Saturday, April 16, 2016

کچھ بیان چائے کا


 کچھ بیان چائے کا

از

عابدہ رحمانی


چائے چینیوں کی ایجاد ہے لیکن وہ یاسمینی قہوہ شوق سے پیتے ہیں کیتلی میں دم کرکے بجائے پانی کے قہوہ پیتےرہتے ہیں شاید یہ وجہ ہے کہ چینیوں میں موٹاپا نظر نہیں آتا۔۔ قہوہ یا سبز چائے کی ہر قسم کی میں بھی رسیا ہوں بلکہ سبز چائے تو میری گھٹی میں پڑی ہے کیوں کہ دادی جان نے پہلی خوراک ایک چمچ یا چند قطرےسبز چائے پلائی تھی--شمالی امریکہ میں جب پہلی مرتبہ" چائے" کاا شتہار دیکھا اور آرڈر دیا تو وہ مصالحہ دار چائے نکلی جو وہاں پرچائے   کے نام سے مقبول ہے -

Chai

 teavana


ایک بڑا اچھا سٹور بلکہ فرنچائز ہے اسمیں چائے کے ایک سے ایک ذائقے ، برانڈ اور خوشنما کیتلییاں ہیں شاید دوبیئ وغیرہ میں بھی ہوں-

Japanese tea party

جسطرح سے انجام پاتی ہے اسمیں انکی تہذیب و ثقافت کی نشاندہی ہوتی ہے کیا خوبصورتی سے کیمونو پہنے ہوئے جاپانی لڑکیاں اس رسم کو ایک عبادت کی طرح  انجام دیتی ہیں-یہ پینے سے زیادہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔

جب ہندوستان میں پہلی مرتبہ فوجیوں کو چائے سے متعارف کرایا گیا ،میرے ایک نانا جی جو انگریزی فوج میں صوبیدار تھے چھٹیوں پر آتے ہوئے ایک ٹین کا بڑا ڈبہ چائے کی پتی کا لائے - نانی نے اسکو خشک ساگ سمجھ کر چولھے پر چڑھا دیا ااسوقت وہ گھر سے باہر تھے جب واپس ہوئے تو نانی نے اس بدذائقہ ساگ کی شکائت کی اور نانا سر پیٹ کر رہگئےکیونکہ یہ انکا ایک مہینے کا راشن تھا - اب ہمارے گاؤں میں بچہ بچہ پیالی پر پیالیا ں چڑھاتا رہتا ہے اور تھرموس بھرے ہوئے گردش میں رہتے ہیں میرے بچوں کو میرے گاؤں کی میٹھی چائے بہت پسند تھی- اور کراچی والے، انکی رگوں میں تو خون کی بجائے چائے گردش کر رہی ہے  جب ہی تو خون بے قیمت ہوگیا -پنجاب والے اب بھی اچھے ہیں جہاں ابھی تک بخار میں بھی لسی پی جارہی ہے اور سندھ میں چورہ چائے کی قسمت کی چمک دمک ہے 

ایل اے میں ایک پرانی دوست کے ہاں گئی انہوں نے بڑے اہتمام سے کیتلی اور پیالیاں گرم  پانی سے کنگالیں ،پتی کیتلی میں ڈال کر ٹی کوزی لگا کر چائے دم کی ساتھ کاڑھا ہوا دودھ، امریکہ میں اتنا اہتمام دیکھ کر چائے کا لطف آگیا - حالانکہ امریکہ نے ہماری زندگیوں سے ان تکلفات کو کافی حد تک ختم کردیا ہے جہاں فاسٹ فوڈ نے ہمیں کھانے کی میز کی تکلفات سے آزاد کردیا ہے وہاں ٹی بیگ نے ٹی سیٹ کا تصور ختم کردیا ،بڑے بڑے مگوں نے چینی کےنفیس پرچ پیالیوں اور چائے کے سیٹوں سے بے نیاز کر دیا ۔ میری ایک عزیز دوست کافی میکر میں فلٹر ڈالکر چائے بناتی ہے اور میرے بھائی کے ہاں دودھ پتی کا رواج ہے۔

مجھے چھوٹی الائچی کی خوشبو والی بلکہ ہر معقول قسم کی چائے پسند ہے - حتی کہ ایر لائنز کی بے ذائقہ  چائے بھی چل جاتی ہے -پہلے چائے کے نقصان ہی نقصان تھے اب فائدے ہی فائدے ہیں -اور ہماری کشمیری گلابی چائے کیا کہنے اسکے - ڈھاکہ کے نواب فیملی کے ہاں جو کشمیری چائے بنتی تھی وہ اسقدر میوے اور بالائی والی ہوتی تھی کہ پینے سے زیادہ کھانے کےلائق تھی- 

میری اپنی چائے تو آجکل زیادہ تر مائکرو ویو میں بنتی ہے پھیکی چائے، لیکن ساتھ میں گلاب جامن' برفی یا کوئی اور میٹھا ہو تو کیا کہنے۔۔ اکثر دیکھنے والے حیران ہوتے ہیں چائے میں چینی نہیں لیکن میٹھے کا شوق خوب ہے۔اور سبز چائے میں الائچی کے ساتھ ایک چٹکی سونف اور اجوائن بھی ڈال دیتی ہوں ۔

ہماری چائے تو زیادہ تر کالی دودھ والی یا سبز چائے ہوتی ہے  لیکن مجھے دوسرے ذائقوں اور خوشبو کی چائے بھی پسند ہے ۔ ابھی چند روز پیشترhibiscus اور لیموں کی چائے بہت اچھی لگی ۔۔ میرے ایک بیٹے کو مختلف ذائقوں کی چائے کا بہت شوق ہے اسنے ایک مرتبہ مجھے سموکڈ ٹی smoked tea پلائی تو مجھے اپنے گاؤں کی لکڑیوں پر بنی دھوؤاں لگی چائے خوب یاد آئی۔۔ہم لوگ تو چائے ایک طرح سے اپنا کیفین کا نشہ پورا کرنیکے لئے پیتے ہیں ۔ایک مرتبہ ڈاکٹر نے ایک عارضے کے بعد مجھے ڈی کیف (بغیر کیفین)کے چائے پینے کا مشورہ دیا ۔ اسکے بہت سے برانڈ ہیں لیکن کیفین کے بغیر بہت ہی بے کیفی رہی اور معاملہ چل نہ پایا۔

دنیا بھر میں چائے کے باغات مختلف مقامات پر شہرت کے حامل ہیں مجھےان باغات کو ایک مرتبہ مانسہرہ میں دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ لیکن اصلی لطف ملائشیا کے کیمرون ہائی لینڈ کے  باغات کا آیا ۔۔ حد نظر تک پہاڑوں پر پھیلے ہوئے تہہ در تہہ ،مشینوں سے خوبصورتی سے تراشے ہوئےان باغات میں کہیں کہیں ہاتھوں سے پتے چننے والے اور والیاں بھی نظر آئیں۔۔ پھر انہی چائے کے پتوں کو مختلف مراحل سے گزار کر استعمال کے قابل کرنے والی کمپنی "بوہ" کا پرانا کارخانہ جسمیں اس تمام طریقہ کار کو پوری طرح دکھایا گیا ہے ۔۔ اسکا پورا سنٹر ہے جسمیں اسکی تصویری تاریخ اور یادداشتیں ہیں ۔دوکانیں اور ریسٹورنٹ بلندی پر واقع ہے اور سیاحوں کی آماجگاہ ہے ۔۔

تمام دنیا کے گرم مشروبات میں چائے کا اہم مقام ہے اسے پینے کا ہر ایک کا اپنا انداز اور پسند ہے ۔۔

