Monday, January 27, 2025

ڈرامے اور ہم

 ڈرامے اور ہم

از

عابدہ رحمانی 

ڈرامے کی تاریخ اور جغرا فیے  سے کیا لینا دینا ۔۔ولیم شیکسپئیر اور آغا حشر کو اپنے کارنامے دکھائے ہوئے مدت بیت گئی ۔۔ لیکن انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے اب ڈرامہ ٹی وی سکرین ، یو ٹیوب ، نیٹ فلیکس ، بے شمار دوسرے چینل اور کمپیوٹر کی بدولت گھر گھر اور بچے بچے  تک پہنچ چکا ہے ۔۔

اگر پاکستان کا جائزہ لیں تو ایک زمانے میں کراچی ،لاہور میں سٹیج ڈراموں کا زور تھا ، ریڈیو پر بے انتہا دلچسپ ڈرامے ہفتہ وار نشر ہوتے تھے جسے انتہائی ذوق اور شوق سے سنا جاتا تھا ۔۔ پھر پاکستان ٹیلی وژن کا دور آیا تو آواز کی دنیا کے وہی کردار جیتے جاگتے ہمارے سامنے ٹیلی وژن پر آگئے اور ڈرامے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔۔ 

پی ٹی وی نے انتہائی معیاری اور اعلی ڈرامے پیش کئے اور جانے انجانے میں ہم ان اداکاروں اور کر داروں سے منسلک ہو گئے ان ڈراموں کا اتنا اثر تھا کہ اس کی نشریات کے دوران لوگوں کی اکثریت اپنے ٹی وی سیٹ کے سامنے دم بخود ہو جاتی اور شہر کی سڑکوں پر بھی سناٹا چھا جاتا۔۔۔۔

پھر ڈش انٹینا اور کیبل ٹی وی کا دور آیا تو پاکستان میں بھی چھوٹے بڑے بے شمار چینل کھل گئے ۔۔

اب جبکہ پاکستان میں بے شمار ٹی وی چینل ہیں اور بے شمار ڈرامے بن رہے ہیں ، ٹیکنالوجی چھلانگیں مارتی ہو ئی کہاں سے کہاں پہنچ گئی تو ان ٹی وی ڈراموں کو دیکھنے کا بہترین ذریعہ یو ٹیوب ہے ۔۔ میں اپنے پسندیدہ ڈرامے یو ٹیوب پر اپنی سہولت سے دیکھتی ہوں ۔۔ نیٹ فلیکس اور دوسرے ذرائع بھی ہیں لیکن میں یو ٹیوب سے ہی مستفید ہوتی ہوں ۔۔۔

پاکستان کے علاوہ بھارتی ڈرامے بھی ایک زمانے میں کافی مقبول تھے لیکن اب ترکی ڈراموں نے میدان مار لیا ہے ، اب تو وہ بہترین اردو ڈبنگ dubbing میں آگئے ہیں جو کہ شاید وہیں ترکیہ سے ہی کر دیے جاتے ہیں ۔۔ تاریخی ڈرامے ارتغرل غازی ، کرولس عثمان ، صلاح الدین ایوبی اپنی جگہ تاریخ کے علاوہ جوش و جذبے کو جلا بخشتے ہیں جبکہ آجکل میں ایک ڈرامہ “ محبت ایک سزا “ دیکھ رہی ہوں جسمیں ماڈرن ترکی یوروپ سے کسی طرح کم نہیں ہے,جہاں شراب پینا اور کئی خباثتیں عام ہیں  ۔لباس اور پہناوے اپنی جگہ ، چھ انچ کی اونچی ایڑی کے جوتے پہن کر کٹ کٹ چلتی ہوئی عمر رسیدہ خاتون پر تو مجھے رشک آتاہے ۔۔لیکن لاجواب اداکاری اور کردار نگاری مجھے گم سم کر دیتی ہے ۔۔

کرولس عثمان اور اس ڈرامے کے ماحول میں زمین آسمان اور کئی صدیوں کا فرق ہے ۔ وہ اللہ کے دین کی سر بلندی اور اپنے لئے ایک ریاست حاصل کرنے کیلئے کوشاں ،کہاں وہ لپٹی لپٹائی خواتین اور کہاں انکا نیم عریاں لباس ، لیکن نام مسلمانوں کے اور کبھی کبھار اللہ کا ذکر بھی ہو جاتا ہے ۔۔

یہ تمام  ڈرامے ،انکے کردار و اداکار ہمیں رلاتے ہیں ، ہنساتے ہیں ، ہیجانی اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔۔ اداکار بہترین کردار ادا کرکے بہترین معاوضہ سمیٹ کر چلتے بنتے ہیں جبکہ ہماری رات کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں اور خواب میں بھی اسی میں الجھے رہتے ہیں ۔۔۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی ڈرامے کو پندرہ ،بیس اقساط کے بعد عمو ما سمیٹ لیا جاتاہے ، عموما سارے بگڑے کام سدھر جاتے ہیں ، ولن یا ولنی توبہ تائب ہوکر اپنے گناہوں کا اقرار کر لیتی ہے اور معافی تلافی ہو جاتی ہے ۔۔جس سے ہمیں بھی بے انتہا طمانیت اور سرور ملتا ہے اور سینے پر سے ایک بوجھ اتر جاتا ہے۔۔

لیکن بسا اوقات ایسا کیوں محسوس ہو تاہے کہ ہلکی پھلکی تفریح کے بہانے ہمیں  ان ڈراموں کی لت پڑ گئی ہے اور لت کا عادی نہیں ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔اور یہ اچھی چیز نہیں  ہے ۔۔

