Tuesday, January 15, 2013

سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ


سائبر کی دنیا یا انٹرنیٹ کا اثاثہ

-- 
عابدہ رحمانی
تھوڑی دیر پہلے وال اسٹریٹ جرنل میں ایک وفات شدہ لڑکی کے انٹرنیٹ کے اثاثے یا اسکے چھوڑے ہوئے اکاؤنٹس کے متعلق ایک مضمون پڑھ رہی تھی کچھ عجیب سی کیفیت ہوئی اس سولہ سالہ لڑکی کو بڑی آنت کی بیماری تھی وہ اپنے آخری ایام میں زیادہ تر وقت کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر گزارتی تھی - اسکے پاس ای میلز ، فیس بک ، ٹوئٹر اور دوسرے کیئ اکاؤنٹ تھے جس سے وہ اپنے آن لائن دوستوں اور باقی دنیاکی دلچسپیوں اور سرگرمیوں  سے واسطہ اور رابطہ رکھتی تھی- اسکے دنیا سے جانے کے بعد اسکی دوسری بہن ان صفحات کو  کھول لیتی تھی جو کھلے ھوئے تھے لیکن جب پاس ورڈ کا مرحلہ آیا تو اسے ناکامی ہوئی-اسنے پاس ورڈڈھونڈنے کیلئے اپنے طور پر کوششیں بھی کیںجسے انگریزی میں پاس ورڈ کریک کرنا یا توڑنا کہتے ہیں- اور  اب انہوں نے ان کمپنیوں یا انٹرنیٹ اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی اور بہن کی تحاریر دیکھنا چاہتے ہیں اسکے خیالات جاننا چاہتے ہیں وہ کافی کچھ لکھا کرتی تھی ، شاعری بھی کرتی تھی ہوسکتا ہے وہ ان تحاریر کو کتابی صورت میں شائع کر دیں-اسکی بیشمار تصاویر ہیں-انکے بقول انکو اسے دیکھنے اور پڑھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور جسطرح اسکی دیگر اشیاء انکے تصرف میں آئی ہیں اسی طرح یہ بھی انکی ملکیت اور وراثت ہے-  اسکے لئے ان اکاؤنٹ والے ادارے انکو پاس ورڈ مہیا کر کے انکی مدد کریں-
  جب سے کمپیوٹر اور آنلائن سہولیات ہماری زندگی کا اہم اور لا ینفک جز بن چکے ہیں-  ہم اب اس سہولت یا علت کے اسقدر عادی ہوگئے ہیں اس تانے بانے میں ، مکڑی کے جالے میں بری طرح الجھ چکے ہیں- ہماری تمام تر خط وکتابت ، بات چیت ، لکھائی پڑھائی ، تمام تحاریر اسی کمپیوٹر،( اسکو آپ جو بھی نام دے دیں ، نوٹ بک ،منی، لیپ ٹاپ ، ٹیبلٹ پی سی )جو بھی کہہ دیں اسی پر ہیں - بلکہ گوگل ، یاہو، ہاٹمیل، فیس بک ، ٹوئٹر،پکاسا، شٹرفلائی اور اور اور---  پر ہیں- تمام تصاویر اب اس پر ہیں کیمرے سے تصاویر اسی پر ڈالدیں اور اسی پر وضع شدہ مختلف ذرایع سے اپنے اعزاء واقارب سے شریک کردیں - سارےالبم اسی پر ہیں - انہی اکاؤنٹ پر مختلف فولڈرز بناکر انمیں اور تحاریر کو عنوانات اور دلچسپیوں کے لحاظ سے  تقسیم کیا ہوا ہے اور زیادہ ترتیب دینے کو جی چاہا تو بلاگ بنا ڈالا یا ویب سائٹ بنا ڈالی ، فیس بک پر ڈالدیا بلکہ فیسبک کی ایک اور اتنی وسیع دنیا ہے - فون ہے تو وہ بھی اسی قسم کا اب ایک موبائل فون سے زیادہ موبائل کمپیوٹربن چکا ہے ٓٓ- کاغذ  کاا ستعمال تقریبا متروک ہو رہاہے لکھنا  تو دور کی بات پرنٹ آؤٹ بھی بہت کم نکالتے ہیں اکثر خیال آتا ہے کاغذ کا غیر ضروری ڈھیر لگانے کی کیا ضرورت ہے-  ماحولیات کے دوست کہتے ہیں کاغذ کا استعمال کم کرکے ماحولیات پر احسان کریں - ان کمپیوٹروں سے پہلے سب کچھ کاغذ پر ہی لکھا مل جاتا تھا مرنے والے یا والی کے اچھے برے تمام راز فاش ہو جایا کرتے تھے- ورنہ ردی کی نذرہو جاتےا
بقول چچا غالب 
چند تصویر بتاں اور کچھ حسینوں کے خظوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہ سامان نکلا

  ہم بذات خود تو اتنے امتداد یا انقلابات زمانہ سے گزرے ہیں کہ کافی ساری یادداشتوں اور خطوط کو اپنے ہاتھوں تلف کیا ہے - اور کافی ضائع ہوگیئں-پرکھوں کے ساتھ یہ صورتحال نہیں ہوئی ں

