Tuesday, January 22, 2013

مولانا طاہرالقادری کی پاکستان آمد

مولانا طاہرالقادری کی پاکستان آمد

عابدہ رحمانی
مولانا طاہرالقادری اچانک اپنے گوشہ عافیت سے نکل کر پاکستان پہنچے اور تقریبا ایک ماہ پاکستان کی سیاست میں زبردست ہلچل مچا دی بلکہ ایک بھونچال لے آئے اخبار نویسوں کالم نویسوں کو وافر مقدار میں مواد فراہم کردیا کالم کے کالم صفحے کے صفحے سیاہ ہوئے گرما گرم چٹ پٹی خبریں ایک زندگی کی لہر دوڑادی- اور مصدقہ  اطلاعات کے مطابق ایمریٹس کی فلائیٹ سے دوبئی چلے گئے جھاں سے پھر عازم کینیڈا ہونگےے -
شیخ الاسلام کو جب پہلی مرتبہ جمعے کی نماز میں اپنے عقیدتمندوں کے جھرمٹ میں اسلامک سنٹر آف کینیڈا  مسی ساگا (اثناء مسجد) میں دیکھا تو مجھے کچھ جانے پہچانے لگے وہاں مردوں اور عورتوں  کے مصلے کے بیچ میں ایک چھوٹی سی شیشے کی دیوار ہے- پھر معلوم ہوا کہ یہ تو طاہرالقادری ہیں وہ ایک گروپ کی صورت میں داخل ہوتے  اور پیچھے کی صفوں میں  انکے مرید یا عقیدتمند انکے لئے کرسی رکھتے اور کرسی کے اوپر ایک کشن، وہ اپنی مخصوص وضع قطع کے ساتھ نماز پڑھ کر خاموشی سے روانہ ہوجاتے انکی اس مسجد میں کبھی بھی کوئی خاص اہمیت محسوس نہیں کی گئی نہ ہی انہوں نے اس مسجد میں کبھی کوئی پروگرام یا کوئی سرگرمی دکھائی - خاموشی سے آتے اور خاموشی سے چلے جاتے- یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کیونکہ اس مسجد میں آئے دن گونا گوں مقررین آتے ہیں اور اپنی جوہر خطابت دکھاتے ہیںاور یہ مسجد مسلم نوجوانوں میں کافی مقبول ہے- طاہرالقادری صاحب کی وہاں اپنی ایک مسجد بھی ہے جسمیں میرا کبھی جانا نہیں ہوا اسلئے اسکے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتی- لیکن سوائے اسکے کہ سی این این پر انکا دہشت گردی اور خود کش دھماکوں کے خلاف کچھ بیانات آئے تھے بلکہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف فتوہ دیا تھا اور کرسچین امان پور نے انکا انٹرویو لیا تھا جسکی سی این این اور دیگر نشریاتی اداروں سے کافی تشہیر ہوئی تھی-  لیکن صد افسوس کہ وہ ملالہ یوسف زئی کے مقام تک پہنچنے میں بہر حال ناکام رہے--میری نظر میں تو یہ کافی ایک مثبت قدم تھا جبکہ بیشتر علماء اس سلسلے میں خاموش ہیں- اسکے علاوہ انہوں نے یہ تقریبا 7 سال بڑی خاموشی سے گزارے بیشتر اخباری اطلاعات کے مطا بق وہ اپنی کچھ تصنیفات میں مصروف تھے - میڈیا سے لاتعلق تھے انکی کینیڈا آمد بھی کہا جاتا ہے کہ پناہگزینی ہے جسکو ریفیوجی سٹیٹس کہا جاتا ہے - انکو یہ حیثیت اسوقت حاصل ہوئی جب انہوں نے ڈنمارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت آمیز کارٹون بنانے والے کارٹونسٹ سے ملاقات کی اور اسپر انہیں جان کا خطرہ ہوا اب یہ ملاقات انہوں نے اسے دعوت اسلام دینے کے لئے کی ، متنبہ کرنے کیلئے کی یا سمجھانے کی لئے کی یہ تو وہی یا اللہ کی ذات ہی بہتر جان سکتی ہے-لیکن  قادری صاحب نے یہ پناہگزینی کی درخواست میں لکھا کہ میری جان کو لشکر طیبہ ، تحریک طالبان ، لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ سے سخت خطرہ ہے اسلئے مجھے پناہ دی جائے- اس پر یہ پابندی ضرورلگ جاتی ہے کہ  آپ اس ملک میں واپس نہیں جاسکتے جہاں آپکی جان کو خطرہ ہے - کینیڈا میں پناہگزینی کا مطلب یہ ہے کہ سارے مصارف حکومت کینیڈا کے ذمہ ہوتے ہیں اسکے علاوہ وہاں کی ویلفیر یا خیراتی سسٹم سے انہوں نے خوب فائدہ اٹھایا بہت سے ایسے کھاتے پیتے مسلمان جو یوں گوشت تو حلال ذبیحہ کھایئنگے لیکں اپنے آپ کو غریب ، مفلس اور ضرورت مند دکھا کر یہاں کے ویلفیر سسٹم سے مفت تمام مراعات ، گھر، وظائف اور خوراک حاصل کرینگے تف ہے ان پر کہ اس حرام اور نارروا کووہ کیسے جایز سمجھتے ہیں- انہی کے کارناموں کی وجہ سے کینیڈا میں مسلمانوں کے 60٪ غربت کے گروپ میں آجاتے ہیں-  ایک مرتبہ میں اسلامآباد سے ٹورنٹو جارہی تھی میری ہمسفر ایک با پردہ خاتون تھیں بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ شوہر اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اسلام آباد میں ذاتی مکان ہے لیکن وہاں جیرارڈ سٹریٹ پر سرکاری مکان میں