Wednesday, January 22, 2025

کن کون

کن کون ( میکسیکو) کی سیاحت

از عابدہ رحمانی

ابھی تک میکسیکو کے بارے میں اتنا ہی جانا تھا کہ لاطینی امریکہ کا یہ ملک معتدل آب و ہوا کی وجہ سے شمالی امریکہ کے سیاحوں کا مر کز ہے ۔۔ اور پھر بے چارے میکسیکن جو جان جھوکوں میں ڈال کر امریکہ ڈالر کمانے آتے ہیں اسطرح اگر امریکہ اور اب کینیڈا میں بھی جائزہ لیا جائے تو گھروں میں صفائی کرنے والیاں ، باغبانی کا تمام کام کرنے والے اور  زیادہ تر مزدور میکسیکن ہوتے ہیں ۔۔ ان میں سے کتنے ناجائز طریقوں سے داخل ہوتے ہیں اور پھر پکڑ دھکڑ اور نکالے جانے کا سامنا کرتے ہیں ۔ 
امریکہ کے جنوبی ریاستوں میں جو کہ ایک زمانے میں میکسیکو کایہ حصہ ہوا کرتی تھیں وہاں پر یہ لاطینی باشندے بہت بڑی تعداد میں آباد ہیں اور وہاں کی دوسری زبان ہسپانوی ہے ۔۔سڑکوں اور گلیو ں بلکہ شہروں کے نام بھی ہسپانوی ہیں ۔ جیسے لاس اینجلس ، سان ڈیاگو ، سان فرانسسکو وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ میکسیکو نافٹا NA FTAکا حصہ ہے North American free trade association اور بادل ناخواستہ شمالی امریکہ کا حصہ بھی مانا جاتا ہے ۔۔۔
جب میرے بیٹے ناصر نے وہاں جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو کچھ تردد کے بعد میں راضی ہو گئی ۔۔( کیونکہ پچھلے سفروں سے کافی تھکان تھی) ۔۔ میں نے بکنگ وغیرہ کی تفصیلات اور سب کچھ اسپر چھوڑ دیا  ۔ 
ٹورنٹو سے کنکون ،فلئیر ائر لائن سے ہماری براہ راست تقریبا چار گھنٹے کی پرواز تھی ، جو کہ اچھی رہی ۔ہم نے ائر پورٹ پر ہی کھانا کھا لیا تھا اور کچھ اپنے ساتھ جہاز پر لے گئے ۔ اس پرواز پر پانی بھی برائے فروخت تھا ۔۔
ایرپورٹ پر امیگریشن سے فارغ ہوئے ۔ باہر  موسم گرم پایا ، ٹیکسی لی اور اپنے ہوٹل ویسٹن ریزورٹ  Westin Resortکی جانب روانہ ہوئے ۔ یہ معلوم ہوا کہ باقی شہر میں ابر Uber دستیاب ہے لیکن ائر پورٹ سے نہیں لے سکتے ۔۔ 
ریزورٹ ہو ٹل بحیرہ کیریبیئن کے کنارے واقع کافی وسیع و عریض تھا ۔ساحل سمندر سے خوب فائدہ اٹھایا گیا تھا ۔ سفید ریت پر قطار در قطار لکڑی کی دراز آرام کرسیاں اور  اوپر دلکش چھپر بنے ہوئے تھے اور پھر دیکھا کہ یہی چھپر یہاں کی خصوصیت ہے جسے انگریزی میں Land Mark یا Signature کہا جاتا ہے ۔۔ سمندر کا نیلگوں فیروزی رنگ کاپانی آسمان سے مشابہ اور اسکے کنارے سفید ریت کا ساحل سمندر اور پھر ہر جگہ ساحل پر یہی سفید ریت اور فیروزی پانی نظر آیا ۔۔ ہم نے رات کا کھانا وہیں ہوٹل کے ریسٹورانٹ میں کھایا جو کہ عمدہ قسم کی مچھلی ،جھینگے ، چاول اور سبزیاں تھیں ۔ میسیکن کھانا تھا ۔۔ صبح کا ناشتہ بھی وہیں ہوٹل کے بوفے میں کیا ، جہاں اپنے مطلب کی کافی چیزیں مل گئیں ۔۔۔
ناصر کو شدید قسم کا فلو مائل نزلہ زکام تھا اور کافی تکلیف میں تھا لیکن اللہ کا بے حد شکر ہے کہ دو دن میں بہتر ہو گیا لیکن اسکے ساتھ بھی تمام سیر و تفریح جاری رہی ۔۔ 
دس دسمبر کی صبح ناشتے کے بعد ہم نے ابر ٹیکسی لی اور مہیرا جزیرے جانے کیلئے فیری ٹر مینل پہنچ گئے ۔  ہسپانوی زبان میں جے کو ہا کے آواز سے ادا کیا جاتا ہے ۔۔ ایک ٹکٹ میں دو مزے تھے ،جزیرے سے واپسی کے بعد ہمیں ٹاؤر میں جانا تھا اور اوپر سے کنکون کی سیر کرنی تھی یہ اوپر نیچے ہونے والا اور گھومنے والا ٹاؤر تھا جو فیری میں جاتے ہوئے نظر آیا ۔۔ 
فیری ٹرمینل سے  نکلے اور بازار میں سے گھومتے ہوئے ساحل سمندر کی طرف روانہ ہوئے ۔۔ کنکون کا مخصوص نیلگوں فیروزی رنگ کا سمندر ، سفید ریت کا ساحل اور ایک سے ایک بڑھ کر چھپر جو ناریل ، تاڑ کے پتوں اور دوسری درختوں کے چھالو ں سے بنائے گئے ہیں ۔۔ ہم جتنے ہوٹل سے باہر کے ریسٹورانٹ میں گئے وہ بڑے بڑے ہال برابر چھپر وں میں بنائے گئے تھے ،آرائشی فانوسوں اور مکرامے سے بنی ہوئی سجاؤٹ سے آراستہ تھے ۔۔ 
ساحل سمندر پر چھتری نما چھپر تھے جسکے نیچے آرام کر سیاں تھیں ۔۔ گرمی اور حبس کافی تھا حالانکہ سمندر سے اچھی ہوا بھی آرہی تھی ۔۔ عوام الناس سمندر سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور ہم کنارے سے ۔۔ 
قریب کی دوکان سے دو ناریل خرید کر اسکا پانی پیا اور پھر اسکو تڑوا کر گودہ نکلوایا ، جو کہ کافی مقدار میں تھا ۔۔ کافی ساری خواتین اور بچے وہاں کا سیپ اور موتی سے بنا ہوا آرائشی سامان بیچ رہے تھے —- 
یہاں سے ٹیکسی لے کر ہم جزیرے کے دوسرے سرے پر پہنچے ۔۔ یہ اونچائی پر تھا ۔جہاں پر مایا تہذیب کے کچھ مجسمے بنے تھے اور نیچے ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا ، دلچسپ جگہ تھی ۔ گھوم پھر کر واپس ہورہے تھے تو باہر ایک ٹھیلے پر آم بکتے نظر آئے ، ہم نے آم خریدے ۔۔میکسیکو کے مخصوص آم ، لڑکے نے اسکو چھیلا اور ڈنڈی میں لگا کر خوبصورتی تراش کر اوپر نمک مرچ والا مسالہ چھڑکا ، کھٹ مٹھا کافی مزے کا تھا ۔۔ میکسیکن بھی لال مرچ شوق سے کھاتے ہیں ۔۔
اُبر uber کی کافی آسانی تھی ادھر ناصر کال کر تا تھا اور وہ  چند منٹ میں پہنچ جاتی ۔۔
واپسی پر ہم ٹاؤر پر چڑھے اور کنکون شہر کا نظارہ کیا جسکا حسن اسکا نیلگوں سمندر ، سفید ریت کے ساحل ،صاف شفاف آسمان اور چھپر ہیں ۔۔۔ 
