Tuesday, February 17, 2015

نیا سال 2015 مبارک

<


نیا سال 2015 مبارک

از

عابدہ رحمانی


دعا ہے کہ یہ نیا سال آپ اور ہم سب کیلئے امن ، سکون ،صحت تندرستی ، خوشحالی اور خوشیوں کا باعث اور ضامن ہو-- اللہ تبارک وتعالٰی آپ سبکو خوشیاں اور آسانیا ں عطا فرمائےاور خوشیاں اور آسانیاں بانٹنے والا بنائے--


کچھ حلقے یقینا معترض ہونگے کہ یہ تو ہما را سال ہرگز  نہیں ہے اور ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا یا یہ ہماری بلا سے کہ یہ سال آئے یا نہ آئے -- جناب فرق تو پڑتا ہے ہم 2014 سے 2015 میں داخل ہوجایئنگے اور اگر ہم اور کسی قابل نہیں ہیں توآپ سبکو  نیک خواہشات کے ساتھ مبارکباد تو دے ہی سکتے ہیں زندگی میں خوشیان یوں بھی اتنی مختصر ہیں --اور ہمارا شمار تو انمیں ہے جو نۓ جوتوں اور کپڑوں تک کی مبارکباد دیتے ہیں ورنہ پہننے والا ناراض ہو جاتا ہے کہ ہمیں مبارک ہی نہیں کہا-- اور یہ مبارکباد کیاہے در حقیقت دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اسمیںخیر و برکت ڈالدے اور یہ خیر و برکت کہ دعائیں تو ہمارا زندگی کا اثاثہ ہیں--

اگر یہ ہمارا سال نہیں تو پھر ہمارا کونسا سال ہے -- ؟ ہجری" ہاں یقینا  کیوں نہیں -- ذرا یہ فرمایئے آج کونسے ہجری مہینے کی کونسی تاریخ ہے اور کونساسال ہے ؟"ربیع الاول -البتہ تاریخ یاد نہیں ارہی چار یا پانچ شاید اور سال 1434 نہیں 1435 شایدَ" اور شمسی کیلنڈر ؟ واہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے دسمبر 2014 کی 31 تاریخ ہے ٓاور کل نیا سال شروع ہونیوالا ہے

--- لیکن مبارک نہیں کہینگے بھئی ہم نیا سال مناتے ہی نہیں --- منانے سے آپکی کیا مراد ہے چلیئے جانے دیجئے اسطرح سے تو ہم بھی نہیں مناتے --

ہم میں سے 90 فیصد مسلمان اسلامی کیلنڈر اور اسکی تاریخوں سے نابلد ہوتے ہیں اور جب ہم ایک ملک اورایک محلے میں رمضان ، عیدین مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں تو پھر ہمیں یہ اعتراضات زیب نہٰیں دیتے -- سوائے سعودی عرب کے کوئی اسلامی ملک نہیں جسکا روزمرہ کا حساب کتاب اسلامی تاریخوں اور کیلنڈر پر چلتا ہو-باقی دنیا میں اسلامی تاریخوں کی یہ گڈمڈ بہت پریشان اور افسردہ کرتی ہے کاش کہ ہم بھی اسلامی یا ہجری کیلنڈر پر متفق ہوں ،جوکہ چند سوچنے والے دماغوں نے بنا لیا ہے اور اسکا قمری حساب کتاب بالکل درست ہے -اسطرح ہم جگ ہنسائی سے بھی بچ جائینگے اور خود بھی مطمئن ہونگے-اسلامی مہینوں کی متفرق تاریخیں ہمیں ایک مخمصے میں ڈالدیتی ہیں --؟ آسان علاج یہ ہے کہ چشم پوشی اختیار کرو اور پھر اس سے بڑی دکھ کی بات کہ ہم تو نئے اسلامی سال پر بھی مبارکباد دیتے ہیں لیکن بہتوں کو یہ بھی بالکل نہیں بھاتآٓ--"یہ بھی کوئی بات ہے ہمارا نیا سال تو غم اور دکھ سے شروع ہوتا ہےاور آپکومبارکباددینے کی سوجھی ہے "-

اور پھر ہمارے برصغیری معاشرے میں ایک اور سال بھی منایا جاتا ہے جسے فصلی یا موسمی سال کہتے ہیں--جیٹھ ، ہاڑ، ساون بھادوں ہر سال کی طرح اسکے بھی پورے بارہ مہینے ہیں( راز کی بات یہ کہ ابھی مجھے اردو میں پورے فصلی مہینوں کے نام یاد نہیں آرہے ) - دیہاتی ، زمیندار، کاشتکار لوگ انہی مہینوں پر چلتے ہیں اور انہی مہینوں کا حساب رکھتے ہیں انکے سارے تہوار، فصل کی کٹائی ،بوائی ، بارشوں کا ہونا یا نہ ہونا انہی مہینوں اور تاریخوں میں ہوتا ہے -- یہ مہینے بھی شمسی کیلنڈر کی طرح ہیں کیونکہ یہ مقررہ موسم کے حساب سے آتے ہیں--

اب جبکہ ہمارا ساراروزمرہ کا  جدول ، حساب کتاب اسی شمسی یا عیسوی کیلنڈر کے حساب سے چلتا ہے تو اس کی آمد پر خوش ہوں یا اداس ہوں وہ تو آئے گا ہی -- بھلا وقت کے دھارے کو کوئی روک سکا ہے؟  

2015 کی بس آمد آمد ہے --مغربی دنیا تو لمبی چھٹیاں مناتی ہے عام طور سے ان چھٹیوں کو "میری کرسمس اور ہیپی نیو ائر" کہا جاتا ہے - ہم اور بہت سے انہیں" ہیپی ہالیڈیز happy holidays" کہتے ہیں -مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہمارے پاکستانی اسکول میں" بڑادن " کی چھٹیاں ہوا کرتی تھیں -- بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بڑادن کرسمس ہوا کرتا ہے - بعد میں یہ قائد اعظم کی یوم ولادت میں بدل گیا - اور بعد میں میرےلیئے اسدن کی اہمیئت اور بڑھ گئی ---

امریکن تھینکس گیونگ ک بعد کرسمس اور نیو ائر کی سجاؤٹ شروع ہو جاتی ہے --جھلملاتے ہوئے ایک سےایک بڑھ کر کرسمس ٹریز  گھروں میں ، بازاروں ، مالوں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر ایک سماں پیدا کر دیتے ہیں اور ہر طرف جھلملاہٹ ، قمقمے سارا ملک ، سارا خطہ ایک جشن کا سماں پیدا کر دیتا ہے --کرسمس تک تو سانٹا کلاز کا راج ہوتا ہے سرخ پھندنے والی ٹوپی بڑی سفید داڑھی، موٹی توند، سرخ و سفید کپڑوں میں ملبوس، مال میںسانٹا کے ساتھ اپنے بچوں کی  تصویر کھنچوانے والوں کی ایک لائن لگی ہوتی ہے-- اب تو کرسمس کی رات کو بہت سارے چینل سانٹا کی قطب شمالی سےرینڈیئرکی رتھ میں   روانگی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کرتے ہیں --تحائف سے  لدے پھندے سانٹا کی آمد کا سب بچے انتظار کرتے ہیں -- سانٹا عام طور سے یہ تحایف کرسمس ٹری کے نیچے رکھ جاتا ہے -- معمول کے مطابق سانٹا چمنی سے اترتا ہے لیکن اگر چمنی نہ ہو تو سانٹا تو سانٹا ہی ہے پھر بھی آجاتا ہے -- بچے تو بچے بڑوں کو بھی یہ تجاہل عارفانہ یا یہ خوبصورت جھوٹ اور کہانی بے حد مر غوب ہے --یہاں کی اسی فیصد عوام اس سے نابلد ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش کا دن ہے --اور یہ دن اور کرسمس بھی قدامت پسند یونانی اور آئر لینڈ کے لوگ مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں- ایک مرتبہ سی این این پر کرسمس کے بارے میں پروگرام تھا اسمیں اکثریت نے یہی کہا کہ یہ کرسمس ٹری سجانے ، رینڈیئر کے رتھ پر سانٹا کے آنے اور تحفے تحایف کا موقع ہے --اب تو ہمارے اکثر مسلمان بھی اس سجاؤٹ میں شریک ہوگئے ہیں --

کرسمس گزرا تو نئے سال کا انتظار شروع ہوا -- سجاؤٹیں توپورے طور پر  جاری ہیں امریکہ میں نئے سال کی اپنی دھوم ہے باقی ممالک میں اپنی --نیویارک کے ٹایم اسکوائر میں ایک بڑ امصنوعی سر خ سیب یا بال نئے سال کی آمد کے ساتھ ٹھیک 12 بجے گرایا جاتا ہے ایک خلقت سخت سردی میں اسکا انتظار کرتی ہے اسکے ساتھ بے انتہا غل غپاڑہ ، ناچنا گانا، آتش بازیاں جو کہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہوتی ہیں -- پارٹیاں شباب پر ہوتی ہیںجانے دیجئے اسکی تفصیلات میں جانا شریفوں کا کام نہیں

