Thursday, August 29, 2013

Journey of life: قطرہ سے گہرہونےتک

Journey of life: قطرہ سے گہرہونےتک:     قطرہ سے گہرہونےتک نو مسلمہ فاطمہ عابدہ رحمانی  نو مسلمہ فاطمہ کی کہانی   عابدہ رحمانی   فاطمہ کے قبول اسلام کے متعلق فوزیہ سے معلوم ہوا-...

مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا

چند روز قبل عابدہ رحمانی صاحبہ نے یہاں موجود احباب کو اپنی خودنوشت "مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا" کی متوقع اشاعت کی خبر دی تھی۔ مذکور خودنوشت راولپنڈی کے ناشر الفتح پبلشر نے شائع کردی ہے اور یہ کتاب اب فروخت کے لیے دستیاب ہے۔ کتاب کی قیمت 550 ہے۔
 
 
مذکورہ خودنوشت سے چند منتخب اوراق پی ڈی ایف فائل کی شکل میں پیش خدمت ہیں۔ مصنفہ نے اپنی داستان حیات کو اپنے خاوند احد رحمانی مرحوم کے نام کیا ہے اور آخری صفحات میں " 8 جنوری 1989 کا ایک اندوہناک سفر" کے عنوان سے ایک باب بھی ان پر تحریر کیا ہے۔ اپنے رفیق سفر کے بچھڑ جانے کی یہ روداد ایک حساس تحریر ہے۔
 
مذکورہ باب بھی پی ڈی ایف فائل میں شامل کیا گیا ہے۔ 
 
اپنی خودنوشت کے پیش لفظ میں عابدہ صاحبہ نے ادب ڈاٹ کام کا خصوصی ذکر کیا ہے۔
 
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے 

Wednesday, August 21, 2013

قطرہ سے گہرہونےتک

   قطرہ سے گہرہونےتک
نو مسلمہ فاطمہ

عابدہ رحمانی

 نو مسلمہ فاطمہ کی کہانی

 

عابدہ رحمانی

 

فاطمہ کے قبول اسلام کے متعلق فوزیہ سے معلوم ہوا- اسکی داستان عجیب رونگٹے کھڑی کرنیوالی داستان ہے ایسی داستان، جسمیں رشتوں کا تقدس انسانی ہوس کے سامنے ہیچ ہے -

 ہدایت دینا اللہ کی دین ہے  الہ آباد کے ہندو پنڈت برہمن خاندان سے تعلق رکھنے والی مادھووی  بچپن سے ہی اپنے بتوں سے بر گشتہ اور بیزار تھی -اسکو یہ خیال بری طرح پریشان کرتا تھا کہ اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے یہ بت آپکی رکھشا کیسے کر سکتے ہیں  آپکی دعاؤن کو کیسے قبول کر سکتے ہیں، یہ اپنی رکھشا نہیں کرسکتے تو میری رکھشا کیسے کرینگے؟ پھر ان بتوں کو دودھ ، دہی اور شربت سے نہلانے میں کیا منطق اور عقل پوشیدہ ہے؟ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پوجا اور مندر حاضری میں شرکت تو کر لیتی تھی لیکن اسکا دل انہی سوالوں کو سوچ کر بیچین رہتا تھا--اسکے خیال میں بھگوان تو سات پردوں میں پوشیدہ ہے اسکو چھو بھی نہیں سکتے ، ھاتھ بھی نہیں لگا سکتے ۔ وہ اکثر سوچتی تھی کہ میرے دل میں اس دھرم کے لئے کوئی پیار نہیں ہے- اور یہ محض ایک جھوٹ ہے جو میں نبھا رہی ہوں

اسکے خاندان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا کوئی رواج نہیں تھا اور اسکو پڑھنے کا شوق بھی نہیں تھا تو صرف تیسری جماعت تک تعلیم حاصل کی اب اسے شوق ہے کہ مزید تعلیم حاصل کرے- وہ ہندی اور قدرے انگریزی لکھ پڑھ لیتی ہے تھوڑا کمپیوٹر کا استعمال بھی جانتی ہے-8 سال کی عمر میں اسے ایک سٹروک ہوا جسکی وجہ سے اسکے ہاتھ پاؤں میں کمزوری آگئی تھی اسلئے جب 20سال کی عمر میں اسکی شادی ایک انجینئر سے طے پائی-تو وہ اس رشتے پر حیران تھی کہ ایک انجینئر اس جیسی لڑکی سے شادی کیوں کریگا؟ وہ کوئی مالدار لڑکی بھی نہیں تھی ، نہ ہی اسے کوئی بھاری جہیز ملاتھا

شادی کے بعد اسے معلوم ہوا کہ سسرال میں معاملہ عجیب و غریب ہے ساس مٹی کے تیل کے اسٹوو پھٹنے سے مر چکی تھی - مارنیوالا اور کوئی نہیں بلکہ اسکا شوہر یعنی سسر تھا - یہ بات پورے وثوق سے اسکے سسر کے بھائی نے اسے بتائی تھی کہ کھانا پکاتے ہوئے اسکے سسر نے بیوی پر مٹی کا تیل پھینکا جس سے آگ بھڑک اٹھی -انڈیا میں اسطرح کے واقعات عام ہیں عورتوں کو یا تو جلا دیا جاتا ہے یا سانپ سے ڈسوالیا جاتا ہے اور پھر سکو ایک حادثہ سمجھ لیا جاتا ہے-

 یہ مجرم سسر اور ایک اور دیور اس اپنی بہو اور بھابھی کو اسکے شوہر سمیت اپنی مشترکہ ملکیت سمجھتے تھے اور اسکے ساتھ ہر قسم کی دست درازی کرنیکی کوشش کرتے جب وہ انکی بات نہیں مانتی تھی اور انکی پیش قدمیوں کو روکتی تو اسے بری طرح پیٹتے تھے کرکٹ کے بلے تک سے اور بیلٹوں سے اسے بری طرح مارا گیا، سارے جسم پر نیل پڑ جاتے وہ اسوقت بھی یہ داستان سناتے ہوئے لرز جاتی ہے-

 شوہر اکثر کام کے سلسلے میں شہر سے باہر چلا جاتا وہ شکایت کرتی تو شوہر خودکشی کی دھمکیاں دیتا - ماں باپ اسکی بات پر دھیان نہیں دیتے اور اسے ہر طرح سے نباہنے کی تلقین کرتے تھے –بھارت میں شادی کے بعد لڑکی پرائی ہو جاتی ہے اسکی شکایت تک نہیں سنی جاتی اسکی پاداش میں لڑکیاں جلادی جاتی ہیں- اسے اپنے رشتوں سے اپنے سماج سے شدید ترین نفرت ہوگئی تھی - شوہر کی غیر موجودگی میں وہ کمرے میں بند ہو جاتی اور دو دو دن تک بند رہتی تھی - یا میکے چلی جاتی تھی- سسر نے دوسری شادی نہیں کی وہ کہتا " جب بازار میں دودھ ملتا ہے تو گھر میں بھینس پالنے کی کیا ضرورت ہے -

 اپنے آپکو ان بھیڑیوں سے بچاتے ہوئے وہ ایک بچی کی ماں بن گئی –ایک گھناؤنا ماحول تھا جسکا وہ حصہ بن چکی تھی – اسے اپنے سسر اور دیور سے شدید نفرت تھی –