رہتی ہیں اور کیش پر کام کرتی ہیں یعنی وہاں کے ویلفئر سسٹم سے پوری طرح مستفید ہیں- دونوں ماں بیٹی زیورات سے لدی ہوئی تھین اب کسٹم نے انکا کیا حشر کیا یہ تو میں نہیں دیکھ پائی- ایسے لوگوں کا ضمیر نہ جانے کہاں گھومنے پھرنے چلا جاتا ہے اس ہیرا پھیری میں انہیں اللہ ، رسول کے احکامات محض دوسروں کو بتانے کیلئے یاد رہتے ہیں-  جیسا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کا برطانیہ میں موقف ہے - انکا اور قادری صاحب کا حال کچھ ملتا جلتا ہے- یہ دونوں ہاتھوں سے ان ممالک میں مراعات لوٹ رہے ہیں اور پھر پاکستان میں مریدوں اور بھتے کی آمدنی الگ- اسی کو کہتے ہیں پانچوں گھی میں--
 ہان لیکن پاکستان واپسی میں انہوں نے الطاف حسین سے کہیں زیادہ جلدی اور خود اعتمادی دکھایی- قادری صاحب  ایک اعلے تعلیم یافتہ شخص ہیں انکے پاس اسلامی قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے-بطور پروفیسر پڑھا چکے ہین کچھ عرصہ انہوں نے تدریسی فرائض بھی انجام دئے - ایک زمانے میں کراچی کی مسجد رحمانیہ میں درس دیا کرتے تھے اب یہ میں نہیں جانتی کہ کیا کراچی میں انکی قیام گاہ تھی یا لاہور سے آتے جاتے تھے - انتہائی فعال شخصیت ہے انکا ایک پاؤں آسٹریلیا میں دوسرا بھارت  میں تیسرا ڈنمارک میں توبہ توبہ دو ہی تو پیر ہیں- اب وہ انڈیا گئے تو خاص طور پر گجرات مودی سے ملے وہ اپنے ساتھ ایک گورے کینیڈئین سیکورٹی گارڈ کوبھی لیکر گئے تھے جو تصایر میں انکی حفاظت پر مامور ہے- اسی طرح گجرات کی پولیس بھی ا نکی حفاظت پر مامور تھی - طاہر القادری نے نریندر مودی کا بطور خاص شکریہ ادا کیا جبکہ مودی نے انکو امن کا سفیر اور پیامبر کہا- نریندر سنگھ مودیجو  گجرات کے مسلما نوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے -ا نڈیا کے بریلوی مکتبہ فکر نے انہیں طاہر الپادری کا خطاب دیا-
 ایک زمانے میں نواز شریف اور انکے گھرانے کے منظور نظر تھے سنا ہے نواز شریف اپنے کندھوں پر بٹھا کر غار حرا لے کر گئے تھے کیا عقیدت اور کیا سواری - عقیدت تو یہ بھی دیکھی کہ قادری صاحب تشریف فرما ہیں لوگ دھمال ڈالتے ڈالتے آکر انکے پاؤں پر سجدہ کرتے ہیں -پھر وہ اسی سجدہ ریز کو اٹھا کر گلے لگاتے ہیں وہ فرط جذبات سے روتا ہوا ہٹا دیا جاتا ہےتو اگلے کو آنے کا اشار کرتے ہیں اب یہ اسلام کی کونسی صورت اور کونسی خدمت ہے اس شرک عظیم کے کرنیوالے کو کیسے بخش دیا گیا جبکہ بوسیدہ قرآن جلانیوالوں کی جانیں چلی جاتی ہیں- تحریک منہاج القرآن نے کیا اس شرک کو اپنے عقیدے کا حصہ بنا ڈالا تھا- لیکں قادری صاحب کی پشت پناہی یقینا ہے اب وہ کس کے ایما پر پاکستان گئے اتنا بڑا جلسہ یادگار پاکستان پر منعقد کیا اور پھر اتنی سخت سردی مین یہ لانگ مارچ- عطاءالحق قاسمی کو شرکاء کیلئے ڈائپرز کی فکر ہورہی تھی لگتا ہے قاسمی صاحب ابھی تک ناروے سے واپس نہیں آئے یا پھر انکو پنجاب اور پاکستان کے دیہی علاقؤن کے عوام کا رفع حاجت کرنا یاد نہیں رہا - ڈی چوک کے اطراف تو اس دھرنے کے بعد لہلا اٹھینگے رہے قادری صاحب انکے لئے تسلی بخش انتظام تھا لیکن ڈبہ بند ہونا بھی آسان کام نہٰیں ہے کوئی دوسرا لیڈر ایک دن بھی اس ڈبے میں بند ہوکر دکھائے-
اب قادری صاحب نے کیا حاصل کیا اور کیا نہٰیں کرسکے پاکستان میں یہ کیا کم ہے کہ کم از کم اس دھرنے کا انجام بخیر ہوا نہ ہی کوئی بم پھٹا نہ خون ریزی ہوئی او ر پاکستان میں ایک پر امن جلسہ اور دھرنا کرنا کیا کم کامیابی ہے وہ بھی ایسا جسمیں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ائی ورنہ پاکستان میں انسانی زندگی یا انسانی خون پانی سے سستا ہے بینظیر کے ایک مارچ میں ڈیڑھ سو لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے جبکہ دوسرے میں انہوں نے اپنی جان ہاردی- قادری صاحب نے اپنے آپ کو منوا تو لیا ہے اب دیکھئے پاکستانی سیاست انکی دوہری شہریت کو مانتی ہے کہ نہیں - کل تو انکو جنرل پرویز مشرف نے بھی خوب سراہا-  اب جر نیل صاحب کی آمد آمد کی خبریں بھی گرم ہیں  وہ بھی آخر دوبارہ ان ہو ہی گئے- جو بھی ہو اللہ تعالی پاکستان کی خیر کرے-
رب راکھاں پاکستان نو
-- 



