Tuesday, February 12, 2013







"جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے  "
ولنتٹا ئن ڈے -- محبت منانے کا دن 
عابدہ رحمانی 

 
- بازاروں میں زبردست چہل پہل ہے  ہر طرف لال سرخ دل نظر  آرہے ہیں چھوٹے بڑے ہر سائز میں جو پسند آئے ، دل برائے  فروخت ہیں جو چاہیں  خرید لیں- یہ ضرور ہے کہ ویلنٹائن ڈےکا دل محبت کی نشانی ہے ایک محبت بھرا دل ، اس دل میں سوائے محبت کے اور دوسرا کوئی جذبہ نہیں ہے محبت، محبت اور محبت--جذبات سے عاری اس دنیا کے کاروباری دماغوں نے سرد خانے سے صدیوں پہلے روم میں گزرے ہوئے سینٹ ویلنٹاین کو زندہ کرکے محبت کی نشانی بنا دیااور جذبات کو نت نئے نام اور رنگ دے دئے ہیں- بقول شاعر
  
" کوئی تعویذ اس رد بلا کا -محبت میرے پیچھے پڑ گئی ہے 
 ل
ل 
 سرخ پھولوں کی بھرمار ہے خاصکر سرخ گلاب اور دام دوگنے تین گنے، چار گنے لیکن خریداری جاری ہے چاکلیٹ اور کینڈیز کے ڈبے،بیکری کے تمام مصنوعات  کو دل کی شکل میں بنایا گیا ہے  سٹرا بری کے دام بھی آج زیادہ ہیں اس کی مخصوص شکل کی وجہ سے  اسکو چاکلیٹ میں ڈبو کر اس شکل کو اور ابھارا گیا ہے کھلونوں  نے دل پکڑا ہوا ہے -سرخ دھڑکتا ہوا دل انسانی زندگی اور اسکی امنگوں کا آئینہ دار-لیکن اگر حقیقتا دیکھا جائے تو محبت زندگیوں سے مفقود ہو رہی ہے نمائشی طور پر لوگ ایک دوسرے کو آئی لو یو کہہ دیتے ہیں لیکن ہمارے جیسے جذباتی معاشروں میں بھی وہ محبت اور خلوص ختم ہوتی جارہی ہے- 
 
آج کے یہ سارے دل  اور تمام مصنوعات 14 فروری کا دن گزرنے کے بعد  اگلی شام تک آدھی اور تین چوتھائی قیمت  تک آجائینگی  یہ یہاں کی معیشت ہے ، خرید و فروخت کا طریقہ کار گاہکوں کو ایک نفسیاتی کشش اور دباؤ میں ڈالنے کی کوشش ، زیادہ  سے  زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب اور یہ احساس کہ یہ سب انتہائی ضروری ہے، اسکے بغیر نہ تو تعلقات قائم ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اظہار محبت ہوسکتا ہے  (اب تو ہم بھی اس میں طاق ہوگے کہ بعد میں اونے پونے خرید لو) -بلکہ اب پہلے سے سوچ کر رکھا ہوتا ہے کہ کینڈیز اسکے بعد خوب سستی ہو جائینگی-
 
مرد حضرات خواتین کیلئے۔ خواتین مردوں کیلئے، خاندان کے افراد ایک دوسرے کو تحائف اور   پھول دیتے ہیں- اسکولوں میں بچے ایک دوسرے کو اور اپنے اساتذہ کو  کارڈ اور تحائف دیتے ہیں پارٹیاں ہوتی ہیں - بچوں کو مختلف طریقوں سے کارڈ بنانا سکھایا جاتاہے چھوٹے چھوٹے کارڈ چھوٹے چھوٹے تحائف کی صورت میں محبت بانٹیں- جو مجھے تو اچھا لگتا ہے اسی بہانے کوئی پوچھ  لیتا ہے ، ورنہ کسے فرصت ہے اس بھاگتی دوڑتی ذندگی میں -خواتین مرد، بچے بوڑھے ہر ایک دوسرے فرد کے لئے اپنی محبتوں کا اظہار کرتے ہیں- کتنے تو اپنی منگنی اور شادی کو اس دن طے کرتے ہیں-یہ اس خطہ زمین میں انتہائی نیک اقدام ہے کہ کوئی جائز رشتے میں جڑ جائے- ریسٹو رانوں میں جو رش ہوتا ہے بکنگ مشکل سے ملتی ہے اور تیسری صنف والے استغفراللہ .... وہ بھی کسی سے کم کیوں رہیں؟ انکو بھی تمام حقوق حاصل ہیں اور آخر انکا بھی دل ہے اور محبتیں ہیں - لب لباب یہ ہے کہ دل اور محبت کا چولی دامن کا ساتھ ہے-
 
      -چند کتوں والوں سے ہیلو ہائے ہوئی یہ رابطہ کتے کی سطح پر ہوتا ہے انکے کتے کی تعریف کر لی نسل وغیرہ پوچھ لی انکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہر جگہ زندگی   گذارنے کےاپنے  آداب اور تقاضے ہوتے ہیں - یہ میں نے   ابھی کچھ عرصے سے شروع کیا ہے -کتوں اور بلیوں اور دیگر پالتو جانوروں کے لئے   بھی ولنٹاٰ ئن کے تحائف کی خریداری جاری ہے انکے لئے بھی دل کی شکل میں اشیا ء تیار  ہیں جو انکو کل دیے جائینگے -آخر کو وہ بھی خاندان کے فرد ہیں ہر تہوار پر انکے تحائف کا خیال ضروری ہے وگرنہ  زیادتی کا احتمال ہے ---یہ تو کرہ ارض کے اس نصف حصے کی کہانی ہے جہاں 12      فروری کی شام ہے جبکہ باقی نصف پر دِن طلوع ہو رہا ہے اور وہ بھی 13  کا - اور اگلے دن14 کو ہی ہیپی ولنٹائن یا یو ار مائی  ولنٹاین ہو جائے گا -وہاں کا ہنگامہ یہاں سے زیادہ بے ہنگم ہے لیکن وہ پوری طرح اس کے منانے کے لئے تیار ہیں -
 
