October 2, 2014

Hajj2009





Hajj 2009

Nov 25th 8th Zilhajj


We arrived at Mina from Azizia (Makaah ) today. It was altogether  changed than the hajj that we performed in 1983. Lots of improvements have been done here.Tent is big enough to accommodate all three groups of us. Ladies in one tent and gents in the other one. We arrived here by bus after 12pm. The sky in Makaah was over cast since morning, a significant scene to watch.(After arrival in Makaah Namaz-i- istisqa was offered in Haram because of drought situation).Therefore every one was waiting for rain. With Allah 's blessings There was a big thunderstorm and it rained heavily . Our tent was leaking a bit from corners. We turned our umbrellas upside down to prevent leakage and put the empty blankets plastic bags to save our beds. The streets of Mina got flooded in a while. It is a common concept that if it rained on hajis, their hajj is accepted. May it be like this Allah is the most merciful. It rained for at least 3-4 hours with light drizzle for the whole day.

To watch the tented city was an amazing, amusing sight. These tents are now especially designed of fireproof material and any type of cooking stove or fire hazards are banned in Mina now. The food arrives from caterers. The arrangement inside were fantastic and luxurious. Thick foam mattresses which could be folded in a couch seat, brand new blankets ,mbrand new pillows and sheets. Tent had a special air conditioning system and these tents are fireproof. The food was quite festive with lots of dishes of Arabic and Mediterranean cuisine.

Wondered if our organizers had provided us a part of this during our earlier stay, when we ran after arranging our food and meals. In fact the arrangements in Mina were a lot better than my expectations. Over all the arrangements were lot more better than 26 years earlier. Mina had paved streets in the middle of tents. Bathrooms had shower facilities too over the commodes. Which some of the ladies resisted earlier but ultimately had the shower. There is no proper sewerage system, all the toilets are set up on an open drain, that is why one can smell a lot of stink . Every toilet had a water pipe or hose. However some of the toilets got messed up soon and the back up cleaning system was a total failure. There were clear signs for men &Women  with الرجال النساء signs ,but still the people did not follow.


A bazaar was set up on the side of the main road and lot of vendors were selling off nice stuff.

Our region of tents were assigned to Hajjis from North America, Europe, Australia and Turkey. In other words those were hajjis of the developed world. There was a mic connection to our tent from men's tent and we could listen to all the announcements, tazkirs and prayed together.

For food mostly the ladies first was the motto. We were side by side. Soon we got befriended to our tent mates, some of whom we already knew .


Nov 26th 9th Zilhajj Yaumi Arafaa


It is the day of Arafat the main pillar of Hajj and we have to leave for Arafaat as soon as possible. It was 9 am that we proceeded through big buses for Arafaat, Saudi Government has restricted movement through big buses and the roads are wide open, Therefore it was a good flow of traffic and did not notice any traffic jam. We took our lunch boxes along, which more of snacks mostly white creamy sweat stuff. The carpets in the tents were a bit wet with yesterday rains. Every where hajis could be seen reciting talbiyah Labaika Allahumma Labaik Labiaka la sharika laka labaik innal hamda wa naimata laka wal mulk la sharika lak ( O Allah I am present at your service and there is no one equal you, all the praise and glory is for you, you are the king and there is no one equal you) The media and surveillance helicopters were howling over head. We were given nice polao in lunch.

We prayed and prayed to Allah (swt) for our forgiveness, forgiveness of our departed loved ones and my intention of doing this hajj for my beloved son. Begged for his mercy and blessings for my self, for the departed loved ones , for whole umma and especially for my kids, grand kids, brothers, sister & all the gracious people who did Ehsaan with me.Prayed while standing in the later day. Most of us went out and prayed ,cried and begged to Allah(swt) for his mercy ,blessings ,forgiveness and for the strength of Umma . Here I could see a sea of Muslims all around. Men in white ahraams ,ladies in different colors. "O Allah we are so many in numbers but we do not have any weight any strength, any power. Give us strength give us supremacy, grant us with wisdom and good judgment." Ameen


The pathetic part is that we all are God fearing, God loving people but extremely disorganized and undisciplined. By the end of the day the whole area was just littered up with garbage, water gushing from broken pipes in the toilets which were unbearable. O Allah give them strength ,unity and discipline.Although the conditions are a lot more better than 26 years back but still more improvement is required.

