Thursday, October 31, 2019

ازبکستان میں چند روز



ازبکستان میں چند روز
از
عابدہ رحمانی

ہوش سنبھالتے ہی تاشقند، سمر قند ، بخارا ، ماورالنھر اور تیمور لنگ کے قصے سن رکھے تھے جسکی نسل سے ظہیر الدین بابر جب ہندوستان کی جانب روانہ ہوا تو ابرا ہیم لودھی کو شکست فاش دیکر وہیں کا ہو رہا اور ہندوستان پر مغلیہ سلطنت کا ایک طویل اور شاندار دور گزرا، جو تقریبا دو صدیوں پر محیط تھا ۔أخری حکمران بہادر شاہ ظفر انگریزوں کے دور میں معزول کر دیا گیاتھا۔
ازبکستان میں تیمور لنگ ،' امیر تیمور' انکا ہیرو انکا فاتح حکمران ہے جسکی سلطنت ماورالنھر موجودہ ازبکستان سے لے کر مغرب میں افغانستان ، ایران اور ترکی  بلکہ ہندوستان کے مغربی علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی  
  اور مشرق میں وسط ایشیا ،منگولیا اور چین تک جا پہنچی  اسکی نسل کی حکمرانی وسط ایشیا پر تقریباً دو صدیوں پر  قائم رہی ۔ اسکا پوتا مرزااو لوگ بیگ حکمران ہونے کے ساتھ اپنے وقت کا ایک مشہور سائنسدان اور ماہر فلکیات تھا جسنے ایک فلکیاتی رصد گاہ اور لیبارٹری بنائی تھی ۔ آپس کی عداوتوں اور جنگوں میں اسکی رصدگاہ تباہ ہوگئی تھی ماہرین آثار قدیمہ کو اسکے کچھ أثار ملے ہیں جو محفوظ ہیں اور جنکی ہم نے تصاویر بنائیں ۔
ظہیر الدین بابر کا ذکر ہماری گائیڈنےسر سری سے انداز میں کیا اور یہ بتایا کہ اسکے پوتے شاہ جہاں نے تاج محل بنایا جو کہ آج بھی سیاحوں میں بے حد مشہور ہے اور یونیسکو اسکی دیکھ بھال کا ضامن ہے ۔ وجہ اسکی یہ ہے کہ بابر انکی سرزمین سے ہجرت کرکے ہندوستان آیا اور یہیں کا ہورہا۔
جب پاکستان ٹریول فورم (جنکی واٹس ایپ گروپ کی میں پچھلے کچھ عرصے سے ممبر تھی ) نے ازبکستان کے تفریحی دورے کا اعلان کیا تو اسی زمانے میں ، میں پاکستان آنے کا سوچ رہی تھی اور مجھے اس دورے میں شامل ہونے کا بہترین موقع میسر آرہا تھا۔تو میں نے اس دورے میں شامل ہونے کی حامی بھری ۔ تاشقند،سمرقند و بخارا ایک زمانے میں علم و فضل کی آماجگا ہیں تھیں۔ انکے درسگاہوں کی حیثیت اسوقت وہی تھی جو آجکل ہارورڈ، ییل Yale، سٹینفورڈاور آکسفورڈ کی ہے ۔ دنیا بھر سے اور اسلامی دنیا سے طالبعلم یہاں کے دانشگاہوں کے علوم سے فیض یاب ہونے کیلئے کشاں کشا ں چلے آتے ۔
اب بھی یہاں ابتدائی تعلیم ۹۹% ہے لوگوں کا مزاج انتہائی مہذب اور دوستانہ ہے
لاہور سے ہماری پرواز سوا دو گھنٹے میں تاشقند پہنچی ، ایک ہی وقت اور موسم بھی یکساں ملا بعد میں ہمارے دورے کے نگران میجر طارق حیات نے بتایا کہ اسلام آباد سے بذریعہ سڑک افغانستان کے راستے یہاں کا فاصلہ 650 کلو میٹر ہے۔
ہمارا پچاس افراد کا گروپ تاشقند ائر پورٹ سے امیگریشن کے مراحل طے کرکے تصویر کشی کرتے ہوئے بس میں بیٹھ کر ائر پورٹ روانہ ہوا ۔ اطراف میں ایک صاف ،ستھرے منظم شہر میں ٹریفک رواں دواں تھا ۔ میری تقریباً رات جاگتے ہوئے گزری تھی اسلئے کہ رات سوابارہ بجے ہم اسلام آباد سے ایک وین میں روانہ ہوئے تھے پھر ساڑھے پانچ بجے لاہور ائر پورٹ پہنچے اور تمام مراحل سے گزرتے ہوئےاب تاشقند میں ہوٹل کی جانب روانہ تھے ۔ ہماری یہ بس یا کوچ بھی بین الاقوامی سطح کی تھی جسمیں آجکل عموما سیاح سفر کرتے ہیں ۔یہاں ہماری گائیڈ نائلہ ایک خوش شکل سمارٹ ازبک لڑکی تھی اسنےانگریزی میں  ہمیں خوش آمدید کہہ کر ازبکستان اور تاشقند کے متعلق بتانا شروع کیا ۔
ازبکستان  کی زبان از بکی کا رسم الخط Latin یعنی لاطینی ہے دوسری زبان یہاں روسی  Russian ہے ۔ انگریزی ،شعبہ تعلقات عامہ کے لوگ خاص طور سے سیکھتے ہیں ۔ جنمیں میں سیاحت کے گائیڈ ، ہوٹل کا عملہ اور دیگر شامل ہیں ورنہ عام بول چال میں انگریزی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اسلئے عام بول چال میں اشاروں کی زبان کا عمل دخل رہا۔
میجر طارق صاحب اور انکے ایک ساتھی طارق خواجہ روسی  اور کچھ از بکی بولتے اور سمجھتے تھے ۔ 
روسی قبضے سے پہلے انکا رسم الخط عربی تھا اب بھی بہت سے الفاظ اردو،عربی اور فارسی سے ملتے جلتے ہیں بلکہ ایک اندازے کے مطابق اردو اور ازبک میں چار سو الفاظ ملتے ہیں ۔ اتنے دنوں میں یہ اندازہ ہوا کہ جہاں ہم الف بولتے ہیں وہ اسکو و بولتے ہیں جیسے چار کو چور ، افراسیاب کو افروسیوب،بخارا کو بخارو ،جومعہ مسجد جامعہ مسجد،اور اسی طرح بہت سے اور۔
یہاں کی کرنسی سوم کہلاتی ہے ہوٹل میں کرنسی بدلنے کا بوتھ تھا، جہاں ہم لائنوں میں لگ گئے ایک سو ڈالر کےتقریبا نو لاکھ انتالیس  ہزار سوم کے نوٹ ملے ۔پل بھر میں لکھ پتی تو ہوگئے لیکن قیمتیں ہزاروں لاکھوں میں سنکر ہوش اڑ جاتے ہوٹل کے کمرے  میں پینے کا پانی ختم ہوا تو ساتھی نے استقبالیہ پر فون کیا اسنے ایک بوتل کی قیمت دس ہزار سوم بتائی تو سوچا پیاسا رہنا ہی بہتر ہے ۔ کچھ غور کیا تو اندازہ ہوا کہ دس ہزار سوم ایک ڈالر کے برابر ہیں اور پھر اسی طرح حساب کتاب چلتا رہا ۔ان لاکھوں کو خرچ کرنے کے چکر میں جب سب کا صفایا ہوا تو سوچا کاش کہ ایک نوٹ سویئنئر کے طور پر بچا لیا جاتا۔۔
