Sunday, August 13, 2017

هجرت کی دھوپ

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے
ہجرتوں کی دھوپ میں تائیدایزدی کے اشارے

حصولِ پاکستان کی جدوجہد کا مختصر سا احوال
والد محترم مرحوم میجر محمد قاسم کی یاد داشتیں جس کوعابدہ رحمانی نے مرتب کیا اور شائع کروایا
  از
عابدہ رحمانی

اللہ تبارک وتعالیٰ کا بیحد کرم اور بے پناہ احسان ہے کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے 70 برس پورے ہورہے ہیں۔ اگرچہ اس دوران ہم بہت بڑے سانحے سے دوچار ہوئے ہمارا ایک بازو ہم سے کٹ گیا۔ بے پناہ ذلت اور ہزیمت اٹھائی لیکن آج ہم پھر اس بچے کھچے ملک کی تعمیر میں مصروف ہو گئے ہیں۔ یہ ملک ہم مسلمانوں کے لیے ایک عطیۂ خداوندی ہے۔ دشمنانِ ملت جب اس کے خلاف سازشوں کا جال بچھاتے ہیں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے اس لیے کہ ان سازشوں میں اپنے پہلے ہوتے ہیں اور دوسرے بعد میں آتے ہیں۔ مجھے وہ وقت یاد آتا ہے جب انگریز فوجی افسر ہم سے کہتے تھے’’ تم لوگ پاکستان بنانے کا شوق پورا کر لو لیکن ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ  یہ چھ مہینے سے زیادہ نہیں چلے گا‘‘ انہوں نے ہر چال چلی لیکن مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی برکت اور جذبہ مسلمانی کی برکت سے یہ ملک اللہ کی مہربانی سے قائم و دائم ہے۔
قیام پاکستان کے وقت میری تعیناتی جھانسی (بھارت) کے مقام پر تھی۔ جھانسی اس وقت متعصب ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کا گڑھ تھا اور ان کا مقصد اور مقولہ تھا ’’مسلمانوں کی تباہی اور بربادی‘‘۔ یکم اگست 1947ء کو میں نے جھانسی میں حاضری دی۔ کمانڈنگ آفیسر کرنل باورڈیگ سے انٹرویو ہوا۔ یہ افسر انتہائی باخبر تھا۔ وار آفس (جنگ کے دفتر) لندن میں بریفنگ کے لیے جاتا۔ دہلی اورشملہ سے کثرت سے رابطہ تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے اہل خانہ کو لانے اور اچھی رہائش دلانے کا وعدہ کیا کیونکہ اس کے خیال میں فروری 1948ء تک وہیں مقیم رہوں گا۔ یہ میرے لیے ایک لمحہ فکریہ تھا لیکن جب اس پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہندو لیڈروں گاندھی، نہرو، پٹیل، سکھ لیڈر (تارا سنگھ، بلدیو سنگھ وغیرہ) اور انگریز حکومت اور ان کے نمائندہ وائسرائے اور انڈین یونین کے پہلے گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن کی مشترکہ پالیسی تھی کہ پاکستان کو چھ ماہ کے اندر اندر شیر خوارگی ہی میں ختم کیا جائے اور اس کے لیے تمام حربے استعمال ہوئے۔
افواج ہند کی تقسیم نہایت ہی مجبوری کی حالت میں عمل میں لائی گئی جو کہ قائداعظم کی مومنانہ فراست اور فولادی عزم کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
ہندوستان بھر میں خاص کر مشرقی پنجاب میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ ہزاروں جوان لڑکیاں اورعورتیں اغواء ہوئیں اور تقریباً ایک کروڑ لوگ بے سروسامانی کی حالت میں ہجرت کر کے پاکستان آئے اور ان پر بھی راستوں میں قاتلانہ حملے ہوتے رہے۔ آگ اور خون کے دریا پار کر کے لوگ اس وطن پاکستان میں پہنچے۔
میں میس کے سنگل آفیسرز کی ہٹس میں رہائش پذیر تھا اس لیے بہت سے افسروں (انگریز اور ہندوؤں) سے جان پہچان کا موقع لا۔ اپنے دفتری انتظام میں کام، قواعد و ضوابط کے مطالعے پر بھرپور توجہ دی اور اپنے سابقہ تجربے سے پورا فائدہ اٹھایا جو کہ دوسری عالمی جنگ میں 1939-1945ء کے دوران 16 ماہ کی فیلڈ سروس (شمالی افریقہ) کے علاوہ دو تین یونٹوں کی انسٹرکٹرشپ میں حاصل ہوا تھا۔ اس کے علاوہ لکھنؤ میں گیارہ سو بستروں کے سی ایم ایچ ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن اور ملٹری جیل خانہ جات اور حوالاتی بیرکوں میں گوروں کی کمان بھی میں کر چکا تھا۔
14 اگست 1947ء کا دن آیا تو آفیسرز میس میں پارٹی دی گئی، سجاوٹ کے لیے پاکستان کی جھنڈیاں کوشش کے باوجود نہ مل سکیں ہم نے اصولی طور پر ہندو افسروں سے منوا لیا تھا کہ اب ہم ایک علیحدہ قوم ہیں اور ہمارا ملک پاکستان ہے۔ مسلمان سٹاف بکھرا ہوا اور حد درجہ غیر منظم تھا۔ آپس میں رابطہ نہ تھا اور اکثریت حالات سے بے خبر تھی۔ مشرقی پنجاب والے اپنے گھروں، اہل خانہ اور رشتہ داروں کے متعلق فکرمند تھے۔ سٹاف کی فلاح و بہبود کا کوئی بندوبست نہیں تھا اور نہ ہی انہیں کہیں سے رہنمائی حاصل تھی۔
میں نے پہلے ان پر توجہ دی، انہیں منظم کیا سب کو یکجا کر کے حالات کی نزاکت سے باخبر کیا۔ ملی جذبہ بیدار کیا، محنت، ایثار اور قربانی پر آمادہ کیا۔ رفتہ رفتہ بفضلِ ربِ کریم اچھی ٹیم بنتی چلی گئی۔اس کے علاوہ حقوق کے حصول (ہمیں یہاں سے سروس ریکارڈزاور سٹیشنری وغیرہ لے کر پاکستان جانا تھا) کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ قدم قدم پر سٹاف کی رہنمائی کی اور کامیابی حاصل ہوتی ہوگئی۔
سٹاف میں کلرک وغیرہ پنجابی، پٹھان اور بنگالی مسلمان تھے۔ سب مل کر بہترین جذبے کے ساتھ ایک دوسرے سے تعاون کرتے تھے۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ ہم لوگ اگرچہ فوجی تھے لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہر وقت جان کا خطرہ لاحق تھا۔ عام مسلمان تو انتہائی خوف اور خطرے کی حالت میں تھے۔ کسی سے شکایت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ حکومت ہمارے مخالف تھی کانگریسی حکومتی پارٹی ہندو مہاسبھا وغیرہ سب ہی دشمن تھے۔ انہیں دنوں معمول تھا کہ بھوپال اور گوالیار کے درمیان چلتی ٹرینوں سے مسلمانوں کو پھینک دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا تھا۔ افواہیں زوروں پر تھیں۔ ریڈیو، اخبارات وغیرہ پر ہندوؤں اور سکھوں کا غلبہ تھا۔ انگریز بھی ان کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے رہتے تھے۔ہمارے پاس نہ اپنی کرنسی تھی اور نہ ہی سرمایہ ان حالات میں عام آدمی کا مورال کیا ہو گی یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
میں مختلف سیکشنوں میں کام کرتا رہا اور گاہے بگاہے اپنے کمانڈر کو اس کی پروگریس بتاتارہا۔ سروس ریکارڈ حاصل کرنے کا کام کافی مشکل تھا۔ شروع میں چند دستاویزات ملیں اس کے بعد ہندوؤں اور سکھوں نے تعاون نہ کیا۔ خاص کر شمالی ہند کے ہندوؤں کا رویہ متعصبانہ رہا۔ اب ہم نے جنوبی ہند کے کلیریکل سٹاف کی مدد لی جو کہ غیر متعصب تھے وہ ہماری دستاویزات دینے پر آمادہ تھے اور یہ کام رات کی خاموشی میں ہوتا رہا جبکہ وہ لوگ ڈیوٹی پر ہوتے تھے۔ دستاو یزات کے فائلوں پر نام دیکھ کر ان کو الگ کر دیتے تھے، مسلمان افسروں کی فائلیں کے ساتھ غلطی سے ہم چند عیسائی اور سکھوں کی فائلیں بھی لے آئے جسے بعد میں کمانڈر کو واپس کر دیا اور وہ بہت مشکور ہوئے۔
