Monday, November 18, 2013

اشد اشرف اور کتابوں کا اتوار بازار

عابدہ رحمانی صاحبہ نے اس حقیر پر تقصیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا حکم تھا کہ اسے یہاں آویزاں کیا جائے سو تعمیل کررہا ہوں۔ 
عابدہ صاحبہ نے ستائش کی ہے، ان کا شکریہ ورنہ  میں کیا میری بساط کیا۔   
ساتھ ہی ایک اطلاع دیتا چلوں۔ عابدہ صاحبہ کی خودنوشت "مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا " (سرورق منسلک ہے ) کی راولپنڈٰی کے ناشر الفتح پبلیکیشنز سے اشاعت کی اطلاع کچھ عرصہ قبل دی تھی ۔۔مذکورہ کتاب 
راشد
راشد اشرف اور کتابوں کا اتوار بازار "

( راشد سے معذرت کے ساتھ )
عابدہ رحمانی
لگ بھگ ڈھائی  تین سال کا عرصہ گزرا ہوگا کہ میری میل، برقی ڈاک  میں پاکستان اورمختلف جگہوں سے اردو میں کافی ڈاک آنی شروع ہوئی - کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ ای- میل کا پتا کیسے کیسے نشر ہو جاتا ہے - میرے اکاونٹ پر اتنے گروپ کی ڈاک آتی ہے کہ مجھے جن کو روکنا ہوتا ہے انکو سپام میں ڈال دیتی ہوں  ظاہر ہے کچھ وقت کا تعین بھی کرنا پڑتا ہے یہاں کی تمام کی تمام  کلاسوں میں اسی پر زور ہوتا ہے کہ اوقات کی بہترین اور صحیح تقسیم کریں اور کیسے کریں ؟- روز قیامت بھی ہم سے وقت کے صحیح اور غلط استعمال کے حوالے سے سوال ہوگا -جو پہلے پانچ سوال ہونگے اسمیں وقت صرف کرنیکا سوال کافی اہم ہوگا  اور ہم کیا اللہ میاں سے یہ کہینگے کہ انسان کے بنائے ہوئے اس مکڑ ی کے جال میں ایسا الجھ گئے کہ نکلنے کی کوئی صورت ہی نہیں تھی - یا اللہ تو ہی رحم کرنیوالا اور معاف فرمانے والا ہے -
الله تعالٰی ہمیں سرخرو فرمائے آمین - ابھی تک میرا جن گروپس  سے تعلق تھا وہ سب انگریزی میں تھے اور جن ممالک میں ، میں ہوں یہاں کی زبان انگریزی ہے بلکہ رفتہ رفتہ بیشتر دنیا کی یہی زبان بنتی جارہی ہے - وہ جو اسکو اغیار کی زبان سمجھتے تھے اب اسی میں ہی تبلیغ کر رہے ہیں- ہمارے یہ گروپ زیادہ تر مذہبی اور سیاسی تھے - اب یہ اردو کی افتاد آن پڑی ، لطف تو کافی آیا لیکن الجھن یہ تھی کہ آخر یہ پردہ کمپیوٹر پر اچانک اردو کہاں سے آگئی؟
ان ای میلوں میں ایک لاہورکے فرحان ولایت بٹ، دوبئی سے ایک اعجاز شاہین اور  کراچی کے راشد اشرف تھے -فرحان  کے اردو میں نوشتے کافی جاذب نظر ہوتے لاہور کی ثقافتی،سماجی اور ادبی پروگراموں کی جھلکیاں،سر گر میاں اور تصویریں اسمیں الحمرا اور آرٹس کونسل وغیرہ میں ہونے والےتقاریب کی جھلکیاں ہوتیں اور کچھ تبصرے بھی، اکثر وہ اچھی کہانیاں لکھتے --راشد اشرف کے"کتابوں کے اتوار بازار کا حال دیکھتی تھی، جس سے مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید اس شخص کی اتوار بازار میں کتابوں کی دکان ہے اور یہا ں اسکی تشہیر کرنا چاہتا ہے ایک مرتبہ فراغت میں اسے پڑھا تو جانا کہ یہ کوئی کتابوں کا شوقین اور خریدار ہے -سوچا اچھا ہے کوئی بوڑھا  ریٹائرڈ شخص ہوگا- اچھا مشغلہ ہے کتابیں اس عمر میں خصوصاًبہترین ساتھی ہیں-جب باقی تمام ساتھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں'بسا اوقات اپنا سایہ بھی ، اور اگر آنکھیں ساتھ دے رہی ہیں تو کیا کہنے !