کراچی اور پاکستان  میں یہ سب غیر سرکاری طور پر منایا جاتا تھا --رات کے ٹھیک 12بجے آٹومیٹک اسلحے کی جو تڑ تڑ فائرنگ شروع ہوتی تھی اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ لوگ کسقدر مسلح ہیں جبکہ ہمارے پاس چاقو چھری سے زیادہ کچھ نہ ہوتا-- یہاں پر بھی نجی پارٹیوں کا زور ہے --سی ویو پر نوجوان دیوانہ وار پہنچ جاتے اور خوب ہنگامہ کرتے --دوسری طرف دینی پارٹیوں کے نوجوان انکو روکنے کی کوشش کرتے -- جانے یہ سب اب بھی ہوتا ہوگا--

نیئے سال کی ریزیلوشن یعنی  قرارداد کا بڑا چرچا ہوتا ہے -- اب آپ اپنے ریزولوشن کا سوچیئے

ہمارا تو یہ ہے کہ سب کا بھلا تو ہمارا بھی بھلا ---

چلیئے عربی میں بھی دعا دیتے ہیں "کل عام و انتم بخیر" ---- آپکا نیا سال خوش آئیند ہو--





عابدہ

Abida Rahmani


Monday, February 16, 2015

شمالی امریکہ کے مسلمان





یہ 19 سالہ پرانی تحریر ہے -مسلمانوں کے لحاظ سے حالات کافی تبدیل ہوچکے ہیں اپنوں اور غیروں کی سازشوں 


نے انکو کافی الجھا دیا ہے اور قدرے کمزور کر دیا ہے- لیکن اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اسلام اسکے باوجود

 

ان ملکوں میں خوب پنپ رہا ہے-




شمالی امریکہ کے مسلما ن
مستقبل میں ایک موثر قوت بن کر ابھریں گے
1996ء کے ایک سفر شمالی امریکہ کے تاثرات


از

عابدہ رحمانی


گزشتہ چند ماہ امریکہ اور کینیڈا میں گزرے۔ رمضان کا مہینا تھا جب میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخل ہوئی میرا پہلا پڑاؤ ٹیکساس آسٹن میں تھا۔ شروع شروع میں تو بیحد قلق ہوا کہ نہ اذان کی صدائیں، نہ سحر و افطار کی رونقیں یا اللہ تو اس ملک میں بھی اپنے دین کو غالب کر دے یہاں بھی تیرے دین کا بول بالا ہو، دل کے اندر سے دبی ہوئی خواہشوں کا اظہار دعاؤں کی صورت میں ہوتا تھا۔

یہاں کی مسلم ایسوسی ایشن نے سحر و افطار کا چارٹ تقریباً سب مسلمانوں کوبھجوایا تھا۔ نمازوں کے نظام اولاقات بھی تھے یا پھر مسلمان خود ہی جا کر مسجد سے لے کر آئے تھے۔ آنے کے بعد افطار پارٹیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو بیحد خوشی ہوئی کہ الحمد للہ مسلمان آپس میں کافی مربوط ہیں۔ اگرچہ گھریلو قسم کی دعوتیں تو پاکستانی گھرانوں میں ہوتیں لیکن مسجد میں دعوت میں مختتلف رنگ و نسل کے مسلمان نظر آئے۔ عرب، ہندوستانی، بنگلہ دیشی، مصری، فلسطینی اور دیگر قرآن کی آیات اور حضوؐر کے آخری خطبے کی بازگشت سنائی۔ اللہ کے نزدیک سب سے عزت والا وہ ہے جو سب سے متقی ہو (الحجرات)۔ عربی کو عجمی پر اور نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے اگر فضیلت ہے تو تقویٰ اور پرہیزگاری کی بدولت ہے۔ آسٹن کی اس مسجد جو کہ یونیورسٹی آف ٹیکساس کے قریب ہے گرجا گھر کی عمارت لے کر بنائی گئی ہے۔ افطار، نماز اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد مسجد کی مزید تعمیر اور توسیع کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع ہوئی جس میں مسلمان مردوں اور خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کئی ہزار ڈالر جمع ہوئے یہاں چھوٹے، بڑے بچوں اور خواتین کی تدریس کا بھی انتظام ہے جس میں مزید توسیع کی جائے گی۔ یہاں پر اکثرخواتین پورے پردے سے تھیں جبکہ دیگر نے سکارف اوردوپٹے اوڑھ رکھے تھے۔ 

فرانسیسی نو مسلم لڑکی سٹیفنی نے بہت متاثر کیا۔ سٹیفنی نے اپنے ایک بنگلہ دیشی دوست سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔ کاش کہ ہم اپنے کردار اوراخلاق کی بدولت اسی طرح دیارِ غیر میں غیر مسلموں کو متاثر کر سکیں۔ سٹیفنی وہاں سے امریکہ آ گئی جہاں پر وہ ایک جگہ فرانسیسی مترجم کی ملازمت کر رہی ہے۔ اپنا زیادہ وقت مسلمانوں سے ملنے جلنے میں اور مسجد میں گزارتی ہے۔ اسلام کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کر رہی ہے، سوتے ہوئے چھوٹے بچوں کو اٹھا کر وہ بہت پیار سے چپ کرا رہی تھی کاش کہ سٹیفنی کو ایک مخلص مسلمان ہمسفر مل جائے۔ بنگلہ دیشی بہن مسز نور الدین بھی اپنی بیٹی اور نواسی کے ہمراہ موجود تھیں وہ اور میں ایک ہی جہاز سے دبئی سے آسٹن تک پہنچے تھے اور اس طرح آپس میں بات چیت اور دوستی ہو گئی تھی۔ مسز نور الدین نے برقعہ اوڑھ رکھا تھا اردو بھی بہت اچھی بول رہی تھیں ان کے شوہر نے جب ان سے بنگالی میں باتیں کیں تب ان کی زبان کا اندازہ ہوا جب پاکستان تقسیم ہوا تو افغانستان میں تھیں ان کے شوہر پاکستانی سفارتخانے میں سیکنڈ سیکرٹری تھے بعد میں بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے اچھے عہدوں پر فائز رہے۔ حال ہی میں ریٹائر ہوئے تھے ان کی صاحبزادی بھی پردے میں تھیں۔ مسز نور الدین میں بیحد دینی شعور اور جذبہ تھا۔ 1971ء کے سانحے پر افسردہ تھیں کہ بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا، خواتین حکمرانوں کی بنگلہ دیشی، پاکستانی دونوں کےخلاف تھیں ۔حسینہ کو بھی ناپسند کرتی تھیں۔ جماعت اسلامی کی ہم خیال بلکہ متفق تھیں ان سے مل کر اور باتیں کر کےبےحد خوشی ہوئی ۔ان کو میں نے بتایا کہ ڈھاکہ میں، میں نے بھی عمر عزیز کے آٹھ سال گزارے ہیں اور ڈھاکہ میں قیام کی بیحد خوشگوار یادیں ہیں جو کہ 1971ء کے سانحے کے بعد تکلیف دہ یادوں میں تبدیل ہو گئیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ بات مشاہدے میں آئی کہ الحمد للہ مسلمانوں میں اپنی شناخت کا جذبہ شدت سے ابھر رہا ہے اور اس کی بدولت اب وہاں کے معاشرے میں مسلمانوں کی پہچان کوئی مشکل نہیں رہی۔

ایک شاپنگ مال میں خریداری کرتے ہوئے سیلز گرل میرے لباس کو دیکھ کر مخاطب ہوئی کیا تم مسلمان ہو- پاکستانی ہو؟ کہنے لگی کہ تم مسلمان عورتیں اپنے آپ کو اس لیے ڈھکتی ہو کہ مرد تمہاری طرف متوجہ نہ ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ تمہارے مذہب میں بھی تو یہی ہے تم دیکھتی ہو کہ تمہاری نن اپنے آپ کو کیسے ڈھانپتی ہے۔
اگرچہ وہاں پر رہائش پذیر بیشتر مسلمان خواتین خاص کر جو کام کرتی ہیں انہی جیسا لباس پہنتی ہیں یعنی پتلون، ٹی شرٹ وغیرہ اور اکثر سکارف نہیں پہنتیں تاکہ وہ ان سے الگ نظر نہ آئیں یہ ایک قسم کا احساس کمتری ہے۔ وہاں کے معاشرے میں سکارف سے ڈھکا ہوا سر مسلمان عورت کی نشانی بن چکا ہے۔ اس لباس کو دیکھ کر اگلا مسلمان آگے سے السلام علیکم کہتا ہے۔ مجھے تو چلتے پھرتے مختلف جگہ مسلمان خواتین اور مردوں نے سلام کیا۔
سیاہ فام لیڈر لوئی فراخان کی تقریر میں نے شکاگو ٹی وی سے سنی ان کی جماعت کا نام نیشن آف اسلام ہے۔ یہ بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ ان کی عورتیں پوری طرح سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہیں صرف چہرے کھلے ہوتے ہیں۔ شعلہ بیان مقرر ہے انہی دنوں لیبیا، سوڈان، ایران، عراق، شام، نائجیریا اور سعودی عرب کے دورے سے واپس گئے تھے کافی لمبی تقریر تھی۔ سعودی عرب میں انہوں نے عمرہ ادا کیا، امام کعبہ اور امام مسجد نبویؐ سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے اقوام متحدہ اور امریکہ کی پابندیوں کے باعث عراقی قوم کی حالت زار ہے۔ بمباریوں کے اثرات کے علاوہ غذا کی قلت، جان بچانے والی ادویات کی قلت اور جان توڑ مہنگائی ہے۔
اس زمانے میں امریکہ ٹی وی کے مختلف چیلنجز پر لوئی فراخان کا یہ فقرہ دکھایا جاتا تھا۔
America would be destroyed by the hands of Muslims.     امریکہ مسلمانوں کے ہاتھ تباہ ہوگا۔ 