اسکا شوہر کینیڈین امیگریشن ملنے کے بعد کینیڈا آیا اور انکے لئے درخواست دی

-" میں ایک بیٹی کے ساتھ سسرال میں اکیلی رہگئی - میرا سسر اور دیور گھر میں تھا انہوں نے تو مجھے مفت کا مال سمجھ لیا تھا - میں نے اپنی عزت انسے کیسے کیسے بچائی ہے آپکو بتا نہیں سکتی – وہ عریاں حالت میں میرے کمرے میں آجاتے اور مجھے اپنی بات ماننے پر مجبور کرتے تھے " نہ ماننے کی صورت میں وہ مجھ پر تشدد کرتے مارتے پیٹتے ، ظلم کی کوئی انتہا نہیں تھی جو میرے اوپر نہیں ہوا ہو- بتاتے ہوئے اسکی حالت غیر ہونے لگی-

وہ اور بچی 2002 میں کینیڈا آئے - اسکے شوہر نے اسے یقین دلایا تھا کہ اسکی اپنے بدکردار بھائی اور

باپ سے ہر گز تعلقات نہیں ہیں- کینیڈا میں میری دوسری بیٹی پیدا ہوئی-

چار سال پہلے کی بات ہے ،" میں ذہنی طور پر بہت پریشان تھی- کہ پارک میں ٹہلتے ہوئے ایک مولانا سے ملاقات ہوئی – ان سے بات چیت کے دوران انہوں نے میری پریشانی کو بھانپ لیا اور ایک منتر

 مجھے بتایا کہ شام تک یہ پڑھتی رہنا اگر تمہاری پریشانی دور ہوئی تو جان لینا کہ یہ بہت اچھا منتر ہے"- وہ اپنے قبول اسلام کا حیرےت ناک واقعہ مجھے سنانے لگی – اگلے روز میری پھر مولانا سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ کیسا تجربہ رہا؟ ،میں نے بتایا کہ یہ منتر تو بہت اچھا ہے – وہ کہنے لگے پڑھتی رہو فائدہ ہوگا-

مادھوی کو منتر پڑھنے سے بڑا سکون مل رہاتھا- پھر مولانا نے اسے کچھ اسلام کے متعلق بتایا- وہ کہنے لگی  بس آپ مجھے کلمہ پڑھوا کر مسلمان کردو- مولانا نے کہا جو منتر تم اتنے دنوں سے پڑھ رہی ہو وہ کلمہ ہی تو ہے –" لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ-

انہون نے اسے سورہ الفاتحہ اور چاروں قل پڑھائے – گھر آکر اسنے تمام بتوں کو سمیٹا اور کوڑے میں ڈالدیا – اسنے پھر باقاعدہ شہادہ لینے کی خواہش ظاہر کی – مولانا نے کہا کہ شوہر سے تعلق ختم کرنا پڑیگا – اسلام قبول کرنیکے لئے ،بہت لڑایئاں ہوئیں اسکے میکے والوں نے بھی تعلق ختم کرنیکی دھمکیا ں دیں – ماں نے کہا کہ اگر آئی تو باہر رہیگی ، الگ برتن میں کھائیگی-  اور ایک دن جب شوہر کا پول کھلا کہ کمپیوٹر پر بھائی کی تصویر لگا رکھی ہے اور بھائی سے دوستانہ تعلق ہے تو اسے طلاق لینے مین ایک منٹ بھی نہیں لگا

اسکے شوہر نے اسے  پہلے بتایا تھا بلکہ یقین دھانی کروائی تھی  کہ اپنے بدکردار بھائی سے اسے سخت نفرت ہے لیکن اصل صورتحال یہ تھی –وہ شوہر سے فورا علیحدہ ہوئی اور شیلٹر میں چلی گئی – اسکے ساتھ ہی اسنے باقاعدہ اسلام قبول کیا- اب عدالت سے باقاعدہ طلاق ہو چکی ہے- شوہر کے ذمے ایک ہزار ڈالر مہینے کا خرچ ہے-

 بیٹیاں شوہر کے پاس ہیں بڑی بیٹی تو کافی بے راہ رو ہوچکی ہے – چھوٹی اسکول جاتی ہے اور باپ   اسے پڑھا رہا ہے – بریمپٹن کے ایک مسلمان دیندار خاندان نے اسکو اپنے بیسمنٹ میں رکھا ہوا ہے –

اسلام قبول کئے اسے چار سال ہوچکے ہیں لیکن وہ ابھی تک سیکھ رہی ہے سمجھ رہی ہے- قدرے قرآن پڑھ لیتی ہے نماز سیکھ لی ہے – تسبیحات کا ورد کرتی رہتی ہے – اللہ تعالیٰ اور اسکے دین سے جڑ کر بہت خوش ، سکھی اور شانت ہے-" میری دینی بہنیں کہتی ہیں- فاطمہ تم تو ایسی ہو ، جیسے تم نے ابھی جنم لیا ہو، پاک ، صاف ، معصوم رفتہ رفتہ دین سیکھ جاؤگی"

اسوقت اسکی عمر چالیس سال ہے کئی لوگ اسے شادی کرنیکا مشورہ دیتے ہیں – اس تجویز کی وہ سخت مخالف ہے " ایک ہی مرد اور ایک ہی شادی سے بھر پائے- اب من میں دوبارہ شادی کا کوئی ارمان نہیں ہے – مرد کی ذات سے ہی نفرت ہوگئی ہے" ساتھ ہی اسنے یہ بھی بتایا کہ اسکا سابقہ شوہر دوبارہ مصالحت کے لئے پیغامات بھیج رہا ہے جسے وہ ہرگز ماننے پر تیار نہیں ہے-

میرا اگلا سوال تھا کہ اگر تمہارا شوہر مسلمان ہوجائے تو ہو سکتا ہے کہ اسکے ساتھ تمہاری بچیاں بھی مسلمان ہو جائینگی- اور یو ں تمہارا پورا گھر ایک مسلمان گھرانہ بن جائے گا—

لیکن اسکو اپنے شوہر پر ہرگز اعتبار نہیں ہے اور وہ ایک جھوٹے رشتے اور تعلق میں دوبارہ جڑنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہے- "اگر مسلمان ہوا بھی تو دل سے نہیں ہوگا، میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں-چھوٹی بیٹی شاید ہوجائے-

میں اپنی موجودہ زندگی ، اپنے دین سے، اپنے اللہ اور رسول سے  بہت خوش ہوں – میری ماں کہتی ہے " ارے اوپر سے کتنا کپڑا لادنا پڑتا ہوگا؟ " ہاں تو کیا ہوا ، یہ کپڑا مجھے بے حیائی سے بے شرمی سے بچاتا ہے- میرے شریر کو ڈھانپ کر میری عزت کو ڈھانپتا ہے--

دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ--- دیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک