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفا جات
 -
تقریبا ڈیڑھ سال  پہلے میرا یا ہو  کا اکاونٹ ہیک ہوگیا ( اب بھلا اسکی اردو کیا کرینگے کہ یاہو کی برقی ڈاک کا اغوا ہوگیا ) اتنے تردد میں اپنے آپکو ڈالنے کی کیا ضرورت ہے یہاں موجود ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ ہیک ہونا کسے کہتے ہیں ؟خیر جناب اس سے میرے تمام رابطوں کو انتہائی غلط اور بیہودہ قسم کے پیغامات جانے لگے، بلکہ اسمیں انہوں نے وائرس ڈالدیا تھا اور جو کھولتا اسکا کمپیوٹر بیماری میں مبتلا اور آلودہ ہو جاتاتھا  - جو مجھے جانتے تھے وہ جان گۓ کہ یہ میں ہرگز نہیں ہوں اور مجھے فورا مطلع کر دیا -میں نے اپنا اکاونٹ محفوظ کر لیا لیکن کافی سارے گروپس سے رابطہ منقطع ہوا اسی بھیڑ میں فرحان ولایت بٹ بھی غائب ہوگے ،انہیں ڈھونڈھنے کی کوشش بھی نہ کی ،اور میل میں قدرے خاموشی چھا گئی-چونکہ بزم  قلم میرے رابطے کی فہرست میں نہ تھا تو بچ گیابلکہ شائد ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا - انکا بھی ایک یاہو گروپ تھا جس پر اعجاز شاہین صاحب کی پوسٹنگز آتی تھیں - ابھی چند روز پہلے میرا رازنامچہ یا روز نامچہ یعنی ڈاک یاھو سے پھر اغوا ہوا - اس مرتبہ اغوا کنند گان نے شرافت کا مظاہرہ کیا اور مجھے منیلا لے جاکر ڈکیتی کا شکار بناکر میرے تمام رابطوں سے میری مدد کی اپیل کی - اس پیغام کی پیش بندی یوں ہوئی کہ یہ محض یا ہو والوں کو گیا - جی میل ، ہاٹ میل اور دیگر نے پیغام واپس لوٹا دیا- اگلا سارا دن مختلف دوستوں ، عزیز و اقارب کے آنے والے فون کالوں اور ای میل کا جواب دینے میں گزرا - اچھا خاصا وقت واپس آنیوالے ای میلز کی صفائی میں گذرااور پھر نیا پاس ورڈ سوچنا -- اب دیکھئے اگلا حملہ کب ہوتا ہے


 تو جناب تین سال پہلے،  کچھ دلچسپ تحریریں میں نے ایک اردو کا فولڈر بنا کر اسمیں ڈالی تھیں  انہیں دیکھا تو  اس میں راشد کی کافی تحاریر تھیں پڑھیں اچھی لگیں میں نے چند پر تبصرہ کیا اور یوں راشد اور بزم سے باقاعدہ رابطہ ہوا -پھر نہ معلوم کس طرح یہ رابطہ قدرے مزید بڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ماشااللہ ایک گھبرو جوان ہیں،البتہ روح  ضروربوڑھی ہوسکتی ہے -لیکن اردو پر فدا ہیں اور اب تو ہندی حروف سے بھی گریزاں ہیں -جانکاری والے واقعے کے بعد ،فارسی کا استعمال بہت خوبصورتی سے کرتے ہیں -اردو زبان کی خوش قسمتی کہ ایسا جانثار بندہ مل گیا ہے - جہاں اکثریت اردو سے جان چھڑارہی ہے اور اردو بولنا ،پڑھنا اور لکھنا احساس کمتری کی نشانی سمجھا جاتا ہے -وہاں راشد کی اردو سے اس درجہ وفاداری قابل  قدر ہے -اب تو راشد کی اردو ادب اور ادیبوں کے لئے خدمات اور پذیرائی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے-
نت نئی تکنیکی انٹر نیٹ کی ایجادات متعارف ہوتی جارہی ہیں اور راشد اسپر کھٹا کھٹ اردو ادب محفوظ کرتے جا رہے ہیں - فیس بک ، گوگل پلس ، ویب سائٹ ، سکرائب ، پی ڈی ایف ہماری ویب ،بقول انگریزی میں 

