Friday, January 26, 2018

What is life?





What is life?
Abida Rahmani

Life is a phenomenon that we have no control over it. We came to this world with out our will and will leave this world with out our will. Certain tragedies ,traumas and disasters happen to us without our slightest knowledge and desire, while we get a lot of blessings ,bounties and rewards with out any big accomplishment, contribution,extra efforts & feeling.
Conclusion that we are just a humble creature of Allah (SWT) though we are considered the best among his creations, still we don't have any control over certain and many matters. We pray for his pleasure, forgiveness, mercy and blessings all the time. Try our best to get successful in this world to get successful in eternal life.
One of the Urdu poet said  

ا
لائی حیات آئے، قضاُء لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
(ابراہیم ذوق)

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

ہو عمرِ خضر بھی تو کہیں گے بوقتِ مرگ
ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے

دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے

نازاں نہ ہو خِرد پہ جو ہونا ہے وہ ہی ہو
دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے

کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بدقمار
جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوق
اپنی بلا سے بادِ صبا اب کبھی چلے
Laaie hayaat aii qaza le chalee chaley, apni khoshi na aii na apni khooshi chale.I think it's Momin Khan Momin. Anyway the message is clear!

Life brought us in this world and death will take us away, We did not come here with our will nor we'll leave with our will.
An online friend after reading this did this correction and send me the whole ghazal.This Ghazal is actually by Ibrahim Zauq.

زندگی کیا ہے ؟

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا پریشاں ہونا

چکبست نے اپنے اس شعر میں فلسفے اور منطق کی جو ادق باتیں نہایت خوبی و خوش اسلوبی سے سموئی ہیں  ان حقائق کا سراغ سائنس دان، کیمیا دان ، ماہرِ فلکیات و ارض اور مابعد الطبیعات کے ماہر ین بہت بعد میں لگا سکے۔دُنیا بھر کے چنیدہ ماہرینِ طبیعات  ، تجربہ گاہ کے اربابِ کار ایک طویل عرصے ایک انتہائی گرانقدر تجربہ گاہ Large Hadron Collider میں ایک جہدِ مسلسل کے بعد یہ اعلان کرنے کے قابل ہوئے ہیں کہ وہ اُس حقیر ترین و خفیف ترین “ذرّے” کو دیکھنے اور دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے جو نہ صرف ہمارے اس کرّۂ ارض بلکہ تمام کائنات  میں زندگی کی موجودگی کی بُنیاد اور سبب ہیں جس کی اصل مادی ہے۔ کائنات کی رنگا رنگی انہی  ننھے مُنّے سے “ذرّات” کی مرہونِ منّت ہے اور انسانی تاریخ کا اہم ترین سنگِ میل بھی۔ 
سائنس کے اس حیرت انگیز انکشاف کے بعد سائنس دان اس امر پر متّفق اور پُر اُمید نظر آتے ہیں کہ کائنات کے آغاز کا عقدہ بھی بہت جلد کھُل جائے گا۔
سائنسدان پردۂ اسرار ِِ قدرت چاک کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ہم ان تجربات کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھتے آ رہے ہیں اور دیکھتے جائیں گے۔

(پنڈت برج نارائن چکبست)