Tuesday, August 20, 2013

Keeping Cool under pressure the Islamic Way

Keeping Cool under pressure the Islamic Way
by
Abida Rahmani
A human being suffers a lot of unpleasant stressful moments all along his / her life.  These are social, financial, physical, spiritual, mental and emotional .Human nature is different from each other in many ways. Some of us can deal with these problems and situations tactfully, diligently in a cool, composed and calm way, while others are out of control; lose their temper and patience to these volatile situations. They get angry, annoyed, depressed, sometimes harm their own selves, loved ones and kith and kin. Some of these situations are quite drastic and devastating, like losing a loved one has no parallel compromise. Stress management is a big topic these days. So many mental, psychological and physical diseases are directly related to stress. Pressure and stress are the same thing and keeping cool under these situations is a daunting task.
A Muslim has the guiding light from Allah SWT for controlling and dealing these situations with patience and self-control seeking the mercy of Allah SWT .In Quran there are various Ayas which ask us to be patient, steadfast and self-controlled.
Dua : Supplication, Asking mercy and blessings of Allah is the biggest blessing and armor for a believer. Allah loves those who ask and beg him for his blessings, forgiveness and help with all their humility in private, in congregation, standing, lying and in every position. The Prophet saws said: Allah is angry with those who do not ask Him for anything (Tirmidhi). The Prophet saws once said that in prayer, you would find rest and relief (Nasai). He would also regularly ask for God’s forgiveness and remain in prostration during prayer praising God (Tasbeeh) and asking for His forgiveness (Bukhari).We should pray to Allah SWT in our Salaat (obligatory prayers) or in the extra prayers ( nawafil) seek his help and mercy all the time. Believe me for a bereaved person Allah the exalted is the best companion, safe guard and one feels so strong and relieved with close ties to Allah swt. As much as you get closer to Allah you feel the peace, tranquility and strength from inside. That strength is apparent in your all dealings and matters. Allah the exalted say in Quran,
 وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَىۡءٍ۬ مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡصٍ۬ مِّنَ ٱلۡأَمۡوَٲلِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٲتِۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِينَ (١٥٥) ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَـٰبَتۡهُم مُّصِيبَةٌ۬ قَالُوٓاْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيۡهِ رَٲجِعُونَ (١٥٦))
And certainly, We shall test you with something of fear, hunger, loss of wealth, lives and fruits, but give glad tidings to As-Sâbirun (the patient) (155) Who, when afflicted with calamity, say: "Truly! To Allâh we belong and truly, to Him we shall return." (156)
For a believer Muslim there is no such a guarantee that he or she will go through life without tests and trials. Rather we notice that the believers are tested more harshly by society, by regimes, by simple luck and destiny. But Allah says that a Muslim should be patient, steadfast and in full control of his emotions. In the next Ayah glad tidings is given to those patient people.
أُوْلَـٰٓٮِٕكَ عَلَيۡہِمۡ صَلَوَٲتٌ۬ مِّن رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ۬ۖ وَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلۡمُهۡتَدُونَ (١٥٧)
 They are those on whom are the Salawât (i.e. who are blessed and will be forgiven) from their Lord, and (they are those who) receive His Mercy, and it is they who are the guided-ones. (157)
To be patient to calamities and in drastic situations is the same as keeping cool under pressure and this is how Islam guides us.  Patience and prayer are two stress busters. Sabr is often translated as patience but it is not just that. It includes self-control, perseverance, endurance, and a focused struggle to achieve one’s goal. Unlike patience, which implies resignation, the concept of Sabr includes a duty to remain steadfast to achieve your goals despite all odds.
Being patient gives us control in situations where we feel we have little or no control. ‘We cannot control what happens to us but we can control our reaction to our circumstances, problems, sufferings and calamities. Patience helps us keep our mind and attitude towards our difficulties in check. With our firm belief and Eemaan we know that despite all our efforts ultimate good or bad will happen from Allah swt, he is the wise the all-knowing. We should put our trust in him and should work hard for betterment but leave the end result in his hands. Sometimes our limited human knowledge is unable to comprehend His wisdom behind what happens to us and to others, but knowing that He is in control and that as human beings we submit to His Will, enriches our humanity and enhances our obedience towards him.
Life is short: when we are caught up in our own stress and anxiety. We should remember that our life is short and temporary, and that the everlasting life is in the Hereafter, this will put our worries in perspective and least bothered.
This belief in the life of this world reminds us that whatever difficulties, trials, anxieties, and grief we suffer in this world are, Insha Allah, something we will only experience for a short period of time. And more importantly, if we handle these tests with patience, Allah will reward us for it with enormous rewards.
Remembrance of Allah (Zikr): In Quran it’s said "… without doubt in the remembrance (Zikr) of Allah do hearts find tranquility" (Quran 13:28).
We can recite tasbeehat  ( glorifying Allah SWT)as many times on our fingers, on a rosary, in our heart, loud or quietly “Subhana Allahe wa be hamdihi, subhan Allahil Azeem"is a very good tasbih. These are quite comprehensive in praising Allah .The  Prophet saws said , these two short phrases which are easy to say but will weigh heavy on our scale of good deeds in the Hereafter.”
When ones heart feels heavy with stress, pressure or grief, remembrance of Allah his Zikr is so comforting and relieving. Zikr refers to all forms of the remembrance of Allah, including Salat, Tasbeeh, Tahmeed, Tahleel, making supplication (Dua), and reading Quran.
"And your Lord says: ‘Call on me; I will answer your (prayer)…" (Quran 40:60)
By remembering Allah in the way He has taught us to do, we are more likely to gain acceptance of our prayers and His Mercy in times of difficulty. We are communicating with the only One Who not only Hears and Knows all, but who can change our situation and give us the patience to deal with our difficulties and ordeals.
"Remember Me, and I shall remember you; be grateful to me, and do not deny me" (Quran 2:152).
Reading Quran: Keeping close contact to Quran is the same as Zikr .Reading and listening to the Quran will help refresh our hearts and our minds. Recite it out loud or in a low voice. Try to memorize it, learn the meanings, the illustrations and it could be enjoyed at the most. When one is able to understand Quran, then listening and doing tilawat (recitation) makes a lot more sense. It seems like you are directly talking to Allah SWT.
"O humanity! There has come to you a direction from your Lord and a cure for all [the ills] in men’s hearts - and for those who believe, a Guidance and a Mercy" (Quran 10:57).
To be grateful!
For a believer it’s more important to be grateful to almighty all the time.
"If you are grateful, I will give you more" (Quran 14:7).
Counting our blessings helps us not only be grateful for what we have, but it also reminds us that we are so much better off than millions of others, who have gone through more drastic, devastating situations and deprived of so many things that I am blessed with. And being grateful for all we have helps us maintain a positive, cool attitude in the face of our pressures and challenges we are facing almost daily.