تقریبا 30 -٣٢ سال پہلے ایک عزیزہ پاکستان  آئین تو دل کے شکل کے دیدہ زیب چوکلٹ کے ڈبے کافی مقدار میں لائیں ایک روز مخصوص بناوٹ کے متعلق پوچھ ہی لیا ...بتایا کہ وہاں ایک دِن منایا جاتا ہے جسے day valentine   کہتے ہیں اور یہ اس دِن دِیے جاتے ہیں میں نے پہلی مرتبہ یہ نام اس وقت سنا- نہ جانے ہم پینڈو تھے یا زیادہ جدید نہیں تھے کہ ولنٹائن کے متعلق بھی نہیں جانتے تھے لیکن یہی حال ہالوین اور دوسرے تہواروں کا بھی تھا-  اور پھر کس کے گھر جائیگا طوفان بلا میرے بعد --اس طوفان نے سارے ممالک کودیکھتے ہی دیکھتےجھکڑ لیا  وہاں بھی جہاں سب کچھ در پردہ ہو رہا ہے - اس کی کیا تاریخ ہے St. Valentine حقیقتا کون تھا اور  تھا بھی کہ نہیں بس اب یہ دِن حقیقت ہے -امریکا اور یوروپ  کے   کاروباری دماغوں نے یہ دِن بنا لیا اور ساری دنیا کے لئے ایک شغل شروع کر دیا - امریکا کوئی دِن منائے اور باقی لوگ پیچھے رہیں یہ ناممکن ہے -اچھی باتوں کو اپنانا مشکل ہے لیکن جو اپنایا جاسکتا ہے اس میں دیر کیسی؟ خرد کا نام جنوں رکھ دیا  جنوں کا خرد
 جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے
 
پھر میڈیا اور  ٹیکنولوجی جسنے دنیا کو اسقدر  چھوٹا کر دیا -نمعلوم ہمارے عید نے انکو ابتک کیوں متاثر نہ کیا اور مشکل ہی  ہے کہ کرے -ہماری دلجوئی کے لئے عید کے ٹکٹ تو نکال  لئے جو ہم ڈر کے مارے نہیں خریدتے "ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ "        -
 
 اب سوچنے کی بات یہ ہے  کہ حد بندی کہاں کرنی ہے  - محبت کرنا اور محبت بانٹنا نہ کوئی جرم ہے اور نہ کوئی گناہ - آللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور اپنے ان بندوں کو پسند کرتا ہے جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، جائز اور ناجائز کی تفریق کیسے کی جائے ؟ ایک درمیانہ اور جائز، حلال راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے آخر نوجوانوں کو بھی کوئی مثبت سرگرمی     چاھئیے-آپ انکو آخرت کی عذاب سے ضرور خبردار کریں لیکن دنیا میں عزت اور وقار  کے    ساتھ   جینا بھی  سکھایں- ہم الله سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا سوال کرتے ہیں - ہمارے مذہبی اور قدامت پرست حلقے اس روز کی شد و مد سے مخالفت کرتے ہیں اسکو شرم و حیاء کے منافی سمجھتے ہیں اگر واقعی بات بے حیائی تک جائے تو یقینا غلط ہے بھارت کی قدامت پرست ہندو جماعتیں بھی اسکی مخالف ہیں- ہمارے کچھ حلقے اس روز کو حیا ڈے کے طور پر منانا چاہتے ہیں-- حیا ڈے منانا بہت اچھا خیال ہے کچھ سوچیں اسکو کیسے دلچسپ بنانا ہے اور اسی کو کیوں کسی اور دن کو بھی منایا جاسکتا ہے -جوانوں کو اس تنگنائی میں نہ بند کریں کہ انکو سانس لینا بھی مشکل  ہوجائے - اب میں تو آپ لوگوں کو کوئی happy happy ہرگز نہیں کہونگی ----






Friday, February 8, 2013

memories of life


Life is a journey

List Price: $9.99 

Add to Cart
About the author:
Abida Rahmani is an American of Pakistan descent. She writes in English, Urdu and Pashtu. She writes articles, columns , short stories and on multiple topics. She has gone through many diverse cultures
and many sweet and bitter experiences of life.

Life is a journey 
 

memories of life

Authored by Abida Rahmani
Edition: 1
It is a book in Urdu language.The book is on multiple topics. This book has memoirs of the author Abida Rahmani her early life and some other chapters of her life . Most of the book is based on real life stories. A couple of the stories are fiction.


