Thursday, December 6, 2018

A note from my diary!

A note from my diary:
One of my life time experience!
When thrill and excitement turned into fear and anxiety!
By:
Abida Rahmani

It was a random Trip to north of Toronto planned by my son Nasir on 21st of November.The first snow storm of this season a day earlier welcomed him on his arrival to Toronto.. 
It was snowing when we had a stopover in "on-route Rest area at Barrie"for a cup of coffee and tea. Then  we decided to go to Blue Mountain. The scenic, enchanting area of Wasaga beach and  Collingwood was covered with a thick snowy drape all around. On one side the blue clear water of Georgian bay was flowing in serenity.We drove and then walked around in snow in the park on side of Georgian bay.As we drove out on opposite direction the board of  " scenic caves"attracted us. It was almost -8 to -10 c outside and the time was almost 3:00pm. Nasir decided to rent snowshoes to have a walk outside on the tracks in the snow. The girls helped me putting and tying on those racket type shoes with this information that if we withdrew with in ten minutes,we will be fully refunded. They warned us to come back at 5:00 pm as they were closing by 5.
As we embarked in the snow it seemed a lot of fun and excitement initially with no intention of backing out in ten minutes. 
The suspension bridge and adjoining area was just breathtaking. This 420 feet bridge is above 25 meters over the valley and looked sturdy with iron railings and fence. The walk was spectacular though a bit tough. 
Nasir's phone was out of battery and he used my phone for pictures . He then informed me that the phone suddenly stopped working. I desperately got involved in fixing it but in vain. In this pursuit, got worried without a phone and the same without pictures.( what a necessity for us the holders of a smartphone!)
After the bridge we started going up and down. As I stared at my watch it was almost 4 that I freaked out . It seemed that we have arrived quite far in the wilderness. The phones weren't working and we have to get back at 5 pm. Nasir was following the map and there were signs on trees,despite all that I started going through a lot of tension and anxiety. Getting breathless and exhausted I trembled and fell down in the heap of snow. Luckily the snow was quite soft and I wasn't hurt. Unable to standup myself ,it only became possible with my son's help. He almost pulled me out. Glory to Almighty. Anyway with all my vigor restarted to walk to reach back to destination , praying to Almighty for help. No one else except us could be seen in the area around. I was scared that the office is going to be closed and they will leave at 5:00pm. 
Dreadful with this thought of leaving behind and with walk in the snow, I started feeling quite hot in this extreme cold, I opened and loosen my jacket,removed the muffler. The cold blast was a bit soothing. . ...
Nasir assuring me that we were close by he even assured me that we would be there in 10-15 minutes. Hoping for the best , he exclaimed ,"here is the office." It was a sigh of relief and gratitude to my lord. I asked him to rush there as I was quite slow and breathless.
As he reached inside he asked them to help me. I was quite close then that a boy brought a snowmobile to pick me .However I decided to complete this adventure on my own.
In excitement and relaxation of being safe and sound didn't even notice the time of the arrival. The girl taking out my shoes informed me," we wouldn't leave until you have returned. We'd take our snow mobile and searched for you all around. There are still two persons outside for whom we'd search."At that l screamed why didn't you tell us all this earlier."
Alhamdolillah all is well that ends well!

Sunday, November 11, 2018

ٹورنٹو میں موسم سرما کی آمد





ٹورنٹو میں موسم سرما کی آمد

یہ موسم سرد ہواؤں کا ، کیوں لوٹ کے پھر سے آیا ہے۔۔

از 
عابدہ رحمانی

 موسم نے کیا چولا بدلا ، یخ بستہ ہواوؤں کا راج ہوا اور اس سے بچاؤ کے لئے لوگوں نے موٹے کوٹ ، جیکٹ، دستانے ، ٹوپی گرم اور موٹے کپڑوں میں پناہ لی ۔(ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جو دو ماہ پہلے مختصر ترین لباس میں ملبوس تھے)۔ تقریبا ہر جگہ ہیٹنگ یا اندرون خانہ گرمائش کا نظام شروع ہوچکا ہے ۔ درختوں کے پتوں نےجو حسین رنگ برنگے پیرہن اوڑھ لئے تھے ، سبحان اللہ انکا حسن بے حد سحر انگیز ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنگلوں میں صناعی ہو گئی ہے اور قدرت کی یہ صناعی لا جواب ہوتی ہے  ۔لیکن ہر حسن کو زوال ہے اور اب ا سکے زوال کا وقت شروع ہوا یہی اس خطے میں قدرت کا قانون ہے ۔ رفتہ رفتہ زرد اور بھورے کملاتے ہوئے یہ پتے ایک تند و تیز ہوا کی لپیٹ میں آ کر زمین بوس ہو جاتے ہیں۔یہ ٹند منڈ درخت سخت سردی اور برفباری جھیلتے ہوئے موسم بہار کی آمد کےمنتظر ہوتے ہیں۔
ہوا کےتیز و تند جھونکوں سے یہ پت جھڑ شروع ہوا اور سر سراتے ہوئے پتے ہر جانب رواں دواں ہوئے۔ تیز ہوا اڑاتے ہوئے انہیں کونوں کدروں میں سمیٹنے لگی ۔گھروں کے آس پاس لوگ ان پتوں کو سمیٹ کر خاکی ردی کاغذ کے بڑے تھیلوں میں سمیٹ کر کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں کے لئے رکھ دیتے ہیں ۔ اور بعد میں ان سے کھاد تیار کی جاتی ہے۔ 

درجہ حرارت جب تک دس سنٹی گریڈ یا اس سے اوپر ہے تو موسم خوشگوار ہے لیکن رفتہ رفتہ ہم منفی درجہ حرارت اور برف باری کی جانب بڑھ رہے ہیں  اندرون خانہ تو گرم رہنے کے بہترین انتظامات ہیں لیکن باہر نکلنے کے لئے درجہ حرارت دیکھ کر اوڑھ لپیٹ کر نکلنا پڑتا ہے۔ کپڑوں کی تہیں چڑھانی پڑتی ہیں اسطرح کے جیکٹ اور اوور کوٹ جو اندر جاکر ہمیں اتارنے پڑیں تو کوئی دقت نہ ہو۔ اکثر تو اندر ون اسقدر گرمائش ہوتی  ہے کہ ایک کے بعد ایک کافی ساری تہیں اتارنی پڑ جاتی ہیں اور اگر لٹکانے کی مناسب جگہ نہ ہو تو لادے لادے گھومنا پڑتا ہے۔