سٹیشنری کا حصول نسبتاً آسان رہا اور رفتہ رفتہ ہمیں اپنے حصے کی سٹیشنری اور فارم ملتے گئے۔ میں نے متعلقہ ہندو افسر پر واضح کیا کہ انگریز اپنے حصے کی سٹیشنری لے کر بمبئی ارسال کر رہے ہیں اور جب ہم اپنا حصہ لیتے ہیں تو تم لوگوں کو کیوں تکلیف ہوتی ہے۔ اس نے کہا "خان صاحب آپ بھی اپنا حصہ لے لیں آپ کو کون منع کر سکتا ہے"
ہم نے اپنے حصے کی سٹیشنری فارم وغیرہ اور 17 ہزار سٹینسل پیپرز حاصل کیے اور اسے میگزین کے کمرے میں خاموشی سے رکھتے رہے تاکہ تخریب کاروں کی نگاہوں سے دور رہیں۔ رات کو کلرک محمد خان اسی کمرے میں سوتا اور فجر کے وقت چلا جاتا۔
سٹیشنری کے ساتھ ہم نے دس عدد ٹائپ رائٹرز اور دو ڈپلیکیٹرز بھی لے لیے تھے مگر چند روز بعد جبکہ روانگی میں تاخیر ہوئی تو انڈین جی ایچ کیو سے اطلاع آئی کہ دونوں مملکتوں کا فیصلہ ہے کہ سٹیشنری میں ٹائپ رائرز اور ڈپلیکیٹرز شامل نہیں ہیں آپ لوگ یہ دونوں چیزیں نہیں لے جائیں گے۔ اس دوران مجھے جاٹ ہندو کپتان سے معلوم ہوا کہ یہ کام کپتان لالہ لاجیت رائے (تلوار، راولپنڈی) کی شرارت سے ہوا جو کہ آر ایس ایس کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے۔ سٹینسل پیپرز پاکستان میں اس وقت بالکل نایاب تھے اس لیے اسی کو غنیمت جانا۔
ان حالات میں سٹاف کی سکیورٹی، ریکارڈز آف سروس اور سٹیشنری کی مناسب حفاظت کے ساتھ ساتھ ذاتی حفاظت پر بھی توجہ دی گئی۔ ہم حالات پر نظر رکھتے تھے۔ کوشش یہ تھی کہ ماحول ٹھیک رہے۔ لالٹین میں رات کے وقت دو سنتریوں کا ایک وقت میں بندوبست تھا۔ ان کے پاس سیٹیاں اور عام سونے کے لباس ہوتے تھے۔ انہیں ہدایت تھی کہ راؤنڈ کرنے والے افسروں اور وی سی او کو نہ پکارا جائے تاکہ انہیں شبہ نہ ہو کہ ہم ہوشیار ہیں اگر پوچھیں تو بتانا کہ رفع حاجت کے لیے اٹھا ہوں۔ پاکستان روانگی کے لیے رولنگ سٹاک (سپیشل ٹرین) کا انتظام ہو گیا۔ حرکت کرنے کا حکمنامہ مل گیا۔ 12 دسمبر 1947ء کو روانگی تھی۔
بھاری سامان مال کے ڈبوں میں لادا، آدمیوں کو ترتیب کے ساتھ بٹھا دیا کہ جہاں تک ہو سکے ایک پارٹی یونٹ کے آدمی ایک جگہ ہوں تاکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول میں آسانی ہو۔ سٹیشن پر موجود مہاجرین کو بھی مختلف ڈبوں میں بانٹ دیا۔ ہماری کوشش کے باوجود ریلوے والوں نے مال کے ڈبے آگے کی بجائے پیچھے لگا دیے۔ آگے لگانے میں ہمارے دو ہمارے دو مقاصد تھے کہ مال کے ڈبے کٹنے نہ پائیں گے اور پٹڑی سے اترنے کی حالت میں (جس میں کافی امکان تھا) انسانی جانوں کی بچت ہو گی۔ مگر انہوں نے تعاون نہ کیا اب مجبوراً میں نے یہ انتظام کیا کہ صوبیدار امیر علی خان کی ڈیوٹی لگائی کہ آپ آخری ڈبہ میں ہوں گے۔ ٹرین کی روانگی کے وقت پلیٹ فارم پر آگے ہوں گے اور تسلی کریں گے کہ ڈبے کٹ تو نہیں گئے۔ اگر کٹ گئے تو فوراً سیٹی بجائیں۔ آپ کے آدمی ڈبہ میں زنجیر کھینچ کر گاڑی رکوا دیں گے۔ چنانچہ آگے جب جالندھر میں ڈبے کٹ گئے تو اسی طریقے سے ہمیں معلوم ہوا ورنہ اگلے سٹیشن یا سٹاپ پر معلوم ہوتا تو تمام سامان، دستاویزات اور سٹیشنری سے ہاتھ دھونے پڑتے۔
اللہ اللہ کر کے وہ وقت آ پہنچا جس کا شدت سے انتظار تھا۔ 12 دسمبر 1947ء کو شام کے وقت ملٹری سپیشل ٹرین میں جھانسی سے 6 آفیسراور تقریباً 400 سپاہی سوار ہوئے تھے۔ ان کے افراد خانہ اور سویلین ان کے علاوہ تھے۔ آگرہ سے تقریباً 11 آفیسر اور 800 مزید سپاہی سوار ہوئے تھے۔ ہماری ٹرین آخری ملٹری سپیشل تھی اس سے پہلے جو ملٹری سپیشل جھانسی سے روانہ ہوئی اس کے فوجی پوری طرح مسلح تھے، ٹینک تھے، کمانڈ مکمل تھی، وائرلیس، ٹیلیفون تھے۔ ہماری ٹرین مقابلتاً دشمن کے لیے تر نوالہ تھی اس لیے میں نے پوری حالت افسروں، جونیئر کمیشنڈ افسروں اور نان کمیشنڈ افسروں پر واضح کر دی کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ جب تک ہم پاکستان خیریت سے نہ پہنچ جائیں کوئی غفلت اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈسپلن کا اعلیٰ مظاہرہ کرنا ہے۔ راشن پانی کے استعمال میں ہر ممکن بچت کریں، ایثار و قربانی وقت کا تقاضا ہے، دیکھ بھال لازمی ہے۔رب کریم نے اپنا فضل و کرم فرمایا کہ ہماری ٹرین کے کسی آدمی یا پارٹی کی تلاشی وغیرہ نہیں ہوئی جو جتنا سامان ساتھ لا سکتا تھا ٹرین میں لوڈ کر دیا۔ رات کے 12 بجے ہماری ٹرین روانہ ہوئی۔ 13 دسمبر کی صبح 8:30 بجے آگرہ پہنچ گئے۔
ٹرین رکنے کا وقت ایک گھنٹا تھا مگر ہندو، سکھ، آر ٹی او اور ایس ایس او کی مداخلت اورگڑبڑ کی وجہ سے تقریباً چار گھنٹے ٹرین رکی رہی۔ ہماری مسلسل شکایت اور احتجاج کے بعد انہوں نے ٹرین کی روانگی کی اجازت دی۔ اب انہوں نے اپنی من مانی کے بعد ٹرین سے اپنا گارڈ ہٹایا ہمارے گارڈ نے چارج لیا۔
مہاجرین ٹرین پرٹوٹ پڑے، منصوبے کے مطابق ہمارے آدمی ڈبوں میں کھڑے رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جگہ مل جائے لیکن دکھاوے کے طور پر شور مچاتے رے کہ مت آنے دو مگر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر انہیں ڈبوں میں سوار ہونے میں مدد دیتے اس کے بعد ٹرین روانہ ہوئی۔
رات امرتسر سٹیشن پر گاڑی کھڑی ہوئی تو ایک ہندو جاسوس گاڑی کا جائزہ لینے کے لیے بڑھا کہ اتنے میں سنتری نے چھلانگ لگا کر ہالٹ پکارا اور سنگین کا نوک اس کے گلے سے لگایا ساتھ ہی جے سی او انچارج پستول لیے پہنچ گیا میں بھی پہنچا میں نے جے سی او کو تلاشی لینے کے لیے کہا۔ اس سے ہتھیار وغیرہ تو برآمد نہ ہوا اس سے پوچھا کہ ’’کون ہو تم؟‘‘ جواب ملا۔ شرنارتھی، میں نے کہا کہ شرنارتھی یا شرارتی’’ وہ معافیاں مانگنے لگا آگے کی جانب پلیٹ فارم پر تقریباً 100 گز دوردس آدمی بیٹھے آگ سینک رہے تھے۔ ظاہراً وہ اس واقعہ سے لاتعلق رہے مگر انہوں نے اپنے سرپرستوں کو یہ ضرور بتایا ہو گا کہ یہ لوگ الرٹ ہیں۔ آگے بیاس آیا کنارے پر ایک پہاڑی ہے جو کہ خطرناک جگہ تھی بلکہ کسی حد تک مقتل بتایا جاتا تھا وہاں سے بھی بفضل رب کریم خیریت سے گزرے۔ علی الصبح اذان سے قبل اٹاری پہنچ کر اطمینان کا سانس لیا۔ ٹرین کا چارج لینے کے لیے پاکستانی انجن ڈرائیور اور گارڈ وغیرہ آئے۔ اللہ کا بیحد شکر ادا کیا سٹاف نے پاکستانی جھنڈے کے مشابہ جھنڈا بنایا تھا اس پر 02 ای پاک کپڑے سے بنایا تھا وہ جھنڈا ہمارے کوپے کے باہر لگایا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ٹرین واہگہ پہنچ گئی۔
مادر وطن کی سرزمین پر پہنچ کر اور اتنی بڑی ذمہ داری بخوبی نبھانے کے بعد کیا جذبات تھے بیان سے باہر ہیں۔ سب سے پہلے تو نفل شکرانہ ادا کیا۔ پھر  روح پرایسی سرمستی اور سرشاری کی کیفیت چھا گئی کہ میں بالکل غافل ہوگیا۔ چندھیاتی ہوئی تیز دھوپ میں آنکھ کھلی تو ٹرانزٹ کیمپ کے سائیڈنگ پر تھا۔
اسی طرح یہ کارواں منزل آگے بڑھتا رہا۔ محنت، ایمانداری، عزم مصمم اور مسلسل جدوجہد سے یہ گلستان پُر بہار ہو گیا۔
یہ داستان رقم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نئی نسل کو بھی معلوم ہو کہ ابتداء میں ہم نے کس کس طرح اس چمن کی آبیاری کی۔ میں اب بھی اپنی نئی نسل سے مایوس نہیں ہوں۔