مصری شیشے کے مگ میں چینی کےاوپر پتی پر ابلا پانی ڈال کر بغیر دودھ کی چائے پیتے ہیں ۔۔ جبکہ مدینہ میں تازہ 

پودینہ چائے کی پتی اور چینی کے ہمراہ ابلا پانی ڈال کر پودینہ والی چائے تیار ہوتی ہے ۔۔اسی طرح ایرانی بغیر دودھ کا قہوہ چینی کی ڈلی منہ میں ڈال کر پیتے ہیں ۔۔

پاکستان میں باہر پی جانے والی عوامی چائے پٹھانوں کے چائے خانوں میں سماوار میں بننے والی" چینک چائے" ہے جو مقبول عام ہےاور بیشتر دفتروں اور دوکانوں میں اسکی مانگ ہے ۔۔ اسی لئے کراچی کے ساحل پر ایک عمدہ چائے خانے کا نام سماوار رکھا گیا ہے۔۔

چینیوں کی طرح پٹھانوں یا پشاور کے سبز چائے کے قہوہ خانوں کا تذکرہ دلچسپی کا باعث ہوگا ۔۔جہاں خوشبودار سبز الائچی والی چائے دنبے کے تکوں اور کڑھائی پر پی جاتی ہے ۔۔ پشاوری سبز چائے کی ہلکی سنہری رنگت ،الائچی کی خوشبو کے ساتھ مرغن خوراک کے ہاضمے کے لئے بہترین ہے ۔۔

چائے کے شائقین کے لئے چائے کی خوشبو اور ذائقہ اہم ہے اور نفیس برتن میں اسکے ذائقے اور خوشبو میں اضافہ ہو جاتاہے ۔۔

جیسے دل چاہے چائے پئیں ،خوب پئیں اور خوش رہیں ۔۔


Monday, February 8, 2016

تکبر ، تزکیہ نفس


’’تکبر‘‘

تکبر کے لغوی معنی بڑائی کے ہیں اور کبریائی صرف اللہ کی ذات کے لیے ہے۔
انسان میں تکبر اور غرور آ جائے تو یہ اس کے لیے سراسر تباہی و بربادی ہے۔ اسی تکبر کے نتیجے میں شیطان راندۂ درگاہ ہوا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا صرف ابلیس نے نہ کیا۔ اَبٰی واستکبَرَ۔ اس نے ان کار کیا اور تکبر کیا۔ وَکَانَ من الکٰفرین۔ اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔
ابلیس نے یہ بڑائی کی کہ میں تو آگ سے بنا ہوں اور آدم مٹی سے بنا ہے مجھے اس پر فضیلت حاصل ہے اور یوں وہ تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوا اور اپنے رب کی سرکشی کی۔ اور یوں اس پر اللہ کی پھٹکار پڑی۔ اس لیے اگر ہم سوچیں تو تکبر ایک شیطانی صفت ہے اور اس صفت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی آزمائش میں ڈالا ہے۔
بڑائی اور کبریائی تو صرف اللہ کے لیے ہے ہم کہتے ہیں اللہ اکبر ( اللہ بڑا ہے)۔ یعنی اس سے بڑا اور صاحب اختیار کوئی نہیں ہے۔ تو پھر انسان کس بات پر فخر و غرور جتاتا ہے؟
تکبر کی کئی وجوہات ہیں۔
(1 اپنے آپ کو بلند و برتر سمجھنا حسب نسب کے لحاظ سے، خوش شکلی کے لحاظ سے، اچھی اولاد کے لحاظ سے۔ حالانکہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ تمام چیزیں عطیہ خداوندی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے اور دوسرے کو اس سے محروم کیا ہے تو یہ اس کی دین ہے کجا یہ کہ ہم ہر وقت اس کی شکرگزاری کریں ہم تفاخر و غرور میں مبتلا ہو جائیں۔ 
حسب نسب کے لحاظ سے جو برتری ہم جتاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے۔ 
اَنَّ اَکرَامَکُم عَنداللہ اتقاکُم۔ بیشک تم میں اللہ کے نزدیک وہی عزت والا ہے جس میں تقویٰ ہو۔
پھر مال و دولت اور اولاد کے لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
اَلمالُ و البُنُون زینتَ الحیوٰۃ الدین و الباقیات الصالحات خیر عِندَربک ثَواباًو خیرامَلَا۔
مال اور اولاد تو دنیا کی رونق ہیں اور جو اعمال باقی رہ جانے والے ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں۔
پھر یہ پوری دنیاوی زندگی جس کے گھمنڈ میں ہم مبتلا رہے ہیں اس کے لیے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَماَالحیٰوۃُ الدنیااَلاَّمَتَاعُ الغرور۔دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سرمایہ ہے۔
اس طرح تکبر کرنا سوائے دھوکے اور فریب کے کچھ نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ جن چیزوں کی بناء پر ہم تکبر کر رہے ہیں ایک تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہے تو یہ سب چیزیں ہم سے چھین بھی سکتا ہے اور پھر یہ اللہ کی عطا کردہ حیثیت اور مرتبہ ہے وہ چاہے تو ہمیں عزت دے وہ چاہے تو ہمیں ذلت دے۔ وَتُعِزُّمَن تَشاءُ وَتُذِلُ مَن تَشاءُ ۔
اب پچھلی آیات میں جو نشاندہی کی گئی ہے۔ تقویٰ اور اچھے اعمال کی یعنی اعمال صالحہ کی کہ اس کی بنیاد پر ہم اللہ کے ہاں سرخروہوں گے یا اللہ کے پسندیدہ بندے شمار کیے جائیں گے تو اب اس کی بناء پر ہم تکبر و تفاخر میں مبتلا ہو جائیں کہ ہم تو اتنے نیک ہیں، پرہیزگار ہیں، اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں اور یہ دوسرے بندگان خدا تو انتہائی نافرمان ہیں۔ ہمارے ساتھ تو اللہ یقیناً اچھا معاملہ کرے گا ان کی نسبت۔ اب یہ جو ہمارا نفس پھول گیا تو یہ ہماری اس تمام جدوجہد کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔
جیسے کہ متعدد احادیث سے اس کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ ہم اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمارے اعمال کو قبول نہ کر لے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
پھر اکڑنا، اترا کر چلنا بھی غرور و تفاخر کی نشاندہی ہے۔ 
سورہ لقمان میں ارشاد ہوتا ہے۔
وَلاَتصَعّر خَدَّکَ للنَّاسِ وَلاَتمشِ فی لارضِ مَرَحاً ْ اِنَّ اللہَ لاَیُحِبُّ کُلَّ مُختاًلِ فَخُورْ
اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیرو اور زمین پر اترا کر مت چلو بیشک اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں رائی کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کسی نے کہا آدمی اچھے کپڑے اور اچھے جوتے پسند کرتا ہے تو فرمایا اللہ نفاست اور ستھرائی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق بات نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ 
ایک دوسری حدیث سے ہمیں اس آدمی کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ جو الٹے ہاتھ یعنی بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا۔ رسول ﷺ نے اس سے کہا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اس نے کہا نہیں کھا سکتا اس نے یہ بات غرور و تکبر کی بناء پر کہی تھی۔ آپﷺ نے کہا کہ نہ کھا سکو اور وہ پھر اپنا دایاں ہاتھ نہ اٹھا سکا۔
ایک اور حدیث میں حضرت حارثہ بن ۔۔۔۔۔۔۔سے روایت ہے کہ میں نے رسولﷺ سے سنا ہے کہ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر دوں جس میں سرکش، بخیل اور متکبر ہیں۔ 
اسی طرح ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ جو اپنا لباس غرور و تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے گا۔
ہم یہ سوچیں کہ دعوت دین دیتے وقت کہیں ہم تکبر میں تو مبتلا نہیں ہوگئے۔ نفس ہمیں فریب دینے میں تو کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ اگر ہمارا نفس ہم پر غالب آ گیا وہ پھول گیا تو گویا ہم شکست کھا گئے، تکبر و غرور کے مریضوں کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے وہ لوگ ہرگز خدا کی بندگی نہیں کر سکتے جو اپنے نفس کی بندگی میں مبتلا ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تکبر و تفاخر سے محفوظ رکھے۔ آمین