بیشتر کھلے تفریحی مقامات موسم سرما کیلئے بند کر دئے گئے ہیں ۔ پارکوں اور تفریح گاہوں میں ایک ویرانی سی دکھائی دیتی ہے ۔ گرمیوں کی تمام چہل پہل ماند ہونے لگی ہے ۔ سردی کی وجہ سے  راہگیر بہت کم دکھائی دیتے ہیں ایک  تو وہ ہوتے ہیں جنہیں مجبورا نکلنا پڑتا ہے یا انکے پاس ذاتی سواری نہیں ہوتی۔ بصورت دیگر وہ شائقین جو اس سردی میں چہل قدمی اور جاگنگ کرتے ہیں۔

برف پگھلانے والے مواد اور نمک کی خرید اری زوروں پر ہے اسے گزرگاہوں اور سڑکوں پر برف باری ہونے کے بعد ڈالا جائے گا ۔شدید برف باری کی صورت میں یہ بھی اکثر ناکافی اور بیکار ہو جاتا ہے۔ سردی اور سخت سردی کا یہ موسم  ٹورنٹو اور کینیڈا کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس سے نمٹنے کی تدابیر اور کوشش کی جاتی ہے۔ مقامی باشندے اسے جھیلنے کے لئے تیار  ہوتے ہیں۔ معمر حضرات کی اکثریت سخت سردی سے نجات حاصل کرکے امریکہ کے گرم ریاستوں کا رخ کرتے ہیں ۔ ان میں کیلیفورنیا، فلوریڈا ، اریزونا ، ٹیکساس کے کچھ علاقے لوزیانا اور دیگر شامل ہیں ۔ کچھ مزید دور کریبئن اور میکسیکو چلے جاتے ہیں ۔ ان لوگوں نے سنو برڈ ( برفانی پرندے) ایسوسی ایشن بنا رکھی ہے ۔ گرمیوں کے آغاز پر انکی وطن واپسی ہوتی ہے۔ 

کینیڈا کی مشہور بطخیں بھی جنوب کی جانب گرم علاقوں کی جانب مائل پرواز ہوتی ہیں موسم کی خنکی کے ساتھ ساتھ وہ ٹیں تیں کرتی ہوئی جھنڈ کی جھنڈ اڑان بھرتی ہیں۔
 دنیا کے شمالی کرے میں موسم سرما اور جنوبی کرے میں موسم گرما کا آغاز ہو چکا ہے خط استوا سے دوری اور نزدیکی تغیر اور تبدیلی کا باعث بنتی ہے ۔کینیڈا مزید شمال کی جانب ہے جو شہر اور علاقے امریکہ کے ساتھ ہیں وہ یہاں کے گرم ترین علاقے ہیں ۔ جسقدر شمال کی طرف بڑھتے جائیں مزید 
ٹھنڈک کا راج ہوتا ہے۔ جہاں اگلو بنے ہوئے ہیں اور اسکیمو رہتے ہیں۔۔

اس مرتبہ کینیڈا یا ٹورنٹو میں زوردار لمبی گرمیاں گزریں۔ایسی گرمیا ں آئیں کہ بہت سے تو بلبلا اٹھے ۔مونٹریال میں کئی لوگ گرمی کی شدت سے ہلاک ہوگئے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قدر شدید سردی کو جھیلنے والی قوم میں گرمی جھیلنے کی تاب نہیں ہے۔


 گرمیوں کے یہ قصے  اس موسم کی آمد کے ساتھ  خواب و خیال ہوگئے ۔ یقین ہی نہیں آتا کہ یہاں کبھی کراچی جیسا حبس بھی تھا جبکہ ہمارے پیرہن پاکستان کے لون کے بنے ہوئے سوٹ تھے،ائر کنڈیشنر اور پنکھوں کے بغیر گزارہ مشکل تھا۔ گرمی کے موسم میں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہاں اس قدر شدید سردی بھی پڑتی ہے ۔
ا
۔یہاں کی سردی میں پاکستان کی طرح پکوان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا وہاں پر گرم گرم گاجر کا حلوہ، گجریلا اور دیگر حلوہ جات ،ٹن ٹن کرتی ہوئی چھابڑیوں پر بھنی مونگ پھلی ، ریوڑیاں اور گجک، کوئلوں پر سنکے بھٹے ، نمک میں بھنے مکئی اور چنوں کے دانے ،بڑے کے پائے اور گرم گرم نان جبکہ نہاری تو اب عام کھانا ہوگیا ہے ۔ ہاں ہم پاکستانی اپنے طور پر اسکا اہتمام کرنیکی کوشش کرتے ہیں۔ ایک زمانے میں بھنے ہوئے چلغوزوں کا راج ہوتا تھا ۔ خشک میوےسے مہمانوں کی خاطر تواضع کی جاتی تھی۔ یہ میوہ جات سردیوں کا خاسہ ہوتی تھیں۔

ان دنوں کرسمس کے لئے ا ٓرائش و زیبائش جاری ہے  کرسمس اور برفباری کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ کرسمس اگر سفید نہ ہوا تو وہ بھی کیا کرسمس ہے ۔ ٹورنٹو اور کینیڈامیں عام طور سے برف کی کوئی قلت نہیں ہوتی  لیکن بسا اوقات یوں بھی ہو جاتا ہے کہ برف کے ڈھیر کرسمس کے آنے سے پہلے ہی پگل گئےایسے میں لوگوں کی مایوسی دیدنی ہوتی ہے ۔ لوگ مایوس ہوں نہ ہوں میڈیا چلا چلا کر اعلانات کرتا ہے کہ ابکے کرسمس سفید نہ ہوئی۔