Muzdalifa

At 9pm we started for Muzdalifa and I was again back on my memory lane of the last hajj, when it took us almost 5 hours to reach there by 24 seater coaster. It was so suffocating with running engines and traffic jam that I cried a lot like a small kid and Ahad (my Late husband)was comforting me.It was the toughest time in that hajj. But now we reached so quickly . The whole area was fully bright and well lit like day. Whole of the big ground covered with hajis, we were supposed to find our place in between. We had only our valuables and sleeping bags.


Following the sunnah of Prophet (SAWS) there was one azaan and two aqamaaz for Maghrib and Isha prayers. Which were Qasr( shortened prayers).we spread out sleeping bags and tried to sleep which was extremely difficult. It was like if we were fixed in a match box, just neck to feet with each other. All the hajis were sleeping like this with so much humility on this hard ground just for the pleasure of Allah( SWT) to be successful; in the eternal life to fulfill the fifth pillar of Islam. Hajj is a tradition of Ibrahim(AS) followed by Mohammad (SAWS) and obligatory for those Muslims who can afford. Our muallim sheikh Abu Abdussalaam described Muzdalifa as a thousand star hotel, which is absolutely correct.I was trying to avoid the feet of the men sleeping to my head side.

I tried to sleep which was extremely difficult, the lady next to me was snoring a lot.Despite that slept for a couple of hours. At 2:15 am got up and went to toilet. It was absolutely busy and a very long line,It almost took one hour .Did tahjjud and then fajr did some tilawat and talbiya and started waiting for bus to come back to Mina. Got the bus at 8:30 am and arrived back at Mina to our tent which was like coming back home. While leaving Muzdalifa the whole ground was littered with sleeping bags, mats , pillows and carpets. A lot of needy people were collecting those. We brought our ones back.

Nov27th 10th Zilhajj Eid day


After getting back , had a bath and changed, now we were out of Ihraam and most of the restrictions were gone. It was announced earlier that our sacrifices Qurbanis have been done. We greeted each other Eid- Mubarak. the ladies got busy in threading, nail cutting and make ups.Received calls from sons , family members and brothers Alhamdolillah. It rained again today. 

Then we started to leave for jamaraat for Rammi ( stoning the symbol pillars of Shaitan)I put on my joggers, it was a long walk but thoroughly enjoyable. The way to Jamarrat is specially designed ,what an amazing rout and complex!! Saudi Govt has spend a lot of money and expertise in designing this complex. We went through three big tunnels equipped with big blowers , lots of plastic bottles sucked up to it.

The flow of people was like a flooding sea on wide roads reciting Talbiyah and getting to encounter the symbols of shaitan. That Shaitan who came in the way of Ibrahim (AS) to stop him from sacrificing his son Ismail by the orders of Allah(swT). Ibrahim threw pebbles on Shaitan while proceeding on his way. His act was so much appreciated by almighty that he made it a ritual of Hajj till the day of judgment. I was over whelmed with this gigantic flow of hajis. They were of different colors, creeds and nationalities. Most of the groups were greatly organized and distinguished with their coats, hats ,ribbons .caps,shoes, trousers, skirts,scarfs etc.

Most of those were Malaysians ,Indonesians, Chinese, Turkish and from other countries.


During my last hajj we were not allowed to go for Rami because of the great rush and accidents . We were asked to give our stones or pebbles to our Mehrams. Therefore no one in ladies from our camp went. I was sick too down with flue and it was always on my mind because some of the scholars in Pakistan said that it is a compulsory act. When Ahad, Jamshed bhai and Nadeem got back from Rami there feet were badly hurt and chappals missing. This time we were wearing our regular shoes or joggers because the sheikh told us that women can wear any type of shoes and the men wore strong sandals too .The men were not out of Ihraam as yet because they had to shave.I was greatly excited this time and thanked Allah for granting me this opportunity again.

This was a huge complex, Jamarrat were erected as in the shape of wide pillars going through

many stories and all the precautions were taken to avoid accidents. It was a very smooth flow. Hajis coming in groups and moving towards other Jamra. The pebbles we collected from Muzdalifa in the size of a chick pea and we were supposed to throw seven on each jamrah saying bismillahi Allahu akbar. After completing this ritual we were on our way back and stopped under a bridge on the road. There men went for shaving their heads or haircut, we did a little bit with our scissors and each other's help.