لوئی فراخان نے بتایا کہ اس کے خلاف یہودیوں کا پروپیگنڈہ ہے پھر انہوں نے اپنی تقریر میں جس طرح امریکن حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جو اس نے نائیجیریا، سوڈان، ایران اور عراق کے خلاف اپنی معاندانہ کارروائیاں اختیار کی ہیں۔ کس کس طرح مسلمانوں کو اپنے ستم کا تختہ مشق بنایا ہوا ہے۔ فراخان نے کہا کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ امریکہ مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ ہو گا میں نے کہا ہے جیسے فرعون کے لیے اللہ نے حضرت موسیٰ کو پیدا کیا تھا ویسے امریکہ کے لیے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہ فقرہ میرے دل کو بہت لگا ہر فرعون راموسیٰ- واقعی عالم اسلام کے کسی لیڈر کی جرات نہیں کہ وہ امریکہ کے قلب میں کھڑا ہو کر اسے کچھ کہ سکے۔ جبکہ یہ امریکہ حکومت پر اس قدر کڑی تنقید کر رہے تھے۔ امریکی لگ تو میرے اپنے لوگ رہے ہیں لیکن امریکی حکومت اگر راستے سے بھٹک گئی ہے تو اسے سیدھے راستے پرآنا ہو گا۔ لوئی فراخان کو واشنگٹن ڈی سی میں دس لاکھ آدمیوں کے مارچ کے بعد سے بےحد شہرت حاصل ہوئی۔

تقریر کے اختتام پر ٹی وی سے اذان نشر ہوئی۔ امریکن ٹی وی سے اذان سن کر اللہ کا شکر ادا کیا اس کا ترجمہ سنایا گیا کہ اللہ اکبر Allah is the greatest پھر سورہ فاتحہ سنائی گئی، سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعدفراخان نے اس کا ترجمہ کیا اور پھر دعا ہوئی۔ یہ سب دیکھ کر میرے قلب و دماغ پر ایک سرشاری طاری ہوئی۔ اگرچہ فراخان پر دیگر مسلمان طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں لیکن مجھے یہ سارا سلسلہ ایک نئی صبح کی نوید لگ رہا ہے۔

ٹورنٹو کینیڈا میں مسلمان برداری بہت بڑی تعداد میں ہے اور مسلم تنظیمیں کافی مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ رمضان میں ٹورنٹو کی جامع مسجد طارق مسجد میں نمازوں، تراویح اور شب بیداریوں میں مسلمان مرد، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی رہی۔ کینیڈا کیحکومت مذہبی روادای کی قائل ہے اس لیے یہاں پر اسلام کے فروغ اور ترویج کے لیے کافی کام ہو رہا ہے۔ مسلمان تنظیمیں کافی مربوط ہیں۔ سکولوں میں اگر بچے اور ان کے والدین باعمل مسلمان ہیں تو بچوں کو نمازوں کے نظام اولاقات میں وقفہ دیا جاتا ہے اس کے علاوہ جمعہ کی نماز میں بھی شرکت کے لیے چھٹی دی جاتی ہے۔ یہاں پر بھی مسلمانوں کے ہاں افطاریوں کی دعوتیں ہوتی ہیں۔

 عیدالفطر کی نماز کے لیے کینیڈا کی ایک بڑی نمائش گاہ Canadian Exhibition Center میں انتظام کیا گیا تھا۔ اس میں ماشاء اللہ لگ بھگ بیس مسلمان

 


مرد، خواتین اور بچے شریک ہوئے۔ رنگ برنگے عید کے ملبوسات میں ملبوس مرد و خواتین اوربچے مسلمانوں کی انفرادیت کو ظاہر کر رہے تھے۔ ہر رنگ، نسل، زبان اور ثقافت سے تعلق رکھنے والے مسلمان صرف اور صرف ایک پہچان رکھتے ہیں کہ وہ مسلم ہیں۔ولولہ انگیز تقریر اور خطبے کے بعد نماز عید ادا کی گئی۔ نماز کے بعد عید میلن کا سلسلہ شروع ہوا۔ بچوں نے آٹھ ڈالر کے ٹکٹ سٹمپ لگائے اور مختلف کھیلوں سے لطف اندوز ہونے لگے۔

شمالی امریکہ کے مسلمانوں نے یہ بہت اچھا طریقہ شروع کیا ہے کہ وہ عیدین کے مواقع پر بچوں کو کھلونوں وغیرہ کے کافی تحائف دیتے ہیں۔ تاکہ ان کوعیسائی بچوں کے مقابلے میں کوئی کمتری نہ ہو جن کو کرسمس اور ایسٹر کے تہواروں پر تحائف دیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ بچوں کو اس کی تلقین کرتے ہیں کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں اس لیے ہماراتہوار ان کے تہواروں سے مختلف ہوتے ہیں۔یہاں پر کھانے پینے کے کافی سٹال لگے ہوئے تھے جن سے لوگ اپنی پسند کی اشیاء خرید رہے تھے غرضیکہ ایک میلے کا سماں تھا۔ 

عید کے بعد عید ملن پارٹیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہاں پر جس اپارٹمنٹ بلڈنگ میں میرا قیام تھا وہاں پر بنگلہ دیشی مسلمان خاندان بھی آباد تھے۔ ایک خاندان کی بزرگ خاتون (گائے بندھا ضلع رنگپور) میں جماعت اسلامی کی ناظمہ تھیں، انہیں کافی دینی شعور تھا۔ مولانا مودودیؒ کی کتابوں کے بنگلہ تراجم ان کے پاس تقریباً سب موجود تھے۔ تفہیم القرآن بھی بنگلہ ترجمے کے ساتھ تھا۔ وہ اپنے خاندان میں اسلامی اقدار کی پابندیوں کے لیے کوششیں کرتی تھیں۔ ساتھ ہی وہ بنگلہ دیشی خواتین کے حلقوں میں درس قرآن دیتی تھیں۔ انہوں نے اپنے ہاں جب دعوت کی تو لگ بھگ، 80,90 افراد تھے۔ مرد ایک طرف اور خواتین دوسری طرف تھیں آنے والی تمام خواتین نے سکارف باندھ رکھے تھے اور مناسب طور پر ساڑھیاں پہنی تھیں۔ میں نے پہلی مرتبہ بنگلہ دیشی بہنوں کو اس اسلامی اہتمام کے ساتھ دیکھا۔نمعلوم یہ اماں کی صحبت کا اثر تھا یا اسلامی بیداری کا کہ وہ بنگلہ دیشی بہنیں جو کہ ایک ہندوانہ اثر لیے ہوئے تھیں اب مکمل مسلمان نظر آ رہی تھیں۔ 

                میرے بھائی جو کہ جمعیت  اورجماعت اسلامی کے دیرینہ کارکن اور ریاض (سعودی عرب) میں رکن کی حیثیت سے تھے، اب ٹورنٹو میں اپنے دینی خدمات اکنا کے ممبر کی حیثیت سے انجام دے رہے ہیں۔ ICNA سے مراد اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ ہے۔ انہی کے پاس میرا قیام تھا اور ان کی وجہ سے دیگر مسلمانوں سے بھی ملاقات رہی۔ 

ہمارے اوپر والی منزل میں مقیم بنگلہ دیشی بہن شاہانہ کا خاندان تھا۔ وہ اور ان کے شوہر تبلیغی جماعت سے متاثر تھے اور الحمد للہ بہت اچھے مسلمان تھے۔ شاہانہ پردے کی پوری پابندی کرتی تھیں اور زیادہ تر شلوار قمیض میں ملبوس رہتی تھی وہ اس کو زیادہ اسلامی لباس سمجھتی تھی۔ پاکستان آ کر رائے ونڈ کے اجتماع میں شرکت کی ان دونوں کی بیحد خواہش تھی۔ ان کو اردو نہیں آتی تھی میں نے جب ان سے بنگلہ زبان میں گفتگو کی تو بیحد خوش ہوئیں۔ یہ دونوں خاندان اپنے روایتی محبت اور مہمان نوازی سے پیش آئے۔ مجھے بھی ایسا لگا جیسے کہ 1971ء سے پہلے کے زمانے میں چلی گئی ہوں۔وہی خلوص، وہی محبت، وہی جذبے، انقلابات زمانہ اور سیاسی چالوں اور سازشوں نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا لیکن الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں اور یہ سب سے مضبوط رشتہ ہے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں جمعے اور عیدین کے مواقع پرخواتین مساجد یا عیدگاہوں میں نہیں جاتیں لیکن یہاں پر اس کی اہمیت نظرآتی ہے اس لیے مردوں کے ساتھ خواتین بھی جاتی ہیں۔