 امریکہ میں تھینکس گیوینگ کے بعد کرسمس کا اہتمام ہوگا۔جھلملاتی ہوئی رنگ برنگی بتیاں اور آرائش اس ٹھنڈک میں رونق ڈال دیتی ہیں اب کرسمس تک سانٹا کلاز ، کرسمس ٹری ، اسکی سجاؤٹ اور رینڈئیر زکا راج ہوگا  یہ تمام لوازمات یخ بستہ علاقوں سے متعلق ہیں ۔ عیسے علیہ السلام کی پیدائش سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔تمام سٹوروں میں کرسمس کی خریداری شروع ہوچکی ہے اسکا سب سے بڑا مظاہرہ بلیک فرائڈے اور اسکے بعد کی سیل پر ہوگا۔ کرسمس پریڈ ہونگے ، امریکہ میں میسی سٹور کا  تھینکس گیونگ پریڈ راک فیلر سکو ائر  کا ایک مشہور وقوعہ ہے ۔ کرسمس کے بعد نیو ائر کی رونق اور چھٹیوں کا موسم ۔ حالانکہ سردی اتنی شدید کہ سورج بھی پنا ہ مانگے ۔  سورج جو گرمی میں سوا نیزے پر تھا اب جیسے اپنی گرمی کہیں بھول آیا ہے جب چمکتا ہے تو شیشوں کے اندر سے محسوس ہوتا ہے کہ گرم ہے باہر نکلو تو گرمی نام کو نہیں ۔ایسی سردی ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے۔ خوش آمدید اے موسم سرما خوش آمدید

Sunday, June 10, 2018

ماہ صیام کی برکات


Subject: ماہ صیام کی برکات ۔۔




Subject: ماہ صیام کی برکات ۔۔

   امریکہ اور دیگر ممالک 
میں ماہ صیام کی برکات  

از 
عابدہ رحمانی

وقت کا دھارا اسقدر تیزی سے رواں ہے ابھی ابھی تو رمضان کی آمد ہوئی تھی اور آخری عشرہ آن پہنچا ۔ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے ایک دن یا قمری تاریخ کا فرق چل رہا ہے ۔ آخری عشرہ اور طاق راتیں مختلف تاریخو ں میں چل رہی ہیں ۔ بہتر ہے کہ اس قضیہ سے بے نیازی اختیار کی جائے ۔اور اپنی عبادات سے کام رکھا جائے ۔ اللہ کی ذات با برکات ہمارے اعمال اور کوششوں کو قبول فرمائے ۔دنوں اور وقت کا حساب بھی اسی کے علم میں ہے۔ آمین ثم آمین۔

شمالی امریکہ یعنی امریکہ اور کینیڈامیں اس مرتبہ رمضان میں دو مختلف دنوں میں روزہ رکھنے کا افسوسناک تفرقہ رونما ہوا۔ فقہ کونسل کے کیلنڈر پر چلنے والے مساجد نے بدھ سولہ مئی کو روزہ رکھا جبکہ چاند دیکھنے والوں یا ہلال کمیٹی نے چاند نہ دیکھنے کی صورت میں جمعرات 17 مئی کو روزہ رکھا۔ کاش کہ ایک گروہ دوسرے کا ساتھ دے دیتا ۔ ایسا ماضی میں بھی ہو چکا ہے اور انتہائی افسوسناک صورتحال ہوجاتی ہے ۔ ایک ہی شہر میں چند عید منا رہے ہوتے ہیں اور چند روزے سے ہوتے ہیں۔
کیلنڈر کی پیروی نے  ایک طرح سے ہمیں چاند ڈھونڈھنےسے بے نیاز کر دیا ہ کیلنڈر بنانے والے فقہ کونسل میں بھی جید علماء ہیں جنکا دعوی ہے کہ فلکیاتی پیمانوں کے حساب سے اسوقت چاند کی پہلی تاریخ ہے  وہ اسکی مثال یوں دیتے ہیں کہ  زمانہ قدیم میں نمازوں کا تعین سائے کے گھٹنے بڑھنے سے ہوتا تھا لیکن گھڑی کی ایجاد نے مسلمانوں کو اس سے بے نیاز کر دیا ہے اور گھڑی سے اوقات کا تعین کیا جاتا ہے ۔ لیکن دوسرے گروہ کا اصرار ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھلی آنکھ سے چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے اور چاند دیکھ کر ہی روزہ اور عید ہونا چاہئے ۔ حیرت ہے کہ اس نئے چاند کی اہمیت ان دو مواقع پر ہی ہوتی ہے ۔باقی مہینوں میں اس طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یوروپ اور دیگر ممالک میں بھی مسلمان اپنے طور پر ماہ رمضان کا آغاز کرتے ہیں - کوئی سعودی عرب کی پیروی کرتا ہے ، کوئی مصر کی، کہیں انحصار کیلنڈر پر ہے اور کہیں اسپر بضد کہ بچشم خود چاند دیکھا جائے- 

کینیڈا اور امریکہ کی یہ صورتحال مجموعی طور پر انتہائی افسوسناک ہے ۔دعا ہے کہ  کاش عید ایک ہی روز منائی جائے ۔
پندرہ مئی کو رات تقریباً ساڑھے دس بجے ہماری فریسسکو  ڈیلاس کی مسجد نے چاند نہ نظر آنے کا اعلان کیا ۔ خبریں تو آرہی تھیں کہ نارتھ کیرولائنا میں چاند نظر آیا ہے کسی نے کہا کہ کیلیفورنیا میں نظر آیا ہے لیکن غالبا مستند نہیں تھیں۔ اور یوں ہم نے سترہ مئی سے روزے شروع کئے ۔
  مقامی مسجد میں اکنا حلقہ خواتین کی جانب سے قرآن پاک کا دورہ تفسیر شعبان کے نصف سے شروع ہو چکا تھا۔ دیگر اسلامی اداروں کے ہمراہ اکنا ( اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا) ایک فعال اسلامی ادارہ ہے ۔ تقریباً پورے ملک میں خواتین کے دورہ تفسیر اور آن لائن پروگرام بھی جاری تھے اسکے علاوہ نوجوان اور بچوں کے کافی پروگرام ترتیب دئے گئے ۔ قرآن کی آگاہی ، ہمراہی ، ادراک اور شعور امت مسلمہ کے لئے سب سے بڑا اثاثہ ہے ۔۔ اب بیشتر دورہ تفسیر رقت آمیز دعاوں کے ساتھ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔۔ رب العالمین ہماری مناجات اور عبادات قبول فرمائے۔
مساجد میں تراویح کے بڑے بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں اب آخری عشرے میں قیام الیل کا بھی انتظام ہے ۔جہاں پر اہل ایمان جوق درجوق اپنے اہل خانہ کے ہمراہ آرہے ہیں ۔ ہماری مسجد نے بہترین انتظامات کئے ہیں ۔ مسجد کی سیکیورٹی اور پو لیس کا بھی عمدہ انتظام ہے ۔بہترین خوش الحان قراء کی تلاوت میں نماز کی ادائیگی کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔۔ مساجد کی یہ رونق خواتین کے لئے ان ملکوں کا ہی خاصہ ہے۔پاکستان میں خال خال مساجد میں خواتین کا انتظام ہوتاہے ، ایمانداری کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی میں نے مسجد میں رمضان میں نماز تراویح ادا نہیں کئ ۔وہاں بہت سے مرد حضرات بھی مساجد سے کتراتے ہیں ۔