انکی یہی تحاریر بعد میںہمارے سامنے آئیں، میں تو اپنے داداجی کی لکھائی دیکھ کر حیران رہ گیئ  گلستان سعدی کے کناروں پر انہوں نے فارسی میں جو دلکش حاشیہ آرائیاں کی ہوئی ہیں انکی بچی ہوئی تحاریر اب تو خاصی کرم خوردہ ہوگئی ہیں والد صاحب نے تو ایک ایک خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے پورے بکس بھرے ہوئے ہیں پوری ایک تاریخ محفوظ ہے انکے ابتدائے ملازمت کے رومن میں لکھے ہوئے خطوط ہیں - پچھلے سال بھائی کو جوش آیا تو زندہ افراد کو انکے اپنے تحریر کردہ خطوط واپس کر دئے ان خطوط اور نامہ و پیام کا بھی کیا وقت تھا- میری ایک سہیلی کے والد کا ٹرانسفر ہوگیا اسکے خطوط والد صاحب کے پتے پر آتے تھے اور سینسر ہوکر مجھ تک پہنچتے تھے آدھے سے زیادہ خط فراق کے اشعار سے بھرا ہوتا تھا - چلا چل لفافے کبوتر کی چال- محبت جو ہوگی تو دیگی جواب 
قسم کے' دو چار خطوط تو انہوں نے برداشت کئے اور پھر بالاخر ہمارادائمی فراق ہوگیا  ایک اور دوست لفافے کو کچھ ایسا معطر کر کے بھیجتی کہ اباجی کو اسکے اخلاق پر بھی کافی شک ہوا-اب ماں باپ کو دھوکہ دینا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اگرچہ اس زمانے میں بھی چالاکوں کی کمی نہیں تھی - لیکن ہماری شخصیت ہی کچھ برخوردار قسم کی تھی- ہمارے کچھ اعزاء جو بیرون ملک مقیم تھے انکے خطوط پورے خاندان کے لئے مشترک ہوتے تھے سب خوب لطف لے لے کر پڑھتے ایک عزیز کا تو طرز تحریر ہی اس قسم کا ہوتا تھا فلاں ، فلاں ، فلاں کے لئے مضمون واحد ہے-  کچھ اسی قسم کا جو اب ہم ایک ای میل کو کئی لوگوں کے ساتھ شریک کردیں-   یہ سب باتیں اب خواب وخیال ہوگیئں اب وہ عزیز و اقارب جو کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے انسے تقریبا رابطہ ہی ختم ہوگیا ہے خط لکھنے اور بھیجنے کا رحجان ایسا ختم ہوا ہے کہ ہاتھ کی لکھائی شاذونادر ہی نظر آتی ہے- ایک صاحب نے  بتایا میرے ساتھ بہت بڑی ٹریجڈی ہوگئی" اللہ خیر کرے مجھے تو بڑی گھبراہیٹ ہوئی" کہنے لگے میں ایک صاحب پر بہت دلچسپ مضمون لکھ رہاتھا کہ میرا کمپیوٹر کریش ہوگیا میں نے کہا کہ یقینا انہوں نے کوئی تعویذ گنڈہ کر دیا ہوگا- ایسا میرے ساتھ بھی ہوا لیکن آللہ کا شکر ہے کہ کچھ تحاریر آن لائن تھیں تو دوبارہ مل گئیں
ہم کمپیوٹر کے ماروں کا تو یہ  حال ہوگا ہمارے دنیا سے جانے کے بعد

نہ ہی پاس ورڈ ملا نہ ہی اکاؤنٹ کھلا
مرنیوالی کا راز ساتھ ہی مرقد میں گیا

 مجھ جیسے خانہ بدوش کی آدھی زندگی اس کمپیوٹر میں قید ہوگئی ہے یہی میری کتاب ہے ، یہی میرا اخبار ہے ، تلاوت ترجمہ اس سے سن اور پڑھ لیتی ہوں یہی میرا ریڈیو اور ٹی وی  ہے یہی میرا روزنامچہ یہی قلم یہی قرطاس زیادہ تر ڈرامے اور پروگرام اسپر دیکھ لیتی ہوں، یہیں میرے تصاویر کے البم ہیں  - میری بیشتر کلاسز اس پر ہوتی ہیں بلکہ آپ سب کا حال بھی کچھ مجھ سے مختلف نہ ہوگا اب تو میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اصلی کتاب کو  نہ ہی اٹھاؤں ایک زمانہ تھا کہ نیند کتاب، اخبار یا رسالہ پڑھتے ہوۓ ہی آتی تھی اتنا برا چسکا تھا -اب ان چھوٹے ہلکے پھلکے نوٹ بک اور ٹیبلٹس کومیں انکے نعم البدل کے طور پراستعمال کرتی ہوں- بالکل ایک کتاب کی طرح جب میرا نیا منی لیپ ٹاپ  آیا تھا تو اسکا نام میں نے رکھا،" میرا نیا دوست"-- پہلے جو دوستی کتابوں سے تھی اب اس سے ہوئی- جب -کہ بعض کہتے ہیں کہ جب تک کتاب کو چھو نہ لیں تسلی نہیں ہوتی-
وال سٹریٹ والا مضمون پڑھنے کے بعد   پہلا کام میں نے یہ کیا کہ اپنے پاس ورڈز اپنی ایک ڈائری میں لکھے اور پاس ورڈ بھی کتنے ہیں اللہ کی پناہ انٹرنیٹ اکؤنٹوں کے، بنک اکاؤنٹوں کے الگ ، کریڈٹ کارڈز کے الگ ، باقی دکانوں یا سٹوروں کو تو جانے دیجئے اب تو  تمام بل سٹور کی رسیدیں بھی ای میل میں آتی ہیں اور اسی کے ذریعے ادائیگی ہوتی ہے-
سوچا  کیا خبر بعد میں میر ے بچوں کو تجسس ہو کہ امی کا آدھا بلکہ بیشتر وقت تو کمپیوٹر پر گزرتا تھا نہ جانے کیا کیا گل کھلاتی ہونگی؟ ورنہ اس بھاگتے دوڑتے زمانے میں کس کے پاس فرصت ہے ؟اگر کسی کو خیال آیا تو اسے دقت نہ ہو- میری ایک دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ اپنی سوانحعمری لکھ کر رکھ دو اور بچوں کو وصیت کردو کہ وہ بعد میں شائع کردیں - میں نے کہا اتنا کھٹن اور غیر دلچسپ کام انکے لئے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی اسلئے مجھے جو اپنا مطبوعہ غیر مطبوعہ جو کچھ ملا اسکا ایک مجموعہ بنا کر جلدی سے شایع کردیا سوچ رہی ہوں باقی کو بھی جلدی سےٹھکانے لگا دوں میرے پاس روزانہ اسقدر ای میلز آتی ہیں انمیں سے آدھی تو بغیر پڑھے حذف یا ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں  کتنی تو سپام یا جنک میں چلی جاتی ہیں-ضروری کو میں فورا پڑہتی اور جواب دیتی ہوں دلچسپ کو روک لیتی ہوں کہ فرصت میں پڑھونگی اوراکثر یہ فرصت بہت دیر سے آتی ہے یا آتی ہی نہیں- وہ تو اللہ بھلا کرے ان ای میل سروس مہیا کرنیوالے اداروں کا کہ بے حساب ای میلز آرہی ہیں جارہی ہیں اور اکٹھی ہو رہی ہیں اور انہوں نے ہمیں یہ سہولت ایک طرح سے مفت مہیا کی ہوئی ہے اور یہی اس تمام سلسلے کا گورکھ دھندہ ہےٓ