***




تزکیہ نفس


عربی زبان میں تزکیہ کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا اور اس کو نشوونما دے کر پروان چڑھایا جائے۔ ایک اور اصلاح میں تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو غلط رجحانات، میلانات اور اعمال سے ہٹا کر نیکی اور تقویٰ کی راہ پر ڈالا جائے۔
اپنا تزکیہ نفس کس طرح کر سکتے ہیں؟
(1 اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کیا کیا خرابیاں اور برائیاں ہیں اور انہیں دور کرنا۔
(2 اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کونسی اچھائیاں نہیں ہیں اور اس کے لیے کوشش کر کے اسے اپنے اندر پیدا کرنا۔
اب جو شخص اپنے نفس کا تزکیہ چاہے گا وہ ان اعمال کا جائزہ لے گا جن سے برائیاں اس سے دور ہوں اور اچھائیوں کا اس میں اضافہ ہو گا اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اس میں بھی کامیاب نہیں ہوگا۔
انسانی نفس ان اعمال کو بے فائدہ اور لاحاصل سمجھتا ہے جس کے فوائد اس کے ذہن نشین نہ ہوں اس لیے تزکیہ نفس کا خیال اسی کے دل میں آسکتا ہے جو کہ یہ سمجھ لے کہ برائیاں میرے لیے ہلاکت خیز اوراچھائیاں فائدہ مند ہیں۔ اس لیے انسان کو پہلے تو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ نے مجھے جن باتوں سے روکا ہے وہ اس لیے کہ وہ میرے لیے تباہ کن ہیں اور جن باتوں کا حکم دیا ہے وہ مجھے دنیوی اور اخروی سعادتوں سے ہمکنار کرنے والی ہیں۔
سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
قَد اَفلَح مَن زکّٰھَاْ وَقَدخابَ مَن دَسَّھَاْ 
یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور برباد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا۔
نفس کا تزکیہ کرنے اور دبا دینے کی تشریح یوں ہے کہ تزکیہ کا مطلب ہے پاک کرنا، ابھارنا اور نشوونما دینا یعنی جو اپنے نفس کو فسق و فجور سے پاک کر دے، اس کو ابھار کر تقویٰ اور بلندی پر لے جائے اور اس کے اندر بھلائی کو نشوونما دے وہ فلاح پائے ا۔
دَسَّھَا جس کامطب دبا دینے کے ہے وہ یہ کہ نامراد ہوا وہ شخص جو اپنے نفس میں نیکی کے جذبات کو ابھارنے کی بجائے اس کو دبا دے اور برائی کے رجحانات کو اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اورنیکیاں اس کے نیچے چھپ جائیں جیسے کہ مٹی کے نیچے لاش دبا دی جائے۔
ہمارے نفس میں دونوں قسم کی خواہشات دبی ہوئی ہیں۔ نیکی اور برائی۔ برے نفس کو نفسِ امارہ کہتے ہیں جبکہ نیک نفس کو نفسِ مطمئنہ اور جس نے نیک جذبات کو غالب کیا اس نے نفس کا تزکیہ کیا اور کامیاب ہوا۔
جب حضرت ابراہیمؑ اور اسمعیلؑ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو یہ دعا مانگتے تھے۔ ’’اے رب ان لوگوں میں خود ان کی قوم سے ایسا رسول اٹھائیو جو انہیں تیری آیات سنائے، کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔‘‘
حضرت زید بن ارقمؓ  بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ خدایا میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اس کا تزکیہ کر تو ہی بہتر ہستی ہے جو اس کا تزکیہ کر سکتی ہے تو ہی اس کا سرپرست اور مولا ہے۔
تزکیہ نفس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان عملاً اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرنے اور اچھائیوں سے مزین کرنے کا کام شروع کر دے۔ اور اس سلسلے میں پہلا قدم یہ کہ اچھائیوں سے الفت اور برائیوں سے نفرت پیدا ہو۔ نیکی کی کروڑوں تعریفیں کرکنے سے بھی انسان کا نفس پاک نہیں ہوتا جب تک نیکی کو عملاً اختیار نہ کرے اور اس طرح وہ اجتماعی دکھ بھی دورنہیں ہوتے جن کا منبع گناہ ہے۔
-- 