دل ہی بُجھا ہوا ہو تو لطفِ بہار کیا
ساقی ہے کیا، شراب ہے کیا ، سبزہ زار کیا
یہ دِل کی تازگی ہے، وہ دِل کی فسردگی
اس گلشنِ جہاں کی خزاں کیا بہار کیا
کس کے فسونِ حُسن کا دُنیا طلسم ہے
ہیں لوحِ آسماں پہ یہ نقش و نگار کیا
اپنا نفس ہوا ہے گُلو گیر وقتِ نزع
غیروں کا زندگی میں ہو پھر اعتبار کیا
دیکھا سرورِ بادۂ ہستی کا خاتمہ
اب دیکھیں رنگ لائے اجل کا خُمار کیا
اب کے تو شامِ غم کی سیاہی کُچھ اور ہے
منظُور ہے تُجھے مرے پروردگار کیا
دُنیا سے لے چلا ہے جو تُو حسرتوں کا بوجھ
کافی نہیں ہے سر پہ گناہوں کا بار کیا
جس کی قفس میں آنکھ کھُلی ہو مری طرح
اُس کے لئے چمن کی خزاں کیا بہار کیا
کیسا ہوائے حرس میں برباد ہے بشر
سمجھا ہے زندگی کو یہ مُشتِ غبار کیا
خلعت کفن کا ہم تو زمانے سے لے چُکے
اب ہے عروسِ مرگ تجھے انتظار کیا
بعدِ فنا فضول ہے نام و نشاں کی فکر
جب ہم نہیں رہے تو رہے گا مزار کیا
اعمال کا طلسم ہے نیرنگ زندگی
تقدیر کیا ہے گردشِ لیل و نہار کیا
چلتی ہے اس چمن میں ہوا انقلاب کی
شبنم کو آئے دامنِ گُل میں قرار کیا
تفسیر حالِ زار ہے بس اک نگاہِ یاس
ہو داستانِ درد کا اور اختصار کیا
دونوں کو ایک خاک سے نشو و نما ملی
لیکن ہوائے دہر سے گُل کیا ہے خار کیا
چٹکی ہوئی ہے گورِ غریباں پہ چاندنی 
ہے بیکسوں کو فکرِ چراغِ مزار کیا
کُچھ گُل نہاں ہیں پردۂ خاکِ چمن میں بھی
تازہ کرے گی ان کو ہوائے بہار کیا
راحت طلب کو درد کی لذّت نہیں نصیب
تلوں میں آبلے جو نہیں لطفِ خار کیا
خاکِ وطن میں دامنِ مادر کا چین ہے
تنگی کنار کی ہے لحد کا فشار کیا
انسان کے بغضِ جہل سے دُنیا تباہ ہے
طوفاں اُٹھا رہا ہے یہ مشتِ غبار کیا

چکبست کے دو اور اشعار:
اک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی
اس ایک مشتِ خاک کو غم دو جہاں کے ہیں

اگر دردِ محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا
نہ کُچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتا
 
بچپن ، شباب و جوانی  کیفیات ہیں اور بڑھاپا بھی ایک کیفیت کا ہی نام ہے کسی بیماری کا نام نہیں ہے۔
   غالب نے کہا تھا کہ قوی مضمحل ہو گئے اس لئے اب عناصر میں اعتدال نام کی شے باقی نہیں رہی۔

Tuesday, January 2, 2018

نیا سال مبارک


نیا سال مبارک
از 
عابدہ رحمانی

دعا ہے کہ یہ نیا سال آپ اور ہم سب کیلئے امن ، سکون ،صحت تندرستی ، خوشحالی اور خوشیوں کا باعث اور ضامن ہو-- اللہ تبارک وتعالٰی آپ سبکو خوشیاں اور آسانیا ں عطا فرمائےاور خوشیاں اور آسانیاں بانٹنے والا بنائے-- 