Publication Date:
Feb 01 2013
ISBN/EAN13:
1482330601 / 9781482330601
Page Count:
284
Binding Type:
US Trade Paper
Trim Size:
6" x 9"
Language:
Urdu
Color:
Black and White
Related Categories:
Biography & Autobiography / Cultural Heritage


عابدہ

Thursday, February 7, 2013


دلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے؟

عابدہ رحمانی

 آج کے پاکستان اخبارات میں شیخ الاسلام طاہر القادری کو شاہ محمود قریشی  اور جاوید ہاشمی کے بیچ میں براجمان دکھایا گیا ہے  اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی نیا اتحاد ان دونوں جماعتوں میں جنم لے رہا ہے - تحریک انصاف بھی بر سر اقتدار آنے کیلئے سارے حیلے حوالے استعمال کر رہا ہے اب انکو پاکستانی سیاست کی سمجھ اگئی ہے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا گٹھ جوڑ بھی ایسا ہے کہ چند دن پہلے تک تو عمران خان قادری صاحب کو برا بھلا کہہ رہے تھے اور اب اتحاد ہوگیا - وہ جو کہتے ہیں جنگ اور محبت میں سب جائز ہے- اسطرح الیکشن جیتنے کے لئے سب جائز ہے  -
 قادری صاحب کے دھرنے کے بعد
دشمنوں نے اڑائی اور خوب اڑا ئی کہ شیخ الاسلام میدان سیاست سے پسپا ہو کر واپس عازم کینیڈا ہوگئے  ہیں ہوسکتا ہے وہ تازہ دم ہونے کیلئے دوبیئ کا چکر کاٹنے گئے ہوں-آخر اتنی گرما گرمی کے بعد کچھ آرام بھی ضروری تھا - بمشکل دو ماہ ہوئے ہیں

مولانا طاہرالقادری اچانک اپنے گوشہ عافیت سے نکل کر پاکستان پہنچے اور تقریبا ایک ماہ پاکستان کی سیاست میں زبردست ہلچل مچا دی بلکہ ایک بھونچال لے آئے اخبار نویسوں کالم نویسوں کو وافر مقدار میں مواد فراہم کردیا کالم کے کالم صفحے کے صفحے سیاہ ہوئے گرما گرم چٹ پٹی خبریں ایک زندگی کی لہر دوڑادی- ے  انکی واپسی سے ایک چہل پہل سی آگیی
شیخ الاسلام کو جب پہلی مرتبہ جمعے کی نماز میں اپنے عقیدتمندوں کے جھرمٹ میں اسلامک سنٹر آف کینیڈا  مسی ساگا (اثناء مسجد) میں دیکھا تو مجھے کچھ جانے پہچانے لگے وہاں مردوں اور عورتوں م کے مصلے کے بیچ میں ایک چھوٹی سی شیشے کی دیوار ہے- پھر معلوم ہوا کہ یہ تو طاہرالقادری ہیں وہ ایک گروپ کی صورت میں داخل ہوتے  اور پیچھے کی صفوں میں  انکے مرید یا عقیدتمند انکے لئے کرسی رکھتے اور کرسی کے اوپر ایک کشن، وہ اپنی مخصوص وضع قطع کے ساتھ نماز پڑھ کر خاموشی سے روانہ ہوجاتے انکی اس مسجد میں کبھی بھی کوئی خاص اہمیت محسوس نہیں کی گئی نہ ہی انہوں نے اس مسجد میں کبھی کوئی پروگرام یا کوئی سرگرمی دکھائی - خاموشی سے آتے اور خاموشی سے چلے جاتے- یہ انتہائی حیرت کی بات ہے کیونکہ اس مسجد میں آئے دن گونا گوں مقررین آتے ہیں اور اپنی جوہر خطابت دکھاتے ہیںاور یہ مسجد مسلم نوجوانوں میں کافی مقبول ہے- طاہرالقادری صاحب کی وہاں اپنی ایک مسجد بھی ہے جسمیں میرا کبھی جانا نہیں ہوا اسلئے اسکے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتی- لیکن سوائے اسکے کہ سی این این پر انکا دہشت گردی اور خود کش دھماکوں کے خلاف کچھ بیانات آئے تھے بلکہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف فتوہ دیا تھا اور کرسچین امان پور نے انکا انٹرویو لیا تھا جسکی سی این این اور دیگر نشریاتی اداروں سے کافی تشہیر ہوئی تھی-  لیکن صد افسوس کہ وہ ملالہ یوسف زئی کے مقام تک پہنچنے میں بہر حال ناکام رہے--میری نظر میں تو یہ کافی ایک مثبت قدم تھا جبکہ بیشتر علماء اس سلسلے میں خاموش ہیں- اسکے علاوہ انہوں نے یہ تقریبا 7 سال بڑی خاموشی سے گزارے بیشتر اخباری اطلاعات کے مطا بق وہ اپنی کچھ تصنیفات میں مصروف تھے - میڈیا سے لاتعلق تھے انکی کینیڈا آمد بھی کہا جاتا ہے کہ سیاسی پناہگزینی ہے  - انکو یہ حیثیت اسوقت حاصل ہوئی جب انہوں نے ڈنمارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت آمیز کارٹون بنانے والے کارٹونسٹ سے ملاقات کی اور اسپر انہیں جان کا خطرہ ہوا اب یہ ملاقات انہوں نے اسے دعوت اسلام دینے کے لئے کی ، متنبہ کرنے کیلئے کی یا سمجھانے کی لئے کی یہ تو وہی یا اللہ کی ذات ہی بہتر جان سکتی ہے-لیکن  قادری صاحب نے یہ پناہگزینی کی درخواست میں لکھا کہ میری جان کو لشکر طیبہ ، تحریک طالبان ، لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ سے سخت خطرہ ہے اسلئے مجھے پناہ دی جائے- اس پر یہ پابندی ضرورلگ جاتی ہے کہ  آپ اس ملک میں واپس نہیں جاسکتے جہاں آپکی جان کو خطرہ ہے - کینیڈا میں پناہگزینی کا مطلب یہ ہے کہ سارے مصارف حکومت کینیڈا کے ذمہ ہوتے ہیںہ  کینیڈا کی حکومت کی طرف سے ان پر پابندی تھی کہ وہ اس ملک نہیں جائینگے جہاں انکی جان کو خطرہ ہے- واللہ اعلم انکا معاملہ کیا تھا لیکن کینیڈا  میں  ہمارے ملک کے ایسے کھاتے پیتے خوشحال گھرانوں کے افراد موجود ہیں جو  گوشت تو حلال ذبیحہ کھایئنگے لیکں اپنے آپ کو غریب ، مفلس اور ضرورت مند دکھا کر یہاں کے ویلفیر سسٹم سے مفت تمام مراعات ، گھر، وظائف اور خوراک حاصل کرینگے تف ہے ان پر کہ اس حرام اور نارروا کووہ کیسے جایز سمجھتے ہیں- انہی کے اور دیگر اسلامی ممالک کے  کارناموں کی وجہ سے کینیڈا میں مسلمانوں کے 60٪ غربت کے گروپ میں آجاتے ہیں-  ایک مرتبہ میں اسلامآباد سے ٹورنٹو جارہی تھی میری ہمسفر ایک با پردہ خاتون تھیں بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ شوہر اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اسلام آباد میں ذاتی مکان ہے لیکن وہاں جیرارڈ سٹریٹ پر سرکاری مکان میں رہتی ہیں اور کیش پر کام کرتی ہیں یعنی وہاں کے ویلفئر سسٹم سے پوری طرح مستفید ہیں- دونوں ماں بیٹی زیورات سے لدی ہوئی تھین اب کسٹم نے انکا کیا حشر کیا یہ تو میں نہیں دیکھ پائی- ایسے لوگوں کا ضمیر نہ جانے کہاں گھومنے پھرنے چلا جاتا ہے اس ہیرا پھیری میں انہیں اللہ ، رسول کے احکامات محض دوسروں کو بتانے کیلئے یاد رہتے ہیں-