Many hajis had spread out their mats, sitting and sipping tea. We accommodate ourselves with them, later on we offered maghrib prayers .Saw a few Pakistanis from Punjab looking for some lost relatives. We tried to help them out. On our way to Jamaraat we recited Talbiyah, now on our way back we have to recite Takbeer. All the intention for glorifying the greatness of Allah(swt). We did the same on 11th Zilhajj. Some of our people went on their own to do Tawafi- Ziarat which is like an Umra doing Tawaf and Sae in Haram. This is the end part of Hajj. For the rest of us the Sheikh assured us that we can do it later without any penalty. ThiCheck Spellings Tawaf is a must for a married couple, with out that they can not relate to each other physically.

Nov 29th 12th zilhaj

Today we again went for Rammi, this time our sheikh guided us all the way up on escalators. I've gone up and down long escalators in different amusement parks and buildings but this was a unique experience. Going all the way up to hit Shaitan. we went through 4 sets of high escalators. After hitting shaitan we went all around the roof to have a glimpse of Mina the tented city for Hajis. There were a series of tents up in the hills and those were VIP tents.

Nov30th 13th Zilhajj

Today we were leaving Mina and after Rammi were heading to Haram for tawafi ziarat and then to Azizia. We did our packing, rolled up our blankets, sheets and pillows and started waiting for bus. This was the last day for all hajis at Mina. We had to take a long way for bus. The streets were just littered with all kind of garbage, a lot of food stuff was thrown out too.

We did rammi and came back to bus which dropped us at the inside door of haram. It wasMaghrib time, offered prayers on stairs and then went for Tawaf . Some of it did upstairs on the top floor, then on the second floor . After doing Saee went in search of food to Burjul Bait where we were supposed to meet other companions and then ride in bus.

Zubair wanted to eat in Hardies an American franchise. It was nice burger and because it was Halaal. We had some tea and roamed in the area. An upscale mall and food court of course.

Around 12:30 am we sat on the bus and came back to Azizia.

Alhamdolillah our Hajj was over and in a couple of days we were leaving for Toronto.