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیزہے ساقی

Thursday, August 10, 2017

جیوے جیوے پاکستان


جیوے جیوے پاکستان   
 
 از

عابدہ رحمانی


الحمد للہ پاکستان آج 70 برس کا ہوا چاہتا ہے- ترقی یافتہ دنیاکے لحاظ سے اسکی حیثئیت عمر کے لحاظ سے ایک معمر کی ہے جبکہ پاکستانی لحاظ سے ساٹھا پاٹھا بڑہاپے کی سرحد میں داخل ہے- 14 اگست 1947 کو رمضان المبارک کی 27 شب کو پاکستان معرض وجود میں آیا جسے عام طور سے شب قدر مانا جاتا ہے -
تقسیم ہند کے دوران والی نسل بھی اب بڑھاپے میں ہے وقت کا پہیہ تیزی سے گھومتا ہے-- آج کو کل بننے میں چند گھنٹے ہی صرف ہوتے ہیں-

تقسیم ہند کے دوران خاک و خون کے کتنے دریا پاٹے گئے - عالمی تاریخ میں ایک اور انوکھی مثال قائم ہوئ، لاکھوں لوگ ہجرت کرکے ایک سر زمین سے دوسری سرزمین پر آگئے- بے بسی ، تباہی و بربادی ، ایثار و قربانی کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی، پھر اس لٹے پٹے مملکت کی تعمیر نو کا آغاز ہوا اینٹ پر اینٹ جمائی گئی  -اس مملکت کے ناخدا کو جلد ہی مایوس ہوکر بالآخر یہ بھی کہنا پڑا" میری دونوں جیبوں میں کھوٹے سکے ہیں"- ایک سال کے اندر وہ کمزور و ناتواں ،لیکن گھن گرج والی آواز اور اصولوں کا پکا مخلص ناخدا اس کشتی کو بیچ منجدھار چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوا- اسکے بعد بڑے زیر و بم آئے- اکتوبر 1951 کو قائد کے دست راست ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپینڈی میں قتل کردیا گیا-اسی لیاقت باغ نے دوسری بھینٹ بے نظیر بھٹو کی صورت میں لی--