  قادری صاحب  ایک اعلے تعلیم یافتہ شخص ہیں انکے پاس اسلامی قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے-بطور پروفیسر پڑھا چکے ہین کچھ عرصہ انہوں نے تدریسی فرائض بھی انجام دئے - ایک زمانے میں کراچی کی مسجد رحمانیہ میں درس دیا کرتے تھے اب یہ میں نہیں جانتی کہ کیا کراچی میں انکی قیام گاہ تھی یا لاہور سے آتے جاتے تھے - انتہائی فعال شخصیت ہے انکا ایک پاؤں آسٹریلیا میں دوسرا بھارت  میں تیسرا ڈنمارک میں توبہ توبہ دو ہی تو پیر ہیں- ویٹیکن گئے پوپ جان پال کے ساتھ انکی تصاویر ہیں جہاں وہ انتہائی تعظیم میں گھٹنے ٹیک کر بیٹھے ہیں- اب وہ انڈیا گئے تو خاص طور پر گجرات مودی سے ملے وہ اپنے ساتھ ایک گورے کینیڈئین سیکورٹی گارڈ کوبھی لیکر گئے تھے جو تصایر میں انکی حفاظت پر مامور ہے- اسی طرح گجرات کی پولیس بھی ا نکی حفاظت پر مامور تھی - طاہر القادری نے نریندر مودی کا بطور خاص شکریہ ادا کیا جبکہ مودی نے انکو امن کا سفیر اور پیامبر کہا- نریندر سنگھ مودیجو  گجرات کے مسلما نوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے - انکے اس دورے کو وہاں کے مسلمانوں ا ور  انڈیا کے بریلوی مکتبہ فکر نے سخت ناپسند کیا اسلئے انکو  انہیں طاہر الپادری کا خطاب دیا-
 ایک زمانے میں نواز شریف اور انکے گھرانے کے منظور نظر تھے بلکہ انکے عروج میں شریف خاندان کا انتہائی عمل دخل ہے-- سنا ہے نواز شریف اپنے کندھوں پر بٹھا کر غار حرا لے کر گئے تھے کیا عقیدت اور کیا سواری - عقیدت تو یہ بھی دیکھی کہ قادری صاحب تشریف فرما ہیں لوگ دھمال ڈالتے ڈالتے آکر انکے پاؤں پر سجدہ کرتے ہیں -پھر وہ اسی سجدہ ریز کو اٹھا کر گلے لگاتے ہیں وہ فرط جذبات سے روتا ہوا ہٹا دیا جاتا ہےتو اگلے کو آنے کا اشار کرتے ہیں اب یہ اسلام کی کونسی صورت اور کونسی خدمت ہے اس شرک عظیم کے کرنیوالے کو کیسے بخش دیا گیا جبکہ بوسیدہ قرآن جلانیوالوں کی جانیں چلی جاتی ہیں- تحریک منہاج القرآن نے کیا اس شرک کو اپنے عقیدے کا حصہ بنا ڈالا تھا- لیکں قادری صاحب کی پشت پناہی یقینا ہے اب وہ کس کے ایما پر پاکستان گئے اتنا بڑا جلسہ یادگار پاکستان پر منعقد کیا اور پھر اتنی سخت سردی مین یہ لانگ مارچ- عطاءالحق قاسمی کو شرکاء کیلئے ڈائپرز کی فکر ہورہی تھی لگتا ہے قاسمی صاحب ابھی تک ناروے سے واپس نہیں آئے یا پھر انکو پنجاب اور پاکستان کے دیہی علاقؤن کے عوام کا رفع حاجت کرنا یاد نہیں رہا - ڈی چوک کے اطراف تو اس دھرنے کے بعد لہلا اٹھینگے رہے قادری صاحب انکے لئے تسلی بخش انتظام تھا لیکن ڈبہ بند ہونا بھی آسان کام نہٰیں ہے کوئی دوسرا لیڈر ایک دن بھی اس ڈبے میں بند ہوکر دکھائے-
اب قادری صاحب نے کیا حاصل کیا اور کیا نہٰیں کرسکے پاکستان میں یہ کیا کم ہے کہ کم از کم اس دھرنے کا انجام بخیر ہوا نہ ہی کوئی بم پھٹا نہ خون ریزی ہوئی او ر پاکستان میں ایک پر امن جلسہ اور دھرنا کرنا کیا کم کامیابی ہے وہ بھی ایسا جسمیں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ائی ورنہ پاکستان میں انسانی زندگی یا انسانی خون پانی سے سستا ہے بینظیر کے ایک مارچ میں ڈیڑھ سو لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے جبکہ دوسرے میں انہوں نے اپنی جان ہاردی- قادری صاحب نے اپنے آپ کو منوا تو لیا ہے اب دیکھئے پاکستانی سیاست انکی دوہری شہریت کو مانتی ہے کہ نہیں - جنرل پرویز مشرف نے بھی خوب سراہا-  اب جر نیل صاحب کی آمد آمد کی خبریں بھی گرم ہیں  وہ بھی آخر دوبارہ ان ہو ہی گئے- جو  قادری صاحب اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ انکا جی ایھ کیو یا چیف آف آرمی سٹاف سے کوئی تعلق ہے - وہ اپنے آپکو پاکستانی عوام کا نمائیند ہ قرار دیتے ہیں- اب یہ تحریک انصاف سے الحاق کیا رنگ لاتا ہے  جو بھی ہو اللہ تعالی پاکستان کی خیر کرے-
رب راکھاں پاکستان نو
--
ی