یہاں ہر ہفتے کو مسجد میں افطار اور عشائیے کا بہترین انتظام ہے ۔رضا کاروں کا ایک بڑا گروہ انتظامات میں مصروف ہوتا ہے۔ افطاری کیلئے ایک کھجور اور پانی کی بوتل دی جاتی ہے نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد ڈبوں میں لذیذعشائیہ دیا جاتا ہے۔ ایک جانب خواتین اور دوسری جانب مردوں کے لئے میزیں ، کرسیاں لگا دی جاتی ہیں بلا مبالغہ کم و بیش ایک ہزار تک افراد ہوتے ہیں۔۔روزہ افطار، لذت کام و دہن کے ساتھ مسلمان بھائی بہنوں کے آپس میں بھائی چارگی کا موقع میسر آتا ہے ۔ اس افطار  کے لئے مخیر حضرات و خواتین دل کھول کر فنڈ دیتے ہیں۔
 مساجد میں دل کھول کر ماحول بن جاتا ہے اور مسلمان کمیونٹی مساجد میں خوب تقریبات کا اہتمام کرتی ہے یوں مساجد ایک کمیونٹی سنٹر کا درجہ بھی رکھتے ہیں ۔اجتماعی افطار ،بہترین حفاظ کی  تراویح جس کے دل میں ایمان کی روشنی ہے پورا خاندان مسجد دوڑا جاتا ہے اور مسجد سے جڑ جاتا ہے-مجھے تو مساجد میں جو لطف آتا ہے اور جو چہل پہل نظر اتی ہے اس سے تو ہم پاکستان میں  محروم ہوتے ہیں-- آجکل دنیا کے بیشتر ممالک میں اسکولوں کی گرمیوں کی چھٹیاں ہیں- اسلئے بچوں کو مسجد سے جوڑنے کا بہترین موقع ہے۔ بچوں کو آپس میں ملنے جلنے اور کھیل کود کا موقع بھی میسر آتا ہے ۔
خواتین کے سیکشن میں چھوٹے بچوں کی بے بی سٹنگ کا بھی انتظام ہے ۔
اسلامی مخیر فلاحی ادارے زکواۃ ،صدقات اور  فطرہ کے حصول کے لئے متحرک ہیں ۔ یہ مقامی ضرورت مندوں ، پناہ گزینوں کے علاوہ دیگر کئی  ممالک میں مستحقین کی امداد کرتے ہیں۔
فنڈ ریزنگ افطار اور عشائیے کے علاوہ نجی سطح پر بھی افطار پارٹیاں ہو رہی ہیں ۔۔ یوں اہل ایمان نے رمضان اور اسکی برکات سے اپنے آپکو جوڑ رکھا ہے ۔ 
 ٹرمپ اور اسکے حواری مسلمانوں کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں اور کیا لائحہ عمل اختیار کر رہے ہیں ۔ وہ اس سے بے نیاز ہیں 

اگر ہم تاریخ کو غور سے دیکھیں تو رمضان ، حرمت کا مہینہ عرب معاشرے میں اسلام کے آنے سے  قبل موجود تھا -یہ  ان چار مہینوں میں ہے جن میں جنگ و جدل منع کیا گیا تھا-اس مہینے کو اللہ تعالی نے نزول قرآن اور وحی پاک کے ذریعے برکت عطا کی ، شب قدر کو قرآن پاک کا نزول ہوا "انا انزلنٰہ فی لیلۃالقدر " اور ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں اتارااور محمدﷺ پر پہلی وحی اتاری گئ اقراء باسم ربک الذی خلق-( العلق ۱)-پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا --اس لحاظ سے یہ جشن نزول قرآن کا مہینہ ہے- یہ وہ مبارک رات ہے جسکی فضیلت ایک ہزار مہینوں  سے بھی بہتر ہے گویا اس رات میں عبادات کا صلہ ایک ہزار مہینوں سے بھی زیادہ  ہے ۔سبحان اللہ ،اسی رات کو فرشتے اور جبرئیل امین کارخانہ دنیا کا حساب کتاب گویا پورے سال کا پورا بجٹ اور حساب کتاب تیار کرتے ہیں اور اسی جشن کو مناتے ہوئے دو ہجری میں روزے فرض ہوئے- 
جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے تمام عالم اسلام اور مسلمانوں میں اس ماہ مبارک کی اہمیت اور فضیلت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا- ہمت ہر کس بقدر او است 

اس سے پہلے اخبارات اور مجالس کے ذریعے عوام الناس کو اس مہینے کی آمد کیلئے تیار کیا جاتا تھا اب اللہ بھلا کرے ڈیجیٹل اور آنلائن ٹیکنالوجی کا سماجی رابطے کی ویب سایٹ خصوصا واٹس ایپ اور فیس بک کا ایک سے ایک دیدہ زیب کارڈ، احکامات  قرآن ، ،احادیث اور اقوال ذریں پر مبنی اقوال ایک طرف ہماری اصلاح اور درستگی کرتے ہیں، دوسری جانب ہمارے اندرونی جذبوں کو اجاگر کرتے ہیں- استقبال رمضان کو نجی محفلوں ، مساجد کی محفلوں میں بھی خصوصیت حاصل ہے- الحمدللہ آنلائن سہولتوں کی بدولت ہمارے  اس سے پہلے استقبال رمضان بھی ہوچکے ہیں--مجھے نہیں یاد کہ ہمارے بچپن میں اسطرح کے کوئی سلسلے ہوتے تھے - بس رمضان آیا چاند کا اعلان ہوا اور لوگوں نے روزے رکھنے شروع کر دئے۔