عابدہ

Abida Rahmani




-- 
Sent from Gmail Mobile

Saturday, September 20, 2014

صبح نو کا آغاز

صبح نو کا آغاز

عابدہ رحمانی

علی الصبح میری کھڑکی کے باہر ایک پرندے کی سریلی مدھر آواز فجر کے وقت میرے کانوں میں رس گھولتی ہے یوں لگتا ہے اسکی  یہ مدھر چہچہاہٹ ، یہ نغمگی میرے لئے فجر کی نماز کا آلارم ہے-
- وہ پرندہ کیسا ہے اسکی شکل کیسی ہے اسکا نام کیا ہے اس خطہ ارض کے بیشتر پرندوں کے ناموں سے میں ناواقف ہوں -مجھے یقین ہے کہ ا پنی آواز کی طرح وہ پرندہ بھی یقینا خوبصورت ہوگا-میں نے ایک دو مرتبہ جھانک کر اسے دیکھنے کی کوشش کی لیکن مجھے دکھائی نہ دیا پو پھٹتے ہی وہ اڑ چکا ہوتا ہے ہمارے اسلامی عقائد کے مطابق تمام چرند پرند علی الصبح اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں --سبحان اللہ !
 اسی کھڑکی سے اکثر رات کو سکنک skunk کی تیز بدبو میری نیند میں بری طرح مخل ہوتی ہے - اب موسم اتنا اچھا ہو تو جی چاہتا ہے کہ کھڑکی سے تازہ خنک ہوا آئے لیکن اسی کے ساتھ یہ بدبو اور پھریہ مدھر سریلی آواز-- اب آپ کہینگے کہ یہ سکنک کیا ہے ؟ میں یہاں اکثر جب رات کو نکلتی تھی تو ایک عجیب طرح کی بدبو سے اکثر واسطہ پڑتا تھا -ایک مرتبہ میں نے  پوچھ ہی لیا کہ یہاں کے پودوں سے رات کو بدبو کیوں آتی ہے ؟ جسپر معلوم ہوا کہ یہ سکنک کے اسپرے کی بدبو ہے - یہ جانور دیکھنے میں کافی خوبصورت ہے کالا اور سفید دھاریوں والا، لیکن قدرت نے اسے اپنے بچاؤ کیلیے ایک بدبودار مادے کی سپرے سے لیس کیا ہے --اور یہ بدبودار مادہ اگر کسی کو چھو جائے تو اسکو ٹماٹر کیچپ ملکر غسل کرنا پڑتا ہے ورنہ بدبو جاتی ہی نہیں-ہر خطے کے اپنے طور طریقے ہیں- ابھی کل ہی خبروں میں آیا کہ ریکون rakoon کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے-- معصوم سے چہرے گول گول آنکھوں والا یہ جانور ایک کوڑا خور جانور ہے آبادی کے اندر پورا خاندان ٹولیوں کی شکل میں گھومتا ہے-بعض اوقات تو گھروں کے اندر ہی کوئی کونا کدرا ڈھونڈھ کر ٹھکانہ بنا لیتا ہے -عموما یہ رات کو نکلنے والے جانور ہیں لیکن دن میں بھی اکثر نظر آئے -ایک مرتبہ میں نے بڑے چاؤ سے سبزیاں کاشت کیں جب ٹماٹر ، گوبھی ، بروکلی اور بھٹے تیار ہونے لگے تو ریکون کوخبر ملی اور انہوں نے اسکی خوب خبر لی - آدھی کھائی ہوئی سبزیاں میرا منہ چڑھا رہی تھی-- کینیڈا میں کوڑے کا تھیلا سسٹم ریکون کے لئے دلچسپی کا باعث ہوتا ہےاسلئے لوگ تھیلوں کے اوپر ایک مخصوص دوائی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں تاکہ ریکون انسے چھیڑ چھاڑ نہ کر سکیں-
یہاں کے یہ چرند، پرندے اس موسم کے یعنی موسم گرما کے منتظر ہوتے ہیں مارچ کے آخر یا اپریل میں برف پگھلی، زمین سے سبزے، زیر زمین گانٹھوں سے پھوٹنے والے مختلف رنگوں کے پھولوں نے رنگ اور سر نکالنا شروع کیا --درختوں پر کونپلیں پھوٹنے لگیںتو بہار ایک انگڑائی لیکر بیدار ہوئی اور اسی طرح کینیڈا اور شمال کی جانب امریکہ کی ریاستوں کی عوام اور خلقت موٹے موٹے جیکٹوں ، اوور کوٹوں ، برف کے بوٹوں کو الماریوں کے اندر بند کرتی ہوئی ہلکے سویٹروں ، جیکٹوں، سنیڈلوں اور چپلوں سے لیس ہوگئی- اور گرمی کی شدت کی منتظر ھوئی - ٰیہاں کی عوام کو گرم موسم اور ہلکے لباس کا شدت سے انتظار ہوتا ہے اور ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہلکے پھلکے لباس سے مراد پاکستان کی ڈیزاینر لان کے سوٹ ہر گز نہیں ہیں --انسانوں کی طرح یہ تمام جانور بھی تازہ دم ہوجاتے ہیں اور اپنی گرمیاںبھر پور طریقے سے گزارتے ہیں- بھاگتی دوڑتی گلہریاں اور  پھدکتے ہوئے خرگوش اس منظر میں مزید رنگ بھر دیتے ہیں --