you name it
راشد اپنی تحاریر کے ساتھ وہاں حاضر ہیں - ابن صفی کے نمبر ایک شیدائی ہیں وہ جو ابن صفی کو بڑے ادیبوں کی صف میں نہیں مانتے انکو بھی ہر ممکن قائل کرتے رہتے ہیں اب تو ابن صفی کے متعلق دو کتابیں تصنیف کر چکے ہیں مجھے اسوقت ایک کا نام یاد ہے " کہتی ہے تجھ کو خلق خداغائبانہ کیا"
بچوں کا ادب، شکاریات ، ہندوستان پاکستان کے معروف اور غیر معروف لکھنے والوں کی خود نوشت سوانحعمریوں کے  ذخیرے کے مالک ہیں- شاعری ، ناول ، افسانے ہر مشہور ادبی رسالہ و رسالہ جات پر راشد کی نظر ہے - اب میرا اور انکا ساتھ ادب ڈاٹ کام پر ہے-جہان انکی تحاریر تواتر سے آتی ہیں-  چند روز پہلے کہنے لگے ،" آجکل آپنے خوب گروپ بندیا ں کی ہوئی ہیں"--" اوۓ نہ چھیڑ ملنگا نوں" میں نے تڑپ کر جواب دیا- فورا ہی کہنے لگے "مذاق کر رہا ہوں-   ان گروپوں میں راشد معدودے چند لوگوں سے ہیں جن سے میری چند مرتبہ فون پر بات ہوئی ہے اور اس گفتگو میں وہ خوب بولے اور میں سنتی رہی -- سب سے بڑی خوبی کی بات یہ ہے کہ( کراچی کی زبان میں) وہ کسی پھڈے میں اپنی ٹانگ نہیں اڑاتے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور سب سے بنا کر رکھتے ہیں چاہے وہ سیکولر ہوں ، غیر سیکولر ہوں ، مذہبی ہوں ، جذباتی ہوں، لڑاکو ہوں یا صلح پسند ہوں اسلئے سب راشد کی عزت کرتے ہیں اور ہر طرف سے واہ واہ ہوتی ہے - یوں تو راشد کی وجوہات شہرت بے شمار ہیں لیکن اب بھی سب سے بڑی پہچان انکی اتوار بازار کے حوالے سے ہے راولپنڈی کے ایک پبلشر سے میں بات کر رہی تھی تو راشد کا ذکر آیا کہنے لگے" اچھا وہ اتور بازار والے راشد صاحب، جی انکو تو اتوار بازر کے حالے سے سب پہچانتے ہیں "

Sunday, November 3, 2013

Is the Drone warfare going to stop over Pakistan?


