Wednesday, April 26, 2017

چلو بھر پانی



چلو بھر پانی—— 
عابدہ رحمانی

چلو بھر پانی؛ میں ڈوب جاؤ یا ڈوب مرو،اردو زبان کا مشہور محاورہ ہے اور زبان زد عام ہے ۔عام طور سے یہ غیرت دلانے اور شرمندہ کرنیکے لئے کہا جاتاہے اسلئے کہ چلو بھر پانی میں ڈوبنا تو درکنار کوئی گیلا بھی نہیں ہوسکتا ، البتہ پیاس سے تڑپتے ہوئے شخص کے لئے چلو بھر پانی بھی کافی ہوتا ہے ۔۔
امریکی ریاست مشی گن کے قصبے فلنٹ ' میں پانی کی آلودگی نے پورے امریکہ میں ایک ہلچل اور تشویش پھیلادی۔۔پانی اس حد تک آلودہ تھا کہ اسکا رنگ بھورا تھا اور اسمیں سیسے کی آمیزش خطرناک حد تک تھی۔۔اس سے کئی لوگ بیمار اور متاثر ہوئے۔۔اسطرح کا ألودہ پانی اور وہ بھی امریکہ میں پورے ملک میں ایک زبردست ہنگامہ مچ گیا ۔۔ اسکو نسلی ، طبقاتی رنگ بھی دیا گیا کیونکہ اس علاقے میں بیشتر أبادی سیاہ فام لوگوں کی ہے ۔۔ مشہور و معروف حق کی أواز بلند کرنیوالے ہالی ووڈ کے متنازغہ فلمسازاور ہدایت کار مائیکل مور کا تعلق بھی اسی قصبے سے ہے ۔۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے یہاں کے باشندوں کو سہارا دینے کیلئے یہاں ایک صدارتی امیدواروں کا مبا حثہ رکھا۔۔ابھی حال ہی میں ان افسران کا کڑا احتساب کیا گیا ،انکو معطل کیا گیا اور کڑی سزائیں تجویز ہوئیں وہ جو فلنٹ میں پانی کی رسد اور ترسیل کے ذمہ دار تھے اور جنکی مجرمانہ غفلت کے باعث یہ افسوسناک واقع ظہور پذیر ہوا۔۔
اس واقعے سے مجھے اپنے کراچی میں رہائش کے وہ تکلیف دن یادآگئے جب پانی کی حصول کی کوششیں زندگی   کا ایک اہم اور انتہائی تکلیف دہ حصہ تھا اسپر تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے
اب بھی اکثر راتوں کو میں گھبرا کر اٹھ جاتی ہوں کہ میری ٹنکی میں پانی نہیں آیا، یا میں پمپ چلانا بھول گئی ہوں ۔۔یہ بھیانک خواب مجھے جو آتا ہے اسکی کئی وجوہات ہیں-
میری زندگی کا آدھا وقت پانی والوں، واٹر بورڈ کے انجینئروں کو فون کرنے اور ان سے ملاقاتیں کرنے میں گزرتا،میری فون بک میں آدھے نمبر پانی والوں کے ہوتے تھے، والو مین valve manتو جیسےہمارا خاص الخاص شخص  تھا جسے خوش رکھنےکی ہر ممکن کوشش ہوتی اور یہ سو فیصد حقیقت ہے،ہرگز ہرگز مبالغہ آرایئ نہیں ہے اور پھر منہ مانگے ٹینکروں کا حصول اللہ کی پناہ اور اس مشقت میں کتنی تکالیف اٹھایئ ہیں وہ میں اور میرا رب یا میرے گھر والے جانتے ہیں ۔ جب میرے ہاں رہائشی مہمان أتے تھے تو سب سے زیادہ پریشانی یہ ہوتی تھی کہ پانی کی رسد میں فراوانی کیسے کی جائے ۔۔؟ ایسی صورتحال اکثر پیش أئی کہ اوپر نیچے کی دونوں ٹنکیاں پونچھ پانچھ کے رکھ دیں اور پھر مہنگے داموں پانی کے حصول کے لئے دوڑتے رہے۔ افسوس کی اسوقت پانی کے ڈسپنسر اورپانی کی بوتلیں میسر نہیں تھیں۔۔
ٹنکی میں گرتےہوئے پانی کی آواز سے مدھر آواز میری زندگی میں کوئی نہیں تھی اور اس روز کی خوشی کا کیا عالم ،جب اوپر نیچے کی دونوں ٹنکیاں بھر جاتیں اور میرے پیڑ پودے بخوبی سیراب ہو جاتے، پاکستان کی زندگی بھی کیا خوشیوں سے بھر پور ہوتی ہے- پانی آنے کی خوشی ان میں سے ایک تھی- اور اسکو حاصل کرنے کے لیےکئ فون کال 'واٹر بورڈ کےکئ چکر اور والو مین کے مختلف مشورے شامل ہوتے- قسم قسم کے suction pump ،جا بجا کھدائیاں لمبے لمبے پائپ اور اگر پانی آجائے تو کیا کہنے!! جو ہالیجی کا گدلہ پانی آتا تھا اسکو پینے کے قابل بنانا بھی ایک کار دارد—ابال کر اس میں پھٹکڑ ی پھیری جاتی ، جب گدلہ نیچے بیٹھ جاتا تو صاف اوپر سے نتھار لیا جاتا- یہ تمام تگ و دو میری زندگی کا ایک لازم حصہ تھا — اسکے باوجود واٹر بورڈ کے پانی کے ایک بھاری بل کی ادائیگی بھی لازم تھی  یہ سوچے بغیر کہ سال میں کتنی مرتبہ واقعی ہمیں انکی جانب سے پانی میسر تھا ،کیونکہ ہم ایک قانون پسند شہری ہیں اور ہمیں احتجاج کرکے کسی قسم کے انصاف کی امید نہیں تھی-  پھر بھی ہم خوش تھے کہ زندہ تو ہیں-کیونکہ اس پانی کے فراہمی پربعد میں اس  سیاسی پارٹی کی  اجارہ داری تھی  جن سے ٹکر لینا ہم جیسے بے  بسوں کے بس میں نہیں تھا۔۔
اب بھی کراچی میں وہی حال ہے شہر کاأدھا ٹریفک پانی کے ٹینکروں کا ہوتا ہے۔۔پورا ٹینکر مافیا ہے جسکی شہر میں اجارہ داری ہے۔کراچی کے وہ باشندے اور شہری جنکے ہاں پانی کی فراوانی ہے خوش قسمت ترین شہری کہلانے کے حقدار ہیں۔۔