Tuesday, February 5, 2013

"جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے "

"جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے  "

ولنتٹا ئن ڈے 
عابدہ رحمانی 
- بازاروں میں زبردست چہل پہل ہے  ہر طرف لال سرخ دل نظر آرہے ہیں چھوٹے بڑے ہر سائز میں جو پسند آئے    خرید لیں-     
 سرخ پھولوں کی بھرمار ہے اور دام دوگنے تین گنے لیکن خریداری جاری ہے چاکلیٹ اور کینڈیز کے ڈبے،بیکری کے تمام مصنوعات  کو دل کی شکل میں بنایا گیا ہے  سٹرا بری کے دام بھی آج زیادہ ہیں اس کی مخصوص شکل کی وجہ سے  اسکو چاکلیٹ میں ڈبو کر اس شکل کو اور ابھارا گیا ہے کھلونوں  نے دل پکڑا ہوا ہے - کل شام تک یہ سب آدھی اور تین چوتھائی قیمت  تک آجائینگی  یہ یہاں کی معیشت ہے ، خرید و فروخت کا طریقہ کار گاہکوں کو ایک نفسیاتی کشش اور دباؤ میں ڈالنے کی کوشش ، زیادہ  سے  زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب اور یہ احساس کہ یہ سب انتہائی ضروری ہے مرد حضرات خواتین        خاندان کے افراد ایک دوسرے کو تحائف اور   پھول دیتے ہیں جو مجھے تو اچھا لگتا ہے اسی بہانے کوئی پوچھ  لیتا ہے -خواتین مردوں کے لئے بچے بوڑھے ہر ایک دوسرے فرد کے لئے  اور تیسری صنف والے استغفراللہ ......       -چند کتوں والوں سے ہیلو ہائی ہوئی یہ رابطہ کتے کی سطح پر ہوتا ہے انکے کتے کی تعریف کر لی نسل وغیرہ پوچھ لی انکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہر جگہ زندگی   گذارنے کےاپنے  آداب اور تقاضے ہوتے ہیں - یہ میں نے   ابھی کچھ عرصے سے شروع کیا ہے -کتوں اور بلیوں اور دیگر پالتو جانوروں کے لئے   بھی ولنٹاٰ ئن کے تحائف کی خریداری جاری ہے انکے لئے بھی دل کی شکل میں اشیا ء تیار  ہیں جو انکو کل دیے جائینگی -آخر کو وہ بھی خاندان کے فرد ہیں ہر تہوار پر انکے تحائف کا خیال ضروری ہے وگرنہ  زیادتی کا احتمال ہے ---یہ تو کرہ ارض کے اس نصف حصے کی کہانی ہے جہاں 13      فروری کی شام ہے جبکہ باقی نصف پر دِن طلوع ہو رہا ہے اور وہ بھی 14  کا -وہاں کا ہنگامہ یہاں سے زیادہ بے ہنگم ہے لیکن وہ پوری طرح اس کے لئے تیار ہیں - تقریبا 30 -٣٢ سال پہلے ایک عزیزہ پاکستان  آئین تو دل کے شکل کے دیدہ زیب چوکلٹ کے ڈبے کافی مقدار میں لائیں ایک روز مخصوص بناوٹ کے متعلق پوچھ ہی لیا ...بتایا کہ وہاں ایک دِن منایا جاتا ہے جسے day valentine   کہتے ہیں اور یہ اس دِن دِیے جاتے ہیں میں نے پہلی مرتبہ یہ نام اس وقت سنا- (اب تو ہم بھی اس میں طاق ہوگے کہ بعد میں اونے پونے خرید لو) -  اور پھر کس کے گھر جائیگا طوفان بلا میرے بعد --اس طوفان نے سارے ممالک کودیکھتے ہی دیکھتےجھکڑ لیا  وہاں بھی جہاں سب کچھ در پردہ ہو رہا ہے - اس کی کیا تاریخ ہے St. Valentine حقیقتا کون تھا اور  تھا بھی کہ نہیں بس اب یہ دِن حقیقت ہے -امریکا اور یوروپ  کے   کاروباری دماغوں نے یہ دِن بنا لیا اور ساری دنیا کے لئے ایک شغل شروع کر دیا - امریکا کوئی دِن منائے اور باقی پیچھے رہیں اچھی باتوں کو اپنانا مشکل ہے لیکن جو اپنایا جاسکتا ہے اس میں دیر کیسی؟ پھر میڈیا اور            ٹیکنولوجی جسنے دنیا کو اسقدر  چھوٹا کر دیا -نامعلوم ہمارے عید نے انکو ابتک کیوں متاثر نہ کیا اور مشکل ہی  ہے کہ کرے -ہماری دلجوئی کے لئے عید کے ٹکٹ تو نکال  لئے جو ہم ڈر کے مارے نہیں خریدتے "ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ "        -اب سوچنے کی بات یہ ہے  کہ حد بندی کہاں کرنی ہے ، جائز اور ناجائز کی تفریق کیسے کی جائے ؟ ایک درمیانہ اور جائز راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے آخر نوجوانوں کو بھی کوئی مثبت سرگرمی     چاھئیے -آپ انکو آخرت کی عذاب سے ضرور خبردار کریں لیکن دنیا میں عزت اور وقار  کے    ساتھ   جینا بھی  سکھایں- ہم الله سے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا سوال کرتے ہیں -حیا ڈے منانا بہت اچھا خیال ہے کچھ سوچیں اسکو کیسے دلچسپ بنانا ہے -جوانوں کو اس تنگنائی میں نہ بند کریں کہ انکو سانس لینا بھی مشکل  ہوجائے - اب میں تو آپ لوگوں کو کوئی happy happy ہرگز نہیں کہونگی ----



