Monday, February 8, 2016

تکبر ، تزکیہ نفس


’’تکبر‘‘

تکبر کے لغوی معنی بڑائی کے ہیں اور کبریائی صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔
انسان میں تکبر اور غرور آ جائے تو یہ اس کے لیے سراسر تباہی و بربادی ہے۔ اسی تکبر کے نتیجے میں شیطان راندۂ درگاہ ہوا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا صرف ابلیس نے نہ کیا۔ اَبٰی واستکبَرَ۔ اس نے ان کار کیا اور تکبر کیا۔ وَکَانَ من الکٰفرین۔ اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔
ابلیس نے یہ بڑائی کی کہ میں تو آگ سے بنا ہوں اور آدم مٹی سے بنا ہے مجھے اس پر فضیلت حاصل ہے اور یوں وہ تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوا اور اپنے رب کی سرکشی کی۔ اور یوں اس پر اللہ کی پھٹکار پڑی۔ اس لیے اگر ہم سوچیں تو تکبر ایک شیطانی صفت ہے اور اس صفت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی آزمائش میں ڈالا ہے۔
بڑائی اور کبریائی تو صرف اللہ کے لیے ہے ہم کہتے ہیں اللہ اکبر ( اللہ بڑا ہے)۔ یعنی اس سے بڑا اور صاحب اختیار کوئی نہیں ہے۔ تو پھر انسان کس بات پر فخر و غرور جتاتا ہے؟
تکبر کی کئی وجوہات ہیں۔
(1 اپنے آپ کو بلند و برتر سمجھنا حسب نسب کے لحاظ سے، خوش شکلی کے لحاظ سے، اچھی اولاد کے لحاظ سے۔ حالانکہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ تمام چیزیں عطیہ خداوندی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے اور دوسرے کو اس سے محروم کیا ہے تو یہ اس کی دین ہے کجا یہ کہ ہم ہر وقت اس کی شکرگزاری کریں ہم تفاخر و غرور میں مبتلا ہو جائیں۔ 
حسب نسب کے لحاظ سے جو برتری ہم جتاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے۔ 
اَنَّ اَکرَامَکُم عَنداللہ اتقاکُم۔ بیشک تم میں اللہ کے نزدیک وہی عزت والا ہے جس میں تقویٰ ہو۔
پھر مال و دولت اور اولاد کے لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
اَلمالُ و البُنُون زینتَ الحیوٰۃ الدین و الباقیات الصالحات خیر عِندَربک ثَواباًو خیرامَلَا۔
مال اور اولاد تو دنیا کی رونق ہیں اور جو اعمال باقی رہ جانے والے ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں۔
پھر یہ پوری دنیاوی زندگی جس کے گھمنڈ میں ہم مبتلا رہے ہیں اس کے لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَماَالحیٰوۃُ الدنیااَلاَّمَتَاعُ الغرور۔دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سرمایہ ہے۔
اس طرح تکبر کرنا سوائے دھوکے اور فریب کے کچھ نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ جن چیزوں کی بناء پر ہم تکبر کر رہے ہیں ایک تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہے تو یہ سب چیزیں ہم سے چھین بھی سکتا ہے اور پھر یہ اللہ کی عطا کردہ حیثیت اور مرتبہ ہے وہ چاہے تو ہمیں عزت دے وہ چاہے تو ہمیں ذلت دے۔ وَتُعِزُّمَن تَشاءُ وَتُذِلُ مَن تَشاءُ ۔
اب پچھلی آیات میں جو نشاندہی کی گئی ہے۔ تقویٰ اور اچھے اعمال کی یعنی اعمال صالحہ کی کہ اس کی بنیاد پر ہم اللہ کے ہاں سرخروہوں گے یا اللہ کے پسندیدہ بندے شمار کیے جائیں گے تو اب اس کی بناء پر ہم تکبر و تفاخر میں مبتلا ہو جائیں کہ ہم تو اتنے نیک ہیں، پرہیزگار ہیں، اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں اور یہ دوسرے بندگان خدا تو انتہائی نافرمان ہیں۔ ہمارے ساتھ تو اللہ یقیناً اچھا معاملہ کرے گا ان کی نسبت۔ اب یہ جو ہمارا نفس پھول گیا تو یہ ہماری اس تمام جدوجہد کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔
جیسے کہ متعدد احادیث سے اس کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ ہم اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے اعمال کو قبول نہ کر لے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
پھر اکڑنا، اترا کر چلنا بھی غرور و تفاخر کی نشاندہی ہے۔ 
سورہ لقمان میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَلاَتصَعّر خَدَّکَ للنَّاسِ وَلاَتمشِ فی لارضِ مَرَحاً ْ اِنَّ اللہَ لاَیُحِبُّ کُلَّ مُختاًلِ فَخُورْ
اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیرو اور زمین پر اترا کر مت چلو بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کسی نے کہا آدمی اچھے کپڑے اور اچھے جوتے پسند کرتا ہے تو فرمایا اللہ نفاست اور ستھرائی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق بات نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ 
ایک دوسری حدیث سے ہمیں اس آدمی کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ جو الٹے ہاتھ یعنی بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا۔ رسول ﷺ نے اس سے کہا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اس نے کہا نہیں کھا سکتا اس نے یہ بات غرور و تکبر کی بناء پر کہی تھی۔ آپﷺ نے کہا کہ نہ کھا سکو اور وہ پھر اپنا دایاں ہاتھ نہ اٹھا سکا۔
ایک اور حدیث میں حضرت حارثہ بن ۔۔۔۔۔۔۔سے روایت ہے کہ میں نے رسولﷺ سے سنا ہے کہ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر دوں جس میں سرکش، بخیل اور متکبر ہیں۔ 
اسی طرح ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ جو اپنا لباس غرور و تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا۔
ہم یہ سوچیں کہ دعوت دین دیتے وقت کہیں ہم تکبر میں تو مبتلا نہیں ہوگئے۔ نفس ہمیں فریب دینے میں تو کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ اگر ہمارا نفس ہم پر غالب آ گیا وہ پھول گیا تو گویا ہم شکست کھا گئے، تکبر و غرور کے مریضوں کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے وہ لوگ ہرگز خدا کی بندگی نہیں کر سکتے جو اپنے نفس کی بندگی میں مبتلا ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر و تفاخر سے محفوظ رکھے۔ آمین

***




تزکیہ نفس


عربی زبان میں تزکیہ کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا اور اس کو نشوونما دے کر پروان چڑھایا جائے۔ ایک اور اصلاح میں تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو غلط رجحانات، میلانات اور اعمال سے ہٹا کر نیکی اور تقویٰ کی راہ پر ڈالا جائے۔
اپنا تزکیہ نفس کس طرح کر سکتے ہیں؟
(1 اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کیا کیا خرابیاں اور برائیاں ہیں اور انہیں دور کرنا۔
(2 اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کونسی اچھائیاں نہیں ہیں اور اس کے لیے کوشش کر کے اسے اپنے اندر پیدا کرنا۔
اب جو شخص اپنے نفس کا تزکیہ چاہے گا وہ ان اعمال کا جائزہ لے گا جن سے برائیاں اس سے دور ہوں اور اچھائیوں کا اس میں اضافہ ہو گا اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اس میں بھی کامیاب نہیں ہوگا۔
انسانی نفس ان اعمال کو بے فائدہ اور لاحاصل سمجھتا ہے جس کے فوائد اس کے ذہن نشین نہ ہوں اس لیے تزکیہ نفس کا خیال اسی کے دل میں آسکتا ہے جو کہ یہ سمجھ لے کہ برائیاں میرے لیے ہلاکت خیز اوراچھائیاں فائدہ مند ہیں۔ اس لیے انسان کو پہلے تو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ نے مجھے جن باتوں سے روکا ہے وہ اس لیے کہ وہ میرے لیے تباہ کن ہیں اور جن باتوں کا حکم دیا ہے وہ مجھے دنیوی اور اخروی سعادتوں سے ہمکنار کرنے والی ہیں۔
سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
قَد اَفلَح مَن زکّٰھَاْ وَقَدخابَ مَن دَسَّھَاْ 
یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور برباد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا۔
نفس کا تزکیہ کرنے اور دبا دینے کی تشریح یوں ہے کہ تزکیہ کا مطلب ہے پاک کرنا، ابھارنا اور نشوونما دینا یعنی جو اپنے نفس کو فسق و فجور سے پاک کر دے، اس کو ابھار کر تقویٰ اور بلندی پر لے جائے اور اس کے اندر بھلائی کو نشوونما دے وہ فلاح پائے ا۔
دَسَّھَا جس کامطب دبا دینے کے ہے وہ یہ کہ نامراد ہوا وہ شخص جو اپنے نفس میں نیکی کے جذبات کو ابھارنے کی بجائے اس کو دبا دے اور برائی کے رجحانات کو اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اورنیکیاں اس کے نیچے چھپ جائیں جیسے کہ مٹی کے نیچے لاش دبا دی جائے۔
ہمارے نفس میں دونوں قسم کی خواہشات دبی ہوئی ہیں۔ نیکی اور برائی۔ برے نفس کو نفسِ امارہ کہتے ہیں جبکہ نیک نفس کو نفسِ مطمئنہ اور جس نے نیک جذبات کو غالب کیا اس نے نفس کا تزکیہ کیا اور کامیاب ہوا۔
جب حضرت ابراہیمؑ اور اسمعیلؑ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو یہ دعا مانگتے تھے۔ ’’اے رب ان لوگوں میں خود ان کی قوم سے ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے، کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔‘‘
حضرت زید بن ارقمؓ  بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ خدایا میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اس کا تزکیہ کر تو ہی بہتر ہستی ہے جو اس کا تزکیہ کر سکتی ہے تو ہی اس کا سرپرست اور مولا ہے۔
تزکیہ نفس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان عملاً اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرنے اور اچھائیوں سے مزین کرنے کا کام شروع کر دے۔ اور اس سلسلے میں پہلا قدم یہ کہ اچھائیوں سے الفت اور برائیوں سے نفرت پیدا ہو۔ نیکی کی کروڑوں تعریفیں کرکنے سے بھی انسان کا نفس پاک نہیں ہوتا جب تک نیکی کو عملاً اختیار نہ کرے اور اس طرح وہ اجتماعی دکھ بھی دورنہیں ہوتے جن کا منبع گناہ ہے۔
-- 

