Tuesday, February 5, 2013

"جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے "

"جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے  "

ولنتٹا ئن ڈے 
عابدہ رحمانی 
- بازاروں میں زبردست چہل پہل ہے  ہر طرف لال سرخ دل نظر آرہے ہیں چھوٹے بڑے ہر سائز میں جو پسند آئے    خرید لیں-     
 سرخ پھولوں کی بھرمار ہے اور دام دوگنے تین گنے لیکن خریداری جاری ہے چاکلیٹ اور کینڈیز کے ڈبے،بیکری کے تمام مصنوعات  کو دل کی شکل میں بنایا گیا ہے  سٹرا بری کے دام بھی آج زیادہ ہیں اس کی مخصوص شکل کی وجہ سے  اسکو چاکلیٹ میں ڈبو کر اس شکل کو اور ابھارا گیا ہے کھلونوں  نے دل پکڑا ہوا ہے - کل شام تک یہ سب آدھی اور تین چوتھائی قیمت  تک آجائینگی  یہ یہاں کی معیشت ہے ، خرید و فروخت کا طریقہ کار گاہکوں کو ایک نفسیاتی کشش اور دباؤ میں ڈالنے کی کوشش ، زیادہ  سے  زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب اور یہ احساس کہ یہ سب انتہائی ضروری ہے مرد حضرات خواتین        خاندان کے افراد ایک دوسرے کو تحائف اور   پھول دیتے ہیں جو مجھے تو اچھا لگتا ہے اسی بہانے کوئی پوچھ  لیتا ہے -خواتین مردوں کے لئے بچے بوڑھے ہر ایک دوسرے فرد کے لئے  اور تیسری صنف والے استغفراللہ ......       -چند کتوں والوں سے ہیلو ہائی ہوئی یہ رابطہ کتے کی سطح پر ہوتا ہے انکے کتے کی تعریف کر لی نسل وغیرہ پوچھ لی انکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہر جگہ زندگی   گذارنے کےاپنے  آداب اور تقاضے ہوتے ہیں - یہ میں نے   ابھی کچھ عرصے سے شروع کیا ہے -کتوں اور بلیوں اور دیگر پالتو جانوروں کے لئے   بھی ولنٹاٰ ئن کے تحائف کی خریداری جاری ہے انکے لئے بھی دل کی شکل میں اشیا ء تیار  ہیں جو انکو کل دیے جائینگی -آخر کو وہ بھی خاندان کے فرد ہیں ہر تہوار پر انکے تحائف کا خیال ضروری ہے وگرنہ  زیادتی کا احتمال ہے ---یہ تو کرہ ارض کے اس نصف حصے کی کہانی ہے جہاں 13      فروری کی شام ہے جبکہ باقی نصف پر دِن طلوع ہو رہا ہے اور وہ بھی 14  کا -وہاں کا ہنگامہ یہاں سے زیادہ بے ہنگم ہے لیکن وہ پوری طرح اس کے لئے تیار ہیں - تقریبا 30 -٣٢ سال پہلے ایک عزیزہ پاکستان  آئین تو دل کے شکل کے دیدہ زیب چوکلٹ کے ڈبے کافی مقدار میں لائیں ایک روز مخصوص بناوٹ کے متعلق پوچھ ہی لیا ...بتایا کہ وہاں ایک دِن منایا جاتا ہے جسے day valentine   کہتے ہیں اور یہ اس دِن دِیے جاتے ہیں میں نے پہلی مرتبہ یہ نام اس وقت سنا- (اب تو ہم بھی اس میں طاق ہوگے کہ بعد میں اونے پونے خرید لو) -  اور پھر کس کے گھر جائیگا طوفان بلا میرے بعد --اس طوفان نے سارے ممالک کودیکھتے ہی دیکھتےجھکڑ لیا  وہاں بھی جہاں سب کچھ در پردہ ہو رہا ہے - اس کی کیا تاریخ ہے St. Valentine حقیقتا کون تھا اور  تھا بھی کہ نہیں بس اب یہ دِن حقیقت ہے -امریکا اور یوروپ  کے   کاروباری دماغوں نے یہ دِن بنا لیا اور ساری دنیا کے لئے ایک شغل شروع کر دیا - امریکا کوئی دِن منائے اور باقی پیچھے رہیں اچھی باتوں کو اپنانا مشکل ہے لیکن جو اپنایا جاسکتا ہے اس میں دیر کیسی؟ پھر میڈیا اور            ٹیکنولوجی جسنے دنیا کو اسقدر  چھوٹا کر دیا -نامعلوم ہمارے عید نے انکو ابتک کیوں متاثر نہ کیا اور مشکل ہی  ہے کہ کرے -ہماری دلجوئی کے لئے عید کے ٹکٹ تو نکال  لئے جو ہم ڈر کے مارے نہیں خریدتے "ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ "        -اب سوچنے کی بات یہ ہے  کہ حد بندی کہاں کرنی ہے ، جائز اور ناجائز کی تفریق کیسے کی جائے ؟ ایک درمیانہ اور جائز راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے آخر نوجوانوں کو بھی کوئی مثبت سرگرمی     چاھئیے -آپ انکو آخرت کی عذاب سے ضرور خبردار کریں لیکن دنیا میں عزت اور وقار  کے    ساتھ   جینا بھی  سکھایں- ہم الله سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا سوال کرتے ہیں -حیا ڈے منانا بہت اچھا خیال ہے کچھ سوچیں اسکو کیسے دلچسپ بنانا ہے -جوانوں کو اس تنگنائی میں نہ بند کریں کہ انکو سانس لینا بھی مشکل  ہوجائے - اب میں تو آپ لوگوں کو کوئی happy happy ہرگز نہیں کہونگی ----