-- 


جہاد کشمیر


رلیکن ان سب قر بانیوں سے کیا حاصل ہوا یا سب لا حاصل چلا گیا بظا ہر تو کوئی انجام نظر نہیں آتا-؟
جہاد کشمیر

جہا د کشمیر

عابدہ رحمانی

 پانچ فروری کو  کشمیر سے یکجہتی کا دن منایا جاتا یے - ماضی میں یہ یوم کشمیر کے طور پر منایا جاتا تھا- کشمیر کی جنت نظیر واد ی جسکے متعلق  کہا جاتا ہے " گر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است ہمیں است و ہمیں است -
اس سرزمین پر جہاں مسلم اکثریتی  آبادی رہایش پذیر ہے  - مختلف حیلے حوالوں سے مسلمانوں کا جینا دو بھر بلکہ محال کردیا گیا - آنکے حقوق خود ارادی کے تمام دروازے بند کرکے ظلم و جبر کی ہر صورت روا رکھی گئی- خواتین پر زیادتی اور تشدد کی ناگفتہ بہ کہانیاں ہیں اور یہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا ایک گھناؤنا چہرہ ہیں- ہزاروں مسلمان خواتین پر انکے اہل خانہ کے سامنے جنسی زیادتی کی گیئ دنیا میں مغلوب اور مقہور قوموں میں کشمیری ایک ہیں اور جو نام نہاد اقوام متحدہ اور استصواب راۓ کے چکر میں اس بری طرح الجھا دئے گئے ہیں کہ کہیں فرار کی صورت نہیں نظر آتی-
 تو مجھے بھی کچھ سال پہلے کا واقعہ یاد آیا یہ 90  کی دہائی تھی جب کہ جہاد کشمیر اور بھارتی ظلم و ستم زوروں پر تھا ہم لوگ دامے درمے سخنے مدد میں لگے ہوئے تھے لیکن کچھ ایسے تھے جنکے جگر گوشوں نے جام شہادت نوش کر لی تھی  جھاد کے متوالوں کو ایک کھلا راستہ بلکہ ایک نصب العین میسر تھا ایک طرف افغانستان دوسری طرف کشمیر وارے نیارے تھے- جان دینا ، جان وارنا اور جان ہتھیلی پر رکھ کر پھرنا یہ سارے محاورے انکے جذبوں کے آگے ہیچ تھے- اس سلسلے میں ہم ایک کانفرنس کر رہے تھے  اور ایک ایسی ماں کو لانے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی جنکا بیٹا ابھی حال ہی میں کشمیر میں شہید ہوا تھاانکا سوچ سوچ کر مجھے اپنی نانی یاد آرہی تھیں میرے اکلوتے ماموں 1948 کی جنگ میں کشمیر کے محاظ پر شہید ہوئے تھے اور میری نانی اسکے بعد کشمیر کا نام بھی سننا بھی گوارہ نہیں کرتی تھیں 
میری ساتھی شاکرہ کہنے لگیں" باجی میں آپکو لے جاؤنگی مجھے جگہ معلوم ہے گلشن اقبال کے ایک بلاک میں گلی در گلی ہوتے ہوےئ ایک مکان پر پہنچے - دو منزلہ مکان تھا دو لڑکے باہر نکلے کہنے لگے ابھی وہ آنے والی ہیں آپلوگ اندر آئیے-کمرے میں ہر طرف  گدے بستر لگے ہوئے تھے اور چھوٹے چھوٹے بیگز میں سامان رکھا ہوا تھا - شاکرہ کہنے لگی " باجی یہ سب مجاہد ہیں" لڑکا ہمارے لئے چائے اور بسکٹ لایا " میں نے کہا آپ نے بہت اچھی چائے بنائی ہے پھر تھوڑی باتیں ہوئیں تو معلوم ہوا کہ یہ انکا پہلا کیمپ ہے یہاں پر امیدواروں کا انتخاب ہوتا ہے پھر انکو ٹریننگ کے لئے بھیج دیا جاتا ہےاتنے میں ایک ٹرک آیا اس سے کافی سارے لڑکے اترے بانور چہرے ، ہلکی ہلکی داڑھیاں کسی اور دنیا کی مخلوق لگ رہے تھے میرے پرس میں جو رقم تھی وہ میں نے اس لڑکے کو دی وہ رقم کی رسید لے آیا  اتنے میں ایک سوزوکی سے اماں آن پہنچیں کافی ہشاش بشاش لگ رہی تھیں -ہم روانہ ہوئے، میں نے انکو اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھایا شاکرہ پیچھے بیٹھیں- انکے بیٹے کی شہادت کا ذکر ہوا تو کہنے لگیں ،" مجھے مبارکباد دیں شہید کی ماں ہوں" سبحان اللہ میں انکا جذبہ دیکھ کر دنگ تھی ر انکے بیٹے کی شھادت سوپور کے مقام پر ہوئی تھی کہنے لگیں ایک بیٹا اللہ کی راہ میں بھیج دیا اور میں ان سب کی اماں بن گئی یہ لوگ مجھے اپنے ٹرک میں بٹھاکر