Wednesday, February 3, 2016

قصہ کتابوں کی طباعت و اشاعت کا





قصہ کتابوں کی طباعت اور اشاعت کا
از
عابدہ رحمانی
کہتے ہیں گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کو بھاگتا ہے -- کچھ یہی کیفیت ہماری بھی ہوئی ۔ہماری شامت آئی تواپنا جو کچھ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ مجموعہ تھا اسکو چھاپنے کی ٹھانی- غنیمت ہے کہ ایک فائیل بنا ڈالی تھی-دلچسپ امر یہ ہے  کہ  میرے قریبی خاندان ، اعزاء و اقارب اگلے پچھلوں میں، بڑے چھوٹوں میں کبھی کسی کی کتاب طبع یا    شائع نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کے دماغ میں اسکا فتور أیا تھا- کتابیں پڑھنے  اور خریدنے کے شوقین بہت سارے تھےاورکتابیں ان کے پاس ڈھیروں  ڈھیرتھیں--یہی حال ہمارا اپنا بھی تھا--
میرے بڑے بیٹے کو بچپن میں لکھنے کا کافی  شوق ہوا اسنے ایک بچوں کی انگریزی کہانی کے کتاب سے متآثر ہوکر  بڑی محنت سےپوری کتاب لکھی اور اس مسودے کو اپنے ایک دوست کے ہمراہ اردو بازار لے گیا -- ایک پبلشر نے اس سے یہ کہانی 25 روپے میں خریدی -- اور بچے کو چلتا کر دیا ---- میرے اور بچوں کے مضامین مختلف اخبارات اور رسائیل میں اکثر چھپ جاتےاور ہم اسی سے خوش ہو جاتے-- ڈان انگریزی اخبار میں میرا کوئی مضمون چھپتا تو خود بہ خود ایک ادائیگی کا چیک بھی آجاتا باقی جنگ اور جسارت تو مضامین چھاپ کر ایک طرح سے احسان کرتے - یہ ایک الگ ہی موضوع ہے- جانے دیجیئے پھر کبھی سہی-- 
جب مجھے یہ سودا سمایا کہ اپنی تحاریر کو کتابی شکل دے دوں تو اپنی ایک دوست سے رابطہ کیا-انکی والدہ کی بھی کچھ اسی قسم کی ایک کتاب چھپی تھی --ان سے درخواست کی کہ مجھے ان پبلشر صاحب سے متعارف کرا دیں--اور انکے توسط سے اپنا پلندہ لے کر کر انکے ہاں پہنچی -- انکوغالبا دو ہزار روپے دئے انہوں نے بتایا کہ وہ اسکا مسودہ تیارکردینگے اور پھر آگے کام ہوگا -- انہوں نے مجھے کتاب کی کچھ ابتدائی شکل و صورت دکھائی کہ اس قسم کی کتاب تیار ہوگی -- لیکن شومئی قسمت سے کراچی کو جب ہم نے ایک طرح سے الوداع ہی کہہ دیا تو انسے رابطہ ختم ہو گیا۔ ایمیل کے ذریعے رابطہ رکھنے کی ناکام کوشش کی-پھر  اپنی انہی دوست کے صاحبزادے کا سہارا لیا تو  اللہ انکا بھلا کرے کہ انہوں نے  اپنے ایک بھتیجے کی مدد سےاسکی پی ڈی ایف فائیل بعد میں بناکر مجھے ای میل سے  بھیجی-- جسکو میں نے سنبھال کر رکھا -- اسکا پرنٹ بھی نکال دیا--اور عزیز وا اقارب کو بھی ارسال کیا۔۔
ٹورنٹو میں بھی کتاب کی چھپائی کے لئے کچھ ہاتھ پاؤں مارے لیکن وہاں لاگت کافی زیادہ تھی-اور حالات سازگار نہ تھے- 
اسلام آباد میں ایک دور کے عزیز نے اپنی ایک کتاب چھپوائی تھی اس پبلشر کا اتا پتا لیکر وہاں پہنچی۔ انسے ملاقات کی انہوں نے اسی نسخے کو مائیکرو سافٹ ورڈ میں ڈھالنا شروع کیا کام اتنا سست اور غیر تسلی بخش تھا کہ میری واپسی کا وقت آن پہنچا اور میں نسخہ لیکر واپس آئی-- اگلی مرتبہ جب پھر پاکستان أ  نا ہوا تو اس دوران تحریری بوجھ مزید بڑھ چکا تھا-- 
میرے چھوٹے بھائی کو کچھ ترس آیا  تو اسنے بتایا کہ اسکے ایک قریبی جاننے والے  ہیں انکا چھاپہ خانہ ہے وہاں سے آپ اپنی کتاب چھاپ لیں-- اسوقت میری حالت بس یہ تھی کہ اللہ دے اور بندہ لے- اسکے ہمراہ انکے ہاں پہنچی-" ہم پبلشر نہیں ہیں بس کتاب چھاپ دینگے " وہ گویا ہوئے--  تومجھے پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ یہ پرنٹر اور پبلشر دو الگ الگ اجناس ہیں ورنہ میں تو ایک ہی سمجھتی تھی- میرے لئے یہی ایک نعمت غیرمترقبہ تھا کہ کتاب چھپ جائے-
کرسٹل پرنٹر کےمالک تو اپنی بیگم کے علاج کے سلسلےمیں بیرون ملک تھے انکی بیٹی اور منیجر صاحب  گرمجوشی سے ملے – کچھ چھوٹے بھائی کی وقعت اور تعلقات کا اندازہ ہوا-کتاب کا خاکہ تیار ہوا تفصیلی بات چیت ہوئی- رقم کچھ پیشگی ادا کردی اور انہوں نے تیزی سے رف پرنٹ نکال کر مجھے پکڑادئے -- میں نے اسکا جائزہ لیکر انکو واپس بھجوائے کہ کتاب تیار کر دیں-- اب انکو فون پہ فون  ملا رہی ہوں کوئی جواب نہ دارد - یا الٰہی اب کیا ہوگا ؟--بھائی کو دوڑایا معلوم ہوا دفتر تبدیل ہورہا ہے چند روز میں سیٹ ہونگے تو کام شروع ہوگا اور پھر میری واپسی کے دن قریب تر أنے لگے --میری روانگی سے تین روز پیشتر انکے کمپوزر کے ہمراہ دفتر میں بیٹھ کر کتاب کمپوز کی ، " زندگی ایک سفر"کے نام سے ، جو چھاپے خانے گئی-- میری روانگی سے ایک  دن پہلے بمشکل پچاس کتابیں چھپ کر آئیں جوابھی قدرے گیلی تھیں( بقایا دو سو تقریبا ڈیڑھ سال بعد پھر میری آمد پر چھپیں )-- بھاوج نےازراہ محبت کتاب کی تصاویر لیکر فیس بک پر ڈالدیں اور یوں میں اپنے خاندان میں اکلوتی” صاحب کتاب “کہلائی --خوب مبارکبادیں ملیں ۔بہت سے حیران بھی ہوئے۔ جو خوشی اور طمانیت مجھے ملی وہ ان اخراجات اور کلفتوں کا مداوا کر گئی-- میری یہ کتاب ۲۰۱۱ میں چھپی ۔۔کافی ساری کتابیں اپنے سامان میں ساتھ لے گئی۔۔ پاکستان میں  اور بیرون ملک اپنے اعزاء، دوست و اقارب میں تقسیم کیں ۔۔بیشتر متاثر ہوئے اور خاص طور سے وہ جنکو میری لکھنے کی صلاحیت کا علم نہیں تھا ۔۔چند  ایک نے کہا  کہ یہ تو أپ نے چوں چوں کا مربہ تشکیل دیا ہے ، کوئی چیز چھوڑی نہیں۔۔ اور حقیقت بھی یہی تھی اسکا  ایک حصہ خود نوشت ، افسانے ، سفرنامے ، دینی مضامین ، دیگر مضامین سب ہی کچھ شامل تھا  وہ تو غنیمت ہوا کہ عین وقت پر بھائی نے انگریزی مضامین شامل کرنیسے منع کردیا۔۔انسے کافی کہا کہ کتاب کی اشاعت بھی کردیں  لیکن انہوں نے بتا یا کہ وہ ناشر نہیں ہیں اور ناشر بیشتر لاہور اور کراچی میں ہیں بلکہ راولپنڈی ، اسلام أباد میں کوئی ناشر نہیں ہے ۔۔ 
اس کتاب کے پہلےباب میں اپنے بچپن کی خود نوشت لکھی تھی اسپر ایک معزز قاری کاتبصرہ تھا” میں اسمیں بری طرح کھو گیا تھا لیکن اچانک یوں محسوس ہوا کہ ایک شدیدپیاسے سے پانی کا لبالب پیالہ چھین لیا گیا ہو"اور بھی کئی لوگوں کا اصرار ہوا کہ خود نوشت مکمل کریں ۔۔
اب مکمل تو کیا ہوتی بس ایک دور کو مکمل کرنیکی ٹھانی اور یہ فیصلہ ہوا کہ ایک اور کتاب صرف ایک موضوع پر شائع کی جائے۔،اب کے فیصلہ کیا کہ پرنٹر اور پبلشر اکٹھا ڈھونڈا جائے۔۔
ایک مشہور فوجی دندانساز کےانتظار گاہ میں بیٹھی تھی ۔۔دفتر کے رکھ رکھاؤ سے اندازہ ہو  رہا  تھا کہ کرنل صاحب ایک صاحب ذوق شخصیت ہیں۔۔پاس رکھے ہوئے کتابوں کی ورق گردانی کرنے لگی اور ایک کتاب پر ایک ناشر کا پتہ اور فون نمبر دیکھ کر نوٹ کیا۔۔ اس نمبر پر فون کیا،کچھ بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ  نشر و اشاعت  دونوں کرتے ہیں –پھر ان حضرت سے ملاقات ہوئی نیک اور شریف سے بندے لگے کہنے لگے ،” کتاب أپکی مرضی کے مطابق تیار ہو جائے گی لیکن اسکی فروخت أن لائن ہوگی میں اپنے ویب سائٹ پر اشتہار دونگا پھر جو منگوائے گا انکو بھیجونگا۔ میں نے معاملہ طے کرکے حامی بھر دی ۔
اسکا کچھ مواد تو موجود تھا باقی لکھنا شروع کیا وہ بھی اکثرایسے کہ کاغذ قلم لیکر محفل  میں بیٹھی ہوں اور ماضی میں غوطےلگا رہی ہوں اللہ اللہ کرے کچھ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ ناشر صاحب اسوقت تو کافی تعاؤن برتتے رہے ایک اچھی دیدہ زیب خود نوشت ،"مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا" تیار ہوگئی ۔لاگت بھی اچھی أئی ۔ز ندگی کا ایک مکمل دور اسمیں سمٹ گیا کئی دوستوں ،ساتھیوں نے بھر پور تبصرے لکھے ۔۔کتاب چند دوست احباب نے بیرون ملک اور پاکستان میں منگوائی لیکن بازار میں کتاب نہیں أئی۔ کئی دوستوں نے شکوہ کیا کہ فلاں کتب فروش کے پاس آپکی کتاب کا پوچھنے گیا لیکن کتاب نہیں تھی ۔ناشر صاحب سے میں نے کہا تو  وہ کہنے لگے کتب فروشوں  سے میں  بحث مباحثہ نہیں کر سکتا  اور أپکو میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا ۔۔ذرا ذود رنج قسم کے تھےبس اسپر ناراض ہوگئے اور حساب کتاب بے باق کردیا ۔۔ کتاب اب بھی انکے ویب سائٹ پر موجود ہے اور اللہ جانے ناشرانہ حقوق کا کیا حساب کتاب ہے ۔ اس گورکھ دھندے کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔ اور شاید ہی آئے۔۔  اس کتاب کی کافی دھوم مچی کئی اخبارات میں تبصرے ہوئے اور مختلف دوستوں، خود نوشتوں  کے  ناقدوں نے سراہا۔ٹورنٹو کی چند لائبریریوں میں کتابیں رکوائیں اور لائبریری أف کانگریس  واشنگٹن ڈی سی بھی بھیجی۔۔
اب ڈہیروں ڈھیر کتا بوں کوٹھکانے لگانا بھی ایک مر حلہ تھا ۔ مختلف کتب فروشوں کے پاس جا جا کر کتا بیں رکوائیں ۔ ہر ایک نے سب سے پہلے پوچھا " شاعری کی کتاب تو نہیں ہے ، اگر ہے تو وہ نہیں لینگے" اسوقت شاعری، جسے ہم کوہ گراں سمجھتے ہیں کی بے وقعتی کا اندازہ ہوا۔انکا حساب کتاب اللہ ہی جانے۔بکی کہ نہیں ، میں نے ابھی تک پلٹ کر نہیں پوچھا ۔ چند ایک نے سمجھایا کہ یہ آپکا کام نہیں ہے آپکے پبلشر کا کام ہے "۔تمام جاننے والوں کو حتی الامکا ن پہنچائیں، دوست احباب کو بذریعہ ڈاک بھی گئیں ۔۔ کراچی کے ایک مشہور پرنٹر پبلشر جو کہ ہمارے پرانے پڑوسی بھی تھے اور جن سے ان پرانے ناطوں کی بناء پر کچھ اپنائیت کا احساس بھی تھا انکو دونوں کتابوں کی دس دس جلدیں بھجوائیں ۔۔ شروع میں انہوں نے ایک انوایس بنا کر بھیجی تھی لیکن بعد میں ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ ۔۔ یہ اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنےأپکواسلام کا علمبردار سمجھتے ہیں ۔۔ کیا وہ سب سمجھتے ہیں کہ انسے میرے چند سو روپوں کا حساب نہیں ہوگا؟ 

کتابوں کی ترسیل کا سلسلہ ابھی بھی سلسلہ جاری ہے ۔سفری  سامان میں بھی أ ٓدھی کتابیں ہوتی ہیں  ۔ 
ایسےمیں انگریزی مضامین کا مجموعہ چھاپنے کی ٹھانی جو اسلامی تعلیمات کے پس منظر میں تھیں ۔ یہ میرے زیادہ تر ان مضامین پر مشتمل ہے جو رسالہ" نور " (جو نیویارک سے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کی سرپرستی میں  چھپتا ہے) کے لئے تحریر کی تھیں ۔ شکر اللہ کا کہ اپنی کتاب خود چھاپنے کا ایک عمدہ ویب سائٹ مل گیا جو امیزون کے اشتراک سے کام کرتا ہے ۔ قدرے وقت تو لگانا پڑا لیکن ایک اچھی کتاب تیار ہوگئی  
Extremism is not our way of life” اس کتاب کا عنوان ہے۔
یہ میرے ایک مضمون کا عنوان بھی ہے اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ أرڈر پر چھپتی ہے اور بھیجی جاتی ہے یہ انتظام مجھے بہترین لگااسلئے کہ نہ کتابوں کا بوجھ ہے نہ ڈھیر ، نہ درد سر۔ میں جب آرڈر دیتی ہوں تو وہ معاوضہ لے کر بھیج دیتے ہیں۔۔
اب جو پچھلے چند سالوں میں اردو میں  لگاتارلکھتی رہی ہوں ان افسانوں اور مضامین کی کتابوں کو چھپوانے کا سودا سمایا ہے ۔کراچی کے ایک کرمفرماپرنٹرپبلشر سے رابطے میں ہوں لیکن معاملہ ابھی تک سلجھ نہیں پارہاہے ۔۔ دیکھیں عملی صورت کب نکلتی ہے ۔۔اوریہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟  دیکھا جائے تو یہ کتابیں چھپوانا بھی ایک خبط ہی ہے اور اللہ تعالٰی کسی کو کسی خبط میں مبتلا نہ کرے۔۔
اب تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے عزیز رشتہ دار ،دوست احباب یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ  بس اور کتابیں نہیں ،خدا کیلئے   ہمیں اپنی کتا بوں سے بچاؤ۔۔
خدا لگتی اگر کہوں توخود اپنا  یہ حال ہے کہ کئی احباب نے اتنی محبت سے اپنی کتابیں ارسال کیں لیکن بس ایک سرسری سا جائزہ لے پائی  ہوں ۔۔تو میں کس منہ سے پوچھوں گی،" أپنے میری کتاب پڑھ ڈالی کیا ۔"


Thursday, January 28, 2016

MLK Day of Service!

'Abida Rahmani' via Global-Right-Path

Jan 19 (10 days ago)
to joinpakistanyahoogroupspakistanpostsimple-islamme
What is the MLK Day of Service?
By
Abida Rahmani

Dr. Martin Luther King JR. Is an established icon of American history who fought racism relentlessly , nonviolently and changed the course of history.
MLK jr  ( 15th January 1929--April 4 1968) was a clergy man. He is best known for his prominent role in African- American civil rights movement  which was a nonviolent  resistance civil disobedience movement.
On October 14 , 1964 MLK was awarded Nobel prize for combating racial inequality through a nonviolent movement. In the next few years he mainly focused on eliminating poverty and stood against Vietnam war.
On August 28, 1963, Clayborne Carson was one of hundreds of thousands of demonstrators at the March on Washington.
He witnessed Martin Luther King, Jr deliver his historic "I Have a Dream" speech. It was a day that changed his life.
In his new book, "Martin's Dream", Carson describes his journey through the civil rights era to today, including becoming a professor at Stanford University, being chosen by Coretta Scott King to edit Dr King's papers, and helping design the memorial to the civil rights leader that now stands in Washington DC.
King got assassinated on April 14, 1968 in Memphis, Tennessee.