کڑی آزمائیشوں اور ناگفتہ بہ حالات سے نبرد آزما ہوتے ہوۓ یہ وطن اور ملت اپنی بقا کی کوششوں میں مصروف رہا ہے اور اسوقت زیادہ شدت سے ہے -بقول اقبال'
یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فا تح عالم -جہاد زندگانی میں ہے یہ مردوں کی شمشیریں- 

اگر ہم پاکستانی تاریخ کا ایک سرسری اجمالی جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس مملکت خداداد کو ابتداء سےہی بیرونی و اندرونی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا - دائمی حریف بھارت سے پے در پے کئی جنگیں ہوئیں 1971 کی جنگ کے نتیجے میں اپنے ایک حصے اور تقریبا نصف مملکت مشرقی پاکستان سے ہاتھ دھونے پڑے- اور یہ کتنا سنگین اور کسقدر اندوہناک المیہ تھا کہ اسکی شدت ، تباہی و بربادی، ہلاکت آفرینی اور قتل و غارت گری کا ا حاطہ کرنا نا ممکن ہے- یہاں ہرگز کفر و اسلام کا معرکہ نہیں تھا بلکہ زبانوں (بولیوں) ، تہذیب اور نظریات ، نا انصافی اور غلط فہمیوں کے معرکے تھے- دشمنوں نے انہیں خوب خوب ہوا دی - سب سے بڑی اسلامی مملکت دو لخط ہوئی-- پاکستانی فوج کو حد درجہ ہزیمت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا-

کشمیر کے تصفیئے کے لئے پاکستان کو بے انتہا قربانیاں دینی پڑیں جبکہ یہ مسئلہ ابھی تک تصفیہ طلب ہے اور پاکستان کی پوزیشن بھارتی دباؤ کے پیش نظر کافی کمزور ہو چکی ہے- افغانستان میں روسی فوجوں کی آمد کے ساتھ پاکستان افغان مسئلے میں اتنا الجھ گیا کہ الجھتا ہی چلا گیا - وقت اور حالات کے پلٹنے سے جہاد افغانستان اور مجاہدین دہشت گرد بن گئے اور وہ جو امریکہ کی آنکھ کا تارا تھے اور جنکی وجہ سے روس کے ٹکڑے ٹکڑ ے ہو گئے وہ امریکہ کی نظر میں سب سے زیادہ خطرناک اور بڑے مجرم کہلائے - پھر 11 ستمبر 2001 کا ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا واقع ہوا- اسکا ملبہ جہاں افغانستان ، عراق اور دیگر مسلم دنیا پر گرا وہاں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا بند، ساتھی اور ہراول دستہ بن گیا- ان مسائل میں الجھ کر پاکستانیوں اور پاکستان کے حالات عراق، افغانستان اور فلسطین جیسے ہو گئے--وہ جو ہم سوچتے تھے، کس کے گھر جائیگا طوفان بلا میرے بعد -اس طوفان بلا نے ہمارے اپنے گھروں ، شہروں ،گلیوں ، درسگاہوں ، مساجد، فوجیوں اور پولیس کو لپیٹ میں لے لیا - خود کش دھماکے ، فوجی رد عمل ، ڈرون حملے اور امریکی در اندازی نے جہاں ہمیں خانہ جنگی اور ایک نئی تباہی و بربادی میں ڈالدیا -وہاں حفاظتی تدابیر کی خاطر تمام حساس اداروں ، بلکہ تجارتی مراکز،ہسپتالوں، بنکوں اور دفاتر تک کو بم اور بارود کی نشاندہی والے آلات ، سکینرز اور ڈیٹیکٹرز لگانے پڑے-- جگ ہنسائی، طنز و تشنیع کے مواقع بھی اغیار کو مئیسر آئے-
پاکستان کی معیشت ،تجارت اور سیا حت بری طرح متاثر ہوئی۔۔اور بیرون ملک اسکی ساکھ ایک انتہائی خطرناک ملک کے طور پر جانی گئی۔۔
 مدینہ منورہ میں ایک بنگالی سے بنگلہ میں گفتگو ہو رہی تھی لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ اصلاًُ میں پاکستانی ہوں تو کہنے لگا" آپ پاکستانی لوگ بھی کیسا ہے - پہلے ہم سے مارا ماری کیا اب خود سے مارا ماری کرتا ہے"-(جبکہ وہ بھی اتنے سال گزرنے کے بعد مارا ماری سے باز نہیں آئے - -

لاکھوں جانیں اس تباہی کی بھینٹ چڑھ گیئں - مرنے والے بھی اپنے ، مارنے والے بھی اپنے-
الحمد للّٰہ اللہ کے فضل وکرم سے فوج اور حکومت کی سخت کاروائیوں اور بے انتہا قربانیوں سے ایک حد تک امن وامان بحال ہو رہا ہے ۔۔
کراچی شہر جو پاکستان کی شہ رگ کہلاتا ہے اور یقینا ہے 2 ڈھائی کروڑ آبادی والا شہر ، علم و دانش کا گہوارہ، جو منی پاکستان کہلاتاہے ، پاکستان کا غریب پرور شہر جہاں پاکستان کے ہر خطے ہر بولی والے لوگ آباد ہیں- اس شہر کو لسانیت ، شدت پسندی اور بد امنی کی آماجگاہ بنا دیا گیا- اسکی خون آشامیاں اور خونریزیاں بے حساب ہیں ، جہاں روزانہ دس ، بارہ بیگناہوں یا گناہگاروں کا قتل بیشتر کچھ رقم چھیننے کی کوشش، موبائیل فون چھیننے کی کوشش میں یا گاڑی چھیننے کی کوشش میں ایک عام بات تھی جہاں کے باشندوں کو اسی بد امنی اور قتل و غارتگری کے ساتھ جینے کی عادت سی ہو گئی تھی ۔اسکے علاوہ ایک اور محاورہ ٹارگیٹ کلنگ کا ،جنمیں مخالفین کو نشانہ بنایا جاتا ۔ اب اس پر قابو پالیا گیا ہے ایک مدت کے بعد لوگوں نے سکھ چین کا سانس لیا۔۔۔
 
بلوچستان کے حالات میں بھی سدھار آرہا ہے۔۔ جو شدید بد امنی کی لپیٹ میں تھا روزانہ افسوسناک واقعات کی خبروں سے سے دل لرزتا رہتا ۔آۓ دن خونریزی کے بڑے بڑے واقعات ہوتے ۔ خیبر پختون خواہ تو میدان کارزار تھا ہی- ضرب عضب آپریشن کے نتائج دور رس نظر آ رہے ہیں ۔۔جس عفریت نے پاکستان کو پچھلے ۱۴ برس سے جھکڑا ہوا تھا ۔اس سے نجات نظر آرہی ہے۔۔آج جرنل راحیل شریف نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنیوالے اور منصوبہ بندی کرنیوالے سات دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔۔ 
 
کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف بھی مؤثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔۔پاک فوج نے اپنے جرنیل اور متعدد افسران کو اس جرم میں سخت سزا سنائی ہے اور انکی تمام مراعات ختم کر دی ہیں ۔۔ ورنہ  اس عفریت نے تو اوپر سے نیچے تک سب کو لپیٹا ہوا ہے رشوت ستانی اور بدعنوانی کا ایک بازار گرم ہے اپنا جائز کام کرنے کیلئے آپ دینے پر مجبور ہیں - پچھلے دنوں اسلام آباد میں سی ڈی اے سے کچھ کام تھا میرا ایجنٹ کہنے لگا " باجی پندرہ ہزار انڈر دی ٹیبل دینے سے کام فوری ہوجائیگا" اور یہ انڈر دی ٹیبل والے ماتھے پر سجدے کا ٹیکہ اور اکثر بڑی بڑی داڑھیاں بھی رکھتے ہیں اور پہر اسی رقم سے حج اور عمرے بہی ادا کرتے ہیں - نہ معلوم وہ اسکو کوئی جائز نام کیوں نہیں دیتے؟
اس سب کے باوجود پاکستان ایک واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے یہ جہاں پاکستانیوںکیلئے باعث صد افتخار ہے- وہاں ساری دنیا کیلئے باعث تشویش بھی ہے - 

وزیراعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے فیصلے کے بعد کچھ امید ہو چلی ہے کہ شاید عدل و انصاف اور احتساب کی فرما نروائی ہو۔
لیکن اس سب کے باوجود میری یہ قوم ایک باہمت، محنتی ، جفا کش، زندہ دل ، بہادر ، نڈر اور دلیر قوم ہے - ساری دنیا پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی سے خوف زدہ اور تھر تھرا رہی ہے - اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کے بارے میں محتاط رویہ اپنانے کا مشورہ دیتی ہے- لیکن پاکستانی بے پرواہ ہیں موت کو وہ ایک کھیل اور مقدر سمجھتے ہیں- اس قوم اور ملک پر ناگہانی اور قدرتی آفات بھی بھر پور انداز سے آئیں 2005 کے تباہ کن زلزلہ اور 2010 کے تباہ کن سیلاب سے ہمت اور جرآت سے نمٹنے کے بعد زندگی ایک نئی سمت اور جہت کے ساتھ رواں دواں ہے - تمام ملک میں قرئے قرئے میں وہ بے پناہ چہل پہل اور رونق ہوتی ہے کہ چند لمحوں کے لئے تمام بد امنی، لاقانونیت اور دہشت گردی کے قصے محض افسانہ لگتے ہیں- گرانی اور مہنگائی جھوٹ اور فریب دکھائی دیتا ہے اگر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کی جائے اور دولت و دکھاوے کی ریل پیل دیکھی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ کسقدر صاحب حیثیت ہیں--لوگوں کا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے علاوہ معدودے چند کے-

زندہ قوموں کی طرح ہم اپنا یوم آزادی بیحد دھوم دھام سے مناتے ہیں- میڈیا تو اسے اور شد و مد کے ساتھ مناتا ہے ( اب یہ میڈیا مذکر ہے یا مؤنث) لیکن عوام مین جذبہ حبالوطنی بڑھ چڑھ کر نظر آتا ہے-ہر طرف لہراتا ہوا پاکستان کا ہلالی پرچم ، لڑکے لڑکیوں کے سبز ،سفید لباس بلکہ لڑکیوں نے اسی مناسبت سے چوڑیاں پہن رکھی ہیں ، ہر طرف بجتے ہوئے ملی نغمے ایک زندہ اور پایندہ قوم کو ظاہر کر رہے ہیں-اور پھر آتش بازیاں جنکی چکا چوند اسمانپر ایک ہلچل پیدا کرتی ہے-

بیرونی ممالک میں بھی پاکستانی بساط بھر یوم آزادی منانے کی کوشش کرتے ہیں --ٹورنٹو میں سٹی سنٹر جسکا نام ناتھن فلپس اسکوائیر ہے میں یوم آزادی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے-ایک میلے کا سا سماں ، اسمیں سفیر پاکستان اور پاکستانی کمیونٹی حکومت کینیڈا کے اہلکارعام طور سے اونٹاریوکے پریمئیر کو مدعو کرتی ہے - سہیل رعنا کی ٹیم انکے دائمی ملی نغموں کے ساتھ موجود ہوتی ہے - وہ نغمے جنکو سنکر ہم اپنی ماضی میں کھو جاتے ہیں-

سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے- سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے-
جیوے جیوے جیوے پاکستان جیوے پاکستان ۔
دعا کریں کہ اللہ تعالی اس سرزمین کو ظلم و استحصال و استبداد کے پنجے سے نجات دے اور پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی اسلامی  مملکت اور ریاست بنائے، اغیار اور دشمنوں کی چیدہ دستیوں سے محفوظ رکھے ---آمین

Monday, July 24, 2017

صدقہ جاریہ

صدقہ (جاریہ) کے چند چھوٹے چھوٹے طریقے:
01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔
02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔
04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔
05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔
06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔
07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔
08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔
09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔
10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔
11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔
12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔
13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔
14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔
15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔
16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔
17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔
18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔
19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔
20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔
21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔
22: مسجد کی ٹوپیاں گھر لا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔
23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔
24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔
25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئ

Sunday, July 16, 2017

Revenge of an ex wife!

*Revenge of an Ex-wife !*
This is amazingly hilarious....

She spent the first day packing her belongings into boxes, crates and suitcases.

On the second day, she had the movers come and collect her things.

On the third day, she sat down for the last time at their beautiful dining room table by candlelight, put on some soft background music and feasted on a pound of shrimp, a jar of caviar and a bottle of Chardonnay.

When she had finished, she went into each and every room and deposited a few half-eaten shrimp dipped in caviar, into the hollow of the curtain rods.

She then cleaned up the kitchen and left.

When the husband returned with his new girlfriend, all was bliss for the first few days.

Then slowly, the house began to smell. They tried everything... cleaning, mopping and airing the place out.

Vents were checked for dead rodents and carpets were steamed. Air fresheners were hung everywhere.

Exterminators were brought in to set off gas canisters, during which they had to move out for a few days, and in the end even paid to replace the expensive woolen carpeting.

Nothing worked. People stopped coming over to visit.

Repairmen refused to work in the house. The maid quit. Finally, they could not take the stench any longer and decided to move.

A month later, even though they had cut their price in half, they could not find a buyer for their stinky house.

Word got out and eventually even the local realtors refused to return their calls.

Finally, they had to borrow a huge sum of money from the bank to purchase a new place.

The ex-wife called the man and asked how things were going.

He told her the saga of the rotting house. She listened politely and said that she missed her old home terribly, and would be willing to reduce her divorce settlement in exchange for getting the house back.

Knowing his ex-wife had no idea how bad the smell was, he agreed on a Price that was about 1/10th of what the house had been worth, but only if she were to sign the papers that very day.

She agreed and within the hour his lawyers delivered the paperwork.

A week later the man and his girlfriend stood smiling as they watched the moving company pack everything to take to their new home . . . . . . .

*Including the CURTAIN RODS !*

I LOVE A HAPPY ENDING, DON'T YOU?