Is the Drone warfare going to stop over Pakistan?
Nabila, the new face of Tyranny from North Waziristan.
By
Abida  Rahmani
Last year while travelling from Karachi to Islamabad through Shaheen Air, a Pakistan air force’s an aero nautical engineer was sitting beside me with his wife.
There were mounting causalities by drones in those days. After every drone attack, there was a hue and cry by the government, the politicians and of course the public of Pakistan. “It’s an attack on the sovereignty of Pakistan. We just cannot tolerate this. I asked him, “what about the air force, youdon’t have the capability to stop or destroy these drones. He smiledsheepishly, Why not but we are not allowed to do so.”
The USA government repeatedly said that this all was done with Government of Pakistan’s permission and agreement. There was a lot of outrage for civilian casualties. Those were counted in thousands. The news today is that those are just 67 casualties, 3% of the total militants’ casualties. How we can ascertain that those 2700 or 3000 killed were all militants. Do we consider all the males killed in drone attacks are militants? In fact these numbers are just not reliable and have no regular facts and figures.
Code pink a women against war and oppression organization raised their voice and efforts for the drone attacks in Pakistan and Yemen .The figures that they have collected about civilian casualties are more than one thousand.I am a silent member of their group.
They joined Imran Khan the chief of Pakistan Tehrik Inssaf, who went to protest against Drone attacks in Waziristan. These ladies of course invited me to join but I could not due to my lethargy. Medea Benjamin wrote a detailed book on Drone killings. These ladies travelled all the way to Pakistan to join the protest with Imran Khan and faced a lot of sufferings. They protested with other groups here in USA, during Obama’s oath taking ceremony and on various occasions.
President Obama on the other hand always claimed that the civilian damage or collateral toll damage is quite low and this method is quite efficient in eliminating militants.
Now the Code Pink and Amnesty International have joined together, in raising their voices against drone war fare. They have brought a family of drone attack victims to Washington DC with the help of a congressman. There is a 9 years old girl Nabila, her 13 years old brother Zubair Rahman and theirFather Rafiq ur Rahman. They met with Congressmen and are making news and giving interviews to press and media. They are not targeted by Taliban or Militants. Their case and allegations are against US government, targeted by them in drone warfare. Their 67 years old grandmother Mamana bibi waspicking vegetables from the garden, it was the 2nd day of Eidul Adha, when the drone struck its missiles the grandmother got killed and rest of them badly burnt and injured. It happened last year on October 24th 2012.  Just one case,one strike catches the lime lite of the whole enormous tragedy. They are here to seek Justice and to stop these drone attacks. Rafiqur Rahman says, this way more and more hatred is developed for USA.
The young kids are terrified with the buzzing sounds of airplanes or drones hovering over their heads. They say when the weather is cloudy the drone does not come but in clear skies, the drone strikes. Their lives are in a constant terrified situation. A drone can encircled the area for at least 14 hours, defining its targets and who ever could be the next target.
Let us see if President Obama, john Stewart, Angelina Jolie, Madonna and others would like to see, meet and listen to these kids, like they did to Malala.  They are in no way inferior to Malala , they are the victims of a brutal attack . A hell let loose on them from the sky and they are in the land, which claims that Justice prevails and never denied.
As I was to conclude this write up two drone strike are done consecutively on both days. The news is that the commander of Tehrik Taliban PakistanHakimullah Mahsood is killed along with a group through this strike.
Nawaz Sharif claimed that he had started negotiating with Taliban. Is this going to be a severe blow for Pakistan, all the efforts done in this regard? Were they sincere efforts from both sides? Nawaz Sharif came all the way to meet US President, read him a letter and was confident that he has pleaded President Obama to stop drone attacks. Is this again stabbing Pakistan in the back or this is done with mutual understanding?

Muslim New Year
Inbox
x





Celebrating the Muslim New Year
Could we possibly wish each other,” Happy New Year”
By
Abida Rahmani

The new Muslim or Hijri year 1435 is just around the corner. In Hijrah calendar the Lunar year is followed according to moon sighting. It consists on twelve months but is 10 days shorter to solar or AD calendar every yearThat is why its seasons and days keep on moving. The Ad calendar or Christian calendar is followed all over the world .Whole of the Muslim world, except Saudi Arabia follows their schedules in Ad Calendar. Muslims follow their religious rituals according to Lunar or Hijrah calendar. Saudi Arabia follows  Hijri Calendar in all its official and regular work. They have set up an Ummul Qura Lunar calendar, based on a lot of research.
Most of the Muslims do not celebrate this New Year as they celebrate January 1st. A fall of gloom is felt in Muslim society, when Muharram comes closer. More over a prominent sect gets prepared for mourning and lamentations all clad in black mourning dresses.
   The Significance of Hijrah in Islam
During the reign of Umar bin al-Khattab (May Allah be pleased with him) the companions RA agreed to start the Islamic calendar from the year when Messenger of Allah saws made hijra (migration) to Medina and established the first Islamic State. As we enter the blessed month of Muharram and the year 1435 .It is critical for us the Muslims, to realize that this event not only marks the beginning of our calendar, but more importantly it commemorates the establishment of the nucleus of the first Islamic state.

The Month of Muharram

 Muharram is the first month of the Hijri calendar and is one of the four sacred months concerning which Allah says, "Verily, the number of months with Allah is twelve months (in a year), so it was ordained by Allah on the Day when He created the heavens and the earth; of them, four are sacred. That is the right religion, so wrong not yourselves therein" (At-Tawbah 9: 36)

     Muharram is called so because its meaning is a sacred (Muharram) month.
Although Muharram is a sanctified month as a whole, yet, the 10th day of Muharram is the most sacred among all its days. The day is named 'Ashurah' The Holy Prophet saws, when migrated to Madinah, found that the Jews of Madinah used to fast on the 10th day of Muharram. They said that it was the day on which the Holy Prophet Musa (Moses) and his followers crossed the Red Sea miraculously and the Pharaoh was drowned in its waters. On hearing this from the Jews, the Holy Prophet, saws said, "We are more closely related to Musa (AS), than you," and directed the Muslims to fast on the day of 'Ashura'. (Abu Dawood)
  