ساڑھے تین بجے ہمیں تاشقند کی سیر کیلئے روانہ ہونا تھا ، تیار ہوکر نیچے آئے ، بس میں ہمیں پانی کی بوتلیں ملیں  میجرطارق کے ساتھ انکی بیگم بھی تھیں ان سے اور دیگر ہمراہیوں سے اب کافی تعلق قائم ہو چلا تھا ۔ ہمارے اس گروپ میں چند نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی اپنے والدین کے ہمراہ تھے پاکستان کے مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے معزز افراد،خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ تھی ۔ ہماری گائیڈ ہمیں مختلف عمارات اور انکے پس منظر کی تفصیلات بتاتی رہی۔ تاشقند سینٹرل پارک پر ہم اترے وسیع و عریض ، صاف ستھرا رنگ اور اشکال بدلتے ہوئے دلکش فوارے، نیچے کی طرف سیڑھیاں  اتر رہی تھیں جہاں ایک خوشنما نہر اور اسکے کنارے مختلف جھولے تھے جیسے کہ یہ ایک تفریحی پارک ہو لیکن اسوقت یہ جھولے خاموش تھی ۔رنگوں اور روشنیوں کی بہار ہمارے ہر جانب تھی ۔ روشنیوں میں رنگوں اور ڈیزائینوں کا استعمال یہاں کا خاصہ ہے تقریبا تمام سڑکیں اسی طرح کی آرائشی رنگین روشنیوں سے بنے ہوئے دیدہ زیب ڈیزائن اور پھول پتوں سے  مزئین ہیں۔ دور سے ہمیں ایک ٹاور نظر آیا جو روشنیوں سے جھلملا رہاتھا ۔ نایئلہ نے بتایا کی یہ یہاں کا ایفل ٹاور ہے یعنی ٹی وی ٹاور جسے دیکھنے ہمیں کل جاناتھا۔( ایفل ٹاور غالبا دنیا کا پہلا اونچا ٹاور تھا ۔ اتنے سارے ٹاؤر دیکھنے کے بعد مجھے وہ محض لوہے کا ایک ڈھیر لگا تھا)
یہاں سے ہمشر شرہ“  ریسٹورنٹ میں کھانے کیلئے گئے ۔ وسیع و عریض ریسٹورنٹ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا  بلند موسیقی کے ساتھ بیچ میں  ڈانس جاری تھا اسمیں مختلف خواتین و حضرات اپنی اپنی میزوں سے اٹھ کر ہل جل رہے تھے ۔
ہماری تواضع سلاد ، ازبک نان اور سوپ سے کی گئی اسکے بعد ہمیں دنبے کے گوشت کے سیخ کے تکے وغیرہ  دئے گئے بھوک بہت لگی تھی اور کھانا اچھا لگا ۔ میٹھے میں آئس کریم ملی۔ اب ڈانس میں کافی زور آگیا اورمختلف ملبوسات میں ڈانس  کے مظاہرے کے بعد بیلی ڈانس کی باری آئی ، یہ نیم سے زیادہ عریانی اور بے حیائی میرے لئے اور چند دوسری خواتین کے لئے ناقابل برداشت تھی ۔ نوخیز لڑکیاں جس طرح سے اپنے پوشیدہ اعضاء کی نمائش کر رہی تھیں ۔شرم، دکھ ، صدمہ اور افسوس ۔ غالبا مسلمان لڑکیاں ہونگی کیونکہ یہاں ۹۰ فیصد مسلمان بستے ہیں ۔۔
ہوٹل واپس ہوئے ، یہ میران انٹرنیشنل پنج ستارہ ہوٹل ، کھلا کمرہ عمدہ سہولیات۔ نمازیں ادا کیں اور سونے کی تیاری کی اگلی صبح دس بجے نکلنا تھا۔
فجر کے بعد قدرے آرام کیا تو سات بجے سوچاکہ  ڈائیننگ ہال میں ناشتے کے لئے جایا جائے ۔ ناشتے میں کافی لوازمات تھے ۔
آج ہم تاشقند کی تفصیلی سیر کے لئے جارہے تھے ۔ ہر جانب سیاحوں سے بھری ہوئی بسیں دیکھ کر اندازہ ہو رہاتھا کہ سیاحت یہاں زوروں پر ہے۔
پہلے ہم تاشقند میں زلزلے کی یادگار پر گئے۔ ۱۹۶۶ میں تاشقند میں ایک زبردست زلزلہ آیا جس سے شہر کی بیشتر عمارتیں تباہ ہوگئیں اموات اگرچہ زیادہ نہیں ہوئیں لیکن کافی لوگ زخمی ہوئے۔اس تباہی کی یادگار ایک مرد، عورت اور بچے کا مجسمہ بناکر دکھایا گیا ہے ۔ جو مضبوطی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسکے اطراف میں ایک خوبصورت باغ ہے ۔
ہست امام مسجد  ایک وسیع اسلامی کمپلیکس ہے اسمیں قرآن کریم کا وہ اولیں نادر نسخہ ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مرتب کیا تھا عثمان رض کا قرآن پاک کو محفوظ کرنیکا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے (اور اسے اللہ تعالٰی کے وعدے کے مطابق محفوظ کیا گیا ) اس نادر  نسخے کو امیر تیمور بغداد سے اپنے ساتھ لایا اور یہاں محفوظ کیا ،چمڑے کی جھلی پر انتہائی صاف خط کوفی کی عبارت کے صفحات کھلے تھے اندازأ ۲فٹ چوڑے اور چار فٹ لمبے صفحات تھے۔  اس نایاب نسخے کی زیارت کیلئے سیاحوں کا ایک ہجوم تھا ۔ تصویر کی اجازت نہیں تھی ِ میں نے اطراف کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود گارڈ نے مجھے منع کیا ۔ اسکے ساتھ دیگر قدیم نسخے اور کتا بیں تھیں ، مسجد میں ایک جانب امام بخاری انسٹیٹوٹ تھا جہاں دینی تعلیم حاصل کی جاتی ہے اسمیں  ایک بہت بڑی لائبریری بھی ہے جو اسوقت بند تھی۔دوسری جانب ایک کشادہ چوکور بازار تھا ، نائیلہ نے بتایا کہ یہ ایک مدرسہ تھا جو بند کر دیا گیا ہے ۔ یہاں پر مقامی مصنوعات کی کافی دکانیں تھیں ۔ ہم خریداری میں لگ گئے ، ازبک اِکت ڈیزائن مجھے بہت بھایا اور میں نے اسکی ایک جیکٹ خریدی جو دس ڈالر کی تھی اور تمام دورے میں میرا نشان اور لیبل بن گئی ۔ اس ڈیزائن کی میں نے مذید اشیاء خریدیں ۔اس پورے کمپلیکس کی تعمیر بے حد شاندار ہے ۔ ہمیں صاف ستھرے وضو خانے بھی مل گئے جنکو طہارتخانہ کہا جاتا ہے ۔ پاکستان میں بھی اس اصطلاح کو رائج کرنا چاہیے۔( اس سے بیت الخلاء اور وضو خانے دونوں کا مقصد پورا ہوتا ہے اور اسلامی لحاظ سے درست ہے ۔ غسل خانے یا واش روم سے وہ مقصد پورا نہیں ہوتا ) مساجد میں خواتین کی نماز کا اہتمام بھی ہے، یہاں ہم نے ظہر اور عصر کی قصر نماز اداکی۔۔ہست اما م کے مزار پر فاتحہ خوانی کی۔
پھر ہمجوزف سٹالنکا عقوبتی میموریل دیکھنے گئے اس روسی ڈکٹیٹر نے ازبک عوام پر بے انتہا تشددکیا ، قتل و غارتگری کی ایک داستان رقم کی ۔ 
اسکے سامنے ہی یہاں کا ٹی وی ٹاؤر تھا جہاں داخلے کے لئے سخت سیکورٹی کے پیش نظر ہمارے  پاسپورٹ اور ویزے جمع کئے گئے پھر یکے بعد دیگرے ہم داخل ہوئے اس ٹاؤر کی اندرونی آرائش اور راہداری کے اطراف کی تصاویر انتہائی اعلٰی اور بین الاقوامی پیمانے کی ہیں۔ کنارے پر دنیا کے تمام مثہور بلند ٹاؤروں کے ماڈل بمع تمام تفصیلات کے بنائے گئے ہیں۔ اسکے بعد ہم بذریعہ لفٹ ٹاور کی چھٹی منزل پر گئے جہاں سے تاشقند شہر کا نظارہ دیدہ زیب تھا ۔ ساتویں منزل پر revolving گھومنے والا ریسٹورنٹ تھا ۔ یہاں ہم نے ایک بریڈ باسکٹ کے ساتھ سبز چائے پی اور اسکے رفتہ رفتہ گھومنے سے لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ اچانک احساس ہوا کہ باقی ساتھی سب جاچکے ہیں تو بھاگم بھاگ کر بس میں آئے ۔وہاں سے ایک جگمگاتے ہوئے بازار میں داخل ہوئے جسکو براڈوے سٹریٹ کہتے ہیں اس کے دونوں جانب مختلف مصور بیٹھے اپنے فن پارے بیچ رہے تھے ہمارے کئی ساتھی وقت ضائع کئے بغیر اپنی پورٹریٹ بنانے بیٹھ گئے، شاندار پورٹریٹ بناکر فریم بھی کروالئے۔