اگلے روز ہم نے پیدل چلنے کی ٹھانی قریب کے ایک چھپر نما ریسٹورانٹ میں میکسیکن برنچ brunch کیا ،کھانے میں کافی احتیاط کرنی پڑتی تھی اسلئے ہم زیادہ تر سمندری غذا مچھلی ، جھینگے ، سبزیاں ،پھل اور لوبیا وغیرہ کھاتے تھے ۔ ۔۔ میکسیکن کھانوں میں مکئی کے بنے ہوئے چپس ، اسکی پتلی روٹیوں کا بہت عمل دخل ہے اسکو وہ tortillas, tacoکہتے ہیں لیکن ادائیگی میں یہ ٹارٹیا بن جاتا ہے ،اسکی تکنیک دیکھنا چاہئے کہ یہ کیسے بنتے ہیں ؟۔ اسلئے کہ ہمارے ہاں پاکستان میں مکئی کی کافی پیداوار ہوتی ہے ،خاص طور پر پوختونخوا میں لیکن  مکئی کی اتنی پتلی روٹیاں نہیں بنتیں ہیں ۔۔۔
کنکون ساحل سمندر کی سیر کرتے مختلف مقامات سے گزرے ۔۔ اکثر جگہ فٹ پاتھ ٹوٹا پھو ٹا ملا ۔۔ 
شام کو ہال کی طرح بنے ہو ئے چھپر  کے ریسٹورانٹ میں کھانا کھانے گئے تو تیز بارش شروع ہوئی ۔۔ نیچے سفید ریت کا فرش تھا ہمارے اوپر چھپر ٹپکنے لگا تو جگہ بدلنی پڑی ۔۔
اگلی صبح سویر ے ساڑھے چھ بجے ہم سیاحوں کی بس میں مایا تہذیب کے کھنڈرات دیکھنے چیچن ایٹزا۔ Chichen Itza  کیلئے روانہ ہوئے ۔ گائیڈ کافی دلچسپ سی خاتون تھی ، باریک سی آواز میں وہ ایک ہی رو میں سپینش Spanish اور انگریزی میں بتاتی رہی ۔۔ رستے میں بس مختلف ریزورٹ resort پر رکتے ہوئے سیاحوں کو اٹھاتی رہی ۔ سڑکیں اور شاہراہیں اچھی حالت میں تھیں ۔۔ 
ہمیں بھوک لگ رہی تھی گائیڈ  سے پو چھا کہ ناشتہ کہاں کرینگے تو اسنے بتایا کہ دوگھنٹے کے بعد ایک مارکیٹ میں رکینگے ۔۔
ساتھ بیٹھے ہوئے لڑکے نے ہماری طرف دوسیب بڑھائے اور بتایا کہ انکے پاس کھانے کو کافی کچھ ہے ، جو ہم نے شکریے کے ساتھ قبول کر لئے ۔۔ 
بس جب مارکیٹ کے پاس رکی تو مایا تہذیب کو نمایاں کرتے ہوئے انکے طریقہ پر ملبوس لوگ نظر آئے انہوں نے خوفناک جانوروں کے شکل کے ماسک پہنے ہوئے تھے ۔ غنیمت ہے کہ خواتین نے یہ روپ نہیں دھارا تھا ۔ کیونکہ چند مجسموں میں خواتین نیم عریاں تھیں ۔۔
اندر نوادرات کی ایک بڑی دوکان  یا عجائب گھرتھا، جسمیں کافی قیمتی سیاہ گرینائیٹ پتھر سے بناہوا آرائشی اور سجاؤٹی سامان برائے فروخت تھا ۔ 
یہیں پر کافی اور بسکٹ ،بن وغیرہ برائے فروخت تھے ۔۔ جسکا ہم نے ناشتہ کیا ۔۔تقریبا ایک گھنٹہ رکنے کے بعد بس اگلی منزل کے لئے روانہ ہوئی ۔۔
اگلا پڑاؤ مایا تہذیب کے کھنڈرات تھے یہ پانچویں صدی عیسوی میں یہاں پر ایک بڑی تہذیب اور آبادی تھی ، یہ علاقہ انکے عبادت گاہ، قربان گاہ اور مندر تھے۔ چیچن chichinکے معنی ہیں کنوئیں کا منہ اور اٹزا itzaپانی تلاش کرنیوالے یا پانی کے ساتھی۔۔ یہ قوم گواٹے مالا اور ہنڈوراس وغیرہ میں بھی تھی ۔ ہوسکتا ہے انکی نسلیں اب بھی باقی ہوں ۔ 
یہ علاقہ میکسیکو کے یو کا ٹان yucatan جزیرہ نما میں ہے ۔۔ یہاں تقریبا دو کلو میٹر کے علاقے میں انکے کھنڈرات پھیلے ہوئے ہیں ۔ ایک عمارت اہرام مصر سے مشابہ تھی لیکن قدرے چھوٹی اور اسی طرح کے دوسرے مندر تھے ۔۔یہ ساری عمارات مرمت شدہ ہیں جبکہ ایک عمارت کو اصلی حالت میں رکھا گیا تھا۔۔یہ لوگ مناظر قدرت کی اپنے طور پر عبادت کرتے تھے ۔سورج، چاند پانی اور آگ وغیرہ ۔۔ ایک خاص بات گائیڈ نے بتائی جو تالی بجانے کی تھی جسکی گونج بہت زیادہ تھی اور دیر تک تھی ۔ اسنے بتایا کہ یہ ان عمارات کا اثر ہے ۔۔
یہاں ہرطرف میکسیکو کی دستکاری کا سامان چھوٹی چھوٹی دوکانوں میں برائے فروخت تھا ۔۔ ہم نے یادگار کے طور پر چھوٹی موٹی خریداری کی ۔۔۔
یہاں سے ہم لنچ دوپہر کے کھانے کیلئے روانہ ہوئے اور وہیں پر Cenote گہرا کنوواں نما تالاب تھا اور یہ اس علاقے میں پورا ایک سلسلہ تھا جسکی وجہ سے Itza کا نام پڑا اور مشہور ہو ئے ۔۔
زیادہ تر ساتھی اور ناصر لائف جیکٹ پہن کی نیچے تالاب میں تیرنے گئے ۔۔ اس پانی میں کیلشیم کی آمیزش تھی اور صحت مند تھا اوپر سے کچھ پانی آرہا تھا ، نیچے اترنے کیلئے مناسب سیڑھیاں تھیں اور یہ چالیس فٹ گہرا تالاب تھا ۔۔ 
میں کنارے سے نظارہ کرتی رہی اور تصاویر بنائیں ۔۔
بوفے لنچ میں میکسیکن روٹیاں اور کھانے تھے ،غنیمت ہے کہ بیشتر کھانے گوشت کے بغیر تھے ،تازہ سلاد اور سبزیاں تھیں ،میٹھے میں کھیر تھی جو Rice pudding کہلاتی ہے ۔۔
واپسی میں ہم ایک قصبے میں رکے ، یہاں پر ایک چھوٹا گرجہ اور اطراف میں دکانیں تھیں ۔۔ میکسیکن چٹ پٹی چیزیں مل رہی تھیں ہم نے چورو Churo خریدا وہ مکئی کے آٹے کے آمیزے کو مشین سے موٹی سویوں کی شکل میں  نکال کرکڑاھی میں تل کر اوپر سے پسی ہوئی چینی ڈالتے ۔ کر کرا اور مزیدار تھا اسکے علاوہ مرچ مصالحہ ملی ہوئی مونگ پھلی بھی لی ۔۔
یہاں سے واپسی کا سفر شروع ہوا اور شام تک واپس اپنے ٹھکانے پہنچ گئے ۔۔ 
رات کے کھانے کیلئے ایک اور چھپر نما ریسٹورانٹ میں گئے جہاں عمدہ قسم کی باسBass مچھلی ثابت ، جھینگوں کا سالن ، Salsa, Guacamole اور مکئی کے چپس کے ساتھ کھایا ، میٹھے میں امرود کی کسٹرڈ  پیسٹری پہلی مرتبہ کھائی ۔ یہاں ایک طرف پانی میں لوگ جھانک رہے تھے تو معلوم ہوا کہ ریسٹورانٹ والوں کا پالتو مگر مچھ ہے جسکا کوئی نام بھی تھا اور یہ کہ کنکون کے تالابوں میں بے شمار مگر مچھ ہیں ۔۔۔۔