عیسائیوں کے تہوار گڈ فرائیڈے کے موقع پر دو روز کی مسلسل برفباری کے بعد صبح سے دھوپ نکلی تھی۔ دھوپ میں تمازت کافی کم تھی لیکن پھر بھی موسم صاف تھا۔ طارق مسجد میں چونکہ اندر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اس لیے باہر بہت بڑے احاطے میں پلاسٹک کی شیٹیں بچھائی گئی تھیں جن پر ایک طرف مرد اور دوسری طرف خواتین تھیں۔خطبہ اور تقریر سفید فام عالم عبدالحکیم کوئیک کر رہے تھے۔ انہوں نے گڈ فرائیڈے کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور میڈ کاؤ (Mad cow)بیماری پر۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے گائے کی غذا سبزہ چارہ رکھا ہے اور نباتاتی اشیاء میں اس کی غذا ہے لیکن جب اسے حیوانی غذا دی جانے لگی تو وہ پاگل ہو گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ انگلستان میں مری ہوئی بھیڑوں کا چارہ بنا کر گائے کو کھلایا جاتا تھا تاکہ وہ فربہ ہوں۔ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کو جب تبدیل کیا جاتا ہے تو نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

گڈ فرائیڈے پر چونکہ یہاں عام تعطیل ہوتی ہے اس لیے ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نماز جمعہ میں شریک ہوئے اور یوں یہ مسلمانوں کا گڈ فرائیڈے ہو گیا گڈ فرائیڈے کی حیثیت عیسائی مذہب میں یہ ہے کہ یہ نعوذ باللہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب کیا گیا تھا تو تیسرے دن ان کی قبر سے وہ آسمان کی طرف اٹھا ئے گئے تھے یہ جمعے کا دن تھا اور اس کی یہ خوشی مناتے ہیں۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔

عالم صاحب نے بتایا کہ اس کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ہے۔ ٹھنڈے علاقے کے لوگوں نے سردی کے موسم کی مناسبت سے کرسمس کا تہوار منایا جس میں برفانی علاقوں کے درخت کرسمس ٹری، رینڈیئر (بارہ سنگھے کی ایک قسم) اور سانٹا کلاز وغیرہ کے قصے ہیں۔ اس طرح موسم بہار کے لحاظ سے یعنی موسم بہار کی آمد کے موقع پر ایسٹر کا تہوار منایا جاتا ہے جس میں رنگین انڈوں، چاکلیٹ کے بنے ہوئے خرگوش جیسے ایسٹر بنی Bunny کیا جاتا ہے اور اسی موسم میں کھلنے والے پھولوں کی اہمیت Lilly Easterوغیرہ اور ان دونوں تہواروں کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور مصلوبیت سے منسلک کر دیا ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر اچھی خاصی تحقیق کی ہے۔
عیدالاضحیٰ کے لیے قربانی کی بکنگ بھی ہو رہی تھی اور نمازوں کی تیاریاں اور نظام الاوقات بھی تقسیم ہو رہے تھے۔ ساتھ ہی ہالی ووڈ سے ریلیز ہونے والی ایک دل آزار فلم کےخلاف پملفٹ بھی تقسیم ہو رہے تھے۔ جس میں مسلمانوں کو ایک وحشی اور دہشت گرد قوم دکھایا گیا ہے۔

عیدالاضحیٰ کا سب سے بڑا اجتماع سکائی ڈوم میں ہوا یہ دنیا کے بلند ترین ٹاور سی این ٹاور کے پاس ہے اور شمالی امریکہ کا سب سے بڑا اندرون خانہ سٹیڈیم ہے۔ اس کے چھت کی خوبی یہ ہے کہ یہ بیچ سے دونوں طرف سلائیڈ جاتا ہے اور یوں کھلی چھت بن جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ عیدالاضحیٰ کی صبح فجر کی اذان سی این ٹاور سے دی جائے گی۔ اذان کے متعلق تو معلوم نہ ہو سکا لیکن نماز عید میں لگ بھگ تیس ہزار مسلمان مردوں اور خواتین کا اجتماع تھا تمام لوگ عید کے زرق برق لباسوں میں تھے۔
ہر ملک اور نسل کے مسلمانوں نے اپنے علاقائی بہترین لباس پہنے ہوئے تھے۔

یہاں کے معاشرے میں اب جب مسلمان کی پہچان ہو گئی ہے وہاں آئے دن کافی لوگ مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں۔ طارق مسجد کے اجتماعات کے اختتام پر اسلام قبول کرنے والے لوگ ہوتے تھے اور ان کے قبول اسلام پر اللہ اکبر کے نعرے لگتے تھے۔
حلال گوشت کی دکانیں جابجا ہیں۔ حلال بیف اور حلال Kentuckyبھی ملنے لگا ہے۔

ٹورنٹو میں افغانی مسلمان کافی تعداد میں ہیں یہ باہمت لوگ یہاں کے معاشرے میں بھی مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک بارہ سالہ افغانی لڑکے نے اپنے سکول ٹیچر کو اتنا متاثر کیا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ تو صرف ان تاثرات کانچوڑ ہے جو کہ میں نے خود دیکھے یا محسوس کیے۔ مجموعی طور پر شمالی امریکہ میں اثرات کہیں زیادہ ہیں۔ اگرچہ میڈیا کا مسلمان مخالف پروپیگنڈہ بھی ہے لیکن وہ دن دور نہیں ہے جب مسلمان انشاء اللہ یہاں کی ایک قوت بن کر ابھریں گے۔

یہاں کی مساجد کے حوالے سے ایک بات کروں گی کہ مساجد عبادت گاہ کے ساتھ کمیونٹی سینٹر اور مسجد سکول کا بھی درجہ رکھتے ہیں۔ طارق مسجد ٹورنٹو میں اندر باسکٹ بال اور دوسری اندرون خانہ کھیل کھیلنے کے انتظامات بھی تھے اور ایک جمنیزیم بھی تھا۔ اجتماعات بڑے ہونے کی صورت میں ان کی بھی شامل کر دیا جاتا تھا تاکہ جگہ بڑی ہو جائے اور انہیں باتوں میں درس و تدریس کا سلسلہ بھی رہتا تھا۔ انشاء اللہ العزیز وہ دن دور نہیں کہ اسلام کی روشن کرنیں یہاں کے بے دین معاشرہ کومزیدمتاثر کر دیں گی۔

 

 


عابدہ

Abida Rahmani

Saturday, January 17, 2015

The aftermath of attack on Charlie Hebdo

The aftermath of attack on Charlie Hebdo

By

Abida Rahmani

There is always a fine line in between Freedom of Speech and insult or mocking. It seems that the western world or media is unaware of these facts or they don’t value it when it comes to the sentiments of Muslims. Making and publishing satirical cartoons depicting Exalted Prophet Muhammad peace and blessings upon him.
However we condemned the killings of Charlie Hebdo cartoonist and editorial staff.  Next day more people were killed by those alleged killers including three of them, 17 people got killed. It was of course a tragic episode. We have witnessed a lot more tragic and brutal happenings in recent times by the so called intimidating super powers, terrorists and murderers.
What we saw in Paris was a march of 1.5 million or some claim 3 million and 40 head of states gathered at a notice of only a few hours for such an unprecedented gathering. Those head of states demonstrating for two basic reasons: some were brainwashed by the media frenzy, others did so for political reasons.
I support president Obama’s decision for not attending this March Of solidarity in Paris and not sending any of his envoys. World has seen more severe catastrophes in recent times than this one in Paris.
No one cares about hundreds of thousands Muslims killed all around the world by certain forces! May it be by western superpowers, Zionists and violent Muslims themselves. What discrimination between human lives. You mourn few to such extent and are oblivious to millions killed every day.
We don't believe in killing people, but we hate Charlie Hebdo and all those magazines and newspapers that are mocking and insulting our religion.
I don’t believe in Je suis Charlie or I’m Charlie tweets and posters, because while I’m definitely not in sympathy with those killers, I have no feeling of solidarity with mockers  and I would never say this.
It is really that simple. If we fear, hate and stop thinking – they win. If we refuse to fear, if we love and if we think – we win. Their entire Empire has been built on fear, hate and stupidity. Let’s bring it down by courage, love and intelligence!
What is the difference between freedom of expression and freedom to insult, humiliate, mockery and belittling our Prophet Muhammad (SAWS) and Islam.
Why do the Westerners feel quite acceptable without any remorse to insult the holy Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him and his holy progeny); a man who is respected, honored and venerated by millions and millions of Muslims and non-Muslims alike in the world around?
If anyone has any problem or any kind of disagreement with Islamic teachings or the holy Prophet, why don't they sit down with learned Muslim scholars who can clarify their misconceptions or misunderstandings?
It is time for Muslims to get united together against such hypocritical policies against Islam and the Muslims.  Humiliating and insulting the holy Prophet of Islam is absolutely unacceptable. However all this should be done in a peaceful, civilized manner.
The cartoons of the Prophet in the Paris-based satirical weekly Charlie Hebdo are offensive and juvenile. None of them are funny. And they expose a grotesque double standard when it comes to Muslims. In France a Holocaust denier, or someone who denies the Armenian genocide, can be imprisoned for a year and forced to pay a $60,000 fine. It is a criminal act in France to mock the Holocaust the way Charlie Hebdo mocked Islam. French high school students must be taught about the Nazi persecution of the Jews, but these same students read almost nothing in their textbooks about the widespread French atrocities, including a death toll among Algerians that some sources set at more than 1 million, in the Algerian war for independence against colonial France. French law bans the public wearing of the Muslim women full face veil that has a small slit for the eyes. Women who wear these in public can be arrested, fined the equivalent of about $200 and forced to carry out community service. France banned rallies in support of the Palestinians last summer when Israel was carrying out daily airstrikes in Gaza that resulted in hundreds of civilian deaths. The message to Muslims is clear: Your traditions, history and suffering do not matter. Your story will not be heard.
“It is a sad state of affairs when Liberty means the freedom to insult, demean and mock people’s most sacred concepts.
Charlie Hebdo, despite its insistence that it targets all equally, fired an artist and writer in 2008 for an article it deemed to be anti-Semitic.