پاکستان والے خوش ہیں کہ اس مرتبہ انکا روزہ ایک ساتھ جمعرات سے شروع ہوا۔
اور خیبر پختون خواہ نے بھی ساتھ ہی روزہ رکھا ۔ مدتوں بعد ایسی یک جہتی ہورہی ہے اللہ کرے عیدالفطر بھی ساتھ ہو ۔ -ورنہ یہاں کی روایت ہے کہ  یہاں پر بقیہ پاکستان سے ہمیشہ ایک روز پہلے روزہ اور عید منائی جاتی ہے - ہم بچپن میں سنتے تھے کہ فلاں فلاں جاکر تحصیل میں ، اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق دینے کی قسم کھا کر آیا ہے کہ اسنے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھا ہے جبکہ حقیقتا ابھی اسکی شادی بھی نہیں ہوئی ہے --اسکو کھیل تماشہ بنانے والے صادق اور راسخ مسلمان اب بھی کم نہ ہونگے اور یہ سلسلہ یعنی بقیہ پاکستان سےایک روز پہلے عید منانا اور روزہ رکھنا ابھی بھی جاری ہے- وہاں پر ایک عام اصطلاح یہ استعمال ہوتی ہے " اچھا بڑا چاند ہے دیکھو ایک روزہ انہوں نے کھا لیا" بقر عید عموما ایک ساتھ منائی جاتی ہے 




روزے ہر طرح رکھے جاتے ہیں ہر موسم میں رکھے جاتے ہیں اور کیوں نہ رکھے جائیں یہ دین اسلام کا دوسرا اہم ستون اور فرض ہے- 
اسلامی مہینوں کا حسن یہ ہے کہ یہ بدلتے رہتے ہیں اور مختلف موسموں میں




آتے ہیں۔ یعنی کبھی دن بڑے ،کبھی راتیں کبھی سردی کبھی گرمی۔
 
 
 استوائی خطے پر دن رات  ہمیشہ برابر رہتے ہیں اور قطبین کا حساب تو الگ ہی ہے یہاں تو اکثر چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے
اسکینڈے نیویا کے ممالک ناروے اور سویڈن میں جہاں دن ختم ہونے کا نام نہیں لیتا وہاں پر قریبی مسلم ملک کے حساب سے سحر و افطار کا تعین کر دیا جاتا ہے- زمین کے جنوبی کرے میں اسوقت سردی کا موسم ہے دن قدرے چھوٹے ہیں ۔ آسٹریلیا ،جنوبی امریکہ اور جنوبی افریقہ میں  ان دنوں سردی کا موسم ہے۔ 
انکے روزے تو خوب مزے میں گزرینگے۔۔ 
شمسی کیلنڈر سے دس دن کے فرق سے رمضان اور حج کے مہینوں کا موسم بدل جاتا ہے اور ہمارے یہ دو دینی فرائض بشمول عیدین ایسے ہیں جنکا انحصار خصوصی مہینوں پر ہے- یہ جب سردیوں میں آتے ہیں تو موسم کی مناسبت سے کافی سہل ہوجاتے ہیں جبکہ گرمی کے روزے رکھنا ایک جہاد سے کم نہیں ہیں اور اللہ تبارک و تعالی سے اسکی مزید اجر و ثواب کی توقع رکھنی چاہئے-

وہ ممالک جہاں پر ان دنوں گرمیاں معراج پر ہیں  مشرق وسطے کے ممالک  کم از کم بجلی اور ایر کنڈیشننگ کی نعمت سے سرفراز اور مالامال ہیں اور دوسرے ممالک جہاں پر روزہ 18،19 گھنٹے طویل ہو سکتا ہے ہمارا روزہ ساڑھے سولہ سے سترہ گھنٹے کا ہوگا-لیکن اللہ تعالی ایسی قوت ایمانی دے دیتا ہے کہ رمضان جیسے آتا ہے اتنی ہی تیزی سے رخصت بھی ہونے لگتا ہے  ان غیر مسلم ممالک میں چاہے وہ یوروپ ہو ،شمالی یا جنوبی امریکہ ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ہو، یہاں پر ملازمت پیشہ افراد کیلئے روزے رکھنا ایک کڑی آزمائش ہے بسا اوقات تو بیشتر لوگ جانتے بھی نہیں کہ روزہ کیا ہے اور اسکا مقصد کیا ہے؟ - پورے دفتر میں ہوسکتا ہے آپ تنہا راسخ العقیدہ مسلمان ہوں - لنچ بریک ہے ، کافی یا ٹی بریک ہے ہر طرف لوگ کھا پی رہے ہیں وہ آپکو حیرت سے دیکھتے ہیں اگر انکو سمجھانے کی کوشش کریں تو الٹا آپ پر ترس کھانے لگتے ہیں- "اوہ یہ کتنا مشکل کام ہے یہ تو ظلم کی انتہا ہے کم از کم پانی تو پینا چاہئے " اور آپ اپنا سا منہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں ۔  روزہ دار کے منہ سے آنے والی بو 
وہ اللہ تعالی کو مشک سے زیادہ محبوب ہے لیکن یہاں دفتر میں منہ کی بدبو کافی بری سمجھتے ہیں
 یہ غنیمت ہے کہ ہمارے علماء نے ٹوتھ پیسٹ کے استعمال کی اجازت دیدی ہے بشرط یہ کہ حلق میں نہ جائے --اسوقت  زمین کا شمالی کرہ گرمیوں کی لپیٹ میں اور جنوبی کرہ سردی کی لپیٹ میں ہے--کینیڈا میں تو خوبی کی بات یہ ہے کہ کئی گروسری سٹور رمضان کی اشیاء کی سیل لگا لیتے ہیں--مسلمان آبادی اس سے کافی خوش اور مطمئن ہوجاتی ہے-
پاکستان میں استقبال رمضان کا خاصہ ہوا کرتا تھاکہ وہ تمام پھل اور اشیاء جو رمضان میں لازم و ملزوم تھے ہمیشہ مہنگے کر دئے جاتے تھے کاروباری حلقےکو منافع بٹورنے کیلئے اس سے بہترین موقع کہاں میسر - کراچی میں ایک مرتبہ گرمیوں کے روزوں میں تربوز کے دام تگنے ہوگئے- آخر میں بارش ہوئی موسم بہتر ہوا تو ٹرک کے ٹرک اپنا سڑا ہوا مال سبزی منڈی کے باہر پھینک گئے وہ بدبو اور تعفن خدا کی پناہ--

-حکومت پاکستان نے روزہ داروں کے لئے اپنی طرف سے سحر و افطار پر لوڈ شیڈنگ نہ کرنیکا تحفہ دیا ہے دیکھئے کہ اس پر عمل کہاں تک ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا - خبروں میں تو یہ آرہاہے کہ شدید گرمی ہے اور بجلی غائب ۔ شاید ہم پھراسی پرانے دور میں چلے جائیں کہ تولئے بھگو کر سر پر رکھے جائیں-