کچھ حلقے یقینا معترض ہونگے کہ یہ تو ہما را سال ہرگز  نہیں ہے اور ہمیں فرق ہی نہیں پڑتا یا  ہماری بلا سے کہ یہ سال آئے یا نہ آئے -- جناب فرق تو پڑتا ہے ہم 2017 سے 2018 میں داخل ہوجایئنگے اور اگر ہم اور کسی قابل نہیں ہیں توآپ سبکو  نیک خواہشات کے ساتھ مبارکباد تو دے ہی سکتے ہیں زندگی میں خوشیاں یوں بھی اتنی مختصر ہیں --اور ہمارا شمار تو انمیں ہے جو نۓ جوتوں اور کپڑوں تک کی مبارکباد دیتے ہیں ورنہ پہننے والا ناراض ہو جاتا ہے کہ ہمیں مبارک ہی نہیں کہا-- اور یہ مبارکباد کیاہے در حقیقت دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس نئے سال میں  خیر و برکت ڈالدے اور یہ خیر و برکت کی دعائیں تو ہمارا زندگی کا اثاثہ ہیں--
اگر یہ ہمارا سال نہیں تو پھر ہمارا کونسا سال ہے -- ؟ ہجری" ہاں یقینا  کیوں نہیں -- ذرا یہ فرمایئے آج کونسے ہجری مہینے کی کونسی تاریخ ہے اور کونساسال ہے ؟"ربیع الثانی -البتہ تاریخ یاد نہیں ارہی پندرہ یا سولہ شاید اور وہ بھی  ابھی کچھ عر صہ پہلے ہی عید میلادالنبی منایا تھا اور سال۳۷ 14 نہیں ۱۴۳۸ ہے شایدَ ، اور شمسی کیلنڈر کی کونسی تاریخ ہے  ؟ واہ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے دسمبرکی 31 تاریخ ہے ٓاور کل نیا سال شروع ہونیوالا ہے 
--- لیکن مبارک نہیں کہینگے بھئی ہم نیا سال مناتے ہی نہیں --- منانے سے آپکی کیا مراد ہے چلیئے جانے دیجئے اسطرح سے تو ہم بھی نہیں مناتے -- 
ہم میں سے 90 فیصد مسلمان اسلامی کیلنڈر اور اسکی تاریخوں سے نابلد ہوتے ہیں اور جب ہم ایک ملک اورایک محلے میں رمضان ، عیدین مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں تو پھر ہمیں یہ اعتراضات زیب نہٰیں دیتے -- سوائے سعودی عرب کے کوئی اسلامی ملک نہیں جسکا روزمرہ کا حساب کتاب اسلامی تاریخوں اور کیلنڈر پر چلتا ہو-باقی دنیا میں اسلامی تاریخوں کی یہ گڈمڈ بہت پریشان اور افسردہ کرتی ہے کاش کہ ہم بھی اسلامی یا ہجری کیلنڈر پر متفق ہوں ،جوکہ چند سوچنے والے دماغوں نے بنا لیا ہے اور اسکا قمری حساب کتاب بالکل درست ہے -اسطرح ہم جگ ہنسائی سے بھی بچ جائینگے اور خود بھی مطمئن ہونگے-اسلامی مہینوں کی متفرق تاریخیں ہمیں ایک مخمصے میں ڈالدیتی ہیں --؟ آسان علاج یہ ہے کہ چشم پوشی اختیار کرو اور پھر اس سے بڑی دکھ کی بات کہ ہم تو نئے اسلامی سال پر بھی مبارکباد دیتے ہیں لیکن بہتوں کو یہ بھی بالکل نہیں بھاتآٓ--"یہ بھی کوئی بات ہے ہمارا نیا سال تو غم اور دکھ سے شروع ہوتا ہےاور آپکومبارکباددینے کی سوجھی ہے "-
اور پھر ہمارے برصغیری معاشرے میں ایک اور سال بھی منایا جاتا ہے جسے فصلی یا موسمی سال کہتے ہیں--جیٹھ ، ہاڑ، ساون بھادوں ہر سال کی طرح اسکے بھی پورے بارہ مہینے ہیں( راز کی بات یہ کہ ابھی مجھے اردو میں پورے فصلی مہینوں کے نام یاد نہیں آرہے ) - دیہاتی ، زمیندار، کاشتکار لوگ انہی مہینوں پر چلتے ہیں اور انہی مہینوں کا حساب رکھتے ہیں انکے سارے تہوار، فصل کی کٹائی ،بوائی ، بارشوں کا ہونا یا نہ ہونا انہی مہینوں اور تاریخوں میں ہوتا ہے -- یہ مہینے بھی شمسی کیلنڈر کی طرح ہیں کیونکہ یہ مقررہ موسم کے حساب سے آتے ہیں--