پچھلے سال یہاں امریکہ میں گھر میں گرم پانی کی لائن میں مسئلہ ہوا ایک عجیب پریشانی، گرم پانی کے بغیر کیسے گزارہ ہوگا؟ انشورنس کمپنی نے ہوٹل لے جانے کی پیشکش کی تاکہ مسئلے کے حل تک وہیں رہا جائے، اسے کیا معلوم کہ ہم پاکستانی ہیں اور کھال موٹی ہے بلکہ ایسے بحرانوں کو معمولی جانتے ہیں - لیکن جو بچے یہاں کے پیدا شدہ ہیں اور بقول کسےABCD ہیں یہ تو آپ سب جانتے ہی ہونگے( born confused desis American) -وہ حیران پریشان کہ اس آفت کا مقابلہ کیونکر ہوگا- وال مارٹ سے ایک پوچے کی بڑی با لٹی ڈھونڈھ کر خریدی گئی پتیلی میں پانی گرم کیا جاتا اور یوں گزارہ ہوا -What a hassle?
24 گھنٹے، نہ رکنے  والا پانی کہاں سےآتاہے اور کیسے آتا ہے ہمیں فکر اور ترددکرنے کی کوئی ضرورت نہیں،ہمیں مطلب ہے تو اس سے کہ اس میں ہرگز کوئی رکاؤٹ نہیں ہوگی اور یہ صاف پانی ہوگا- ہاں لیکن یہاں پر پانی بھاری اور سخت ہے جسکے لئے ایک مشین لگی ہوئی ہے ، ساتھ میں ایک جدید فلٹر لگا ہوا ہے ۔اور یہی وجوہات ہیں کہ زندگی کی انہی آسائشوں اور سہولتوں کے حصول کے لئے سات سمندر پار ہم لوگ اپنا وطن ، اپنی تہذیب و ثقافت کو پیچھے چھوڑ آئے اور یہاں ،جہاں دین بھی داؤ پر لگا ہوا ہے- مختلف ذرائع سے ہمیں ان ممالک سے روکنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن بھلا ہم کہاں باز آنے والے ہیں- اب جب اپنے مادر وطن جانا ہوتا ہے تو سب سے زیادہ احتیاط پانی کی جاتی ہے ورنہ بد ہضمی لازم ہے-
پانی انسان کی ایک بنیاد ی ضرورت ہے اس پانی کی تلاش میں قافلے سرگرداں رہتے تھے اورجہاں پانی مل جاتا وہیں بود و باش اختیار کرتے اسی طرح شہر اور بستیاں آباد ہوئیں پانی واقعی زندگی ہے- انسانی جسم کی ساخت میں 80 فیصد پانی ہے اور اس جسم کی بقاء کا انحصار بھی ہوا،پانی اور غذا پر ہے- اسی اصول کے مطابق دنیا کی بیشتر أبادی دریا، جھیلوں ، تالابوں اور چشموں کے گرد و نواح میں ہے۔۔
ابراہیم علیہ السلام جب بی بی حاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو بے آب و گیاہ سرزمین پر چھوڑ آۓ توبی بی حاجرہ پانی کی تلاش میں صفا ومروہ کے درمیان سرگرداں تھیں، دیکھا کہ ننھے اسماعیل کی ایڑیوں تلے اللہ کی قدرت سے  پانی کا چشمہ  پھوٹ پڑا ہے- انھوں نےکہا’ زم زم" رک جا اے پانی یہیں رک جا اور اپنے ہاتھوں سے اس کے گرد بند باندھا -آیک قافلہ بھی یہیں آکر رک گیا اور یوں یہ بستی بسی اور ایسے بسی کہ مرجع خلائق ہوگئی- اللہ تبارک و تعالیٰ کو بھی یہ بستی اتنی بھائی کہ اسکو اپنے محترم گھر کے لیے چن لیا اس پانی میں اسقدر خیر و برکت ڈال دی کہ ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی اسکی سیرابی میں فرق نہیں آیا— اس پانی میں معدنیاتی تاثیر انتہائی مشفی ہے موجودہ سعودی حکومت نے اس پانی کی ترسیل کا بہترین انتظام حرمین شریفین میں کیا ہے ۔ حرم شریف میں تو یہ کنوواں موجود ہے اور زم زم کے پانی کی جانچ پڑتال کی لیبارٹری ہے تاکہ پانی میں کسی قسم کی ألودگی نہ ہونے پائے لاکھوں کے حساب سے صاف ستھرے کولر حرمین میں موجود رہتے ہیں ۔۔جس سے لاکھوں زائرین روزانہ فیض یاب ہوتے ہیں ۔۔
دنیا میں اسوقت صاف پانی کی فراہمی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے ،دریا ، کنوئیں ، ندیاں ألودگی کے مسئلے سے دوچار ہیں ۔کتنے ممالک ہیں  جہاں کی أبادیوں کو صاف اور پینے والا پانی دستیاب نہیں ہے ۔ عرب اور مشرق وسطے کے ممالک نے سمندر کے پانی سے نمک ہٹاکر  استعمال کے قابل لانیکے لئے بڑے بڑے پلانٹ لگائے ہیں۔ وہاں پر پینے کے پانی اور پٹرول کی قیمت یکساں ہے ۔اس لحاظ سے کینیڈا اور امریکہ کی شمالی ریاستوں میں میٹھے پانی کی وسیع و عریض جھیلیں پانی کا ایک بڑا خزانہ اور ذریعہ ہیں۔۔
پانی سے زندگی ہے اللہ تعالی قرأن پاک میں ارشاد فرماتا ہے ہم نے تمام زندہ چیزوں کو پانی سے پیدا کیا ہے ۔۔ اسلئے زندہ اشیاءکی زندگی پانی کی مرہون منت ہیں۔۔اور مصیبت کے وقت ایک چلو بھی کافی ہو جاتا ہے۔۔

Sent from my iPad

Saturday, April 1, 2017

Walkers of Safari park Gulshan e Iqbal Karachi

This was Published in 'Dawn"
many years back.