عابدہ

Friday, January 18, 2013

What is the MLK Day of Service?



What is the MLK Day of Service?


Dr. Martin Luther King JR. Is an established icon of American history who fought racism relentlessly , nonviolently and changed the course of history.
MLK jr  ( 15th January 1929--April 4 1968) was a clergy man. He is best known for his prominent role in African- American civil rights movement  which was a nonviolent  resistance civil disobedience movement.
On October 14 , 1964 MLK was awarded Nobel prize for combating racial inequality through a nonviolent movement. In the next few years he mainly focused on eliminating poverty and stood against Vietnam war.
On August 28, 1963, Clayborne Carson was one of hundreds of thousands of demonstrators at the March on Washington.
He witnessed Martin Luther King, Jr deliver his historic "I Have a Dream" speech. It was a day that changed his life.
In his new book, "Martin's Dream", Carson describes his journey through the civil rights era to today, including becoming a professor at Stanford University, being chosen by Coretta Scott King to edit Dr King's papers, and helping design the memorial to the civil rights leader that now stands in Washington DC.
King got assassinated on April 14, 1968 in Memphis, Tennessee.

In a sermon delivered nearly 55 years ago, Dr. Martin Luther King Jr. described what he called the “Drum Major Instinct” to the congregation in Atlanta's Ebenezer Baptist Church. The words he spoke that day were the inspiration for a national service award that recognizes leaders who give their time serving others but seldom seek the spotlight.
The sermon includes the following passage from Dr. King that acknowledged the desire to lead but emphasizes selfless motives: “Yes, if you want to say that I was a drum major, say that I was a drum major for justice; say that I was a drum major for peace; I was a drum major for righteousness… We all have the drum major instinct.”
The Martin Luther king JR Drum Major program gives organizations and groups an opportunity to acknowledge and celebrate those volunteers who perform extraordinary everyday acts of service with reliability and commitment but seldom receive recognition. As part of the MLK Day of Service, the Corporation for National and Community Service (CNCS) provides two options to recognize individuals who have demonstrated the “drum major instinct” in their communities.
Dr. Martin Luther King Jr. once said, "Life's most persistent and urgent question is: 'What are you doing for others?'"
The MLK Day of Service is a part of United We Serve, the President's national call to service initiative. It calls for Americans from all walks of life to work together to provide solutions to our most pressing national problems.Americans from all 50 states will join thousands of organizations and commit to service this weekend as the Martin Luther King Jr. Day of Service coincides with the 57th Presidential Inaugural and National Day of Service.
Commemorating this day of Service we should remember about the service to humanity in Islam and as a Muslim what we are obligated to.
The verse of the Holy Qurán, which so comprehensively covers this concept of service to humanity, reads
O people of Islam, "You are the best people ever raised for "the good of" mankind "because you have been raised to serve others"; you enjoin what is good and forbid evil and YOU believe in Allah." (3:110)
You will remain the best as long as you are service-minded, promote good and promote the welfare of society. If you fail to do this, you no longer have a right to boast of the superiority of Islam and the Muslim Ummah. A society which is insensitive to the suffering of other human beings and is not always inclined to serve the cause of humanity cannot be described as an Islamic society, no matter how much it adhered to other aspects of Islamic teachings.
The fundamental qualities that we must all acquire to serve mankind or to develop a passion to serve mankind are: love for humanity, kindness in our hearts for others, a charitable disposition, humility, honesty, a thirst for knowledge, a desire to share knowledge with others and a constant desire to strive in the cause of Allah by doing good. We must be a people from whom goodness flows towards others. Most  of our Muslims possess these characteristics.
The teachings of the Holy Qurán and the example of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) direct us on how best to serve mankind. The Holy Prophet  (peace and blessings of Allah be on him) practiced the teachings of the Holy Qurán to the fullest extent and is the best example of the true representation of service to mankind and to Allah. That is why Allah says in the Holy Qurán:
"And do not forget to do good to one another." (2:238)
And about the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) the Holy Qurán says:
"and we have sent you not but as a blessing (mercy) for the entire universe (for all peoples)" (21:108)
"Verily you have in the prophet of Allah an excellent model." (33:22)
The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) emphasized love, sympathy, and kindness towards all. He also emphasized that we must show each other great appreciation. He said, "One who is not grateful to mankind is not grateful to Allah." (Tirmidhi)

آخری خواہش

آخری خواہش


عابدہ رحمانی

مریا کے گھر پہنچتے پہنچتے رات کے ڈیڑھ بج چکے تھے ماما کی مہربانی کہ وہ بچوں کو سلا چکی تھی اسے کتنی تمنا تھی کہ نیو ائر نایٹ پر اسکو ڈیوٹی مل جائےگاہکوں  نے خوب دل کھل کر ٹپ دی اب صبح صبح شاپنگ کے لئے نکل جاؤنگی مال 8 بجے کھلے گا میں ساڑھے سات تک پہنچ جاؤنگیٓ ماما اپنے بوائے فرینڈ سے لڑ کر اسکے پاس آگئی تھی تو اسنے شکر کیا ورنہ پھر بچوں کو بھی ساتھ لےجانا پڑتا
اسے بلیک فرایڈۓ کی شاپنگ یاد آرہی تھی رات کے بارہ بجے بچوں کو ڈبل سٹرالر میں لپیٹ لپاٹ کر خریداری کرنے گئی لمبی لمبی لائینیں رات کے تین بجے جو بیسٹ بائے کا دروازہ کھلا لوگ پاگلوں کی طرح اندر گھسے لگتا تھا سب کچھ مفت بٹ رہا ہے ٹی وی تو مل گیا تھا باقی سب الیکٹرانکس جو اسے چاہئے تھے ختم ہوگئے اور چھوٹے جانسن کو نمونیہ ہوگیا سنگل مادر ہونا بھی کتنا مشکل ہے وہ تو شکر ہے سوشل سیکورٹی مل جاتی ہے اورتین مہینے ہوئے اسے یہ ملازمت گیارہ ماہ کی بیروزگاری کے بعد ملی ہے- پچھلا سال کتنا رف گزرا سوزی بھی ساتھ چھوڑی گئی سوزی کو یاد کرکے اسکے آنسو ٹپکنے لگے جب آخری بار اسے ویٹ کے پاس یو تھینائز کرنے لے گیئ تھی- رابرٹ سے طلاق ہوگئی اچھا ہے مشکل سے جان چھوٹی وہ تو میرے اوپر ایک اضافی بوجھ تھا ہم دونوں کے پلے کچھ نہیں تھا دونوں بینک رپٹ( دیوالیہ) تھے اتنے کریڈٹ کے بعد دیوالیہ ہونا ہی فائدہ مند تھا لیکن کلکشن کمپنیاں جان نہیں چھوڑتیں اب سب کچھ کیش پر لینا پڑتا ہے کریڈٹ ہسٹری بننے میں تو وقت لگے گا- خیر کیا فرق پڑتا ہے میں اس ملک میں کوئی انوکھی نہیں ہوں-
حیرت ہے ماما بھی سو چکی تھی ورنہ اسے نیو ایر وش کرتی میں نے ٹیکسٹ تو کردیا تھا اسنے ماما کے لئے ہیپی نیو ائر والے ٹیگ اور غبارے کے ساتھ والے پھولوں کو گلدان میں رکھا میز پر رکھی ہوئی بوتل قدرے خالی تھی شکر ہے ماما نے الکوحل کم کردی ہے - ماما کے خراٹوں کی آواز آرہی تھی اسے اپنا باپ یاد آیا ہسپتال میں پڑا ہوا کینسر زدہ - میں نے ٹیکسٹ تو کردیا تھا -اسکا جواب نہیں آیا کل شاپنگ کے بعد تھوڑی دیر کیلئے دیکھنے جاؤنگی
- سب سے پہلے تو کوچ کا ہینڈ بیگ لونگی اسے کتنا ارمان تھا برانڈڈ چیزوں کے لینے کا، لنڈا کو دیکھو لوئی وٹان کا بیگ لائی تھی اور ایک ٹامی کی جینز لیلونگی پتہ نہیں جوتوں کیلئے اتنا کیش ہو جائیگا سردیوں والے لمبے جوتے بھی ہو جاتے تو، اب تک کلیکشن ایجنسیز نے ناطقہ بند کیا ہوا ہے- آج ریسٹونٹ سے کافی بچا ہوا کھانا مل گیاتھا -اگلے چند روز آرام رہے گا رات کی شفٹ کا ایک یہ بھی فایدہ ہے- اسکا جوڑ جوڑ دکھ رہاتھا تقریبا 12 گھنٹے آج کام کیا تھا بھاگ بھاگ کر پیروں کے تلوے پھٹ رہے تھے اسنے تلووں پر پٹرولیم جیلی ملی، دو ٹائیلینول کی گولیاں کھائیں  اور جلدی سے کپڑے بدل کر سو گیئ-
صبح چھ بجے اٹھی بچے جاگ چکے تھے ماما ابھی تک سو رہی ہیں جلدی جلدی بچوں کو ناشتہ کرواکر تیار ہوئی چھوٹے کا ڈائپر بدلا ماما کا دروازہ کھٹکھٹایا آجاؤ میں جاگ رہی ہوں دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے لپٹ گئیں اسنے پھول دئے ماما میں شاپنگ پر جارہی ہوں نیو ائیر سیلز بہت اچھی ہیں میں آؤن تو تم چلی جانا دیکھو جانی ابھی بھی کافی کمزور ہے ہاں ناشتہ کرلو میں کافی کھانا لائی ہوں 
ابھی مال کے دروازے نہیں کھلے تھے سارے ارلی برڈز جمع تھے-- وہ سب سے پہلے کوچ پر گیئ یہاں کی مخصوص سیل ہے اکثر بیگ تقریبا 80-90 ٪ کم پرتھے اسطرح تقریبا ڈیڑھ سو میں ایک عام بیگ پڑ رہاتھا ایک ہجوم تھا اسنے دیکھ بھال کر ایک بیگ پسند کیا ابھی وہ اور چیزیں دیکھ رہی تھی کہ فون کے ٹن نے اسے متوجہ کیا اسکے باپ کا ٹیکسٹ تھا - ہیپی نیو ائر ڈارلنگ ڈاکٹر کہتا ہے میرے پاس وقت بہت کم ہے اور میں اپنے شوق پورے کرسکتا ہوں ڈارلنگ تمہیں میرا شوق معلوم ہے اور میں اس سے پچھلے کئی مہینے سے محروم ہوں زیادہ نہیں تین بوتل کافی ہوگی میری پیاری بیٹی کیا تم اپنے باپ کی اس آخری خواہش کو پورا کروگی اسکے آنسو ٹپکنے لگے اسنے بیگ خاموشی سے رکھا اور سڑک کے اسپار وائن سٹور کی طرف روانہ ہوئی