کیمپ میں لے جاتے ہیں سب میرے بچے ہیں انکے لئے کھانے بناتی ہوں انکے کپڑے دھوتی ہوں انکی خریداری کرتی ہوں انکو جوش اور ولولہ دلاتی ہوںانہون نے بتایا کہ پہلے انکا بیٹا افغانستان میں لڑنے گیا تھا واپس آیا تو گردوں کی بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا اسلئے کہ وہ پانی بہت کم پیتا تھا- جب صحت یاب ہوا تو اسنے کشمیر ہر جانے کی ٹھانی ، جاتے ہوئے کہنے لگا اماں اس دفعہ میری شہادت لکھی ہےدوسرے بیٹے کی ویڈیو کی دکان ہے وہ اسکو بہت منع کرتا اور لڑتا کہ تم ہمارے دشمنوں کے ویڈیو دکھاتے  ا ہواور اسکی کمائی کھاتے ہودونوں بھائی بالکل مختلف تھے- ہم دم بخود ہوکر انکی باتیں سنتے رہے پھر انہوں نے بتایا کہ جس روز اسکی شہادت ہوئی وہ انکو خواب میں آیا بہت ہی شاندار لباس مین اور انتہائی خوش وخرم تھا وہ کہنے لگیں کہ مجھے یقین ہوا کہ وہ شہید ہوچکا ہے اس صبح جب اسکا بھائی اپنے سٹور میں گیا تو اسنے دیکھا کہ سارے انڈیئن کیسٹ ٹوٹے پڑے ہیں جبکہ دوکان بند تھی( اس بات کا مجھے تو یقین نہیں آرہاتھا ) لیکن میں نے انکو ٹوکا نہیں، لیکن وہ بیٹا پھر اس پیشے سے تائب ہوگیاہ انہون نے کیمپوں کا بتایا جہاں پر ٹریننگ ہوتی تھی اور ان مجاہدوں کی خوراک سوکھی روٹی کے ٹکڑے ، بھنے چنے اور گڑ کی ڈلیاں - روٹی کو پانی یا برف میں بھگو کر نرم کرکے کھاتے-تھے اور یہی انکی خوراک تھی  اسی کو تھیلون میں بھر کر اپنے ساتھ لے جاتے تھے -سبحان اللہ


یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے


جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

شہادت ہے مطلوب مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں نظر میں اذان سحر میں

دل مرد مومن کو پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کی سی نعرہ لا تذر میں

عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہ مسلماں کو تلوار کر دے

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
-- 

لیکن ان سب قر بانیوں سے کیا حاصل ہوا یا سب لا حاصل چلا گیا بظا ہر تو کوئی انجام نظر نہیں آتا-؟

Sunday, February 3, 2013

Gun control Law in USA

Gun control Law in USA

(Abida Rahmani, Chicago)

The latest news of today Jan 31/2013 this evening is that two hundred and three people are shot and killed in USA just today. The killing in Chicago in the last 5 years have surpassed Afghanistan 's military causalities. While living in Chicago suburbs every day I listen and watch the news of murders, shootings and gun violence of the gangs. Yesterday a teenage girl lost her life due to gun violence. The teen had performed in Obama's in inauguration ceremony.

The gun control laws are not strict in United states. Guns openly sold and available to criminalsand gangs in arms stores have turned this country in a total fiasco. After the everyday toll of gun violence ,murders, the increasing incidences of mass shootings and killings, the citizens are getting desperate to control the guns and gun violence.

It has finally forced Washington to rethink about its gun policy.

Emotions are running high on TV talk shows , Senate and congress floors and halls. It has forced NRA to re-think about adopting gun reforms and to adopt a moderate policy.