The walker of Safari Park
Gulshan-e-Iqbal
By Abida Rahmani
Early in the morning after Fajar prayer when most
the Karachiites are fast asleep, early risers and
enthusiastic walkers head towards the Safari Park.
They belong to every walk of life. Among them some
are office-goers, weight-conscious women and youngsters
who struggle to shed a few pounds. But most of
them are retired personal. Some are advised to have a
walk by their doctors to control their blood pressure,
sugar level and overcome cardiac problems. While others
do it to remain fit and burn extra calories.
While strolling is Safari Park, one can hear all the
languages spoken in Pakistan. While men and women
of all origin could be seen there, But the most evident
are the Afghans. I believe that while they come from a
martial race, they are more interested in looking after
their health and fitness.
Some foreign students studying here could also be
seen, who come from their hostels for an early morning
hike. A number of people opt for brisk walk heading
towards the hillock, which is named Al-Manzar. There
are groups busy in learning martial arts like Judo
Karate and Taekwandoe. Some undertake exercises and
gymnastic feats. Some of them enjoy to take deep
breathing in the fresh air. Many walk bare-footed on the
grassed lawns to enhance their eyesight.
Ladies could also be seen in chaddars and burqas
(veils). Many could be seen gossiping and some
indulge in spicy political discussions, They chat and
walk in groups. There are, however, a few lone walkers
too who avoid mixing up and stroll around quietly.
Some could be seen holding tasbeehs and reciting verses
while hiking.
Most of them come in cars of motorbikes. While
many prefer to come to park on foot. Though Safari
Park has no proper jogging tracks, but still people could
be seen walking around in the park. It has spacious
lawns in the midst of trees and fresh air. While there are
no formal lavatories, many a labourers and adjacent
shanty areas dwellers use the bushes for the same. One
has to often go through the pungent odour in the early
morning walk.
In fact, it’s a tough job to hike in the morning. One
has to get up early, put on jogger shoes and attire properly
When one starts morning walk, the first few days
are very crucial with aching legs and body. The
moment one is accustomed to it, it seems to be a
refreshing job. Exports are of the view that it’s not necessary
to walk only early in the morning, one can do it
at any point of the day. Some could be seen hiking in
the evenings, too.
Safari Park project was initiated in 1971, but it
never emerged as a real safari. This park had a vast area
and it was said that it would be the biggest park in the
country. some of its area has now been handed over to
a commercial amusement park. Initially roads were laid
in the Safari Park and people used to enjoy a ride on
them. Now the roads are used by the pedestrians.
There are some deer and other wildlife in the safari.
One can watch them running and grazing on the backside
of the hillock. Neelguys, a pair of zebra, peacocks,
turkeys, pheasant and ducks can also e seen around inthe park. Apond there was initially used for a boat ride,
but later it was turned into birds habitat. There were
once a few pairs of elegant black swans with red beaks.
They are no more today. They might have fell prey at
the hands of unscrupulous elements.
While most of Karachi’s gardens have a lot of
flowers in spring, Safari Park wears a barren look.
The Banyan trees have dried out and green belts are
non-existent. With the installation of nurseries around
the Safari Park’s payments, it’s outlook has somewhat
improved.
One wonders if the KMC cannot manage such public
parks properly, it should hand them over to some
private concerns.

Saturday, March 11, 2017

غلط فہمی






غلط فہمی ۔۔افسانہ
از 
عابدہ رحمانی

میری دوبئی ائر پورٹ سے کراچی کیلئےروانگی تھی ۔جانے سے دو روز پہلے خبر ملی کہ نسیمہ ( جو چند روز پہلے دوبئی میں رکتے ہوئے کراچی گئی تھی) کے ساتھ والی سیٹ پر ایک خاتون اس سے پوچھتی رہی کہ دوبئی میں کیا شاپنگ کی ہے ؟ اور نسیمہ نے خوب بڑھا چڑھا کر تفصیلات بتائیں ۔ اسکی شیخی خوری اور خود نمائی کی عادت تو تھی ہی اور اسطرح کے قصے تو وہ خوب چسکے لے لے کر بیان کرتی تھی ۔اسے  خوب یاد ہے کراچی پہنچ کر خاتون نے کسی کو فون کیا اور کچھ تفصیلات بتاتی رہی ۔ اسے اسکے بھائی لینے آئے تھے ۔ گھر پہنچے تو اسلحے کے زور پر ایک اور گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی نسیمہ سمیت تمام گھر والوں کا صفایا کر دیا ۔ جانیں اور عزت بچ گئی ،یہی غنیمت تھا ۔
 نہ تو میں شیخی خور ہوں اور نہ ہی میں نے دوبئی میں کوئی خاص خریداری کی تھی لیکن میں نے فیصلہ کیا تھا کہ لئے دئے رہوں ۔ گیٹ کے قریب نشست سنبھالی تو چاروں طرف نظر دوڑائی ۔ کونے میں ایک پاکستانی جوڑا براجمان تھا دونوں ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال کر ایک دوسرے پر نچھاور ہو رہے تھے ۔ہمارے پاکستانی کلچر میں میاں بیوی تو ایسا ہرگز نہیں کرتے اور وہ بھی پبلک کے سامنے۔ لڑکی کا لباس بھی قدرے بے حجابانہ تھا ۔ شاید شو بز سے تعلق ہو ۔
"دوبئی میں مزے کرلو بچو"  میں نے دل میں سوچا یہ گرل فرینڈ کا چکر کھلم کھلا تو اب بھی پاکستان میں نہیں چلتا۔۔اتنے میں ایک لڑکا میرے پاس آیا " آنٹی آپ کراچی جارہی ہیں ،میں بھی کراچی جارہا ہوں ۔میں یہاں اکیلا رہتا ہوں جب بھی موقع ملتا ہے کراچی کا چکر لگا لیتا ہوں باقی فیملی وہیں ہے۔ میں بادل ناخواستہ اسکی کہانی سنکر ہوں ہاں کرتی رہی۔ 
اتنے میں جہاز میں جانے کا اعلان ہوا۔ جہاز میں داخل ہوئی تو دیکھا وہی جوڑا میرے سامنے والی سیٹ پر براجمان  ہے ۔ ایک فلائیٹ اٹینڈنٹ انکے پاس آیا اور انکو خوش آمدید کہا "ہمیں خوشی ہے آپ ہمارے ساتھ سفر کر رہے ہیں ۔اس سے یہ بات تو طے ہوگئی کہ  یہ شو بز کے لوگ ہیں ۔لیکن کون ہیں اتنے میں ایک خاتون میری ساتھ والی سیٹ پر آئیں اور انکو دیکھ کر چہک اٹھیں "ارے یہ تو رامس   ہے اسکا فلاں فلاں شو کافی مشہور ہے آسدن نازیہ خان شو میں آئے تھے ۔ کیا آپ نہیں جانتیں ؟ " "یہ لڑکی کون ہے اور اسکی کیا ہے ؟ میری ساری توجہ لڑکی کی طرف تھی ۔خاتون نے لاعلمی کا اظہار کیااور بتایا کہ اسکی تو ابھی تک شادی ہی نہیں ہوئی ۔ میں انپر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ میں امریکہ سے آئی ہوں اور میرے پاس پاکستانی چینل نہیں ہیں اسلئے میں انہیں قطعی  نہیں جانتی۔
جہاز اڑاہی تھا کہ چائے کی سروس شروع ہوئی ۔ خاتون  کے ہاتھ پر مکھن لگ گیا تھا  اور ان کا دودھ کا پیکٹ نہیں کھل رہاتھا انہوں نے رامس سے کھلوایا اور اسنے دانتوں سے کھول لیا ۔ خاتون نے اس ے ٹیشو پیپر بڑھا کر ، اس  پر آٹو گراف بھی لے لیا اور اسکے مختلف پروگراموں کی تعریف کرتی رہیں۔ میں قدرے جز بز ہوتی رہی کہ کسطرح گفتگو کا آغاز کروں ۔ اسکے  ساتھ والی لڑکی جو تقریباً اس پر جھکی ہوئی تھی  اس کو متلی شروع ہوئی ، اسنے اسکے منہ سے الٹی کے لئے بیگ لگا لیا ۔۔بالآخر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ،" یہ آپکی بیوی ہے کیا ؟ " میں نے پوچھ ہی ڈالا ۔ "جی ہاں جی ہاں بالکل ،یہ روبی ہیں کافی مشہور ماڈل ہیں ،ہماری دو مہینے پہلے ہی شادی ہوئی ہے کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے انکی " یہ سن کر میری تمام پریشانی دور ہوئی ۔مجھے یک گونہ اطمینان اور سکون ہوا ۔ انکے جائز رشتے ، آپس کی محبت اور الفت مجھے بے حد بھانے لگی ،اور پھر انسے کراچی امد تک ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر خوب گپیں لگائیں۔۔ 