-- 


جہاد کشمیر


رلیکن ان سب قر بانیوں سے کیا حاصل ہوا یا سب لا حاصل چلا گیا بظا ہر تو کوئی انجام نظر نہیں آتا-؟
جہاد کشمیر

جہا د کشمیر

عابدہ رحمانی

 پانچ فروری کو  کشمیر سے یکجہتی کا دن منایا جاتا یے - ماضی میں یہ یوم کشمیر کے طور پر منایا جاتا تھا- کشمیر کی جنت نظیر واد ی جسکے متعلق  کہا جاتا ہے " گر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است ہمیں است و ہمیں است -
اس سرزمین پر جہاں مسلم اکثریتی  آبادی رہایش پذیر ہے  - مختلف حیلے حوالوں سے مسلمانوں کا جینا دو بھر بلکہ محال کردیا گیا - آنکے حقوق خود ارادی کے تمام دروازے بند کرکے ظلم و جبر کی ہر صورت روا رکھی گئی- خواتین پر زیادتی اور تشدد کی ناگفتہ بہ کہانیاں ہیں اور یہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا ایک گھناؤنا چہرہ ہیں- ہزاروں مسلمان خواتین پر انکے اہل خانہ کے سامنے جنسی زیادتی کی گیئ دنیا میں مغلوب اور مقہور قوموں میں کشمیری ایک ہیں اور جو نام نہاد اقوام متحدہ اور استصواب راۓ کے چکر میں اس بری طرح الجھا دئے گئے ہیں کہ کہیں فرار کی صورت نہیں نظر آتی-
 تو مجھے بھی کچھ سال پہلے کا واقعہ یاد آیا یہ 90  کی دہائی تھی جب کہ جہاد کشمیر اور بھارتی ظلم و ستم زوروں پر تھا ہم لوگ دامے درمے سخنے مدد میں لگے ہوئے تھے لیکن کچھ ایسے تھے جنکے جگر گوشوں نے جام شہادت نوش کر لی تھی  جھاد کے متوالوں کو ایک کھلا راستہ بلکہ ایک نصب العین میسر تھا ایک طرف افغانستان دوسری طرف کشمیر وارے نیارے تھے- جان دینا ، جان وارنا اور جان ہتھیلی پر رکھ کر پھرنا یہ سارے محاورے انکے جذبوں کے آگے ہیچ تھے- اس سلسلے میں ہم ایک کانفرنس کر رہے تھے  اور ایک ایسی ماں کو لانے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی جنکا بیٹا ابھی حال ہی میں کشمیر میں شہید ہوا تھاانکا سوچ سوچ کر مجھے اپنی نانی یاد آرہی تھیں میرے اکلوتے ماموں 1948 کی جنگ میں کشمیر کے محاظ پر شہید ہوئے تھے اور میری نانی اسکے بعد کشمیر کا نام بھی سننا بھی گوارہ نہیں کرتی تھیں 
میری ساتھی شاکرہ کہنے لگیں" باجی میں آپکو لے جاؤنگی مجھے جگہ معلوم ہے گلشن اقبال کے ایک بلاک میں گلی در گلی ہوتے ہوےئ ایک مکان پر پہنچے - دو منزلہ مکان تھا دو لڑکے باہر نکلے کہنے لگے ابھی وہ آنے والی ہیں آپلوگ اندر آئیے-کمرے میں ہر طرف  گدے بستر لگے ہوئے تھے اور چھوٹے چھوٹے بیگز میں سامان رکھا ہوا تھا - شاکرہ کہنے لگی " باجی یہ سب مجاہد ہیں" لڑکا ہمارے لئے چائے اور بسکٹ لایا " میں نے کہا آپ نے بہت اچھی چائے بنائی ہے پھر تھوڑی باتیں ہوئیں تو معلوم ہوا کہ یہ انکا پہلا کیمپ ہے یہاں پر امیدواروں کا انتخاب ہوتا ہے پھر انکو ٹریننگ کے لئے بھیج دیا جاتا ہےاتنے میں ایک ٹرک آیا اس سے کافی سارے لڑکے اترے بانور چہرے ، ہلکی ہلکی داڑھیاں کسی اور دنیا کی مخلوق لگ رہے تھے میرے پرس میں جو رقم تھی وہ میں نے اس لڑکے کو دی وہ رقم کی رسید لے آیا  اتنے میں ایک سوزوکی سے اماں آن پہنچیں کافی ہشاش بشاش لگ رہی تھیں -ہم روانہ ہوئے، میں نے انکو اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھایا شاکرہ پیچھے بیٹھیں- انکے بیٹے کی شہادت کا ذکر ہوا تو کہنے لگیں ،" مجھے مبارکباد دیں شہید کی ماں ہوں" سبحان اللہ میں انکا جذبہ دیکھ کر دنگ تھی ر انکے بیٹے کی شھادت سوپور کے مقام پر ہوئی تھی کہنے لگیں ایک بیٹا اللہ کی راہ میں بھیج دیا اور میں ان سب کی اماں بن گئی یہ لوگ مجھے اپنے ٹرک میں بٹھاکر کیمپ میں لے جاتے ہیں سب میرے بچے ہیں انکے لئے کھانے بناتی ہوں انکے کپڑے دھوتی ہوں انکی خریداری کرتی ہوں انکو جوش اور ولولہ دلاتی ہوںانہون نے بتایا کہ پہلے انکا بیٹا افغانستان میں لڑنے گیا تھا واپس آیا تو گردوں کی بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا اسلئے کہ وہ پانی بہت کم پیتا تھا- جب صحت یاب ہوا تو اسنے کشمیر ہر جانے کی ٹھانی ، جاتے ہوئے کہنے لگا اماں اس دفعہ میری شہادت لکھی ہےدوسرے بیٹے کی ویڈیو کی دکان ہے وہ اسکو بہت منع کرتا اور لڑتا کہ تم ہمارے دشمنوں کے ویڈیو دکھاتے  ا ہواور اسکی کمائی کھاتے ہودونوں بھائی بالکل مختلف تھے- ہم دم بخود ہوکر انکی باتیں سنتے رہے پھر انہوں نے بتایا کہ جس روز اسکی شہادت ہوئی وہ انکو خواب میں آیا بہت ہی شاندار لباس مین اور انتہائی خوش وخرم تھا وہ کہنے لگیں کہ مجھے یقین ہوا کہ وہ شہید ہوچکا ہے اس صبح جب اسکا بھائی اپنے سٹور میں گیا تو اسنے دیکھا کہ سارے انڈیئن کیسٹ ٹوٹے پڑے ہیں جبکہ دوکان بند تھی( اس بات کا مجھے تو یقین نہیں آرہاتھا ) لیکن میں نے انکو ٹوکا نہیں، لیکن وہ بیٹا پھر اس پیشے سے تائب ہوگیاہ انہون نے کیمپوں کا بتایا جہاں پر ٹریننگ ہوتی تھی اور ان مجاہدوں کی خوراک سوکھی روٹی کے ٹکڑے ، بھنے چنے اور گڑ کی ڈلیاں - روٹی کو پانی یا برف میں بھگو کر نرم کرکے کھاتے-تھے اور یہی انکی خوراک تھی  اسی کو تھیلون میں بھر کر اپنے ساتھ لے جاتے تھے -سبحان اللہ


یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے


جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

شہادت ہے مطلوب مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں نظر میں اذان سحر میں

دل مرد مومن کو پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کی سی نعرہ لا تذر میں

عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہ مسلماں کو تلوار کر دے

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
-- 

لیکن ان سب قر بانیوں سے کیا حاصل ہوا یا سب لا حاصل چلا گیا بظا ہر تو کوئی انجام نظر نہیں آتا-؟

Sunday, February 3, 2013

Gun control Law in USA

Gun control Law in USA

(Abida Rahmani, Chicago)

The latest news of today Jan 31/2013 this evening is that two hundred and three people are shot and killed in USA just today. The killing in Chicago in the last 5 years have surpassed Afghanistan 's military causalities. While living in Chicago suburbs every day I listen and watch the news of murders, shootings and gun violence of the gangs. Yesterday a teenage girl lost her life due to gun violence. The teen had performed in Obama's in inauguration ceremony.

The gun control laws are not strict in United states. Guns openly sold and available to criminalsand gangs in arms stores have turned this country in a total fiasco. After the everyday toll of gun violence ,murders, the increasing incidences of mass shootings and killings, the citizens are getting desperate to control the guns and gun violence.

It has finally forced Washington to rethink about its gun policy.

Emotions are running high on TV talk shows , Senate and congress floors and halls. It has forced NRA to re-think about adopting gun reforms and to adopt a moderate policy.

Former US Rep Gabrielle Giffords who was shot and wounded on her head two years ago in Tuscan , AZ during her public meeting outside a Safeway store. She survived while nine others lost their lives. She has gone through a lot of surgeries and rehabilitation process. In her trembling and breaking voice she said ," too many children are dying, too many children we must do some thing. It was very difficult for her to deliver her statement. Yet she tried her best to represent herself and her voice in the Gun control movement.

This is the greatest irony that the country and the super power who wants to guard the whole world and to impose its world order on other nations is absolutely helpless to put its own house in order and control.