 آج ایک اور ریسٹورنٹ میں  رات کا کھانا اور تقریبا اسی قسم کے ناچ کا مظاہرہ تھا ۔ اسمیں ہمارے گروپ کے چند شوقین بھی شامل ہوئے۔
اگلی صبح ہم نو، سوا نو بجے نکلے، چمگان پہاڑوں کے جانب روانگی تھی ، یہ یہاں سےتقریبا  سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھے ۔ہماری گائیڈ  اس دورے میں نرگس تھی جو اپنے دھیمے دلکش لہجے میں ازبکستان کے خوب قصے کہانیاں سناتی رہی ، اس سے معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت اور دودھ یہاں کافی لذیذ سمجھا جاتاہے ۔ خواہش تو ہوئی کہ چکھنا چاہئے ساتھ ہی اسنے بتایا کہ مختلف بیماریوں میں گدھے کا دودھ بھی پلایا جاتا ہے اور گدھے کا گوشت بھی کھا یا جاتا ہے اسنے اپنے بچپن میں گدھے کا دودھ کافی پیا تھا اور گوشت بھی کھا یا تھا ۔ اسی بناء پر اسکا شوہر اسکو اکثر کہتا ہے کہ اسی لئے اسکی عادتیں گدھے سے ملتی ہیں ۔(یہ لوگ سنی مسلمان ہیں لیکن ان جانوروں کا دودھ اور گوشت کھانا جائز سمجھتے ہیں ) ایک اور حیرت انگیز بات اسنے انار کے متعلق بتائی ، انار کی انکے ہاں بہت اہمیت ہے اور اسے پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے ۔ اسنے بتایا کہ بادشاہوں کے تاج کا ڈیزائن انار کے تاج سے لیا گیا ہے ۔ہم سب اسوقت لاجواب تھے جب اسنے انار کے اندر دانوں کا حساب پوچھااور پھر بتایا کہ ہر انار میں ۳۶۵ دانے ہوتے ہیں ۔ اسکو کبھی گننا چاہئے لیکن مجھے تو انار کے مختلف سائز کے حساب سے یہ بات محض گپ لگی،کیونکہ قندھاری انار تقریبأ آدھے کلو کے لگ بھگ، ہزاروں کے حساب سے دانے ہوتے ہونگے۔۔بہت سی قدیم عمارات میں انار کا ڈیزائن بنایا گیا ہے،مختلف کڑھائیوں میں انار نمایاں ہے۔راستے کو دلچسپ اور پر لطف بنانے کیلئے ایک محترم ساتھی جنرل ایاز صاحب نے دلچسپ لطایف سنائے۔
نصف رستے میں ایک سرائے قسم کے خوبصورت مقام پر رکے ،یہاں بیت الخلاء استعمال کئے اور سبز چائے پی یہاں پر کئی سو سالہ قدیم عظیم الشان چنار کے درخت تھے ۔
 پہاڑی راستہ شروع ہوا ہی تھا کہ پولیس نے روک دیا ۔ انکا موقف یہ تھا کہ چند روز پہلے ایک بڑی بس پہاڑ سے لڑھک گئی تھی جس میں چند جانوں کا نقصان ہوا تھااور کافی لوگ زخمی ہوگئے تھے ۔ پہلے تو ہمیں معلوم ہوا کہ اب دو کوسٹر کا بندوبست کرنا پڑیگا جو اتنی جلدی ناممکن تھا ۔ بعد میں کیا مک مکا ہواکہ ہم روانہ ہو گئے۔کھلا راستہ تھا اور زیادہ دشوار گزار بھی نہ تھا ۔ قدرے خشک سا پہاڑ تھا ۔ نرگس نے بتایا کہ یہاں کی گرمیوں میں درجہ حرارت۵۰ ڈگری سنٹی گریڈ ہوجاتا ہے جبکہ سردیاں بھی کافی ٹھنڈی ہوتی ہیں اور منفی دس ڈگری تک درجہ حرارت ہوجاتا ہے ( دلچسپ امر یہ کہ اگلی ایک گائیڈ نے ۶۰ ڈگری اور دوسری نے ۷۰ ڈگری بتا یا جوکہ ناقابل یقین تھا ) ۔ سامنے چیئر لفٹ آجارہی تھیں اسکے ذریعے ہمیں پہاڑ کی دوسری چوٹی پر پہنچنا تھا تمام لوگ جیکٹوں اور سویٹروں میں ملبوس دکھائی دے رہے تھے اسی کے پیش نظر میں نے بھی اپنی جیکٹ چڑھا لی۔
روسیوں کے زمانے کی یہ چیئر لفٹ ابتدائی لیکن مضبوط دکھائی دۓ۔ میں اپنی کرسی پر تنہاتھی باقی سب دو افراد تھے۔ مجھے چیئر لفٹ اور کیبل کار کا ہمیشہ سے شوق رہاہے اسلئے کافی لطف آرہاتھا ۔ چڑھائی ، اترائی کا مر حلہ قدرے پریشان کن ہوتا ہے ۔ فوٹو گرافر جا بجا تصاویر بنارہے تھے ۔ اگلی چوٹی پر ایک راستہ تھوڑی دور تک جار ہاتھا لیکن آگے سے بند تھا اور جنگلے پر دنیا بھر کے تاگے ، کترنیں بندھی ہوئی تھیں ایسا لگ رہا تھا کوئی منت مراد والی جگہ ہے ۔ نرگس نیچے رہ گئ تھی ورنہ اس سے پوچھتے ۔ سب اپنی اور دوسروں کی تصاویر اتارتے رہے اور واپسی کاسفر شروع ہوا ۔ فوٹو گرافروں نے تصاویر دکھائیں اور فی تصویر پانچ ہزار سوم طلب کئے ، حساب لگایا تو ۵۰ سینٹ میں برا سودا نہیں تھا جبکہ عام طور سے ہم سے پندرہ ، بیس ڈالر طلب کئے جاتے ہیں جسےخوش اسلوبی سے ٹا ل دیا جاتا ہے ۔ دو تصاویر کے دس ہزار سوم  ادا کئے ۔ اچھی یادگار تصاویر ہیں اور آجکل تو عام طور سے پرنٹ بنتے بھی نہیں ہیں ۔۔
نیچے ایک مقامی بازار تھا اور موبائل دوسیٹر گاڑیاں چکر لگانے کے لئے کرائے پر دستیاب تھیں ۔ چند ساتھی اس سے لطف اندوز ہوئے ۔ جڑی بوٹیوں کے اس بازار میں ہمارے علاقوں سے ملتی جلتی جڑی بوٹیاں ۔ مونگ پھلی اور تل کی پٹیاں ، بھنے ہوئے کدو اور سورج مکھی کے بیج ۔۔
یہاں سے واپسی پر ہم ایک عمدہ ریسٹ ہاؤس میں رکےچارباغ آرام گاہاور اسکے کنارے ایک بڑی جھیل تھی ۔ خوبصورت صاف ستھری جگہ تھی ، بیچ میں بچوں کا پارک تھا ۔ غسلخانے سے ہوتی ہوئی گھومتے ہوئے جھیل تک پہنچی تو واپسی کا وقت ہو چلاتھا ۔جھیل کے  کنارے ایک اچھا ساحل beach تھا اور کچھ کشتیاں بھی نظر آئیں ۔
ہم لوگ لنچ نہیں کرتے تھے جسکے پاس جو کچھ ہوتا سب میں تقسیم ہوجاتا ۔ میرے پاس کچھ میوہ تھا ، طارق صاحب خلیفہ کی نان خطائیاں (لاہور سے) ہم سب میں تقسیم کرتے ۔
واپس آئے تو تقریبا شام ہوچلی تھی ۔ ریسٹورنٹ میں پاکستانی کھانے کا اہتمام تھا کافی لطف آیا لیکن مزہ تب آیا جب طارق صاحب نے فوری طور پر ایک میٹھا بنوا دیا ۔ اصولأ اسکو ٹھنڈا ہونا چاہئے تھا لیکن گرم گرم بھی مزہ دے گیا ۔ پاکستانیوں کا بغیر میٹھے کے گزارہ نہیں ۔۔
اگلی صبح ہمیں ساڑھے چھ بجے ہمیں تیار ہوکر تاشقند ریلوے سٹیشن پہنچنا تھا جہاں سے ہمافراسیابٹرین سے جسکو مقامی زبان میں افروسیوب کہتے ہیں اور یہاں پر بلٹ ٹرین کہلاتی ہے  ثمر قند جانا تھا۔  
ہمارے منہ میں تو اس تاشقند ، سمر قند کے نام سے  قند شکر کاذائقہ آتا ہے جبکہ 
گائیڈ کے مطابق اسکے معنی ہیںپتھروں کا شہر