اگلی صبح ہم نے ہوٹل میں ہی ناشتہ کیا اور واپسی کے سفر کیلئے ائر پورٹ روانہ ہوئے ۔۔ یوں یہ دلچسپ سفر  اختتام پذیر ہوا ۔۔۔

میں نے پچھلے چند برس سے  الحمد للہ کئی یادگار سفر کئے ہیں    ۔۔حج اور عمرے کے سفر اللہ کی نعمت اور عنایت ہیں۔۔ امریکہ اور کینیڈا کی سیاحت کے ساتھ ۲۰۱۵ میں ملائشیا اور سنگاپور کا سفر کیا ۔  سب سے یادگار سفر   دسمبر ۲۰۱۸ میں فلسطین ، بیت المقدس  اور اردن کا تھا ، مصر کئی برس پہلے چھوٹے بیٹے کے ساتھ گئی تھی۔۔ 
، اسکے بعد ازبکستان ، لبنان، سری لنکا، سپین اور مراکش کے سفر بھی کافی یادگا ر تھے ۔ ۲۰۲۲ میں عاصم بیٹے کے ہمراہ Alberta  کے مشہور پارک اور وینکوور کی تفصیلی سیر کی ۔اکست ۲۰۲۳ میں روس کا سفر بھی لاجواب تھا اور اسی طرح پاکستان کے شمالی علاقہ جات ہنزہ ،چترال اور کالاش کی سیر ۔۔
۲۰۲۳ کے آخر میں الاسکا اور ۲۰۲۴ کے نومبر میں کیریبین کروز یادگار رہے ۔ سب پر ہی  لکھنے کی کوشش کی ہے ورنہ تصویری سفر نامہ تو ہوتا ہی ہے ۔۔۔۔
عابدہ رحمانی ، جنوری ۹ ، ۲۰۲۵

Wednesday, January 15, 2025

Caribbean Cruise, سمندر کی تفریح

 Exploring The Caribbean shores with Norwegian cruise!