Wednesday, February 3, 2016

قصہ کتابوں کی طباعت و اشاعت کا





قصہ کتابوں کی طباعت اور اشاعت کا
از
عابدہ رحمانی
کہتے ہیں گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کو بھاگتا ہے -- کچھ یہی کیفیت ہماری بھی ہوئی ۔ہماری شامت آئی تواپنا جو کچھ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ مجموعہ تھا اسکو چھاپنے کی ٹھانی- غنیمت ہے کہ ایک فائیل بنا ڈالی تھی-دلچسپ امر یہ ہے  کہ  میرے قریبی خاندان ، اعزاء و اقارب اگلے پچھلوں میں، بڑے چھوٹوں میں کبھی کسی کی کتاب طبع یا    شائع نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کے دماغ میں اسکا فتور أیا تھا- کتابیں پڑھنے  اور خریدنے کے شوقین بہت سارے تھےاورکتابیں ان کے پاس ڈھیروں  ڈھیرتھیں--یہی حال ہمارا اپنا بھی تھا--
میرے بڑے بیٹے کو بچپن میں لکھنے کا کافی  شوق ہوا اسنے ایک بچوں کی انگریزی کہانی کے کتاب سے متآثر ہوکر  بڑی محنت سےپوری کتاب لکھی اور اس مسودے کو اپنے ایک دوست کے ہمراہ اردو بازار لے گیا -- ایک پبلشر نے اس سے یہ کہانی 25 روپے میں خریدی -- اور بچے کو چلتا کر دیا ---- میرے اور بچوں کے مضامین مختلف اخبارات اور رسائیل میں اکثر چھپ جاتےاور ہم اسی سے خوش ہو جاتے-- ڈان انگریزی اخبار میں میرا کوئی مضمون چھپتا تو خود بہ خود ایک ادائیگی کا چیک بھی آجاتا باقی جنگ اور جسارت تو مضامین چھاپ کر ایک طرح سے احسان کرتے - یہ ایک الگ ہی موضوع ہے- جانے دیجیئے پھر کبھی سہی-- 
جب مجھے یہ سودا سمایا کہ اپنی تحاریر کو کتابی شکل دے دوں تو اپنی ایک دوست سے رابطہ کیا-انکی والدہ کی بھی کچھ اسی قسم کی ایک کتاب چھپی تھی --ان سے درخواست کی کہ مجھے ان پبلشر صاحب سے متعارف کرا دیں--اور انکے توسط سے اپنا پلندہ لے کر کر انکے ہاں پہنچی -- انکوغالبا دو ہزار روپے دئے انہوں نے بتایا کہ وہ اسکا مسودہ تیارکردینگے اور پھر آگے کام ہوگا -- انہوں نے مجھے کتاب کی کچھ ابتدائی شکل و صورت دکھائی کہ اس قسم کی کتاب تیار ہوگی -- لیکن شومئی قسمت سے کراچی کو جب ہم نے ایک طرح سے الوداع ہی کہہ دیا تو انسے رابطہ ختم ہو گیا۔ ایمیل کے ذریعے رابطہ رکھنے کی ناکام کوشش کی-پھر  اپنی انہی دوست کے صاحبزادے کا سہارا لیا تو  اللہ انکا بھلا کرے کہ انہوں نے  اپنے ایک بھتیجے کی مدد سےاسکی پی ڈی ایف فائیل بعد میں بناکر مجھے ای میل سے  بھیجی-- جسکو میں نے سنبھال کر رکھا -- اسکا پرنٹ بھی نکال دیا--اور عزیز وا اقارب کو بھی ارسال کیا۔۔
ٹورنٹو میں بھی کتاب کی چھپائی کے لئے کچھ ہاتھ پاؤں مارے لیکن وہاں لاگت کافی زیادہ تھی-اور حالات سازگار نہ تھے- 
اسلام آباد میں ایک دور کے عزیز نے اپنی ایک کتاب چھپوائی تھی اس پبلشر کا اتا پتا لیکر وہاں پہنچی۔ انسے ملاقات کی انہوں نے اسی نسخے کو مائیکرو سافٹ ورڈ میں ڈھالنا شروع کیا کام اتنا سست اور غیر تسلی بخش تھا کہ میری واپسی کا وقت آن پہنچا اور میں نسخہ لیکر واپس آئی-- اگلی مرتبہ جب پھر پاکستان أ  نا ہوا تو اس دوران تحریری بوجھ مزید بڑھ چکا تھا-- 
میرے چھوٹے بھائی کو کچھ ترس آیا  تو اسنے بتایا کہ اسکے ایک قریبی جاننے والے  ہیں انکا چھاپہ خانہ ہے وہاں سے آپ اپنی کتاب چھاپ لیں-- اسوقت میری حالت بس یہ تھی کہ اللہ دے اور بندہ لے- اسکے ہمراہ انکے ہاں پہنچی-" ہم پبلشر نہیں ہیں بس کتاب چھاپ دینگے " وہ گویا ہوئے--  تومجھے پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ یہ پرنٹر اور پبلشر دو الگ الگ اجناس ہیں ورنہ میں تو ایک ہی سمجھتی تھی- میرے لئے یہی ایک نعمت غیرمترقبہ تھا کہ کتاب چھپ جائے-
کرسٹل پرنٹر کےمالک تو اپنی بیگم کے علاج کے سلسلےمیں بیرون ملک تھے انکی بیٹی اور منیجر صاحب  گرمجوشی سے ملے – کچھ چھوٹے بھائی کی وقعت اور تعلقات کا اندازہ ہوا-کتاب کا خاکہ تیار ہوا تفصیلی بات چیت ہوئی- رقم کچھ پیشگی ادا کردی اور انہوں نے تیزی سے رف پرنٹ نکال کر مجھے پکڑادئے -- میں نے اسکا جائزہ لیکر انکو واپس بھجوائے کہ کتاب تیار کر دیں-- اب انکو فون پہ فون  ملا رہی ہوں کوئی جواب نہ دارد - یا الٰہی اب کیا ہوگا ؟--بھائی کو دوڑایا معلوم ہوا دفتر تبدیل ہورہا ہے چند روز میں سیٹ ہونگے تو کام شروع ہوگا اور پھر میری واپسی کے دن قریب تر أنے لگے --میری روانگی سے تین روز پیشتر انکے کمپوزر کے ہمراہ دفتر میں بیٹھ کر کتاب کمپوز کی ، " زندگی ایک سفر"کے نام سے ، جو چھاپے خانے گئی-- میری روانگی سے ایک  دن پہلے بمشکل پچاس کتابیں چھپ کر آئیں جوابھی قدرے گیلی تھیں( بقایا دو سو تقریبا ڈیڑھ سال بعد پھر میری آمد پر چھپیں )-- بھاوج نےازراہ محبت کتاب کی تصاویر لیکر فیس بک پر ڈالدیں اور یوں میں اپنے خاندان میں اکلوتی” صاحب کتاب “کہلائی --خوب مبارکبادیں ملیں ۔بہت سے حیران بھی ہوئے۔ جو خوشی اور طمانیت مجھے ملی وہ ان اخراجات اور کلفتوں کا مداوا کر گئی-- میری یہ کتاب ۲۰۱۱ میں چھپی ۔۔کافی ساری کتابیں اپنے سامان میں ساتھ لے گئی۔۔ پاکستان میں  اور بیرون ملک اپنے اعزاء، دوست و اقارب میں تقسیم کیں ۔۔بیشتر متاثر ہوئے اور خاص طور سے وہ جنکو میری لکھنے کی صلاحیت کا علم نہیں تھا ۔۔چند  ایک نے کہا  کہ یہ تو أپ نے چوں چوں کا مربہ تشکیل دیا ہے ، کوئی چیز چھوڑی نہیں۔۔ اور حقیقت بھی یہی تھی اسکا  ایک حصہ خود نوشت ، افسانے ، سفرنامے ، دینی مضامین ، دیگر مضامین سب ہی کچھ شامل تھا  وہ تو غنیمت ہوا کہ عین وقت پر بھائی نے انگریزی مضامین شامل کرنیسے منع کردیا۔۔انسے کافی کہا کہ کتاب کی اشاعت بھی کردیں  لیکن انہوں نے بتا یا کہ وہ ناشر نہیں ہیں اور ناشر بیشتر لاہور اور کراچی میں ہیں بلکہ راولپنڈی ، اسلام أباد میں کوئی ناشر نہیں ہے ۔۔ 
اس کتاب کے پہلےباب میں اپنے بچپن کی خود نوشت لکھی تھی اسپر ایک معزز قاری کاتبصرہ تھا” میں اسمیں بری طرح کھو گیا تھا لیکن اچانک یوں محسوس ہوا کہ ایک شدیدپیاسے سے پانی کا لبالب پیالہ چھین لیا گیا ہو"اور بھی کئی لوگوں کا اصرار ہوا کہ خود نوشت مکمل کریں ۔۔
اب مکمل تو کیا ہوتی بس ایک دور کو مکمل کرنیکی ٹھانی اور یہ فیصلہ ہوا کہ ایک اور کتاب صرف ایک موضوع پر شائع کی جائے۔،اب کے فیصلہ کیا کہ پرنٹر اور پبلشر اکٹھا ڈھونڈا جائے۔۔
ایک مشہور فوجی دندانساز کےانتظار گاہ میں بیٹھی تھی ۔۔دفتر کے رکھ رکھاؤ سے اندازہ ہو  رہا  تھا کہ کرنل صاحب ایک صاحب ذوق شخصیت ہیں۔۔پاس رکھے ہوئے کتابوں کی ورق گردانی کرنے لگی اور ایک کتاب پر ایک ناشر کا پتہ اور فون نمبر دیکھ کر نوٹ کیا۔۔ اس نمبر پر فون کیا،کچھ بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ  نشر و اشاعت  دونوں کرتے ہیں –پھر ان حضرت سے ملاقات ہوئی نیک اور شریف سے بندے لگے کہنے لگے ،” کتاب أپکی مرضی کے مطابق تیار ہو جائے گی لیکن اسکی فروخت أن لائن ہوگی میں اپنے ویب سائٹ پر اشتہار دونگا پھر جو منگوائے گا انکو بھیجونگا۔ میں نے معاملہ طے کرکے حامی بھر دی ۔
اسکا کچھ مواد تو موجود تھا باقی لکھنا شروع کیا وہ بھی اکثرایسے کہ کاغذ قلم لیکر محفل  میں بیٹھی ہوں اور ماضی میں غوطےلگا رہی ہوں اللہ اللہ کرے کچھ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ ناشر صاحب اسوقت تو کافی تعاؤن برتتے رہے ایک اچھی دیدہ زیب خود نوشت ،"مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا" تیار ہوگئی ۔لاگت بھی اچھی أئی ۔ز ندگی کا ایک مکمل دور اسمیں سمٹ گیا کئی دوستوں ،ساتھیوں نے بھر پور تبصرے لکھے ۔۔کتاب چند دوست احباب نے بیرون ملک اور پاکستان میں منگوائی لیکن بازار میں کتاب نہیں أئی۔ کئی دوستوں نے شکوہ کیا کہ فلاں کتب فروش کے پاس آپکی کتاب کا پوچھنے گیا لیکن کتاب نہیں تھی ۔ناشر صاحب سے میں نے کہا تو  وہ کہنے لگے کتب فروشوں  سے میں  بحث مباحثہ نہیں کر سکتا  اور أپکو میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا ۔۔ذرا ذود رنج قسم کے تھےبس اسپر ناراض ہوگئے اور حساب کتاب بے باق کردیا ۔۔ کتاب اب بھی انکے ویب سائٹ پر موجود ہے اور اللہ جانے ناشرانہ حقوق کا کیا حساب کتاب ہے ۔ اس گورکھ دھندے کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔ اور شاید ہی آئے۔۔  اس کتاب کی کافی دھوم مچی کئی اخبارات میں تبصرے ہوئے اور مختلف دوستوں، خود نوشتوں  کے  ناقدوں نے سراہا۔ٹورنٹو کی چند لائبریریوں میں کتابیں رکوائیں اور لائبریری أف کانگریس  واشنگٹن ڈی سی بھی بھیجی۔۔
اب ڈہیروں ڈھیر کتا بوں کوٹھکانے لگانا بھی ایک مر حلہ تھا ۔ مختلف کتب فروشوں کے پاس جا جا کر کتا بیں رکوائیں ۔ ہر ایک نے سب سے پہلے پوچھا " شاعری کی کتاب تو نہیں ہے ، اگر ہے تو وہ نہیں لینگے" اسوقت شاعری، جسے ہم کوہ گراں سمجھتے ہیں کی بے وقعتی کا اندازہ ہوا۔انکا حساب کتاب اللہ ہی جانے۔بکی کہ نہیں ، میں نے ابھی تک پلٹ کر نہیں پوچھا ۔ چند ایک نے سمجھایا کہ یہ آپکا کام نہیں ہے آپکے پبلشر کا کام ہے "۔تمام جاننے والوں کو حتی الامکا ن پہنچائیں، دوست احباب کو بذریعہ ڈاک بھی گئیں ۔۔ کراچی کے ایک مشہور پرنٹر پبلشر جو کہ ہمارے پرانے پڑوسی بھی تھے اور جن سے ان پرانے ناطوں کی بناء پر کچھ اپنائیت کا احساس بھی تھا انکو دونوں کتابوں کی دس دس جلدیں بھجوائیں ۔۔ شروع میں انہوں نے ایک انوایس بنا کر بھیجی تھی لیکن بعد میں ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سرسے سینگ ۔۔ یہ اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنےأپکواسلام کا علمبردار سمجھتے ہیں ۔۔ کیا وہ سب سمجھتے ہیں کہ انسے میرے چند سو روپوں کا حساب نہیں ہوگا؟ 