Saturday, February 25, 2017

Positive, Unique Behaviors!

Positive, unique behaviors

By


Abida Rahmani


For a peaceful , serene life ,positive behaviors are imperative.With positive behaviors not only the person is at peace and tranquility, others related and around him too enjoy the same blessings. Positive behavior is the key to a successful life.

There are different type of personalities, some possess the quality of positive attitude naturally. While the other person with negative attitude has to to strive hard for it.

In some ways, the line between positive and negative behavior exists in the eye of the beholder. Our values and system , which stems from our family and cultural background as well as our own life experiences, will determine our positive behavior. The feelings about ourself and life in general will also color our perceptions. 

Generally Negativity and pessimism engulf many of us today. Our day starts with the news of wars,destruction , accidents, murders and various sort of Islamophobia around the world.

These anxieties and worries engulf our mind and soul and kill our positivity.we get stuck in the realities of this life, become depressed, and loose sight of the our main goal, the life after death.

Success and failures are part of one’s life and the mind can be directed towards positive thinking or negative thinking. The power of thought is a neutral power. The way one thinks determines whether the results are positive and beneficial or negative and harmful. It is the same of energy acting in different ways.

Thinking of those things which are true, honest, just, pure, lovely, in other words, to fill our mind with noble, good thoughts, leaving no room for negative ones to take place.As a Muslim we believe that this world is a temporary abode. Our real goal is to be successful in the here after. Regardless how difficult this life may be , it has to end one day.We have a futuristic vision through Quran about the here after.

In Quran there are great depictions of paradise ( Jannah) and hell (Jahannam).We get the explanations of those who are successful to get Jannah and those unfortunate and evil that will go into Hellfire. Allah swt has given the opportunity of repentance to the believer for his/ her sins.With this one can change his life to a better positive useful person with positive attitudes.


Positive behavior is the attitude of a believer.

The Prophet, peace be upon him, said, "Strange is the affair of the the believer, verily all his affairs are good for him. If something good befalls him he thanks Allah and it becomes beneficial for him. And if something harmful befalls him he is patient (Sabir) and it becomes beneficial for him. And this is only for the believer. [Muslim]

Muslim’s reaction to every situation is gratitude.

Our Prophet peace be upon him him guided us to thank Allah in good or bad both situations.الحمد لله علي كل حال

When he received good news, he would say, “Al hamdu lillaahi al-adhee bi-nimatihee tatimmu as-saalihaat.” (All Praise is for Allah by whose favor good works are accomplished.)

When he received disturbing news, he said, “Al hamdu lillaahi alaa kulli haal.”

(All Praise is for Allah in all circumstances.)


Our Prophet Muhammad peace be upon him was the greatest role model of optimism and positivity for us.

He handled the most difficult situations with great wisdom and positive approach. We can learn a lot of positive behavior tips from his noble life.

Despite his own trying financial situation and the verbal insults hurled at him throughout the Makkan period of his prophethood, he remained extremely positive. He was constantly looking for ways to bring relief to the persecution of the first group of believers.

As soon as he realized there was an opening, he asked his companions to migrate to Abyssinia (Ethiopia), where a just Christian ruler would offer them refuge. This marked freedom of religious expression for Muslims for the first time. A few years later, the Prophet wanted a more permanent solution for the Muslim community to live and grow in a positive and peaceful society. Thus, he directed his believing community to migrate to Madinah to establish the first peace sanctuary of Islam, ending over a decade of persecution and negativity.

Prophet s.a.w was always positive about the state of even his worst enemies. He constantly prayed for their guidance and asked Allah to strengthen His Deen with the help of these influential leaders. As a result, Omar ibn al-Khattab, Khalid bin al-Waleed and others embraced Islam. Based on the Prophet’s futuristic outlook, we witness him proactively making alliances with various tribes across Arabia and with nations beyond Arabia.

Prophet Muhammad peace and blessings be upon him,’s positive approach and trust in Allah was highlighted during his dramatic journey to Madinah as he and Abu Bakr finally decided to migrate from Makkah. While the Prophet and Abu Bakr hid in a cave on the way to Madinah, their Makkan pursuers got to the mouth of the cave looking to capture them. At this point, Abu Bakr, turned to the Prophet in anxiety saying that they would be killed if the enemies peeked inside. The Prophet responded to his companion with positive approach as recorded in the Quran, “Don’t worry. Verily Allah is with us.”