In a sermon delivered nearly 55 years ago, Dr. Martin Luther King Jr. described what he called the “Drum Major Instinct” to the congregation in Atlanta's Ebenezer Baptist Church. The words he spoke that day were the inspiration for a national service award that recognizes leaders who give their time serving others but seldom seek the spotlight.
The sermon includes the following passage from Dr. King that acknowledged the desire to lead but emphasizes selfless motives: “Yes, if you want to say that I was a drum major, say that I was a drum major for justice; say that I was a drum major for peace; I was a drum major for righteousness… We all have the drum major instinct.”
The Martin Luther king JR Drum Major program gives organizations and groups an opportunity to acknowledge and celebrate those volunteers who perform extraordinary everyday acts of service with reliability and commitment but seldom receive recognition. As part of the MLK Day of Service, the Corporation for National and Community Service (CNCS) provides two options to recognize individuals who have demonstrated the “drum major instinct” in their communities.
Dr. Martin Luther King Jr. once said, "Life's most persistent and urgent question is: 'What are you doing for others?'"
The MLK Day of Service is a part of United We Serve, the President's national call to service initiative. It calls for Americans from all walks of life to work together to provide solutions to our most pressing national problems.Americans from all 50 states will join thousands of organizations and commit to service this weekend as the Martin Luther King Jr. Day of Service coincides with the 57th Presidential Inaugural and National Day of Service.
Commemorating this day of Service we should remember about the service to humanity in Islam and as a Muslim what we are obligated to.
The verse of the Holy Qurán, which so comprehensively covers this concept of service to humanity, reads
O people of Islam, "You are the best people ever raised for "the good of" mankind "because you have been raised to serve others"; you enjoin what is good and forbid evil and YOU believe in Allah." (3:110)
You will remain the best as long as you are service-minded, promote good and promote the welfare of society. If you fail to do this, you no longer have a right to boast of the superiority of Islam and the Muslim Ummah. A society which is insensitive to the suffering of other human beings and is not always inclined to serve the cause of humanity cannot be described as an Islamic society, no matter how much it adhered to other aspects of Islamic teachings.
The fundamental qualities that we must all acquire to serve mankind or to develop a passion to serve mankind are: love for humanity, kindness in our hearts for others, a charitable disposition, humility, honesty, a thirst for knowledge, a desire to share knowledge with others and a constant desire to strive in the cause of Allah by doing good. We must be a people from whom goodness flows towards others. Most  of our Muslims possess these characteristics.
The teachings of the Holy Qurán and the example of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) direct us on how best to serve mankind. The Holy Prophet  (peace and blessings of Allah be on him) practiced the teachings of the Holy Qurán to the fullest extent and is the best example of the true representation of service to mankind and to Allah. That is why Allah says in the Holy Qurán:
"And do not forget to do good to one another." (2:238)
And about the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) the Holy Qurán says:
"and we have sent you not but as a blessing (mercy) for the entire universe (for all peoples)" (21:108)
"Verily you have in the prophet of Allah an excellent model." (33:22)
The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) emphasized love, sympathy, and kindness towards all. He also emphasized that we must show each other great appreciation. He said, "One who is not grateful to mankind is not grateful to Allah." (Tirmidhi)

Thursday, December 17, 2015

دہشت گرد

دہشت گرد

از
عابدہ رحمانی

کئی روز ناساز رہنے کے بعدآج اس کی طبیعت کافی بہتر محسوس ہو رہی تھی ۔ جسم میں جیسے قدرےطاقت آگئی ہو ورنہ تو جوڑ جوڑ میں دکھن تھی۔اسکابہت جی چاہا کہ باہر نکل کر چہل قدمی کی جائے ۔۔یوں بھی یہ اسکی ایک عادت ثانیہ ،ایک معمول تھا۔کام کاج تو کوئی خاص تھا ہی نہیں ، ۔۔اسے وہ وقت بری طرح یاد آتا تھا جب فرصت کے چند لمحات کو ترس جاتی تھی اور اب اسکا جی چاہتا ہے کاش کوئی مصروفیت ہوتی۔اسنے جوگرز پہنے ، ہلکی جیکٹ پہنی،فون جیب میں ڈالا،سر پر ہیٹ پہنا اور روانہ ہوئی ۔۔چلتے چلتے وہ تمام وقت تلاوت کرتی رہتی یا پھر اپنے فون سے ائر پلگ لگا کر تلاوت سنتی ۔۔اللہ سے تعلق جوڑ کر اسے یک گونہ سکون اور اطمینان ہوتا۔۔
دور سے رابرٹ اپنے دو خونخوار قسم کے کتوں سمیت نظر أیا اسنے گرم جوشی سے ہاتھ ہلایا اور قریب أکر اسکی خیریت دریافت کی ۔۔اسنے اپنی بیماری کی کچھ تفصیلات بتائیں۔۔ پہلے پہل جب وہ ملتا تو وہ اسکو ہیلو کہتا اور یہ ہائے کہہ دیتی۔۔یہاں پر ذرا غیر ملکی نظر أنیوالوں کو ہیلو کہا جاتا ہے ورنہ تو ہائے ،ہائے اور بائے بائے چلتا ہے ۔۔ایک روز تو وہ سپینش زبان میں شروع ہوا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ اسے لاطینی سمجھتا ہے۔۔ لیکن جب ایک روز وہ شلوار قمیض پہنے نکلی تو اسنے قریب أکر کہا " نمسٹے" وہ مسکرائی پھر ایک روز جب اسنے کہا " ہیپی ڈیوالی " تو اس سے برداشت نہیں ہوا اور اسنے سارا پول کھول دیا ۔۔ اب تو وہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے۔۔ وہ اس سے اکثر پاکستان یا مسلمانوں کے بارے میں ذکر کرتااور وہاں کے حالات پر گفتگو کرتا ۔۔أئے دن خبروں مین ایک سے ایک اندوہناک قصےأ ٓرہے ہوتےاور وہ اسے یقین دلانے کی کوشش کرتی کہ ہم تو انتہائی مہذب اور امن پسند ہیں۔امن وامان ، چین اور سکون کے متلاشی ہیں  ۔۔ حقیقت بھی یہی تھی اسی امن، سکون اور چین کی خاطر تو سات سمندرپار اس انجانے ملک میں آبسےتھے۔۔ملک تو خیر ایسا تھا کہ ہر کوئی بسنے کے خواب دیکھتا۔۔لیکن وہ تو کتنے انقلابات سے گزر کر یہاں تک پہنچی تھی۔۔ 
 گھر کے چند افراد کے علاوہ اس شہر میں اسکا کسی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ رکھنا بھی نہیں چاہتی تھی دوچار جاننے والوں سے فون اور ای میل کے ذریعے دعا سلام ہو جاتی تھی۔ اسی چہل قدمی کے بہانے کچھ حرکت ہوجاتی۔ورزش کی ورزش ،تازہ ہوا اور موسم خوشگوار ہو تو یہ چہل قدمی کافی پر لطف ہوجاتی ۔۔دو چار لوگوں سے ہیلو ہائے بھی ہو جاتی کچھ لوگ چلتے پھرتے نظر آتے ورنہ یہاں کی بے کیف ،تنہااور گوشہ نشین زندگی سے وہ اکثر بیزار آجاتی ۔۔

زیادہ طبیعت اکتائی تو فون ملا لئے اپنے دور افتادہ بھائی بہنوں عزیزوں، دوستوں  سے باتیں کرلیں ۔ورنہ کمپیوٹر پر ہی اسکی دنیاأّباد تھی۔ یہ ایجاد اور اسکی سہولتیں اسکے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ سےکم نہیں تھی۔۔
ملک بھی تو کیسے چھوٹا تھا ۔عادل کے اس دنیا سے جانے کے بعد وہ ریزہ ریزہ، ہو چکی تھی ساراشیرازہ منتشر ہوکر کرچی کرچی ہوچکا تھا۔ وہ اللہ سے ہر وقت یہی دعا کرتی کہ وہ اسے اپنے بچے سے جلد ملا دے ۔۔ اسے یقین تھا کہ اسکا بچہ شہید ہے جسنے اپنے نا شکرےمہمان پر اپنی جان وار دی تھی اسکا مال اور اسکی جان بچائی۔۔اسکے شہر میں تو یہ قتل و غار گری اور لوٹ مار روز کا معمول تھا پولیس گچھ تفتیش کرتی اورپھر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہو جاتا۔۔  ۔۔پھر وہ دعا کرتی یا اللہ مجھے بھی شہادت کی موت عطا کردے تاکہ میں بھی اپنے بچے کے پاس اسکی جنتوں میں چلی جاؤں ۔۔جوانی میں بیوگی کا اتنا بڑا صدمہ  اور دکھ جھیلے اور پھر یہ دکھ اور صدمہ، اللہ تعالی سےوہ ہمہ وقت اب مذید أزمائشوں سے پناہ مانگتی۔۔لیکن یہ اللہ ہی کی ذات تھی جسنے اسکو حالات  سے نبرد أزما ہونے کی ہمت اور حوصلہ دے رکھا تھا  ۔زندگی کے دھارے میں بہتے بہتےاور حالات سے لڑتے لڑتےوہ جیسےپھر سے جی اٹھی۔بڑھاپا بھی أ ٓن پہنچا تھا۔ اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کردئے ہر سانس کے ساتھ اللہ تعالی کی شکر گزاری تھی۔۔

اسکےبچےپہلے باقاعدگی سےمختلف مواقع اور اجتماعات میں  مسجد جاتے تو اپنے لوگوں سے ملنے کے مواقع میسر آتے۔یہاں کی مساجد ایک طرح سے کمیونٹی سنٹر ہوتے ہیں۔نماز ، عبادت ،تقاریر ملنا ملانا ،گپ شپ اور پھر مختلف تقریبات ،لذت کام و دہن کے مواقع ،عیدین اور دیگر مواقع پر مختلف بازار بھی لگ جاتے اور اپنی دیسی اشیاء خوب بکتیں ۔۔اگر یہ نہ ہو تو اپنے جیسے لوگوں کو دیکھنےاور ملنے کو آدمی بری طرح ترس جائے ۔۔مختلف رنگ و نسل کے مسلمان، اپس کی یگانگت، محبت اور الفت اسکو بہت تسکین دیتی اپنے دین اوراپنے لوگوں سے جڑ کر روحانی تقویت مل جاتی ۔مساجد کے یہ مواقع تو اسکو اپنے ملک میں بھی میسر نہین تھےبچوں کو بھی نیک اور پاکیزہ ماحول میسر تھا۔۔ 
یہاں رفتہ رفتہ جو مسلمان مخالف جذبات نے سر اٹھایا،حالات بدلنے شروع ہوئے تو کمزور قسم کے مسلمانوں نے مساجد سے دوری اختیار کرنی شروع کی وہی اسکے بچوں نے کیا ۔۔انکو اپنی ملازمتوں ،اپنے بال بچوں اور اپنی رہائش کی فکر تھی ۔۔کبھی کبھی تو اسے محسوس ہوتا کہ ایک خوفزدگی کا ماحول ہے۔جابجا حجاب پہننے والی خواتین کو پریشان کیا گیا۔نیویارک میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو گولی مار دی گئی  ۔مساجد پر حملے ہونے لگے کہیں پر سؤر کا سر پھینک دیتے ایک أدھ جگہ أگ لگانے کی کوشش کی گئی توڑ پھوڑ ہوئی، سب سے بڑھ کر میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ہروقت بحث مباحثے ۔۔ کہا جاتا تھا کہ مساجد جانیوالوں  پر نظر رکھی جارہی ہے انکا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور ابلاغ عامہ مسلمانوں کے متعلق ہر وقت زہر اگلتے 
اس بات کاا سے بہت دکھ اور صدمہ تھا۔۔۔
داعش کی بہیمانہ کارروائیوں کی خبریں دہلانے والی تھیں مشرق وسطے تو مدتوں سے خونریزی کا میدان کارزار بنا ہواتھا۔۔ عالمی طاقتوں نے امن عالم کے نام پر اسے اپنا أکھاڑہ بنا رکھا تھا لاکھوں مسلمان ، مخالف مسلمانوں کے ہاتھوں،جنگوں اور بمباریوں سےہلاک ہوئےعراق اور شام کی قتل و غارتگری اور ہلاکت خیزی نے افغانستان، کشمیر ، پاکستان ، برما ، فلپائن اور وہاں کی خونریزیوں کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ دیا ۔ ۔۔ القاعدہ کے بعد   داعش  یا  ملت اسلامیہ کا ہوا اور فتنہ  پوری دنیا کو دہلائے جا رہاتھا ۔۔ پیرس میں ۱۵۰ بےگناہوں کا خون بہایا گیا پوری دنیا لرز اٹھی اور داعش کی سر کوبی کیلئے متحد ہوگئی۔۔فرانس ، امریکہ ، روس اور بر طانیہ کی فضائی افواج کی بمباری سے بے شمار بے گناہ مارے جارہے تھے  ۔۔
پیرس کی ہلاکتوں کے بعد رابرٹ کافی اکھڑا اکھڑا ساتھا،"ہم ان لوگوں کو پناہ دیتےہیں اور پھر یہ ہمارے ہی ملکوں میں ہم لوگوں کو مارتےہیں اب پیرس کی ہلاکتوں کا کیا جواز ہے۔۔دہشت ہے دہشت، ان دہشت گردوں کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا انکو ختم کرنا ہوگا"
میں بے حد افسردہ ہوں۔کاش کہ ایسا نہ ہوا ہوتامجرموں سے سختی سے نپٹنا چاہئے "وہ بس اتنا ہی بولی ۔ وہ تھک جاتی تو ایک بنچ پر بیٹھ جاتی وہ ادھر ادھر ٹہل ٹہل کر باتیں کرتا رہتا۔۔ دونوں ہی اسوقت غصے اور افسوس میں تھے۔۔ 
حفاظتی اداروں نے تھینکس گیونگ پر حملوں سےمتنبہ کیا تھاشکرہےکہ  خیریت رہی ۔بلیک فرائڈے کی وہی رونقیں ، خریداریاں اور بھیڑبھاڑ۔۔
ہر جگہ کرسمس کی بتیوں کی چکا چوند تھی اسکے محلے کے تقریباً سارے ہی مکان کرسمس لائٹوں سے سج گئے۔ایک انکا گھر ان معدودے چند گھروں میں تھا جسپر بتیاں نہیں تھیں ۔اسنے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ لال پتوں والے دو گملے ہی لاکر باہر دروازے پر رکھ دے اسمیں أ ٓخر کیا برائی ہے ۔۔وہ یوں بھی زیادہ سخت مزاج نہیں تھی۔۔