In short, it is established through a number of authentic ahadith that fasting on the day of 'Ashura' is Sunnah of the Holy Prophet, saws, and makes one entitled to a great reward.
According to another Hadith, it is more advisable that the fast of 'Ashura' should either be preceded or followed by another fast. It means that one should fast two days: the 9th and 10th of Muharram or the 10th and 11th. The reason of this additional fast as mentioned by the Holy Prophet, saws, is that the Jews used to fast on the day of'Ashura alone, and the Holy Prophet, saws, wanted to distinguish the Muslim way of fasting from that of Jews. Therefore, he advised the Muslims to add another fast to that of 'Ashura'. This practice got started before the advent of Ramadan Fasts.
  
Misconceptions and Baseless Traditions
However, there are some legends and misconceptions with regard to 'Ashura' that have managed to find their way into the minds of the ignorant, but have no support of authentic Islamic sources, some very common of them are these: This is the day on which Adam, alayhi salam, was created. This is the day when Ibrahim, alayhisalam, was born. This is the day when Allah accepted the repentance of Adamalayhi salam. This is the day when Qiyaamah (doomsday) will take place. Whoever takes bath on the day of 'Ashura' will never get ill.

All these and other similar whims and fancies are totally baseless and the traditions referred to in this respect are not worthy of any credit.

Some people take it as Sunnah to prepare a particular type of meal on the day of 'Ashura'. This practice, too, has no basis in the authentic Islamic sources.

Some other people attribute the sanctity of 'Ashura' to the martyrdom of Imam Hussain, RA during his battle with the Syrian army of Yazid . No doubt, the martyrdom ofHussainRadi-Allahu anhu, is one of the most tragic episodes of Islamic history. Yet, the sanctity of 'Ashura' cannot be ascribed to this event for the simple reason that the sanctity of 'Ashura' was established during the days of the Holy Prophet, saws, much earlier than the birth of Hussain RA.

On the contrary, it is one of the merits of Sayyidna HussainRA that his martyrdom took place on the day of 'Ashura'.

Another misconception about the month of Muharram is that it is an evil or unlucky month, for Hussain, RA the grandson of Holy Prophet SAWS was killed mercilessly in it. It is for this misconception that people avoid holding marriage ceremonies in the month of Muharram. This is again a baseless concept, which is contrary to the express teachings of the Holy Quran and the Sunnah.. The Holy Quran and the Sunnah of the Holy Prophet saws have liberated us from such superstitious beliefs.


Lamentations and Mourning

Another wrong practice related to this month is to hold the lamentation and mourning ceremonies in the memory of martyrdom of Sayyidna Hussain, RA. As mentioned earlier, the event of Karbala is one of the most tragic events of our history, but the Holy Prophet, saws, has forbidden us from holding the mourning ceremonies on the death of any person. The people of jahiliyyah (ignorance) used to mourn over their deceased through loud lamentations, by tearing their clothes and by beating their cheeks and chests. The Holy Prophet, saws, stopped the Muslims from doing all this and directed them to observe patience by saying "Innaa lillaahiwa innaa ilayhi raaji'oon". A number of authentic Ahaadith are available on the subject. To quote only one of them: 
"He is not from our group who slaps his checks, tears his clothes and cries in the manner of the people of jahiliyyah." (Sahih Bukhari)

All the authentic jurists are unanimous on the point that the mourning of this type is impermissible.
Let us greet the New Hijri year with optimism and prayers for the success, unity and prosperity of Ummah. Wish you all a very happy and blessed new Hijrah year!

Wednesday, October 30, 2013

Dhundo ge agar mulkon Abida parveen

http://www.youtube.com/v/_f52whLqLU4?version=3&autohide=1&feature=share&autohide=1&attribution_tag=bdvCdeMcyLfYa6ZhdSMHiw&showinfo=1&autoplay=1

Tuesday, October 29, 2013

Eid ul Adha Mubarak !