Wednesday, July 31, 2013

الوداع اے ماہ رمضان عید کی آمد آمد

الوداع  اے ماہ رمضان 
عید کی آمد آمد

عابدہ رحمانی
 اب جبکہ رمضان آخری عشرے میں داخل ہوگیا ہے اعتکاف والے معتکف ہوگئے مغفرت اور نار جہنم سے نجات کا عشرہ شروع ہو چکا ہے روزے دار اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار ہیں مساجد ہیں کہ ماشاءاللہ نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں - پورے پورے خاندان کے ساتھ لوگ کشاں کشاں چلے آرہے ہیں - بچوں کے لئے کھیلنے کے کمرے ہیں، بے بی سٹنگ کا انتظام بخوبی موجود ہے - بوڑھے بچے جوان ایک چہل پہل ، ایک ہما ہمی نماز ختم ہونے کے بعد یوں لگتا ہے ایک میلہ لگا ہوا ہے  بھانت بھانت کی بولیاں ، مختلف رنگ اور نسل کے مسلمان ایک رشتہ اخوت میں جڑے ہوۓ ، زیادہ تر ان ممالک کے باسی جہاں قتل و غارت گری ، فرقہ پرستی،مذہبی سیاسی یا فوجی دہشت گردی انتہائی عروج پر ہے - لیکن اس سکون اور اطمینان میں اپنے دینی فرائض کی انجام دہی کے لئے ان ممالک کا انتخاب بھی کیا خوب انتخاب ہے کہ دیار مغرب کے امن و امان میں خوب دل کھول کر عبادات کریں ، پنج وقتہ فرض نماز کی ادائیگی اپنی جگہ ،رمضان کی رونقیں ، افطار ، مغرب عشاء ، تراویح اور پھر قیام الیل، خوش الحان قاریوں کی قراءت کیا روح پرور سماں آیات وعید پر قاریوں کا پھوٹ پھوٹ کر گریہ و زاری کرنا اور وتر کی دعاؤں کا سماں ، آج کی رات تو سحری کا بھی شاندار انتظام تھا- حرمین شریفین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے مجھے شافعی اور مالکی طریقے کی وتر بہت پسند ہے کیا رقت آمیز دعائیں ہوتی ہیں بس قبولیت کی دیر ہے- اور اسی کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ رمضان یہیں منایا جائے -
 ایک عزیز بتا رہے تھے کراچی کی جس مسجد میں نماز پڑھنے جاتے تھے وہ سپاہ صحابہ کی مسجد تھی دو مسلح گارڈ پہرے پر اور ہر ایک کی تلاشی لی جاتی تھی - پھر ہر وقت حملے کا خطرہ  ایسے میں آپ یکسوئی سے کیا عبادت کر سکتے ہیں ؟ اب تو مساجد میں اسکینرز اور میٹل ڈیڈیکٹرز ضروری ہو گئے ہیں کیونکہ دہشت گردی کا خدشہ وہیں پر زیادہ ہے- اس موضوع پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ آپکی عبادت گاہیں بھی حد درجہ  غیرمحفوظ ہو جائیں-

ابھی تو رمضان شروع ہی ہوا تھا اور دیکھتے دیکھتے 23 واں روزہ بھی آن پہنچا - - 
ناصر جہاں کا سلام آخر آجکل میرے کانوں میں گونجتا ہے اب اسکا رمضان سے کیا تعلق؟
بس اتنا ہی، جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے 
سلام آخر کو رمضان آخر کہہ سکتے ہیں-- 
رمضان کا تحفہ اہل ایمان کے لئے عید الفطر کا دن ہے جب وہ اللہ کی بڑائی اور کبریائی بیان کرتے ہوئے اپنی خوشی مناتے ہیں-  روزے دار تو روزوں سے بے حال ہو چکے ہوتے ہیں  اکثر وہ مسلمان جو روزے نہیں رکھتے عید زیادہ جوش و خروش سے مناتے ہیں اور انکی تیاریاں بھی خوب ہوتی ہیں اب وہ اتنے بھی گئے گزرے مسلمان نہیں ہیں کہ عید بھی جی بھر کر نہ منائیں- اتنی مسلمانی پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے-

"ارے بھئی آپ تو عید کا چاند ہوگئے نظر ہی نہیں آتے"
اردو بولنے والے از راہ گرمجوشی اپنے ملنے والوں میں یہ جملہ یا محاورہ جا بجا بولتے ہیں- جب کہ ہم مسلمان ابھی رمضان کے اختتام پر عید کا چاند ڈھونڈھنے کی کوشش کرینگے-آختتام سے مراد ہے 29 کی شب کیونکہ 30 کو تو  چاند کو بہر حال نکلنا ہی ہوتا ہے- ہلال عید یا عید کا چاند ہماری آدھی نہیں تو کم ازکم ایک تہائی اردو شاعری کا احاطہ کئے ہوے ہے۔اس چاند کو ڈھونڈھنے  اور پانے کیلئے کیا کیا رومانی اور جذباتی  اشعار کہے گئے ہیں کہ انمیں سے ایک بھی ابھی میرے ذہن میں نہیں آرہا ہے شائد گوگل کرنا پڑیگا  - پھر اس چاند اور محبوب کے حسن جمال کا موازنہ ، جذ با تئیت تو بر صغیر میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی ہے -پھر اس پر مستزاد اردو محاورے جنمیں عید کا چاند جا بجا استعمال ہوتا ہے-چاند اور عید کے چاند کو حسن و جمال کے استعاروں میں وصال و فراق کے محاؤروں میں خوب خوب چاشنی ملاکر بیان کی گیا ہے- ہماری ایک مغنیہ کیا لہک لہک کر یہ گیت گاتیں
انوکھا لاڈلا ، کھلن کو مانگے چاند
رمضان کی 29 کو جتنی ڈھونڈیا اس چاند کی ہوتی ہے کہ چاند کو خود بھی  اس اہمیئت کا اندازہ نہیں ہوگا-یا شائد ہے جب ہی تو وہ جھلک نہٰیں دکھلاتا یا ہلکی سی جھلک دکھلا کر غائب ہوجاتا ہے- عرب دنیا میں نہ معلوم چاند اور عید کے چاند کے ساتھ کیا رومانئیت منسلک ہے وہ عربی میں اپنی تہی دامنی کے سبب میں نہیں جانتی لیکن یقینا وہاں کے مؤمنین بھی چاہتے ہونگے کہ 29 پر چاند ہو جائے اور وہ ایک اور روزے سے بچ جایئں -آجکل تو وہاں پر شدید ترین گرم موسم ہے -ہاں البتہ انپر ایر کنڈیشننگ کے لحاظ سے اللہ کا احسان ہے- امریکہ کے روشن خیال مسلمانوں کو کیلنڈر بنانے کا خیال آیا اور اسکے حساب سے چاند کی تاریخیں طے کیں اس حساب سے ہم کیلنڈر والوں کو پورے 30 روزے رکھنے ہیں اور ہماری زندگی سے چاند کا انتظار غائب ہوگیا -- لیکن دیگر کافی تعداد میں بھائی بندے اس پر متفق نہ ہو سکے ، انہوں نے چاند دیکھنے اور ڈھونڈنے کو ہی صحیح جانآ- اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں چاند کو کھلی آنکھ سے دیکھنا افضل ہے ، ہم اپنے مطالب کیلئے سنت کی پیروی خوب کرتے ہیں-
 پاکستان میں روئیت ہلال کمیٹی بنی ہوئی ہے جنکا اہم کام عید اور رمضان کے چاند کو نکالنا ہوتا ہے، اسکے سرپرست اعلے  عموماایک انتہائی ضعیف العمر اور بزرگ مولانا کو نامزد کیا جاتا ہے جنکی بینائی بھی خاصی کمزورہو چکی ہوتی ہے-( معذرت کے ساتھ) -لمبی چوڑی تقریریں اور تکلفات ہوتے ہیں چاند کو ڈھونڈھنا ایک اہم ترین فریضہ ہوتا ہے - پوری قوم دم بخود ہوتی ہے کہ اب چاند نکلا کہ نکلا اکثر اوقات ایسا ہوا کہ چاند کی خبر رات کو با رہ بجنے کے بعد آئی اور اکثر نے اگلے روزے کی سحری بھی کرلی اور معلوم ہوا کہ عید ہوگئی-ہمارے خیبر پختونخواہ والے عید کو پشتو میں" اختر" کہتے ہیں - عیدالفطر چھوٹی عید کہلاتی ہے جبکہ عیدالاضحی بڑی عید - اور وہ کبھی بھی بقیہ پاکستان سے عید اور رمضان پر متفق نہیں ہوتے بلکہ ایک روز پہلے مناتےتھے-، چاہے روئیت ہلال والے پشاور میں ہی چاند نکال ڈالیں-اس مرتبہ کچھ بہت ہی انوکھا ہوا ہے جسے کہا جا رہا ہے " تحریک انصاف کا نیا خیبر پختون خوا، خبریں آرہی ہیں کہ انہوں نے بقیہ پاکستان کے ساتھ رمضان کے ساتھ اختر منانے کا فیصلہ کیا ہے - ایک انتہائی انوکھا کام ،اللہ خیر کرے--
 بھارت کے بارے میں حیرت ہے کہ میں لاعلم ہوں کہ وہاں کی اتنی بڑی مسلم آبادی چاند دیکھنے کے لئے کیا پاپڑ بیلتی ہے -؟ افسوس کہ ہم کتنےبے خبر پڑوسی ہیں، حالانکہ بالی ووڈ اور اسکے ستاروں  سے تو ہمارا قریبی ناتا ہے- اور عید کے چاند کی ساری رومانیت تو وہیں کی دین ہے-
عرب ممالک میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے چاند کی ڈھونڈیا ہوتی ہے- یوروپ، آسٹریلیا، کینیڈا، دیگر ممالک  اور امریکہ والےیا تو اپنے طور پر چاند کو ڈھونڈتے ہیں کچھ اپنے موروثی ممالک کی پیروی بھی کر ڈالتے ہیں کہ عید انکے ساتھ منائی جاۓ- شمالی امریکہ میں اگر مسلمان ایک ہی دن عید منا لیں تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ورنہ وضاحتوں پر وضاحتیں اور شرمندگی الگ - ایک ہی ملک ایک ہی محلے میں بسا اوقات تین مختلف دن عید منائی جاتی ہے بیچارے اوباما اور سٹیفن ہارپر بھی مخمصے میں کہ عید کی مبارکباد کس روز دی جائے- اسکول والے الگ پریشان اور انکا ایک ہی سوال " تم لوگ اپنا تہوار ایک دن ساتھ کیوں نہیں مناتے؟ ہم نے تو یہ طریقہ اپنایا ہے کہ عید کے روز روزہ شیطان کا اور جو پہلے عید مناتا ہے اسکے ساتھ مناتے ہیں-