Tuesday, July 11, 2017

پاکستان کی جیت

پاکستان کی جیت ۔ 
از 
عابدہ رحمانی 

مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
 وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب ہم نے چکا دیا۔
اب تقریباً ایک مہینہ ہونیوالا ہے لیکن اس جیت کی گھن گرج جاری ہے۔
کرکٹ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کا اپنے روائتی حریف بھارت کو ہرانا ناممکنات میں سے تھا اور پھر ایسے کر وفر سے ہرانا واقعتا کچھ کرشماتی لگ رہا تھا ۔بقول ایک بھارتی کمنٹیٹر کے "ہمارے کھلاڑیوں کا یہ حال تھا کہ تو چل میں آیا"
 انکے سارے مشہور بلے باز ریت کا ڈھیر ثابت ہوئے ۔ ۱۸۰ رنز کی عبرت ناک شکست ۔ پاکستان اور پاکستانیوں کا خون بڑھانے ، گرمانے انکا وقار اور خود اعتمادی بحال کرنے کے لئے ایک نسخہ کیمیا ثابت ہوئی ۔
شمالی امریکہ کے مشرقی زون کے وقت کے مطابق سحری اور نماز فجر سے فراغت کے کچھ دیر بعد ہی میچ شروع ہوا تھا اٹھارہ جون کی یہ مبارک صبح تھی کہ کھیل کا آغاز ہوا ۔بھارت نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی اور پھر پاکستانی کھلاڑیوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ۔میں تو پچھلے کچھ عرصے سے یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ پاکستان کی موجودہ ٹیم کے کھلاڑیوں کے کیا نام ہیں ؟ انگلینڈ کو سیمی فائنل میں جب شکست ہوئی تو مجھے سمجھ میں آیا کہ " سرفراز دھوکہ نہیں دیگا" کے کیا معنی ہیں ۔ اسکے بعد سوشل میڈیا پر ایک سے بڑھ کر ایک دلچسپ پوسٹ آنے لگے سب سے اچھا تو وہ لگا کہ "سرفراز سے حلفیہ بیان لیاجائے کہ ٹرافی جیتنے کے بعد وزیراعظم بننے کی ضد نہیں کریگا۔۔" 
مسلمان کی شان کے مطابق کھلاڑی جیت کے بعد اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوئے۔
کئی برس پیشتر ۱۹۹۲ کے رمضان میں ہی عمران خان کی قیادت میں پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا جسکی گونج ابھی تک باقی ہے ۔ اسکے بعد کرکٹ تو جیسے تیسے چلتی رہی لیکن کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ  پےدرپے مختلف واقعات کی بناء پر اور خاصکر سری لنکن ٹیم پر حملے کے افسوسناک واقعے کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ مقابلوں کے کھیلنے پر پابندی لگ گئی اور کرکٹ ٹیم کا معیار کافی گھٹ کیا ۔ بھارت نے تو ایک طرح سے اس بحران کا بھر پور فائدہ اٹھایا ۔ پھر انتہا پسند ہندؤوں نے پاکستانی ٹیم کی بھارت آنے اور کھیلنے کی سخت مخالفت کی ۔پھر پاکستان کے میدانوں کے بجائے دوبئی اور شارجہ کے میدانوں میں کرکٹ پروان چڑ ھی۔ 
پاکستان کا مقبول عام ، گلی گلی کھیلا جانے والا کھیل پھر پاکستان سپر لیگ یا پی ایس ایل کی صورت میں سامنے آیا۔ اس سے کھیل کی شان و شوکت میں اضافہ ہوا اس کھیل کے امسالہ لاہور میں کھیلنے والے فائنل کے کامیاب انعقاد نے شائقین اور کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کیا ۔یہ فائنل بہت سوچ بچار کے بعد سخت حفاظتی اقدامات کے تحت کھیلا گیا ۔ٹیموں کے بیرون ملک سے آنے والے کئی کھلاڑیوں نے لاہور میں کھیلنے سے انکار کر دیا    ۔اسکے کامیاب انعقاد کے بعدبین الاقوامی کرکٹ کمیٹی بھی پاکستان میں کھیل کو سنجیدگی سے لینے لگی ۔
 اب اتنے طویل عرصے کے بعد چیمپئنز ٹرافی جیتنا اور وہ بھی بھارت کو بری طرح ہرا کر ،ایک قابل فخر اور تعریف کارنامہ ہے۔
اس ٹرافی کیلئے پاکستان کی ٹیم کا بڑھنا یا کوالیفائی کرنا پہلا معجزہ تھا ۔ پہلا میچ بھارت سے ہارنا حوصلہ شکن ضرور تھا لیکن پھر بعد کی جیتیں اور خاصکر سیمی فائینل میں انگلینڈ کو ہرانا پاکستان کرکٹ ٹیم کے وقار کو بڑھانےاور اعتماد کو بحال کرنے  کیلئے بھر پور ثابت ہوا ۔ بھارت کی  اس شکست سے  ہم سب پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ۔
اب ہر پاکستانی اس جیت سے خوش ہے ۔ہمارے  کھلاڑیوں کو انعام و اکرام سے نوازا جا رہا ہے ۔ اورہمیں قوی امید ہے  اور ہماری دعا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اسی طرح کی فتوحات سے سرفراز کی قیادت میں سرفراز رہے۔۔