اڑنے والے بیشتر پرندے مرغابیاں اور بطخیں معتدل موسم کے ساتھ گھروں کو واپس لوٹتے ہیں -گھونسلے بناتے ہیں اور انڈوں بچوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے - انمیں کینیڈین بطخیں پیش پیش ہیں موسم کے ساتھ اڑان بھرنی والی یہ بھاری بھر کم بطخیں ایک نظم و نسق کے تحت اڑان بھرتی ہیں - ایک بطخ انکی رہنمائی کرتی ہے اور پوری ٹولی وی V کی فارمیشن بناتے ہوئے اڑتی ہیں -- جنگی جہازوں نے اپنی اڑاں کی ایک فارمیشن میں انکی نقل کی ہے -رہنمائی کرنیوالی بطخ تھک کر پیچھے کی طرف آجاتی ہے اور دوسری بطخ اسکی جگہ لے لیتی ہے- امریکہ والے سرحد پار کی ان مہمان بطخوں سے کافی نالاں ہیں کیونکہ جھیلوں تالابوں میں یہ چھوٹی بطخوں اور مر غابیوں کو خوفزدہ کر دیتی ہیں-- انمیں سے اکثر تو قرب و جوار میں وہیں بس گئی ہیں اب انکو سرحدوں کا پابند کون کرے نہ انکو ویزے نہ پاسپورٹ کی ضرورت؟-جبکہ معمر شہریوں کی تنظیم بھی عرف عام میں برفانوی پرندے، سنو برڈزsnow birds کہلاتے ہیں اور سخت سردیاں گزارنے جنوب کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور نسبتا گرم علاقوں کے متلاشی ہوتے ہیں -امریکہ کی معتدل ریاستیں ان مہمانوں کا گرمجوشی سے استقبال کرتی ہیں - گرم موسم کی آمد کے ساتھ یہ اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں -
امریکی سرحد سے متصل کینیڈین علاقے نسبتا گرم علاقے ہیں -شمال کی طرف جاتے ہوئےکینیڈا ٹھنڈا اور مزید ٹھنڈا بلکہ یخ بستہ ہے اور یہ سلسلہ بحر منجمد شمالی تک چلا جاتا ہے-
15،20 جون سے یہاں گرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے سخت سردی اور برفانی موسم سے بے حال قوم کو اس موسم کا شدت سے انتظار ہوتا ہے - باقاعدہ گرمیوں کی مبارکبادیں دی جاتی ہیں -اور اس موسم کو بھرپور طریقے سے گزارنے کی کوششیں ہوتی ہیں -- سیر و تفریح ، مختلف پریڈ ، بھاگنا ، دوڑنا ، سائیکلوں کی ریس ،میراتھن ریس، پیراکی ، کشتی رانی ، باربیکیو، پکنک، ساحلوں پر غسل آفتابی،کیمپنگ غرض یہ کہ اس موسم سے لطف اندوز ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی-تعلیمی اداروں کی گرمیوں کی چھٹیا ں ہو چکی ہوتی ہیں اور یوں مختلف پروگرام بنانے میں مزید آسانی ہوتی ہے - دن کا دورانیہ کافی بڑھ چکا ہوتا ہے- ہر کوئی بساط بھر گرمیوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے -
گرمیوں کا یہ موسم اب جانے کی تیاری کر رہا ہے -اکثر درختوں کی چوٹی پر پتے رنگ بدلنے لگے دن کا دورانیہ گھٹنے لگا ہے --ستمبر کے پہلے ہفتے میں تمام تعلیمی ادارے کھل جاینگے--نیا تعلیمی سال شروع ہوجائے گاستمبر کے آخر تک درختوں کے پتےپیلے ، بھورے ،قرمزی سرخ خوبصورت رنگوں میں ڈھل کر گرنے کی تیاری میں لگ جاتے ہیں --کیا حسین منظر ہوتا ہے گھنے درختوں میں کیا خوبصورت رنگ بکھر جاتے ہیں سبحان اللہ -- قادرمطلق کی اس صناعی کے کیا کہنے !-- لیکن ابھی گرمیاں باقی ہیں -- پرندے کی نغمگی ، سکنک کی بدبو ،گلہریوں کی اچھل کود، گرج چمک بارشیں ، نمی اور رطوبت ،زندگی کی ایک نئی صبح کا آغاز-کہ زندگی رواں دواں ہے اور اسکو رواں دواں ہی ہونا چاہئے -
یقین صرف اس ذات کا کرو
ایک نئی صبح کا آغاز کرو