پاکستان میں چاند رات کو بڑے شہروں اور کراچی میں جو چہل پہل ہوتی ہے اور چاند رات کا بازاروں میں جو رت جگا ہوتا ہے وہ منچلوں اور نوجوانوں کے لئے ایک حد درجہ لطف کا باعث ہوتا ہے- لڑکیاں بالیاں ساری رات مہندی اور چوڑیوں کے چکر میں کاٹ دیتی ہیں چوڑیوں والے منہ مانگے دام لیتے ہیں -کتنے سٹال بن جاتے ہیں کالج یونیورسٹی کے لڑکے باجیوں کو چوڑیاں پہنانے کے لئے ایک سے ایک بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اورکتنی با پردہ اور با حیا خواتین بھی چوڑیاں بچانے کی چکر میں ہاتھ بڑھا لیتی ہیں ارے ڈاکٹر، درزی اور چوڑی والے سے کیسا تکلف؟ کیا چناکے ہوتے ہیں جب تنگ سے تنگ چوڑیا ں پہنائی جائیں--لیکن اس طرح سے ٹوٹنے والی ساری کی ساری چوڑی والے کی ہوتی ہیں-- یہ ریت ابھی تک قائم ہے ؟- اس سے پہلے تو خواتین دعائیں مانگتی تھیں کہ آج چاند نہ ہو اور انکو عید کی تیاری کرنے کا ایک اور روز مل جاۓ- آخری وقت کی خریداریاں ، پکوان کی تیاریاں ، کئی اقسام کی سویئاں، ہوائیاں کٹ رہیں ، مصالحے پس رہے ہیں،ساری ساری رات خواتین کی اگلے دن کی تیاریوں میں گزر جاتی ہے  -اس سے پہلے جب گھروں میں سلیقہ شعار خواتین سلائیاں کرتی تھیں تو  گوٹے لچکےٹانکنا ،تر پائیاں کرنا اور پھر تمام ملبوسات کا اہتمام کہ تینوں دنوں میں کیا کیا پہننا ہے کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے- موجودہ دور میں بوتیک اور درزیوں نے عید کے اہتمام کو لوٹ لیا ہے -رمضان کے پہلے ہی سے درزیوں کے مزاج بگڑنے شروع ہوتے ہیں اور پہر یہ لوڈ شیڈنگ کا عارضہ یا بہانہ- اب چاند رات میں بوتیک اپنی قیمتیں کم از کم دگنی کر دیتے ہیں-اسکے ساتھ پارلروں کا راج ہوتا ہے مردانہ اور زنانہ دونوں-مہندی کا کام تو تمام دنیا میں کون کی ایجاد سے کافی آسان ہوگیا ہے اس کون کے ایجاد کرنیوالے کو ایک مہندی ایوارڈ براۓ تجدیدئیت ضرور دینا چاہئے تھا- اگلے روز عید کی نماز کے لئے گھر کے مرد ہی جاتے تھے اسوقت تک خواتین کی باقی تیاریاں ہوچکتی تھیں-
 ہم لوگوں کے ہاں عید کا کیا اہتمام ہوتا تھا اکثر گھروں میں رنگ روغن تک ہو جاتا تھا - گملے تک رنگ دئے جاتے ہر چیز اجلی اور جاذب نظر ہو -پھر عیدیوں کا سلسلہ اگلے روز صبح سے ہی شروع ہوتا تھا جسنے رات کو سب سے زیادہ پریشان کیاتھا ڈھول پیٹنے والا وہ سب سے پہلے ، پھر گلی کا خاکروب جو عیدیں پر ہی نظر اتا تھا 'چوکیدار، مالی، ڈاکیہ جو سارے مہینے کی ڈاک جمع کرکے صرف عید کے دن لاکر دیتا ایک سے ایک عید کارڈ، بھیجنے والوں کی محبت کی گواہ ہوتے- ہم نے بھی درجنوں عید کارڈ بھیج دئے ہوتے تھے ان عید کارڈ کی خریداری بھی ایک دلچسپ اور بڑا مشن ہوتا تھا کہ ہر مرتبہ کچھ انوکھا پن ہو جو آپکی ذوق سلیم کا آئینہ دار ہو، پوری فہرست بنتی تھی کہیں کوئی عزیز، یار دوست رہ نہ جائے، ان کارڈز کو سپرد ڈاک کرنیکا مسئلہ ، ڈاکخانے والے بھی ایک حتمی تاریخ دے دیتے تھے-   ہماری زندگیوں سے بہت سے حسین لمحے خود بخود غائب ہوتے جارہے ہیں-اب انٹرنیٹ اور ای کارڈز نے اس تکلف سے بے نیاز کر دیا ہے -- پھر اللہ فیس بک کو سلامت رکھے اسنے مزید کام آسان کردیا ہے
 ایک تانتا سا بندھ جاتا ملازمین، اپنے بچوں ، عزیز رشتہ داروں کی عیدی کا سلسلہ الگ جاری رہتا - بچے اپنی عیدی گن گن کر خوش ہوۓ جاتے تھے-
میں اس نوسٹالجیا سے نکنا چاہتی ہوں یاد ماضی عذاب ہے یا رب - یہ وقت خوش ہونے کا ہے-
 اب جن ممالک میں ہوں اگر تو عید ویک اینڈ پر ہے تو کیا کہنے ورنہ خصوصا چھٹی کا انتظام کرنا پڑتا ہے اسکولوں سے بچؤں کی اکثر چھٹی کرا دی جاتی ہے-لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اسطرح نئی نسل کو اپنے دین اور روایات سے جوڑا جاۓ- اسکے لئے عید کے اہتمام پر کافی توجہ دی جاتی ہے- بہت سے بچوں کو یہ شعور دلاتے ہیں کہ ہم کرسمس نہیں بلکہ عید مناتے ہیں اسلئے بچوں کو عید کے تحائف دئے جاتے ہیں بلکہ خاندان کے تمام لوگ ایک دوسرے کو تحائف دیتۓ ہیں، گھروں کو کرسمس کی بتیوں سے سجا دیتے ہیں اندرونی خانہ بھی غباروں اور جھنڈیوںسے آرائش کر دی جاتی ہے ٹورنٹو مین کافی سارے مقامی سٹورزنے عید مبارک اور رمضان سیل لگائی ہوئی ہے اسی کوٹارگٹ مارکیٹنگ کہتے ہیں- ہم بھی خوش وہ بہی خوش -مسیساگا میں یوں بہی محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے قریب پہنچ گئے ہیں- مساجد میں مستحقین کو عید کے تحائف دۓ جارہے ہیں اسکے لئے پہلے ہی سے فطرہ دینے کی اپیل کی جاتی ہے- فوڈبنک میں کافی خشک خوراک جمع ہوچکی ہے ، بچوں کے لئے کھلونے بھی جمع ہیں - ہم نے ان ممالک سے بہت سی اچھے طور طریقے بھی سیکھ لئے ہیں- عید کی نماز کے لئے  علی الصبح تیاری اور روانگی ہوتی ہے - اکثر مساجد دوبلکہ تین نمازیں ادا کرتے ہیں اسلامک سنٹر آف کینیڈا میں تین نمازیں ہونگی-  اسمیں جو چہل پہل ہوتی ہے ، سبحان اللہ
ان مساجد نے مسلمانوں کو جتنا متحرک کیا ہوا ہے کہ اللہ نظر بد سے بچاۓ -ذرا دیر قبل  نصف شب کا قیام ، سحر اور فجر کر کے آرہے ہیں-ماشاءاللہ!
عید کی تیاریاں یہاں بھی پورےزور شور سے ہوتی ہیں اب تو آن لائن پاکستان کے بوتیک سے آرڈر پر کپڑے منگوائے جاسکتے ہیں ،یہاں پر ہر دوسری تیسری خاتون کا یہی بزنس ہے  اور دیگر لوازمات بھی مل رہے ہوتے ہیں- اسکے علاوہ عید میلے بھی لگ جاتے ہیں جن میں خوب رونق ہوتی ہے-
اکثر لوگوں کے ہاں چاند رات کا خوب اہتمام ہوتا ہے بڑی بڑی پارٹیاں ہو جاتی ہیں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں اسمیں مدعو ہوتی ہیں مہندیاں سج رہی ہیں ، چوڑیاں پہنی جا رہٰی ہیں، ڈھولک کی تاپ، گیت گائے جا رہے ہیں کبھی گیت لگا کر کچھ پھیرے بھی لگا لئے جاتے ہیں آخر کو خوش ہونے کا بھی حق ہے اور جائزبھی ہے- یہاں عام طور پر عید میں لوگ اوپن ہاؤس کا اعلان کرکے احباب کو مدعو کرتے ہیں - یہ سلسلہ کافی دلچسپ ہوتا ہے کافی دوست احباب سے ملاقات ہو جاتی ہے لیکن صاحب خانہ کو کافی اہتمام کرنا پڑتاہے- اسکے لئے اوقات کا تعئین کردیا جاتا ہے- مساجد کی سطح پر بھی چاند رات اور عیدملن کی پارٹیاں ہوجاتی ہیں اور یہ پارٹیاں روزے داروں کے لئے جہاں ایک انعام ہوتی ہیں وہاں ان سے روزے نہ رکھنے والے بھی لظف اندوز ہوتے ہیں- اور کیوں نہ ہوں بقول کسے' ہم کم ازکم عید تو مناتے ہیں'-