Sent from my iPad

Sunday, July 9, 2017

⏳نماز کی اہمیت⏳ 📌نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:( مفہوم)" قیامت کے دن لوگوں کے اعمال میں سے سب پہلے نماز ہی کا حساب ہوگا ". 📌حدیث کی رو سے اللہ تعالی کو سب سے زیادہ محبوب عمل وقت پر نماز پڑھنا ہے ، پھر ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور پھر اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنا ہے. 📌رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین (٣)بار فرمایا:(مفهوم) "نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، نماز کے بارے اللہ سے ڈرو ، نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرو ". 📌نماز کا نہ پڑ ھنا کفر ، شرک اور منافقت کی علامت بھی ہے. 📌ترکِ نماز تمام خرابیوں کی جڑ ہے. 📌آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مفہوم)"سب سے افضل عمل اوّل وقت پر نماز پڑ ھنا ہے". 📌آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(مفہوم) " جب تم میں سے کو ئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجّہ ہو جاتی ہے". ⏳کفّارات⏳ 📌گناہوں کا کفّارہ بننے والی نیکیاں: 📌نماز باجماعت کے لیے پیدل چل کر جانا. 📌نماز کے بعد مسجدوں میں بیٹھنا. 📌مشقّت ( سردی یا بیماری وغیرہ) کے وقت پورا وضو کرنا. ⏳درجات کی بلندی⏳ 📌درجات کی بلندی کن چیزوں میں ہے؟ 📌لوگوں کو کھانا کھلانا . 📌نرم بات کرنا . 📌رات کو نماز پڑھنا جب کہ لوگ سو رہے ہوں (یعنی تہجّد). ⏳رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین دعا⏳ اَلّلهمّ! إِنِّي اَسْٗلُكَ فِعْلَ الْخيْرَاتِ وَ تَرْكَ الْمُنْکَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَ اَٗنْ تَغْفِرَلِی وَ تَرْحَمَنِی، وَ اِذَا اَٗرَدْتَّ فِتْنَةً فِي قُوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُو نٍ، وَ اَٗسْئلَُکٗ حُبَّکَٗ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَ حُبَّ عَمَلٍ يُّقَرِّبُ اِلٰى حُبِّكَ "اے اللہ! میں تچھ سے سوال کرتا ہوں نیکیوں کے کرنے کا، برائیوں کے چھوڑنے کا، مسکینوں کے ساتھ محبت کرنے کا اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرمائے، اگر تیرا کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنے کا ارادہ ہو تو مجھے آزمائش سے بچا کر موت دے دینا اور میں تجھ سے تیری محبت اور ہر اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور میں تجھ سے وہ عمل کرنے کی توفیق مانگتا ہوں جو ( مجھے) تیری محبت کے قریب کر دے". 📌جس نے صبح کی نماز پڑھی ، وہ اللہ کی حفاظت اور ذمّہ داری میں ہے. یعنی نماز میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ یہ اللہ کی حفاظت نہ چاہنے کے برابر ہے. ⏳نماز کا طریقہ⏳ 📌آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی طور پر اللہ تعالی نے جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے نماز کا طریقہ سکھایا. 📌جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی کیفیت ، ہئیت ، اس کے اوقات اور اسکے قاعدے سکھائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل علیہ السلام کے بتائے اور سکھائے ہوئے وقتوں ، طریقوں ، قاعدوں اور ضابطوں کے مطابق نماز پڑھتے رہے اور امّت کو بھی حکم دیا کہ: (مفہوم) "تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو". 📌فرمایا گیا:(مفہوم)"نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ". 📌جب آذان ہوتی ہے تو ہم پر فرض ہو جاتا ہے کہ اب ہم اللہ کا حق دینے کے لیے تیار ہو جائیں ، دنیا کے کام چھوڑ کر عبادت کے لیے نکل آئیں. 📌مساکین جنّت میں پانچ سو سال(٥٠٠) پہلے داخل ہوں گے. 📌ایسا مسکین جو خاک آلود ہے ، اس سے ہاتھ ملا لینا ، قریب کر لینا ، اسکے پاس بیٹھ جانا دل کی سختی دور کرتا ہے. 📌اگر ہم اپنے کام چھوڑ کر وقت پر نماز کے لیے نہیں نکلتے تو گویا ہم نے اللہ تعالی کے ساتھ اس کام کو شریک کر لیا. 📌جو شخص نماز چھوڑنے والا ہو گا قیامت کے دن(فرمایا گیا) وہ فرعون ، ہامان اور قارون کے ساتھ اٹھایا جائے گا. 📌فرعون متکبّر تھا ، تکبّر کی وجہ سے نماز ترک کرنے والے اس کے ساتھ ہوں گے. 📌حکومت اور جاہ کی خاطر نماز چھوڑنے والے ہامان کے ساتھ ہوں گے. 📌مال کی محبّت میں نماز چھوڑنے والے قارون کے ساتھ ہوں گے. 📌مال کی محبّت اگر اللہ تعالی کی محبّت پر غالب آجائے یا مقابل آ جائے تو یہ بھی شرک ہے.

⏳نماز کی اہمیت⏳

📌نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:( مفہوم)" قیامت کے دن لوگوں کے اعمال میں سے سب پہلے نماز ہی کا حساب ہوگا ".

📌حدیث کی رو سے اللہ تعالی کو سب سے زیادہ محبوب عمل وقت پر نماز پڑھنا ہے ، پھر ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور پھر اللہ تعالی کے راستے میں جہاد کرنا ہے.

📌رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین (٣)بار فرمایا:(مفهوم) "نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، نماز کے بارے اللہ سے ڈرو ، نماز کے بارے میں اللہ سے ڈرو ".

📌نماز کا نہ پڑ ھنا کفر ، شرک اور
منافقت کی علامت بھی ہے.

📌ترکِ نماز تمام خرابیوں کی جڑ ہے.

📌آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مفہوم)"سب سے افضل عمل اوّل وقت پر نماز پڑ ھنا ہے".

📌آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(مفہوم)
" جب تم میں سے کو ئی آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجّہ ہو جاتی ہے".

⏳کفّارات⏳

📌گناہوں کا کفّارہ بننے والی نیکیاں:

📌نماز باجماعت کے لیے پیدل چل کر جانا.

📌نماز کے بعد مسجدوں میں بیٹھنا.

📌مشقّت ( سردی یا بیماری وغیرہ) کے وقت پورا وضو کرنا.

⏳درجات کی بلندی⏳

📌درجات کی بلندی کن چیزوں میں ہے؟
📌لوگوں کو کھانا کھلانا .

📌نرم بات کرنا .

📌رات کو نماز پڑھنا جب کہ لوگ سو رہے ہوں (یعنی تہجّد).

⏳رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین دعا⏳

اَلّلهمّ! إِنِّي اَسْٗلُكَ فِعْلَ الْخيْرَاتِ وَ تَرْكَ الْمُنْکَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاکِینِ، وَ اَٗنْ تَغْفِرَلِی وَ تَرْحَمَنِی، وَ اِذَا اَٗرَدْتَّ فِتْنَةً فِي قُوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُو نٍ، وَ اَٗسْئلَُکٗ حُبَّکَٗ وَحُبَّ مَنْ يُّحِبُّكَ وَ حُبَّ عَمَلٍ يُّقَرِّبُ اِلٰى حُبِّكَ

"اے اللہ! میں تچھ سے سوال کرتا ہوں نیکیوں کے کرنے کا، برائیوں کے چھوڑنے کا، مسکینوں کے ساتھ محبت کرنے کا اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرمائے، اگر تیرا کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنے کا ارادہ ہو تو مجھے آزمائش سے بچا کر موت دے دینا اور میں تجھ سے تیری محبت اور ہر اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور میں تجھ سے وہ عمل کرنے کی توفیق مانگتا ہوں جو ( مجھے)  تیری محبت کے قریب کر دے".

📌جس نے صبح کی نماز پڑھی ، وہ اللہ کی حفاظت اور ذمّہ داری میں ہے.
یعنی نماز میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ یہ اللہ کی حفاظت نہ چاہنے کے برابر ہے.

⏳نماز کا طریقہ⏳

📌آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی طور پر اللہ تعالی نے جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے نماز کا طریقہ سکھایا.

📌جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی کیفیت ، ہئیت ، اس کے اوقات اور اسکے قاعدے سکھائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل علیہ السلام کے بتائے اور سکھائے ہوئے وقتوں ، طریقوں ، قاعدوں اور ضابطوں کے مطابق نماز پڑھتے رہے اور امّت کو بھی حکم دیا کہ: (مفہوم)  "تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو".

📌فرمایا گیا:(مفہوم)"نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ".

📌جب آذان ہوتی ہے تو ہم پر فرض ہو جاتا ہے کہ اب ہم اللہ کا حق دینے کے لیے تیار ہو جائیں ، دنیا کے کام چھوڑ کر عبادت کے لیے نکل آئیں.

📌مساکین جنّت میں پانچ سو سال(٥٠٠) پہلے داخل ہوں گے.