کتابوں کی ترسیل کا سلسلہ ابھی بھی سلسلہ جاری ہے ۔سفری  سامان میں بھی أ ٓدھی کتابیں ہوتی ہیں  ۔ 
ایسےمیں انگریزی مضامین کا مجموعہ چھاپنے کی ٹھانی جو اسلامی تعلیمات کے پس منظر میں تھیں ۔ یہ میرے زیادہ تر ان مضامین پر مشتمل ہے جو رسالہ" نور " (جو نیویارک سے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا کی سرپرستی میں  چھپتا ہے) کے لئے تحریر کی تھیں ۔ شکر اللہ کا کہ اپنی کتاب خود چھاپنے کا ایک عمدہ ویب سائٹ مل گیا جو امیزون کے اشتراک سے کام کرتا ہے ۔ قدرے وقت تو لگانا پڑا لیکن ایک اچھی کتاب تیار ہوگئی  
Extremism is not our way of life” اس کتاب کا عنوان ہے۔
یہ میرے ایک مضمون کا عنوان بھی ہے اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ أرڈر پر چھپتی ہے اور بھیجی جاتی ہے یہ انتظام مجھے بہترین لگااسلئے کہ نہ کتابوں کا بوجھ ہے نہ ڈھیر ، نہ درد سر۔ میں جب آرڈر دیتی ہوں تو وہ معاوضہ لے کر بھیج دیتے ہیں۔۔
اب جو پچھلے چند سالوں میں اردو میں  لگاتارلکھتی رہی ہوں ان افسانوں اور مضامین کی کتابوں کو چھپوانے کا سودا سمایا ہے ۔کراچی کے ایک کرمفرماپرنٹرپبلشر سے رابطے میں ہوں لیکن معاملہ ابھی تک سلجھ نہیں پارہاہے ۔۔ دیکھیں عملی صورت کب نکلتی ہے ۔۔اوریہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟  دیکھا جائے تو یہ کتابیں چھپوانا بھی ایک خبط ہی ہے اور اللہ تعالٰی کسی کو کسی خبط میں مبتلا نہ کرے۔۔
اب تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے عزیز رشتہ دار ،دوست احباب یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ  بس اور کتابیں نہیں ،خدا کیلئے   ہمیں اپنی کتا بوں سے بچاؤ۔۔
خدا لگتی اگر کہوں توخود اپنا  یہ حال ہے کہ کئی احباب نے اتنی محبت سے اپنی کتابیں ارسال کیں لیکن بس ایک سرسری سا جائزہ لے پائی  ہوں ۔۔تو میں کس منہ سے پوچھوں گی،" أپنے میری کتاب پڑھ ڈالی کیا ۔"


Thursday, January 28, 2016

MLK Day of Service!

'Abida Rahmani' via Global-Right-Path

Jan 19 (10 days ago)
to joinpakistanyahoogroupspakistanpostsimple-islamme
What is the MLK Day of Service?
By
Abida Rahmani

Dr. Martin Luther King JR. Is an established icon of American history who fought racism relentlessly , nonviolently and changed the course of history.
MLK jr  ( 15th January 1929--April 4 1968) was a clergy man. He is best known for his prominent role in African- American civil rights movement  which was a nonviolent  resistance civil disobedience movement.
On October 14 , 1964 MLK was awarded Nobel prize for combating racial inequality through a nonviolent movement. In the next few years he mainly focused on eliminating poverty and stood against Vietnam war.
On August 28, 1963, Clayborne Carson was one of hundreds of thousands of demonstrators at the March on Washington.
He witnessed Martin Luther King, Jr deliver his historic "I Have a Dream" speech. It was a day that changed his life.
In his new book, "Martin's Dream", Carson describes his journey through the civil rights era to today, including becoming a professor at Stanford University, being chosen by Coretta Scott King to edit Dr King's papers, and helping design the memorial to the civil rights leader that now stands in Washington DC.
King got assassinated on April 14, 1968 in Memphis, Tennessee.