اللہ تبارک و تعالیٰ اپکو شب قدر کی فضیلتوں ، سعادتوں اور برکات سے فیض یاب کرے
ہماری تمام عبادات اور محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے ہماری خطاؤں  کو بخش دے

آپ سب کو  عیدلفطر کی دلی مبارکباد ، اللہ کرے یہ آپ کیلئے اور اپکے تمام اہل خانہ کے لئے مسرتوں اور رحمتوں کا پیامبر ہو
عید مبارک
 اللھم تقبل منا و تقبل منکم کل عام و انتم بخیر

Tuesday, July 23, 2013

خوش رہو اہل چمن (وطن ) ہم تو سفر کرتے ہیں- رمضان المبارک کے رنگ ٹورنٹو کینیڈا میں

" خوش رہو اہل چمن (وطن ) ہم تو سفر کرتے ہیں-

 رمضان المبارک کے رنگ 

ٹورنٹو کینیڈا میں



عابدہ رحمانی

جب ہم نے اپنا رخت سفر باندھا تو لب پر یہ صدا تھی " خوش رہو اہل چمن (وطن ) ہم تو سفر کرتے ہیں---پیاروں نے کہا' گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے بھاگ رہی ہیں بلکہ بہتر اردو میں راہ فرار اختیا ر کر رہی ہیں؟"لوڈ شیڈنگ سے متعلق ایک شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے

---بجلی غائب رہے تو مر مر کے-زندگی یا حیات کٹتی ہے

دن گزرتا ہے سخت گرمی میں ، گھپ اندھیرے میں رات کٹتی ہے-




" نہیں بھئی ہم انمیں سے نہیں ہیں اور اب تو موسلا دھار بارشوں سے موسم اتنا پیارا ہوگیا ہے کیا کہنے! اور پھر یہ آموں کی لذ ت ، چونسہ ، انور راٹھول، لنگڑے، لیچی' آڑو ، خوبانی ، آلو بخارے کی بہار - جا من اور فالسے تو اس مرتبہ چکھے نہیں -جب کھانے کی چیزوں کا ذکر ہوتا ہےتو مجھے پُاکستانی پھل سب سے زیادہ یاد آتے ہیں اور اب تو ہمارے پاس بہترین سٹرابیری اور چیری بھی ہوتی ہے بس بلیو بیری اور رس بیری کی کمی ہے--ہاں یہ ضرور ہے کہ رمضان المبارک کی آمد اور برکت کی خوشی میںہمارے اسلامی مملکت میں قیمتوں میں دگنا،تگنا ا ضافہ ہو چکا تھا-- بہر کیف دانے دانے پر مہر ہے اور جہاں سے آب و دانہ اٹھ جائے تو کیا کیا جائے؟ - مختلف عوامل اور ضروریات ہوتی ہیں جسکے لئے سفر کو وسیلہ ظفر بھی کہا جاتا ہے-یوں اب تک اتنے سفر ہوچکے ہیں کہ ماہر سفر ہونے کی چھوٹی موٹی سند تو ضرور مل سکتی ہے -
 پاکستان میں ہمارا روزہ گیارہ جولائی سے شروع ہوا -جہاز میں میر ی ہمسفر اسپر بضد کہ وہ اپنا روزہ پورا کرینگی ، بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ اللہ کی دی ہوئی سہولیات سے فائدہ نہ ا ٹھانا حد درجہ ناشکری ہے اور یہ دن تو آپکے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا 24 گھنٹے کا روزہ کیسے رکھینگی ؟ بالاخر انہوں نے ہتھیار ڈال ہی دئے- ٹورنٹو میں اثناء
' ICNA , ISNA 
اور دوسری ہم خیال جماعتیں رمضان المبارک کیلنڈر کے حساب سے نو جولائی سے شروع کرچکے ہیں میرے خیال میں کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ گئے - ہلال کمیٹی ، عرب ممالک میں دس جولائی سے آغاز ہوا-
 یہاں پہنچے تو لبرل پارٹی کینیڈا کے امیدوار جنکے والد کینیڈا کے مشہور وزیراعظم گزر چکے ہیں جسٹن ٹروڈو مسجد میں مدعو تھے تمام مسلمانوں میں اسکے لئے ایک جوش و خروش تھا - ہر ایک اسکے ساتھ تصویر بنانے کا متمنی ، مختصر تقریر کرکے وہ خوب گھل مل گیا ہر طرح کے تصنع سے پاک -مسلمان اسے اپنا دوست اور خیرخواہ جانتے ہیں- کیا پاکستان میں بھی ہمارے رہنما کسی مسجد کا اس طرح سے دورہ کرتے ہیں؟



ہم اثناء کی انتہائی وسیع،شاندار اور خوبصورت باقاعدہ گنبد و مینار والی مسجد جو" اسلامک سنٹر آف کینیڈا" کہلاتی ہےاور مسی ساگا میں واقع ہے میں آدائیگی عشاء و تراویح کے لئےجاتے ہیں اور الحمد للہ ابھی تک باقاعدہ وہیں ادائیگی ہوتی تھی - لیکن آج اپنے پرانے الفلاح اسلامک سنٹراوکول میں افطار' کھانا' عشاء اور تراویح ادا کی- ایک توقف کے بعد اپنی پرانی دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں، کیا گرمجوشی، چاہتیں اور محبتیں ، سبحان اللہ! انمیں ہر رنگ و نسل کی خواتین ہیںلیکن ایک ہی رشتے نے ہمیں جوڑ رکھا ہے- ان مساجد میںبہترین حفاظ قاریوں کی تلاوت جو کانوں میں رس گھولتی اور دلوں میں ایمان کو تازہ کرتی ہے- وہ جو دوران تلاوت آیات وعید پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے ہیں، جہاں روزانہ بلا مبالغہ ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے وسیع و عریض مصلے اور جمنیزئم تک نمازیوں سے پر ہو جاتے ہیں اس ہجوم میں تیز چلتا ہوا ائر کنڈیشنراور پنکھے بھی نا کافی محسوس ہوتے ہیں (اسلئے کہ کہ آجکل کینیڈا مین موسم گرما ہے جسمیں قدرے حبس و گرمی ہے اور 32 سنٹی گریڈ میں بھی یخ بستہ ماحول کے عادی بلبلا اٹھتے ہیں اور پھر یہ سب ماحولیاتی تبدیلی اور اوزون کی تہ میں سوراخ کا کمال ہے ، ورنہ 35،30 سال پہلے یہاں کی عوام پنکھوں اور اے سی سے نابلد تھی)-ماشاءاللہ کیا روح پرور منظر ہوتا ہے اس خطہ زمین میںمسلمانوں کے اجتماعات کا سبحان اللہ !

مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفان مغرب نے--

ان مسلمانوں میں ان کی اکثرئیت ہے جو اپنے ممالک میں ازاد خیال اور ماڈرن مشہور تھے اور مساجد سے دور بھاگتے تھے-یہاں کی بیباکی اور بے راہ روی دیکھ کر ان مساجد میں ہی انکو سکون ملتا ہے-میرا ایک عمومی تجزیہ یہ ہے کہ اللہ یہاں کی قوم کو مشرف بہ اسلام کردے تو یہ اسلام کا سنہرا ترین دور ہوگا کیونکہ اسقدر قانون کے، وقت کے ، وعدے کے پابند ہیں ، ہاں اپنی ذات کے لحاظ سے ہرالہامی قاعدہ قانون سے ازاد ہیں-

پارکنگ لاٹ میں ہزارہا کارٰیں اور جب مسجد کی پارکنگ پر ہو جائے تو پھر پڑوسیوں سے مستعار لیا جاتاہے ماشاء اللہ ان ایمان والوں میں اکثرئیت انکی ہے جو اگلی صبح کاموں پر جاتے ہیں - پوری 20 تراویح کی ادائیگی ہوتے ہوتےاور گھر پہنچتے پھنچتے رات کا ایک بج جاتا ہے اور ساڑھے 3 بجے سحری کا وقت ہو چکتا ہے - اکثرئیت 8 رکعت کے بعد جاچکتی ہے-لیکن بعد میں بھی کافی رکے ہوتے ہیں -باہر لابی میں کیئ دکانیں سجی ہوئی -خواتین کے پردے کے لحاظ سے ،عبایا، قسم قسم کے حجاب،دیگر لوازمات، ٹوپیاں،دینی کتب، قرآن پاک ، سی ڈیز،کھجوریں، شہد، طغرے اور اسلامی تہزیب و اقدار سے ہم آہنگ دیگر سجاؤٹ کی آشیاءبرائے فروخت ہیں -مختلف لوگ اپنے کاروباروں کے پرچے تقسیم کر رہے ہیں وہ نوجواں نسل جو یہاں پل بڑھ کر جوان ہوئی اور جنکے ماں باپ نے مغرب کی بے راھ روی دیکھ کر مساجد میں پناہ کو غنیمت جانا- انکے اپس میں ملنے کے مواقع بھی مئیسر ہیں- ایک اسلامی ماحول اور ثقافت جس سے بیشتر ہمارے جیسے مسلمان ممالک سے آنے والے بھی ناآشنا ہوتے ہیں - کیونکہ ہمارے ہاں تو بیشتر مساجد میں خواتین کا داخلہ ہی ممنوع ہوتا ہے- پچھلے سال لاہور میں بیڈن روڈ پر مسجد شہداء میں جب نمازٰیں قضاء ہورہی تھیں تو بھائی کے ہمراہ گیئ اسکا خیال تھا کہ یہاں خواتین کے لئے کمرہ ہے وضو خانے کی طرف جاتے ہوۓ ایک محترم راستہ روک کر کھڑے ہوۓ " بی بی یہ مردوں کا وضو خانہ ہے"" اور خواتین کا؟' وہ اوپر کمرہ ہے " اوپر کمرے مین گئ تو یوں لگا جیسے مدتوں سے اس کمرے میں کوئی داخل ہی نہیں ہوا ایک دو دروازوں کو دیکھا تو تالے پڑے تھے - تئیمم کرکے قصر ادا کئے-اب تو الحمدللہ موٹر وے پر مصلے اور خواتین کے وضو خانوں کا رواج ہو گیا ہے-- ان ممالک میں ہر مسجد میں خواتین کے لئے بہترین بیت الخلاء اور وضو خانوں کا اہتمام ہوتا ہے-