Those marching world leaders showed solidarity with Charlie Hebdo! They chanted chorus not only in Paris but also in all major European cities: “We are all Charlie”. What does that mean? It means, like hateful Charlie Hebdo they too declared that they are equal abuser and hater of our beloved prophet (saw).  They are not ready to retreat an inch from that abusive path. The butcher of Gaza -the Israeli PM was cordially welcomed in their midst.
They talked  about protecting western values and culture. Do we need any lecture to understand the western values and culture? Didn't they display those values and culture during the last several centuries all over the world? Is it not the values and culture of military aggression, occupation, colonization, imperialism, ethnic cleansing, slave-trading, genocide, World Wars, gas chambers, dropping atom bombs, water boarding, Guantanamo Bay, Abu Ghraib, Sabra, Shatilla and Gaza? They killed 75 million only in two World Wars! Who else can match their brutality? Their war machines are still not withdrawn from the Muslim lands.
It’s the time for Muslims to get united against a common cause. Stop genocides in their own lands of their own brethren.
واعتصمو بحبل اللہ جمیعا و لا تفرقو
Hold fast Allah’s rope tightly and do not disintegrate!
                            

Thursday, January 15, 2015

معاشرے کا آيك رستا ہوا ناسور۔۔


معاشرے کا آيك رستا ہوا ناسور۔۔
 ------------------------------------
چنبیلی

ایک کہانی

عابدہ رحمانی

سرخ بتی پر گاڑی رکی تو بنی سنوری انتہائی شوخ میک اپ کئے ہوئے زرق برق لباس 
میں ملبوس ایک خاتون پرس سنبھالتی ہوئی تیزی سے گاڑی کی طرف لپکتی جھپکتی ہوئی 
آئی -اسکی چال ڈھال سے مجھے پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی ایک ادا سے اسنے 
کہا  -" باجی اللہ کے نام پر کچھ دیدو"
 اچھی بھلی ہو محنت مزدوری کر سکتی ہو یہ مانگنے کا کیا شوق ہے " میں نے اسے 
سمجھانے کی کوشش کی - باجی کام کون دیتا ہے ؟ ناچتے گاتے تھے اس پر بھی پابندی 
لگ گئی-وہ مجھ سے مایوس ہو کر اگلی گاڑی کی طرف لپکی اتنے میں بتی سبز ہو چکی 
تھی - آج کل یہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہر طرف نظر آتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ؟ 
میری ساتھی بھی میری طرح متفکر تھی-" واقعی انکی تعداد میں انتہائی حیرت انگیز 
اضافہ ہے اور تمام معاشرے اور باآثر و مقتدر افراد نے انکی طرف سے بلکل بے 
اعتنائی اختیار کر رکھی ہے - اور یہ تمام دینی اور مذہبی جماعتیں ان کا نام 
بھی نہیں لیتیں - پھر یہ سارے این جی اوز جو ہر معاملے میں ٹانگ اڑائے پھرتے 
ہیں کیا انہیں یہ معاشرے کا دھتکارا ہوا طبقہ نظر نہیں آتا - اور یہ اصلاح 
معاشرہ کے علم بردار ؟ میں نےگویا ایک تقریر کر ڈالی ۔
بچپن سے یہی سنتے اور دیکھتے آئے تھے ہیجڑا،زنخا، کھسرایا مخنث آیا،  بچے کی پیدایش 
ہو ، شادی بیاہ یا خوشی کا کوئی اور موقع انکو بھنک لگ جائے اور تالیاں پیٹتے 
ہوئے ، مبارکبادییاں دیتے ہوئے آن حاضر ہوتے ناچتے گاتے ، خوب شور مچاتے ، دعائیں ، صلواتیں انکا اپنا ہی ایک انداز تھا اور اپنا حصہ سمیٹ کر جاتے 
- لیکن اتنی بڑی تعداد میں  کیا یہ سب واقعی اسی صنف سے تعلق رکھتے ہیں؟ پھر یہ کپڑے ، 
بناؤ سنگھار میرے ذہن میں ہزاروں سوالات کھلبلا رہے تھے- 
اگلے روز پھر اسی چوک پر میں نے اسی اپنی گاڑی کی جانب آتے دیکھا ،  اشارے سے 
اسے اپنی طرف بلایا  اور ڈرایئور سے کہا کہ وہ ایک طرف کو گاڑی روک دے -
وہ بڑی ادا سے مٹکتی ہوئی آئی - " جی باجی جی " تمہارا نام کیا ہے ؟ میں نے 
پوچھا " جی باجی جی ہمارے ناموں کا کیا ہے ویسے مجھے چنبیلی کہتے ہیں - " میں 
نے پچاس کا نوٹ اسکے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا - جنبیلی میں تم سے بیٹھ کر کچھ 
باتیں کرنا چاہتی ہوں - مجھے ٹائم دو" اوئے باجی میرا انٹروو ،پسیے کتنے ملینگے ؟
 پانچ سو اور یہ صرف ایک بات چیت ہے - انٹرویو نہیں ہے" ایک ہی بات ہے باجی 
جی اپنا نمبر دے دو اماں سے پوچھ کر بتاؤنگی اور پیسے ایک ہزار سے کم نہیں 
لونگی - ٹی وی والوں سے تو ہم دس دس ہزار لیتے ہیں " اسنے اپنے پرس سے موبائیل 
نکالا ، مجھ سے بہتر فون تھا اسکے پاس ،ہم نےایک دوسرے کے نمبر لے لئے - "ہائے 
باجی میں واری جاواں صدقے جاؤں" اسنے ایک ادا سے میری بلائیں لیں 
دو چار دن کی خاموشی کے بعد اسکا فون آیا - " باجی کل بارہ بجے اسی چوک پر 
آپکا انتظار کرونگی" کل تو چنبیلی بارہ بجے میں کافی مصروف ہوں - پانچ کے بعد 
کا ٹائم دے دو "
اچھا ٹھیک ہے باجی جی آپ میرے دل کو بھا گئی ہو ورنہ چنبیلی کا دل کسی پر نہیں 
ریجھتا" بہت شکریہ" ٹھیک پانچ بجے میں وہاں پہنچی تو وہ منتظر تھی آج وہ کچھ 
زیادہ ہی بنی ٹھنی تھی
اسے لیکر میں اپنے پسندیدہ کافی، جوس ہاؤس لے گئی - کیا کھاؤگی اور پیوگی ؟
باجی جوس یا لسی پلادو گرمی بہت ہے " میں نے آم کی لسی اور چند کھانے کی چیزوں 
کا آرڈر دیا-"باجی سموسے قیمے والے منگانا آلو والے تو کھاتے رہتے ہیں " اس سے 
تیز خوشبو کی لپٹیں آرہی تھیں - مردانہ چہرے پر میک اپ کی انتہاتھی -مین اسے لیکر ایک کونے میں بیٹھی یہ خیال رکھتے ہوئے کہ اسکی پیٹھ دروازے کی طرف ہو-" یہ کافی آرام دہ ریسٹورنٹ ہے  آج گرمی بہت زیادہ ہے اسکا اے سی اچھا ہے ، ذرا سکون سے بیٹھیںگے ، میں نے بات  کا آغاز کیا یہ بتاؤ چنبیلی تم رہتی کہاں ہو ؟ 
باجی وہ گولڑے کے پیچھے کی طرف جو سڑک جاتی ہے ادھر اپنا محلہ ہے - پھر اسنے 
مجھے بتایا کہ تقریبا 20 کوارٹر ہیں جنمیں انکی برادری کی رہایش ہے - ایک 
کوارٹر میں تقریبا دس افراد رہتے ہیں- باجی ہمارا کیا ہے جن سے پیدا ہوئے تھے 
انہوں نے جان چھڑائی گلا تو نہیں گھونٹا اماں کی جولی میں ڈالدیا - اماں بتاتی 
ہیں میں ایک ماہ کی تھی جب میرا باپ دے گیا - بہت بڑا زمیندار ہے چار بیٹیوں پر 
میں پیدا ہوئی " ہوئی کہ ہوا؟" باجی اسکو تو بیٹے کا ارمان تھا - بڑی خوشیاں 
منائیں کہ بیٹا ہوا ہے پھر ڈاکٹر نے بتایا کہ آپریشن کرنا ہوگا کچھ گڑ بڑ ہے - 