وائے فائے نے نکما کردیا مجھکو
ورنہ میں بھی آدمی تھی کام کی






Wednesday, January 9, 2013

امریکہ سوگوار ہے ! سینڈی طوفان کے بعد سینڈی ہک سکول کا المیہ

امریکہ سوگوار ہے !
سینڈی طوفان کے بعد سینڈی ہک سکول کا المیہ"

عابدہ رحمانی

جمعہ چودہ دسمبر کی صبح ساڑھے نو بجے کا وقت ہے کنیکٹی کٹ کے قصبے نیوٹاؤن میں سینڈی ہک نامی ایلیمنٹری سکول میں( پرائمری سکول) معمول کی چہل پہل ہے ابھی کلاسز شروع ہی ہوئی ہیں بچوں اور استادوں کے کھلے  ہوئےچہرے ایک نئی صبح کا آغاز لئے ہوئے ہیں کرسمس کی آمد آمد ہے اکثر بچے اور استانیاں تفریحا لال سفید پھندنے والی ٹوپی اور شرٹ پہنی ہوئی ہیں ہر طر ف ایک خوشی و انبساط کی کیفیت ہے آج ہفتے کا آخری دن ہے اور ویک اینڈ کے لئے سب بیچینی سے  منتظر ہیں- بچے اپنے روزمرہ کے کام میں مصروف ہیں کہ اچانک ایک زور دارفائر نگ کی آواز سب کو چونکا دیتی ہے اور پھر تھڑ تھڑ گولیاں چلنے کی اورچینخ پکار کی آوازٰیں ،27 سالہ استانی وکٹوریا سوٹو اپنی کلاس کے بچوں کو جلدی جلدی الماریوں اور غسل خانے میں بند کرنے لگتی ہے اسکے  پاس بچوں کو بچانے کا یہی ایک راستہ ہے وہ انہٰں  بند کرکے آگے  ہوئی ہی  ہےکہ اتنے میں خونخوار 20 سالہ آدم لینزا اسے اپنی گولیوں کا نشانہ بناتا ہے جس قاتلانہ رائفل کا وہ استعمال کرتا ہے اسکی ایک گولی ہی انسان کو ڈہیر کرنے کیلئے کافی ہے- اسنے ابتدا اپنی ماں نینسی لینزا سے کی تھی اسکی لاش بعد میں اسکے گھر سے ملی- ماں کو مارکر وہ سینڈی ہک اسکول پوری طرح مسلح ہوکر پہنچا وہ اس اسکول میں چار سال تک طالبعلم بھی رہ چکا تھا- اب اسے اپنی ماں سے کیا کدورت اور بغض تھا اسکے ساری شواہد نے اسنے اپنے اس ناپاک مشن پر آنے سے پہلے قلع قمع کردئے اپنے کمپیوٹر کو اسنے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تاکہ بعد میں تحقیقاتی ادارے ٹامک ٹوئیان مارتے رہیں اور تعئین کرتے رہیں کہ ایسا کیوں ہوا اور کیسے ہوا؟ اس دوران کچھ لوگ 911 کو فون کر چکے ہیں 20 بچوں اور 6 اساتذہ کی جان لینے کے بعد آدم نے اپنی جان بھی لے لی- 911 والے آئے تو دیر ہو چکی تھی کچھ زخمی تھے -مرنے والے 20 بچوں کی عمریں 5سے 10 سال کے درمیان تھیں " حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئے" اس المئے پر پورے امریکہ میں اور تمام دنیا میں ایک کہرام مچ گیا -ایک ہفتہ گزر چکا ہے آج پنسلوانیا میں تین لوگوں کی جان لیکر قاتل نے اپنے آپ کو مار دیا - اسواردات اور خود کش دھماکوں میں کوئی فرق نہیں ہےمحض یہ کہ  وہ اپنے جسموں پر بم -باندھتے --ہیں اور یہ اسالٹ رائفل لے کر نکلتے ہیں اور پھر اپنی جان لے لیتے ہیں  
ہم تو امریکہ میں  اس طرح کی ہر واردات ہونے کے بعد سب سے  پہلے اللہ کا یہ شکر ادا کرتے ہیں کہ اس برے فعل کا کرنے والا کوئی مسلمان ہر گز نہیں ہے ورنہ پوری مسلم کمیونٹی اس جرم کی لپیٹ میں آجاتی، جبکہ دوسری صورت میں یہ ایک انفرادی فعل قرار دیتا ہے- لیکن اس غم میں اس دکھ میں پوری طرح شریک ہیں اسلئے کہ ہم اب اسی ملک کے باشندے ہیں اور ہمارے بچے بھی یہاں کے درس گاہوں کا حصہ ہیں- دہشت گردی اور قتل عام دنیا میں کہیں بھی ہو ایک انتہائی ناپسندیدہ فعل  ہےاللہ تعالی نے انسانی جان کو ایک مقدس ا مانت کہا ہے قرآن میں آللہ تعالی کا ارشاد ہے" اور جو ایک انسان کی جان بچاتا ہے وہ پوری انسانیت کی جان بچاتاہے"امریکہ کی  محفوظدرسگاہیں اتنی غیر محفوظ کیوں  ہیں یہ ایک کافی اہم سوال ہے- آدم لینزا اور اسکے خاندان کے بارے میں آئے دن تفصیلات آرہی ہیں  اسکے ماں باپ میں طلاق ہوچکی تھی اور باپ  اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رہتا ہے - اسنے ایک سال سے اپنے باپ سے ملنا چھوڑ دیا تھا اسنے باہر نکلنا اور دوستوں سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا تھا - اسکی ماں نینسی کو بندوقیں خریدنے کا کافی شوق تھا اسکے پاس 6 بندوقیں تھیں وہ اپنے بچوں کو لیکر اکثر نشانہ بازی کی مشق کرتی تھی  اور یہ امریکہ میں کوئی انہونی بات نہیں ہے - نشانی بازی کے شائقیں کے لئے ڈرائونگ رینج بنے ہوئے ہین اور دیگر کلبوں کی طرح اس کے ممبر یہاں نشانہ بازی کا شوق پورا کرتے ہیں- آدم لینزا کے   نفسیاتی عوارض اور شواہد کو کنگالا جارہاہے-شائد آئندہ کے لئے کوئی سدباب ہو جائے؟امریکی عوام بچے بوڑھے ان مقتولین کی یاد میں سینڈی ہک اسکول کو پھولوں ، موم بتیوں، کھلونوں اور کارڈوں سے لاد دیا ہے- یہاں پر ڈاک کے ذریعے اس قدر تحائف آرہے ہیں کہ اضافی انتظامات کر دئے گئے ہیں-- اس قصبے کے علاوہ پورے امریکہ بلکہ دیگر ممالک حتی کہ پاکستان کے کئی اسکولوں نے بھی اس دکھ کو منایا- جبکہ پاکستان کے اپنے دکھ اس سے سو گنا ہیں -
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسطرح کے حادثات اور اقدامات کو کیسے روکا جائے-