سمندر کی تفریحی سیا حت( Cruising on the sea)

از


عابدہ رحمانی


جب سے بحری جہاز رانی سے سفر کا رواج ختم ہوا ہے ، جہاز راں کمپنیوں نے نئی تجاویز نکال لی اور بحری جہازوں کو تفریحی دوروں کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔۔کئی ناموں سے یہ کروز دنیا بھر میں سمندر کے مختلف خطوں کی طرف لے جاتے ہیں اور قریبی ساحلی شہروں میں اتارتے ہیں جہاں پر مزید اخراجات کر کے اس شہر کے تفریحی دلچسپ و دلفریب پروگرام منتظر ہوتے ہیں ۔ 

میں چند سہیلیوں کے ہمراہ پچھلے سال نارویجین کروز ( Norwegian cruise ) پر الاسکا گئی تھی اور آج اسی کمپنی کے ساتھ کریبئن کروز ( CaribbeanCruise ) کر کے واپس پہنچی ہوں ۔ تھکن سے چور ہوں لیکن سوچا کچھ یاد داشتیں قلمبند کردوں ۔۔

یہ جہاز سمندر کے سینے پر چلتے پھرتے ایک بہت بڑے رہائشی کمپلیکس کی صورت میں ہیں ۔۔ پچھلا جہاز بھی سترہ منزلہ تھا لیکن اسکی لمبائی چوڑائی قدرے کم تھی ۔ 

ہمارا یہ جہاز جسکا نام ( Epic) یعنی عظیم الشان تھا واقعی ایپک تھا ۔۔ ان دونوں جہازوں کا اندرونی نقشہ، طریقہ کار اور ڈیزائن ملتے جلتے تھے ۔۔  اسلئے پچھلے سفر کے تجربے کی روشنی میں کافی آسانی ہو گئی تھی کہ کونسی منزل میں کیا ہے پھربھی ہدایت اور رہنمائی کے لئے جا بجا تفصیلی بورڈ لگے ہوئے ہیں ۔۔

یہ سترہ منزلہ جہاز ہر قسم کی سہولت سے آراستہ ہیں اندرونی طور پر معتدل درجہ حرارت ، کمرے یا کیبن ہوٹل کے طرز پر لیکن قدرے چھوٹے ، ان میں گرم ، ٹھنڈے درجہ حرارت کے لئے تھرمو سٹیٹ ، غسلخانے ،بیت الخلا ،الماریاں ، لاکر ، چھوٹا فرج ،فون کی سہولت موجود، صفائی کرنے والے حاضر ہوتے ہیں باہر بورڈ سیٹ کرکے روز کمرہ درست کروائیں یا نہ کروائیں۔۔ ہمارے کیبن کے ساتھ بالکنی تھی جہاں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی اس بے پایاں قدرت کے مظہر سمندرکا نظارہ خوب کیا۔ 

یہاں پر ہر جانب ایلیویٹرز ( Elevators) لگے ہوئے ہیں ، سیڑھیاں بھی بنی ہیں اور کہیں کہیں خودکار سیڑھیاں بھی ہیں ۔۔ایلیویٹرز یا لفٹ پر بسا اوقات ایک اژدھام کی کیفیت ہو جاتی ۔بیچوں بیچ ایک خود کار وہیل چیئر ضرور آجاتی ۔ ایک بڑی تعداد معذوروں اور ضعیفوں کی تھی ۔ دو دس گیارہ سال کے معذور بچوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔۔کافی لوگ خوب لحیم شحیم تھے اور یہاں کے کھانوں سے خوب لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔

کہیں پر آرٹ کے فن پاروں کی نمائش اور فروخت تھی ، تو آگے فوٹو گرافر کھڑے یاد گار تصاویر اور پورٹریٹ بنا رہے تھے جہاں پر اکثر جوڑے اپنی تصویر بنا رہے تھے۔۔وہیں پر زیورات کی دکان میں ریفل ٹکٹ پر قرعہ اندازیاں ہو رہی تھیں اور انعامات نکل رہے تھے ۔۔میری سہیلی اور کمرے کی ساتھی کو اسی طرح قرعہ اندازی میں انعام ملا۔۔اسی طرح اور کئی دکانوں پر مختلف سیل جاری تھے ۔۔

الاسکا ہم بحر الکاہل سے گئے تھے جبکہ اب بحر اوقیانوس میں سفر کر رہے تھے ، کچھ وقت کے لئے بحیرہ کیریبین میں بھی سفر کیا ۔۔۔

ہمارے اس جہاز میں ساڑھے چار ہزار مسافر اور ایک ہزار ملازمین تھے ۔۔ہم سات مسلمان اور پاک و ہند سے تعلق رکھنے والی خواتین تھیں ، ایک صومالی مسلمان جوڑے کو دو چھوٹے بچوں کے ہمراہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی اسکے علاوہ خریداری کے مرکز یا شاپنگ مال میں کئی بھارتی مسلمان لڑکوں کو اچھے عہدوں پر کام کرتے دیکھ کر بہت اچھا لگا ۔۔جنرل منیجر عامر ،میرے بڑے بیٹے کا ہم نام ،اسکا تعلق سلوواکیا سے تھا۔ سارے سٹاف کا تعارف جا بجا لگے سکرینوں پر آتا رہتا تھا۔ ملازمین میں ایک بڑی تعداد فلپائنی ، دوسرے انڈین اور تیسرے انڈونیشیا کے تھے دیگر ممالک کے لوگ بھی نظر آئے لیکن کوئی پاکستانی دکھائی نہیں دیا۔۔ان سب کو ایجنسیاں براہ راست انکے ممالک سے منتخب کرتی ہیں ۔حیرت ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں کا اس طرف دھیان نہیں ہے یا آپس کی افرا تفری میں مصروف ہیں ۔۔

یہ کروز بنیادی طور پر خورد و نوش اور جوئے کے مراکز ہیں ۔۔ سمندر میں جوئے پر کوئی پابندی نہیں ہے اسلئے جہاز کی چھٹی منزل پر بہت بڑا جوا خانہ ہے جہاں پر جوئے کے شوقین مصروف ہوتے ہیں ۔ اورلینڈو ائر پورٹ پر ایک جوڑا ساتھ بیٹھا تھا ۔باتوں باتوں میں خاتون نے بتایا کہ وہ کارنیوال کروز پر جارہے ہیں اور یہ اسکے شوہر نے جوئے میں جیتا ہے ۔۔۔