Former US Rep Gabrielle Giffords who was shot and wounded on her head two years ago in Tuscan , AZ during her public meeting outside a Safeway store. She survived while nine others lost their lives. She has gone through a lot of surgeries and rehabilitation process. In her trembling and breaking voice she said ," too many children are dying, too many children we must do some thing. It was very difficult for her to deliver her statement. Yet she tried her best to represent herself and her voice in the Gun control movement.

This is the greatest irony that the country and the super power who wants to guard the whole world and to impose its world order on other nations is absolutely helpless to put its own house in order and control.

ڈالر کا جادو


ڈالر کا جادو

عابدہ رحمانی

  میں ایر کینیڈا کی فلائیٹ سے لگوارڈیا ائر پورٹ پہنچی یہاں سے مجھے جان ایف کینیڈی ایر پورٹ سے اگلی پرواز لینی تھی سامان کافی تھا اسلئے شٹل لینامشکل لگ رہا تھافیصلہ کیا کہ ٹیکسی کر لیتی ہوں لدھی پھند ی باہر نکل کر کیب کی لاین میں لگ گئی یلو کیب گزرتی جارہی تھیں اور مسافر بیٹھ رہے تھے اب جو چہرہ مجھے نظر آیا تو مجھے اپنی ہموطنی کی جھلک نظر آئی میں نے اسے لینا چاہا اور کیب روک دی گئی اسنے اتر کر مجھے سلام کیا تو میرا شک یقین میں بدل گیا سامان رکھنے کے بعد میں کار میں بیٹھی اسنے خود ہی اردو میں پوچھ لیا" میم آپ جے ایف کے جارہی ہیں" جی بالکل" میں نے اسے ایر لاٰین کا بتایا"جی وہ ٹرمینل تھری سے جائیگی" تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا راستہ ہے اور اسوقت رش آؤر بھی ہے کیا اپکے پاس  کافی وقت ہے ؟ جی جی ابھی تو کافی وقت ہے "میں ذرا لئے دئے رہنا چاہ رہی تھی لیکن وہ باتیں کرنےکے موڈ میں تھاآخر کو مجھ سے بھی صبر نہ ہوا "آپ کیا پاکستان سے ہیں " جی میں لاہور سے "کب سے ٹیکسی چلا رہے ہیں؟ تقریبا 5 سال ہوگئے ہیں یہی ایر پورٹ کےراستوں پر چلاتا ہوں-" اچھی آمدنی ہوجاتی ہے ؟-- جی اللہ کا شکرہے تھوڑا بہت اپنے گزارے کے لئے رکھ کر باقی گھر بھیج دیتا ہوں " گھر" میں نے حیرانی سے پوچھا کیا فیملی یہاں نہیں ہے ؟ نہیں جی وہ لاہور میں ہیں ، میں سٹیزن ہوجاؤن تو انکے لئے درخواست دونگا اور اب جو منیر صاحب سے بات چیت شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ انکے والد بہت پہلے امریکہ آئے تھے اور پھر والد کے ذریعے انہیں گرین کارڈ ملا- تو یہ بھی چلے آئے ذرا خاموشی کے بعد میں نے پوچھا کچھ تعلیم وغیرہ حاصل  کی؟ اس بات پر منیر صاحب کچھ جھینپے اور گویا ہوئے " جی میں میڈیکل ڈاکٹر ہوں" تو یہ ٹیکسی ؟ یہاں کے لائسنس کا امتحان پاس نہیں کرسکا تو یہ ٹیکسی چلاکر گزر بسر کرتا ہوں جی اچھی آمدنی ہو جاتی ہے" - کیا ایک ڈاکٹر کے برابر ؟ نہیں جی اتنی تو نہیں جب ہی تو بیوی بچوں کو پاکستان میں رکھا ہوا ہے وہ سمجھتے ہیں ابو وہاں میڈیکل پریکٹیشنر ہیں آپ تو جانتی ہیں محنت کرنے میں کوئی عیب نہیں ہے - دس سال تک میو ہسپتال میں ایم او تھا -کہاں سے پڑھاہے؟ میں ذرا تصدیق کرنا چاہ رہی تھی جی نشتر سے ؟ اور اگر کوئی ساتھی دوست مل جائے تو ؟ بس جی کیا کریں مل بھی جاتے ہیں آپکو پتہ ہے آپکو یہاں کافی ڈاکٹر انجینئر کیب اور لیمو ڈرائیور مل جائینگے-" ہاں شروع شروع میں تو میں نے سناہے کہ اکثر لوگ قدم جمانے کیلئے کرتے ہیں لیکن پانچ سال ہوگئے آپکو؟" "بس جی امتحانوں پر بہت پیسے برباد ہوگئے میری قسمت میں پاس کرنا نہیں لکھا تھا اب ہائی جین کے کچھ کورس کر رہاہوں -" تو پاکستان واپس کیوں نہیں جاتے وہان آپ میڈیکل آفیسر تھے یہ تو پیشے کی تذلیل ہے" - جی یہان جو میں کماتا ہوں ٹپ وغیرہ ملاکر پاکستانی حساب سے ڈھائی تین لاکھ بن جاتے ہیں آپکو تو پتہ ہے وہاں ایک ایماندار ایم او کی کیا تنخواہ ہے؟
میری منزل آگئی تھی - میں کارٹ نکال لائی تو منیر نے سامان رکھا کرایہ دیکر میں نے اسے پانچ ڈالر کی ٹپ دی" تھینک یو میم اپکا سفر خوشگوار ہو" اسنے انگریزی میں کہا اور مین اپنے اس پاکستانی سابقہ میڈیکل آفیسر کا منہ دیکھتی رہ گئی