مبارکمبارک


عابدہ رحمانی

وقت بدلا حلات بدلے ملک بدلے تو عید کے طور طریقے بھی بدل گئے ایک شہر کے ایک گھر میں ایک زمانے میں عید کی ساری ٹینشن ساری پریشانی ایک ہی خاتون کو ہوا کرتی تھی چاہے وہ عیدالفطرہو یا عیدالالضحی کا موقع ، بس یہی فکر کہ کہیں پر کوئی کوتاہی سرزد نہ ہوکسی قسم کی کمی نہ رہ جائے ہفتوں پہلے تیاریاں شروع ہو جاتیں ، سب کیلئے کپڑے نئے تیار ، سوتی کپڑوں میں کلف لگی ہوئی  ہو، استری کئے ہوئے ، آزاربند ڈلے ہوئے، جوتے ، چپل نئے ہوں تو بہتر، گھر میں کوئی لڑکی تو تھی نہیں اسلئے لڑکیوں والے تکلفات تو نہیں تھے لیکن لڑکوں کے اپنے مطالبے اور شوق-- گھر صاف ستھرا چھم چھم کرتا ہوا عید پر پکوان کی تیاریاں، میٹھا بھی ، نمکین بھی ہو ، دو تین اقسام کی سوئیاں، مٹھائیاں، دہی بڑے ،کباب، چٹنیاں-- بقر عید پر یہ مصروفئیت اور تیاری قربانی کے جانور کےآنے سے اور بڑھ جاتی -قربانی کا جانور منڈی سے لانا اگرچہ مردوں اور لڑکوں کا کام تھا-جانور لانے کا بھی کیا مرحلہ ہوتا تھآ- گھر کے بچے قربانی کے جانور کی خاطر مدارات میں لگ جاتے - گلی محلے، اڑوس پڑوس سے بکروں کے ممیانے اور گائیوں کے ڈکرانے کی آوازیں آرہی ہوتیں سڑکوں کے نکڑ پر چارہ، گھاس اور چنے بیچنے والے بیٹھ جاتے--  -- مصالحے کون کونسے ڈالے جائیںگے  ابھی شان مصالحوں کا چرچا نہیں تھا 
جمعہ بازاروں کے چکر اتوار بازار عید بچت بازار گھر کے کسی فرد کا کسی ملازم ،ملازمہ کا جوڑا نہ رہ جائے ، درزیوں کے چکر اور پھر سب کو عید کے لئے تیار کرنا اور بقر عید پر گوشت کا  بانٹنا ،سمیٹنا ، پکانا عزیز و اقارب کی   خاطر تواضع شام کو سیخیں لگانا ، تکے ، بہاری کباب اور نہ جانے کیا کیا؟   ایپرن پہننے کے باوجود خاتون کے کپڑے گوشت کی خوشبو یا بد بو میں بس گئے ہوتے تھےٓ
 بقر عید میں  نماز کے فورا بعد قصائی کی ڈھونڈھیا، جیسے تیسے جانور ذبح ہوا تو  " بس آپکی کلیجی نکال کر قریشی صاحب کا بکرا گرا کر آتا ہوں - پھر آکر آپکی تکا بوٹی ، چانپیں ،سری پاۓ سب بنوادونگا  " اور جسکو سب سے زیادہ قربانیوں کا شوق تھا اسکی تو پھر جیسے  بات ہی نہ ٹالی جاتی قصائیوں تک سے دوستی ہوگئی ، پھر تو قصائی ایک آدھ روز پہلے خود ہی آجاتا جانور کو پانی پلاکر نہلا دینا میں اتنے بجے تک آجاونگا-سب حیران یہ قصائی کو کیا گیدڑ سنگھی سونگھائی ہے ایسا رام کر لیا ہے- اس مبارک صبح وہ اس گھر کا خاص   الخاص مہمان ہوتا تھا دو یا تین ہوتے تھے- مشہور تھا کہ بقر عید میں ہر کوئی چاقو ، چھری سنبھال کر قصائی بن جاتا ہے-تازہ تازہ کلیجی نکال کر اسکے پارچے کاٹ کر تل دئے جاتے-یہ انکے ہاں کی مخصوص ڈش تھی- احباب بھی فرمائش کرتے-  حصے بخرے کرنا، مانگنے والوں کی ایک لائن لگ جاتی، ملازم پہلے سے تلقین کردیتے ہمارا حصہ تو فریزر میں ڈالدیں وہ سوچتی چلو اسطرح شائد ثواب میں مزید اضافہ ہو- کھالوں کے لئے پہلے سے تعئین ہوچکا ہوتا تھا کس کو دینی ہے ورنہ  شہر میں کھالوں کی چھینا جھپٹی بقر عید پر ایک معمول تھا،بہت پہلے ایک جماعت کی اجارہ داری تھی - اسکے اوپر دوسری تنظیم جو غالب آئی تو شہر اور ووٹوں کے ساتھ ساتھ کھالوں پر ایسا قبضہ جمایا کہ لوگوں کو جانور کے ساتھ اپنی کھالوں کے لالے پڑ گئے--
 اور اگر کارپوریشن والوں نے غفلت برتی تو ڈھیروں پڑی ہوئی اوجھڑیاں اور دیگر آلائیشیں جو تعفن پھیلاتیں کہ خدا کی پناہ-- سانس لینا دوبھر ہوجاتا--