Prophet Muhammad urged us to spread good news

“Give glad tidings, and do not scare people away; make things easy, and do not make things difficult.” (Abu Dawud)


A positive thinker is an achiever

As Winston Churchill once aptly described, “A pessimist sees the difficulty in every opportunity; an optimist sees the opportunity in every difficulty.”  Focus on solutions, not problems.Look for opportunities, not excuses. A results-driven, positive attitude is the mark of an achiever in this life and in the hereafter.

A positive thinker is usually healthier

Based on numerous scientific studies of optimists and pessimists, it is known that those who are positive about life, usually:

1 live longer

2 have less incidents of depression and anxiety

3 are more likely to be content and at peace

4 are less likely to experience blood pressure and cardiac problems

5 are more patient and persistent in difficult times 


If you are a positive person, people love to be around you. You are a good team player and you look for solutions. Employers, co-workers, neighbors, family members, friends, and volunteers will be attracted to your contagious optimism. People are naturally attracted to those who offer hope and practical advice. On the other hand, people are repelled by those who complain and whine about others and find fault in others.

How the positive and unique attitude is practiced.

1 Focus on solutions, not problems

2 Keep your eye on the bigger picture

3 Develop creative thinking and innovative ways of doing things

4 Tawakkul (Trust in Allah for results)

5 Maintain a balancing act of fear,hope , optimism & reality

6 Start our day with recitation of Holy Quran , Duas (supplication) of the Prophet, peace be upon him..

7 Keep company with positive, result-oriented people

8 Engage in physical exercise

9 Smile more!

10 Allow for less exposure to media ,news and negative approaches Sincerely,

Wednesday, January 25, 2017

دہشت گرد

 

دہشت گرد

 

فسانہ یا حقیقت

کئی روز ناساز رہنے کے بعدآج اس کی طبیعت کافی بہتر محسوس ہو رہی تھی ۔ جسم میں جیسے قدرےطاقت آگئی ہو ورنہ تو جوڑ جوڑ میں دکھن تھی۔اسکابہت جی چاہا کہ باہر نکل کر چہل قدمی کی جائے ۔۔یوں بھی یہ اسکی ایک عادت ثانیہ ،ایک معمول تھا۔کام کاج تو کوئی خاص تھا ہی نہیں ، ۔۔اسے وہ وقت بری طرح یاد آتا تھا جب فرصت کے چند لمحات کو ترس جاتی تھی اور اب اسکا جی چاہتا ہے کاش کوئی مصروفیت ہوتی۔اسنے جوگرز پہنے ، ہلکی جیکٹ پہنی،فون جیب میں ڈالا،سر پر ہیٹ پہنا اور روانہ ہوئی ۔۔چلتے چلتے وہ تمام وقت تلاوت کرتی رہتی یا پھر اپنے فون سے ائر پلگ لگا کر تلاوت سنتی ۔۔اللہ سے تعلق جوڑ کر اسے یک گونہ سکون اور اطمینان ہوتا۔۔

دور سے رابرٹ اپنے دو خونخوار قسم کے کتوں سمیت نظر أیا اسنے گرم جوشی سے ہاتھ ہلایا اور قریب أکر اسکی خیریت دریافت کی ۔۔اسنے اپنی بیماری کی کچھ تفصیلات بتائیں۔۔ پہلے پہل جب وہ ملتا تو وہ اسکو ہیلو کہتا اور یہ ہائے کہہ دیتی۔۔یہاں پر ذرا غیر ملکی نظر أنیوالوں کو ہیلو کہا جاتا ہے ورنہ تو ہائے ،ہائے اور بائے بائے چلتا ہے ۔۔ایک روز تو وہ سپینش زبان میں شروع ہوا تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ اسے لاطینی سمجھتا ہے۔۔ لیکن جب ایک روز وہ شلوار قمیض پہنے نکلی تو اسنے قریب أکر کہا " نمسٹے" وہ مسکرائی پھر ایک روز جب اسنے کہا " ہیپی ڈیوالی " تو اس سے برداشت نہیں ہوا اور اسنے سارا پول کھول دیا ۔۔ اب تو وہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ وہ پاکستانی ہے اور مسلمان ہے۔۔ وہ اس سے اکثر پاکستان یا مسلمانوں کے بارے میں ذکر کرتااور وہاں کے حالات پر گفتگو کرتا ۔۔أئے دن خبروں مین ایک سے ایک اندوہناک قصےأ ٓرہے ہوتےاور وہ اسے یقین دلانے کی کوشش کرتی کہ ہم تو انتہائی مہذب اور امن پسند ہیں۔امن وامان ، چین اور سکون کے متلاشی ہیں  ۔۔ حقیقت بھی یہی تھی اسی امن، سکون اور چین کی خاطر تو سات سمندرپار اس انجانے ملک میں آبسےتھے۔۔ملک تو خیر ایسا تھا کہ ہر کوئی بسنے کے خواب دیکھتا۔۔لیکن وہ تو کتنے انقلابات سے گزر کر یہاں تک پہنچی تھی۔۔ 

 گھر کے چند افراد کے علاوہ اس شہر میں اسکا کسی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ رکھنا بھی نہیں چاہتی تھی دوچار جاننے والوں سے فون اور ای میل کے ذریعے دعا سلام ہو جاتی تھی۔ اسی چہل قدمی کے بہانے کچھ حرکت ہوجاتی۔ورزش کی ورزش ،تازہ ہوا اور موسم خوشگوار ہو تو یہ چہل قدمی کافی پر لطف ہوجاتی ۔۔دو چار لوگوں سے ہیلو ہائے بھی ہو جاتی کچھ لوگ چلتے پھرتے نظر آتے ورنہ یہاں کی بے کیف ،تنہااور گوشہ نشین زندگی سے وہ اکثر بیزار آجاتی ۔۔

 

زیادہ طبیعت اکتائی تو فون ملا لئے اپنے دور افتادہ بھائی بہنوں عزیزوں، دوستوں  سے باتیں کرلیں ۔ورنہ کمپیوٹر پر ہی اسکی دنیاأّباد تھی۔ یہ ایجاد اور اسکی سہولتیں اسکے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ سےکم نہیں تھی۔۔