اس سے پہلے اسکا نام افراسیاب تھا کیونکہ افراسیاب بادشاہ کی مملکت تھی۔
حافظ شیرازی کا ایک شعر ذہن میں اٹک گیا تھا۔بعد میں گوگل نے مددکی ۔
اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل ما را.
......بخال ہندوش بخشم سمر قند و بخارا را….. حافظ شیرازی
دو راتوں کے لئے مختصر سامان لے کر باقی ہوٹل میں رکھوادیا
تاشقند ٹرین سٹیشن پہنچے ،عمدہ تعمیر اور نشستیں تھیں جب ٹکٹ تقسیم ہوئے تو مجھے اکیلے ایک اور ڈبے کا ٹکٹ ملا ۔میرے لئے اسمیں چنداں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔میرے ساتھ والی نشست پر ایک ازبک وکیل لڑکا تھا،غنیمت تھا کہ اسے قدرے انگریزی آتی تھی تو اس سے گپ شپ ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ کپاس یہاں کی اہم اور زر مبادلہ والی پیداوار ہے۔ ٹرین ٓرام دہ اور تیز رفتار تھی ٹرین کی جانب سے ہمیں چائے اور مختصر ناشتہ دیا گیا۔
سمر قند پہنچنے پر اتر کر ساتھیوں سے یکجا ہوئی ، بہت سوں نے پریشانی ظاہر کی کہ میں کہاں غائب تھی ؟ اب ہمیں ایک اور بس اور گائیڈ ملی جسکا نام فرنگی تھا کہانیاں سنانے میں وہ نرگس سے بھی بڑھ کر تھی ،اب ہماری دو ساتھیوں کا کچھ سراغ نہیں مل رہا تھاانکو تلاش کرتے ہوئے تقریبا ۲۰۔۲۵ منٹ ضائع ہوئے ، یہ بس قدرے چھوٹی تھی اسلئے ساتھ میں ایک وین کا بندوبست ہوا۔یہاں سے ہم مشہور محدث امام بخاری ؒ کے مزار پر گئے ، فن تعمیر کا شاہکار یہ  عمارت امام بخاریؒ کے مدفن کے علاوہ ایک بڑا مدرسہ اور مسجد ہے ساتھ والے برآمدوں میں حفاظ کے   دو گروہوں میں تلاوت کا مقابلہ چل رہاتھا۔امام بخاریؒ کی عرق ریزی سے جمع کی ہوئی احادیث صحیح بخاری  ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ان احادیث کی روشنی میں قرآن پاک کے احکامات کی بہترین تشریح ہوجاتی ہے۔آپکا نام محمد بن اسماعیل بخاری تھا ، بخارا میں پیدا ہوئے احادیث کی تگ و دو میں اسلامی دنیا میں دور دراز کے سفر کئے آخری عمر میں واپس آئے اور سمر قند میں وفات ہوئی آپکے مقبرے کی عمارت اور پورے کمپلیکس کی تعمیر اسلامی فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے۔
شاہ زندہ یا قاسم ابن عباسؓ کا روضہ مبارک
قاسم کو مقامی زبان میں قسوم کہتے ہیں  آپ رسول پاک کے چچا زاد بھائی تھے جو عمر میں کافی چھوٹے تھے رسول اللہ سے انکی کافی مشابہت تھی ایک حدیت کے مطابق آپﷺ نے فرمایاقاسم تم سب سے زیادہ کردار اوشکل میں مجھ سے مشابہت رکھتا ہےمختلف روایات کے مطابق انکی قبر محض علاماتی ہے ۔ وہ کہیں زندہ غائب ہو گئے تھے یا شہید کر دئے گئے تھے۔ہم نے فاتحہ پڑھی اور تصاویر لیتے ہوئے نیچے آئے کیونکہ مزار کافی بلندی پر ہے۔ نیچے ایک جانب ایک چشمے کے اوپر چوبارہ تھا اس چشمے کا پانی پینے سے ہم ۲۵ سالہ جوان ہوتے پانی تو ہم نے ضرور پیا میٹھا ٹھنڈا پانی،لیکن کوئی فرق نہیں پڑا البتہ مذاق خوب چلتا رہا کہ کوئی پہچانا ہی نہیں جارہا ہے !ازبکستان میں جس بات نے مذید متأثر کیا وہ یہاں کے زیبرہ کراسنگ تھے۔              
تاریخی اعتبار
نظم نسق
صفائی
زیبرا کراسنگ
گھوڑے کا گوشت اور دودھ
زراعت
کرنسی
سیاحت