کولوروڈو اسپرنگ میں خاندانی منصوبہ بندی کے دفتر پر فائرنگ ہوئی ۔۔ تین لوگ ہلاک ہوئے ۔۔ چھ گھنٹے مقابلے کے بعد حملہ أؤر پکڑا کیا اسنے اللہ کا بے حد شکر ادا کیا کہ اسکا مسلمانوں اور داعش وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں نکلا ۔۔امریکہ میں جو چاہےمن پسند گن،  بندوق ، پستول خرید سکتا ہے ۔۔ اسلئے اسلحہ کے شائقین کی عیاشی ہے لیکن ساتھ ہی یہاں ہر ایک کے پاس بندوقیں أئے روز کی قتل و غارتگری کا سبب ہیں۔۔
رابرٹ سے اسکے بارے میں باتیں ہوئیں "بندوق ،گنز پر پابندی ہونی چاہئےاگر یہ کھلا اسلحہ نہ ہو تو آئے دن کی یہ فائرنگ اور قتل وغارتگری قابو میں آجائیگی۔امریکہ میں آئے دن اسکولوں ،کالجوں یونیورسٹیوں اور مختلف جگہوں پرفائرنگ ہوجاتی اور کئی ہلاکتیں ہو جاتیں۔"۔رابرٹ مسکرا کر کہنے لگا ،" مجھے تو گنز بہت پسند ہیں اور میں اس تجویز کی  سختی سے مخالفت کرونگا۔ ہمیں اپنی حفاظت کیلئے گنز کی ضرورت ہے" وہ اسے حیرت  اور افسوس سے دیکھنے لگی۔۔
وہ گھوم پھر کر واپس أئی تو ٹی وی پر سی این این  لگایا ۔ سان برنارڈینو میں ذہنی معذورین کے سنٹر پر فائرنگ سے 14 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو چکےتھے۔۔تین حملہ آور فائرنگ کرکے فرار ہوچکے تھے ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ہر چینل پر یہی خبر شد ومد کے ساتھ تھی ۔وہ بھونچکا رہ گئی یا اللہ خیر۔کسی مسلمان کی حرکت نہ ہو" اسنے اپنی دوست کی خیریت پوچھنے کے لئےفون کیا جو وہاں قریب ہی رہتی تھی۔۔وہ بھی ٹی وی سے جڑی پریشان بیٹھی تھی۔۔ دو سال پہلے وہ اسکےپاس گئی تھی اور دونوں جب ٹرین میٹرولنک پر لاس اینجلس جاتیں تو سان برنارڈینو کا اسٹیشن فورا ہی أٓجاتا۔۔شام کے ہوتے ہوتے دو قاتلوں کے نام منظر عام پر أئے ۔۔یہ پاکستانی نسل کا شادی شدہ جوڑاتھا۔۔مبینہ قاتل سید فاروق اسی ادارے میں کام کرتا تھا۔۔خبروں کے مطابق وہ وہاں ہونیوالی کرسمس پارٹی میں موجودتھا، اسکی ایک ساتھی کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی گھرأ ٓیااپنی بیوی تاشفین ملک کو لیا، چھ ماہ کی بیٹی کو ماں کے پاس چھوڑا یہ کہہ کر کہ ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں ۔جنگجؤں والے کپڑے پہنے اتنے سارے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کر کے بھاگ أئے چار گھنٹے کے بعد پولیس نے انکو بے دردی سے قتل کردیا۔۔چشم دید گواہوں کے مطابق دونوں کے ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے تھے۔ عورت تاشفین ملک باپردہ عورت تھی لیکن اسوقت وہ مختصر لباس میں تھی۔ میڈیا، پولیس اور ایف بی أئی مجرموں کو کیفر کردار کو پہنچانے پر مطمئن تھی ۔شروع میں تو کہا گیا کہ کسی گروہ سے تعلق نہیں  ہے لیکن بعد میں ریڈیکالئزیشن کی گردان ان کا سب سے بڑا جرم ٹہری ۔۔اسلام پر عمل پیرا ہونا دہشت گردی پر اکساتا ہے ۔۔وہ بری طرح لرز گئی تمام مسلمان ہی دہشت زدہ رہ گئے۔ میڈیا پر تو ایک طوفان ایک ہنگامہ مچا ہوا تھا ۔۔ مسلمان اور پاکستانی اس جوڑے کے کردہ یا نا کردہ گناہ پر شرمسار اور نادم تھے۔۔یقین کرنیکو تو جی نہیں چاہ رہاتھالیکن شواہدیہی تھے کہ وہ دونوں قاتل تھے۔انکا ماضی حال کنگالا جارہاتھا ۔۔فاروق نے اپنی پسند کی پردہدار لڑکی سے ایک أ ٓن لائن ویب سائٹ کے ذریعے رشتہ کیا ۔۔نکاح مسجد الحرام مکہ معظمہ میں ہواتھا۔ایک اچھے مسلمان کے لئے تو یہ سب باعث سعادت تھا۔۔لیکن کیا وہ دونوں واقعی قاتل اور مجرم تھے؟۔متضاد خبروں نے اسکا ذہن بے حد پریشان کردیا۔ہر وقت کی خبریں اور تبصرے ذہنی اذیت اور کوفت کا باعث تھے اسپر سیاسی لیڈروں کے زہر آلود پیغامات۔۔
ان حالات کی وجہ سے وہ بہت دلبرداشتہ اور غمزدہ تھی۔۔ 
آج موسم ابرآلود تھا شام کو بارش کی پیشن گوئی تھی اسنےسوچا کچھ چہل قدمی کر أؤں شاید رابرٹ ملے ۔اسے یہ سوچ کر کچھ گھبراہٹ سی ہوئی " اللہ جانے وہ کیسا محسوس کررہا ہوگا ؟ ایک مرتبہ تو اسنے اتنا بھی کہا کہ یہ سارے مذہب ہی فساد کی جڑ ہیں "لیکن پھر وہ اسلام میں کافی دلچسپی بھی لینے لگا تھاشاید اسلام قبول کرلے وہ اکثر سوچتی ۔انکی بس یہی چلتے پھرتے ملاقات اور گپ شپ ہوتی وہ اپنے کتوں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتاتھا۔اپنے کتوں کو لپٹاتا ، ہاتھ پھیرتا رہتا اسے اسکے کتوں سے بڑی گھبراہٹ ہوتی  اور وہ ہمیشہ یقین دہانی کرتا کہ یہ بہت ہی تمیزدار اور سدھے ہوئے کتے ہیں ۔۔ یہ تو میرے بہت پیارے بچے ہیں رابرٹ لاڈ سے کہنے لگتا ۔بیوی سے طلاق ہوچکی تھی ایک بیٹا تھا وہ دوسرے شہر میں رہتا تھا۔ انکے متعلق اسنے مختصراً بتایا۔
 اسی ادھیڑ بن میں وہ باہر نکلی فون پر تلاوت لگا کر ایرپلگ لگالئے۔۔ایک عجیب سا مہیب سناٹا چھایا ہوا ۔با دلوں کا رنگ گہرا ہو رہاتھا ،ہوا بالکل بند تھی یوں لگتا تھا طوفان کی أمد أمد ہے ۔ ایسے موسم میں یہاں یوں بھی لوگ دبک جاتے ہیں دور دور تک کوئی نہیں نظر أرہاتھا۔
اچانک دور سے رابرٹ اپنے ٹرک میں جاتا ہوا دکھائی دیا اسکے پاس ایک ہیوی ڈیوٹی پک اپ تھا جسے یہاں ٹرک کہتے ہیں ۔اسنے اسے ہاتھ ہلایا لیکن وہ جیسے نظر انداز کرکے گزر کیا۔۔" چلو کوئی بات نہیں جلدی میں ہوگا" اسنے جیسے اپنے آپکو تسلی دی۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے کہ گھوم پھر کر چکر لگا رہا ہے اب وہ پارک کے قریب پہنچ چکی تھی ۔وہاں بھی ہو کا عالم تھا شاید موسم کا اثر تھا۔۔
اتنے میں رابرٹ نےاسکے قریب آکر گاڑی آہستہ کی ،کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا جیسے وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہو۔۔وہ اسکی جانب جیسے ہی متوجہ ہوئی "او یو بلڈی ٹیررسٹ "اس نے جواب دینے کے لئے منہ کھولاہی تھا ۔۔تڑ تڑ تڑ تڑ گولیوں کی بوچھاڑ، وہ چکرا کر گر پڑی۔۔خون کے فوارے جاری تھے اسکی شہادت کی دعا قبول ہوچکی تھی ۔۔ اسکا فون دور گر پڑا ۔۔اور تم انہیں مردہ مت کہو  ۔ جو اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں وہ زندہ ہیں اور اللہ کے ہاں رزق پا رہے ہیں البقرہ کی آیات کی تلاوت جاری تھی۔۔۔۔۔





-- 

Tuesday, December 15, 2015

سقوط مشرقی پاکستان

سقوط مشرقی پاکستان کو 44 برس گزر گئے ۔۔آئے دن جماعت اسلامی اور جمیعت کے وہ طلباء جنہوں نے پاکستانی فوج کی نگرانی میں البدر اور الشمس بنا کر افواج پاکستان کا ساتھ دیا تھااب ضعیف اور مضمحل ہیں ۔۔حسینہ اور اسکی پارٹی کے انتقامی جذبے کی تسکین انکو سزائے موت دے کر ہو رہی ہے ۔۔انمیں سے کئی کو جو باعزت زندگیاں بسر کر رہے تھے پھانسی کی سزا دی گئی۔۔ افسوس کہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان نے انہیں قطعی نظر انداز کر دیا ۔۔۔