ملک بھی تو کیسے چھوٹا تھا ۔عادل کے اس دنیا سے جانے کے بعد وہ ریزہ ریزہ، ہو چکی تھی ساراشیرازہ منتشر ہوکر کرچی کرچی ہوچکا تھا۔ وہ اللہ سے ہر وقت یہی دعا کرتی کہ وہ اسے اپنے بچے سے جلد ملا دے ۔۔ اسے یقین تھا کہ اسکا بچہ شہید ہے جسنے اپنے نا شکرےمہمان پر اپنی جان وار دی تھی اسکا مال اور اسکی جان بچائی۔۔اسکے شہر میں تو یہ قتل و غار گری اور لوٹ مار روز کا معمول تھا پولیس گچھ تفتیش کرتی اورپھر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہو جاتا۔۔  ۔۔پھر وہ دعا کرتی یا اللہ مجھے بھی شہادت کی موت عطا کردے تاکہ میں بھی اپنے بچے کے پاس اسکی جنتوں میں چلی جاؤں ۔۔جوانی میں بیوگی کا اتنا بڑا صدمہ  اور دکھ جھیلے اور پھر یہ دکھ اور صدمہ، اللہ تعالی سےوہ ہمہ وقت اب مذید أزمائشوں سے پناہ مانگتی۔۔لیکن یہ اللہ ہی کی ذات تھی جسنے اسکو حالات  سے نبرد أزما ہونے کی ہمت اور حوصلہ دے رکھا تھا  ۔زندگی کے دھارے میں بہتے بہتےاور حالات سے لڑتے لڑتےوہ جیسےپھر سے جی اٹھی۔بڑھاپا بھی أ ٓن پہنچا تھا۔ اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کردئے ہر سانس کے ساتھ اللہ تعالی کی شکر گزاری تھی۔۔

 

اسکےبچےپہلے باقاعدگی سےمختلف مواقع اور اجتماعات میں  مسجد جاتے تو اپنے لوگوں سے ملنے کے مواقع میسر آتے۔یہاں کی مساجد ایک طرح سے کمیونٹی سنٹر ہوتے ہیں۔نماز ، عبادت ،تقاریر ملنا ملانا ،گپ شپ اور پھر مختلف تقریبات ،لذت کام و دہن کے مواقع ،عیدین اور دیگر مواقع پر مختلف بازار بھی لگ جاتے اور اپنی دیسی اشیاء خوب بکتیں ۔۔اگر یہ نہ ہو تو اپنے جیسے لوگوں کو دیکھنےاور ملنے کو آدمی بری طرح ترس جائے ۔۔مختلف رنگ و نسل کے مسلمان، اپس کی یگانگت، محبت اور الفت اسکو بہت تسکین دیتی اپنے دین اوراپنے لوگوں سے جڑ کر روحانی تقویت مل جاتی ۔مساجد کے یہ مواقع تو اسکو اپنے ملک میں بھی میسر نہین تھےبچوں کو بھی نیک اور پاکیزہ ماحول میسر تھا۔۔ 

یہاں رفتہ رفتہ جو مسلمان مخالف جذبات نے سر اٹھایا،حالات بدلنے شروع ہوئے تو کمزور قسم کے مسلمانوں نے مساجد سے دوری اختیار کرنی شروع کی وہی اسکے بچوں نے کیا ۔۔انکو اپنی ملازمتوں ،اپنے بال بچوں اور اپنی رہائش کی فکر تھی ۔۔کبھی کبھی تو اسے محسوس ہوتا کہ ایک خوفزدگی کا ماحول ہے۔جابجا حجاب پہننے والی خواتین کو پریشان کیا گیا۔نیویارک میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو گولی مار دی گئی  ۔مساجد پر حملے ہونے لگے کہیں پر سؤر کا سر پھینک دیتے ایک أدھ جگہ أگ لگانے کی کوشش کی گئی توڑ پھوڑ ہوئی، سب سے بڑھ کر میڈیا پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ہروقت بحث مباحثے ۔۔ کہا جاتا تھا کہ مساجد جانیوالوں  پر نظر رکھی جارہی ہے انکا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار اور ابلاغ عامہ مسلمانوں کے متعلق ہر وقت زہر اگلتے 

اس بات کاا سے بہت دکھ اور صدمہ تھا۔۔۔

داعش کی بہیمانہ کارروائیوں کی خبریں دہلانے والی تھیں مشرق وسطے تو مدتوں سے خونریزی کا میدان کارزار بنا ہواتھا۔۔ عالمی طاقتوں نے امن عالم کے نام پر اسے اپنا أکھاڑہ بنا رکھا تھا لاکھوں مسلمان ، مخالف مسلمانوں کے ہاتھوں،جنگوں اور بمباریوں سےہلاک ہوئےعراق اور شام کی قتل و غارتگری اور ہلاکت خیزی نے افغانستان، کشمیر ، پاکستان ، برما ، فلپائن اور وہاں کی خونریزیوں کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ دیا ۔ ۔۔ القاعدہ کے بعد   داعش  یا  ملت اسلامیہ کا ہوا اور فتنہ  پوری دنیا کو دہلائے جا رہاتھا ۔۔ پیرس میں ۱۵۰ بےگناہوں کا خون بہایا گیا پوری دنیا لرز اٹھی اور داعش کی سر کوبی کیلئے متحد ہوگئی۔۔فرانس ، امریکہ ، روس اور بر طانیہ کی فضائی افواج کی بمباری سے بے شمار بے گناہ مارے جارہے تھے  ۔۔

پیرس کی ہلاکتوں کے بعد رابرٹ کافی اکھڑا اکھڑا ساتھا،"ہم ان لوگوں کو پناہ دیتےہیں اور پھر یہ ہمارے ہی ملکوں میں ہم لوگوں کو مارتےہیں اب پیرس کی ہلاکتوں کا کیا جواز ہے۔۔دہشت ہے دہشت، ان دہشت گردوں کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا انکو ختم کرنا ہوگا"

میں بے حد افسردہ ہوں۔کاش کہ ایسا نہ ہوا ہوتامجرموں سے سختی سے نپٹنا چاہئے "وہ بس اتنا ہی بولی ۔ وہ تھک جاتی تو ایک بنچ پر بیٹھ جاتی وہ ادھر ادھر ٹہل ٹہل کر باتیں کرتا رہتا۔۔ دونوں ہی اسوقت غصے اور افسوس میں تھے۔۔ 