Wednesday, May 29, 2019

عید الفطر کی دلی مبارکباد

الوداع  اے ماہ رمضان 
اور
عیدالفطر کی دلی مبارکباد
از

عابدہ رحمانی

 اب جبکہ رمضان کے  آخری عشرے کے آخر ی ایام ہیں ۔۲۵ ویں شب آن پہنچی ہے اب کیا کہا جا سکتا ہے کہ لیلۃ القدر آج کی رات ہو، اسی عشرے  میں گسی رات کو ہو سکتی ہے ۔ احادیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔

ہم تاریخ کو غور سے دیکھیں تو رمضان ، کا مہینہ عرب معاشرے کے کیلنڈرمیں پہلے سے موجود تھا --اس مہینے کو اللہ تعالٰی نے نزول قرآن اور وحی پاک کے ذریعے برکت عطا کی  شب قدر کو قرآن پاک کا نزول ہوا "انا انزلنٰہ فی لیلۃالقدر " اور ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں اتارااور محمدﷺ پر پہلی وحی اتاری گئ اقراء باسم ربک الذی خلق--پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا --اس لحاظ سے یہ جشن نزول قرآن کا مہینہ ہے- یہ وہ مبارک رات ہے جسکی فضیلت ایک ہزار  مہینوں سے بھی بہتر ہے اللہ تبارک و تعالٰی نے امت مسلمہ کی اس رات کی عبادات کو ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر اجر و ثواب سے نواز دیا ہے ۔اسی رات کو فرشتے اور جبرئیل امین کارخانہ دنیا کا پورا حساب کتاب گویا پورا بجٹ اور زائچہ تیار کرتے ہیں اور اسی جشن کو مناتے ہوئے دو ہجری میں روزے فرض ہوئے- لیلۃ القدر میں اتارنے کے ایک معنی تفاسیر میں یہ ہیں کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اسی رات میں اتارا کیا جو تئیس برس کے عرصے تک بذریعہ وحی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو تا رہا۔

 ۔ ہم تو اللہ کے حضور پوری دلجمعی اور امید کے ساتھ درخواست گزار ہیں کہ ہمارے ان شکستہ اعمال ، کوششوں اور عبادات کا بہترین اجر عطا فرمائے-مغفرت اور نار جہنم سے نجات کا عشرہ ابھی جاری ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب انہوں نے دریافت کیا کہ لیلۃ القدر یا آخری عشرے کی دعا کیا ہے تو آپ نے فرمایا یہ دعا کثرت سے پڑھو "اللھم انک عفو تحب العفو فعفو عنی  " اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے ، معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے ، پس مجھے معاف کردے "

 الفلاح مسجد نے ستایسویں شب  کو ختم قرآن  کا اہتمام کیا ہے ۔ بیشتر مساجد ۲۹ تراویح میں ختم القرآن کا انعقاد کر رہے ہیں - روزے دار اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار ہیں مساجد ہیں کہ ماشاءاللہ نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں - پورے پورے خاندان کے ساتھ لوگ کشاں کشاں چلے آرہے ہیں - بچوں کے لئے کھیلنے کے کمرے ہیں، بے بی سٹنگ کا انتظام بخوبی موجود ہے - بوڑھے بچے جوان، ایک چہل پہل ، ایک ہما ہمی نماز ختم ہونے کے بعد یوں لگتا ہے ایک میلہ لگا ہوا ہے  بھانت بھانت کی بولیاں ، مختلف رنگ اور نسل کے مسلمان ایک رشتہ اخوت میں جڑے ہوۓ ، زیادہ تر ان ممالک کے باسی ہیں جہاں قتل و غارت گری ، فرقہ پرستی،مذہبی سیاسی یا فوجی دہشت گردی انتہائی عروج پر ہے - لیکن اس سکون اور اطمینان میں اپنے دینی فرائض کی انجام دہی کے لئے ان ممالک کا انتخاب بھی کیا خوب انتخاب ہے کہ دیار مغرب کے امن و امان میں خوب دل کھول کر عبادات کریں , ممکنہ نفرت و دہشت گردی کی روک تھام کیلئے اب پولیس کا عملہ بھی پہرہ دیتا ہے۔  پنج وقتہ فرض نماز کی ادائیگی اپنی جگہ ،رمضان کی رونقیں ، افطار ، مغرب عشاء ، تراویح اور پھر قیام الیل، خوش الحان قاریوں کی قراءت کیا روح پرور سماں آیات وعید پر قاریوں کا پھوٹ پھوٹ کر گریہ و زاری کرنا اور وتر کی دعاؤں کا سماں ، آج کی رات تو سحری کا بھی شاندار انتظام تھا- حرمین شریفین کی یاد تازہ ہو جاتی ہے مجھے شافعی اور مالکی طریقے کی وتر بہت پسند ہے کیا رقت آمیز دعائیں ہوتی ہیں بس اللہ کے ہاں قبولیت کی دیر ہے- اور اسی کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ فیصلہ کیا کہ رمضان   ٹورنٹو میں منایا جائے - روحانی سکون اور بالیدگی کے لئے اس سے بہترماحول کیا ہو سکتا ہے --
قرآن پاک سے مذید جڑنے اور تعلق بڑھانے کیلئے خواتین کے دورہ قرآن ۔مشہور عالمہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی دورہ قرآن انتہائی بھر پور انداز میں مکمل کرکے رخصت ہوگئی ہیں ۔ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کی بہنیں جو اکنا سسٹرز کے نام سے معروف ہیں ۔انکے دورہ قرآن مختلف حلقوں میں جا ری ہیں اور پایہ تکمیل کو پہنچنے والےہیں ۔ اے اللہ اس قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار ، نور اور سرور بنادےاور اسکے احکام پر عمل کرنیکی تو فیق عطا فرما۔اور اسکو ہمارے حق میں حجت بنا۔
یوں تو کلام پاک پورے سال تواتر سے پڑھا جاتا ہے لیکن دنیا بھر میں ماہ رمضان کے دوران  انگنت اور بے شمار تکمیل قرآن ہوتے ہیں ۔ اسلئے کہ قرآن اور صیام لازم و ملزوم ہیں ۔
 اسلامی دنیا میں فرقہ بندی اور  قتل و غارتگری  مختلف صورت سے جاری ہے  ، انسانی آبادی اور مسلمانوں کی بھر پور تباہی اور تمام عالم اسلام دم بخود جسکی نہ تو کوئی طاقت ہے اور نہ شنوائی لاکھوں بے گھر ہو ئے ،ہزاروں امن کی تلاش میں  تہہ سمندر چلے گئے - یمن کی تباہی و بربادی تو مسلمانوں کا ہی کارنامہ ہے۔ آئے روز قتل و غارت گری کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہیں ۔اس لہو لہان ماہ رمضان میں  اپنی دعائیں بے اثر اور اپنی کم مائیگی کا شدت سے احساس ہوتا ہے --