 انتظارِ صبح نو
از
عابده رحمانى


مرینہ بلک بلک کر اور ہچکیاں لے کر روتی رہی۔ لگتا تھا کہ وہ چپ ہی نہ ہو پائے گی ان دو ڈھائی سالوں کی دکھ ، تکلیف ، بے بسی او ربے چارگی کی داستان آنسوؤں کی صورت میں رواں تھی۔
ساتھ میں لیٹا ہوا مرد بت بنا لیٹا رہا۔ بالکل بے حس و حرکت جیسے کہ اسے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یا پھر وہ اپنی بیتاؤں سے تھک کر چورا اور نڈھال ہو گیا تھا۔ وہ بس ہچکیاں لے لے کر روتی رہی وہ نہ تو کچھ پوچھ رہا تھا اور نہ ہی کچھ بتا رہا تھا یوں لگتا تھا کہ جیسے یہ دو سالوں کی مسافت اس نے پیدل طے کی ہو ان دو سالوں میں کیا کچھ نہ ہوا؟ ملک کا ایک حصہ الگ ہو چکا تھا تباہی و بربادی کی ایک طویل داستان تھی۔ ہزاروں فوجی دشمنوں کی قید میں تھے۔ کتنی عورتیں بیوہ اور بچے یتیم و بے آسرا ہو چکے تھے ۔وہ اپنا بھرا پرا گھر وہیں چھوڑ آئے تھے اور رشتہ داروں کے رحم و کرم پر تھے۔ مرینہ اور اس کے بچوں نے یہ وقت کیسے گزارا ؟اللہ تعالیٰ سے بہتر کون جان سکتا تا ان لوگوں نے اپنے گھر پر رکھ لیا تھا یہی بڑی مہربانی تھی۔
 وہ جب اپنا گھر بند کرکے وہاں سے روانہ ہوئے تو اس خیال سے کہ کچھ عرصے میں حالات بہتر ہو جائینگے اور واپس آ جائیں گے لیکن حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ جواد نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ حالات بہتر ہوتے ہی وہ اسے اور بچوں کو واپس بلائے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ فوجی آپریشن کے بعد بظاہر لگ رہا تھا کہ    حالات قابو میں آ گئے ہیں لیکن وہ صرف ڈھاکے کی حد تک تھے۔ باقی ملک میں بغاوت ، دہشت گردی اور تباہی و بربادی تھی۔ بھائی ، بھائی کا گلا کاٹ رہا تھا مرنے والے اور مارنے والے دونوں مسلمان تھے لیکن لڑائی بنگالی ، بہاری اور پنجابی کی تھی۔ زبان ، رنگ و نسل پر ہم مسلمان جتنے منقسم ہیں شاید دنیا کا دوسرا کوئی مذہب نہ ہو دشمن اس تمام حالات کا بے حد فائدہ اٹھا رہا تھا وہ جنہوں نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کی ٹھانی تھی اس وقت منصف بنے ہوئے تھے۔
مجیب تو ڈھیلا ڈھالا کنفیڈریشن چاہتا تھا لیکن یحییٰ خان ، بھٹو اور انداراگاندھی نے اسے پورا ملک دے دیا ، ہزاروں لاکھوں بے گناہ ان کی کارستانیوں کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔ کتنے خاندان بٹ چکے تھے بہت سے دوراندیش تو جب حالات کی نزاکت بھانپ کر مغربی پاکساتن آ چکے تھے اور اس دوران انہوں نے یہیں پر رہائش اختیار کر لی تھی لیکن کچھ ایسے ناعاقبت اندیش اور خوش فہم بھی تھے جو حالات بہتر ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ مرینہ کا شوہر ان میں سے ایک تھا۔ بیوی بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر وہ واپس ڈھاکا چلا گیا تھا۔ اس کی کمپنی کے پاس فوج کے ٹھیکے تھے اور وہ لوگ فوجیوں کے لیے بیرک بنا رہے تھے تو کہیں رن وے بنا رہے ہیں اور کہیں دیگر کام کر رہے تھے۔ کمپنی تو بے حد خوش تھی کہ اسے دھڑا دھڑٹھیکے مل رہے ہیں۔
 آتے وقت مرینہ اپنے ساتھ زیورات لے آئی تھی۔ بینک میں تھوڑی سی رقم تھی اور پھر اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ ابا کے بہت سمجھانے پر ایک 600 گز کا پلاٹ خرید لیا تھا۔ ورنہ تو بالکل تہی دامنی کا احساس ہوتا۔ پھر بھی بے حد مجبوری اور کسم پرسی کا عالم تھا ۔اس کے والدہ نے تو صاف ان کار کر دیا تھا اور اپنی بے حد مجبوری ظاہر کر دی تھی ۔ انہوں نے مرینہ سے صاف کہ دیا کہ بہتر یہ ہے کہ کہ تم کوئی اپنا ٹھکانا کر لو اور واقعی وہ بہترین حل تھا کہ کوئی چھوٹا موٹا گھر کراء ے پر لے لیا جاتا لیکن ابا اس پر تیار نہیں تھے اب بھی اس کے سسر بھی اس زعم میں تھے کہ تھوڑے دنوں کی بات ہے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ گھر وغیرہ لینا فضول ہے آپس میں گزارا کر لیا جائے اور یوں وہ جیٹھ کے گھر رہنے پر مجبور ہو گئیں تھی۔ وہ بچے جو شہزادوں کی طرح رہتے تھے عجب کملا گئے تھے جیٹھانی کافی بیمار رہتی تھی اس لیے گھر کے کام کاج کی ذمہ داری اس پر تھی۔ برتن مانجھ مانجھ کر اس کی انگلیوں سے خون رسنے لگا تھا اس نے یہ کام کبھی کیے نہیں تھے اور اس سے بچاؤ کے انتظامات کا اسے کوئی علم نہیں تھا۔
نند جو کبھی اس کی بچپن کی سہیلی تھی ،کبھی ملنے آتی تو طنز اور طعنوں سے اس کی تکالیف میں مزید اضافہ کر دیتی۔نا معلوم اس کی طبیعت میں اتنی تلخی کیوں تھی ؟ وہ بہت سخت طبیعت کی تھی ، اپنے میاں کے ساتھ بھی ہر وقت اس کی معرکہ آرائی رہتی اور یہاں آتی تو بس زہر ہی ا گلتی ، ابا ہی واحد فرد تھے جو اس کے ساتھ اور اس کے بچوں کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آتے وہ ان کے کمرے میں جاتی اس کا بستر جھاڑتی ، میلے کپڑے دھونے کے لیے یا دھوبی کو دینے کے لیے اٹھا لاتی۔ ان کے بستر پر ڈنڈوں کے ساتھ ایک مچھر دانی لگی ہوتی تھی کراچی میں کھڑکیاں کھلی ہوں تو سوائے دھول مٹی کے کچھ اندر نہیں آتا۔ مغرب کی جانب کھلی ہوئی کھڑکیوں سے اگرچہ ہوا اچھی آتی ہے لیکن وہ دھول مٹی سے اٹی ہوتی ہے ، مچھر دانی مٹی سے اٹی ہوئی تھی اس نے سوچا کہ اسے دھو لیا جائے اب جب کھولنے لگی تو ہر گرہ کے اندر کٹھملوں کی بھرمار تھی۔ پھر جو اس نے گدا اٹھایا تو پلنگ کی چولیں کٹھملوں سے کالی ہو رہی تھیں۔ یہی حال اس کے اپنے کمرے میں پلنگوں کا تھا۔ ساری رات کٹھمل کاٹتے وہ اور بچے کھجلاتے رہتے ہو سمجھی کہ شاید مچھر کاٹتے ہیں۔ سارے بازو ٹانگیں کھجلی اور کاٹنے سے داغدار ہو گئے۔ رات کو جب اس نے لائٹ جلائی اور تکیہ اٹھایا تو وہ کھٹملوں سے بھرا تھا جو اس کا اور بچوں کا خون چوس کر خوب صحت مند لگ رہے تھے۔ اب اس کا کیا علاج ہے ؟ ایک بہت ہی بدبودار دوائی بازار سے پوچھ کر خوید کر لائی۔ دکاندار نے بتایا کہ گدے کے نیچے اور پلنگ کی چولوں پر خوب اسپرے کرکے دروازہ بند کر دیں ، کٹھمل مر جائیں گے لیکن کچھ دنوں کے بعد پھر کرنا پڑے گا۔ بھابھی سانس کی مریضہ تھیں کسی قسم کی خوشبو یا بدبو برداشت نہیں کر پاتی تھیں۔
ایک روز وہ لوگ کسی کے ساتھ پکنک پر چلے گئے اور شام سے پہلے واپسی متوقع نہیں تھی۔ اس نے موقع غنیمت جانا اور بستروں پر اسپرے کر دیا۔ اس قدر کھٹمل تھے کہ نیچے فرش سیاہ ہو گیا۔ اس کی بدقسمتی کہ وہ لوگ جلدی واپس آ گئے۔ اس کے کمرے کے دروازے بند تھے لیکن بدبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی اور بھابھی کو زبردست سانس کا دورہ پڑا۔ اس پر مجرمانہ احساس اتنا طاری رہا کہ وہ ان سے کچھ ہمدردی بھی نہ کر سکی اور کرتی بھی کیسے؟ ان سب کی کاٹ کھانے والی نظروں کی اس میں کہاں تاب تھی۔
ابا کے پلنگ پر کٹھملوں کا راج دیکھ کر اس نے کہا ’’اب آپ کے پلنگ پر دوائی ڈالنی چاہیے یہ تو آپ کو بری طرح کاٹتے ہونگے"
 نہ معلوم وہ واقعی ان کو نہیں کاٹتے تھے یا وہ بہت یہ صابر و شاکر تھے کہنے لگے ’’نہیں بھئی ہمیں کچھ نہیں کہتے اپنا ایک طرف رہتے ہیں‘‘ لیکن اس نے ان کمرے میں اس وقت دوائی ڈالی جب بھائی جان ، بھابھی کو لے کر آب و ہوا کی تبدیلی کے لیے راولپنڈی اور مری نتھیا گلی گئے تھے۔ ابا کے لیے بازار سے کپڑے لے آئی، کڑتے اور پاجامے سیئے ۔ وہ سفید کرتا اور پاجامہ ہی پہنتے تھے۔ کچھ کرتوں پر ہلکی سی کڑھائی کر دی گلے اور آستین پر ۔ابا اس پر آشوب دور میں اس کے واحد ہمدرد اور بہی خواہ اور محبت کرنے والے تھے۔ ان سے اس کا تعلق بھی پرانا تھا انہوں نے ہی اسے پسند کرکے جواد سے رشتہ کیا تھا۔
ایک مرتبہ جب جواد کا رویہ کچھ تلخ اور Ignoring ہو گیا تھا تو ابا نے انہیں سختی سے ڈانٹا تھا اور اپنے رویے کا جائزہ لینے کے لیے کہا تھا۔ شام کے وقت اب برآمدے میں آ کر بچوں کو قرآن پڑھاتے تھے ان کے پڑھانے کا انداز بہت اچھا تھا۔ منو کو پڑھانا انہوں نے ہی شروع کیا تھا۔ وہ ریڈیو پر بی بی سی کی خبریں سنتی اور ان سے Discuss کرتی تھی۔ خبریں سننا اور اس پر تبصرہ کرنا پرانا شوق تھا۔ اپنا ریڈیو اور ٹی وی جو خبریں ہمیں دیتا تھا اس کے لحاظ سے سب اچھا تھا۔ حالانکہ حالات بہت دگرگومں تھے۔ وہ بی بی سی سن کر بہت پریشان ہو جاتی اور اس بناء پر انہوں نے بی بی سی سننے سے منع کر دیا۔ رات کو تہجد کے وقت اللہ تعالیٰ سے ابا کی آہ وزاری کرنے سے اس کی آنکھ اکثر کھل جاتی کیا پھوٹ پھوٹ کر گڑگڑا کر وہ اپنے رب سے دعائیں کرتے تھے اور یہ ان کا روز کا معمول تھا۔
اسے کوئی کام ہو ، ضرورت ہو ، وہ ابا سے کہتی تھی وہی لے کر اسے با زار جاتے ، خریداری کرواتے ، جان پہچان والوں سے ملوانے لے جاتے تھے۔ جواد عید گزارنے کراچی آئے تو ان کا خیال تھا کہ مرینہ اور چھوٹے ہاشم کو لے جائیں گے۔ بڑے دونوں وہیں رہیں گے اور ابا وغیرہ خیال رکھیں گے۔ وہ بھی کتنے بڑے تھے ایک سات سال ایک پانچ سال کا تھا اب اور مرینہ نے اس تجویز کو بالکل رد کر دیا۔ ’’اتنے چھوٹے بچوں کا خیال کون رکھ سکتا ہے؟ اور بھابھی تو اس قدر بیمار رہتی ہیں ۔ ان سے تو اپنے گھر اور بچوں کی ذمہ داری نہیں سنبھالی جاتی۔"
 وہ آئے تھے جانے ہی کے ارادہ سے تھے۔ بتا رہے تھے کہ اتنے اہم پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے۔ خلیل صاحب نے کہا ہے کہ ایک ہفتے میں واپس آ جائیں۔ دیگر بہت سے دوست احباب جن کی فیملیز مغربی پاکستان میں تھیں رک گئے۔ حالات بگڑنے کی خبریں آ رہی تھیں۔ خبروں میں آیا کہ جیسور کی طرف انڈیا نے بڑا حملہ کیا ہے اور کافی علاقہ قبضے میں لے لیا ہے ۔جس ملک کے اپنے ہی عوام بغاوت پر آمادہ ہو جائیں بلکہ اس قدر وسیع پیمانے پر اس کو بچانا مشکل نظر آ رہا تھا ۔مکتی باہنی (آزادی کی فوج) بنگالی نوجوانوں کی ایک بڑی جماعت تھی اس میں بہت سے فوجی بھی شامل ہو گئے تھے۔سب سے بڑھ کر فوج کا بنگالی حصہ ،طالب علم تنظیمیں ، مزدور اور ہر پیشہ کے لوگ تھے جو اب پاکستان سے آزاد ملک بنگلہ دیش بنانا چاہتے تھے۔ ہندوستان تو ان کا سرپرست اور کرتا دھرتا تھا ہی دیگر پاکستان دشمن ممالک بھی ان کے حامی اور Supporter تھے۔ پھر ان لوگوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی بہت ہدردی پا لی تھی۔ مغربی پاکستان کی فوج کا حال وہاں ایسا ہی تھا جیسے کہ وہ غیر ملک میں ہوں۔ زبان ، کلچر ، سرزمین سب تو غیر ہی تھی۔ ایک چیز مذہب یا دین جو کہ ان میں مشترک تھا وہ اس وقت بہت بڑے غلاف کے اندر بند ہو چکا تھا۔ اس وقت لسانیت ، علاقائیت او رفسطائیت کا راج تھا۔