اب جبکہ ہمارا ساراروزمرہ کا  جدول ، حساب کتاب اسی شمسی یا عیسوی کیلنڈر کے حساب سے چلتا ہے تو اس کی آمد پر خوش ہوں یا اداس ہوں وہ تو آئے گا ہی -- بھلا وقت کے دھارے کو کوئی روک سکا ہے۔۔نئے سال کی آمد ہو چکی ہے -یکم جنوری بھی گزر گیا-مغربی دنیا تو لمبی چھٹیاں مناتی ہے عام طور سے ان چھٹیوں کو "میری کرسمس اور ہیپی نیو ائر" کہا جاتا ہے - ہم اور بہت سے انہیں" ہیپی ہالیڈیز happy holidays" کہتے ہیں -مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہمارے پاکستانی اسکول میں" بڑے دن " کی چھٹیاں ہوا کرتی تھیں -- بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بڑادن کرسمس ہوا کرتا ہے - بعد میں یہ قائد اعظم کی یوم ولادت میں بدل گیا - اور بعد میں میرےلیئے ذاتی طور پر اسدن کی اہمیئت اور بڑھ گئی ---
امریکن تھینکس گیونگ ک بعد کرسمس اور نیو ائر کی سجاؤٹ شروع ہو جاتی ہے --جھلملاتے ہوئے ایک سےایک بڑھ کر کرسمس ٹریز  گھروں میں ، بازاروں ، مالوں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر ایک سماں پیدا کر دیتے ہیں اور ہر طرف جھلملاہٹ ، قمقمے سارا ملک ، سارا خطہ ایک جشن کا سماں پیدا کر دیتا ہے --کرسمس تک تو سانٹا کلاز کا راج ہوتا ہے سرخ پھندنے والی ٹوپی بڑی سفید داڑھی، موٹی توند، سرخ و سفید کپڑوں میں ملبوس، مال میں سانٹا کے ساتھ اپنے بچوں کی  تصویر کھنچوانے والوں کی ایک لائن لگی ہوتی ہے-- اب تو کرسمس کی رات کو بہت سارے چینل سانٹا کی قطب شمالی سےرینڈیئرکی رتھ میں   روانگی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کرتے ہیں --تحائف سے  لدے پھندے سانٹا کی آمد کا سب بچے انتظار کرتے ہیں -- سانٹا عام طور سے یہ تحایف کرسمس ٹری کے نیچے رکھ جاتا ہے -- معمول کے مطابق سانٹا چمنی سے اترتا ہے لیکن اگر چمنی نہ ہو تو سانٹا تو سانٹا ہی ہے پھر بھی آجاتا ہے -- بچے تو بچے بڑوں کو بھی یہ تجاہل عارفانہ یا یہ خوبصورت جھوٹ اور کہانی بے حد مر غوب ہے --یہاں کی اسی فیصد عوام اس سے نابلد ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش کا دن ہے --اور یہ دن اور کرسمس بھی قدامت پسند یونانی،مصری کاپٹک  اور آئر لینڈ کے لوگ مختلف تاریخوں میں مناتے ہیں- ایک مرتبہ سی این این پر کرسمس کے بارے میں پروگرام تھا اسمیں اکثریت نے یہی کہا کہ یہ کرسمس ٹری سجانے ، رینڈیئر کے رتھ پر سانٹا کے آنے اور تحفے تحایف کا موقع ہے --اب تو ہمارے یہاں رہنے والے اکثر مسلمان بھی اس سجاؤٹ میں شریک ہوگئے ہیں --
کرسمس گزرا تو نئے سال کا انتظار شروع ہوا -- سجاؤٹیں توپورے طور پر  جاری ہیں امریکہ میں نئے سال کی اپنی دھوم ہے باقی ممالک میں اپنی --نیویارک کے ٹایم اسکوائر میں ایک بڑ امصنوعی سر خ سیب یا بال نئے سال کی آمد کے ساتھ ٹھیک 12 بجے گرایا جاتا ہے ایک خلقت سخت سردی میں اسکا انتظار کرتی ہے اسکے ساتھ بے انتہا غل غپاڑہ ، ناچنا گانا، آتش بازیاں جو کہ ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہوتی ہیں -- پارٹیاں شباب پر ہوتی ہیں جانے دیجئے اسکی تفصیلات میں جانا شریفوں کا کام نہیں۔ 
کراچی اور پاکستان  میں یہ سب غیر سرکاری طور پر منایا جاتا تھا --رات کے ٹھیک 12بجے آٹومیٹک اسلحے کی جو تڑ تڑ فائرنگ شروع ہوتی تھی اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ لوگ کسقدر مسلح ہیں جبکہ ہمارے پاس چاقو چھری سے زیادہ کچھ نہ ہوتا-- یہاں پر بھی نجی پارٹیوں کا زور ہے --سی ویو پر نوجوان دیوانہ وار پہنچ جاتے اور خوب ہنگامہ کرتے --دوسری طرف دینی پارٹیوں کے نوجوان انکو روکنے کی کوشش کرتے --جانے یہ سب اب بھی ہوتا ہوگا--
 باقی دنیا بھی اپنے طور پر نئے سال کی آمد کے جشن کو مناتی ہے۔اس سال غیر معمولی سخت سرد موسم کی وجہ سے ٹورنٹو اور اسکے گرد ونواح میں نئے سال کی تقریبات متاثر ہوئیں۔ ٹورنٹو ٹرانزٹ کارپوریشن کی جانب سے شام سات سے اگلی صبح سات تک تمام ٹرینوں اور بسوں پر سفر مفت ہوتا ہے۔