In a sermon delivered nearly 55 years ago, Dr. Martin Luther King Jr. described what he called the “Drum Major Instinct” to the congregation in Atlanta's Ebenezer Baptist Church. The words he spoke that day were the inspiration for a national service award that recognizes leaders who give their time serving others but seldom seek the spotlight.
The sermon includes the following passage from Dr. King that acknowledged the desire to lead but emphasizes selfless motives: “Yes, if you want to say that I was a drum major, say that I was a drum major for justice; say that I was a drum major for peace; I was a drum major for righteousness… We all have the drum major instinct.”
The Martin Luther king JR Drum Major program gives organizations and groups an opportunity to acknowledge and celebrate those volunteers who perform extraordinary everyday acts of service with reliability and commitment but seldom receive recognition. As part of the MLK Day of Service, the Corporation for National and Community Service (CNCS) provides two options to recognize individuals who have demonstrated the “drum major instinct” in their communities.
Dr. Martin Luther King Jr. once said, "Life's most persistent and urgent question is: 'What are you doing for others?'"
The MLK Day of Service is a part of United We Serve, the President's national call to service initiative. It calls for Americans from all walks of life to work together to provide solutions to our most pressing national problems.Americans from all 50 states will join thousands of organizations and commit to service this weekend as the Martin Luther King Jr. Day of Service coincides with the 57th Presidential Inaugural and National Day of Service.
Commemorating this day of Service we should remember about the service to humanity in Islam and as a Muslim what we are obligated to.
The verse of the Holy Qurán, which so comprehensively covers this concept of service to humanity, reads
O people of Islam, "You are the best people ever raised for "the good of" mankind "because you have been raised to serve others"; you enjoin what is good and forbid evil and YOU believe in Allah." (3:110)
You will remain the best as long as you are service-minded, promote good and promote the welfare of society. If you fail to do this, you no longer have a right to boast of the superiority of Islam and the Muslim Ummah. A society which is insensitive to the suffering of other human beings and is not always inclined to serve the cause of humanity cannot be described as an Islamic society, no matter how much it adhered to other aspects of Islamic teachings.
The fundamental qualities that we must all acquire to serve mankind or to develop a passion to serve mankind are: love for humanity, kindness in our hearts for others, a charitable disposition, humility, honesty, a thirst for knowledge, a desire to share knowledge with others and a constant desire to strive in the cause of Allah by doing good. We must be a people from whom goodness flows towards others. Most  of our Muslims possess these characteristics.
The teachings of the Holy Qurán and the example of the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) direct us on how best to serve mankind. The Holy Prophet  (peace and blessings of Allah be on him) practiced the teachings of the Holy Qurán to the fullest extent and is the best example of the true representation of service to mankind and to Allah. That is why Allah says in the Holy Qurán:
"And do not forget to do good to one another." (2:238)
And about the Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) the Holy Qurán says:
"and we have sent you not but as a blessing (mercy) for the entire universe (for all peoples)" (21:108)
"Verily you have in the prophet of Allah an excellent model." (33:22)
The Holy Prophet (peace and blessings of Allah be on him) emphasized love, sympathy, and kindness towards all. He also emphasized that we must show each other great appreciation. He said, "One who is not grateful to mankind is not grateful to Allah." (Tirmidhi)

Thursday, December 17, 2015

دہشت گرد

دہشت گرد

از
عابدہ رحمانی

کئی روز ناساز رہنے کے بعدآج اس کی طبیعت کافی بہتر محسوس ہو رہی تھی ۔ جسم میں جیسے قدرےطاقت آگئی ہو ورنہ تو جوڑ جوڑ میں دکھن تھی۔اسکابہت جی چاہا کہ باہر نکل کر چہل قدمی کی جائے ۔۔یوں بھی یہ اسکی ایک عادت ثانیہ ،ایک معمول تھا۔کام کاج تو کوئی خاص تھا ہی نہیں ، ۔۔اسے وہ وقت بری طرح یاد آتا تھا جب فرصت کے چند لمحات کو ترس جاتی تھی اور اب اسکا جی چاہتا ہے کاش کوئی مصروفیت ہوتی۔اسنے جوگرز پہنے ، ہلکی جیکٹ پہنی،فون جیب میں ڈالا،سر پر ہیٹ پہنا اور روانہ ہوئی ۔۔چلتے چلتے وہ تمام وقت تلاوت کرتی رہتی یا پھر اپنے فون سے ائر پلگ لگا کر تلاوت سنتی ۔۔اللہ سے تعلق جوڑ کر اسے یک گونہ سکون اور اطمینان ہوتا۔۔
دور سے رابرٹ اپنے دو خونخوار قسم کے کتوں سمیت نظر أیا اسنے گرم جوشی سے ہاتھ ہلایا اور قریب أکر اسکی خیریت دریافت کی ۔۔اسنے اپنی بیماری کی کچھ تفصیلات بتائیں۔۔ پہلے پہل جب وہ ملتا تو وہ اسکو ہیلو کہتا اور یہ ہائے کہہ دیتی۔۔یہاں پر ذرا غیر ملکی نظر أنیوالوں کو ہیلو کہا جاتا ہے ورنہ تو ہائے ،ہائے اور بائے بائے چلتا ہے ۔۔ایک روز تو وہ سپینش زبان میں شروع ہوا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ اسے لاطینی سمجھتا ہے۔۔ لیکن جب ایک روز وہ شلوار قمیض پہنے نکلی تو اسنے قریب أکر کہا " نمسٹے" وہ مسکرائی پھر ایک روز جب اسنے کہا " ہیپی ڈیوالی " تو اس سے برداشت نہیں ہوا اور اسنے سارا پول کھول دیا ۔۔ اب تو وہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے۔۔ وہ اس سے اکثر پاکستان یا مسلمانوں کے بارے میں ذکر کرتااور وہاں کے حالات پر گفتگو کرتا ۔۔أئے دن خبروں مین ایک سے ایک اندوہناک قصےأ ٓرہے ہوتےاور وہ اسے یقین دلانے کی کوشش کرتی کہ ہم تو انتہائی مہذب اور امن پسند ہیں۔امن وامان ، چین اور سکون کے متلاشی ہیں  ۔۔ حقیقت بھی یہی تھی اسی امن، سکون اور چین کی خاطر تو سات سمندرپار اس انجانے ملک میں آبسےتھے۔۔ملک تو خیر ایسا تھا کہ ہر کوئی بسنے کے خواب دیکھتا۔۔لیکن وہ تو کتنے انقلابات سے گزر کر یہاں تک پہنچی تھی۔۔ 
 گھر کے چند افراد کے علاوہ اس شہر میں اسکا کسی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ رکھنا بھی نہیں چاہتی تھی دوچار جاننے والوں سے فون اور ای میل کے ذریعے دعا سلام ہو جاتی تھی۔ اسی چہل قدمی کے بہانے کچھ حرکت ہوجاتی۔ورزش کی ورزش ،تازہ ہوا اور موسم خوشگوار ہو تو یہ چہل قدمی کافی پر لطف ہوجاتی ۔۔دو چار لوگوں سے ہیلو ہائے بھی ہو جاتی کچھ لوگ چلتے پھرتے نظر آتے ورنہ یہاں کی بے کیف ،تنہااور گوشہ نشین زندگی سے وہ اکثر بیزار آجاتی ۔۔