حفاظتی اداروں نے تھینکس گیونگ پر حملوں سےمتنبہ کیا تھاشکرہےکہ  خیریت رہی ۔بلیک فرائڈے کی وہی رونقیں ، خریداریاں اور بھیڑبھاڑ۔۔

ہر جگہ کرسمس کی بتیوں کی چکا چوند تھی اسکے محلے کے تقریباً سارے ہی مکان کرسمس لائٹوں سے سج گئے۔ایک انکا گھر ان معدودے چند گھروں میں تھا جسپر بتیاں نہیں تھیں ۔اسنے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ لال پتوں والے دو گملے ہی لاکر باہر دروازے پر رکھ دے اسمیں أ ٓخر کیا برائی ہے ۔۔وہ یوں بھی زیادہ سخت مزاج نہیں تھی۔۔

 

کولوروڈو اسپرنگ میں خاندانی منصوبہ بندی کے دفتر پر فائرنگ ہوئی ۔۔ تین لوگ ہلاک ہوئے ۔۔ چھ گھنٹے مقابلے کے بعد حملہ أؤر پکڑا کیا اسنے اللہ کا بے حد شکر ادا کیا کہ اسکا مسلمانوں اور داعش وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں نکلا ۔۔امریکہ میں جو چاہےمن پسند گن،  بندوق ، پستول خرید سکتا ہے ۔۔ اسلئے اسلحہ کے شائقین کی عیاشی ہے لیکن ساتھ ہی یہاں ہر ایک کے پاس بندوقیں أئے روز کی قتل و غارتگری کا سبب ہیں۔۔

رابرٹ سے اسکے بارے میں باتیں ہوئیں "بندوق ،گنز پر پابندی ہونی چاہئےاگر یہ کھلا اسلحہ نہ ہو تو آئے دن کی یہ فائرنگ اور قتل وغارتگری قابو میں آجائیگی۔امریکہ میں آئے دن اسکولوں ،کالجوں یونیورسٹیوں اور مختلف جگہوں پرفائرنگ ہوجاتی اور کئی ہلاکتیں ہو جاتیں۔"۔رابرٹ مسکرا کر کہنے لگا ،" مجھے تو گنز بہت پسند ہیں اور میں اس تجویز کی  سختی سے مخالفت کرونگا۔ ہمیں اپنی حفاظت کیلئے گنز کی ضرورت ہے" وہ اسے حیرت  اور افسوس سے دیکھنے لگی۔۔

وہ گھوم پھر کر واپس أئی تو ٹی وی پر سی این این  لگایا ۔ سان برنارڈینو میں ذہنی معذورین کے سنٹر پر فائرنگ سے 14 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو چکےتھے۔۔تین حملہ آور فائرنگ کرکے فرار ہوچکے تھے ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ہر چینل پر یہی خبر شد ومد کے ساتھ تھی ۔وہ بھونچکا رہ گئی یا اللہ خیر۔کسی مسلمان کی حرکت نہ ہو" اسنے اپنی دوست کی خیریت پوچھنے کے لئےفون کیا جو وہاں قریب ہی رہتی تھی۔۔وہ بھی ٹی وی سے جڑی پریشان بیٹھی تھی۔۔ دو سال پہلے وہ اسکےپاس گئی تھی اور دونوں جب ٹرین میٹرولنک پر لاس اینجلس جاتیں تو سان برنارڈینو کا اسٹیشن فورا ہی أٓجاتا۔۔شام کے ہوتے ہوتے دو قاتلوں کے نام منظر عام پر أئے ۔۔یہ پاکستانی نسل کا شادی شدہ جوڑاتھا۔۔مبینہ قاتل سید فاروق اسی ادارے میں کام کرتا تھا۔۔خبروں کے مطابق وہ وہاں ہونیوالی کرسمس پارٹی میں موجودتھا، اسکی ایک ساتھی کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی گھرأ ٓیااپنی بیوی تاشفین ملک کو لیا، چھ ماہ کی بیٹی کو ماں کے پاس چھوڑا یہ کہہ کر کہ ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں ۔جنگجؤں والے کپڑے پہنے اتنے سارے لوگوں کو ہلاک اور زخمی کر کے بھاگ أئے چار گھنٹے کے بعد پولیس نے انکو بے دردی سے قتل کردیا۔۔چشم دید گواہوں کے مطابق دونوں کے ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے تھے۔ عورت تاشفین ملک باپردہ عورت تھی لیکن اسوقت وہ مختصر لباس میں تھی۔ میڈیا، پولیس اور ایف بی أئی مجرموں کو کیفر کردار کو پہنچانے پر مطمئن تھی ۔شروع میں تو کہا گیا کہ کسی گروہ سے تعلق نہیں  ہے لیکن بعد میں ریڈیکالئزیشن کی گردان ان کا سب سے بڑا جرم ٹہری ۔۔اسلام پر عمل پیرا ہونا دہشت گردی پر اکساتا ہے ۔۔وہ بری طرح لرز گئی تمام مسلمان ہی دہشت زدہ رہ گئے۔ میڈیا پر تو ایک طوفان ایک ہنگامہ مچا ہوا تھا ۔۔ مسلمان اور پاکستانی اس جوڑے کے کردہ یا نا کردہ گناہ پر شرمسار اور نادم تھے۔۔یقین کرنیکو تو جی نہیں چاہ رہاتھالیکن شواہدیہی تھے کہ وہ دونوں قاتل تھے۔انکا ماضی حال کنگالا جارہاتھا ۔۔فاروق نے اپنی پسند کی پردہدار لڑکی سے ایک أ ٓن لائن ویب سائٹ کے ذریعے رشتہ کیا ۔۔نکاح مسجد الحرام مکہ معظمہ میں ہواتھا۔ایک اچھے مسلمان کے لئے تو یہ سب باعث سعادت تھا۔۔لیکن کیا وہ دونوں واقعی قاتل اور مجرم تھے؟۔متضاد خبروں نے اسکا ذہن بے حد پریشان کردیا۔ہر وقت کی خبریں اور تبصرے ذہنی اذیت اور کوفت کا باعث تھے اسپر سیاسی لیڈروں کے زہر آلود پیغامات۔۔