-- 

Wednesday, January 16, 2013

ایک افسانچہ

ایک افسانچہ
عابدہ رحمانی


بیوی باورچی خانے سے چلا رہی ہے ،میاں کمپیوٹر ڈیسک ٹاپ پر کانو ںمیںائیر پلگ لگایے بیٹھا ہے
"ارے سنتے ہو شام کو راشدہ کے سسرال والے آرہے ہیں ذرا بازار جاکر یہ سامان تو لۓ آؤ- خدا کی پناہ کیا منہ میں گھنگنیاں ڈالکر بیٹھے ہو بولتے کیون نہیں؟'
تنگ آکر سامنے بکتی جھکتی کھڑی ہوئی تو میاں نے ائر پلگ نکال کر کہا "ارے بیگم کیا کہہ رہی ہیں آپ میں کچھ ضروری کام کر رہاتھا'
"ہاں ہاں خوب جانتی ہوں تمہارے ضروری کاموں کو اب تو ریٹائر ہوۓ کئی مہینے ہوگئے بھلے چنگے ہو کوئی دوسری ملازمت کیوں نہیں ڈھونڈھ لیتے - دیکھ رہے ہو گھر کا خرچ کتنی مشکل سے چلتا ہے" مہنگائی دیکھو آسمان سے باتیں کر رہی ہے ابھی بیٹی کو بیاہنا بھی ہے"
"ہاں ہاں وہی تو کر رہاتھا اسپر ملازمت ہی تو ڈھونڈھ رہا تھا - تم کیا جانو اب تو ساری ملازمتیں بھی اسی پر ہیں، ہاں تو تم کیا کہہ رہی تھیں اچھا یہ لسٹ دے دو میں مسجد میں نماز پڑھکر واپسی پر لیتا آونگا-" میاں لسٹ لیکر ٹوپی پہن کر مسجد کو روانہ ہوئے
بیوی کو تجسس ہوا کہ آخر کو وہ کمپیوٹر پر اتنا کھویا ہوا کیوں تھا -خود تو وہ اس سے واقف نہیں تھی بیٹھ کر ماؤس ہلانے لگی تو سکرین پر ایک سے ایک  حسین و جمیل بنی ٹھنی پوز مارتی ہوئی لڑکیاں جلوہ آرا ہیں 
غصے سے بھنتے ہوئے ایک مرتبہ تو اسنے سوچا اسکے ٹکڑے ٹکڑے  کردے 
اتنے میں میاں ٹوپی پہنے تسبیح لہراتے ہوئے داخل ہوئے" ارے بیگم بٹوہ تو گھر میں ہی بھول گیا" ہاں تمہیں ان کلموہیوں سے فرصت ہو تو تمہارا دماغ کچھ کام کرے- راشدہ کے ابا ویسے تمہاری بیٹی سے چھوٹی ہی ہونگی کچھ تو خدا کا خوف کروو!!
اچھا اچھا چلو اس بہانے تم نے اس کمپیوٹر کو چھو تو لیا -ارے بھئی یہ سب اس کمپنی کی ماڈل ہیں جہاں میں سکرپٹ رائٹر کی درخواست دے رہا ہوں - بہت اچھی نوکری ہے اور تنخواہ بھی کافی معقول ہے - سوچ لو

Tuesday, January 15, 2013

Journey of life: سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ

Journey of life: سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ: سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ --  عابدہ رحمانی تھوڑی دیر پہلے وال اسٹریٹ جرنل میں ایک وفات شدہ لڑکی کے انٹرنیٹ کے اثاثے یا اسکے ...

سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ


سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ

-- 
عابدہ رحمانی
تھوڑی دیر پہلے وال اسٹریٹ جرنل میں ایک وفات شدہ لڑکی کے انٹرنیٹ کے اثاثے یا اسکے چھوڑے ہوئے اکاؤنٹس کے متعلق ایک مضمون پڑھ رہی تھی کچھ عجیب سی کیفیت ہوئی اس سولہ سالہ لڑکی کو بڑی آنت کی بیماری تھی وہ اپنے آخری ایام میں زیادہ تر وقت کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر گزارتی تھی - اسکے پاس ای میلز ، فیس بک ، ٹوئٹر اور دوسرے کیئ اکاؤنٹ تھے جس سے وہ اپنے آن لائن دوستوں اور باقی دنیاکی دلچسپیوں اور سرگرمیوں  سے واسطہ اور رابطہ رکھتی تھی- اسکے دنیا سے جانے کے بعد اسکی دوسری بہن ان صفحات کو  کھول لیتی تھی جو کھلے ھوئے تھے لیکن جب پاس ورڈ کا مرحلہ آیا تو اسے ناکامی ہوئی-اسنے پاس ورڈڈھونڈنے کیلئے اپنے طور پر کوششیں بھی کیںجسے انگریزی میں پاس ورڈ کریک کرنا یا توڑنا کہتے ہیں- اور  اب انہوں نے ان کمپنیوں یا انٹرنیٹ اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی اور بہن کی تحاریر دیکھنا چاہتے ہیں اسکے خیالات جاننا چاہتے ہیں وہ کافی کچھ لکھا کرتی تھی ، شاعری بھی کرتی تھی ہوسکتا ہے وہ ان تحاریر کو کتابی صورت میں شائع کر دیں-اسکی بیشمار تصاویر ہیں-انکے بقول انکو اسے دیکھنے اور پڑھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور جسطرح اسکی دیگر اشیاء انکے تصرف میں آئی ہیں اسی طرح یہ بھی انکی ملکیت اور وراثت ہے-  اسکے لئے ان اکاؤنٹ والے ادارے انکو پاس ورڈ مہیا کر کے انکی مدد کریں-
  جب سے کمپیوٹر اور آنلائن سہولیات ہماری زندگی کا اہم اور لا ینفک جز بن چکے ہیں-  ہم اب اس سہولت یا علت کے اسقدر عادی ہوگئے ہیں اس تانے بانے میں ، مکڑی کے جالے میں بری طرح الجھ چکے ہیں- ہماری تمام تر خط وکتابت ، بات چیت ، لکھائی پڑھائی ، تمام تحاریر اسی کمپیوٹر،( اسکو آپ جو بھی نام دے دیں ، نوٹ بک ،منی، لیپ ٹاپ ، ٹیبلٹ پی سی )جو بھی کہہ دیں اسی پر ہیں - بلکہ گوگل ، یاہو، ہاٹمیل، فیس بک ، ٹوئٹر،پکاسا، شٹرفلائی اور اور اور---  پر ہیں- تمام تصاویر اب اس پر ہیں کیمرے سے تصاویر اسی پر ڈالدیں اور اسی پر وضع شدہ مختلف ذرایع سے اپنے اعزاء واقارب سے شریک کردیں - سارےالبم اسی پر ہیں - انہی اکاؤنٹ پر مختلف فولڈرز بناکر انمیں اور تحاریر کو عنوانات اور دلچسپیوں کے لحاظ سے  تقسیم کیا ہوا ہے اور زیادہ ترتیب دینے کو جی چاہا تو بلاگ بنا ڈالا یا ویب سائٹ بنا ڈالی ، فیس بک پر ڈالدیا بلکہ فیسبک کی ایک اور اتنی وسیع دنیا ہے - فون ہے تو وہ بھی اسی قسم کا اب ایک موبائل فون سے زیادہ موبائل کمپیوٹربن چکا ہے ٓٓ- کاغذ  کاا ستعمال تقریبا متروک ہو رہاہے لکھنا  تو دور کی بات پرنٹ آؤٹ بھی بہت کم نکالتے ہیں اکثر خیال آتا ہے کاغذ کا غیر ضروری ڈھیر لگانے کی کیا ضرورت ہے-  ماحولیات کے دوست کہتے ہیں کاغذ کا استعمال کم کرکے ماحولیات پر احسان کریں - ان کمپیوٹروں سے پہلے سب کچھ کاغذ پر ہی لکھا مل جاتا تھا مرنے والے یا والی کے اچھے برے تمام راز فاش ہو جایا کرتے تھے- ورنہ ردی کی نذرہو جاتےا
بقول چچا غالب 
چند تصویر بتاں اور کچھ حسینوں کے خظوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ سامان نکلا

  ہم بذات خود تو اتنے امتداد یا انقلابات زمانہ سے گزرے ہیں کہ کافی ساری یادداشتوں اور خطوط کو اپنے ہاتھوں تلف کیا ہے - اور کافی ضائع ہوگیئں-پرکھوں کے ساتھ یہ صورتحال نہیں ہوئی ں