زیادہ طبیعت اکتائی تو فون ملا لئے اپنے دور افتادہ بھائی بہنوں عزیزوں، دوستوں  سے باتیں کرلیں ۔ورنہ کمپیوٹر پر ہی اسکی دنیاأّباد تھی۔ یہ ایجاد اور اسکی سہولتیں اسکے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ سےکم نہیں تھی۔۔
ملک بھی تو کیسے چھوٹا تھا ۔عادل کے اس دنیا سے جانے کے بعد وہ ریزہ ریزہ، ہو چکی تھی ساراشیرازہ منتشر ہوکر کرچی کرچی ہوچکا تھا۔ وہ اللہ سے ہر وقت یہی دعا کرتی کہ وہ اسے اپنے بچے سے جلد ملا دے ۔۔ اسے یقین تھا کہ اسکا بچہ شہید ہے جسنے اپنے نا شکرےمہمان پر اپنی جان وار دی تھی اسکا مال اور اسکی جان بچائی۔۔اسکے شہر میں تو یہ قتل و غار گری اور لوٹ مار روز کا معمول تھا پولیس گچھ تفتیش کرتی اورپھر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہو جاتا۔۔  ۔۔پھر وہ دعا کرتی یا اللہ مجھے بھی شہادت کی موت عطا کردے تاکہ میں بھی اپنے بچے کے پاس اسکی جنتوں میں چلی جاؤں ۔۔جوانی میں بیوگی کا اتنا بڑا صدمہ  اور دکھ جھیلے اور پھر یہ دکھ اور صدمہ، اللہ تعالی سےوہ ہمہ وقت اب مذید أزمائشوں سے پناہ مانگتی۔۔لیکن یہ اللہ ہی کی ذات تھی جسنے اسکو حالات  سے نبرد أزما ہونے کی ہمت اور حوصلہ دے رکھا تھا  ۔زندگی کے دھارے میں بہتے بہتےاور حالات سے لڑتے لڑتےوہ جیسےپھر سے جی اٹھی۔بڑھاپا بھی أ ٓن پہنچا تھا۔ اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کردئے ہر سانس کے ساتھ اللہ تعالی کی شکر گزاری تھی۔۔

اسکےبچےپہلے باقاعدگی سےمختلف مواقع اور اجتماعات میں  مسجد جاتے تو اپنے لوگوں سے ملنے کے مواقع میسر آتے۔یہاں کی مساجد ایک طرح سے کمیونٹی سنٹر ہوتے ہیں۔نماز ، عبادت ،تقاریر ملنا ملانا ،گپ شپ اور پھر مختلف تقریبات ،لذت کام و دہن کے مواقع ،عیدین اور دیگر مواقع پر مختلف بازار بھی لگ جاتے اور اپنی دیسی اشیاء خوب بکتیں ۔۔اگر یہ نہ ہو تو اپنے جیسے لوگوں کو دیکھنےاور ملنے کو آدمی بری طرح ترس جائے ۔۔مختلف رنگ و نسل کے مسلمان، اپس کی یگانگت، محبت اور الفت اسکو بہت تسکین دیتی اپنے دین اوراپنے لوگوں سے جڑ کر روحانی تقویت مل جاتی ۔مساجد کے یہ مواقع تو اسکو اپنے ملک میں بھی میسر نہین تھےبچوں کو بھی نیک اور پاکیزہ ماحول میسر تھا۔۔ 
یہاں رفتہ رفتہ جو مسلمان مخالف جذبات نے سر اٹھایا،حالات بدلنے شروع ہوئے تو کمزور قسم کے مسلمانوں نے مساجد سے دوری اختیار کرنی شروع کی وہی اسکے بچوں نے کیا ۔۔انکو اپنی ملازمتوں ،اپنے بال بچوں اور اپنی رہائش کی فکر تھی ۔۔کبھی کبھی تو اسے محسوس ہوتا کہ ایک خوفزدگی کا ماحول ہے۔جابجا حجاب پہننے والی خواتین کو پریشان کیا گیا۔نیویارک میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو گولی مار دی گئی  ۔مساجد پر حملے ہونے لگے کہیں پر سؤر کا سر پھینک دیتے ایک أدھ جگہ أگ لگانے کی کوشش کی گئی توڑ پھوڑ ہوئی، سب سے بڑھ کر میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ہروقت بحث مباحثے ۔۔ کہا جاتا تھا کہ مساجد جانیوالوں  پر نظر رکھی جارہی ہے انکا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور ابلاغ عامہ مسلمانوں کے متعلق ہر وقت زہر اگلتے 
اس بات کاا سے بہت دکھ اور صدمہ تھا۔۔۔
داعش کی بہیمانہ کارروائیوں کی خبریں دہلانے والی تھیں مشرق وسطے تو مدتوں سے خونریزی کا میدان کارزار بنا ہواتھا۔۔ عالمی طاقتوں نے امن عالم کے نام پر اسے اپنا أکھاڑہ بنا رکھا تھا لاکھوں مسلمان ، مخالف مسلمانوں کے ہاتھوں،جنگوں اور بمباریوں سےہلاک ہوئےعراق اور شام کی قتل و غارتگری اور ہلاکت خیزی نے افغانستان، کشمیر ، پاکستان ، برما ، فلپائن اور وہاں کی خونریزیوں کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ دیا ۔ ۔۔ القاعدہ کے بعد   داعش  یا  ملت اسلامیہ کا ہوا اور فتنہ  پوری دنیا کو دہلائے جا رہاتھا ۔۔ پیرس میں ۱۵۰ بےگناہوں کا خون بہایا گیا پوری دنیا لرز اٹھی اور داعش کی سر کوبی کیلئے متحد ہوگئی۔۔فرانس ، امریکہ ، روس اور بر طانیہ کی فضائی افواج کی بمباری سے بے شمار بے گناہ مارے جارہے تھے  ۔۔
پیرس کی ہلاکتوں کے بعد رابرٹ کافی اکھڑا اکھڑا ساتھا،"ہم ان لوگوں کو پناہ دیتےہیں اور پھر یہ ہمارے ہی ملکوں میں ہم لوگوں کو مارتےہیں اب پیرس کی ہلاکتوں کا کیا جواز ہے۔۔دہشت ہے دہشت، ان دہشت گردوں کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا انکو ختم کرنا ہوگا"
میں بے حد افسردہ ہوں۔کاش کہ ایسا نہ ہوا ہوتامجرموں سے سختی سے نپٹنا چاہئے "وہ بس اتنا ہی بولی ۔ وہ تھک جاتی تو ایک بنچ پر بیٹھ جاتی وہ ادھر ادھر ٹہل ٹہل کر باتیں کرتا رہتا۔۔ دونوں ہی اسوقت غصے اور افسوس میں تھے۔۔ 
حفاظتی اداروں نے تھینکس گیونگ پر حملوں سےمتنبہ کیا تھاشکرہےکہ  خیریت رہی ۔بلیک فرائڈے کی وہی رونقیں ، خریداریاں اور بھیڑبھاڑ۔۔
ہر جگہ کرسمس کی بتیوں کی چکا چوند تھی اسکے محلے کے تقریباً سارے ہی مکان کرسمس لائٹوں سے سج گئے۔ایک انکا گھر ان معدودے چند گھروں میں تھا جسپر بتیاں نہیں تھیں ۔اسنے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ لال پتوں والے دو گملے ہی لاکر باہر دروازے پر رکھ دے اسمیں أ ٓخر کیا برائی ہے ۔۔وہ یوں بھی زیادہ سخت مزاج نہیں تھی۔۔