افطار کے لئے جمعہ، ہفتہ ، اتوار کمیونٹی افطار کا اہتمام ہے جسمیں ایک بڑی تعداد شرکت کرتی ہے- کھجور اور پانی کے افطار اور نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد کھانے کا سلسلہ ہوتا ہے جو عام طور پر لنچ باکس کی صورت میں ہوتا ہے-ان سات روزوں مین ہم نے ایک افطار گھر پر کیا ہے ورنہ کسی نہ کسی تنظیم کی طرف سے اہتمام ہوتا ہے-مرسی مشن مدینہ کینیڈا جو نو مسلموں کو کافی تقوئیتاور امداد فراہم کر رہی ہے انکے جانب سے ایک پر تکلف پوٹ لک افطار کا اہتمام تھا--نو مسلموں اور جوانوں کی گرمجوشی قابل دیدنی تھی--یٰہاں کی عمومی زبان انگریزی ہے اس لئے جو عالم یہاں کے لہجے میں انگریزی بولتا ہے اور یہیں کا پلا بڑھا یا پڑھا لکھا ہو تو نوجوانون اور دیگر زبان بولنے والوں میں کافی مقبول ہے--اردو کا تعلق صرف اردو دانوں تک رہ جاتاہے- اس بڑھتے ہوئے مزہبی جوش و خروش سے حکومت کینیڈا ہر گز غافل نہیں ہے اور ہر مسجد میں مانیٹرنگ کے آلات لگائے گئے ہیں بلکہ مختلف سراغ رسان، جاسوس بھی چھوڑ رکھے ہیں---




-ٹورنٹو اور اسکے گرد و نواح میں لگ بھگ دو سو مساجد ہیں ، ایک اندازے کے مطابق جنوبی اونٹاریو میں لگ بھگ چھ لاکھ مسلمان ہیں جنمیں سے اکثرئت ٹورنٹو اور گرد و نواح میں آباد ہیں-یہاں کی چند دیگر بڑی مساجد جنمیں میں جا چکی ہوں الفلاح اسلامک سنٹر اوک ویل' ھملٹن اسلامک سنٹر، اناتولیہ اسلامک سنٹر، فاؤنڈیشن مسجد آف کینیڈا سکار بورو جو نگٹ مسجد کے نام سے معروف ہے ، الھدئ اسلامک سنٹر، جامعہ اسلامیہ، دعوہ سنٹر ، جامعی سنٹر، نیو مارکیٹ کی مسجد،ہالٹن اسلامک سنٹر، مسجد رحمت اللعالمین، نور الحرم مسجد ، مسجد الفاروق، ابوبکر مسجد ، ملٹن اسلامک سنٹراور بے شماردیگرچھوٹے بڑے مصلے ہیں جو مختلف عمارتوں میں قائم ہیں-سب سے بڑی خوبی ان تمام مساجد کی یہ ہے کہ خواتین کے لئے برابر کے مواقع میئسر ہیںاور وہ برابر کی تعداد میں آتی ہیں اس وجہ سے بر صغیر کی وہ تمام خواتین جو مساجد اور انکے اداب سے نابلد ہوتی ہیں وہ ان مساجد میں جاکر دین سے کافی قریب آ جاتی ہیںاور دین کو صحیح طور پر سمجھنے لگتی ہیں -علاوہ ازیں پورے خاندان کے لئے باہمی میل جول کا ایک بہترین موقع میسر آتا ہے- چھوٹے بچوں کو بھاگ دوڑ کے ایک وسیع جگہ جب کہ نوجوانوں کو آپس میں گپ شپ کے لئے ایک عمدہ پلیٹ فارم مل جاتا ہے-یہاں پر اکثر رشتے بھی جڑجاتے ہیں- ان تمام مساجد اور اداروں کی رشتے طے کرنے کی سہولیات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر باہمی مختصر ملاقات کے مواقع فاہم کئے جاتے ہیں - بہت سارے بچے اور نوجوان مسجد کے رضاکارانہ کاموں میں بڑھ چڑھ کر دلچسپی سے حصہ لیتے ہیں- مساجد بھی انکی حوصلہ افزائی کرتی ہیں
آخری عشرے میں ان مساجد میں معتکف افراد کے لئے پورا ایک کیمپ لگا دیا جاتا ہے - کافی معقول قسم کے انتظامات ہوتے ہیں- اسلامک سینٹر آف کینیڈا میں اخراجات کا تخمینہ کرکے سحر و افطار کا عمدہ انتظام کر دیا جاتا ہے- جسکی معتکف افراد ادائیگی کر دیتے ہیں-



رمضان میں ہی کافی فلاحی ادارے اپنے چندے کی مانگ کی مہم چلاتی ہیں انکو فنڈ ریزنگ ڈنرز
Fund raising dinners کہا جاتا ہے انمیں ٹکٹ کے علاوہ شرکاء کو انفاق فی سبیل اللہ پر اکسایا جاتا ہے اکثر لوگ کافی بڑی رقوم ہدیہ کر دیتے ہیں اسکے کافی ماہر قسم کے مقرر ہیں ایک مقبول ماہر برادر احمد شہاب ہیں جو عربی نژاد ہیں اور قرآن ، احادیث اور سیرہ کے لحاظ سے انگریزی میں کافی بااثر تقریر کرتے ہیں - شرکاء بہت کچھ ہدہیہ کرنے پر امادہ ہوجاتے ہیں ہزاروں ڈالر کے عطیات کا اعلان ہوتا ہے- اس ضمن میں اکنا ریلیف کینیڈا اور اسلامک ریلیف کا دعوت نامہ آچکا ہے- اسکے علاوہ مساجد اپنی چندے کی مہم عموما ختم قرآن والی رات کو کرتی ہیں -- یہ طریقہ مجھے سب سے اچھا لگا کہ آڈیٹر ان تمام امدنیوں کی آڈٹ کرتے ہیں اور اکثر بد عنوانیا ں بھی سامنے آتی ہیں- بہر حال یہ ایک الگ موضوع ہے --اسوقت ہم ماہ رمضان کی برکات سے مستفید ہورہے ہیں اور ہونا چاہتے ہیں--



کل عام و انتم بخیر، آپ سب کو ایک مرتبہ پھر ٹورنٹو سے ماہ رمضان مبارک!