 ایک مرتبہ اسکی بقر عید امریکہ میں گزری -توبہ توبہ یہ بھی کوئی عید ہے ٹھٹھروں ٹوں ایک گھر میں عید باقی تمام شہر جانتا بھی نہیں کہ آج عید ہے -خاتون خانہ اپنی جاب پر تھیں ایک کوشر کلیجی منگوا کر پکائی اور عید کا قدرے اہتمام ہوا لیکن اسنے کان پکڑے کہ ائیند ہ اس ملک میں عید کبھی نہیں منانی- اسکا بڑا بول شائد اللہ کو بھی پسند نہ آیا حالا ت نے ایسا پلٹا کھایا کہ اسکی قیام گاہ یہی ممالک بن گئے اور عید منانے کی" ہمت ہر کس بقدر او است، کے مصداق کوئی تو اسے واقعتا اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے ایک قابل ذکر دن بنانا چاہتا ہے -وہ جو دین سے منسلک ہیں وہ کوشش میں ہیں کہ اس دن کو خوب دل کھول کر منائیں اور ہر طرح سے اہتمام کریں ، گھروں کو سجائین ، قمقمے لگائین ، بچوں کو زیادہ سے زیادہ ایسی محفلوں میں لے جائیں تاکہ انکو اس روز کی اہمئیت کا احساس ہوٓ اور کچھ ہو نہ ہو اسلامک سنٹرز جاکر نماز عید کی آدایئگی  ان ممالک کا خاصہ ہے اور یہ پہلو پاکستان میں اسکی زندگی سے غائب تھا- کیا لطف آتا ہے ہر رنگ اور ممالک کے مسلمانوں کے ساتھ ملکر-جتنا بڑا اجتماع اتنا ہی تنوع- اکثر مساجد میں نماز کے بعد اہتمام خورد و نوش بھی ہوتا ہے ورنہ بعد میں عید ملن پارٹیاں ہوتی ہیں ہر چیز ایک منظم انداز سے  - اگر تو عید ویک اینڈ پر ہے تو کافی پروگرام بن جاتے ہیں وگرنہ اکثر اسکولوں اور کاموں سے چھٹی لینا دشوار ہوتا ہے -جو بھی کرلیں اس ماحول کو بنانے کےلئے خوب تگ و دو کرنی پڑتی ہے  اب تو بڑے شہروں میں کچھ معلومات مقامی لوگوں کو حاصل ہو گیئ ہیں کہ مسلمانوں کا کوئی تہوار ہے ورنہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟--
اس مرتبہ  بقر عید بدھ کے روز یعنی 15 اکتوبر کو ہوگی اور مصدقہ اطلاع ہے کہ ہلال کمیٹی والے سولہ اکتوبر اور جمعرات کو کر رہے ہیں- اسی کو دیکھ لیجئے مسلمانوں کی تفرقہ بازی ، جو کہ حد درجہ افسوسناک ہے لیکن جسکا کوئی حل نظر نہیں آتا---عید پر  اوپن ھاؤس یہیں کا خاصہ ہیں وقت طے کرکے احباب کو مطلع کر دیا جاتا ہے کہ میرے ہاں دوپہر 12 بجے سے شام 5 بجے تک اوپن ہاؤس ہے- صاحبان خانہ مختلف پکوان تیار کرکے رکھ دیتے ہیں اور مہمانوں کا سلسلہ وقت مقررہ تک چلتا ہے تحفے تحائف کا خوب تبادلہ ہوتا ہے بچوں کے خوب مزے ہو جاتے ہیں-- نیئ تہزیب سے بہت سی نئی اور اچھی باتیں سیکھ لیگیئ ہیں--اس مرتبہ اوکول کینیڈا میں اکنا کی طرف سے عید کے روز پروگرام تھا -" ایک کھلونا اپنے بچے کیلئے اور ایک پڑوسی بچے کے لئے لے جائیں " اور یہ پروگرام وہاں سٹی ٹی وی سے براہ راست دکھایا گیا- مسلمان گروہ بہت سارے تفریحی پارکوں کو بک کر دیتے ہیں  اسطرح مسلم کمیونٹی کو آپس میں ملنے کے اور سیر و تفریح کے مواقع مل جاتے ہیں-