ابھی تو رمضان شروع ہی ہوا تھا اور دیکھتے دیکھتے ۲۵، واں روزہ بھی آن پہنچا - - 
ناصر جہاں کا سلام آخر آجکل میرے کانوں میں گونجتا ہے اب اسکا رمضان سے کیا تعلق؟
بس اتنا ہی، جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے 
سلام آخر کو رمضان آخر کہہ سکتے ہیں-- 
رمضان کا تحفہ اہل ایمان کے لئے عید الفطر کا دن ہے جب وہ اللہ کی بڑائی اور کبریائی بیان کرتے ہوئے اپنی خوشی مناتے ہیں-  روزے دار تو روزوں سے بے حال ہو چکے ہوتے ہیں  اکثر وہ مسلمان جو روزے نہیں رکھتے عید زیادہ جوش و خروش سے مناتے ہیں اور انکی تیاریاں بھی خوب ہوتی ہیں اب وہ اتنے بھی گئے گزرے مسلمان نہیں ہیں کہ عید بھی جی بھر کر نہ منائیں- اتنی مسلمانی پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے-

"ارے بھئی آپ تو عید کا چاند ہوگئے نظر ہی نہیں آتے"
اردو بولنے والے از راہ گرمجوشی اپنے ملنے والوں میں یہ جملہ یا محاورہ جا بجا بولتے ہیں- جب کہ ہم مسلمان ابھی رمضان کے اختتام پر عید کا چاند ڈھونڈھنے کی کوشش کرینگے-آختتام سے مراد ہے 29 کی شب کیونکہ 30 کو تو  چاند کو بہر حال نکلنا ہی ہوتا ہے-ہم شمالی امریکہ میں کیلنڈر یا فقہ کونسل کی پیروی کرنے والے مساجد کے ساتھ ہیں جنہوں ۲۹ روزوں کے بعد ۴ جون کو عید کا اعلان کیا ہے اور ہمیں اس جھنجھٹ سے بے نیاز کر دیا ہے۔

ہلال عید یا عید کا چاند  آدھی نہیں تو کم ازکم ایک تہائی اردو شاعری کا احاطہ کئے ہوے ہے۔اس چاند کو ڈھونڈھنے  اور پانے کیلئے کیا کیا رومانی اور جذباتی  اشعار کہے گئے ہیں کہ انمیں سے ایک بھی ابھی میرے ذہن میں نہیں آرہا ہے شائد گوگل کرنا پڑیگا  - پھر اس چاند اور محبوب کے حسن جمال کا موازنہ ، جذ با تیت تو بر صغیر میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی ہے -پھر اس پر مستزاد اردو محاورے جنمیں عید کا چاند جا بجا استعمال ہوتا ہے-چاند اور عید کے چاند کو حسن و جمال کے استعاروں میں وصال و فراق کے محاؤروں میں خوب خوب چاشنی ملاکر بیان کی گیا ہے- ہماری ایک مغنیہ کیا لہک لہک کر یہ گیت گاتیں
انوکھا لاڈلا ، کھلن کو مانگے چاند
رمضان کی 29 کو جتنی ڈھونڈیا اس چاند کی ہوتی ہے کہ چاند کو خود بھی  اس اہمیت کا اندازہ نہیں ہوگا-یا شائد ہے جب ہی تو وہ جھلک نہٰیں دکھلاتا یا ہلکی سی جھلک دکھلا کر غائب ہوجاتا ہے- عرب دنیا میں نہ معلوم چاند اور عید کے چاند کے ساتھ کیا رومانیت منسلک ہے وہ عربی میں اپنی تہی دامنی کے سبب میں نہیں جانتی لیکن یقینا وہاں کے مؤمنین بھی چاہتے ہونگے کہ 29 پر چاند ہو جائے اور وہ ایک اور روزے سے بچ جایئں -آجکل تو وہاں پر شدید ترین گرم موسم ہے -ہاں البتہ انپر ایر کنڈیشننگ کے لحاظ سے اللہ کا احسان ہے-امریکہ کے روشن خیال مسلمانوں کو کیلنڈر بنانے کا خیال آیا اور اسکے حساب سے چاند کی تاریخیں طے کیں اس حساب سے ہم کیلنڈر والوں کو امسال ۲۹ روزے رکھنے ہیں اور ہماری زندگی سے چاند کا انتظار غائب ہوگیا -- لیکن یہیں پر  دیگر کافی تعداد میں بھائی بندے یعنی مساجد اس پر متفق نہ ہو سکے ، انہوں نے چاند دیکھنے اور ڈھونڈنے کو ہی صحیح جانآ- اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں چاند کو کھلی آنکھ سے دیکھنا افضل ہے ، لیکن ان ممالک میں یہ تفرقہ حد درجہ افسوسناک اور باعث شرمندگی ہو جاتاہے ۔۔
 شمالی امریکہ میں اگر مسلمان ایک ہی دن عید منا لیں تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے ورنہ وضاحتوں پر وضاحتیں اور شرمندگی الگ - ایک ہی ملک ایک ہی محلے میں بسا اوقات تین مختلف دن عید منائی جاتی ہے  اب ٹرمپ کو مسلمانوں کو لتاڑنے کا اور موقع مل جائے گا اور جسٹن ٹروڈیو بھی مخمصے میں کہ عید کی مبارکباد کس روز دی جائے- اسکول والے الگ پریشان اور انکا ایک ہی سوال " تم لوگ اپنا تہوار ایک دن ساتھ کیوں نہیں مناتے؟ ہم نے تو یہ طریقہ اپنایا ہے کہ عید کے روز روزہ رکھنا حرام ہے اور عید کے روز شیطان کا روزہ ہے اسلئے جو پہلے عید مناتا ہے اسکے ساتھ ہم بھی مناتے ہیں
 پاکستان میں روئیت ہلال کمیٹی بنی ہوئی ہے جنکا اہم کام عید اور رمضان کے چاند کو نکالنا ہوتا ہے، اسکے سرپرست اعلے  اسوقت اور پچھلے کئی برس سے مفتی منیب الرحمان ہیں انکی اور پشاور کے مولانا پوپلزئ کی ہر سال ہی ٹھنی رہتی ہے ۔ حد درجہ افسوس کا مقام ہے جو چاند پشاور میں نظر آجاتا ہے وہ  اسلام آباد میں کیوں نہیں دکھتا۔ 
-لمبی چوڑی تقریریں اور تکلفات ہوتے ہیں چاند کو ڈھونڈھنا ایک اہم ترین فریضہ ہوتا ہے - پوری قوم دم بخود ہوتی ہے کہ اب چاند نکلا کہ نکلا اکثر اوقات ایسا ہوا کہ چاند کی خبر رات کو با رہ بجنے کے بعد آئی اور اکثر نے اگلے روزے کی سحری بھی کرلی اور معلوم ہوا کہ عید ہوگئی-ہمارے خیبر پختونخواہ والے عید کو پشتو میں" اختر" کہتے ہیں - عیدالفطر چھوٹی عید کہلاتی ہے جبکہ عیدالاضحی بڑی عید - اور وہ کبھی بھی بقیہ پاکستان سے عید اور رمضان پر متفق نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ ایک روز پہلے مناتے ہیں -
 بھارت،بنگلہ دیش ، ملایشیا انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے مسلمان بھی اپنےحساب سے عید کا اہتمام کرتے ہیں - 
عرب ممالک میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے چاند کی ڈھونڈیا ہوتی ہے- یوروپ، آسٹریلیا، کینیڈا، دیگر ممالک  اور امریکہ والےیا تو اپنے طور پر چاند کو ڈھونڈتے ہیں کچھ اپنے موروثی ممالک کی پیروی بھی کر ڈالتے ہیں کہ عید انکے ساتھ منائی جاۓ-