تقسیم ہند کے واقعات تو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ہوئے تھے لیکن آپ بنگالی ، بہاری اور پنجابی کے درمیان تھے تمام اردو بولنے والے بہاری کہلاتے تھے اور مغربی پاکستان کے تمام رہائشی پنجابی کہلاتے تھے۔ صرف نو سال پہلے جب وہ یہاں پہلی مرتبہ شادی کے بعد آئی تھی تو اسے یہ سرزمین اور یہاں کے باسی بہت بھائے۔ ہرا بھرا سرسبز ملک اور سیدھے سادھے لوگ ، دکھاوا اور بناؤٹ سے بے نیاز ، دکھاوا اور بناؤٹ تو مغربی پاکستانیوں میں تھا جو پنجابی کہلاتے تھے یا اردو بولنے والوں میں جو بہاری کہلاتے تھے۔ 
ہو گئی تھی جواد کہتے تھے ’’بنگال کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے جو یہاں آتا ہے یہیں کا ہو جاتا ہے میں بھی جب تک یہ نکالیں گے نہیں یہاں سے جانے والا نہیں ہوں‘‘ جواد کی باقی فیملی پاکستان کراچی اور راولپنڈی آ کر آباد ہو گئے تھے لیکن وہ آنا نہیں چاہتے تھے۔ پھر ہر طرح کا آرام ، ہر چیز کی فراوانی ، بہترین ملازمت بلکہ پھر تو کمپنی کے ڈائریکٹر ہو گئے تھے۔ عمدہ مکان ، سہولیات ، نوکر چاکر ، دو کاریں ، ڈرائیور وہ سب کچھ تھا جس کی ایک آدمی تمنا کر سکتا ہے۔
وہ کہتی تھی کہ یہ بھی ہمارا ملک ہے اور پھر ہم یہاں خوش ہیں۔ اللہ نے ان کو اولادوں سے نوازا۔تین بیٹے ، ایک بیٹی عطا کی۔ بیٹی کا پیدائش کے وقت ہی انتقال ہوا۔ یہ دونوں کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ اس مٹی میں ان کا ایک جگر گوشہ بھی دفن تھا۔
وہ جب یہاں آئی تھی تو اس نے پہلے کبھی ساڑھی نہیں پہنی تھی۔ جواد نے اسے کئی ساڑھیاں لا کر دیں اسے ساڑھی بہت پسند تھی ، بس پھر تو ساڑھی ہی اس کا لباس بن گیا۔ رات کو پیٹی کوٹ اور بلاؤز میں سو جاتی دن میں ساڑھی لپیٹ لیتی۔ کاٹن کی ابرق اور کلف لگی ساڑھیاں خوب چمک دیتیں۔ کانجی ورم ، کتھان بنارسی ، پیور سلک ، شفون ، جارجٹ غرضیکہ اس کے پاس ساڑھیوں کے ڈھیر لگ گئے تھے۔ لمبا قد ، دبلا پتلا سراپا ساڑھی اس پر خوب جچتی۔
جب بیگم باز نے اسے دیکھا تو حیران رہ گئیں۔ "ارے تم تو پوری بنگالن بن گئی ہو"
 یہ اس کے ابا کے ایک عزیز دوست کی بیگم تھیں۔ بریگیڈیئر باز ملٹری Intelligence میں تھے بلکہ مشرقی پاکستان اگرتلہ سازش کیس کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ تھے۔ کچھ یہاں کے پانی کا کمال تھا کہ اس کے بال خوب گھنے اور لمبے ہو گئے تھے اس کا وہ جوڑا لپیٹ لیتی تھی۔ وہ جب چھوٹی تھی تو اس کی امی کو اس کے بال لمبے کرنے کا بہت شوق تھا وہ اسے ایک تیل لگاتی تھیں جس کا نام زلف بنگال تھا۔
اور حقیقاً زلف بنگال ، اسم بامسمیٰ تھا یہاں پر بال کاٹنے کا فیشن ہی نہیں تھا ہر عورت کے لمبے گھنے سیاہ بال ہوتے اور اس کے جوڑے بنے ہوتے تھے کٹے ہوئے بال یہاں بہت بڑا فیشن جانا جاتا تھا۔ بنگالی خواتین مغربی پاکستان کی بال کٹی ہوئی خواتین کو بہت موڈ Mod سمجھتی تھیں ، ہر جگہ کی اپنی ثقافت ہوتی ہے یہاں کی ثقافت پرہندوانہ رنگ غالب تھا ماتھے پر بندیا ، ساڑھی ، چھوئے بلاؤز کمر تک ، پیٹ دکھائی دینا کوئی عجب نہ سمجھا جاتا۔ شروع میں تو وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئی کہ بہت سی دیندار خواتین کے بھی پیٹ کھلے ہوتے ہیں اور بازو چھوٹے ہوتے ہیں۔ نماز کے وقت ساڑھی کو کھول کر لپیٹ دیا جاتا ، غریب عورتیں اور نوکرانیاں نو بلاؤز پہنتی ہی نہیں تھیں اس کے خانساماں کی بیوی خدیجہ جب کچن میں بغیر بلاؤز کے ساڑھی لپیٹ کر آتی تو اسے بہت خفت اور شرم محسوس ہوتی۔ خدیجہ کو اس نے اپنے بلاؤز دیے کہ پہن کر آئے۔ کچن میں آتے وقت خدیجہ الٹا سیدھا بلاؤز پہن کر آتی تھی وہ لوگ پیٹی کوٹ بھی نہیں پہنتی تھیں بس ساڑھے کو گرہ لگا کر باندھ لیتیں۔ خدیجہ کو ایک روز تیز بخار تھا تو وہ اسے دیکھنے کوارٹر گئی وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور بلاؤز پہننے لگی۔ ’’بیگم صاحب بہت گرمی ہے‘‘ اس نے بنگلہ میں کہا ۔
یہاں کی زندگی میں ایک غنائیت تھی ، ناچنا گانا ، یہاں کے بنگالی کلچر کا ایک حصہ تھا ۔ جواد کا خاندان پاکستان بننے کے بعد مشرقی پاکستان آ کر آباد ہوا تھا ان کے والد یعنی ابنا ریلوے میں تھے۔ وہ لوگ تو پھر مغربی پاکستان آ گئے۔ لیکن جواد یہیں تھے۔ سید پور سے میٹرک کرنے کے بعد ڈھاکہ آگئے ۔ یہیں پر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور ملازمت شروع کی۔ مرینہ نے زیادہ تر نوکروں کے ساتھ بول کر اچھی خاصی بنگالی سیکھ لی تھی۔
مشرقی پاکستان یا مشرقی بنگال کے مسلمان لیڈروں کا تقسیم ہند میں بہت اہم رول تھا۔ مولوی فضل حق، مولوی تمیز الدین خان ، نواب خواجہ ناظم الدین (جو بعد میں پاکستان کے وزیراعظم بنے) خواجہ شہاب الدین اور گورنر جنرل (جو وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کے عہدوں پر فائز رہے۔ مسلم لیگ کے صف اول کے رہنماؤں میں تھے۔
ان کی کوششوں سے مشرقی بنگال ہندوؤں کے تسلط سے آزاد ہوا اور خودمختار پاکستان کا دوسرا حصہ بنا۔ لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد مشرقی پاکستان کے لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ ان کے ساتھ مساویانہ سلوک ہرگز نہیں ہو رہا ہے۔ وسائل اور اقتدار کی تقسیم انتہائی غیرمنصفانہ ہے۔ جب قائداعظم آئے اور انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہ دیا کہ اردو پاکستان کی واحد قومی زبان ہو گی تو اس کو بنگالیوں نے ہرگز تسلیم نہ کیا کیونکہ پورا مشرقی پاکستان بنگالی بولتا تھا جب کہ اردو پاکستان کے کسی حصے کی زبان نہیں تھی صرف اردو دان طبقے کی زبان تھی۔
اس کے والد اکثر افسوس کرتے تھے کہ کاش قائداعظم اور ان کے ساتھی عربی کو قومی زبان بنا دیتے تو سب اس پر متحد ہو جاتے۔
اس اعلان کے فوراً بعد بنگالی طلباء نے بہت بڑا جلوس نکالا اور کہا کہ اردو کے ساتھ بنگلہ کو بھی قومی زبان بنایا جائے۔ اس جلوس میں شرپسند عناصر بھی شامل ہو گئے اور وہاں کے مجسٹریٹ کے آرڈر سے گولی چلی اور کئی طلباء مارے گئے۔ یہی وہ دن تھا جب نفرت اور عداوت کا پہلا بیج متحد ہ پاکستان کے خلاف بویا گیا۔ جہاں پر یہ واقعہ ہوا تھا وہاں شہید مینار بنایا گیا۔ ہر سال اس روز کو بڑھ چڑھ کر منایا جاتا تھا بلکہ لوگ ننگے پاؤں جلوس کی شکل میں جاتے اس کو وہ پربھات پھیری یا پیری ، کہتے تھے۔ خوب خوب تقریریں ہوتیں تھیں۔ نفرت او عداوت کو ہوا اور جلا ملتی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ احساس عام ہوتا گیا کہ ایک اور خطے اور زبان کے بولنے والے لوگ یہاں کے سیاہ و سپید پر حاکم ہیں اور خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہی رویہ اردو بولنے والوں یعنی بہاریوں کے ساتھ بھی شروع ہوا۔ اس طرح کی باتیں کھلے عام ہونے لگیں کہ انہوں نے ہمارے ملک کو لوٹا ہے اور ان کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارے ملک سے حاصل شدہ ہے یہاں کے وسائل کا ہے۔ اسلام آباد نیا نیا بن رہا تھا اس کی چمکیلی سڑکوں کا بڑا تذکرہ رہتا تھا پھر اس بات کو بہت اچھالا گیا کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے۔ پٹ سن (Jute) مشرقی پاکستان کا Cash Corp تھا ۔ کپاس کی طرح اور ملک کا ایک بڑا زرمبادلہ اس سے حاصل ہوتا تھا۔
سیاستدانوں نے ان نفرتوں کو خوب ہوا دی۔ متحدہ پاکستان کے حامی بھی تھے لیکن اکثریت زہر اگلنے لگی۔
1968ء کے آخر میں جب ایوب خان کی حکومت Decade of Development دس سالہ ترقی کا جشن منا رہی تھی۔ مشرقی پاکستان میںآئے دن ہنگامے زور پکڑ گئے۔ تعلیمی ادارے بند ہو جاتے اور آئے دن کرفیو لگ جاتا۔ ایوب خان کی حکومت نے کچھ کوششیں کی تھیں۔ بنگالیوں کو قریب کرنے کی لیکن کچھ فائدہ نظر نہیں آتا تھا۔ مثلاً مشرقی پاکستان کو پوربو پاکستان اور مغربی پاکستان کو پچھم پاکستان کہا جانے لگا۔ ملک کے ان دونوں حصوں کے درمیان بھارت کا دو ہزار میل کا فاصلہ تھا۔ اگر تلہ اور اس تین سال کے عرصے میں اتنی تیزی سے تبدیلی آئی۔
شیخ مجیب الرحمن کے اگر تلہ سازش کیس میں گرفتاری پر خوب مظاہرے ہوئے۔ مقامی باشندوں نے اسے کیس کو جھوٹا قرار دیا نعرے لگتے تھے ’’میتا کیس‘‘ یعنی جھوٹا کیس ، اگر وہ کیس سچ بھی تھا تو بھی اس میں صرف صوبے کا نام بنگلہ دیش رکھا گیا تھا۔ پاکستان سے علیحدگی کا منصوبہ نہیں تھا۔ عوام کے مطالبے کو مانتے ہوئے ایوب خان کو شیخ مجیب کو رہا کو رہا کرنا پڑا اور آب وہ عوامی لیگ کے ایک بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ مغربی پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو کا طوطی بولنے لگا۔ وہ جو کبھی ایوب خان کو ڈیڈی کہتا تھا اب ایوب خان کی مخالفت میں ڈٹ گیا۔ اب حکومت کے خلاف خوب خوب مظاہرے ہوئے۔ حسب معمولی مہنگائی ، کرپشن اور دیگر الزامات عائد ہوئے۔ آخرکار عوام کے دباؤ میں آ کر 1969 میں ایوب خان مستعفی ہوئے اور اقتدار کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان کے حوالے کیا۔ بلکہ مارشل لاء لگ گیا۔ یحییٰ خان نے اقتدار میں آنے کے بعد مغربی پاکستان کا ون یونٹ ختم کیا اور چار صوبے بحال ہوئے کیونکہ یہ ایک شدید مطالبہ تھا کہ ون یونٹ ختم کیا جائے۔ مشرقی پاکستان کی حیثیت پانچویں صوبہ کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی اور مغربی پاکستان میں پی پی پی اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ انتہائی مقبول عوامی پارٹیوں کی صورت میں ابھریں۔ یحییٰ خان نے 1970ء میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔
ان کا پرانا خانساماں اسماعیل جس کو اب جواد نے اپنا سائٹ سپروائزر بنا لیا تھا ملنے آیا تو سلام کرنے کے بعد فرش پر بیٹھ گیا اور زار وقطار رونے لگا۔ ’’بیگم صاحب اجمل (بنگالی میں ازمل) کے ساتھ اب بڑا آدمی ہو گیا ہے۔ شیخ مجیب (مزیب) کے ساتھ رہتا ہے اپن کو تو اب پہچانتا ہی نہیں ہے۔ بیگم صاحب ہم نے اس کو ماں باپ بن کر پالا۔ خود خراب پہنا اچھا اس کو دیا۔ خود بھوکا رہا اس کا پیٹ بھرا کتنی محنت سے اس کو پڑھایا آپ تو سب جانتا ہے)‘‘ وہ اسے سوائے تسلی دینے کے کیا کہتی۔ یہ حقیقت تھی کہ جواد کے پرانے سوٹ جو کبھی تنگ اور کبھی ڈھیلے ہو جاتے تھے ، جوتے ، کپڑے تمام اسماعیل لے جاتا تھا۔ وہ کہتا تھا ، ’’بیگم صاحب ازمل یونیورسٹی جاتا ہے اس کا اور صاب کا ناپ ایک ہے‘‘ اجمل نے مغربی پاکستان کے خلاف ایک زہر اگلنے والی کتاب بھی لکھی تھی جو کہ کافی مقبول ہو گئی تھی اس کی شادی بھی شیخ مجیب کے گھر سے ہوئی تھی اور اسماعیل ایک عام تماشائی تھا۔ 