 رہیںقربانیاں اور اسکا اہتمام، دنیا رفتہ رفتہ جدت پسند ہوتی جارہی ہے اب تو حج میں بھی ٹوکن سسٹم ہوگیا ورنہ جانوروں کو ٹھکانے لگانا کتنا مشکل کام ہوتا تھا - یہ شعبہ تو زندگی سے  جیسےخارج ہوگیا اللہ سلامت رکھے اپنے پیاروں کو انکے توسط سے قربانیاں یا تو مادر وطن میں ہورہی ہیں یا پھر آن لائن خیراتی ادارون کے ساتھ وہ خوش کہ انکو وافر مقدار میں گوشت میسر آگیا ورنہ پاکستان میں گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اور یہاں کی قربانیوں کا کیا کہنا  کسی کسی فارم میں اجازت ہے کہ آکر اپنے جانور پر چھری پھیر دو لیکن وہ بھی ہزار تکلفات کے ساتھ  البقرقی میں ایک فارم تھا مالک غالبا اردن کا عیسائی تھآ - وہاں جانور خرید کر قربانی کرو  تو  وہ اسوقت تازہ کلیجی نکال کر دے دیتا تھا  ایک صاحب کے متعلق سنا تھا کہ وہ اپنے باتھ ٹب میں لاکر بکرا ذبح کرتے تھے  خوش قسمت تھے جو بچ گئے ورنہ کچھ بھی ہوسکتا تھا آجکل پاکستان میں اچھے عھدے پر فائز ہیں- ورنہ قربانی کا گوشت عموما تیسرے روز ملتاہے وہ بھی انکی مرضی سے جیسے کاٹ کردیں پچھلی بقر عید پر ران رکھنے کو کہا تو ثابت سری مل گئ  یوں دنبے ،بکرے اور گائے  سب کی  قربانیاں موجود ہیں- بلکہ فینکس میں ایک خاتون نے بتایا کہ انکا دو ایکڑ کا گھر ہے  ایک ایکڑ پر مویشی پالے ہیں اپنے گھر کے پلے بکرے  ہمیشہ ذبح کرتے ہیں واہ یہ لطف تو گاؤ ں ہی میں آسکتا ہے- - پاکستان میں جو ہوشربا گرانی ہے اب بکرے کا گوشت    6 یا 7سو روپے کلو تک ملتا ہے گائے کا 4 یا 5 سو روپے کلو، کافی مہنگا ہے اب وہاں بھی مرغی سب سے سستی ہے اسلئے بقر عید پر غریبوں کو اب واقعی خوشی ہوتی ہے اور فریج فریزر تو اب ہر ایک کے ہاں ہے-
اور وہ جن خاتون کا تذ کرہ تھا انکے تو اب عیش ہی عیش ہیں نہ گوشت کا جھنجھٹ نہ ہانڈی نہ چولھا وقت بھی کیا کروٹ بدلتا ہے ----- بس اسکا شکر ادا کرنے کی دیر ہے--

آپ سبھوں کو بمع اہل خانہ عید ا لاضحیٰ کی دلی مبارکباد اللہ ہماری قربانی اور تمام عبادت کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے اور ہم سب پر اپنا فضل وکرم فرمائے

Tusqit tusqit hukmul Askar! Down with military regime".

Tusqit tusqit hukmul Askar!
Down with military regime".
Down with military coup!
Military coup no no.
Massacre here massacre there, massacre every where!
By

Abida Rahmani
These were the slogans that we chanted  on our way to Ottawa from MISSISSAUGA in our coach to protest  at parliament hill in solidarity with Suppressed Egyptian people. 
We were with a big group of Egyptian Canadians going there to show our solidarity to the suppressed brutally massacred Egyptian people. The sign of fours fingers raised is now a sign of resilience ,V for victory of Dunia and victory of Aakhira .the sign  for rabaa aldaulia, where the Egyptian military massacred thousands of unarmed protesters , including men, women and children.
The song of Inqilab Inqilab was played  on our way ,is sung by a singer who is now a shaheed, killed by Sisi forces.
There were horrific tales by those men, women , boys and girls who were present there,watchedAnd experienced Rabba massacre by their own eyes.