ڈالر کا جادو


ڈالر کا جادو

عابدہ رحمانی

  میں ایر کینیڈا کی فلائیٹ سے لگوارڈیا ائر پورٹ پہنچی یہاں سے مجھے جان ایف کینیڈی ایر پورٹ سے اگلی پرواز لینی تھی سامان کافی تھا اسلئے شٹل لینامشکل لگ رہا تھافیصلہ کیا کہ ٹیکسی کر لیتی ہوں لدھی پھند ی باہر نکل کر کیب کی لاین میں لگ گئی یلو کیب گزرتی جارہی تھیں اور مسافر بیٹھ رہے تھے اب جو چہرہ مجھے نظر آیا تو مجھے اپنی ہموطنی کی جھلک نظر آئی میں نے اسے لینا چاہا اور کیب روک دی گئی اسنے اتر کر مجھے سلام کیا تو میرا شک یقین میں بدل گیا سامان رکھنے کے بعد میں کار میں بیٹھی اسنے خود ہی اردو میں پوچھ لیا" میم آپ جے ایف کے جارہی ہیں" جی بالکل" میں نے اسے ایر لاٰین کا بتایا"جی وہ ٹرمینل تھری سے جائیگی" تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا راستہ ہے اور اسوقت رش آؤر بھی ہے کیا اپکے پاس  کافی وقت ہے ؟ جی جی ابھی تو کافی وقت ہے "میں ذرا لئے دئے رہنا چاہ رہی تھی لیکن وہ باتیں کرنےکے موڈ میں تھاآخر کو مجھ سے بھی صبر نہ ہوا "آپ کیا پاکستان سے ہیں " جی میں لاہور سے "کب سے ٹیکسی چلا رہے ہیں؟ تقریبا 5 سال ہوگئے ہیں یہی ایر پورٹ کےراستوں پر چلاتا ہوں-" اچھی آمدنی ہوجاتی ہے ؟-- جی اللہ کا شکرہے تھوڑا بہت اپنے گزارے کے لئے رکھ کر باقی گھر بھیج دیتا ہوں " گھر" میں نے حیرانی سے پوچھا کیا فیملی یہاں نہیں ہے ؟ نہیں جی وہ لاہور میں ہیں ، میں سٹیزن ہوجاؤن تو انکے لئے درخواست دونگا اور اب جو منیر صاحب سے بات چیت شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ انکے والد بہت پہلے امریکہ آئے تھے اور پھر والد کے ذریعے انہیں گرین کارڈ ملا- تو یہ بھی چلے آئے ذرا خاموشی کے بعد میں نے پوچھا کچھ تعلیم وغیرہ حاصل  کی؟ اس بات پر منیر صاحب کچھ جھینپے اور گویا ہوئے " جی میں میڈیکل ڈاکٹر ہوں" تو یہ ٹیکسی ؟ یہاں کے لائسنس کا امتحان پاس نہیں کرسکا تو یہ ٹیکسی چلاکر گزر بسر کرتا ہوں جی اچھی آمدنی ہو جاتی ہے" - کیا ایک ڈاکٹر کے برابر ؟ نہیں جی اتنی تو نہیں جب ہی تو بیوی بچوں کو پاکستان میں رکھا ہوا ہے وہ سمجھتے ہیں ابو وہاں میڈیکل پریکٹیشنر ہیں آپ تو جانتی ہیں محنت کرنے میں کوئی عیب نہیں ہے - دس سال تک میو ہسپتال میں ایم او تھا -کہاں سے پڑھاہے؟ میں ذرا تصدیق کرنا چاہ رہی تھی جی نشتر سے ؟ اور اگر کوئی ساتھی دوست مل جائے تو ؟ بس جی کیا کریں مل بھی جاتے ہیں آپکو پتہ ہے آپکو یہاں کافی ڈاکٹر انجینئر کیب اور لیمو ڈرائیور مل جائینگے-" ہاں شروع شروع میں تو میں نے سناہے کہ اکثر لوگ قدم جمانے کیلئے کرتے ہیں لیکن پانچ سال ہوگئے آپکو؟" "بس جی امتحانوں پر بہت پیسے برباد ہوگئے میری قسمت میں پاس کرنا نہیں لکھا تھا اب ہائی جین کے کچھ کورس کر رہاہوں -" تو پاکستان واپس کیوں نہیں جاتے وہان آپ میڈیکل آفیسر تھے یہ تو پیشے کی تذلیل ہے" - جی یہان جو میں کماتا ہوں ٹپ وغیرہ ملاکر پاکستانی حساب سے ڈھائی تین لاکھ بن جاتے ہیں آپکو تو پتہ ہے وہاں ایک ایماندار ایم او کی کیا تنخواہ ہے؟
میری منزل آگئی تھی - میں کارٹ نکال لائی تو منیر نے سامان رکھا کرایہ دیکر میں نے اسے پانچ ڈالر کی ٹپ دی" تھینک یو میم اپکا سفر خوشگوار ہو" اسنے انگریزی میں کہا اور مین اپنے اس پاکستانی سابقہ میڈیکل آفیسر کا منہ دیکھتی رہ گئی

Wednesday, January 30, 2013

بہار مصر کی خزاں

بہار مصر کی خزاں 

عابدہ رحمانی

اخوانالمسلمین سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی کی حکومت کو بمشکل سات ماہ گزرے ہیں ابھی تو اخوان اور انکے حمائتیوں نے پوری طرح خوشی بھی نہیذں منائی تھی کہ کشت وخون ، قتل و غارتگری اور مظاہروںنے مصر کی فضاء کو مکدر کردیا تین شہروں پورٹ سعید، اسماعیلیہ اور سوئز میں کرفیو لگا دیا گیا ہے 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں  - کرفیواور ایمرجنسی کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور خوب توڑ پوڑ مچائی- مظاہروں میں اور فوج کی فائرنگ سے جو لوگ ہلاک ہوئے انکی لاشوں کو اٹھا کر مظاہرے ہوئے- مظاہرین مرسی کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر تے رہے - اسی طرح مرسی کے حامی اور مخالفین میں خوب جھڑپیں ہوئیں- محمد مرسی اور انکے ساتھی حسنی مبارک کی اسی ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہوئے اقتدار میں آئے ہیں- ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ مخالفین کو بغیر کسی الزام کے غیر معینہ مدت کے لئے گرفتار کیا جا سکتا ہے - یہ وہی اقدامات ہیں جو گزشتہ حکومت نے بھی اختیار کئے - فرق محض اتنا ہے کہ ان اقدامات کو 30سال تک برداشت کیا گیا جبکہ اب جمہوریت میں چھ ماہ کی مختصر مدت میں تباہی بربادی مچ گئئ-  مصری وزیردفاع جنرل سسی نے ان حالات کے پیش نظر مارشل لاء لگانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے یہ شہر چونکہ بندرگاہ اور سوئز نہر کے کنارے پر ہیں اسلئے حفاظت کے پیش نظر کافی فوج لگائی گئی ہے-یہ ہنگامے اسوقت شروع ہوئےجب ایک مقامی عدالت نے 21 افراد کو سزائے موت دینے کا اعلان کیا یہ لوگ ایک سال پہلے ایک فٹبال میچ کے دوران 74 لوگوں کے مارے جانے کے ذمہدار ٹہرائے گئے- انکے حامی اس الزام کو غلط قرار دیتے ہیں اور میچ کے دونوں کلبوں کو اسکا ذمہدار مانتے ہیں- مصری انقلاب کو بمشکل دوسال ہونے والے ہیں قاہرہ میں بھی مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی گیئ--اسطرح مظاہرین میں ایک ایسا گروپ بن گیا ہےجو اپنے آپکو سیاہ پوش کہتے ہیں یہ گروہ مرسی اور اخوان کا مخالف ہے-- ہمارے ممالک کی بدقسمتی کہ انہٰیں جمہوریت راس ہی نہیں آتی- یون لگتا ہے مصر کے عوام کے منہ کو بھی خون لگ گیاہے وہ ملک جسکو حسنی مبارک کے آہنی ہاتھ نے سالہا سال تک سنبھال رکھا تھا اب انتشار و افراتفری کی آماجگاہ بن چکا ہے - اخوان المسلمین کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ وہ کبھی اقتدار میں آسکینکے وہ جو ہمیشہ ایک ظلم و استبداد ، پھانسیوں اور گرفتاریوں کی زد میں تھے کتنی مرتبہ تو انکی پارٹی پر پابندی لگ چکی تھی - مغربی طاقتیں انکی بنیاد پرستی سے خوفزدہ ، اور سب سے بڑھ کر امریکہ جو انکا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتا تھا لیکن عوام کی طاقت اور پھر امریکہ ہی کی حمایت سے وہ بر سر اقتدار آئے ایک نئا باب رقم ہوا لیکن شائد مصر کے عوام کی قسمت میں ابھی مذید تباہی و بربادی لکھی ہوئی ہےمخالفین کہتے ہیں کہ مرسی بھی اسی طرح کا آمر ہے جیسے کہ اسکا پیش رو تھا- اسی کے نتیجے میں مرسی نے اپنا یوروپ  کا دورہ مختصر کر دیا وہ جرمنی میں  محض چند گھنٹے گزاریں گے جبکہ فرانس کا دورہ منسوخ کردیا