الیکشن ہوئے اور شفاف ہوئے مغربی پاکستان سے پیپلزپارٹی اور مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ جیت گئی۔ عوامی لیگ کی نشستیں پیپلزپارٹی سے زیادہ تھیں۔ ملک کے آئین کی رو سے شیخ مجیب کو حکومت دے دینی چاہیے تھی اور ملک کا وزیراعظم مان لینا چاہیے تھا لیکن بھٹو اور یحییٰ اس پر تیار نہیں تھے ان کی منطق بھی نرالی تھی کہ اگرچہ مجیب کی اکثریت ہے لیکن مشرقی پاکستان میں بھٹو کی اور مغربی پاکستان میں مجیب کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ اس لیے اس کو وزیراعظم نہیں بنایا جا سکتا۔ ایک عجیب سیاسی گورکھ دھندہ شروع ہو گیا تھا۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ شیخ مجیب اور اس کی پارٹی کو ملک کا سیاہ وسپید دینے کی شدید مخالفت ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے" ادھر تم ادھر ہم "کا نعرہ لگایا۔ جو حقیقًا ایک ملک نہیں بلکہ دو ملکوں کی بات تھی۔ 
مرینہ کو یہ سب کچھ بہت برا لگ رہا تھا لیکن معاملہ بگاڑ کی طرف جا رہا تھا انہیں دنوں وہ اپنے چوتھے بچے سے حمل میں تھی اور طبیعت بھی مضمل رہتی تھی۔ بچی کی پیدائش کے وقت لیڈی ڈاکٹر (جو ایک فلپینی نسل کی امریکن ڈاکٹر تھی اور اس کا تیسرا بیٹا بھی اس کے ہاتھوں پیدا ہوا تھا) گانے گا رہی تھی اور اپنے مددگار عملے سے کہ رہی تھی۔ She is a very easy Patient اس کی ڈلیوری بہت آسان ہوتی ہے۔ سب کچھ نارمل جا رہا تھا اسے محسوس ہوا کہ بچے کی پیدائش کا لمحہ آ گیا ہے لیکن اسے یوں لگا جیسے اس کی جان نکل رہی ہے اور وہ چیخیں مارنے لگی۔ حالانکہ وہ ہمیشہ بہت صبر اور برداشت والی تھی۔ اسے اندازہ ہوا کہ بچے کی پوزیشن الٹی ہے ، باقی جسم تو پیدا ہو گیا لیکن سر ، اس کے بچوں کے سر ہمیشہ بڑے تھے۔ ڈاکٹر تیزی سے مختلف کوششیں کرتی رہی بچی پیدا ہوئی لیکن دم گھٹ گیا تھا رونے کی آواز نہ آئی تو وہ سمجھ گئی کہ کیا ہوا ہے اس کی اپنی حالت بھی بہت خراب تھی بالکل سٹریک ہوگئی تھی جواد بہت سمجھاتے اپنا اور بچوں کا واسطہ دیے لیکن اسے لگتا جیسے کہ وہ اندر سے بالکل خالی ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کس بات کی سزا دی تھی شاید یہ کہ وہ پچھلے کچھ عرصے سے نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھ رہی تھی۔ اللہ کی ذات ، تقدیر ، اس کے حکم اور فیصلوں پر اس کا ایمان مزید مستحکم ہو گیا۔
بھٹو اپنے تمام قریبی عملے اور ساتھیوں سمیت خلیل صاحب کے ہاں ٹھہرا تھا۔ شیخ مجیب سے مذاکرات چل رہے تھے لیکن کوئی مثبت حل نہیں نکل رہا تھا۔ جواد بھی اکثر ملنے چلے جاتے تھے۔ خلیل صاحب ان کی کمپنی کے چیئرمین تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے لیے وہاں کافی آسائشیں میسر تھیں۔ کچھ ہم پیالہ و ہم نوالہ والی کیفیت تھی۔ 
جواد کہتے تھے کہ مصطفیٰ کھر اور حفیظ پیرزادہ تو بھٹو کے آگے بالکل ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں پھر وہاں پر حسنہ بیگم اور بلو بیگم بھی تھیں۔
اب وہ سوچتی ہے کہ بھٹو اور یحییٰ خان کا ٹولہ ہی اس ملک کی علیحدگی اور تقسیم کا اصل ذمہ دار ہے۔ انارکی و انتشار کی اس کیفیت کا علیحدگی پسند عناصر خوب خوب فائدہ اٹھا رہے تھے۔ بھارت ان کی زبردست پشت پناہی کر رہا تھا بلکہ اس سارے قصے کو خوب ہوا دے رہا تھا۔
اس ساری صورتحال میں عوامی لیگ نے عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی۔ Non Cooperation, Non Alliance کہ نہ کوئی دفتر یا کام جائے گا اور نہ ہی کوئی دفتری کام ہو گا۔
پچھلے دو چار سالوں میں بنگلہ لسانی تحریک نے کافی جڑ پکڑ لی تھی ، اردو کے تمام سائن بورڈ کی جگہ بنگالی سائن بورڈ آ گئے تھے بلکہ انگریزی کے بھی خال خال دکھائی دیتے تھے۔یہی سوچ کر اسے بنگلہ زبان پڑھنے لکھنے کا فیصلہ کیا اور پڑوس کی مسز وہاب کے پاس بنگلہ سیکھنے جاتی تھی۔ وہ اس سے اردو سیکھتی تھیں کیونکہ ان کے شوہر اردو دان تھے۔ اس کے گھر کے ملازموں کے تیور بھی بدلنے لگے۔ صفائی والی حلیمہ کی ماں کہنے لگی۔ ’’بیگم صاحب آپ سب لوگ چلا جائے گا اس دیش سے، یہ سب ہمارا ہو جائے گا۔‘‘ اور واقعی ایسا ہوا۔ اس کے سارے ملنے والے جان پہچان والے آئے دن خاموشی سے کراچی اور لاہور جانے لگے۔
ہندوستان سے تعلقات پہلے سے ہی کشیدہ چل رہے تھے۔ کشمیری رہنماؤں یا دہشتگرد کہا جائے مقبول بٹ وغیرہ ایک بھارتی طیارہ گنگا ، اغواء کرکے لاہور لائے اور انہوں نے اسے ایئرپورٹ پر بم سے اڑا دیا۔ بھٹو ان کو شاباش دینے ایئرپورٹ پہنچا اور خوب تعریف کی۔ بھارت نے اس حرکت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اپنے حدود پر سے پاکستان کی پروازیں معطل کر دیں۔ بھارت کے اوپر سے کراچی اور لاہور سے ڈھاکہ کی تقریباً اڑھائی گھنٹے کی پرواز تھی جب کہ اب کولمبو (سری لنکا) کے ذریعے پروازیں جا رہی تھیں تقریباً ساڑھے چھ گھنٹے کا وقت لگتا تھا کولمبو میں جہاز اتر جاتا تھا ری فیولنگ ہوتی تھی۔
مارچ کا مہینا تھا۔ انہوں نے بھی فیصلہ کیا کہ وہ چلے جاتے ہیں۔ کام کاج تو یونہی بند تھا۔ پورے خطے پر ایک جمود کی کیفیت طاری تھی ، یہی سوچ کر روانہ ہوئے تھے کہ حالات بہتر ہوتے ہی واپس آ جائیں گے لیکن اللہ جانتا تھا کہ دوبارہ آنا اس کے اور بچوں کی قسمت میں نہیں تھا۔ گھر کی چند لائٹیں تک جلی ہوئی چھوڑ آئے تھے۔ 21 مارچ 1971ء کو یہ لوگ کراچی پہنچے۔ دوستوں کی دو اور فیملیاں بھی ہمراہ تھیں۔ مسز کیانی پان کا ایک بڑا ٹوکرا لے آئی تھیں۔ پان ان دنوں کمیاب اور مہنگے تھے۔
23 مارچ کو یوم جمہوریہ پاکستان تھا۔ مشرقی پاکستان میں اس روز کھل کر بنگلہ دیش کے جھنڈے لہرائے گئے اور خودمختار بنگلہ دیش کے ترانے گائے گئے۔
25 مارچ کو جنرل ٹکا خان نے مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن کیا۔ مجیب الرحمان اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرکے مغربی پاکستان کی جیلوں میں بھیج دیا گیا۔
اس دن بھٹو، ان کے ساتھی اور دیگر مغربی پاکستانی سیاستدان واپس آئے تو بھٹو نے کہا ''Thanks God Pakistan has been Saved'' لیکن پاکستان کے اسی دن دو ٹکڑے ہو چکے تھے۔
فوج نے زبردستی دفتر کھلوائے ، کاروبار ، کام شروع کروایا اور آرمی آپریشن شروع ہوا۔ عدم تشدد کا سلسلہ خونریزی میں تبدیل ہوا۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹنے لگا۔ تقسیم ہند کے قتل اور خونریزی ، ہندو مسلم اور سکھ فسادات کو لوگ بھول گئے۔ اب قتل و غارتگری تھی بنگالی ، بہاری اور پنجابی کی، کتنے جاننے والوں کو مار دیا گیا۔
ان کے پڑوس میں باسط صاحب کا فی بڑا خاندان میمن سنگھ میں رہتا تھا وہ لوگ ایک شادی کے سلسلے میں وہاں گئے تھے ان کا ایک بیٹا پاکستان آرمی میں میجر تھا۔ اندرون ملک تو پورے پورے خاندان ہلاک کر دیے گئے۔ اور یہی ان کے خاندان کے ساتھ ہوا۔ بیٹا جب آیا تو اسٹین گن لے کر نکلا اور راستے میں جو بھی بنگالی ملا اس کوشوٹ کرتا گیا۔ بڑی مشکل سے قابو میں آیا۔ مکتی باہنی والے پاکستان کے فوجیوں کو پکڑ کر نسیں کاٹ کر درخت پر لٹکا دیتے اور مرنے کے لیے تڑپتا چھوڑ دیتے تھے۔ یہی انجام اشمس اور البدر کے کارکنان کا کرتے تھے۔ یہ بنگالی طلباء تھے جو متحدہ پاکستان کے حامی تھی زیادہ تر اسلامی جمعیت طلباء کے کارکن تھے یا جماعت اسلامی سے تعلق تھا۔ فوج بھی باغیوں کو مارنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی بلکہ خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات کی بازگشت بھی سنائی دیتی۔ جو دونوں طرف سے ہو رہی تھی۔ بظاہر ڈھاکہ اور چاٹگام کنٹرول میں لگ رہے تھے۔ جواد ان کو بلانے کا وعدہ کرکے چلا گیا اور جب دوبارہ آ کر گیا تو یہ کہ کر گیا کہ میری جیب میں ٹکٹ ہے جب بھی گڑ بڑ ہوئی اگلی فلائیٹ لے کر آ جاؤں گا‘ وہ جانتی تھی کہ ایسا ہرگز نہ ہو سکے گا اور وہی ہوا ۔اس کے جانے کے تین دن بعد ہی بھارت نے مشرقی پاکستان پر بھرپور حملہ کیا۔ جنرل نیازی پاکستانی فوج کے کمانڈر تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں دونوں حصوں کے درمیان کمرشل پروازیں قطعاً معطل ہو گئیں۔ ہزاروں کی تعداد میں مغربی پاکستان کے فوجی وہاں تھے ان کے لیے وہ سرزمین ایک دیارغیر سے کم نہیں تھی۔ (رائل بنگال ٹائیگرز)فوج کا بنگالی حصہ بغاوت کرکے الگ ہو چکا تھا۔ وہ گوریلا جنگ یعنی مکتی باہنی کے کمانڈر بن چکے تھے اور اب بھارت کے شانہ بشانہ پاکستانی فوج سے لڑ رہے تھے۔
ان کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی تمام رابطے منقطع ہو چکے تھے۔ جواد جاتے وقت ایک پستول خرید کر لے گئے تھے کہ اگر ضرورت پڑی تو استعمال کروں گا لیکن اس تمام صورت حال میں ان کی لاہور سے تعلق رکھنے والی دو رشتہ دار لڑکیاں جو وہاں اس کالرشپ یا انٹرونگ اس کالر شپ (Interwing ) پر پڑھ رہی تھیں واپس ڈھاکہ چلی گئی تھیں اور ظاہر ہے کہ ان کے پاس تھیں (یہ ایک الگ داستان ہے) کیونکہ یہ ان کے لوکل گارڈین تھے اور وہاں ان کا کوئی رشتہ دار نہ تھا۔ ان حالات میں جب کہ مرد اپنے خاندانوں کے پاس مغربی پاکستان آ چکے تھے ان لڑکیوں کا واپس جانا انتہائی حیرت انگیز تھا۔
اپنا ریڈیو اور ٹی وی تو پاکستانیوں کے دفاع اور بے جگری سے لڑنے کی کہانیاں سنا رہا تھا جب کہ بی بی سی کی خبریں بالکل الٹ ہوتیں اور یہی وہ وقت تھا کہ ابا نے اسے بی بی سی سننے سے منع کر دیا۔ ارے جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 1965 ء میں بھی بی بی سی نے کہا تھا کہ ہندوستان نے لاہور کر قبضہ کر لیا ہے۔ مت سنا کرو ایسی خبریں سوائے پریشانی کے کچھ نہیں ، لکین وہ چپکے چپکے سنتی تھی ، پھر خبر آئی کہ چھاتہ بردار ڈھاکہ اور اس کے مضافات میں اتر رہے ہیں۔
ایک دن پہلے ہی جنرل نیازی نے کہا ’’ہمارا دفاع مضبوط ہے بھارتی ٹینک میرے سینے پر گزر کر ڈھاکے میں داخل ہو گا‘‘ اور اگلے ہی دن پلٹن میدان میں وہ بھارتی جنرل ارورہ سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈال رہے تھے۔ 
اس سے چند روز پہلے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قراردادیں پیش ہو رہی تھیں۔ بھٹو کو نمائندہ پاکستان کی حیثیت سے بھیجا گیا تھا، اس وقت بھی کنفیڈریشن کا معاملہ پیش کیا گیا۔ جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی ہوا۔ بھٹو نے بڑی جذباتی تقریر کی (تقریریں کرنا اس کو خوب آتا تھا) اور پولینڈ کی پیش کردہ بڑی معقول تجویز کو اس نے پھاڑ کر پھینک دیا۔