نیئے سال  کی ریزیلوشن یعنی  قرارداد کا بڑا چرچا ہوتا ہے -- اب آپ اپنے ریزولوشن کا سوچیئے 
ہمارا تو یہ ہے کہ سب کا بھلا ہو تو ہمارا بھی بھلا ---
چلیئے عربی میں بھی دعا دیتے ہیں "کل عام و انتم بخیر" ---- آپکا نیا سال خوش آئیند ہو--
Sent from my iPad

Monday, October 16, 2017

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

اور پھر ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا‘
یہ جہاز17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا‘
شاہی خاندان کے 35 مرد اور خواتین بھی تاج دار ہند کے ساتھ تھیں‘
کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا‘
وہ بندر گاہ پہنچا‘
اس نے بادشاہ اور اس کے حواریوں کو وصول کیا‘
رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو ساتھ لے کر اپنی رہائش گاہ پر آ گیا‘
نیلسن پریشان تھا‘
بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا اور نیلسن کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے مگر رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا‘
وہ رنگون میں پہلا جلا وطن بادشاہ تھا‘
نیلسن ڈیوس نے چند لمحے سوچا اور مسئلے کا دلچسپ حل نکال لیا‘
نیلسن نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور تاجدار ہند‘ ظِلّ سُبحانی اور تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا‘
بہادر شاہ ظفر17 اکتوبر 1858ء کو اس گیراج میں پہنچا اور 7 نومبر 1862ء تک چار سال وہاں رہا‘
بہادر شاہ ظفر نے اپنی مشہور زمانہ غزل
"لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں‘
"کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں"
اور
"کتنا بدنصیب ہے ظفردفن کے لیے‘
"دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں،
اسی گیراج میں لکھی تھی‘
یہ 7 نومبر کا خُنَک دن تھا اور سن تھا 1862ء۔

بدنصیب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی‘ اندر سے اردلی نے بَرمی زُبان میں اس بدتمیزی کی وجہ پوچھی‘
خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی بَرمی میں جواب دیا‘
ظِلّ سُبحانی کا سانس اُکھڑ رہا ہے‘
اردلی نے جواب دیا‘
صاحب کتے کو کنگھی کر رہے ہیں‘ میں انھیں ڈسٹرب نہیں کر سکتا‘
خادمہ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا‘
اردلی اسے چپ کرانے لگا مگر آواز نیلسن تک پہنچ گئی‘
وہ غصے میں باہر نکلا‘
خادمہ نے نیلسن کو دیکھا تو وہ اس کے پاؤں میں گر گئی‘ وہ مرتے ہوئے بادشاہ کے لیے گیراج کی کھڑکی کُھلوانا چاہتی تھی‘
بادشاہ موت سے پہلے آزاد اور کھُلی ہوا کا ایک گھونٹ بھرنا چاہتا تھا‘
نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا‘ گارڈز کو ساتھ لیا‘
گیراج میں داخل ہو گیا۔

بادشاہ کی آخری آرام گاہ کے اندر بَدبُو‘ موت کا سکوت اور اندھیرا تھا‘
اردلی لیمپ لے کر بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا‘
نیلسن آگے بڑھا‘
بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر‘
اُس کا ننگا سر تکیے پر تھا لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی‘ آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سے باہر اُبل رہے تھے‘ گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھّیاں بِھنبھِنا رہی تھیں‘ نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھے لیکن اس نے کسی چہرے پر اتنی بے چارگی‘ اتنی غریب الوطنی نہیں دیکھی تھی‘
وہ کسی بادشاہ کا چہرہ نہیں تھا‘
وہ دنیا کے سب سے بڑے بھکاری کا چہرہ تھا اور اس چہرے پر ایک آزاد سانس,
جی ہاں.......
صرف ایک آزاد سانس کی اپیل تحریر تھی اور یہ اپیل پرانے کنوئیں کی دیوار سے لپٹی کائی کی طرح ہر دیکھنے والی آنکھ کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی‘
کیپٹن نیلسن نے بادشاہ کی گردن پر ہاتھ رکھا‘
زندگی کے قافلے کو رگوں کے جنگل سے گزرے مدت ہو چکی تھی‘
ہندوستان کا آخری بادشاہ زندگی کی حد عبور کر چکا تھا‘
نیلسن نے لواحقین کو بلانے کا حکم دیا‘
لواحقین تھے ہی کتنے ایک شہزادہ جوان بخت اور دوسرا اس کا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی‘ وہ دونوں آئے۔