 امریکہ کے اسکولوں میں ہلاکتوں کا یہ قصہ 1999 سے شروع ہوا  جب سے کولوراڈو کے کولمبائن ھائی اسکول میں ہلاکتیں ہوئیں اسکے بعد سے مختلف اسکولوں میں 258 طلباء ، استاد اور دیگر لوگ مارے گئے ہیں 212 زخمی ہوئے ہیں اور یہ سب -بندوقوں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں
اسوقت امریکہ کی  تمام میڈیا ، کانگریس اور سینیٹ میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے  کہ بندوقوں کو کیسے قابو میں کیا جائے؟ - مظاہرے ہو رہے ہیں، کہ بندوقوں کی کھلی فروخت پر پابندی لگاؤ- نیشنل  رائفل ایسوسی ایشن جو این آر اے کے نام سے مشہور ہے وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتی ہے - ظاہر ہے اسلحے اور ہتھیاروں کی خرید وفروخت مییں یہاں کی موثر لابی  کا عمل دخل ہے-امریکہ میں ھتھیاروں کی خرید فروخت ایک بڑا پسندیدہ مشغلہ ہے - بہت سے پاکستانی اور ہمارے پٹھان  اسلحہ کے شائقین بھی یہاں کا   اسلحہ ضرور خرید کر لے جاتے ہیں اگر چہ ہمارے جیسوں کے پاس  باورچی خانہ کے   چاقو چھری کے علاوہ کوئی ہتھیار  نہیں ہوتآ، کینیڈا میں چونکہ ہتھیاروں پر پابندی ہے تو وہان پر امریکہ سے ہتھیار سمگل کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ اسکے لئے کافی چوکس رہتے ہیں لیکن ہتھیار مجرموں کے پاس پھر بھی کسی نہ کسی طرح پہنچ جاتے ہیں- جسکے لئے وہ ہمیشہ امریکہ کو مورد الزام ٹہراتے ہیں لیکن امریکہ کے کان پر جوں نہیں رینگتی
این آر اے کا اصرار ہے کہ اسکولوں میں مسلح گارڈ کھڑے کئے جائیں تاکہ وہ ایسے حملہ آوروں کا مقابلہ کرسکیں کیونکہ بقول انکے، حملہ آور جانتے ہیں کہ اسکولوں میں مدافعت کے لئے کوئی اسلحہ نہین ہے اسی وجہ سے انکے لئے یہ ایک آسان نشانہ ہیں-  اسطرح مزید بندوقوں کی فروخت ہوگی اور - کاروبار کو مذید تقویت ملے گی- این آر اے کے مطابق لابی کو پر تشدد فلموں اور ویڈیو گیمز پر پابندی لگانی چاہئے جبکہ اسکا کاروبار  چلانے والے اپنی توضیحات اور ترجیحات سامنے لے آیئنگے - در حقیقت  یہ سب عوامل یقینا ذمہ دار ہیں لیکن سب سے بڑھ کر ہتھیار ہیں جسکی موجودگی اور استعمال  سے انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے -
 -  کرا چی شہر میں جب تک بچے بچے   کے پاس ٹی ٹی اور کلاشنکوف نہیں آیا تھا اس شہر میں کافی حد تک چین ہی چین -
تھا 
این آر اے کے وائس پریزیڈنٹ کا یہ جملہ دائیں بازو کے چینلوں سے بار بار سنایا جاتا ہے کہ ایک برے آدمی کے حملے کو روکنے کیلئے ایک اچھے آدمی کو بندوق کی سخت  ضرورت ہے -اب اس برے آدمی کا تعین کیسے ہوگا ؟یہاں تو یہ حال ہے کہ سڑک پر کسی نے غلطی کرنے پر ہارن بجا دیا تو دوسرے نے  جھٹ سے پستول نکالا اور اسے گولی ماردی - ایک گولفر کی گیند شیشہ توڑتی  ہوئی ایک گھر کے اندر آئی اور گھر والے نے گولفر کو گولی مار کر خاتمہ کر دیا ڈرائو وے پر جھگڑا ہوا اور بندوق نکال کر گولی ماردی-  اس طرح کےواقعات تو بہت عام ہیں 
کافی اسکولوں نے جنکی عمومی تعداد ہ ہے23300 اپنے طور پر اپنے مسلح گارڈ پہلے سے کھڑے کئے ہیں اجکل اکثر فوجی جو چٹھیوں پر ہیں ، وردی پہن کر  اسکولوں پر پہرہ دے رہے ہیں- امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق لاکھوں اسلحہ بیچنے کے سٹور ہیں اور لوگوں کے پاس  اسی طرح لاکھوں کروڑوں کے حساب  سے ہتھیار ہیں 
ڈیمو کیٹ پارٹی ہتھیاروں یا بندوقوں  پر پابندی لگانے کے حق میں ہے اوبامہ خود اس کے بارے میں کوئی سنجیدہ قدم اٹھانا چاہتا ہے اس حادثے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے اوبامہ بار بار اپنے آنسو پونچھتے رہے- وہ بندوقوں پر   پابندی کے بل پر دستخط کرنیکو بالکل  تیار ہے لیکں اسکے ھاتھ اتنی مضبوظ لابی کے سامنے بندھے ہوئے ہیں بلکہ بے بس ہیں--
کیلیفورنیا سے سینیٹر ڈیان فائنسٹائن اورسینیٹر باربرا بوکسر کہتی ہیں کہ یہ تشدد اس صورت میں رک سکتا ہے کہ اسلحے پر پابندی لگائی جائے-معصوموں کا یہ قتل عام بند ہونا چاہئے ہم ہر وہ حملہ جو ہم کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے نہیں روک سکتے لیکن  ہم کچھ ایسے دانشمندانہ اقدام اٹھا سکتےہیں جنسے ہمارا بچاؤ ہوسکے-
اب تو یہ خبریں آرہی ہیں  کہ مختلف صنعت کار بچوں کے لئے بلٹ پروف بستے ، جیکٹیں اور کپڑے بنارہے ہی جنکو پہن کر بچے اسکول جایا کرینگے تاکہ وہ گولیوں سے محفوظ رہیں"
اب جو بھی اپکا حسن کرشمہ سازکرے ؟
عنقریب بچوں کے کپڑے بیچنے والے معروف سٹور ز کارٹرز، اوش کوشبگوش، جمبوری ، والمار ٹ اور سئیرز میں گولیوں سے بچاؤ کے لباس تیار ہونگے اور بچے بکتر بند ہوکر اسکول جایا کرینگے- لیکں این آر آے اپنی من مانی ضرور کریگا  اور -اس سے اندازہ ہوگا کہ صدر اوباما میں کتنا دم خم ہے-