اسلامی ممالک میں تو رمضان کا سماں ہی کچھ اور ہوتا ہے - 

سعودی عرب میں ہر رمضان اسکولوں کی چھٹیاں کر دی جاتی ہیں سعودی عرب میں رمضان کا پورا مہینہ ایک جشن کی صورت میں منایا جاتاہے - اور غالبا یہی طریقہ دیگر عرب ممالک میں ہے تراویح کے بعد سے سارے بازار کھل جاتے ہیں ہر طرف ایک چہل پہل ایک رونق ، عربی خواتین کی خریداری دیکھنے کے قابل ہوتی ہے انکی ریڑھی اوپر تک لبا لب بھری ہوئی کہتے ہیں رمضان کی خریداری پر اللہ کے ہاں حساب نہیں ہوگا اس وجہ سے وہ رمضان میں خوب خریداری کرتی ہیں- اب یہ بات محض سنی سنائی ہے یا اسکی کچھ حقیقت ہے تو عالم فاضل حضرات اس کی وضاحت فر ما دیں- اکثر دفاتر بھی رات کو کھلے ہوتے ہیں - فجر کے بعد عام طور سے لوگ سو جاتے ہیں اور پھر ظہر پر اٹھتے ہیں- پاکستان میں دفاتر کے اوقات کار کو کم کردیا جاتا ہے -  شیطان یا شیا طین کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے -لیکن اسکی عملی شکل دیکھنے میں نہیں آتی  اسلئےکہ جرائم کی شرح میں کوئی کمی نظر نہیں آتی ، چور چوری سے جاتا ہے لیکن ہیرا پھیری سے نہیں جاتا- 
 سب سے زیادہ دکھ کی بات کہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری اور گولہ باری جاری  ہے اور شدید جانی نقصان ہو چکا ہے یہی حال کشمیر ، یمن اور شام کا ہے۔ پاکستان افغانستان میں بھی خونریزی کسی نہ کسی صورت سے جاری ہے۔

اسلام سے پہلے رمضان کا مہینہ حرمت کا مہینہ تھا جسمیں جنگ و جدل روکدیا جاتا تھا - کیا تمام مسلمان کم از کم اس مہینے کی حرمت کا لحاظ کر سکتے ہیں کیا مسلمان کے ہاتھوں ایک مسلمان جان و مال کی امان پا سکتا ہے- صوم کی ڈھال تھامے ہوئے سب سے پہلے تو قتل و غارتگری بند ہونی چاہئےروزے کا دارومدار تقوٰی پر ہے تمام عبادات کا لب لباب یہ ہے شائد کہ تم تقوٰی اختیار کرو
اللہ تعالٰی ہمیں متقون میں شامل کرے -اسوقت ہمیں ان مسلمانوں کی بھرپور مدد کرنی چاہئے جو نامساعد حالات کا شکار ہیں چاہے وہ پاکستان ہے ، شام ، عراق یا دیگر ممالک  ایسا نہ ہو کہ یہ روزے محض سحریوں ، افطاریوں اور افطار پارٹیوں کے لوازمات تک ہی محدود رہ جائیں
و ما علینا الا البلاغ
میرے قارئین اور ناقدین کو ماہ صیام اور آخری عشرہ القدر کی بابرکت ساعات کی  دلی مبارکباد 
اللھم تقبل منا و تقبل منکم 
اللہ تعالٰی آپکو نیکیوں کی اس فصل بہار اور جشن نزول قرآن کے اس مبارک مہینے سےفوائد اور نیک اعمال حاصل کرنیوالا بنائے--اللہ تبارک و تعالٰی ہمارے روزوں اور تمام عبادات قبول فرمائے  آمین
-- 

Saturday, March 17, 2018

ارزل العمر

ارزل العمر
عابدہ رحمانی
میں نے پردہ کسکا کرکھڑکی سے جھانک کر دیکھا ،لنڈا نےآج گیراج سیل   لگا یاتھا ۔وہ ہر سال گرمیوں میں گیراج سیل ضرور لگاتی ہے ۔اکثر تویہ کہتی ہے کہ میں اپنے گھر کی چیزیں تبدیل کر رہی ہوں جی بھر جاتا ہے انکو دیکھ دیکھ کے ۔گرمیوں میں یہاں گلی گلی گیراج سیل لگ جاتےہیں اکثرلوگ  اپنی  متروک اور غیر ضروری اشیاء سےفراغت پانا چاہتےہیں۔ کچھ نقل مکانی کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہم جیسے لوگ ضرور تا اور شوقیہ پہنچ جاتے ہیں بسا اوقات تو پیک کی ہوئی بالکل نئی اشیاء اونی پونی قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں ۔ عام طور سے یہ گیراج سیل یا گیراج کے باہر سجا بازار ہفتے کے روز صبح  سات بجے سے دو پہر ایک بجے تک ہوتا ہے ۔ رہنمائی کرنے کے لئے لوگ ایک روز پہلے ہی سے نشاندہی کرنے والے بورڈ چوراہوں اور سڑک کے کنارے لگا لیتے ہیں جن پر پتہ اور تاریخ درج ہو تا ہے ۔ شائقین اور گاہک انتظار میں ہوتے ہیں اور علی الصبح ہی عمدہ اشیاء کے شکارمیں پہنچ جاتے ہیں۔ 
یہ تو بالکل گھر کے مقابل تھا میں نے کچھ کیش ٹٹولا گلے میں بیگ لٹکایا اور پہنچ گئی۔
لنڈا نے کافی اشیا سجا رکھی تھیں ۔ اچھے خاصے برتنوں کے سیٹ ، نادر قسم کی  سجاوٹ کی اشیاء، کانچ کی مرصع بڑی بڑی گڑیا ئیں، باورچی خانے کا سامان ، چمچے ،برتن ،کپڑے ،جوتے ،کڑھائی اور بنائی کا سامان ، چادریں،  میز پوش غرضیکہ انواع و اقسام کی اشیاء تھیں ۔ 
چند گاہک خریداری میں مصروف تھے ۔ انسے فارغ ہوئی تو لنڈا میری طرف متوجہ ہوئی۔ 
ہیلو ہائے کے بعد میں نے  یہاں کی گرمیوں کی تعریف کی جنکا ان یخ بستہ علاقوں کے لوگوں کو شدت سے انتظار ہوتا ہے۔" موسم بہت حسین ہے اسقدر خوبصورت دن ہے۔
 آج تو تم نے بہت بڑا بازار سجایا ہے ۔ انواع و اقسام کی چیزیں ہیں ۔ " میں نے اسکی سیل کی تعریف کی۔
" ہاں یہ سب مام کی چیزیں ہیں ۔ مام بہت شوقین تھیں دنیا جہاں کی چیزیں اکٹھی کی تھیں اور اپنی چیزوں سے بہت پیار کرتی تھیں۔کچھ چیزیں تو ہم تینوں بھائی بہن نے آپس میں تقسیم کر لیں "
" تو کیا انتقال ہوگیا؟ "
" نہیں زندہ ہے ۔ ترانوے برس کی ہوگئی ہیں اور الزائمر کی مریضہ ہیں ۔ نہ زندوں میں نہ مردوں میں ،  مجھے دیکھتی ہیں تو مجھے اپنی ماں سمجھتی ہیں ۔ انکی باتیں سنکر میں سخت ہیجان میں آجاتی ہوں ۔وہ میرے سامنے چھوٹی سی بچی بن جاتی ہیں ۔ جب میں انکو بتاتی ہوں کہ میں آپکی بڑی بیٹی لنڈا ہوں ۔ تو انہیں کچھ یاد نہیں آتا اور ناراض ہوجاتی ہیں۔انسان کسقدر بے بس ہے۔ 
یہ سب بہت مشکل ہے ۔بے حد مشکل ہے ۔ کاش ، اے کاش کہ مام کو اب موت آجائے ۔ مام کو اب مر جانا چاہئے ۔ " لنڈا نے پتھرائی ہوئی آنکھو ں سے مجھے دیکھا ۔
 