Tuesday, September 9, 2014

ہم غذا پکاتے اور دھوتے وقت اس کی بیشتر غذائیت ضائع کر دیتے ہیں




 

ہم غذا پکاتے اور دھوتے وقت اس کی بیشتر غذائیت ضائع کر دیتے ہیں

از

عابدہ رحمانی


اس حقیقت سے سبھی واقف ہیں کہ غذا انسانی جسم کے لیے ایندھن کا درجہ رکھتی ہے۔ انسانی جسم کو فعال اور بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے متناسب اور متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے ہاں بیشتر گھرانوں میں خوش ذائقہ کھانوں کو اولیت حاصل ہے۔ ہر خاتون خانہ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ عمدہ سے عمدہ پکوان تیار کر کے گھر والوں اور دیگر احباب سے داد تحسین حاصل کرے۔ لیکن بیشتر خواتین اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ غذا اس طریقے سے پکائی جائے جس سے غذائی اجزاء کم سے کم ضائع ہوں۔غذا کے بنیادی اجزاء کاربوہائیڈریٹ یعنی نشاستہ لحمیات یا پروٹین، چکنائی، حیاتین اور معدنی نمکیات ہیں۔ اناج، گوشت اور دالیں پکاتے وقت نشاستہ، لحمیات اور چکنائی کا ضیاع کم ہوتا ہے لیکن حیاتین اور معدنی نمکیات زیادہ تر ضائع ہو جاتے ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حیاتین ’ا‘ اور ’ف‘ کے علاوہ باقی تمام حیاتین پانی میں حل ہو جاتی ہیں اس کے علاوہ معدنی نمکیات میں کیلشیم، فاسفورس اور لوہا وغیرہ پانی کے ساتھ حل ہو جاتا ہے۔حیاتین میں سے حیاتین ’ج‘ اور تھایا میں حرارت سے ضائع ہو جاتی ہے۔
بیشتر گھرانوں میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دال سبزی اور گوشت وغیرہ کو خوب دھویا جاتا ہے اس طریقے کو لوگ صفائی سمجھتے ہیں حالانکہ اس طرح کھانے کی کافی غذائیت ضائع ہو جاتی ہے۔بہتر یہ ہے کہ گوشت اور کلیجی وغیرہ ثابت دھو کر پھر اس کے ٹکڑے کاٹے جائیں اس طرح گوشت کلیجی میں موجود حیاتین اور معدنی نمکیات کم سے کم ضائع ہوں گے۔ ورنہ اگر ٹکڑے کٹے ہوئے ہوں اور صاف کرنا ضروری ہو تو یہ طریقہ غلط ہے کہ گوشت کو پانی میں بھگو کر اسے بار بار دھویا جائے عام طور سے یہ دیکھا ہے کہ گوشت وغیرہ سے خون نچوڑ کر پکایا جاتا ہے اس سے گوشت میں موجود فولاد اور دیگر حیاتین ضائع ہو جاتے ہیں۔
زیادہ حرارت سے اور تیز آنچ پر گوشت، انڈے اور دالیں پکانے سے ان میں موجودلحمیات جل جاتی ہیں۔ اس لیے ان اشیاء کو درمیانی تپش پر پکانا چاہیے۔ تنور میں یا کوئلوں پر گوشت بھوننے سے پانی ٹپک ٹپک کر کافی غذائیت ضائع ہو جاتی ہے لیکن کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے اگر پکایاجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔عام اصول یہ ہے کہ آنچ اگر تیز ہو تو غذائی اجزاء زیادہ ضائع ہوں گے جبکہ درمیانی آنچ پر اس کا خدشہ نہیں ہے۔ اگر کھانا پریشر ککر میں پکایا جائے تو غذائی اجزاء کم ضائع ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں عموماً لوگ انڈے کی زردی کو اہمیت دیتے ہیں جبکہ سفیدی کو غیر مفید سمجھتے ہیں حالانکہ انڈے کی سفید میں خاص لحمیات ہوتے ہیں کمزور معدے والے افراد کو انڈے کی سفیدی کچھ کچی حالت میں دینا بہتر ہے اس سے یہ زود ہضم ہوجاتا ہے۔ زیادہ تلا ہوا اور سخت انڈا دیر سے ہضم ہوتا ہے۔
اس طرح دودھ کو بھی ہلکی آنچ پر ابالنا بہتر ہے۔ تیز آنچ، دودھ کے پنیری مادوں کے سوا لحمیات کو منجمد کر دیتی ہے۔ کم ابلا دودھ زود ہضم ہوتا ہے دودھ ہلکی آنچ پر چولہے پر رکھ دیا جائے جب اس پر بالائی کی سطح جم جائے تو چولہے سے اتار دیاجائے۔
اگر گھر میں فریج موجود نہ ہو تو بیکٹیریا گرم موسم میں دودھ خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں اس لیے دودھ کو ایک مرتبہ اور دن میں ہلکی آنچ پر پکا لینا چاہیے۔ کچا دودھ یا کم ابلا ہوا دودھ جلد خراب ہو جاتا ہے۔
سبزیاں اورپھل:
ان میں حیاتین اور معدنی نمکیات بکثرت ہوتے ہیں۔ پھلوں کا مسلمہ اصول تو کھانے کا یہ ہے کہ ان کو ثابت دھو کر استعمال میں لایاجائے اور عام طور سے ایسا ہی ہوتا ہے۔سبزیاں البتہ بیشتر گھرانوں میں دیکھا ہے کہ چھیلنے، کاٹنے کے بعد دھوئی جاتی ہیں اس سے ان کی بیشتر غذائیت ضائع ہو جاتی ہے۔ اس لیے کافی غذائی اجزاء پانی میں شامل ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر اکثر خواتین پیاز کاٹ کر اس کے لچھے خوب دھوتی ہیں تاکہ اس کی کڑواہٹ نکال دیں حالانکہ پیاز میں کافی مقدار میں فولاد پائی جاتی ہے جو کہ پانی میں ضائع ہو جاتی ہے۔