-- 

Tuesday, January 8, 2013

امریکہ کا مالیاتی بحران Fiscal cliff


 Fiscal Cliff
یا مالیاتی بحران


-- Fiscal Cliff
یا مالیاتی بحران



عابدہ رحمانی
ہر بیجان بیمعنی سلسلے کو نام دینا کوئی امریکہ سے سیکھے اب اس فسکل کلف کو دیکھئے  کلف وہ چٹانی عمودی پہاڑی چوٹی ہوتی ہےجسپر چڑھنا اترنا بغیر کسی سہارے کے انتہائی مشکل ہوتا ہے-
ٹیکس بڑھانے کی شرح اور حد کو لیکر جو معاملات طے ہونے تھے اسکو فسکل کلف کا نام دیا گیاہے-
اسکو اسقدر اہمئت دی گئی اور اس معاملے کو اتنا اچھالا گیا جیسے کہ سن دو ہزار کی آمد سے پہلے  وائی ٹو کے کو اچھالا گیا تھا کہ اگر نئے سال کے آغاز تک یہ پاس نہ ہوسکا تو نہ جانے امریکہ کس انجام سے دوچار ہوگا- میڈیا اور خبر رساں ادرے ہر بات کو مشتہر کر کے اور آسمان پر پہنچا دیتے ہیں - سال نو کی رات کو ہر گھڑی یہ اعلان ہوتا رہا کہ اب اس چوٹی کو سر کرنے میں بس تھوڑا ہی وقت کافی ہے اور اگر یہ بحران دور نہ ہوسکا تو نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں- نیا سال حسب معمول دھوم دھڑکے سے  بھی آیا اور آج اسکا دوسرا دن بھی اختتام پذیر ہے کہ خبر آئی کہ کانگریس کے دونوں پارٹیوں میں اس بل پر مفاہمت ہوگئی ہے اور متوسط طبقے پر ٹیکس عائد نہیں کئے جائینگے- جبکہ بالائی طبقہ زیادہ ٹیکس کی لپیٹ میں آجائیگا-
امریکہ کے شمال مشرقی , وسطی ریاستوں میں  اور پڑوسی ملک کینیڈا میں سخت سردی کا موسم ہے
جب چاروں طرف ڈہیروں  برف پڑ چکی ہو اور حد نظر تک سفیدی ہی سفیدی چھائی ہودرجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی گر چکا ہو اس منجمد  کردینے والی سردی میں واشنگٹن ڈی سی میں ایک زبردست گرما گرمی اور چہل پہل چل رہی تھی - اوبامہ ہوائی میں کرسمس مناکر سال نو کی چھٹیوں کو مختصر کرکے واشنگٹن دوڑے آئے - کانگریس اور سینیٹ کے اراکین بھی سال نو کو بھول بھال کر واشنگٹن میں بیٹھے ہوئے ہیں - حالانکہ سال نو کی یہ چٹھیاں یہاں کے معاشرے میں بے انتہا اہم ہیں یہ وقت عام طور پر لطف اندوزی کا ہوتاہے سیر و تفریح کا ہوتا ہے کچھ ہمارے ہاں کے رمضان اور عید والا حال ہوتا ہے-  لیکن اسوقت امریکی قوم کو ایک چوٹی پر لٹکا دیا گیا تھا اس چوٹی سے لڑھکے یا گرے تو چاروں شانے چت، دونوں صورتوں میں تباہی اور بربادی ہے- البتہ آرام سے رسی وغیرہ لگا کر اتار دیا گیا تو بچ گئے- 
 ایک بار پھر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کا معرکہ تھا- 
   اوبامہ اور اسکی ٹیم بیحد خوش ہے  کہ اسنے اپنے انتخابی وعدے کو پورا کردیا ہے اور سرخرو ہو گئے ہیں اوبامہ انتظامیہ کا یہ وعدہ کہ متوسط طبقے پر ٹیکس نہیں بڑھایا جائے گا پورا ہو گیا ہے - حالانکہ سارا شور اسکا تھا کہ 31 دسمبر  2012 کے خاتمے سے پہلے فیصلہ ہونا چاہئے- متوسط طبقے پر ٹیکس کم کیاجائے  اور مالدار طبقے پر زیادہ ٹیکس لاگو کیا جائے اوبامہ نے اسکی حد ڈھائی لاکھ سالانہ رکھی ہے جبکہ ریپبلکن اسکی حد پانچ لاکھ سالانہ رکھنا چاہتے ہیں کانگریس کی اکثرئیتی پارٹی کے لیڈر ہیری ریڈ ( ڈی) اور ریپبلکن پارٹی کے لیڈر میں زور شور سے مذاکرات چل رہے ہیں دونوں اس پر متفق ہوگئے ہیں کہ ٹیکس بڑھانے کی حد ساڑھے چار لاکھ سالانہ ڈالر رکھی جائے- ملیئن ڈالر سالانہ کمانے والے 11-1/2٪ ٹیکس ادا کرینگے جب کہ باقی کا ٹیکس ساڑھے چار سے پانچ فیصد بڑھ جائگا- وارن بفے  امریکہ کے امیر ترین شخص جسکی سالانہ آمدن 66 ملین ڈالر ہے اور اسکا ٹیکس اپنی سکرٹری سے کم تھا اب دو  ملین ڈالر زیادہ ٹیکس ادا کریگا  صدر اوبامہ اس کامیابی کا جشن منانے اپنے بیوی بچوں کے پاس ہوائی چلے گئے ہین جاتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ یہ ایک انتخابی وعدہ تھا جو وہ پورا کر رہا ہے،کل انکو اس بل پر قانون بنانے کےلئے دستخط کرنے ہیںاب وہ راتوں رات واپس آتے ہیں یا بل انکے پاس جاتا ہے -یہ کل بتایا جائے گا- کیونکہ اس پر دستخط کل ہونے چاہئں اور یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے-
 چونکہ یہ مضمون اردو میں ہے اسلئے چونکہ اہل پاکستان اور بھارت کی زندگی میں ٹیکسوں کی ادائیگی کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اور خلیجی و عرب ممالک میں کام کرنے والے ٹیکس سے مستثنی ہیں -لیکن یہاں کسی کا باپ بھی ٹیکس کی ادائیگی میں کوئی ہیر پھیر نہیں کر سکتا اور ایک سے ایک نامی گرامی لوگوں کو زبردست سزائیں دی جاتی ہیں اسمیں حالیہ مثال مارتھا     اسٹیورٹ اور کینیڈئین ٹائی کون رابرٹ بلیک کی ہے جنکو ٹیکسوں میں ہیرا پہیری کرنے پر جیل کاٹنی پڑی- جبکہ پاکستان میں ٹیکس چوری ایک عام بات ہے اربوں ، کھربوں میں کھیلنے والے برائے نام ٹیکس ادا کرتے ہیں پچھلے دنوں  نامی گرامی پاکستانی سیاستدانوں کی ٹیکس ادائیگی کی خبر آئی تھی جو چند ہزار سے زیادہ ہرگز نہیں تھی- یہی وجہ کہ ملک غریب سے غریب اور ایک طبقہ امیر سے امیر ہوتا جارہا ہے- ایک مرتبہ کراچی کے ایک مشہور ڈاکٹر کے متعلق معلوم ہوا کہ تکیوں اور گدوں میں نوٹ برے ہوئے ہیں  اب زمین میں گاڑنے  والی بات تو نہیں ہو سکتی بہت سے ساہوکار اور تاجر کالے دھن کو سفید کرنیکی کوششوں میں ہوتے ہیں- اور زیادہ سے زیادہ خرچ کرتے ہیں
 امریکہ میں اس کا سدباب یوں کیا جاتا ہے کہ فلاحی ادارے ٹرسٹ وغیرہ کھول دئے جاتے ہیں ،بڑے بڑے امدادی عطئے دئے جاتے ہیں تمام بڑے بڑے ہسپتالوں ، مخیر اداروں کو خطیر عطیات دئے جاتے ہیں تیسری دنیا کے ممالک میں چلنے والے این جی اوز بھی اسی امداد سے چلتے ہیں- دیگر بھی کئی طریقے ہیں لیکن حکومت ایک مقررہ ٹیکس برابر لیتی رہتی ہے جو بعد میں پنشن یا سوشل سیکورٹی کی صورت مٰیں دیا جائیگا- 
 سال نو کی آتش بازیاں اور دیگر ہنگامہ میں پوری قوم کی  ساری توجہ اس چوٹی کو سر کرنے پر لگی ہوئی تھی - اگر یہ چوٹی سر نہ کی جاتی تو 
بقول ڈیموکریٹ کے امریکہ ایک شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو جائے گا قرضوں کی ادائیگی مشکل ہوجائیگی اور ملک شدید کساد بازاری کا شکار ہوجاتا- اوبامہ اور جو بائڈن کے چہرے خوشی سے کھلے پڑ رہے تھے اوبامہ کے لئے یہ بڑی کامیابی ہےکہ  کانگرس نے ااس بل کو منظور کر لیا ہےاب متوسط درجے پر ٹیکس نہیںبڑھایا جائگا اس بل کی حمایت میں 257 ووٹ اور مخالفت میں 167 ووٹ آئے ہیں اوبامہ نے کہا کہ اقتصادیات کو مستحکم کرنیکے لئے یہ محض ایک قدم ہے، امیر لوگوں کے ٹیکس میں اضافہ ہوگا اور حکومتی امداد میڈی کئیر اور سوشل سیکورٹی میں کمی نہیں کی جائیگی-آج جیسے ہی خبر آئی سٹاک مارکیٹ کا بھاؤ انتہائی تیزی سے چڑھ گیا امریکہ کے علاوہ تمام دنیا کے سٹاک مارکیٹ پر اسکے مثبت اثرات مرتب ہوئے اور کافی تیزی دیکھی گئ-  اس سے طالبعلمون کو ٹیکس پر کٹوتی ، توانائی کی صاف فراہمیی اور دیگر بہت کافی سہولیات حاصل ہونگی  اب یہ وقت بتائے گا کہ آیا یہ فیصلہ امریکہ کے مالیاتی مفاد میں ہوا ہے  یا محض ایک بڑا ڈرامہ ہے؟