 کئی سال پہلے جب میں مصر کی سیاحت کرنے گئی تھی اس زمانے میں کچھ عرصہ پہلے ہی لکژور کے مقام پر تقریا 90 امریکی سیاح مارے گئے تھے جابجا پولیس اور حفاطتی دستے نظر آیے لیکن بیحد امن و امان ، پر خلوص اور دوست مزاج لوگ کہیں پر غیریت کا احساس نہ ہوا بس ایر پورٹ پر ایمیگریشن میں انہوں نے خوب تنگ کیا اور یہ تک کہا کہ ہمارے ہاں سارے آنے والے دہشت گرد پاکستان سے تربیت یافتہ ہوتے ہین اب یقینا وہ اس صنعت میں خود کفیل ہوگئے - مصر جسکی آمدنی کا دارو مدار سیاحت پر ہے سیاحوں کی دلچسپی اور دل لگی میں کشاں کشاں رہتا ہے -ایک بجرے میں دریاۓ نیل کے دھیمے دھیمے پانی میں سیر کا کیا لطف تھا ساری داستانیں نظروں سے گزر گئیں کہ اسی میں ہی تو سرکنڈوں کی ٹوکری میں موسی علیہ السلام کو انکی ماں نے اللہ کے حکم سے ڈالدیا تھا  اور ٹوکری بہتے بہتے فرعون کے محل میں جا پہنچی فراعنہ مصر کی یہ سرزمین اب بھی انکی جاہ و وجاہت کی کہانیاں رقم کرتی ہے اور مصر انکےاثار کی کمائی اب بھی دل کھول کر کھا رہا ہے-اسکندریہ میں قلوپطرہ،سلطنت روم اور جولئس سیزر کی داستانیں ہیں -اسلامی تہزیب اور اثرات سے یہ ملک بھرا پڑا ہے - قلعہ صلاح الدین فاطمی حکمران ، مملوک حکمران ہزاروں سالوں کی  تاریخ اور اسکے اثرات ہیں کہ پھٹے پڑ رہے ہیں - اسکندریہ میں ایک گائیڈ نے بتایا کہ کسی تعمیر کے لئے کھدائی ہوتی ہے تو اندر سے آثار نکل آتے ہیں یہ وہ وقت تھا کہ تمام اخوان زیر زمین چلے گئے تھے کوئی ڈر کے مارے زبان نہیں کھولتا تھا کہ اسکا اخوان سے کوئی تعلق ہے اور پھر حالات نے پلٹا کھایا کہ آخوان ہی مصر کے اقتدار پر عوام کی طاقت سے جیت کر آئے - لیکن یہ کیا کہ ایک سال میں ہی وہ سارے خواب چکنا چور ہوگئے ہیں کہیں یہ بہار مصر کی خزان تو نہیں-

-- 

Tuesday, January 29, 2013

List of Children Killed by US (Drone Strikes) in Yemen and Pakistan


 List of Children Killed by US (Drone Strikes) in Yemen and Pakistan
Abida Rahmani
I am looking at this brief list and pictures of Drone's causalities of innocent children and youths in Pakistan, Afghanistan and Yemen.  It shows how the terror is let loose over these lands with this high tech technology. These drone strikes   which were targeting Al Qaida operatives and agents with out any proof  and evidence and making America safer has tolled about 3000 lives and so many uncounted for. 
President Obama and his team claimed that the collateral  damage is very low during wiping out the enemies. They are absolutely contented with this great crime to humanity.
While delivering his inauguration address President Obama said,
 ‎"I am honored and humbled to continue to serve as
 your President. And I am more hopeful than ever that four years from now — with your help — this country will be more prosperous, more open, and more committed to the principles on which we were founded." 
These are good hopes and promises by an enterprising president of a super power on this earth. He is an authority to make his land safe from every possible threat from any one. The enemy has been identified in North west Pakistan, Afghanistan and Yemen. Most of them are perished  and wiped out in these  actions.
President Barack Obama celebrated his inaugural ceremony with great fanfare as an American  tradition.He was full of praise for his wife Michelle bangs her dresses and the red chiffon one  she wore for inaugural presidential ball. The girls Malia ans Sacha grown up big and elegant. What a great family man he is, adores his family. 
At that point he must adhere to those families whose loved one are killed innocently by his orders. Moreover many of the families are completely wiped out. I know that this is not an American tragedy but there are some die hard Americans who are raising voices, doing demonstrations, writing books and providing support and medical aid to those survivors of drone attacks.  That group even demonstrated on inaugural day. That was a unique demonstration by them. We can always find two sides of a story of a devastation and these kind hearted people. Those who felt that pain and sufferings from thousands of miles away. While the ones living close by have just closed their eyes with out any positive , constructive action.

Abida Rahmani





     [The following list was issued by Drones Watch on 20 January 2013. The names were compiled from The Bureau of Investigative Journalism reports.]