انھوں نے بادشاہ کو غسل دیا‘ کفن پہنایا اور جیسے تیسے بادشاہ کی نمازِ جنازہ پڑھی‘ قبر کا مرحلہ آیا تو پورے رنگون شہر میں آخری تاجدار ہند کے لیے دوگز زمین دستیاب نہیں تھی‘
نیلسن نے سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں قبر کھدوائی اور بادشاہ کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا‘
قبر پر پانی کا چھڑکاؤ ہورہا تھا ‘
گلاب کی پتیاں بکھیری جا رہی تھیں تو استاد حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن میں 30 ستمبر 1837ء کے وہ مناظر دوڑنے بھاگنے لگے
جب دہلی کے لال قلعے میں 62 برس کے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہنایاگیا‘
ہندوستان کے نئے بادشاہ کو سلامی دینے کے لیے پورے ملک سے لاکھ لوگ دلی آئے تھے اور بادشاہ جب لباس فاخرہ پہن کر‘ تاج شاہی سَر پر سَجَا کر اور نادر شاہی اور جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آیا تو پورا دلی تحسین تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا‘
نقارچی نقارے بجانے لگے‘ گویے ہواؤں میں تانیں اڑانے لگے‘
فوجی سالار تلواریں بجانے لگے
اور
رقاصائیں رقص کرنے لگیں‘ استاد حافظ محمد ابرہیم دہلوی کو یاد تھا بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کا جشن سات دن جاری رہا اور ان سات دنوں میں دِلّی کے لوگوں کو شاہی محل سے کھانا کھلایا گیا مگر سات نومبر 1862ء کی اس ٹھنڈی اور بے مہر صُبح بادشاہ کی قبر کو ایک خوش الحان قاری تک نصیب نہیں تھا۔

استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
اس نے جوتے اتارے‘
بادشاہ کی قبر کی پائینتی میں کھڑا ہوا
اور
سورۃ توبہ کی تلاوت شروع کر دی‘
حافظ ابراہیم دہلوی کے گلے سے سوز کے دریا بہنے لگے‘
یہ قرآن مجید کی تلاوت کا اعجاز تھا یا پھر استاد ابراہیم دہلوی کے گلے کا سوز,
کیپٹن نیلسن ڈیوس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس غریبُ الوطن قبر کو سیلوٹ پیش کر دیا اور اس آخری سیلوٹ کے ساتھ ہی مغل سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا‘

آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شِپ کی کچّی گلیوں کی بَدبُودار جُھگّیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے‘
یہ آخری مُغل شاہ کی اصل اولاد ہیں مگر یہ اولاد آج سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے‘
یہ کچی زمین پر سوتی ہے‘ ننگے پاؤں پھرتی ہے‘ مانگ کر کھاتی ہے اور ٹین کے کنستروں میں سرکاری نل سے پانی بھرتی ہے,
مگر یہ لوگ اس کَسمَپُرسی کے باوجود خود کو شہزادے اور شہزادیاں کہتے ہیں‘
یہ لوگوں کو عہد رفتہ کی داستانیں سناتے ہیں اور لوگ قہقہے لگا کر رنگون کی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

یہ لوگ‘
یہ شہزادے اور شہزادیاں کون ہیں؟
یہ ہندوستان کے آخری بادشاہ کی سیاسی غلطیاں ہیں‘ بادشاہ نے اپنے گرد نااہل‘ خوشامدی اور کرپٹ لوگوں کا لشکر جمع کر لیا تھا‘
یہ لوگ بادشاہ کی آنکھیں بھی تھے‘
اس کے کان بھی اور اس کا ضمیر بھی‘
بادشاہ کے دو بیٹوں نے سلطنت آپس میں تقسیم کر لی تھی‘
ایک شہزادہ داخلی امور کا مالک تھا
اور دوسرا خارجی امور کا مختار‘
دونوں کے درمیان لڑائی بھی چلتی رہتی تھی اور بادشاہ ان دونوں کی ہر غلطی‘ ہر کوتاہی معاف کر دیتا تھا‘
عوام کی حالت انتہائی ناگُفتہ بہ تھی‘
مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی‘
خوراک منڈیوں سے کٹائی کے موسموں میں غائب ہو جاتی تھی‘
سوداگر منہ مانگی قیمت پر لوگوں کو گندم‘ گڑ اور ترکاری بیچتے تھے‘
ٹیکسوں میں روز اضافہ ہوتا تھا‘
شہزادوں نے دلی شہر میں کبوتروں کے دانے تک پر ٹیکس لگا دیا تھا‘
طوائفوں کی کمائی تک کا ایک حصہ شہزادوں کی جیب میں چلا جاتا تھا۔