پاکستانی ٹی وی اور ریڈیو اب بھی سب اچھاہے کی رٹ لگائے ہوئے تھا جب مرینہ نے بی بی سی سے ہتھیار ڈالنے کی خبر سنی تو بے تحاشہ اس کے منہ سے شدت غم سے چیخیں نکلنے لگیں۔ ابا اور باقی سب لوگ گھبرا کر نکل آئے۔ جواد کی کوئی خبر جانے کے بعد نہیں آتی تھی اور اب ایک بہت ہی موہوم سی امید تھی کہ وہ بخیریت ہوں گے۔
ملک کا دوسرا حصہ بخوبی الگ ہو کر ایک اور آزاد ملک بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ بھارت ان کا نجات دہندہ تھا۔ پاکستان کے ٹکڑے کرنے کا اس کا خواب پورا ہو چکا تھا۔ مواصلات کے تمام رابطے منقطع ہو چکے تھے۔ ایسے وقت میں انٹرنیشنل ریڈکراس اور جنیوا کنونشن کے تحت پاکستانی فوجیوں اور ویلین کی بخفاظت واپسی کا فارمولہ طے پایا۔ ہزاروں کی تعداد میں فوجیوں اور سویلین کو بھارت لے جا کر کیمپوں میں محصور کرنا تھا۔ پاکستانی فوج کو ایک زبردست شکست ، ہزیمت اور پسپائی ہو چکی تھی۔ مجیب الرحمن کو آزادکرکے شان و شوکت سے بنگلہ دیش کا پہلا وزیراعظم بنایا گیا جب کہ بھٹو باقی ماندہ پاکستان کے صدر بنے۔
یہ وقت ایک انتہائی بے یقینی ، غم ، افسوس اور بددلی کا تھا، ملک کا تو جو حشر ہونا تھا ہو چکا لیکن اسے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ کیا جواد واپس آ جائینگے ۔ اس کا شوہر اور اس کے بچوں کا باپ واپس آ جائے گا اور اس کا گھر پھر سے بس جائے گا ، بس ایک موہوم سی امید اور دعائیں تھیں۔ فوجی اور سویلین ہزاروں کی تعداد میں بھارت لے جائے گئے ارو یہ POW یعنی Prisnors of War یا جنگی قیدی کہلائے۔اڑھائی ماہ کے بعد جواد کی خیریت کی اطلاع انٹرنیشنل ریڈکراس کے ذریعے سے آئی کہ وہ محفوظ اور بخیر ہیں اور ایک دوست کے ساتھ محمد پور میں رہتے ہیں۔
یہ خبر ایک مژدہ جانفزا تھی ، اندھیری تاریک رات میں روشنی کی ایک کرن تھی کہ اس کے جواد صحیح سلامت ہیں۔ ریڈکراس کے ذریعے پیغام آنے جانے میں ایک سے دو مہینے لگ جاتے تھے اور پیغام بھی زیادہ سے زیادہ پچاس لفظ پر محیط تھا۔ پھر جب کچھ بنگلہ دیش کا ڈاک کا نظام بہتر ہوا تو جواد نے اپنے بھائی کو لندن ان کے نام خط بھیجا جو کہ اسکے بھاء ینوید نے کراچی ارسال کیا۔ اس خط میں پتے میں اس نے اپنے نام کے ساتھ ، خوندوکار ، لکھا تھا جو کہ ایک بنگالی ذات ، اور یہ محض ایک احتیاطی تدبیر تھی۔ جوابی پتا اپنے دوست شیرازی کا دیا تھا جو کہ پرانے ڈھاکہ میں رہتے تھے۔ ڈھاکہ فال کے بعد جب کہ ہر طرف قتل و غارتگری ہو رہی تھی شیرازی ان کو اپنے گھر لے گئے اورکئی روز تک اپنے ہاں رکھا بلکہ پناہ دی۔ شیرازی کے آباواجداد تو شیراز (ایران) سے آئے تھے پھر ڈھاکہ میں بنگالیوں بلکہ ڈھاکہ کے پرانے باشندے جنکو ڈھکیہ کہتے تھے ان میں انہوں نے شادی بیاہ کی ۔ ان کے ہاں بنگلہ اور اردو دونوں بولی جاتی تھیں اور وہاں کے لوگوں میں کافی عزت تھی۔
جواد نے اپنی ٹویوٹا کرولا 17 ہزار میں بیچ دی تھی۔ اس سے اپنا بھی گزر بسر کر رہے تھے اور اپنے دوست احباب کی بھی مدد کر رہے تھے اس لوٹ مار کے عالم میں یہ گاڑی بیچنا ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔
            ا ب ان کے خطوط اسی طریقے سے آنے لگے۔ اس میں تقریباً تین سے چار ہفتے لگ جاتے تھے لیکن یہ ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں تھا۔
اسی دوران ابا کے گھر پنڈی میں خالی ہو گیا تھا اور وہ مکان کی مرمت وغیرہ کی نیت سے پنڈی جانے کی تیاری کرنے لگے۔ جواد اپنے خطوط میں اپنی بے بسی مجبوریوں اور کسم پرسی کی داستان سناتے۔ اس سرزمین پہ جو کہ ان کی اپنی تھی جہاں سے انہیں عشق تھا وہ آج ایک قیدی اور بے یارومددگار کی زندگی گزار رہے تھے۔ جہاں قدم قدم پر خطرہ اور خوف تھا اور جو اب ایک ظلم کی بستی تھی پھر معلوم ہوا کہ کچھ لوگ دلالوں اور اسمگلروں کے ذریعے بھارت پہنچ گےء اور پھر بھارت سے نیپال اور بنکاک کے ذریعے پاکستان آئے، ظاہر ہے جواد بھی نکلنے کی کوشش میں تھے لیکن کب ؟ وہ جب خط بھیجتی تو بچوں سے بھی چند جملے ضرور لکھواتی وہ اپنے معلوم جذبات کا اظہار کرتے۔
ابا پنڈی جانے لگے تو اسے معلوم تھاکہ حالات اس کے لیے اور صبر آزما ہو جائیں گے۔ اس کو اس کی بھی گھبراہٹ تھی کہ وہ اکیلے کیسے رہیں گے بھابھی کہنے لگیں ’’وہ تو ہمیشہ جاتے ہیں اور اکیلے رہتے ہیں اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔" ان کا انداز کچھ ایسا تھا جیسے کہ رہی ہوں کہ خواہ مخواہ کی محبت جتا رہی ہو۔
جون کا مہینا تھا۔ ابا کو گئے ہوئے 3 ہفتے ہو چکے تھے۔ وہ مکان میں رنگ و روغن اور دیگر کام کروا رہے تھے۔ ایک شام اچانک ٹیلی گرام آیا کہ ان کی طبیعت کافی خراب ہے فوراً آ جاؤ ، یہ نقوی صاحب کی طرف سے تھا۔ سب لوگ بے حد پریشان ہوئے۔ نند صاحبہ کے ہاں دعوت تھی وہ بھی فارغ ہو کر آئیں۔ ابا کے جانے سے پہلے ان کی اور ابا کی خوب جھڑپ ہوئی تھی۔ ابا نے یہاں تک کہ دیا تھا کہ اب میں پنڈی سے نہیں آؤں گا ۔ بھائی جان اگلی فلائیٹ سے روانہ ہوئے لیکن ابا جان کو جان لیوا اسٹروک ہوا تھا پہنچنے سے پہلے ہی اپنے رب کے حضور جا چکے تھے بہت عظیم سانحہ تھا اس کو ایسا لگا کہ اس کا بزرگ ، اس کا سرپرست اس کا غمگسار چلا گیا ۔ وہ تو ان کی واپسی کا شدت سے انتظار کر رہی تھی ۔ اس کی نند تو شدت غم سے دیوانی سی ہو گئی شاید پچھتاوا بھی ہو۔ابا کو وہیں دفنایا گیا ، اماں اور شاہد (ان کا چھوٹا بیٹا) بھی وہیں دفن تھے۔
پہلے تو سوچا گیا کہ جواد کو بے خبر رکھا جائے لیکن پھر اطلاع کر دی گئی اس کسمپرسی کے عالم میں ان پر بھی قیامت گزر گئی۔ شیرازی کا چھوٹا بھائی منو بڑی باقاعدگی سے آتا تھا وہ کراچی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اس کو وہاں سے کوئی خبر ملتی تو دینے چلا آتا۔ اور وہ اپنا دکھ درد بھی بانٹ دیتے۔ ابا کے جانے اور انتقال کے بعد حالات اور بھی صبرآزما ہو گئے تھے۔ وہ تو اللہ کا شکر تھا کہ جواد کی کمپنی کا کراچی آفس اسے کچھ رقم دے دیتا وہ اسے کچھ کیش دے گئے تھے ورنہ پھر بالکل ہی خالی ہاتھ ہوتی جس سے بچوں کی فیس وغیرہ کی ادائیگی ہو رہی تھی۔ جیٹھ کے دو لڑکوں سے وہ کافی خالف سی رہتی تھی۔ وہ ہر وقت بچوں کو چھت پر لے جا کر کھیلنا چاہتے تھے۔ ابا کے انتقال کے ڈیڑھ ماہ کے بعد اچانک بھابھی کی طبیعت بگڑ گئی ان کو بقائی ہسپتال لے جایا گیا انہیں دمے کا بہت شدید دورہ پڑا تھا۔ رات کو اس کی آنکھ کھلی تو اصغر کے رونے کی آواز آ رہی تھی کہنے لگا ’’اماں جی بھی اللہ میاں کے پاس چلی گئی ہیں‘‘ یکے بعد دیگرے دو غموں نے ان کی کمر توڑ دی تھی۔ ایسے میں وہ اپنے دکھ درد اور پریشانیاں بھول گئی۔
پھر ایک دن اچانک بیگ صاحب آ گئے وہ ان کو دیکھ کر ششدر رہ گئی کیونکہ وہ بھی ڈھاکے میں محصور تھے۔وہ ہندوستان ، نیپال اور بنکاک کے راستے پہنچے تھے ، بجائے اس کے کہ وہ اس کا دکھ درد بانٹتے وہ اس کی تکلیف اور پریشانیوں میں اضافہ کر گئے ان کی ایک بات بار بار اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ’’مجھے تو نہیں لگتا کہ جواد وہاں سے نکلنے کی کوئی کوشش کر رہے ہیں ارے ان کی تو خوب عیش ہے۔‘‘ ان کا اشارہ ان کی دو عزیز لڑکیوں کی طرف تھا جو وہاں تھیں۔
اس نے صرف اتنا کہا ’’میں نے سب کچھ اللہ پر چھوڑ رکھا ہے اور اللہ بہتر کرے گا"
 جواد کے جتنے خطوط آئے تھے اس میں سوائے دعاؤں ، وظیفوں، اوراد اور پریشانی کے کچھ نہ ہوتا ، وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ وہ ان ناگفتہ بہ حالات میں کتنا عیش کر سکتے ہیں ؟ پھر رفتہ رفتہ مختلف جاننے والوں کے بارے میں خبریں آ نے لگیں۔ فلانا آ گیا ہے ، جواد کے ایک اور قریبی دوست آئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ    نکلنے کی کوششوں میں ہیں اکیلے ہوتے تو کبھی کے آ چکے ہوتے دراصل ان لڑکیوں کی وجہ سے ان پر بھاری ذمہ داری آ گئی ہے اور ان کو بحفاظت نکالنا چاہتے ہیں۔‘‘
اچانک ایک روز ہ مژدہ جانفرا آیا کہ جواد ہندوستان میں بہار پہنچ گئے ہیں اور ڈاکٹر حمیدی کے ہاں ہیں۔ دلالوں اور اسمگلروں کے ذریعہ لانچوں سے ان کو دریا پار انڈیا پہنچا دیا جاتا۔ انڈیا پہنچ کر وہ آزاد اور محفوظ ہو جاتے تھے۔ قدرت کی کیا ستم ظریفی تھی یا خوشی تھی کہ برداشت سے باہر تھی لیکن جب تک یہاں پہنچ نہ جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس قدر خوف اور خدشات تھے ان کو رقم کی اشد ضرورت تھی تاکہ آنے کے لیے ٹکٹ خرید سکیں۔ چھوٹے بھائی نے لندن سے فوراً رقم ٹرانسفر کی، انڈیا سے بارڈر کراس کرکے نیپال پہنچے کٹھمنڈو سے بنکاک اور پھر کراچی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی تک روئے جا رہی تھی۔ دور کہیں مرغوں کی بانگیں آنے لگیں ، لگ رہا تھا اندھیری رات کٹ جانے کو ہے لیکن اس کی ہچکیاں بند ہی نہیں ہو رہی تھیں ، آنسو تھے    کہ بہے جا رہے تھے لگ رہا تھا ۔ضبط اور برداشت کا بند آج بری طرح ٹوٹ چکا ہے ، آنسو بھی کتنی بڑی نعمت ہیں اور رحمت ہے رب کی ، انسانی دل و دماغ کو ہلکا اور آسودہ کر دیتے ہیں وگرنہ انسان غموں سے اندر ہی اندر گھٹ جائے۔ یہ آنسو بہنا اس وقت اور آسان ہو جاتے ہیں جب کوئی ڈھارس ملتی ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ شروع ہو گئی۔ ابھی کراچی کی حبس ناک گرمی شروع نہیں ہوتی تھی۔
پوری رات آنکھوں میں کٹ گئی ، جواد کے بے حس جسم میں پہلی مرتبہ حرکت ہوئی اس نے اس کی طرف کروٹ لی ، اپنے قریب کیا ہلکے سے پیار کرکے بس اتنا کہا ’’دیکھو اب میں آ گیا ہوں‘‘ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا‘‘ اسے لگا جیسے کہ اس کے سارے دکھ درد ختم ہو گئے ہیں ایک نئی صبح طلوع ہونے کو تھی ، مسجدوں سے فجر کی اذانیں بلند ہونے لگیں۔
حی علی الفلاح ۔۔۔ حی علی الفلاح ۔۔۔ حی علی الصلوٰۃ ۔۔۔ حی علی الصلوٰۃ ۔۔۔اللہ اکبر
۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔ الصلوٰۃ خیر من النوم۔
نوم جو کہ آنکھوں سے غائب تھی ، دونوں اٹھے (یعنی نیند) فجر کی نماز کی ادائیگی کے لیے مجبور و بے بس بندہ ہر گھڑی ہر لمحے اللہ کے رحم و کرم اور فضل کا محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر بے پناہ فضل کیا تھا۔
***



 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 



-- 



عابدہ

Abida RahmaniMission of Global-Right-Path is to