📌ایسا مسکین جو خاک آلود ہے ، اس سے ہاتھ ملا لینا ، قریب کر لینا ، اسکے پاس بیٹھ جانا دل کی سختی دور کرتا ہے.

📌اگر ہم اپنے کام چھوڑ کر وقت پر نماز کے لیے نہیں نکلتے تو گویا ہم نے اللہ تعالی کے ساتھ اس کام کو شریک کر لیا.

📌جو شخص نماز چھوڑنے والا ہو گا قیامت کے دن(فرمایا گیا) وہ فرعون ، ہامان اور قارون کے ساتھ اٹھایا جائے گا.

📌فرعون متکبّر تھا ، تکبّر کی وجہ سے نماز ترک کرنے والے اس کے ساتھ ہوں گے.

📌حکومت اور جاہ کی خاطر نماز چھوڑنے والے ہامان کے ساتھ ہوں گے.

📌مال کی محبّت میں نماز چھوڑنے والے قارون کے ساتھ ہوں گے.

📌مال کی محبّت اگر اللہ تعالی کی محبّت پر غالب آجائے یا مقابل آ جائے تو یہ بھی شرک ہے.

Saturday, July 8, 2017

کوئی ہے جو عبرت پکڑے

کوئ ہے جو عبرت پکڑے ؟؟؟؟
آخری مُغل ---- ظفرجی
یہ سلطانہ بیگم ہیں .... !!!!
کلکتہ کے قریب ھوورا کے ایک غریب محلّہ میں رہنے والی " شہزادی " !!!
حکومت کی طرف سے انہیں تقریباً 6 ہزار وظیفہ مل رہا ہے جس سے بمشکل گزارا چلتا ہے- یہ دو کمروں کے ایک چھوٹے سے مکان میں پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ رہائش پزیر ہیں ، پڑوس کے ساتھ مشترکہ کچن میں کھانا پکاتی ہیں اور گلی میں نصب ٹونٹی سے کپڑے دھوتی ہیں-
ان کے شوھر جن کا نام "بیدار بخت تھا ، 1980ء میں وفات پا چکے ہیں- بیدار بخت ، جمشید بخت کے بیٹے تھے جمشید بخت شہزادہ جواں بخت کا چشم و چراغ تھا اور جواں بخت ، آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا سب سے چھوٹا شہزادہ تھا-
کون جانتا ہے کہ 1852ء میں شہزادہ جواں بخت کی شادی پر دلی میں دس روز تک جشن چلتا رہا-
جواں بخت 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد زندہ بچ جانے والا واحد شہزادہ تھا- بادشاہ رنگون میں جلا وطن ہوئے تو شہزادہ جواں بخت بھی بمعہ اہل و عیال ساتھ تھا- ملکہ زینت محل کی آخر دم تک یہ خواہش رہی کہ انگریز کسی طرح جواں بخت کو تختِ دلی واپس سونپ دے ، لیکن دودھ کا جلا انگریز ، کوئ نئ چھاچھ پینے کو تیار نہ تھا-
جواں بخت نے اپنے والد بہادر شاہ ظفر اور ماں بیگم زینت محل کو اپنے ہاتھوں سے رنگون کی خاک میں دفن کیا-
کسی نئ بغاوت کے خوف سے جواں بخت کو کبھی ھندوستان نہ آنے دیا گیا- اسے برما میں ایک بنگلہ عنایت کر دیا گیا- جواں بخت کا بیٹا جمشید بخت برما میں پیدا ہوا اور اس نے وہیں انگریزی تعلیم حاصل کی- جمشید بخت کو بھی ھندوستان آنے کی اجازت نہ مل سکی- اس نے 60 سالہ زندگی برما میں ہی گزار دی اور بے شمار راز سینے میں لئے 1921ء میں راہیء ملک عدم ہو گیا-
جمشید بخت کی وفات کے بعد اس کے تین سالہ بیٹے بیدار بخت کو ، اس کا ایک دور پار کا چچا کلکتہ لے آیا تاکہ انگریز حکومت سے اس کی پینشن کلیم کی جا سکے جو باپ کی وفات کے بعد بند ہو گئ تھی-
ھندووستان میں ان دنوں سیاست کی بے شمار ھانڈیاں کھول رہی تھیں- سیاسی تحاریک کے طلاطم میں ایک 3 سالہ مغل شہزادے کی آمد بھی انگریز کو بار محسوس ہوئ چنانچہ اس جرم کی پاداش میں چچّا کو فوراً گرفتار کر لیا گیا-
بعد میں بیدار بخت کی پینشن اس شرط پر بحال کی گئ کہ وہ کسی سیاسی جلسے میں سامنے نہیں لایا جائے گا اور کسی سے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی- چنانچہ وہ گمنامی کی زندگی گزارنے لگا- اسے پچاس روپے انگریز سے ، پچاس روپے نظام آف حیدر آباد سے اور سو روپے نظام الدین اولیاء فنڈ سے ملنے لگے- بیدار بخت جس اسکول یا کالج میں پڑھا ، ساتھ بیٹے طلباء کو بھی خبر نہ ہو سکی کہ وہی سابقہ مغل شہزادہ ہے-
تقسیم کے بعد بھی بیدار بخت کبھی سامنے نہ آیا- البتہ کلکتّہ کے لوگ کبھی کبھی لمبی اچکن کے ساتھ سلیم شاھی جوتا پہنے ، ہاتھ میں گلاب کا پھول لئے ایک شخص کو کلکتہ کی گلیوں میں چہل قدمی کرتے ضرور دیکھا کرتے تھے ، لیکن اس وقت تک ھندوستان کے عوام بھول چکے تھے کہ مغل بھی کبھی بادشاہ ہوا کرتے تھے-
1980ء میں بیدار بخت کا انتقال ہوا-
2015ء میں سلطانہ بیگم منظر عام پر آئیں- انہوں نے مختلف دستاویزات سے ثابت کیا کہ وہ بیدار بخت کی زوجہ ہیں- البتہ یہ اعتراض ضرور کیا جا سکتا ہے کہ شوھر کی وفات کے بعد انہوں نے ایک درزی سے شادی کر لی تھی- ان کا بیٹا کمال دوسری شادی سے ہے- ان کی سگی بیٹیاں ایک کیئر ٹیکر کے ساتھ کہیں اور رہ رہی ہیں- حالانکہ حالات ان کے بھی اچھے نہیں ہیں-
مختلف تنظیموں نے ان کےلئے آواز اٹھائ تو حکومت نے ان کی ایک بیٹی کو 15 ہزار کی ملازمت دلا کر تشفی فرمائ .... یہ کچھ سال پرانی رپورٹ ہے .... تازہ ترین حالات کیا ہیں ... رب سچا ہی جانتا ہے !!!!
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ بہادر شاہ ظفر شاھی طبیبوں کی ھدایت پر سونے چاندی کے اوراق اتنی کثرت سے تناول فرمایا کرتے تھے کہ بھنگی ان کے "اسٹول" کے منتظر رہتے تھے ، آج ان کی اولاد کو بیٹھنے کےلئے سٹول بھی مہیّا نہیں ...
کوئ ہے جو عبرت پکڑے ؟؟؟؟