شاہی خاندان کے لوگ قتل بھی کر دیتے تھے تو کوئی ان سے پوچھ نہیں سکتا تھا‘ ریاست شاہی دربار کے ہاتھ سے نکل چکی تھی‘ نواب‘ صوبیدار‘ امیر اور سلطان آزاد ہو چکے تھے اور یہ مغل سلطنت کو ماننے تک سے انکاری تھے‘ فوج تلوار کی نوک پر بادشاہ سے جو چاہتی تھی منوا لیتی تھی‘
عوام بادشاہ اور اس کے خاندان سے بیزار ہو چکے تھے‘ یہ گلیوں اور بازاروں میں بادشاہ کو ننگی گالیاں دیتے تھے اور کوتوال چپ چاپ ان کے قریب سے گزر جاتے تھے جب کہ انگریز مضبوط ہوتے جا رہے تھے‘
یہ روز معاہدہ توڑتے تھے اور شاہی خاندان وسیع تر قومی مفاد میں انگریزوں کے ساتھ نیا معاہدہ کر لیتا تھا۔

انگریز بادشاہ کے وفاداروں کو قتل کر دیتے تھے اور شاہی خاندان جب احتجاج کرتا تھا تو انگریز بادشاہ کو یہ بتا کر حیران کر دیتا تھا ’’ظل الٰہی وہ شخص آپ کا وفادار نہیں تھا‘ وہ ننگ انسانیت آپ کے خلاف سازش کر رہا تھا‘‘ اور بادشاہ اس پر یقین کر لیتا تھا‘ بادشاہ نے طویل عرصے تک اپنی فوج بھی ٹیسٹ نہیں کی تھی چنانچہ جب لڑنے کا وقت آیا تو فوجیوں سے تلواریں تک نہ اٹھائی گئیں‘
ان حالات میں جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی اور بادشاہ گرتا پڑتا شاہی ہاتھی پر چڑھا تو عوام نے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا‘
لوگ کہتے تھے ہمارے لیے بہادر شاہ ظفر یا الیگزینڈرا وکٹوریا دونوں برابر ہیں‘
مجاہدین جذبے سے لبریز تھے لیکن ان کے پاس قیادت نہیں تھی۔

بادشاہ ڈبل مائینڈڈ تھا‘ یہ انگریز سے لڑنا بھی چاہتا تھا اور اپنی مدت شاہی بھی پوری کرنا چاہتا تھا چنانچہ اس جنگ کا وہی نتیجہ نکلا جو ڈبل مائینڈ ہو کر لڑی جانے والی جنگوں کا نکلتا ہے‘ شاہی خاندان کو دلی میں ذبح کر دیا گیا جب کہ بادشاہ جلاوطن ہو گیا‘
بادشاہ کیپٹن نیلسن ڈیوس کے گیراج میں قید رہا‘ گھر کے احاطہ میں دفن ہوا اور اس کی اولاد آج تک اپنی عظمت رفتہ کا ٹوکرا سر پر اٹھا کر رنگون کی گلیوں میں پھر رہی ہے‘
یہ لوگ شہر میں نکلتے ہیں تو ان کے چہروں پر صاف لکھا ہوتا ہے‘
جو بادشاہ اپنی سلطنت‘ اپنے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرتے‘ جو عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں‘ ان کی اولادیں اسی طرح گلیوں میں خوار ہوتی ہیں‘
یہ عبرت کا کشکول بن کر اسی طرح تاریخ کے چوک میں بھیک مانگتی ہیں
لیکن ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی‘
یہ خود کو بہادر شاہ ظفر سے بڑا بادشاہ سمجھتے ہیں۔
~   وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا ---
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔۔

Tuesday, September 19, 2017

Sugar

🌈  *S U G A R  I S* 
         *P O I S O N*

🌈1. First factory to manufacture sugar was established by the British in 1866.

🌈2. Indians used to eat jaggery before this and seldom used to fall sick.

🌈3. To make sugar, sulphur is used, which is used in making fire crackers.
Sulphur is an element that, once it enters the body, it cannot be excreted from our body.

🌈4. Sugar increases cholesterol which is the main reason for heart attack.Sugar increases the weight of the body and thus we become fat.

🌈5. Sugar increases Blood Pressure. It is also the reason for Brain damaging clots.

🌈6. The sweetness in sugar is that of Sucrose, and this cannot be digested by human beings.

🌈7. To make sugar,
23 harmful ingredients / chemicals are used.

✔ Sugar is one of main reasons for getting diabetes.

✔ Sugar is the reason for burning in stomach.

✔ Sugar increases the level of Triglycerides in body.

✔ Sugar is the main reason for causing Paralysis.

✔ Instead of sugar use jaggery.