پاکستان میں چاند رات کو بڑے شہروں اور کراچی میں جو چہل پہل ہوتی ہے اور چاند رات کا بازاروں میں جو رت جگا ہوتا ہے وہ منچلوں اور نوجوانوں کے لئے ایک حد درجہ لطف اور سرگرمی  کا باعث ہوتا ہے- لڑکیاں بالیاں ساری رات مہندی اور چوڑیوں کے چکر میں کاٹ دیتی ہیں چوڑیوں والے منہ مانگے دام لیتے ہیں -کتنے سٹال بن جاتے ہیں کالج یونیورسٹی کے لڑکے باجیوں کو چوڑیاں پہنانے کے لئے ایک سے ایک بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اورکتنی با پردہ اور با حیا خواتین بھی چوڑیاں بچانے کی چکر میں ہاتھ بڑھا لیتی ہیں ارے ڈاکٹر، درزی اور چوڑی والے سے کیسا تکلف؟ کیا چناکے ہوتے ہیں جب تنگ سے تنگ چوڑیا ں پہنائی جائیں--لیکن اس طرح سے ٹوٹنے والی ساری کی ساری چوڑی والے کی ہوتی ہیں-- یہ ریت ابھی تک قائم ہے ؟- اس سے پہلے تو خواتین دعائیں مانگتی تھیں کہ آج چاند نہ ہو اور انکو عید کی تیاری کرنے کا ایک اور روز مل جاۓ- آخری وقت کی خریداریاں ، پکوان کی تیاریاں ، کئی اقسام کی سویئاں، ہوائیاں کٹ رہیں ، مصالحے پس رہے ہیں،ساری ساری رات خواتین کی اگلے دن کی تیاریوں میں گزر جاتی ہے  -اس سے پہلے جب گھروں میں سلیقہ شعار خواتین سلائیاں کرتی تھیں تو  گوٹے لچکےٹانکنا ،تر پائیاں کرنا اور پھر تمام ملبوسات کا اہتمام کہ تینوں دنوں میں کیا کیا پہننا ہے کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے- موجودہ دور میں بوتیک اور درزیوں نے عید کے اہتمام کو لوٹ لیا ہے -رمضان کے پہلے ہی سے درزیوں کے مزاج بگڑنے شروع ہوتے ہیں اور پہر یہ لوڈ شیڈنگ کا عارضہ یا بہانہ- اب چاند رات میں بوتیک اپنی قیمتیں کم از کم دگنی کر دیتے ہیں-اسکے ساتھ پارلروں کا راج ہوتا ہے مردانہ اور زنانہ دونوں-مہندی کا کام تو تمام دنیا میں کون کی ایجاد سے کافی آسان ہوگیا ہے اس کون کے ایجاد کرنیوالے کو ایک مہندی ایوارڈ براۓ تجدیدئیت ضرور دینا چاہئے تھا- اگلے روز عید کی نماز کے لئے گھر کے مرد ہی جاتے تھے اسوقت تک خواتین کی باقی تیاریاں ہوچکتی تھیں-
 ہم لوگوں کے ہاں عید کا کیا اہتمام ہوتا تھا اکثر گھروں میں رنگ روغن تک ہو جاتا تھا - گملے تک رنگ دئے جاتے ہر چیز اجلی اور جاذب نظر ہو -پھر عیدیوں کا سلسلہ اگلے روز صبح سے ہی شروع ہوتا تھا جسنے رات کو سب سے زیادہ پریشان کیاتھا ڈھول پیٹنے والا وہ سب سے پہلے ، پھر گلی کا خاکروب جو عیدیں پر ہی نظر اتا تھا 'چوکیدار، مالی، ڈاکیہ جو سارے مہینے کی ڈاک جمع کرکے صرف عید کے دن لاکر دیتا ایک سے ایک عید کارڈ، بھیجنے والوں کی محبت کی گواہ ہوتے- ہم نے بھی درجنوں عید کارڈ بھیج دئے ہوتے تھے ان عید کارڈ کی خریداری بھی ایک دلچسپ اور بڑا مشن ہوتا تھا کہ ہر مرتبہ کچھ انوکھا پن ہو جو آپکی ذوق سلیم کا آئینہ دار ہو، پوری فہرست بنتی تھی کہیں کوئی عزیز، یار دوست رہ نہ جائے، ان کارڈز کو سپرد ڈاک کرنیکا مسئلہ ، ڈاکخانے والے بھی ایک حتمی تاریخ دے دیتے تھے-   ہماری زندگیوں سے بہت سے حسین لمحےاور تکلفات خود بخود غائب ہوتے جارہے ہیں-اب انٹرنیٹ اور ای کارڈز نے اس تکلف سے بے نیاز کر دیا ہے -- پھر اللہ فیس بک اور واٹس ایپ کو سلامت رکھے اسنے مزید کام آسان کردیا ہے 
ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکا آئے ۔۔
 ایک تانتا سا بندھ جاتا ملازمین، اپنے بچوں ، عزیز رشتہ داروں کی عیدی کا سلسلہ الگ جاری رہتا - بچے اپنی عیدی گن گن کر خوش ہوۓ جاتے تھے-
میں اس نوسٹالجیا سے نکنا چاہتی ہوں یاد ماضی عذاب ہے یا رب - یہ وقت خوش ہونے کا ہے-
 اب جن ممالک میں ہوں اگر تو عید ویک اینڈ پر ہے تو کیا کہنے ورنہ خصوصا چھٹی کا انتظام کرنا پڑتا ہے اسکولوں سے بچؤں کی اکثر چھٹی کرا دی جاتی ہے-لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اسطرح نئی نسل کو اپنے دین اور روایات سے جوڑا جاۓ- اسکے لئے عید کے اہتمام پر کافی توجہ دی جاتی ہے- بہت سے بچوں کو یہ شعور دلاتے ہیں کہ ہم کرسمس نہیں بلکہ عید مناتے ہیں اسلئے بچوں کو عید کے تحائف دئے جاتے ہیں بلکہ خاندان کے تمام لوگ ایک دوسرے کو تحائف دیتۓ ہیں، گھروں کو کرسمس کی بتیوں سے سجا دیتے ہیں اندرونی خانہ بھی غباروں اور جھنڈیوںسے آرائش کر دی جاتی ہے ٹورنٹو مین کافی سارے مقامی سٹورزنے عید مبارک اور رمضان سیل لگائی ہوئی ہے اسی کوٹارگٹ مارکیٹنگ کہتے ہیں- ہم بھی خوش وہ بھی خوش -مسیساگا میں یوں بھی محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے قریب پہنچ گئے ہیں- مساجد میں مستحقین کو عید کے تحائف دۓ جارہے ہیں اسکے لئے پہلے ہی سے فطرہ دینے کی اپیل کی جاتی ہے- فوڈبنک میں کافی خشک خوراک جمع ہوچکی ہے ، بچوں کے لئے کھلونے بھی جمع ہیں - ہم نے ان ممالک سے بہت سے اچھے طور طریقے بھی سیکھ لئے ہیں- عید کی نماز کے لئے  علی الصبح تیاری اور روانگی ہوتی ہے - اکثر مساجد دوبلکہ تین نمازیں ادا کرتے ہیں اسلامک سنٹر آف کینیڈا میں تین نمازیں ہونگی-  اسمیں جو چہل پہل ہوتی ہے ، سبحان اللہ
ان مساجد نے مسلمانوں کو جتنا متحرک کیا ہوا ہے کہ اللہ نظر بد سے بچاۓ -ذرا دیر قبل  نصف شب کا قیام ، سحر اور فجر کر کے آرہے ہیں-ماشاءاللہ!
عید کی تیاریاں یہاں بھی پورےزور شور سے ہوتی ہیں اب تو آن لائن پاکستان کے بوتیک سے آرڈر پر کپڑے منگوائے جاسکتے ہیں ،یہاں پر ہر دوسری تیسری خاتون کا یہی بزنس ہے  اور دیگر لوازمات بھی مل رہے ہوتے ہیں- اسکے علاوہ عید میلے بھی لگ جاتے ہیں جن میں خوب رونق ہوتی ہے-
اکثر لوگوں کے ہاں چاند رات کا خوب اہتمام ہوتا ہے بڑی بڑی پارٹیاں ہو جاتی ہیں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں اسمیں مدعو ہوتی ہیں مہندیاں سج رہی ہیں ، چوڑیاں پہنی جا رہٰی ہیں، ڈھولک کی تاپ، گیت گائے جا رہے ہیں کبھی گیت لگا کر کچھ پھیرے بھی لگا لئے جاتے ہیں آخر کو خوش ہونے کا بھی حق ہے اور جائزبھی ہے- یہاں عام طور پر عید میں لوگ اوپن ہاؤس کا اعلان کرکے احباب کو مدعو کرتے ہیں - یہ سلسلہ کافی دلچسپ ہوتا ہے کافی دوست احباب سے ملاقات ہو جاتی ہے لیکن صاحب خانہ کو کافی اہتمام کرنا پڑتاہے- اسکے لئے اوقات کا تعئین کردیا جاتا ہے- مساجد کی سطح پر بھی چاند رات اور عیدملن کی پارٹیاں ہوجاتی ہیں اور یہ پارٹیاں روزے داروں کے لئے جہاں ایک انعام ہوتی ہیں وہاں ان سے روزے نہ رکھنے والے بھی لظف اندوز ہوتے ہیں- اور کیوں نہ ہوں بقول کسے' ہم کم ازکم عید تو مناتے ہیں'-