حدیث پاک میں یہ دعا ہے
اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے ، بزدلی اور ارزل العمر سے ( بڑھاپے کی ذلیل حدود میں پہنچ جانے سے)زندگی اور موت کے فتنوں اور عذاب قبر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں

Sunday, March 11, 2018

غلط فہمی

غلط فہمی ۔۔افسانہ
از 
عابدہ رحمانی

میری دوبئی ائر پورٹ سے کراچی کیلئےروانگی تھی ۔جانے سے دو روز پہلے خبر ملی کہ نسیمہ ( جو چند روز پہلے دوبئی میں رکتے ہوئے کراچی گئی تھی) کے ساتھ والی سیٹ پر ایک خاتون اس سے پوچھتی رہی کہ دوبئی میں کیا شاپنگ کی ہے ؟ اور نسیمہ نے خوب بڑھا چڑھا کر تفصیلات بتائیں ۔ اسکی شیخی خوری اور خود نمائی کی عادت تو تھی ہی اور اسطرح کے قصے تو وہ خوب چسکے لے لے کر بیان کرتی تھی ۔اسے  خوب یاد ہے کراچی پہنچ کر خاتون نے کسی کو فون کیا اور کچھ تفصیلات بتاتی رہی ۔ اسے اسکے بھائی لینے آئے تھے ۔ گھر پہنچے تو اسلحے کے زور پر ایک اور گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی نسیمہ سمیت تمام گھر والوں کا صفایا کر دیا ۔ جانیں اور عزت بچ گئی ،یہی غنیمت تھا ۔
 نہ تو میں شیخی خور ہوں اور نہ ہی میں نے دوبئی میں کوئی خاص خریداری کی تھی لیکن میں نے فیصلہ کیا تھا کہ لئے دئے رہوں ۔ گیٹ کے قریب نشست سنبھالی تو چاروں طرف نظر دوڑائی ۔ کونے میں ایک پاکستانی جوڑا براجمان تھا دونوں ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال کر ایک دوسرے پر نچھاور ہو رہے تھے ۔ہمارے پاکستانی کلچر میں میاں بیوی تو ایسا ہرگز نہیں کرتے اور وہ بھی پبلک کے سامنے۔ لڑکی کا لباس بھی قدرے بے حجابانہ تھا ۔ شاید شو بز سے تعلق ہو ۔
"دوبئی میں مزے کرلو بچو"  میں نے دل میں سوچا یہ گرل فرینڈ کا چکر کھلم کھلا تو اب بھی پاکستان میں نہیں چلتا۔۔اتنے میں ایک لڑکا میرے پاس آیا " آنٹی آپ کراچی جارہی ہیں ،میں بھی کراچی جارہا ہوں ۔میں یہاں اکیلا رہتا ہوں جب بھی موقع ملتا ہے کراچی کا چکر لگا لیتا ہوں باقی فیملی وہیں ہے۔ میں بادل ناخواستہ اسکی کہانی سنکر ہوں ہاں کرتی رہی۔ 
اتنے میں جہاز میں جانے کا اعلان ہوا۔ جہاز میں داخل ہوئی تو دیکھا وہی جوڑا میرے سامنے والی سیٹ پر براجمان  ہے ۔ ایک فلائیٹ اٹینڈنٹ انکے پاس آیا اور انکو خوش آمدید کہا "ہمیں خوشی ہے آپ ہمارے ساتھ سفر کر رہے ہیں ۔اس سے یہ بات تو طے ہوگئی کہ  یہ شو بز کے لوگ ہیں ۔لیکن کون ہیں اتنے میں ایک خاتون میری ساتھ والی سیٹ پر آئیں اور انکو دیکھ کر چہک اٹھیں "ارے یہ تو رامس   ہے اسکا فلاں فلاں شو کافی مشہور ہے آسدن نازیہ خان شو میں آئے تھے ۔ کیا آپ نہیں جانتیں ؟ " "یہ لڑکی کون ہے اور اسکی کیا ہے ؟ میری ساری توجہ لڑکی کی طرف تھی ۔خاتون نے لاعلمی کا اظہار کیااور بتایا کہ اسکی تو ابھی تک شادی ہی نہیں ہوئی ۔ میں انپر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ میں امریکہ سے آئی ہوں اور میرے پاس پاکستانی چینل نہیں ہیں اسلئے میں انہیں قطعی  نہیں جانتی۔
جہاز اڑاہی تھا کہ چائے کی سروس شروع ہوئی ۔ خاتون  کے ہاتھ پر مکھن لگ گیا تھا  اور ان کا دودھ کا پیکٹ نہیں کھل رہاتھا انہوں نے رامس سے کھلوایا اور اسنے دانتوں سے کھول لیا ۔ خاتون نے اس ے ٹیشو پیپر بڑھا کر ، اس  پر آٹو گراف بھی لے لیا اور اسکے مختلف پروگراموں کی تعریف کرتی رہیں۔ میں قدرے جز بز ہوتی رہی کہ کسطرح گفتگو کا آغاز کروں ۔ اسکے  ساتھ والی لڑکی جو تقریباً اس پر جھکی ہوئی تھی  اس کو متلی شروع ہوئی ، اسنے اسکے منہ سے الٹی کے لئے بیگ لگا لیا ۔۔بالآخر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ،" یہ آپکی بیوی ہے کیا ؟ " میں نے پوچھ ہی ڈالا ۔ "جی ہاں جی ہاں بالکل ،یہ روبی ہیں کافی مشہور ماڈل ہیں ،ہماری دو مہینے پہلے ہی شادی ہوئی ہے کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے انکی " یہ سن کر میری تمام پریشانی دور ہوئی ۔مجھے یک گونہ اطمینان اور سکون ہوا ۔ انکے جائز رشتے ، آپس کی محبت اور الفت مجھے بے حد بھانے لگی ،اور پھر انسے کراچی امد تک ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر خوب گپیں لگائیں۔۔