وقت سب سے قیمتی سرمایہ



نَّ فِى خَلۡقِ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَـٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّہَارِ لَأَيَـٰتٍ۬ لِّأُوْلِى ٱلۡأَلۡبَـٰبِ 
190 آل عمران
بیشک آسمان اور زمین کی تخلیق میںاور  رات دن کے بدلنے میں صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں-
 میرا یہ مضمون اسی وقت کی پیمائش سے منسلک ہے مجھے یقین ہے کہ ایک مکتبہ فکر سے یہ اعتراض یقینا ہوگا کہ یہ عیسوی سال ہے - حالانکہ ہمارے تمام نظام الاوقات اسی سال کے حساب سے اور اسی کیلنڈر کے حساب سے طۓ پاتے ہیں اور بیشتر کو یہ تک یاد نہیں ہوگا کہ آج ہجری کیلنڈر کا کونسا مہینہ تاریخ اور سال ہے بہرکیف سال نو کی بہترین خواہشات کے ساتھ
عابدہ رحمانی




Journey of life: قا ضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے

Journey of life: قا ضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے: قاضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے عابدہ رحمانی نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز یہی ہے رخت سفر میر کاررواں کیلئے ...

قا ضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے


قاضی حسین احمد
ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے

عابدہ رحمانی

نگہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کاررواں کیلئے

علامہ اقبال نے یہ شعر غالبا قاضی حسین احمد کے لئے لکھا تھا -ایک ہمہ وقت متحرک ، چھا جانیوالی شخصیت آواز میں گھن گرج ، سراپے میں رعب و دبدبہ'اللہ کے دین کا مجاہد اور علمبردار،بے باک ، نڈر ، بے خوف ، دیانت دار، بے داغ اور اجلی شخصیت-- 
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ میں نوشہرہ کے قریب زیارت کاکا خیل کے قاضی خانوادے کے اس چشم و چراغ نے جب جماعت کی امارت کو  اپنایا تو جماعت اسلامی پاکستان قاضی صاحب کے نام سے ہی چار دانگ عالم میں جانی پہچانی جانے لگی- جماعت والے اور اسکے موسس اعلے سید ابوالاعلیٰ مودودی شخصیت پرستی کے مخالف اور نفی کرتے تھے- لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ اپنے آپکو منوا کر ہی دیتی ہیں اور قاضی صاحب انہی شخصیات میں سے ایک تھے- جماعت کا اپنا ایک تشخص اور شناخت تھی قاضی صاحب نے اسکو چار چاند لگا دئے، لگاتار چار مرتبہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوئے اس پر تو میں نے بھی کہا کہ اب قاضی صاحب کو امارت سے دستبردار ہونا چاہئے- 

ابھی پچھلے ہفتے تو پر وفیسر غفور احمد کا انتقال ہوا تھا- قاضی صاحب اپنے بھائی کے جنازے کو کندھا دے رہے ہیں انکے لئے دعا گو ہیں ،  انسے جنت الفردوس میں ملنے کی دعا کرتے ہیں اور یہ دعا اس قدر جلدی قبول ہوگئی-- کون سوچ سکتا تھا کیاا تنی لگن و محبت تھی- مرحوم پروفیسر صاحب کے لئے الفلاح مسجد اوکول کینڈا میں تعزیتی اجلاس میں شریک ہوئ تھی سوچا تھا اسکے متعلق کچھ اظہار خیال کرونگی معروف عربی سکالر زاہد ابی غدہ نے دعا کی تھی - پروفیسر صاحب کے ایک شاگرد  نے اظہار خیال کیا  اس وعدے کے ساتھ کہ ایک اور باقاعدہ تعزیت انکے صاحبزادے کی پاکستان سے واپسی کے بعد ہوگی- اب ان دونوں کے تعزیتی اجلاس ساتھ ہو رہے ہیں-