آپریشن بھی ہوا لیکن میں پورا لڑکا نہ بن سکی -کسی نے اماں کو خبر کردی اور 
اماں کی جولی میں مجھے ڈالدیا گیا کچھ خرچے کے پیسے بھی دئے -جب شناختی کارڈ میں 
باپ کا خانہ بھر رہی تھی تو اماں نے نام پتہ  بتایا - اماں کے پاس سارے کاغذ 
ہیں -بتاتے بتاتے اسکے آنسو بہنا شروع ہوئے جو اسکے میک اپ زدہ چہرے پر ندیاں 
بہانے لگے - ماحول سوگوار ہوگیا- میں نے ٹشو پیپر کا ڈبہ بڑہایا- باجی میں اسکے پوتے کی مبارکی کے لئے گئی تھی - میرے سگے بھائی کا بیٹا، کیا ٹھاٹ بھاٹ تھے اماں نے قسم لی تھی 
کہ کچھ اور نہیں بولنا - میں اپنی اس سنگدل ماں کو دیکھنا چاہ رہی تھی -نوکر 
بولا کہ وہ تو بہت سال پہلے مر چکی ہے- اور جائداد میں تمہارا حصہ ؟ وہ تو  
اماں کو پیسے دیتے وقت اسٹامپ پیپر پر دستخط کروالئے تھے--ہم سب ایسے ہی ہیں 
باجی ظاہر ہے کسی نے ہمیں جنا ہے کوئی ہمارا مائی باپ ہے ہم کوئی زمین سے تھوڑے ہی اگے ہیں لیکن انہوں نے ہمیں اولاد نہیں سمجھا کیا ایسے ماپ باپ بھی ہوتے ہیں کتنوں کی اولادیں ذہنی ، 
دماغی ، جسمانی معذور ہوتی ہیں کیا وہ ایسے ہی چھوڑ دیتے ہیں؟ "اور یہ اتنے اپاہج فقیر ؟ باجی یہاں ہاں بہت گڑبڑ ہے ، گڑبڑ گٹالا ہے یہ دنیا-
تم مرد کیوں نہیں بننا چاہتی تھیں چنبیلی تم صحتمند ہو ، لمبی چوڑی ہو ہاتھ پاؤں سے ٹھیک ہو - مرد بن کر تم دنیا میں سر اٹھا کر جی سکتی تھی کوئی اچھا پیشہ سیکھ لیتی ، کوئی ہنر ، کوئی کاریگری--؟
بس باجی جی ہمارا ماحول ہی کچھ ایسا ہے ہمار ی ساری تیاری عورت بننے کی ہوتی ہے ہم دنیا کا میک اپ ، جوتے ، کپڑے ، پرس ، زنانی چیزیں جمع کرتے ہیں صبح اٹھتے ہی مصنوعی چیزیں لگا لگا کر ایک دوسرے کو دکھاتے ہیں ، جلاتے ہیں اور پھر دھندے پر نکل جاتی ہیں-- ان سب چیزوں کے پیسے کہاں سے آتے ہیں ؟ باجی بہت دھندہ چلتا ہے کچھ باجیاں اپنا پرانا مال ہمارے محلے میں بیچتی ہیں -زیادہ پرانی چیزیں ہوتی ہیں --بیوٹی پارلروں سے پرانا سامان خریدتے ہیں یہ میں نے وگ پہنی ہوئی ہے اسنے اپنی لہراتی ہوئی لٹٰیں دکھائیں- جب ہم شام کو گھر جاتے ہیں تو سب کچھ اتار کر مرد بن جاتے ہیں - پھر اماں مجھے" فیکا" کہتی ہے جی رفیق نام تھا نا -" ان دو جنسوں کے درمیان زندگی کچھ عجیب نہیں لگتی " ؟ باجی ہمیں اللہ نے پیدا بھی تو اسی طرح کیا ہے-" کوئی تعلیم وغیرہ" ہاں جی ایک مولوی ہمیں پڑھانے کو آتا تھا - بھلا آدمی تھا ، پیسے بھی نہیں لیتا تھا ساتھ میں نماز ،روزہ، دینی باتیں اور اردو بھی سکھاتا تھا --یہ بدمعاش آئے تو اسے بھگا دیا-"-بدمعاش کون؟ " باجی یہ سب اپنی برادری کے تھوڑے ہیں ، کچھ تو بھلے چنگے ہیں ، کچھ جاسوس ہیں لیکن میں یہ سب آپکو کیوں بتا رہی ہوں ؟ں جب شناختی کارڈ بن رہے تھے تو نادراکے ریکارڈ میں مرد ہجڑے کو خواجہ سرا اور خاتون کو زنخا لکھا گیا کارڈ پر جنس مخنث لکھی گئی ہے - اسنے اپنا کارڈ مجھے دکھایا تصویر سجی سنوری چنبیلی کی تھی جبکہ نام رفیق کا تھا، عمر 38 سال" باجی میرے پاس یہی تصویر تھی ڈاکٹری معائنہ کرکے ساٹیفیکیٹ بھی لیا تھا " - "چنبیلی تم خواجہ سرا ہو ؟ جی باجی جی، کچھ علاج وغیرہ کرنیکی کوشش کی ؟ کچھ ڈاکٹر آئے تھے کہ تمہارا علاج کرتے ہیں - اماں کو پتہ چلا کہ یہ تجربے کرینگے جیسے جانوروں پر کرتے ہیں انہوں نے سختی سے منع کردیا مار کر بھگا دیا --یہ اماں کون ہیں؟ وہ بھی ہماری طرح ہیں لیکن وہ عورت ہی رہتی ہیں انہوں نے بڑی محنت اور پیار سے ہمیں پالا ہے اور ہم ہر کام انسے پوچھ کر کرتے ہیں اللہ نے انکے دل میں پیار ہی پیاردیاہے-ہم دس تو انکی اولاد ہیں وہ دوسروں کی بھی اماں ہین وہ ہمارا گرو ہیں ہماری پیر ہیں-- باجی ہماری برادری میں اچھے برے دونوں ہیں -ایسی ایسی برایئاں ہیں کہ میں آپکو بتا نہیں سکتی -لیکن چنبیلی پاک ہے باجی اللہ کو منہ دکھانا ہے اماں جنتی کہتی ہیں، میری بیٹی سیدھی جنت میں جائیگی- بس دوسری زندگی میں وہ مجھے صحیح سالم اٹھادے اسکے آنسو پھر ٹپکنے لگے باجی ہم بھی تو انسان ہیں ہمارا بھی دل ہے خواہشات ہیں اللہ نے ہم کو ایسا کیوں پیدا کیا-؟
نرگس ، رخشی اور کتنوں کو تو وہ موذی بیماری ہوگئی ہے اڈز ( ایڈذ) ایڑیاں رگڑ رہی ہیں،سرکاری ہسپتال میں ہیں انکی حالت دیکھ کر کتنا دکھ ہوتا ہے   باجی جی بڑا گند ہے آپکو کیا بتاؤں ے-
 اور ہم کو سپریم کورٹ نے کام لگا دیا تھا - اللہ بھلا کرے انہوں نے کچھ عزت دی ورنہ  ہمارا تو کوئی نام نہیں تھا کوئی پہچان نہیں تھی - کچھ لوگ زکوٰۃ خیرات دے دیتے ہیں 
میں تو کہتی ہوں یہ بھیک مانگنا چھوڑ دو کوئی محنت کا کام کرو ہزاروں کام ہیں حلال کمائی کے" ہزاروں طریقے ہیں تمہیں خود بھی اچھا لگے گا " باجی میرا جی چاہتا ہے دل کھول کر آپکے سامنے رکھدوں" اگر تم کہو تو میں تمہاری مدد کروں ؟ وہ بے یقینی سے مجھے دیکھنے لگی " باجی مینو ڈریوری دا وڈا شوق سی " ہونہہ" میں اسکا جائزہ لیتے ہوئے کہا ایک اچھا بھلا صحت انسان پورے عقل و شعور کے ساتھ میرے سامنے تھا- 
باجی میرا جی چاہتا ہے آپکے گلے لگ جاؤں --ہاں ہاں کیوں نہیں نہ جانے میرے منہ سے کیسے نکلا 
میں نے گھڑی دیکھی وقت کا پتہ ہی نہیں چلا -چنبیلی مجھے گھر پہنچنا ہے میرے گھر والے پریشان ہونگے میں نے فون تو کردیا ہے - پھر بھی شام ہوگئی - چلو میں تمہیں تمہارے ٹھکانے پر چھوڑ دوں 
مجھے فون ضرور کرنا میں تم سے رابطہ رکھنا چاہتی ہوں-" باجی جی میں چلی جاؤنگی آپکے ساتھ یہ گزارا ہوا وقت مجھے ہمیشہ یاد رہے گا" میں نے دوہزار کے نوٹ نکال کر اسکی طرف بڑھائے  اور اسنے لینے سے انکار کر دیا - باجی ایک ہزار کی بات ہوئی تھی اور وہ بھی میں نہیں لونگی - یہ جو آپنے میرا اتنا خیال کیا اسکا کوئی مول نہیں بس آپ مجھے گلے ضرور لگانا اور میرے جی نے کہا اے میرے مولا یہ تیرے بے بس بندے اور انکی چھوٹی چھوٹی خواہشات- اور چنبیلی ، فیکا روتے ہوئے میرے گلے لگ گئی -باجی مجھے بھولنا نہیں ،
 گاڑی نے بریک مارے اسکے ساتھ ہی  ایک جھٹکے سےمیرے خیالات کا تانتا ٹوٹا ِ" رفیق کیا ہوا ؟ باجی کافی بڑا گڑھا ہے - آس پاس سے کافی سارےہجڑے اور فقیر گاڑی کی طرف لپکے--رفیق وہ انجمن کے کارڈ انکو پکڑا دینا، انسے کہنا دفتر آکر ملیں اور معذوروں کو دس دس روپے دے دینا " جی باجی جی جو آپکا حکم" میرے نئے ڈرائیورنے مستعدی دکھائی-- رفیق تم نے شناختی کارڈ میں اپنی تصویر بدل دی ؟ جی باجی جی" اسنے مجھے اپنا کارڈ بڑہایا ایک صاف ستھرا نوجوان مسکرا رہاتھا 