انکی یہی تحاریر بعد میںہمارے سامنے آئیں، میں تو اپنے داداجی کی لکھائی دیکھ کر حیران رہ گیئ  گلستان سعدی کے کناروں پر انہوں نے فارسی میں جو دلکش حاشیہ آرائیاں کی ہوئی ہیں انکی بچی ہوئی تحاریر اب تو خاصی کرم خوردہ ہوگئی ہیں والد صاحب نے تو ایک ایک خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے پورے بکس بھرے ہوئے ہیں پوری ایک تاریخ محفوظ ہے انکے ابتدائے ملازمت کے رومن میں لکھے ہوئے خطوط ہیں - پچھلے سال بھائی کو جوش آیا تو زندہ افراد کو انکے اپنے تحریر کردہ خطوط واپس کر دئے ان خطوط اور نامہ و پیام کا بھی کیا وقت تھا- میری ایک سہیلی کے والد کا ٹرانسفر ہوگیا اسکے خطوط والد صاحب کے پتے پر آتے تھے اور سینسر ہوکر مجھ تک پہنچتے تھے آدھے سے زیادہ خط فراق کے اشعار سے بھرا ہوتا تھا - چلا چل لفافے کبوتر کی چال- محبت جو ہوگی تو دیگی جواب 
قسم کے' دو چار خطوط تو انہوں نے برداشت کئے اور پھر بالاخر ہمارادائمی فراق ہوگیا  ایک اور دوست لفافے کو کچھ ایسا معطر کر کے بھیجتی کہ اباجی کو اسکے اخلاق پر بھی کافی شک ہوا-اب ماں باپ کو دھوکہ دینا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اگرچہ اس زمانے میں بھی چالاکوں کی کمی نہیں تھی - لیکن ہماری شخصیت ہی کچھ برخوردار قسم کی تھی- ہمارے کچھ اعزاء جو بیرون ملک مقیم تھے انکے خطوط پورے خاندان کے لئے مشترک ہوتے تھے سب خوب لطف لے لے کر پڑھتے ایک عزیز کا تو طرز تحریر ہی اس قسم کا ہوتا تھا فلاں ، فلاں ، فلاں کے لئے مضمون واحد ہے-  کچھ اسی قسم کا جو اب ہم ایک ای میل کو کئی لوگوں کے ساتھ شریک کردیں-   یہ سب باتیں اب خواب وخیال ہوگیئں اب وہ عزیز و اقارب جو کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے انسے تقریبا رابطہ ہی ختم ہوگیا ہے خط لکھنے اور بھیجنے کا رحجان ایسا ختم ہوا ہے کہ ہاتھ کی لکھائی شاذونادر ہی نظر آتی ہے- ایک صاحب نے  بتایا میرے ساتھ بہت بڑی ٹریجڈی ہوگئی" اللہ خیر کرے مجھے تو بڑی گھبراہیٹ ہوئی" کہنے لگے میں ایک صاحب پر بہت دلچسپ مضمون لکھ رہاتھا کہ میرا کمپیوٹر کریش ہوگیا میں نے کہا کہ یقینا انہوں نے کوئی تعویذ گنڈہ کر دیا ہوگا- ایسا میرے ساتھ بھی ہوا لیکن آللہ کا شکر ہے کہ کچھ تحاریر آن لائن تھیں تو دوبارہ مل گئیں
ہم کمپیوٹر کے ماروں کا تو یہ  حال ہوگا ہمارے دنیا سے جانے کے بعد

نہ ہی پاس ورڈ ملا نہ ہی اکاؤنٹ کھلا
مرنیوالی کا راز ساتھ ہی مرقد میں گیا

 مجھ جیسے خانہ بدوش کی آدھی زندگی اس کمپیوٹر میں قید ہوگئی ہے یہی میری کتاب ہے ، یہی میرا اخبار ہے ، تلاوت ترجمہ اس سے سن اور پڑھ لیتی ہوں یہی میرا ریڈیو اور ٹی وی  ہے یہی میرا روزنامچہ یہی قلم یہی قرطاس زیادہ تر ڈرامے اور پروگرام اسپر دیکھ لیتی ہوں، یہیں میرے تصاویر کے البم ہیں  - میری بیشتر کلاسز اس پر ہوتی ہیں بلکہ آپ سب کا حال بھی کچھ مجھ سے مختلف نہ ہوگا اب تو میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اصلی کتاب کو  نہ ہی اٹھاؤں ایک زمانہ تھا کہ نیند کتاب، اخبار یا رسالہ پڑھتے ہوۓ ہی آتی تھی اتنا برا چسکا تھا -اب ان چھوٹے ہلکے پھلکے نوٹ بک اور ٹیبلٹس کومیں انکے نعم البدل کے طور پراستعمال کرتی ہوں- بالکل ایک کتاب کی طرح جب میرا نیا منی لیپ ٹاپ  آیا تھا تو اسکا نام میں نے رکھا،" میرا نیا دوست"-- پہلے جو دوستی کتابوں سے تھی اب اس سے ہوئی- جب -کہ بعض کہتے ہیں کہ جب تک کتاب کو چھو نہ لیں تسلی نہیں ہوتی-
وال سٹریٹ والا مضمون پڑھنے کے بعد   پہلا کام میں نے یہ کیا کہ اپنے پاس ورڈز اپنی ایک ڈائری میں لکھے اور پاس ورڈ بھی کتنے ہیں اللہ کی پناہ انٹرنیٹ اکؤنٹوں کے، بنک اکاؤنٹوں کے الگ ، کریڈٹ کارڈز کے الگ ، باقی دکانوں یا سٹوروں کو تو جانے دیجئے اب تو  تمام بل سٹور کی رسیدیں بھی ای میل میں آتی ہیں اور اسی کے ذریعے ادائیگی ہوتی ہے-
سوچا  کیا خبر بعد میں میر ے بچوں کو تجسس ہو کہ امی کا آدھا بلکہ بیشتر وقت تو کمپیوٹر پر گزرتا تھا نہ جانے کیا کیا گل کھلاتی ہونگی؟ ورنہ اس بھاگتے دوڑتے زمانے میں کس کے پاس فرصت ہے ؟اگر کسی کو خیال آیا تو اسے دقت نہ ہو- میری ایک دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ اپنی سوانحعمری لکھ کر رکھ دو اور بچوں کو وصیت کردو کہ وہ بعد میں شائع کردیں - میں نے کہا اتنا کھٹن اور غیر دلچسپ کام انکے لئے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی اسلئے مجھے جو اپنا مطبوعہ غیر مطبوعہ جو کچھ ملا اسکا ایک مجموعہ بنا کر جلدی سے شایع کردیا سوچ رہی ہوں باقی کو بھی جلدی سےٹھکانے لگا دوں میرے پاس روزانہ اسقدر ای میلز آتی ہیں انمیں سے آدھی تو بغیر پڑھے حذف یا ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں  کتنی تو سپام یا جنک میں چلی جاتی ہیں-ضروری کو میں فورا پڑہتی اور جواب دیتی ہوں دلچسپ کو روک لیتی ہوں کہ فرصت میں پڑھونگی اوراکثر یہ فرصت بہت دیر سے آتی ہے یا آتی ہی نہیں- وہ تو اللہ بھلا کرے ان ای میل سروس مہیا کرنیوالے اداروں کا کہ بے حساب ای میلز آرہی ہیں جارہی ہیں اور اکٹھی ہو رہی ہیں اور انہوں نے ہمیں یہ سہولت ایک طرح سے مفت مہیا کی ہوئی ہے اور یہی اس تمام سلسلے کا گورکھ دھندہ ہےٓ

وائے فائے نے نکما کردیا مجھکو
ورنہ میں بھی آدمی تھی کام کی






Wednesday, January 9, 2013

امریکہ سوگوار ہے ! سینڈی طوفان کے بعد سینڈی ہک سکول کا المیہ

امریکہ سوگوار ہے !
سینڈی طوفان کے بعد سینڈی ہک سکول کا المیہ"