Thursday, March 8, 2018

International women's day

International Women's Day (8 March)

Abida Rahmani

International Women's Day (8 March) is a global day celebrating the economic, political and social achievements of women past, present and future. In some places like China, Russia, Vietnam and Bulgaria, International Women's Day is a national holiday.Annually on 8th March, thousands of events are held throughout the world to inspire women and celebrate their achievements. A global web of rich and diverse local activities connects women from all around the world ranging from political rallies, business conferences, government activities and networking events through to local women's craft markets, theatrics performances, fashion parades and more.
Many global corporations have also started to more actively support IWD by running their own internal events and through supporting external ones.Year on year IWD is certainly increasing in status. The United States even designates the whole month of March as 'Women's History Month'.
So make a difference, think globally and act locally !! Make everyday International Women's Day. Do your bit to ensure that the future for girls is bright, equal, safe and rewarding.
Women in Islam
In the midst of the darkness that engulfed the world, the divine revelation of Islam echoed in the wide desert of Arabia with a fresh, noble, and universal message to humanity:"O mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person (Adam), and from him,He created his wife [Hawwa (Eve)], and from them both He created many men and women; and fear Allâh through Whom you demand (your mutual rights),...". [Noble Quran 4:1] The Quran dedicates numerous verses to Muslim women, their role, duties and rights, in addition to Sura 4 with 176 verses named "An-Nisa" ("Women")
At a time when female children were buried alive in Arabia and women were considered transferable property, Islam honored women in society by elevating them and protecting them with unprecedented rights. Islam gave women the right to education, to marry someone of their choice, to retain their identity after marriage, to divorce, to work, to own and sell property, to seek protection by the law, to vote, and to participate in civic and political engagement.
Khadija ra the Prophet (PBUH) 's wife  was the first person to have an abiding faith in the utterances of the Prophet (peace and blessings be upon him) and to accept Islam as her religion and her way of life. She was blessed with the distinction of having been greeted with Salam (greetings) by Allah and the Angel Jibril.
Financial Resposibilities
In Islam, women are not obligated to earn or spend any money on housing, food, or general expenses. If a woman is married, her husband must fully support her financially and if she’s not married, that responsibility belongs to her closest male relative (father, brother, uncle, etc).
She also has the right to work and spend the money she earns as she wishes. She has no obligation to share her money with her husband or any other family members, although she may choose to do so out of good will. For instance, Khadija, the wife of the Prophet Muhammad (pbuh), was one of the most successful businesswomen of Makaah and she freely spent from her wealth to support her husband and the cause of Islam.
Women's Education
Muhammad (pbuh) declared that the pursuit of knowledge is obligatory on every Muslim – male and female. This declaration was very clear and was largely implemented by Muslims throughout history. One of the most influential scholars of Islam was Muhammad(PBUH)’s wife, Aisha ra. After his death, men and women would travel to learn from her because she was considered a great scholar of Islam. She is the narrator of about 2000 ahadith from Prophet (SAW).
Islam encouraged  education of Muslim women. According to a hadith , Muhammad (PBUH) praised the women of Madina  because of their desire for religious knowledge.
How splendid were the women of the Ansar shame did not prevent them from becoming learned in the faith.
Politics and Social Services
Among the early Muslims, women were active participants in the cohesive functioning of the society. Women expressed their opinions freely and their advice was actively sought. Women nursed the wounded during battles, and some even participated on the battlefield. Women traded openly in the marketplace, so much so that the second caliph, Umar, appointed a woman, Shaffa bint Abdullah, as the supervisor of the bazaar.
Inheritance
Before Islam, women all across the globe were deprived of inheritance, Islam gave women the right to own property and inherit from relatives, such as father, husband, son and in some cases from brother.
Whether a woman is a wife, mother, sister, or daughter, she receives a certain share of her deceased relative’s property.  While many societies around the world denied women's inheritance, Islam assured women this right, illustrating the universal justice of Islam’s divine law.
Marriage and Divorce
In Islam, marriage is based on mutual peace, love, and compassion. God says about Himself, “And of His signs is that He created for you from yourselves mates that you may find tranquility in them; and He placed between you affection and mercy…” (Quran 30:21) Muhammad (pbuh) embodied the best character and is a role model for all Muslims. His example of being helpful around the household and treating his family with compassion and love is a tradition that Muslims strive to implement in their daily lives. Muhammad (pbuh) treated his wives with the utmost respect and honor and was never abusive towards them. One of his traditions clearly states, “The best of you are those who are best to their wives.”
A Muslim woman has the right to divorce her husband if she is unsatisfied with the relationship. This is called Khulaa in Arabic. In this case she has to surrender her dowry, which was given during the marriage contract.
Modesty
In an environment where woman is  constantly emphasized to show her body and beauties through various media and public concerns. Although Muslim women are falsely classified as oppressed based on their modest dress, they are in fact liberated from such a liberal presentation by the society around them. This modest appearance, which includes coverings and sometimes veiling, highlights a woman’s personality and character . In this regard, Muslim women identify with Mary, the mother of Jesus (pbuh), who is known for her piety and modesty.
Islam has elevated the status of women as a mother, a wife, a sister and it was done 1400 years ago when the world was in dark ages. We the Muslim Women should be proud of this status.