اسی طرح ساگ، آلو، مولی، گاجر، لوکی اوردیگر کئی سبزیاں چھیلنے، کاٹنے کے بعد دھوئی جاتی ہیں۔ صفائی کے پیش نظر خواتین ان سبزیوں کو خوب مل مل کر دھوتی ہیں اور پوری غذائی اجزاء کا بیشتر حصہ پانی میں بہ جاتا ہے۔ یہ اصول بنایا جائے کہ سبزیاں ثابت چھلکے سمیت دھو لی جائیں۔ مٹی وغیرہ اچھی طرح صاف کر دینی چاہیے۔ پالک اور دیگر ساگ بھی ثابت پتے پانی میں دھو کر نکالنے چاہییں اور پھر کاٹے جائیں۔چھلکے والی سبزیوں کو پتلے چھلکے اتار کر اور اگر سبزی کچی ہے تو اسے چھری سے کھرچ دینا چاہیے مثلاً توری، ٹنڈے، لوکی وغیرہ۔ چھلکا اتارنے کے بعد سبزی کاٹ کر اورفوراً استعمال میں لانا چاہیے اس لیے کہ بعض کٹی ہوئی سبزیوں کو دیر تک ہوا میں رکھنے کی وجہ سے آکسیجن ان میں موجود حیاتین کو ضائع کر دیتی ہے۔ اکثر سبزیوں کا رنگ ہوا کے کیمیائی عمل سے بدل جاتا ہے۔

اگر سبزیاں کاٹنے کے کافی دیربعد پکائی جائیں یا پکاتے وقت برتن پر ڈھکنا نہ رکھا جائے تو کافی حیاتین ضائع ہو جاتی ہیں۔ابالنے والی سبزیاں بہتر ہے کہ چھلکے سمیت ابالی جائیں۔ پانی اتنا استعمال کرنا چاہیے کہ ابالنے کے بعد زیادہ پانی پھینکنا نہ پڑے بلکہ بہتر ہے کہ پانی کی اتنی مقدار میں سبزی ابل جائے۔ 