عابدہ رحمانی

جمعہ چودہ دسمبر کی صبح ساڑھے نو بجے کا وقت ہے کنیکٹی کٹ کے قصبے نیوٹاؤن میں سینڈی ہک نامی ایلیمنٹری سکول میں( پرائمری سکول) معمول کی چہل پہل ہے ابھی کلاسز شروع ہی ہوئی ہیں بچوں اور استادوں کے کھلے  ہوئےچہرے ایک نئی صبح کا آغاز لئے ہوئے ہیں کرسمس کی آمد آمد ہے اکثر بچے اور استانیاں تفریحا لال سفید پھندنے والی ٹوپی اور شرٹ پہنی ہوئی ہیں ہر طر ف ایک خوشی و انبساط کی کیفیت ہے آج ہفتے کا آخری دن ہے اور ویک اینڈ کے لئے سب بیچینی سے  منتظر ہیں- بچے اپنے روزمرہ کے کام میں مصروف ہیں کہ اچانک ایک زور دارفائر نگ کی آواز سب کو چونکا دیتی ہے اور پھر تھڑ تھڑ گولیاں چلنے کی اورچینخ پکار کی آوازٰیں ،27 سالہ استانی وکٹوریا سوٹو اپنی کلاس کے بچوں کو جلدی جلدی الماریوں اور غسل خانے میں بند کرنے لگتی ہے اسکے  پاس بچوں کو بچانے کا یہی ایک راستہ ہے وہ انہٰں  بند کرکے آگے  ہوئی ہی  ہےکہ اتنے میں خونخوار 20 سالہ آدم لینزا اسے اپنی گولیوں کا نشانہ بناتا ہے جس قاتلانہ رائفل کا وہ استعمال کرتا ہے اسکی ایک گولی ہی انسان کو ڈہیر کرنے کیلئے کافی ہے- اسنے ابتدا اپنی ماں نینسی لینزا سے کی تھی اسکی لاش بعد میں اسکے گھر سے ملی- ماں کو مارکر وہ سینڈی ہک اسکول پوری طرح مسلح ہوکر پہنچا وہ اس اسکول میں چار سال تک طالبعلم بھی رہ چکا تھا- اب اسے اپنی ماں سے کیا کدورت اور بغض تھا اسکے ساری شواہد نے اسنے اپنے اس ناپاک مشن پر آنے سے پہلے قلع قمع کردئے اپنے کمپیوٹر کو اسنے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تاکہ بعد میں تحقیقاتی ادارے ٹامک ٹوئیان مارتے رہیں اور تعئین کرتے رہیں کہ ایسا کیوں ہوا اور کیسے ہوا؟ اس دوران کچھ لوگ 911 کو فون کر چکے ہیں 20 بچوں اور 6 اساتذہ کی جان لینے کے بعد آدم نے اپنی جان بھی لے لی- 911 والے آئے تو دیر ہو چکی تھی کچھ زخمی تھے -مرنے والے 20 بچوں کی عمریں 5سے 10 سال کے درمیان تھیں " حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے" اس المئے پر پورے امریکہ میں اور تمام دنیا میں ایک کہرام مچ گیا -ایک ہفتہ گزر چکا ہے آج پنسلوانیا میں تین لوگوں کی جان لیکر قاتل نے اپنے آپ کو مار دیا - اسواردات اور خود کش دھماکوں میں کوئی فرق نہیں ہےمحض یہ کہ  وہ اپنے جسموں پر بم -باندھتے --ہیں اور یہ اسالٹ رائفل لے کر نکلتے ہیں اور پھر اپنی جان لے لیتے ہیں  
ہم تو امریکہ میں  اس طرح کی ہر واردات ہونے کے بعد سب سے  پہلے اللہ کا یہ شکر ادا کرتے ہیں کہ اس برے فعل کا کرنے والا کوئی مسلمان ہر گز نہیں ہے ورنہ پوری مسلم کمیونٹی اس جرم کی لپیٹ میں آجاتی، جبکہ دوسری صورت میں یہ ایک انفرادی فعل قرار دیتا ہے- لیکن اس غم میں اس دکھ میں پوری طرح شریک ہیں اسلئے کہ ہم اب اسی ملک کے باشندے ہیں اور ہمارے بچے بھی یہاں کے درس گاہوں کا حصہ ہیں- دہشت گردی اور قتل عام دنیا میں کہیں بھی ہو ایک انتہائی ناپسندیدہ فعل  ہےاللہ تعالی نے انسانی جان کو ایک مقدس ا مانت کہا ہے قرآن میں آللہ تعالی کا ارشاد ہے" اور جو ایک انسان کی جان بچاتا ہے وہ پوری انسانیت کی جان بچاتاہے"امریکہ کی  محفوظدرسگاہیں اتنی غیر محفوظ کیوں  ہیں یہ ایک کافی اہم سوال ہے- آدم لینزا اور اسکے خاندان کے بارے میں آئے دن تفصیلات آرہی ہیں  اسکے ماں باپ میں طلاق ہوچکی تھی اور باپ  اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رہتا ہے - اسنے ایک سال سے اپنے باپ سے ملنا چھوڑ دیا تھا اسنے باہر نکلنا اور دوستوں سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا تھا - اسکی ماں نینسی کو بندوقیں خریدنے کا کافی شوق تھا اسکے پاس 6 بندوقیں تھیں وہ اپنے بچوں کو لیکر اکثر نشانہ بازی کی مشق کرتی تھی  اور یہ امریکہ میں کوئی انہونی بات نہیں ہے - نشانی بازی کے شائقیں کے لئے ڈرائونگ رینج بنے ہوئے ہین اور دیگر کلبوں کی طرح اس کے ممبر یہاں نشانہ بازی کا شوق پورا کرتے ہیں- آدم لینزا کے   نفسیاتی عوارض اور شواہد کو کنگالا جارہاہے-شائد آئندہ کے لئے کوئی سدباب ہو جائے؟امریکی عوام بچے بوڑھے ان مقتولین کی یاد میں سینڈی ہک اسکول کو پھولوں ، موم بتیوں، کھلونوں اور کارڈوں سے لاد دیا ہے- یہاں پر ڈاک کے ذریعے اس قدر تحائف آرہے ہیں کہ اضافی انتظامات کر دئے گئے ہیں-- اس قصبے کے علاوہ پورے امریکہ بلکہ دیگر ممالک حتی کہ پاکستان کے کئی اسکولوں نے بھی اس دکھ کو منایا- جبکہ پاکستان کے اپنے دکھ اس سے سو گنا ہیں -
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسطرح کے حادثات اور اقدامات کو کیسے روکا جائے-