اللہ تبارک و تعالیٰ اپکو شب قدر کی فضیلتوں ، سعادتوں اور برکات سے فیض یاب کرے
ہماری تمام عبادات اور محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے ہماری خطاؤں  کو بخش دے

آپ سب کو  عیدالفطر کی دلی مبارکباد ، اللہ کرے یہ آپ کیلئے اور اپکے تمام اہل خانہ کے لئے مسرتوں اور رحمتوں کا پیامبر ہو
عید مبارک
 اللھم تقبل منا و تقبل منکم کل عام و انتم بخیر

عابدہ

Abida Rahmani

Friday, May 3, 2019

سوشل میڈیا کے نامعلوم تخلیق کار

سوشل میڈیا کے نامعلوم تخلیق کار

از عابدہ رحمانی
 
ان تخلیق کاروں کے لئےمیرا دوسرا لقب ہے سوشل میڈیا کے نامعلوم سپاہی۔
یہ وہ بے نام تخلیق کار ہیں جو کہ پس پردہ رہ کر اپنی نت نئی تخلیقات سے ہمیں نوازتے رہتے ہیں ۔
ہم جیسے ہی سوشل میڈیا میں داخل ہوتے ہیں ۔ ایک سے ایک دیدہ زیب کارڈ، بر جستہ جملے ، انتہائی دلچسپ طنز ومزاح ، روح میں اترنے والے دلنشین اقوال ، پند و نصائح دور ماضی کی وہ تصاویر اور ویڈیو جنکے متعلق محض ہم نے محض کتا بو ں میں پڑھا تھا ، جدید و قدیم نغمات ، شاعری بزبان شعراء اور وہ مشہور شعرا جو اب ہم میں نہیں ہیں ،انکی نایاب کلپس اور ویڈیوز ہمارے اکثر بے رنگ لمحوں میں رنگ بھر دیتی ہیں ۔
دور حاظر کی ایک دلچسپ مصروفیت یا زیان وقت یہ سوشل میڈیا ہے ۔ اسمیں اب واٹس ایپ سب پر بازی لے گیا ہے ۔ اسکے بعد فیس بک اور ٹوئٹر ہے اور اسکے بعد دیگر کئی ہیں ۔
جو ذرائع معلومات اور حقیقی خبریں فراہم کرتے ہیں انکے بھی دلچسپ چبھتے ہوئے فقرے ، کلپ اور ویڈیو میسر ہیں ۔ دلچسپ تحاریر ، کالم ،شاعری کے نمونے ، خوش آمدیدی کلمات ، تہنیتی کلمات ،صبح بخیر ، جمعہ مبارک سالگرہ مبارک ، مختلف مذہبی تہواروں کے مبارکباد ، دعایئں ، قرآنی آیات ، احادیث ، مختلف علماء کی تقاریر انکا نقطہ نظر ، وظائف ،صحت کی بحالی اور دیکھ بھال کے بے شمار نسخے ، ٹوٹکے ، ورزش ، یوگا ،کسرت ،بیماریوں کے علاج ، مفید اور کارآمد پیڑ پودوں کی معلومات ، معلومات اور تفریح کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے ۔ اسی طرح سیاستدانوں کے متعلق انتہائی دلچسپ اور بسا اوقات اہانت آمیز کلپس ، ویڈیوز اور تحاریر منظر عام پر آتی ہیں ۔
لیکن ان تمام دلچسپ اور معلوماتی ٹو ٹوں کے ساتھ ساتھ ایک طویل سلسلہ جعلی اور جھوٹی خبروں ،  ویڈیو ، کلپس ، تحاریر افواہوں اور دشنام طرازیوں کاہے ۔ اور انگریزی کے بقول you name it. 
یہ تمام تخلیقات دنیا بھر سے نشر ہوتی ہیں ۔ لب و لہجے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انڈین ہے ، پاکستانی یا انگریز ۔
ہمار ا کام ان تمام کلپس ، ویڈیوز اور تحاریر سے لطف آٹھانا ہے یا عبرت حاصل کرنے کاہے ۔ اور پھر اسکو آگے فارورڈ کرنا اور پھیلانا ہے ۔ یوں بہت سے کلپس اور تحاریر کئی سالوں سے گردش میں رہتے ہیں ۔ بیشتر اوقات ہم بغیر سوچے سمجھے اسکو ایک کار خیر یا ایک فریضہ سمجھ کر آگے بڑھا دیتے ہیں اور پھر اس پر خفت بھی اٹھانی پڑ جاتی ہے ۔ اب تو غنیمت ہے کہ واٹس ایپ نے صرف پانچ افراد یا گروپ تک بہ یک وقت بڑھانا محدود کر دیا ہے ۔

سوچنے اور غور کرنے کا مقام یہ کہ آخر ان تمام کارڈز، کلپس اور ویڈیوز کو کون بناتا ہے اور کون نشر کرتا ہے آخر وہ اپنا نام کیوں نہیں دیتے اور جملہ حقوق محفوظ کیوں نہیں کرواتے؟
آخر کو ان سب تخلیقات پر انکی تخلیقی صلاحیتیں اور وقت صرف ہوا ہے ۔ انہیں آخر اس سے کیا فائدہ ہے  ؟ میری سمجھ سے تو یہ راز بالا تر ہے۔
اگر آپ میں سے کسی کے پاس اسکا جواب ہے تو مجھے ضرور آگا ہ کریں۔ بے حد ممنون ہونگی ۔

سوچنے کا مقام ہے ا

Sunday, April 21, 2019

Journey of life: Petra Capital of Nabateans

Journey of life: Petra Capital of Nabateans: Petra the capital of Nabateans Leaving for Petra Early in the morning after breakfast we started for Petra. It’s a 4 hours drive  t...