یہاں پر چینی، جاپانی، اطالوی ( Italian) ، فرانسیسی اور دیگر کھانوں کے ریسٹورنٹس ہیں جو ہمارے پیکج یعنی کرائے کے معاہدے میں شامل ہوتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا بوفے ، انواع و اقسام کے کھانوں کے ساتھ Garden Cafe کے نام سے ہے جو ناشتے ، کھانے کیلئے ہمارا منتظر ہوتا ہے ۔۔یہاں بھانت بھانت کے کھانے ، روٹیاں ،پیزا،سلاد ، سبزی خوروں کے لئے مختلف سبزیاں ، دال ، مچھلی ، کئی قسم کے میٹھے، شربت  اور آئس کریم میسر ہوتے ہیں ۔۔ یہاں پر دنبے کا گوشت حلال ملتاہے یہ گوشت نیوزی لینڈ کی طرف سے ساری دنیا میں حلال مہیا کیا جاتاہے ۔ لیکن اس مرتبہ معلوم ہواکہ مرغی کا گوشت بھی حلال ہے ۔۔ چاروں طرف مستعد بیروں کی ایک فوج پلیٹیں اٹھانے میں مصروف ہوتی ہے صاف ستھرے کپڑے کے سفید دھاری دارنپکن کے اندر کانٹا اور چھری لپٹا ہوا ہر میز پر موجود ہوتے ہیں ۔ بیشتر لوگ کھانے کے ضیاع کو شاید برا نہیں سمجھتے ، پلیٹیں بھر بھرکر لیتے ہیں ، تھوڑا کھاتے ہیں ، زیادہ پھینکتے ہیں ۔۔ اس بچے ہوئے کھانے کو ایک مشین میں باریک پیس کر سمندر میں ڈالدیا جاتاہے ۔

شراب پانی کی طرح مل رہی ہے ۔۔ہر طرف عوام نے مختلف الکحل والے مشروبات کے جام پکڑے ہوتے تھے اور انکو بیرے بھی بنا کر دیتے تھے ۔۔ یہ بکتی ہے لیکن غالبا خشکی کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے ۔۔کچھ شوقین اس کا پیکج پہلے سے خرید لیتے ہیں  ۔۔۔۔


الاسکن کروز ( Alaskan cruise) میں موسم ٹھنڈا تھا اسلئے مغربی عوام جامے میں تھے اور صرف جام ونوش اور جوئے میں مصروف تھے ۔۔۔۔ لیکن اس مرتبہ کریبئین میں گرم موسم کی وجہ سے خلقت جامے سے تقریبا باہر تھی ۔ مردوں کے جسموں پر ٹیٹو کی عجیب و غریب خوفناک چھاپیں تھیں ، جبکہ خواتین نیم تو نہیں  تہائی عریاں تھیں اور اوپر کے عرشے پر پول اور جکوزی سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ لمبی کرسیوں پر دراز غسل آفتابی لے رہے تھے۔۔ ہاں یہ بات قابل تعریف ہے کہ جو کوئی جو کچھ کر رہا ہے کسی کو اس سے کوئی مطلب نہیں ، نہ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ آوازہ کسنا۔۔ شاید یہی ترقی یافتہ ہونے کی نشانی ہو ۔۔

ہمارے جہاز کو ساحل پر چار مقامات پر رکنا تھا لیکن تین پر رکا ۔۔پورٹو پلاٹا ، ڈومینیکن ،سینٹ تھامس یو ایس ورجن آئی لینڈ ، ٹار ٹولا بر ٹش ورجن آئی لینڈ اور بہاماس ۔۔لیکن وہ موسم کی خرابی کی وجہ سے بہاماس میں نہیں رکا اور واپس اور لینڈو آگیا۔۔پورٹوپلاٹا پر ایک بس پر ہم شہر کا چکر لگایا بعد میں وہ ہمیں دوکانوں میں لے گئے ، جہاں آئس کریم کھائی اور کچھ خریداری کی ، معلوم ہوا کہ کولمبس پہلے یہیں آیا تھا۔۔۔ سخت گرمی اور حبس تھا لیکن بس ائر کنڈیشنڈ تھی ۔۔سینٹ تھامس میں ہم نے کیبل کار کی سیر کی اور شہر کا نظارہ کیا ، جبکہ ٹار ٹولا میں ایک لانچ اور بس سے سیر کی ۔ میں اس کشتی میں سامنے کے جانب تھی کہ اچانک موسم خراب ہوا، تیز بارش اور اونچی لہر سے میرے کپڑے بالکل بھیگ گئے اور مشکل سے پیچھے کی طرف آئے ۔۔ پھر ہم نے ایک کھلی بس میں اس شہر یا قصبے کادورہ کیا۔ بے انتہا سبزہ ، جا بجا ناریل اور آم کے درخت دکھائی دیے  اور ہر طرف مرغیاں پھرتی ہوئی نظر آئیں ۔۔ یہاں کے گھر اور عمارات کی طرز تعمیرپاکستان جیسی لگی ۔۔

الحمد للہ یہ  آٹھ روزہ سفر  خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔۔۔۔

Tuesday, December 31, 2024

کرسمس

 لفظ “ کرسمس “ پر کُشتی🤼‍♂️ جاری ہے 👇🏼

✒️ محمد اقبال،،،، یُو۔کے اسلامک مشن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحقیق کرنے والے اس وقت تھوڑی زیادتی کر جاتے ہیں جب تحقیق کرنے میں ان کا اپنا ذوق، رجحان اور پسند نا پسند ان کی تحقیق میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ تحقیق کو مولڈ / فولڈ کر دیتے ہیں ، یہی حال آج کل “ ہیپی کرسمس “ کے لفظ کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ 

جیسے کہا جاتا ہے کہ لفظ “ کرائسٹ “ کا معنی تو ہے “  چنا ہوا مسیحا “ لیکن اس کا مطلب و مقصد یہی ہے کہ خدا کا بیٹا۔ 

او بھائی جب معنی “ چنا ہوا مسیحا “ ہے تو اس میں اپنا مقصد و مطلب زبردستی کیوں گھسیڑتے ہو ؟ خدا کا بیٹا ہونا یہ عیسائیوں کا عقیدہ ضرور ہے لیکن کرائسٹ کے لفظ میں یہ شامل نہیں ہے ۔ 

دنیا کی کسی ڈکشنری میں کرسمس کا معنی خدا نے بیٹا جنا ، نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے “ عیسی کی پیدائش کی خوشی منانا” 

ورنہ تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک نام “ مصطفی “ ہے اس کا معنی بھی یہی ہے کہ “ چنا ہوا” تو کیا اس لفظ سے زبردستی خدا کا بیٹا ہونا نکالو گے ؟ نعوذ باللہ۔ 