 امریکہ کے اسکولوں میں ہلاکتوں کا یہ قصہ 1999 سے شروع ہوا  جب سے کولوراڈو کے کولمبائن ھائی اسکول میں ہلاکتیں ہوئیں اسکے بعد سے مختلف اسکولوں میں 258 طلباء ، استاد اور دیگر لوگ مارے گئے ہیں 212 زخمی ہوئے ہیں اور یہ سب -بندوقوں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں
اسوقت امریکہ کی  تمام میڈیا ، کانگریس اور سینیٹ میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے  کہ بندوقوں کو کیسے قابو میں کیا جائے؟ - مظاہرے ہو رہے ہیں، کہ بندوقوں کی کھلی فروخت پر پابندی لگاؤ- نیشنل  رائفل ایسوسی ایشن جو این آر اے کے نام سے مشہور ہے وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتی ہے - ظاہر ہے اسلحے اور ہتھیاروں کی خرید وفروخت مییں یہاں کی موثر لابی  کا عمل دخل ہے-امریکہ میں ھتھیاروں کی خرید فروخت ایک بڑا پسندیدہ مشغلہ ہے - بہت سے پاکستانی اور ہمارے پٹھان  اسلحہ کے شائقین بھی یہاں کا   اسلحہ ضرور خرید کر لے جاتے ہیں اگر چہ ہمارے جیسوں کے پاس  باورچی خانہ کے   چاقو چھری کے علاوہ کوئی ہتھیار  نہیں ہوتآ، کینیڈا میں چونکہ ہتھیاروں پر پابندی ہے تو وہان پر امریکہ سے ہتھیار سمگل کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ اسکے لئے کافی چوکس رہتے ہیں لیکن ہتھیار مجرموں کے پاس پھر بھی کسی نہ کسی طرح پہنچ جاتے ہیں- جسکے لئے وہ ہمیشہ امریکہ کو مورد الزام ٹہراتے ہیں لیکن امریکہ کے کان پر جوں نہیں رینگتی
این آر اے کا اصرار ہے کہ اسکولوں میں مسلح گارڈ کھڑے کئے جائیں تاکہ وہ ایسے حملہ آوروں کا مقابلہ کرسکیں کیونکہ بقول انکے، حملہ آور جانتے ہیں کہ اسکولوں میں مدافعت کے لئے کوئی اسلحہ نہین ہے اسی وجہ سے انکے لئے یہ ایک آسان نشانہ ہیں-  اسطرح مزید بندوقوں کی فروخت ہوگی اور - کاروبار کو مذید تقویت ملے گی- این آر اے کے مطابق لابی کو پر تشدد فلموں اور ویڈیو گیمز پر پابندی لگانی چاہئے جبکہ اسکا کاروبار  چلانے والے اپنی توضیحات اور ترجیحات سامنے لے آیئنگے - در حقیقت  یہ سب عوامل یقینا ذمہ دار ہیں لیکن سب سے بڑھ کر ہتھیار ہیں جسکی موجودگی اور استعمال  سے انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے -
 -  کرا چی شہر میں جب تک بچے بچے   کے پاس ٹی ٹی اور کلاشنکوف نہیں آیا تھا اس شہر میں کافی حد تک چین ہی چین -
تھا 
این آر اے کے وائس پریزیڈنٹ کا یہ جملہ دائیں بازو کے چینلوں سے بار بار سنایا جاتا ہے کہ ایک برے آدمی کے حملے کو روکنے کیلئے ایک اچھے آدمی کو بندوق کی سخت  ضرورت ہے -اب اس برے آدمی کا تعین کیسے ہوگا ؟یہاں تو یہ حال ہے کہ سڑک پر کسی نے غلطی کرنے پر ہارن بجا دیا تو دوسرے نے  جھٹ سے پستول نکالا اور اسے گولی ماردی - ایک گولفر کی گیند شیشہ توڑتی  ہوئی ایک گھر کے اندر آئی اور گھر والے نے گولفر کو گولی مار کر خاتمہ کر دیا ڈرائو وے پر جھگڑا ہوا اور بندوق نکال کر گولی ماردی-  اس طرح کےواقعات تو بہت عام ہیں 
کافی اسکولوں نے جنکی عمومی تعداد ہ ہے23300 اپنے طور پر اپنے مسلح گارڈ پہلے سے کھڑے کئے ہیں اجکل اکثر فوجی جو چٹھیوں پر ہیں ، وردی پہن کر  اسکولوں پر پہرہ دے رہے ہیں- امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق لاکھوں اسلحہ بیچنے کے سٹور ہیں اور لوگوں کے پاس  اسی طرح لاکھوں کروڑوں کے حساب  سے ہتھیار ہیں 
ڈیمو کیٹ پارٹی ہتھیاروں یا بندوقوں  پر پابندی لگانے کے حق میں ہے اوبامہ خود اس کے بارے میں کوئی سنجیدہ قدم اٹھانا چاہتا ہے اس حادثے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے اوبامہ بار بار اپنے آنسو پونچھتے رہے- وہ بندوقوں پر   پابندی کے بل پر دستخط کرنیکو بالکل  تیار ہے لیکں اسکے ھاتھ اتنی مضبوظ لابی کے سامنے بندھے ہوئے ہیں بلکہ بے بس ہیں--
کیلیفورنیا سے سینیٹر ڈیان فائنسٹائن اورسینیٹر باربرا بوکسر کہتی ہیں کہ یہ تشدد اس صورت میں رک سکتا ہے کہ اسلحے پر پابندی لگائی جائے-معصوموں کا یہ قتل عام بند ہونا چاہئے ہم ہر وہ حملہ جو ہم کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے نہیں روک سکتے لیکن  ہم کچھ ایسے دانشمندانہ اقدام اٹھا سکتےہیں جنسے ہمارا بچاؤ ہوسکے-
اب تو یہ خبریں آرہی ہیں  کہ مختلف صنعت کار بچوں کے لئے بلٹ پروف بستے ، جیکٹیں اور کپڑے بنارہے ہی جنکو پہن کر بچے اسکول جایا کرینگے تاکہ وہ گولیوں سے محفوظ رہیں"
اب جو بھی اپکا حسن کرشمہ سازکرے ؟
عنقریب بچوں کے کپڑے بیچنے والے معروف سٹور ز کارٹرز، اوش کوشبگوش، جمبوری ، والمار ٹ اور سئیرز میں گولیوں سے بچاؤ کے لباس تیار ہونگے اور بچے بکتر بند ہوکر اسکول جایا کرینگے- لیکں این آر آے اپنی من مانی ضرور کریگا  اور -اس سے اندازہ ہوگا کہ صدر اوباما میں کتنا دم خم ہے-

--