ان حالات کی وجہ سے وہ بہت دلبرداشتہ اور غمزدہ تھی۔۔ 

آج موسم ابرآلود تھا شام کو بارش کی پیشن گوئی تھی اسنےسوچا کچھ چہل قدمی کر أؤں شاید رابرٹ ملے ۔اسے یہ سوچ کر کچھ گھبراہٹ سی ہوئی " اللہ جانے وہ کیسا محسوس کررہا ہوگا ؟ ایک مرتبہ تو اسنے اتنا بھی کہا کہ یہ سارے مذہب ہی فساد کی جڑ ہیں "لیکن پھر وہ اسلام میں کافی دلچسپی بھی لینے لگا تھاشاید اسلام قبول کرلے وہ اکثر سوچتی ۔انکی بس یہی چلتے پھرتے ملاقات اور گپ شپ ہوتی وہ اپنے کتوں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتاتھا۔اپنے کتوں کو لپٹاتا ، ہاتھ پھیرتا رہتا اسے اسکے کتوں سے بڑی گھبراہٹ ہوتی  اور وہ ہمیشہ یقین دہانی کرتا کہ یہ بہت ہی تمیزدار اور سدھے ہوئے کتے ہیں ۔۔ یہ تو میرے بہت پیارے بچے ہیں رابرٹ لاڈ سے کہنے لگتا ۔بیوی سے طلاق ہوچکی تھی ایک بیٹا تھا وہ دوسرے شہر میں رہتا تھا۔ انکے متعلق اسنے مختصراً بتایا۔

 اسی ادھیڑ بن میں وہ باہر نکلی فون پر تلاوت لگا کر ایرپلگ لگالئے۔۔ایک عجیب سا مہیب سناٹا چھایا ہوا ۔با دلوں کا رنگ گہرا ہو رہاتھا ،ہوا بالکل بند تھی یوں لگتا تھا طوفان کی أمد أمد ہے ۔ ایسے موسم میں یہاں یوں بھی لوگ دبک جاتے ہیں دور دور تک کوئی نہیں نظر أرہاتھا۔

اچانک دور سے رابرٹ اپنے ٹرک میں جاتا ہوا دکھائی دیا اسکے پاس ایک ہیوی ڈیوٹی پک اپ تھا جسے یہاں ٹرک کہتے ہیں ۔اسنے اسے ہاتھ ہلایا لیکن وہ جیسے نظر انداز کرکے گزر کیا۔۔" چلو کوئی بات نہیں جلدی میں ہوگا" اسنے جیسے اپنے آپکو تسلی دی۔ اچانک اسے محسوس ہوا جیسے کہ گھوم پھر کر چکر لگا رہا ہے اب وہ پارک کے قریب پہنچ چکی تھی ۔وہاں بھی ہو کا عالم تھا شاید موسم کا اثر تھا۔۔

اتنے میں رابرٹ نےاسکے قریب آکر گاڑی آہستہ کی ،کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا جیسے وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا ہو۔۔وہ اسکی جانب جیسے ہی متوجہ ہوئی "او یو بلڈی ٹیررسٹ "اس نے جواب دینے کے لئے منہ کھولاہی تھا ۔۔تڑ تڑ تڑ تڑ گولیوں کی بوچھاڑ، وہ چکرا کر گر پڑی۔۔خون کے فوارے جاری تھے اسکی شہادت کی دعا قبول ہوچکی تھی ۔۔ اسکا فون دور گر پڑا ۔۔اور تم انہیں مردہ مت کہو  ۔ جو اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں وہ زندہ ہیں اور اللہ کے ہاں رزق پا رہے ہیں البقرہ کی آیات کی تلاوت جاری تھی۔۔۔۔۔

Friday, January 13, 2017

و ما ارسلنک الا رحمة العالمین ۔۔


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم---

و ما أرسلناك الا رحمة اللعلمىن

Blessings for the entire Universeﷺ

 Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him)

When Michael Hart put the name of our Prophet Muhammad (S.A.W) on top the list of 100 most influential People, he had certain reasons for it. He was not a Muslim, yet he was unbiased and acknowledged the greatness of Prophet S.A.W. He suffered criticism by Christians and church to put the Jesus on 3rd place.

Muhammad (SAW) was a symbol of love and mercy for all, even towards his enemies. He was a symbol of altruism and affection and a living model of compassion for mankind. He was sent by Allah as to represent mercy for all living beings irrespective of creed, color, race or status.

وَمَآ أَرۡسَلۡنَـٰكَ إِلَّا رَحۡمَةً۬ لِّلۡعَـٰلَمِينَ

“We sent you not but as a mercy for whole universe. (21:107)

Abu Hurairah(ra) reported that some people asked the Holy Prophet (SAW) to curse the unbelievers. He replied, “I was not sent on earth to curse; I was sent only as a mercy.”

The Prophet (SAW) taught others, through his personal example, to be kind and merciful. A companion of the Prophet (SAW) reported him as saying, “Allah will not show mercy to him who does not show mercy to others.” While another companion reported him saying, “The inhabitants of paradise are of three classes; and one of them is a man who is merciful and tender-hearted to every relative and every Muslim.”

Abdullah bin Amr reported Allah’s messenger as saying, “Those who are merciful will have mercy shown to them by the Compassionate One. If you show mercy to those who are on the earth, He who is in the heavens will show mercy to you.”

Ibne Abbas reported, “He does not belong to us who does not show mercy to our young ones and respect to our old ones.”

The Holy Prophet (SAW) is a blessing, a symbol of mercy for all human beings even non-believers, hypocrites and the Jews of Madinah. He even showed mercy to those who tried to dishonor him and his religion and even plotted with his enemies to destroy the newly created State of Madinah and kill its leader.  Muhammad (SAW) showed mercy even to them and never treated them harshly. At the time of the conquest of Makkah, the mercy and forgiveness shown to the pagans is unparalleled in the history of the world. The Prophet (SAW) and his followers were persecuted for 13 years in Makkah, and the persecutors ultimately compelled them to migrate to Madinah. But the Holy Prophet (SAW) and his followers conquered Makkah, they forgave every injury inflicted on them. A general pardon was granted. Such an example of compassion and forgiveness is rare in the history of the world. The Holy Prophet (SAW) showed mercy to all and made no distinction among people. His love and mercy for everyone was beyond measure.

Thus, Prophet Muhammad (SAW) was sent down as mercy and a blessing for everyone and everything in the Universe. He was not sent down for Muslims or Arabs only. In his whole life his manner was never unkind or unjust. Whoever came to him for guidance went back satisfied, whether they were Muslims or Non-Muslims, Arabs or Non-Arabs. The last Prophet (SAW) was, is and always will be a mercy for everyone as he was not the Prophet for Arabs but for the whole world.