                ہمارے ہاں عموماً سبزیاں خوب بھون کر کھائی جاتی ہیں۔ حالانکہ اس عمل سے سبزی کی بیشترغذائیت ضائع ہو جاتی ہے۔ سبزیاں کم درجہ حرارت اور کم سے کم وقت میں پکائی جائیں۔ساگ وغیرہ یا تیز خوشبو والی سبزی پکاتے وقت شروع میں پانچ، دس منٹ کے لیے ڈھکنا ہٹا دینا چاہیے اس سے اگزالک ایسڈ بھاپ کے ذریعے نکل جاتا ہے اگر یہ ترشہ کھانے میں موجود ہو تو کیلشیم ہضم ہونے میں مشکل ہو تی ہے۔
اکثر خواتین پالک وغیرہ ابال کر اس کا پانی پھینک دیتی ہیں جس کی وجہ سے اس کے غذائی اجزاء کا زیادہ حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے گریزکرنا چاہیے۔ سلاد کے طور پر استعمال ہونے والی سبزیاں مثلاً گاجر، مولی، ٹماٹر، مولی کے پتے، کھیرے، ککڑی وغیرہ صاف دھو اور کاٹ کر کچے استعمال کرنا بیحد مفید اور حیاتین و معدنی نمکیات سے بھرپور ہے۔
وزن کم کرنے والی خواتین کے لیے سلاد کی پلیٹ ایک بھرپور غذا مہیاکر سکتی ہے۔ ان اشیاء کے استعمال سے وزن میں اضافہ بھی نہیں ہوتا۔
اس لیے جن سبزیوں کو کچا کھایا جا سکتا ہے انہیں صاف دھو کر کاٹ کر کچا استعمال کیاجائے۔ دھنیا، پودینے کے صاف پتے، سلاد اور سالن پرچھڑکے جائیں تو غذائیت میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ 
دالیں، چاول وغیرہ۔
دالیں بھی ہمارے لیے غذائی اجزاء کا اہم ذخیرہ ہے ان میں لحمیات، نشاستہ اورحیاتین و معدنی نمکیات موجود ہوتے ہیں۔
دالیں بھی بیشتر خواتین کافی مل مل کر اور خوب دھوتی ہیں۔اس دھلائی میں ان کی بیشتر غذائی اجزاء ضائع ہو جاتے ہیں۔ دال کو چننے کے بعد ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دھوناکافی ہے وہ بھی محض اس لیے کہ مٹی گرد وغیرہ صاف ہو جائے اس طرح اکثر خواتین دالیں بھگو دیتی ہیں اور پھر پانی پھینک کر استعمال کرتی ہیں اس طرح سے کافی اجزاء پانی میں مل کر ضائع ہو جاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ دالیں وغیرہ دھونے کے بعد بھگوئی جائیں اور پھر انہیں اس پانی میں پکایا جائے۔ 
چھلکے والی دالیں کھانا زیادہ مفید ہے کیونکہ چھلکے والی دالوں میں حیاتین کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ دالوں میں گلانے کی غرض سے میٹھا سوڈا ڈال دیتے ہیں اس سے دال تو گل جاتی ہے لیکن حیاتین ضائع ہو جاتی ہیں۔
دال کے علاوہ چاول کا بھی بیشتر خواتین یہی حال کر دیتی ہیں۔ چاول کو چھلکا اتارنے میں اس کی حیاتین ب مخلوط اور معدنی نمکیات کافی ضائع ہو جاتے ہیں۔
مشینوں سے صاف کیے ہوئے چاول کی نسبت گھر میں کوٹے ہوئے چاول یا جوشی جاول زیادہ غذائیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس میں پکاتے وقت کچھ بو آتی ہے لیکن غذائی اعتبار سے یہ بہتر ہوتے ہیں۔ملوں میں صفائی کے بعد چالوں میں جو غذائیت بچ جاتی ہے وہ خواتین پکانے میں ضائع کر دیتی ہیں اس لیے کہ چاولوں کو پانی میں خوب دھویا جاتا ہے جس سے تھایا مین اور نکوٹینک ایسڈ پانی میں حل ہو کرضائع ہو جاتے ہیں۔

بعض خواتین چاول بھگو کر رکھ دیتی ہیں اور پانی پھینک کر استعمال کرتی ہیں۔ اس سے بھی کافی غذائی اجزاء ضائع ہو جاتے ہیں۔ چاول کو بھی محض ایک یا دو بار کھنگالنا کافی ہے چاول پکا کر اس کا پانی یا پیچ پھینکنا غلط طریقہ ہے اس طریقے سے چاول میں صرف نشاستہ باقی بچتا ہے اور بیشتر غذائیت ضائع ہو جاتی ہے۔ چاول پکاتے وقت اندازے سے اتنا پانی ڈالا جائے کہ چاول اس میں بخوبی پک جائے اور پانی نہ پھینکنا پڑے۔ اگر ہمارے ہاں کی خواتین ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ دیں تو وہ روزمرہ کی خوراک میں اپنے کنبے کے افراد کے لیے غذائی اجزاء کی بچت کر کے انہیں زیادہ سے زیادہ غذائیت مہیاکر سکتی ہیں۔ 

***



عابدہ

Abida Rahmani