 قاضی صاحب پچھلے کچھ عرصے سے میرے ساتھ فیس بک پر تھے( اب جو بھی یہ صفحہ انکے نام سے چلاتاہے؟) لیکن میرے پاس تحاریر قاضی حسین احمد صاحب کے نام سے آتی ہیں - پروفیسر غفور صاحب کے جنازے کو کاندھا دے رہے ہیں ، چارسدہ میں الخدمت کے دو کارکنوں کے قتل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں یہ بس کل ہی کی بات ہے ابھی تو اخبارا ت نے اپنی شہ سرخیاں بھی نہیں بدلیں-
کہ آنا فانا وہ خود آللہ تبارک و تعالئ کے حضور چلے گۓ-یہی اس زندگی کا انجام ہے اس لمحے کے لئے ہر انسان اور بالخصوص ایک مومن کو تیا ر رہنا چاہئے - اسلئے کہ یہ لمحہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے-
پرانی بات ہے، ایک مرتبہ میں لاہور گئی تھی میرا بھائی خالد کہنے لگا یہاں منصورہ میں میرے ایک دوست قاضی صاحب رہتے ہیں چلئے آپکو انکے ہاں ملانے لے جاتے ہیں، ہم گئے تو قاضی صاحب کی اہلیہ اور چھوٹی بیٹی بہت تپاک سے ملی کہنے لگی بابا لائبریری میں ہیں چھوٹا بیٹا لقمان بھی تھا- بات چیت ہونے لگی میں نے اچانک انکی بیگم سے پوچھا یہ قاضی کا پورا نام کیا ہے؟ "قاضی حسین احمد"
انہوں نے جواب دیا اسپر میں نے دوبارہ کہا لیکن وہ  آجکل جو جماعت کے سکرٹری جنرل ہیں انکا بھی تو یہی نام ہے " کہنے لگی وہی تو ہیں - اور یہ ایک دلچسپ خوشگوار حیرت ناک بات تھی ، مجھے اسوقت تک یہ ہرگز معلوم نہیں تھا کہ قاضی صاحب پٹھان بھی ہیں - پھر میں نے بھائی کی خبر لی کہ اسنے مجھے تفصیلات کیوں نہ بتائیں؟،یہ منصورہ کا ایک چھوٹا سا دو بیڈ روم کا مکان تھا -قاضی صاحب کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا یونیورسٹی ٹاؤن پشاور اور غالبا اسلام آباد میں انکے شاندار بڑے بڑے مکانات تھے - قاضی صاحب سرحد چیمبرز آف کامرس کے نائب صدر رہ چکے تھے لیکن سکرٹری جنرل بننے کے بعد اور امارت کے 8 سال انہوں نے اسی دو کمرے کے  مکان میں گزار دئے انکی بیگم اور بیٹیاں گھر کے تمام کام کاج اپنے ہاتھ سے انجام دیتیں تھیں سادہ سا گھر صرف ضروری اشیاء سے مزین، میرا چھوٹا بیٹا ساتھ تھا اسنے لقمان سے پوچھا کہ وہ آجکل کونسے کارٹون ں دیکھتا ہے جسپر انکی بیگم نے کہا کہ بیٹا ہمارے ہاں ٹی وی نہیں ہے - مجھے یاد ہے کہ انہوں نے جلدی جلدی ہمارے لئے چائے کے ساتھ بڑے لذیز گرم گرم پکوڑے تلے-بھائی سے تو انکے تعلقات کی نوعیت یہ تھی کہ جب قاضی صاحب جماعت اسلامی سرحد کے امیر تھے ، خالد اسوقت پشاور انجینیرنگ کالج میں جمیعت کا ناظم تھا - بھٹو کا زمانہ تھا کیمپس میں سیاسی افراد کے داخلے پر پابندی تھی لیکن قاضی صاحب خالد کے مہمان کے طور پر پشاور یونیورسٹی میں داخل ہوتے تھے - اس بات کا ذکر وہ اکثر کافی فخر اور تشکر سے کرتے تھے-
 جب میں جماعت کے ذرا زیادہ قریب آئی اسوقت قاضی صاحب کی امارت تھی قاضی صاحب سے خط و کتابت ہوئی میں نے انکے خطوط کو کافی سنبھال کر رکھا تھا فون پر بھی باتیں ہوئیں لیکن بالمشافہ ملاقات کبھی نہ ہوسکی - انکے ساتھ لانگ مارچ کئے ، ملین مارچ کئے،مظاہرے کئے، دھرنے دئے اجتماعات اور جلسون میں شرکت کی وہ اور دیگر زعماء ہمارے کافی قریب ہوتے تھے، ہمارے جماعتی بھائی اپنی بہنوں کی حفاظت پر مستعد ہوتے تھے - پاکستان میں نظم و ضبط سیکھنا ہو تو جماعت اسلامی سے سیکھنا چاہئے--شمالی امریکہ کی اثنا  اسلامک سوسائیٹی آف نارتھ امریکہ ، اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ اکنا انہی کا پرتو ہیں- انکی تقاریر کی گھن گرج ابھی بھی کانوں میں گونج رہی ہے بے حد شستہ زبان بولتے تھے لیکن پشتو لب ولہجہ غماز ہوتا تھا جماعت کو مقبول عام کرنیکے لئے وہ مسلسل نئی نئی تجاویز اور محرکات کو سامنے لاتے تھے 