PAKISTAN

Name | Age | Gender

Noor Aziz | 8 | male
Abdul Wasit | 17 | male
Noor Syed | 8 | male
Wajid Noor | 9 | male
Syed Wali Shah | 7 | male
Ayeesha | 3 | female
Qari Alamzeb | 14| male
Shoaib | 8 | male
Hayatullah KhaMohammad | 16 | male
Tariq Aziz | 16 | male
Sanaullah Jan | 17 | male
Maezol Khan | 8 | female
Nasir Khan | male
Naeem Khan | male
Naeemullah | male
Mohammad Tahir | 16 | male
Azizul Wahab | 15 | male
Fazal Wahab | 16 | male
Ziauddin | 16 | male
Mohammad Yunus | 16 | male
Fazal Hakim | 19 | male
Ilyas | 13 | male
Sohail | 7 | male
Asadullah | 9 | male
khalilullah | 9 | male
Noor Mohammad | 8 | male
Khalid | 12 | male
Saifullah | 9 | male
Mashooq Jan | 15 | male
Nawab | 17 | male
Sultanat Khan | 16 | male
Ziaur Rahman | 13 | male
Noor Mohammad | 15 | male
Mohammad Yaas Khan | 16 | male
Qari Alamzeb | 14 | male
Ziaur Rahman | 17 | male
Abdullah | 18 | male
Ikramullah Zada | 17 | male
Inayatur Rehman | 16 | male
Shahbuddin | 15 | male
Yahya Khan | 16 |male
Rahatullah |17 | male
Mohammad Salim | 11 | male
Shahjehan | 15 | male
Gul Sher Khan | 15 | male
Bakht Muneer | 14 | male
Numair | 14 | male
Mashooq Khan | 16 | male
Ihsanullah | 16 | male
Luqman | 12 | male
Jannatullah | 13 | male
Ismail | 12 | male
Taseel Khan | 18 | male
Zaheeruddin | 16 | male
Qari Ishaq | 19 | male
Jamshed Khan | 14 | male
Alam Nabi | 11 | male
Qari Abdul Karim | 19 | male
Rahmatullah | 14 | male
Abdus Samad | 17 | male
Siraj | 16 | male
Saeedullah | 17 | male
Abdul Waris | 16 | male
Darvesh | 13 | male
Ameer Said | 15 | male
Shaukat | 14 | male
Inayatur Rahman | 17 | male
Salman | 12 | male
Fazal Wahab | 18 | male
Baacha Rahman | 13 | male
Wali-ur-Rahman | 17 | male
Iftikhar | 17 | male
Inayatullah | 15 | male
Mashooq Khan | 16 | male
Ihsanullah | 16 | male
Luqman | 12 | male
Jannatullah | 13 | male
Ismail | 12 | male
Abdul Waris | 16 | male
Darvesh | 13 | male
Ameer Said | 15 | male
Shaukat | 14 | male
Inayatur Rahman | 17 | male
Adnan | 16 | male
Najibullah | 13 | male
Naeemullah | 17 | male
Hizbullah | 10 | male
Kitab Gul | 12 | male
Wilayat Khan | 11 | male
Zabihullah | 16 | male
Shehzad Gul | 11 | male
Shabir | 15 | male
Qari Sharifullah | 17 | male
Shafiullah | 16 | male
Nimatullah | 14 | male
Shakirullah | 16 | male
Talha | 8 | male

YEMEN

Afrah Ali Mohammed Nasser | 9 | female
Zayda Ali Mohammed Nasser | 7 | female
Hoda Ali Mohammed Nasser | 5 | female
Sheikha Ali Mohammed Nasser | 4 | female
Ibrahim Abdullah Mokbel Salem Louqye | 13 | male
Asmaa Abdullah Mokbel Salem Louqye | 9 | male
Salma Abdullah Mokbel Salem Louqye | 4 | female
Fatima Abdullah Mokbel Salem Louqye | 3 | female
Khadije Ali Mokbel Louqye | 1 | female
Hanaa Ali Mokbel Louqye | 6 | female
Mohammed Ali Mokbel Salem Louqye | 4 | male
Jawass Mokbel Salem Louqye | 15 | female
Maryam Hussein Abdullah Awad | 2 | female
Shafiq Hussein Abdullah Awad | 1 | female
Sheikha Nasser Mahdi Ahmad Bouh | 3 | female
Maha Mohammed Saleh Mohammed | 12 | male
Soumaya Mohammed Saleh Mohammed | 9 | female
Shafika Mohammed Saleh Mohammed | 4 | female
Shafiq Mohammed Saleh Mohammed | 2 | male
Mabrook Mouqbal Al Qadari | 13 | male
Daolah Nasser 10 years | 10 | female
AbedalGhani Mohammed Mabkhout | 12 | male
Abdel- Rahman Anwar al Awlaki | 16 | male
Abdel-Rahman al-Awlaki | 17 | male
Nasser Salim | 19
-- t of Children Killed by US (Drone Strikes) in Yemen and Pakistan