1: عیسائی بھی اللہ کو مانتے ہیں اور ہم بھی اللہ کو مانتے ہیں ، وہ اللہ کو ایک نہیں مانتے لیکن ہم ایک ہی مانتے ہیں ، تو بھائی جس اللہ کو وہ ایک نہیں مانتے تم اس کو کیوں مانتے ہو ؟ ہم یہی کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ اپنا ہے اور ہمارا اپنا ، وہ کچھ اور مانتے ہیں لیکن ہم کچھ اور ، ان کا اپنا عقیدہ ہے ہمارا اپنا۔ 

2: ہم بھی انجیل کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں حالانکہ عیسائیوں نے اسے تبدیل کر دیا ہے تو بھائی آپ اس انجیل کو کیوں مانتے ہو ؟ جواب یہی ہوتا ہے جس انجیل کو وہ مانتے ہیں اور جیسے وہ مانتے ہیں ہم ایسے نہیں مانتے ، ہمارا ماننا اپنے طریقے سے اور ان کا ماننا اپنے طریقے سے ۔ جی چلیں ٹھیک ہو گیا۔ ان کا اپنا عقیدہ ہمارا اپنا۔

وہ حضرت عیسی کو خدا یا خدا کا بیٹا مانتے ہیں تو پھر آپ حضرت عیسی کو کیوں مانتے ہیں ؟ نہیں بھائی وہ اپنے حساب سے مانتے ہیں اور ہم اپنے حساب سے ، ان کا اپنا عقیدہ ہے اور ہمارا اپنا ۔  

3: قران نے بتایا کہ “ بعل” ان کا خدا ( بت ) تھا جس کو وہ خدا کے مقابلے میں پوجتے تھے ( الیاس علیہ السلام کی قوم نے اس بت کی عبادت شروع کی اور عرب کے لوگوں میں یہ نام چلتا رہا ) 

یہی لفظ اور نام حضرت ابراہیم کی اہلیہ نے حضرت ابراہیم کے لئے استعمال کیا “   وَ هذا بَعْلی شَیْخاً” اور یہ میرا بعل تو بوڑھا ہو چکا ہے ( سورہ ہود ) تو کیا حضرت ابراہیم کی اہلیہ نے شرک کیا ؟ او نہیں بھائی مشرکین اس لفظ کو اپنے معنوں میں اپنے خدا کے لئے بولتے تھے لیکن اماں جی نے یہ لفظ اپنے معنی کے لحاظ سے استعمال کیا، وہی لفظ استعمال کر لینے سے شرک تھوڑی ہو جاتا ہے اپنا اپنا مفہوم، اپنا اپنا عقیدہ۔ جی ٹھیک ہے ہم نے مان لیا لیکن یہی بات “ ہیپی کرسمس “ کہنے میں کیوں نہیں مانتے ہو ؟ اس میں زبردستی دوسرا مفہوم کیوں داخل کر دیتے ہو ؟ جب Christ کا معنی عیسی ہے یا چنا ہوا ہے اور mass کا معنی سیلیبریشن ہے تو لفظ کرسمس میں زبردستی خدا کا بیٹا ہونا کیوں داخل کر دیتے ہو ؟ اگر عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسی اللہ کا بیٹا ہے اور اسی معنی میں وہ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو کرتے رہیں لیکن ہم تو اسے اپنے معنی “ اللہ کا بندہ / رسول کی برتھ کی سیلیبریشن “ کے لحاظ استعمال کرتے ہیں تو اس میں مسئلہ کیوں ہے ؟ 

یہ بات ذہن میں رہے کہ جہاں کسی پارٹی میں شراب، ڈانس یا بے حیائی وغیرہ ہو رہی ہو تو ہمیں ایسی کسی پارٹی کا حصہ بننے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ آپ ضرور ہی کسی کو ہیپی کرسمس کہیں ، بات صرف یہ ہے کہ اگر کسی کو کہنا پڑ جائے تو اس میں زبردستی شرک داخل نہیں ہو جاتا اور ایسا کہنے سے کوئی عقیدہ خراب نہیں ہوتا۔ 

# دعوت کے راستے بند نہ کریں ، اس سوسائٹی میں آگے بڑھنے کے لئے اور دلوں کو جیتنے کے لئے جتنے بھی جائز اور مثبت ذرائع ہو سکتے ہیں انہیں استعمال کریں اور خواہ مخواہ شکوک و شبہات کا شکار نہ ہوں۔ 

# جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تھے تو وہاں آپ مشرکین کے ساتھ رہتے تھے کیا آپ ان کی غمی و خوشی میں شریک ہوتے تھے یا نہیں ؟ ظاہر ہے بالکل ہوتے تھے۔ 

جب آپ مدینہ میں آ گئے تو یہاں یہودیوں کے ساتھ رہتے تھے کیا آپ ان کے سوشل معاملات میں شامل ہوتے تھے یا نہیں ؟ بالکل ہوتے تھے، دعوتیں کھاتے تھے ان کی غمی خوشی میں شامل ہوتے تھے، یہی آپ کا سلوک عیسائیوں کے ساتھ تھا ، اپنی مسجد میں ان عیسائیوں کو جو عیسی کو اللہ کا بیٹا مانتے تھے اپنے طریقے/مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی یا نہیں ؟ بالکل دی ، تو جس کی اجازت آپ نے دی وہ بڑا کام ہے یا ہیپی کرسمس کہنا بڑا ہے ؟ 

ایک عیسائی عورت جو عیسی کو اللہ کا بیٹا مانتی ہے اس کے ساتھ قران نے نکاح کی اجازت دی اس کو گھر لے آئیں اپنے بچوں کی ماں بنا لیں سب ٹھیک ہے لیکن ہیپی کرسمس کہنا جائز نہیں۔ عجیب منطق ہے۔ 

شریعت کو صاحبِ شریعت سے سمجھیں۔ 

محمد اقبال یوکے

کرسمس کی حقیقت

 یہ ایک حقیقت ہے کہ کرسمَس سردیوں کا تہوار ہے - کرسمَس ٹری ، سانٹاکلاز وغیرہ کا عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے کوئی تعلق نہیں ہے -