کولوروڈو اسپرنگ میں خاندانی منصوبہ بندی کے دفتر پر فائرنگ ہوئی ۔۔ تین لوگ ہلاک ہوئے ۔۔ چھ گھنٹے مقابلے کے بعد حملہ أؤر پکڑا کیا اسنے اللہ کا بے حد شکر ادا کیا کہ اسکا مسلمانوں اور داعش وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں نکلا ۔۔امریکہ میں جو چاہےمن پسند گن،  بندوق ، پستول خرید سکتا ہے ۔۔ اسلئے اسلحہ کے شائقین کی عیاشی ہے لیکن ساتھ ہی یہاں ہر ایک کے پاس بندوقیں أئے روز کی قتل و غارتگری کا سبب ہیں۔۔
رابرٹ سے اسکے بارے میں باتیں ہوئیں "بندوق ،گنز پر پابندی ہونی چاہئےاگر یہ کھلا اسلحہ نہ ہو تو آئے دن کی یہ فائرنگ اور قتل وغارتگری قابو میں آجائیگی۔امریکہ میں آئے دن اسکولوں ،کالجوں یونیورسٹیوں اور مختلف جگہوں پرفائرنگ ہوجاتی اور کئی ہلاکتیں ہو جاتیں۔"۔رابرٹ مسکرا کر کہنے لگا ،" مجھے تو گنز بہت پسند ہیں اور میں اس تجویز کی  سختی سے مخالفت کرونگا۔ ہمیں اپنی حفاظت کیلئے گنز کی ضرورت ہے" وہ اسے حیرت  اور افسوس سے دیکھنے لگی۔۔
وہ گھوم پھر کر واپس أئی تو ٹی وی پر سی این این  لگایا ۔ سان برنارڈینو میں ذہنی معذورین کے سنٹر پر فائرنگ سے 14 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو چکےتھے۔۔تین حملہ آور فائرنگ کرکے فرار ہوچکے تھے ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ہر چینل پر یہی خبر شد ومد کے ساتھ تھی ۔وہ بھونچکا رہ گئی یا اللہ خیر۔کسی مسلمان کی حرکت نہ ہو" اسنے اپنی دوست کی خیریت پوچھنے کے لئےفون کیا جو وہاں قریب ہی رہتی تھی۔۔وہ بھی ٹی وی سے جڑی پریشان بیٹھی تھی۔۔ دو سال پہلے وہ اسکےپاس گئی تھی اور دونوں جب ٹرین میٹرولنک پر لاس اینجلس جاتیں تو سان برنارڈینو کا اسٹیشن فورا ہی أٓجاتا۔۔شام کے ہوتے ہوتے دو قاتلوں کے نام منظر عام پر أئے ۔۔یہ پاکستانی نسل کا شادی شدہ جوڑاتھا۔۔مبینہ قاتل سید فاروق اسی ادارے میں کام کرتا تھا۔۔خبروں کے مطابق وہ وہاں ہونیوالی کرسمس پارٹی میں موجودتھا، اسکی ایک ساتھی کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی گھرأ ٓیااپنی بیوی تاشفین ملک کو لیا، چھ ماہ کی بیٹی کو ماں کے پاس چھوڑا یہ کہہ کر کہ ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں ۔جنگجؤں والے کپڑے پہنے اتنے سارے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کر کے بھاگ أئے چار گھنٹے کے بعد پولیس نے انکو بے دردی سے قتل کردیا۔۔چشم دید گواہوں کے مطابق دونوں کے ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے تھے۔ عورت تاشفین ملک باپردہ عورت تھی لیکن اسوقت وہ مختصر لباس میں تھی۔ میڈیا، پولیس اور ایف بی أئی مجرموں کو کیفر کردار کو پہنچانے پر مطمئن تھی ۔شروع میں تو کہا گیا کہ کسی گروہ سے تعلق نہیں  ہے لیکن بعد میں ریڈیکالئزیشن کی گردان ان کا سب سے بڑا جرم ٹہری ۔۔اسلام پر عمل پیرا ہونا دہشت گردی پر اکساتا ہے ۔۔وہ بری طرح لرز گئی تمام مسلمان ہی دہشت زدہ رہ گئے۔ میڈیا پر تو ایک طوفان ایک ہنگامہ مچا ہوا تھا ۔۔ مسلمان اور پاکستانی اس جوڑے کے کردہ یا نا کردہ گناہ پر شرمسار اور نادم تھے۔۔یقین کرنیکو تو جی نہیں چاہ رہاتھالیکن شواہدیہی تھے کہ وہ دونوں قاتل تھے۔انکا ماضی حال کنگالا جارہاتھا ۔۔فاروق نے اپنی پسند کی پردہدار لڑکی سے ایک أ ٓن لائن ویب سائٹ کے ذریعے رشتہ کیا ۔۔نکاح مسجد الحرام مکہ معظمہ میں ہواتھا۔ایک اچھے مسلمان کے لئے تو یہ سب باعث سعادت تھا۔۔لیکن کیا وہ دونوں واقعی قاتل اور مجرم تھے؟۔متضاد خبروں نے اسکا ذہن بے حد پریشان کردیا۔ہر وقت کی خبریں اور تبصرے ذہنی اذیت اور کوفت کا باعث تھے اسپر سیاسی لیڈروں کے زہر آلود پیغامات۔۔
ان حالات کی وجہ سے وہ بہت دلبرداشتہ اور غمزدہ تھی۔۔ 
آج موسم ابرآلود تھا شام کو بارش کی پیشن گوئی تھی اسنےسوچا کچھ چہل قدمی کر أؤں شاید رابرٹ ملے ۔اسے یہ سوچ کر کچھ گھبراہٹ سی ہوئی " اللہ جانے وہ کیسا محسوس کررہا ہوگا ؟ ایک مرتبہ تو اسنے اتنا بھی کہا کہ یہ سارے مذہب ہی فساد کی جڑ ہیں "لیکن پھر وہ اسلام میں کافی دلچسپی بھی لینے لگا تھاشاید اسلام قبول کرلے وہ اکثر سوچتی ۔انکی بس یہی چلتے پھرتے ملاقات اور گپ شپ ہوتی وہ اپنے کتوں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتاتھا۔اپنے کتوں کو لپٹاتا ، ہاتھ پھیرتا رہتا اسے اسکے کتوں سے بڑی گھبراہٹ ہوتی  اور وہ ہمیشہ یقین دہانی کرتا کہ یہ بہت ہی تمیزدار اور سدھے ہوئے کتے ہیں ۔۔ یہ تو میرے بہت پیارے بچے ہیں رابرٹ لاڈ سے کہنے لگتا ۔بیوی سے طلاق ہوچکی تھی ایک بیٹا تھا وہ دوسرے شہر میں رہتا تھا۔ انکے متعلق اسنے مختصراً بتایا۔
 اسی ادھیڑ بن میں وہ باہر نکلی فون پر تلاوت لگا کر ایرپلگ لگالئے۔۔ایک عجیب سا مہیب سناٹا چھایا ہوا ۔با دلوں کا رنگ گہرا ہو رہاتھا ،ہوا بالکل بند تھی یوں لگتا تھا طوفان کی أمد أمد ہے ۔ ایسے موسم میں یہاں یوں بھی لوگ دبک جاتے ہیں دور دور تک کوئی نہیں نظر أرہاتھا۔
اچانک دور سے رابرٹ اپنے ٹرک میں جاتا ہوا دکھائی دیا اسکے پاس ایک ہیوی ڈیوٹی پک اپ تھا جسے یہاں ٹرک کہتے ہیں ۔اسنے اسے ہاتھ ہلایا لیکن وہ جیسے نظر انداز کرکے گزر کیا۔۔" چلو کوئی بات نہیں جلدی میں ہوگا" اسنے جیسے اپنے آپکو تسلی دی۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے کہ گھوم پھر کر چکر لگا رہا ہے اب وہ پارک کے قریب پہنچ چکی تھی ۔وہاں بھی ہو کا عالم تھا شاید موسم کا اثر تھا۔۔
اتنے میں رابرٹ نےاسکے قریب آکر گاڑی آہستہ کی ،کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا جیسے وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہو۔۔وہ اسکی جانب جیسے ہی متوجہ ہوئی "او یو بلڈی ٹیررسٹ "اس نے جواب دینے کے لئے منہ کھولاہی تھا ۔۔تڑ تڑ تڑ تڑ گولیوں کی بوچھاڑ، وہ چکرا کر گر پڑی۔۔خون کے فوارے جاری تھے اسکی شہادت کی دعا قبول ہوچکی تھی ۔۔ اسکا فون دور گر پڑا ۔۔اور تم انہیں مردہ مت کہو  ۔ جو اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں وہ زندہ ہیں اور اللہ کے ہاں رزق پا رہے ہیں البقرہ کی آیات کی تلاوت جاری تھی۔۔۔۔۔





--