Saturday, January 26, 2013

اطاعت رسولؐ اور اتباعِ رسولؐ



اطاعت رسول ﷺ اور اتباعِ رسولؐ 

عابدہ رحمانی

اطاعتِ رسول اور اتباعِ رسول ﷺ میں معمولی  سا  فرق ہے۔ اطاعتِ رسول کے معنی ہیں کہ رسول ص  کے ہرحکم کی فرمانبرداری کی جائے اور اتباع کے معنی  ہیں کہ جو افعال انہوں نے جسطرح سے انجام دئے ان کی اسی طرح سے پیروی کی جائے- یعنی جو کچھ انہوں نے کیا اور جس طرح سے کیا اس طرح سے ہم بھی کریں۔اسی میں ہمارے فرائض اور سنن آجاتے ہیں-
اطاعت رسول  قرآن پاک میں  اطاعتِ رسول ص اور اسی طرح  اتباعِ رسول ص کے سلسلے میں متعدد
 آیات ہیں مسلمان جب کلمہ طیبہ لااَلٰہ اِلااللہ محمدالرسول اللہ پڑھتا ہے تو وہ دراصل اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ زندگی میں صرف اللہ کی اطاعت و بندگی کرے گا اور پھر اطاعت و بندگی کا وہی طرز اختیار کرے گا جو رسول اللہ  نے اختیار کیا۔
قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہوتاہےو۔من یطع الرسول فقد اطاع اللہ
جس نے رسول کی اطاعت کی ، اس نے اللہ کی اطاعت کی یعنی اطاعت کی بنیاد رسول اکرم  پر ایمان لانے پر رکھی گئی ہے۔ صرف اللہ کی واحدانیت پر ایمان لانے سے کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اللہ کے رسول ص کی تصدیق نہ کرے اور جو کچھ آپ ص اللہ کی طرف سے لائے ہیں اس پر ایمان نہ لائے۔ قران کریم کی چند آیات   اطاعت رسول کے سلسلے میں درج کر رہی ہوں
ارشاد باری تعالی ہے(وَاقِیْمُوا الصَّلَاۃ وَآتُوا الزَّکَاۃ وَاطِیْعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ )''نماز کو قائم کرو 'زکوۃ ادا کرو اور اطاعت کرو رسول کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے''(سورئہ نور:٥٦).

٢۔اطاعتِ رسول 'فلاح وکامیابی کی دلیل ہے :
ارشاد باری تعالی ہے(وَمَن یُطِعْ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِیْماً )''اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطا عت کرے گا اس نے بڑی کامیابی پالی ''
( سورئہ احزاب:٧١)ا(وَمَن یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَخْشَ اللَّہَ وَیَتَّقْہِ فَاوْلَئِکَ ہُمُ الْفَائِزُون)''اور جو بھی اللہ تعالی کی' اس کے رسول کی اطاعت کرے'خوف الہی رکھےاور اس  سے ڈرتے رہیں

 وہی کامیابی  پانے والے ہیں''( نور:٥٢)
( وَمَن یُطِعِ اللّہَ وَالرَّسُولَ فَاوْلَئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ انْعَمَ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاء وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اولَئِکَ رَفِیْقا)''اور جو بھی اللہ تعالی کی اور رسول کی فرمانبرداری کرے' وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا ہے جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ' یہ بہترین رفیق ہیں''( سورئہ نساء:٦٩).
ان آیات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارۓ ایمان کاملہ کا دارومدار رسولاللہ صلعم کی اطاعت میں ہے اطاعت کا یہ پہلو ہمارے تمام فرائض کی ادائیگی اور جملہ مناسک میں ہےاللہ کے دین کا نفاذ رسول صلعم نے خود عملی طور پر کر دکھایا - نماز ، روزہ ،حج ، زکواۃ ، جہاد کو خود کرکے ہمیں دکھایا کہ ہمیں ان اعمال اور افعال کو کیسے انجام دینا ہے-فرائض و نوافل کی ترتیب اور اہمیت سے آگاہ کیا مختصرا اطاعت سے یہ مراد ہے جیسے ایک ملازم ایک ماتحت اپنے آقا کا حکم بغیر چوں چرا کئے طوعا و کرہا  مانے اور اسی پر ہمارے ایمان کا دارومدار ہے-
اتباع رسول
۔اتباعِ رسول 'اللہ کی محبت اور اس کی مغفرت کا ذریعہ ہے:
ارشاد باری تعالی ہے(قُلْ ِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللّہُ غَفُور رَّحِیْم)''کہ دیجئے اگر تم اللہ تعالی سے محبت رکھتے ہو تو میر ی تابعداری( پیروی) کرو ' خود اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا' اور اللہ تعالی بڑا بخشنے والا مہربان ہے''( سورئہ آل عمران:٣١).