-- 

*
*
*
*
*عابد**ہ*
*
*
*Abida Rahmani*
*
*

 

Wednesday, January 7, 2015

Journey of life: نبی کریم ﷺ کی صحبت میں ایک دن

Journey of life: نبی کریم ﷺ کی صحبت میں ایک دن: نبی کریم  ﷺ کی صحبت میں – آيك دن  از عابدہ رحمانی چشم تصور  سے  سیرت طیبہ  ﷺ کا قرآن و حدیث کے حوالے سے ایک جائزہ ﷽ رات کا تی...

نبی کریم ﷺ کی صحبت میں ایک دن

نبی کریم ﷺ کی صحبت میں –
آيك دن 
از
عابدہ رحمانی
چشم تصور سے سیرت طیبہ ﷺ کا قرآن و حدیث کے حوالے سے ایک جائزہ
رات کا تیسرا پہر شروع ھی ھوا تھا کہ رسول اللہ  نماز تہجد کے لۓ بیدار ہوۓ یہ 

-آپ
 کا معمول تھا- آج کی رات آپ عائشہ ر ضی اللہ عنہا کے حجرے میں تھے 
-باقی ازواج مطھرات کے حجرے بھی متصل تھے مدینے کا اسمان ستاروں سے جھلملا رھا تھا ہلکی سردی تھی آپ نے دیا جلایا عائشہ رضی اللہ عنہا بھی بیدار ھوئیں -باہر جا کر چولہا جلایا غسل اور وضو کے لۓ پانی گرم کیا 
رسول اللہ بآواز بلند سحر خیزی اور تھجد کی دعائیں پڑھتے رھے عائشہ بھی ساتھ دہراتی رھیں دیگر ازوواج بھی جاگ چکی تھیں اور وضو کی تیاری کر رھی تھیں تہجد کے آٹھ نوافل لمبی قرآت سے ادا کرنے کے بعد آپ    نے صلاۃ الوتر ادا کی  اگلا روز جمعرات کا تھا اور آپ نفلی روزہ رکہتے تہے ازوواج میں بھی زیادہ تر
ساتہ دیتی تھیں سحری کے لۓ کھجوریں، دودھ ، اور رات کی بچی ھوئ روٹی تھی- اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے ساتہ آپ  نے پانچ کھجور لۓ دودھ کا پیالہ -
لےکر اس میں روٹی ڈال کر کھائ - یہ کھجوریں ابو دحدح کی باغ کی تھیں -انکے باغ کی کھجوریں پورے مدینہ میں مشھور تھیں-
جیسے ھی تیار ھوتیں وہ سب سے پہلے آپ  کو پہنچاتے-سحری کرنے کے بعد
         