اگر یہ کہا جائے کہ صوبہ سرحد یا خیبر پختونخواہ میں جماعت کی تحریک کو آگے بڑھانے میں قا ضی صاحب کا ہاتھ سب سے زیادہ ہے تو بیجا نہ ہوگا- اگرچہ ان کوششوں کو بعد میں تحریک طالبان اور لال مسجد کے افسوسناک واقعے سے بہت دھچکا لگا - قاضی صاحب جب کسی حکومت کی مخالفت میں ڈٹ جاتے تو یقین ہوتا تھا کہ یہ اب جانے ہی والی ہے-  پاکستان کے تمام سیاستدانوں سے انکے اچھے مراسم تھے لیکن انکی غلطیوں پر انکا کڑا احتساب کرتے تھے - زرداری صاحب جب بد عنوانیوں کے مقدمے میں جیل میں تھے تو قاضی صاحب انہیں تفہیم القرآن اور دیگر کتابوں کا سیٹ دے آئے جو بقول زرداری اسنے پڑہیں اور اس سے بہت کچھ سیکھا-واللہ اعلم، عمران خان اپنے اسلام فہمی کا ذمہ دار قاضی صاحب کو ٹھیراتے ہیں باقی تمام سیاست دانوں سے اگرچہ انکے مراسم تھے لیکں انکی غلطیوں پر ببانگ دہل نکتہ چینی اور اعتراض کرتے تھے - پنجاب یونیورسٹی میں جب جمیعت کے اہل کاروں نے عمران خان کے ساتھ بد تمیزی کی تو اس رنج میں انکی طبیعت خراب ہوگئی - عمران کو گلے لگا کر ان سب کی طرف سے معذرت کی- نواز شریف کے گھرانے سے خصوصی تعلقات تھے- ابھی حال میں ہی بشیر بلور کی تعزیت کی اسطرح اے این پی سے بھی اپنے تعلقات نبھاتے تھے -انسے اکثر یہ سوال ہوتا تھا کہ وہ اسلامی جماعتوں کے اتحاد پر زور کیوں نہیں دیتے - انہوں نے جب متحدہ مجلس عمل بنائی تو شاہ احمد نورانی کو اسکا صدر بنایا تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ یہ  جماعت کی سرپرستی میں ایک جماعت ہے-
 دینا کی تمام جہادی تنظیموں سے انکا رابطہ تھا  بلکہ انکے پشت پناہ تھے افغانستان ، کشمیر، بوسنیا ، چیچنیا ، فلسطین ، عراق ،برما ، فلپائن ، تھائ لینڈ ، مسلمانوں اور   عالم اسلام کے ہر دکھ اور المئے پر  ہر ایک کے لئے اواز اٹھانے والے انکے دکھ درد میں شریک اور انکی پشت پناہی کرنیوالے ، قاضی صاحب دو مرتبہ دل کی بائی پاس سرجری کروا چکے تھے - چاہے ترکی ہو ، افغانستان ہو ، فلسطین ہو، مصر ہو یا دیگر اسلامی ممالک انکے آپس کے معاملات طے کرنیکیلئے اکثر انکو مصالحتی مشن پر جانا پڑتا  تھا -  گلبدین حکمتیار کے متعلق نہ جانے کیسے یہ غلط مشہور ہوگیا کہ وہ انکے داماد ہیں ؟ اسکی وجہ غالبا یہ تھی کہ جہاد افغانستان میں حد درجہ عمل دخل اور  اثر تھا جہاد کشمیر کے لئے جماعت اسلامی پاکستان نے حد درجہ قربانیاں دیں
اخوان المسلمین کی مصر میں کامیابی پر بے حد خوش تھے -  طیب اردگان ، نجم الدین اربکان عرب و عجم کے تمام مسلم لیڈران سے انکے تعلقات اور روابط تھے- حماس کے رہنما خالد مشعل کے متعلق یہ مشہور ہے کہ انکے والد نے انہیں قاضی صاحب کی خدمت میں تربیت کے لئے بھیجا - ایک اسلامی روشن خیال رہنما تھے انکے بچوں نے اعلے تعلیم حاصل کی بڑی بیٹی راحیل کو حال ہی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی - وہ قومی اسمبلی کی ممبر بھی رہ چکی ہیں وہ خود  ایک طویل عرصے تک سینیٹر اور دو  مرتبہ ممبر قومی اسمبلی رہ چکے تھے -پاکستان اکے حالیہ واقعات پر از حد ملول اور رنجیدہ رہتے تھے- جب انہوں نے جماعت کو مزید متحرک کرنیکے لئے نیشنل سالیڈیریٹی فرنٹ بنایا اسوقت جماعت اسلامی کا ایک گروہ جو جدیدیت کو اپنانے کے خلاف تھا علیحدہ ہوگیا - ہمارے لئے یہ ایک کافی کڑا اور پر آزمائش وقت تھا کتنی ہی اچھی اور بے لوث ساتھی اس دھڑے کے ساتھ مل گیئں- لیکن قاضی صاحب اپنے موقف پر ڈٹے رہے کہ انہوں نے یہ قدم جماعت کی بہتری کے لئے اٹھایا ہے اس طرح انہوں دیگر تجربات کئے - پاسبان بنائی ، شباب ملی بنائی وہ چاہتے تھے کہ وہ نوجوان وہ صالح عنصر جو تھوڑے بہت بھی دین کے قریب ہوں وہ تحریک کا حصہ بن جائیں انکی یہ کاوشیں کس حد تک کامیاب ہوئیں اسکے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے لیکن بہت حد تک ایک عام پاکستانی ذہن دین کو سمجھنے ضرور لگا ہے-
ایک مرد حق و صادق اپنے رب کے حضور جا چکا ہے اللہ تبارک و تعالی انکی خدمات کو قبول فرمائے اور انکی کوتاہیوں کو معاف کرے -
-- 

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی


قاضی حسین احمد ایک دھوپ تھی جو ساتھ گیئ آفتاب کے-