ارشاد باری تعالی ہے(فَآمِنُواْ بِاللّہِ وَرَسُولِہِ النَّبِیِّ الامِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّہِ وَکَلِمَاتِہِ وَاتَّبِعُوہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُون)''سو اللہ تعالی پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالی پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیںاور ان کا اتباع کروتاکہ تم راہ پر
آجاؤ''(سورئہ اعراف:١٥٨).۔
ہمیں بطور مسلمان آپ صلعم کی اطاعت و اتباع دونوں کا حکم ہے اور ان دونوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تو اطاعت اور اتباع ایک ہی دکھائے دیتے ہیں - جیسے کہ سورہ آل عمران کی آیت میں آللہ نے اپنے محبوب  ہونے کا دار و مدار آپ صلعم کی اتباع میں رکھا ہےاتباع کو ہم تقلید کے معنوں میں لے سکتے ہیں یعنی جو افعال آپﷺنے جس طرح انجام دئے اسکی ہم پیروی کریں -اسمیں وہ افعال بھی آجاتے ہیں جو آپ ﷺ کی نشست برخاست کھانے پینے سے متعلق ہیں جنکو اپنانا باعث سعادت ہے لیکن جنکو چھوڑ دینے میں کوئی گناہ نہیں ہے -مثلا بیٹھ کر پانی پینا ، تین سانس میں پینا ، بیٹھ کر کھانا کھانا، ہاتھ سے کھانا یا آخر میں انگلیا ں چاٹنا -اس تفصیل میں ہم جائیں تو معلوم  ہوتا ہے کہ رسول پاک صلعم کے ہاں تو کئی روز تک چولھا ہی نہیں جلتا تھا جبکہ آج ہماری امت میں بسیار خوری اتنی زیادہ ہے-
آپ کی اطاعت اور  اتباع سے واقفیت کیلئے سیرت طیبہ کا مطالعہ ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺکی زندگی میں مختلف النوع حالات پیش آئے اور مختلف قسم کے حالات میں آپ ﷺ نے جو طرز عمل اختیار کیا اس کے بارے میں ہمیں علم ہوتا ہے۔ ایسا وقت تھا جب آپ ﷺ دولت مند تھے پھر مفلسی بھی دیکھی۔ اطاعت گزاری کا وقت گزارا اور فرمانروائی کا بھی۔ دوستی بھی نبھائی، دشمنی بھی جھیلنی پڑی۔ صحت مند و تندرست رہے، بیماری سے بھی سابقہ پڑا۔ حکومت و جماعت کا انتظام چلایا، معلمی بھی کی، فوج کے سپہ سالار رہے، قاضی اور جج کے فرائض انجام دیئے۔ رشتہ داریاں نبھائیں، باپ کی حیثیت سے، شوہر کی حیثیت سے، سسر کی حیثیت سے، مسلموں اور غیر مسلموں سے تعلقات۔ دوسرے بڑے آدمیوں کی طرح آپکی زندگی کا کوئی گوشہ خفیہ نہیں ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی کا ہر رخ ہمارے سامنے ہے اور مکمل ہے۔ چمکتے سورج کی طرح واضح ہے۔ آپ ﷺ کا شخصی کردار اور آپ ص کا اعلیٰ اخلاقی اوصاف، شرافت، صبر، شجاعت، توکل، عبادت سب کی کیفیت اور عملی نمونے موجود ہیں۔
اس طرح آپﷺاپنی گھریلو زندگی میں اچھے شوہر، شفیق باپ، مہربان نانا کی حیثیت میں کس طرح کے تھے ہم بخوبی جانتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں اچھے ساتھی، ہمدرد  سربراہ، اعلیٰ کمانڈر، بہترین منتظم و مدبر، دشمنوں کے خیرخواہ وغیرہ ۔غرضیکہ ہر عمل کا نمونہ بہترین نمونہ آپ کی ذات میں ملتا ہے۔ 
حضرت عائشہ ﷺ کا قول ’’حضور ﷺکا اخلاق مجسم قرآن ہے۔ ‘‘
قرآن پاک کی آیت ہے۔ وَمااٰتکُم الرسول فخذوہ وَمانھا کم عنہ فانتھوٰہ۔ یعنی تمہارا رسول تمہیں جو چیز دے اسے خوشی سے لے لو اور جس چیز سے روکے اس سے باز رہو۔
اس کے ساتھ ہی سورہ النجم سے اس بات کی تشریح کر دی وَماینطق عن الھوٰی اِن ھو اَلاَّوحی یوحیٰ کہ نبی ﷺ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے بلکہ جو ان کو وحی کی جاتی ہے وہی بولتے ہیں۔

قرآن پاک میں آیا ہے۔
انا ارسلنک شاھداً و مبشراً و نذیراً لیُؤمنو باللہ و رسولِہِ (الفتح 8-9)
بیشک ہم نے بھیجا آپ کو گواہ بنا کر، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا تاکہ اے لوگو!تم اللہ اوراس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آؤ۔
شاہد، مبشر، نذیر کی تشریح۔
سورہ اعراف میں ارشاد ہوتا ہے۔
فاٰمنوباللہ رسولہ النبی الامّی الذی یُومن باللہ و کلمتِہِ و اتبعوہ لعلَکُم تھتدون۔
پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر جو خود اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتا ہے اور اس کی پیروی کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا لو۔
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔
ومن لم یومن باللہ وَرسولِہ فانَّااعتدنا لِلکٰفرین سعیراً۔
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لایا تو پس ہم نے کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔
ان آیات سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ حضورﷺ پر ایمان لانا فرض ہے اور حضو ﷺ پر ایمان لائے بغیر نہ ایمان پورا ہے اور نہ اسلام درست ہے۔
حضرت ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جہاد و قتال کروں جب تک کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور میری رسالت کے ساتھ ان باتوں کی تصدیق نہ کرلیں جو مجھے اللہ تعالیٰ نے تعلیم فرمائی ہیں۔اب ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ 
آنحضرت ﷺکا معاملہ یہ کہ آپ نبی اُمّی تھے (اَن پڑھ) آپ اس قوم میں مبعوث ہوئے جوتمام کی تمام جاہل تھی۔ آپ ﷺ کی نشوونما اس شہر میں ہوئی جہاں گزشتہ علوم کو جاننے والا کوئی نہ تھا نہ ہی آپ ﷺنے کسی ایسے شہر کا سفر کیا جس میں کوئی عالم تھا جس سے آپ ﷺعلم حاصل کرتے اور توریت و انجیل اور گزشتہ امتوں   کے حالات جانتے۔ یہ ایک مصلحت خداوندی تھا اس کے باوجود آپ ﷺ نے دنیا کے تمام ملتوں کے ہر فریق میں ایسی محبت قائم کی کہ اگر تمام دنیا کے عالم و نقاد بھی جمع ہو جائیں تو بھی اس کی مثل کی کوئی دلیل نہیں لاسکتے۔ اُمّی ہونے کے باوجود آپ ﷺ کا ہر قسم کے علوم میں ماہر ہونا آپ ﷺ کی عظمت کی روشن دلیل ہے۔
آپﷺ پر صرف ایمان لانا کافی نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں آپ ﷺ کااتباع ضروری ہے۔ آپﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔ آپ ﷺ پر ایمان لانے اور آپﷺ کی اطاعت و اتباع کی بدولت ہی ہدایت ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔جو شخص واضح ہدایت اور رہنمائی ملنے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے، اس کے لئے جہنم کی آگ ہے جس میں اسے جھونک دیا جائے گا اور اپنے انکا رکے سبب سے عذاب کا مزہ چکھے گا۔