Monday, September 4, 2017

Let's sacrifice

🔶🔸🔷🔹"LETS SACRIFICE" 🔶🔸🔷🔹

Let's sacrifice🔪 on this
eid ul adha not just animals. 🐑🐏

:Let's sacrifice our ego, which stops us from doing so many good things. Which stops us from forgiving so many people,which stops us from looking at our own self.

:Let's sacrifice our pride which makes us look down on others .

:Let's sacrifice our greed for material things or called
TALAB E DUNYA ,which makes us collect more n more of everything. Which puts us on a path of never ending greed for more of everything of this immoral world.

:Let's sacrifice our anger 😡which makes us break beautiful relationships✨

:Let's sacrifice  Our grudges😡 that we hold in our hearts💜 against others.

:let's Sacrifice all our pessimism all our negativity.

:Let's sacrifice the ANTS (automatic negative thoughts)running in our heads full time non stop,

:Let's sacrifice our material gains to earn the spiritual gains.

:Let's Sacrifice our nafs

And
:Lets share and distribute among others

:Our love for loved ones💖 n strangers,

:Our care for those ESP who we might never meet again in life😪

:Our affection for everyone💕💕

:Our time share it with everyone ESP the elders,

;Our treasures ,our blessings which multiply when shared.

:Let's add more sacrifices 🐑🐏on this eid ul azha...

:Let's sharpen the knife 🔪of our faith ,and sacrifice all the bad we have inside of us.

:Let's bow our heads with sincere Repentance and remorse...
Only to share and distribute
All the goodness we have inside of us.🌷

:Let's follow the true
sunnat e ibrahimi..🌿

:Let's sacrifice our most loved possessions
Which is the real spirit behind qurbani ,
And SURRENDER to ALLAH SWT 🌟

Monday, August 21, 2017

بہو کی تلاش

*****مجھے تلاش ھے ایک بہو کی******

بیٹے کے واسطے مجھے دُولہن کی ہے تلاش
پھرتا ہوں چار سُو لئے اچھی بہو کی آس

لیکن کھلا کہ کام یہ آساں نہیں ہے اب
خود لڑکیوں کی ماوں کے بدلے ہوئے ہیں ڈھب

پڑھ لکھ کے لڑکیاں بھی ہیں کاموں پہ جا رہیں
لڑکوں سے بڑھ کے بعض ہیں پیسے کما رہی

اک ماں سے رابطہ کیا رشتے کے واسطے
کہنے لگی گھر آنے کی زحمت نہ کیجئے

لڑکی ہے بینک میں وہیں لڑکے کو بھیجئے
"سی۔وی "بھی اپنا ساتھ وہ لے جائے یاد سے

مل لیں گے ہم بھی بیٹی نے" او کے "اگر کیا
ورنہ زیاں ہے وقت کا ۔۔ملنے سے فائدہ؟

اک اور گھر گئے تو نیاتجربہ ہوا
لڑکی کی ماں نے چُھوٹتے ہی بر ملا کہا

شوقین ہے جو لڑکا اگر دال ،ساگ کا
لڑکی کی پھر نگاہ میں "پینڈو "ہے وہ نِرا

برگر جسے پسند ہے، پیزا پسند ہے
رُتبہ نگاہِ حُسن میں اُس کابلند ہے

اک اور گھر گئے تو طبیعت دہل گئی
پاوں تلے سے گویا زمیں ہی  نکل گئی

گر شوق ہے کُکنگ کا تو بے شک سلیکٹ ہے
بیڈٹی بھی گر بنا نہ سکا تو رِیجکٹ ہے

اِک گھر کیا جو فون تو لڑکی ہی خود ملی
کہنے لگی کہ گھر پہ نہیں ہیں مدر مری

فرصت نہیں ہے مجھ کو ملاقات کے لئے
گھر لوٹتی ہوں جاب سے انکل میں دیر سے

ہاں چاہے بیٹا آپ کا گر جاننا مجھے
کہیئے کہ فیس بُک پہ مجھے ایڈ وہ کرے

اِک دوسرے کو کر لیں گر  انڈرسٹینڈ ہم
بعد اس کے ہی بجائیں گے شادی کا بینڈ ھم

جس گھر گئے ،وہاں ہمیں جھٹکے نئے لگے
یاروں  ہمارے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے

آخر کھلا یہ راز کہ اپنی ہے سب خطا
بیٹے کی تربیت میں بہت رہ گیا خلا

کھانا پکا سکے ،جو نہ چائے بنا سکے
وہ کس طرح سے آج کی لڑکی کو بھا سکے

پڑھ لکھ  کے لڑکیوں کا رویہ بدل گیا
بے شک زمانہ چال قیامت کی چل گیا.