 شروع کی- آپ نے سنتیں ادا کیں-اتنے میں بلال رض نے فجر کی اذان شروع کی-
مدہنے کےافق پر تا رہکی سے روشنی کی لکیر بلند ہو رھی تہی اور فجر کا وقت ہوا چاھتا تھا- اپ نے وضو تازہ کیا اور حجرے سے متصل مسجد نبوی میںداخل ہوۓ -صحابہ کرام رض مسجد میں جمع ھو رھے تھے- پچھلے دو دنوں کی بارش سے چھت جگہ جگہ سے ٹپک رہی تھی اور فرش پر کہیں کہیں کیچڑ تھا - ابوبکر رض نے اقا مت ادا کی 'صفیں درست ھوئیں ازوواج مطھرات اور دیگر صحابیات پچھلی صفوں میں کھڑی ھویئں-آپ نے پہلی رکعت میں الاعلی اور دوسری میں الاخلاص تلاوت کی -نماز فجر سے فارغ ہوۓ تو صحابہ کرام آ پ کے گرد حلقہ کر کے بیٹھ گۓ -ابو ھریرہ اور عبداللہ بن عمر تو آ پ کی ھر بات کو ذہن نشین کر رہے تھے تا کہ فورا کا تب سے لکھوالیں آ پ ﷺ نے فرمایا " لا یو من احد کم حتی یکو ن ھواہ تبعا لما حبت بہ' تم میں کوئ اسوقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اسکی خواہشات میری لائ ہوئ ھدائت کے مطا بق نہ ھو جائین –
عمر رض نے اطلاع دی کہ سورج نکلنے کے ایک پہر کے بعد ایک وفد آپ کی خدمت میں حا ضری چا ہتا ھے- آپ ﷺ باتیں کرتے ہوۓ خاموش ھوۓ ،چہرے کا رنگ سرخ ھونے لگا ،جبین مبارک پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے-صحا بہ کرام سمجھ گۓ کہ وحی کی آمد ھے ،خاموشی اختیا ر کی اور  رخ مبا رک کی طرف دیکھنے لگے- علی رض کاتب وحی کو لینے چلے گۓ –آپ ﷺ کافی دیر اسی کیفیت میں رہے- وحی کی ایات آپﷺ کی زبان مبارک پر جاری ھوئیں –یہ سورہ الاحزاب کی ایات 53 تا 85 تھہں  
يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتَ ٱلنَّبِىِّ إِلَّآ أَن يُؤۡذَنَ لَكُمۡ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيۡرَ نَـٰظِرِينَ إِنَٮٰهُ وَلَـٰكِنۡ إِذَا دُعِيتُمۡ فَٱدۡخُلُواْ فَإِذَا طَعِمۡتُمۡ فَٱنتَشِرُواْ وَلَا مُسۡتَـٔۡنِسِينَ لِحَدِيثٍۚ إِنَّ ذَٲلِكُمۡ ڪَانَ يُؤۡذِى ٱلنَّبِىَّ فَيَسۡتَحۡىِۦ مِنڪُمۡۖ وَٱللَّهُ لَا يَسۡتَحۡىِۦ مِنَ ٱلۡحَقِّۚ وَإِذَا سَأَلۡتُمُوهُنَّ مَتَـٰعً۬ا فَسۡـَٔلُوهُنَّ مِن وَرَآءِ حِجَابٍ۬ۚ ذَٲلِڪُمۡ أَطۡهَرُ لِقُلُوبِكُمۡ وَقُلُوبِهِنَّۚ وَمَا كَانَ لَڪُمۡ أَن تُؤۡذُواْ رَسُولَ ٱللَّهِ وَلَآ أَن تَنكِحُوٓاْ أَزۡوَٲجَهُ ۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦۤ أَبَدًاۚ إِنَّ ذَٲلِكُمۡ ڪَانَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمًا (٥٣) إِن تُبۡدُواْ شَيۡـًٔا أَوۡ تُخۡفُوهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيمً۬ا (٥٤) لَّا جُنَاحَ عَلَيۡہِنَّ فِىٓ ءَابَآٮِٕہِنَّ وَلَآ أَبۡنَآٮِٕهِنَّ وَلَآ إِخۡوَٲنِہِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ إِخۡوَٲنِہِنَّ وَلَآ أَبۡنَآءِ أَخَوَٲتِهِنَّ وَلَا نِسَآٮِٕهِنَّ وَلَا مَا مَلَڪَتۡ أَيۡمَـٰنُہُنَّۗ وَٱتَّقِينَ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىۡءٍ۬ شَهِيدًا (٥٥) إِنَّ ٱللَّهَ وَمَلَـٰٓٮِٕڪَتَهُ ۥ يُصَلُّونَ عَلَى ٱلنَّبِىِّۚ يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيۡهِ وَسَلِّمُواْ تَسۡلِيمًا (٥٦) إِنَّ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُ ۥ لَعَنَہُمُ ٱللَّهُ فِى ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأَخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمۡ عَذَابً۬ا مُّهِينً۬ا (٥٧) وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ بِغَيۡرِ مَا ٱڪۡتَسَبُواْ فَقَدِ ٱحۡتَمَلُواْ بُهۡتَـٰنً۬ا وَإِثۡمً۬ا مُّبِينً۬ا (٥٨)
تر جمہ :اے ایمان والو نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر اس وقت کہ تمہیں کھانے کےلئے اجازت دی جائے نہ اس کی تیاری کا انتظام کرتے ہوئے لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب داخل ہو پھر جب تم کھا چکو تو اٹھ کر چلے جاؤ اور باتوں کے لیے جم کر نہ بیٹھو کیوں کہ اس سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتا ہے اور حق بات کہنے سے الله شرم نہیں کرتا اور جب نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگو تو پردہ کے باہر سے مانگا کرو اس میں تمہارے اوران کے دلوں کے لیے بہت پاکیزگی ہے اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم رسول الله کو ایذا دو اور نہ یہ کہ تم اپ کی بیویوں سے آپ کے بعد کبھی بھی نکاح کرو بے شک یہ الله کےنزدیک بڑا گناہ ہے (۵۳) اگر تم کوئی بات ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ تو بے شک الله ہر چیز کو جاننے والا ہے (۵۴) ان پر اپنے باپوں کے سامنے ہونے میں کوئی گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں کے اور نہ اپنے بھائیوں کے اور نہ اپنے بھتیجوں کے اورنہ اپنے بھانجوں کے اور نہ اپنی عورتوں کے اور نہ اپنے غلاموں کے اور الله سے ڈرتی رہو بے شک ہر چیز الله کے سامنے ہے (۵۵) بے شک الله اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی اسپر دورد اور سلام بھیجو (۵۶) جو لوگ الله اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر الله نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کیا ہے (۵۷) اور جو ایمان دار مردوں اور عورتوں کو ناکردہ گناہوں پر ستاتے ہیں سو وہ اپنے سر بہتان اور صریح گناہ لیتے ہیں (۵۸)
کاتب وحی نے پتلے سوکھے چمڑے پر آیات درج کیں –صحابہ کرام رسول ﷺ کے ساتھ دھراتے رہے –آپ ﷺ نے اسے الاحزاب میں شامل کیا-ان آیات سے اللہ تعالٰی کا مقصد رسول ﷺ کی خانگی زندگی کو پر سکون با عافیت بنانا تھا دوروز پہلے آپ ﷺ نے چند اصحاب کو مدعو کیا تھا ابو طلحہ کے ہاں سے بکری کا گوشت آیاتھا-لیکن دعوت کے بعد اصحاب کافی دیر تک بیٹھ کر مختلف باتوں میں مصروف رہے جس سے آپ ﷺ اور اہل خانہ کو تکلیف ہو رہی تھی پھر ان میں سے بعض جاکر ازواج کے حجروں سے چیزیں لا رہے تھے- اللہ کی طرف سے ان آیات کا نزول انکی اخلاقی تربیت کے لئے تھا-آیات 56  میں اہل ایمان کو رسولاللہﷺ پر درود وسلام پڑھنے کا حکم ہے
بنو قریظہ کا وفد بار یابی  کی اجازت طلب کر رھا تھا یہ مدینے کے باھر یہو دیوں کی ایک آبادی تھی جو مسلما نوں کے خلاف سا زشو ں میں منا فقین کا ساتھ دیتی تھی – دس افراد کا وفد تھا آپ ﷺ ان سے تپا ک سے ملے اور عزت سے انہیں بٹھا یا- مسجد نبوی کے کچے فرش پر چٹا ئیاں بچھی تھیں اور اسی پر سا رے معاملات طے پا رھے تھے----
بات چیت کہیں کہیں پر بحث میں تبدیل ہو رہی تھی-انہوں نے مختلف شرائط رکھیں - رسول ﷺ نے چند شرائط پر مفاہمت کی باقی کو رد کر دیا-یہ طے پایا کہ جو فریق معاہدے کی خلاف درزی کریگا تو دوسرے فریق کو اسپر چڑھائی کرنیکا اختیار ہے-
مسجد میں ایک جانب مٹی اور گارے سے لیپے ہوئے چبوترے پر اصحاب صفہ قرآن و سنت کا علم حاصل کر رہے تھے-
یہودیوں کا وفد رخصت ہو ا ہی تھا کہ ابن عبادہ نے اپنے والد کے انتقال کی خبر دی اور رسول ﷺ سے جنازے کی درخواست کی- صحابہ کرام میں سے دو حضرات انکے کفن دفن کا انتظام کرنے چلے گئے--
جنازے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا تو رسول ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے- فاطمہ چکی پیسنے میں مصروف تھیں باپ کی آواز دروازے پر سنکر فرط محبت سے دوڑتی ہوئی آئیں ، حسن اور حسین بھی بھاگتے ہوئے آکر نانا جان سے لپٹ گئے- فاطمہ کے ہاتھوں پر چکی پیسنے سے گٹے ہڑ گئے تھے-ملازمہ کے لئے درخواست دے چکی تھیں لیکن شفیق اور منصف والد نے انکو33 بار سبحان اللہ 33 بار الحمد للہ اور 34 بار اللہ اکبر کا ورد کرنے کو کہا -" اللہ سے تعلق جسقدر مضبوط ہوگا معاملات اتنے ہی آسان ہوجائینگے -"
یہ وہ زمانہ تھا زید بن حارثہ زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے چکے تھے اور آپ ﷺ
اللہ کے حکم سے ان سے نکاح کر چکے تھے - اتنے میں انس رض نے آکر اطلاع دی کہ جنازہ تیار ہے -ظہر کی آذان بلند ہو رہی تھی آپ ﷺ نے مسجد جاکر ظہر کی امامت کی ، حاضری قدرے کم تھی -لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے - ادائیگی ظہر کے بعد آپ ﷺصحابہ کرام کے ہمراہ جنازہ گاہ اور قبرستان کی جانب روانہ ہوئے-
جنازے کے بعد آپ ﷺ نے میت کی تدفین میں حصہ لیا --گھر میں ام سلمہ رض کو کہلا بھیجا کہ ابن عبادہ کے گھر کھانا بھیج دیا جائے-
ام سلیم کافی بیمار تھیں آپ ﷺانکی مزاج پرسی کو گئے اور انکے لئے دعائے صحت کی - واپسی پر آپ ﷺ وہ کنواں دیکھنے گئے جو عثمان رض نے حال ہی میں ایک یہودی سے کافی مہنگے داموں خریدا تھا- اسکا پانی بہت ٹھنڈا اور میٹھا تھا - آپ ﷺنے عثمان کے لئے دعائے خیر و برکت کی --
عصر کی نماز کا وقت ہو چلا تھا آپ ﷺ یہاں سے قریب مسجد قبا تشریف لے گئے آپ کے ہمراہ ابو ایوب انصاری رض نے عصر کی آذان ؐدی-ارد گرد سے مسلمان ادائیگی نماز کے لئے اکٹھے ہوئے-قبا کی مسجد اسلام کی اؤلین مسجد جورسول ﷺ نے مدینہ آنے کے بعد تعمیر کی -یہاں تھوڑی دیر بیٹھ کر صحابہ کرام سے بات چیت کی-حالات اچھے نہیں تھے اور لگتا تھا کہ عنقریب ایک اور غزوہ ہوگا--یہودیوں،منافقین اور کفار کی گٹھ جوڑ کی اطلاعات تھیں--
مغرب کا وقت قریب آرہاتھا -آپ ﷺ انس رض کے ہمراہ گھر کی جانب روانہ ہوئے آج کا افظار زینب رض کی طرف تھا وہ حال ہی میں آپ ﷺ کی زو جیت میں اللہ کے حکم سے آئی تھیں -چونکہ قبل اسکے وہ آپکے منہ بولے بیٹے زید رض کی منکوحہ تھیں تو اس نکاح پر مدینے کے منافقین اور یہود نے کافی ہنگامہ کیا تھا - اللہ تعالٰی نے واضح طور پر الاحزاب میں اسکے احکامات جاری کئے
افطار میں کھجور ، دودھ کی لسی اور ثرید تھا بہت مختصر سی غذا تھی -ادھر بلال رض نے آذان مغرب بلند کی اور آپ ﷺ نے اللہ کی حمد، عظمت اور شکر ادا کرتے ہوئے روزہ افطار کیا -آپ ﷺ کے ساےھ قریبی صحابہ بھی تھے-ازوواج مطھرات پردے کے پیچھے تھیں -مغرب سے عشاء تک آپ ﷺ صحابہ کرام سمیت مسجد میں رہے - انسے مختلف معاملات پر صلاح مشورے کرتے رہے -انمیں جنگی تیاریاں ، مدافؑعت اور دیگر باہمی معاملات تھے-- یہودی مسلسل بد عہدی اور منافقین دوہری چال چل رہے تھے اسلئے سارے اقدام سوچ سمجھ کر اٹھانے تھے --
عشاء میں کافی حاضری تھی -آپ ﷺ نے امامت کی اور ادائیگی نماز کے بعد حفصہ رض کے ؑحجرے کی طرف رات گزارنے گئے----

اللہم صل علی سید نا محمد و آلہ و اصحا بہ اجمعین و سلمو تسلیما کثیرا کثیرا بعدد کل معلوم لکٗ--