میں بیت اللحم گئی ہوں اور الاقصی میں مریم علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام کے حجرے بھی دیکھے ۔پھر وہ گرجا بھی، جہاں عیسائی عقیدے کے مطابق عیسی علیہ السلام مصلوب ہوئے۔۔

بہر کیف حقیقت جو بھی ہے ہم جو مغربی ممالک میں رہتے ہیں تو یہ انکا بڑا اور اہم تہوار ہے 

مجھے یاد ہے کہ پاکستان میں اسکو بڑادن کہا جاتاتھا -

میں اپنے جاننےوالوں کو عموما happy holidays کہتی ہوں لیکن Merry Christmas کہنے سے بھی الحمدللہ میرے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ شکریہ

Wednesday, December 25, 2024

Coming back from Chitral

 Coming back from Chitral:

At some points the road situation is pretty bad. Road to Kalash is rugged, narrow and unpaved. 

We were lucky to go there, the next day roads were closed because of the landslide.

It took us 10 hours in jeep and Coaster with a few stops from Chitral to Swat Serena hotel!

انجر پنجر ہل گیا

Anyway overall it was an incredible and enjoyable trip with great company , history narratives in deep by Mr. Ziaul Haq and great arrangements by friendly, smart and supportive Yusuf of Syah group!

Thursday, November 28, 2024

سوشل میڈیا کے نامعلوم تخلیق کار

 سوشل میڈیا کے نامعلوم تخلیق کار


از عابدہ رحمانی

 

ان تخلیق کاروں کے لئےمیرا دوسرا لقب ہے سوشل میڈیا کے نامعلوم سپاہی۔

یہ وہ بے نام تخلیق کار ہیں جو کہ پس پردہ رہ کر اپنی نت نئی تخلیقات سے ہمیں نوازتے رہتے ہیں ۔

ہم جیسے ہی سوشل میڈیا میں داخل ہوتے ہیں ۔ ایک سے ایک دیدہ زیب کارڈ، بر جستہ جملے ، انتہائی دلچسپ طنز ومزاح ، روح میں اترنے والے دلنشین اقوال ، پند و نصائح دور ماضی کی وہ تصاویر اور ویڈیو جنکے متعلق محض ہم نے محض کتا بو ں میں پڑھا تھا ، جدید و قدیم نغمات ، شاعری بزبان شعراء اور وہ مشہور شعرا جو اب ہم میں نہیں ہیں ،انکی نایاب کلپس اور ویڈیوز ہمارے اکثر بے رنگ لمحوں میں رنگ بھر دیتی ہیں ۔

دور حاظر کی ایک دلچسپ مصروفیت یا زیان وقت یہ سوشل میڈیا ہے ۔ اسمیں اب واٹس ایپ سب پر بازی لے گیا ہے ۔ اسکے بعد فیس بک اور ٹوئٹر ہے اور اسکے بعد دیگر کئی ہیں ۔

جو ذرائع معلومات اور حقیقی خبریں فراہم کرتے ہیں انکے بھی دلچسپ چبھتے ہوئے فقرے ، کلپ اور ویڈیو میسر ہیں ۔ دلچسپ تحاریر ، کالم ،شاعری کے نمونے ، خوش آمدیدی کلمات ، تہنیتی کلمات ،صبح بخیر ، جمعہ مبارک سالگرہ مبارک ، مختلف مذہبی تہواروں کے مبارکباد ، دعایئں ، قرآنی آیات ، احادیث ، مختلف علماء کی تقاریر انکا نقطہ نظر ، وظائف ،صحت کی بحالی اور دیکھ بھال کے بے شمار نسخے ، ٹوٹکے ، ورزش ، یوگا ،کسرت ،بیماریوں کے علاج ، مفید اور کارآمد پیڑ پودوں کی معلومات ، معلومات اور تفریح کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے ۔ اسی طرح سیاستدانوں کے متعلق انتہائی دلچسپ اور بسا اوقات اہانت آمیز کلپس ، ویڈیوز اور تحاریر منظر عام پر آتی ہیں ۔

لیکن ان تمام دلچسپ اور معلوماتی ٹو ٹوں کے ساتھ ساتھ ایک طویل سلسلہ جعلی اور جھوٹی خبروں ،  ویڈیو ، کلپس ، تحاریر افواہوں اور دشنام طرازیوں کاہے ۔ اور انگریزی کے بقول you name it. 

یہ تمام تخلیقات دنیا بھر سے نشر ہوتی ہیں ۔ لب و لہجے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انڈین ہے ، پاکستانی یا انگریز ۔

ہمار ا کام ان تمام کلپس ، ویڈیوز اور تحاریر سے لطف آٹھانا ہے یا عبرت حاصل کرنے کاہے ۔ اور پھر اسکو آگے فارورڈ کرنا اور پھیلانا ہے ۔ یوں بہت سے کلپس اور تحاریر کئی سالوں سے گردش میں رہتے ہیں ۔ بیشتر اوقات ہم بغیر سوچے سمجھے اسکو ایک کار خیر یا ایک فریضہ سمجھ کر آگے بڑھا دیتے ہیں اور پھر اس پر خفت بھی اٹھانی پڑ جاتی ہے ۔ اب تو غنیمت ہے کہ واٹس ایپ نے صرف پانچ افراد یا گروپ تک بہ یک وقت بڑھانا محدود کر دیا ہے ۔


سوچنے اور غور کرنے کا مقام یہ کہ آخر ان تمام کارڈز، کلپس اور ویڈیوز کو کون بناتا ہے اور کون نشر کرتا ہے آخر وہ اپنا نام کیوں نہیں دیتے اور جملہ حقوق محفوظ کیوں نہیں کرواتے؟

آخر کو ان سب تخلیقات پر انکی تخلیقی صلاحیتیں اور وقت صرف ہوا ہے ۔ انہیں آخر اس سے کیا فائدہ ہے  ؟ میری سمجھ سے تو یہ راز بالا تر ہے۔

اگر آپ میں سے کسی کے پاس اسکا جواب ہے تو مجھے ضرور آگا ہ کریں۔ بے حد ممنون ہونگی ۔


سوچنے کا مقام ہے ا