Monday, November 13, 2023

Grand Mosque, Moscow

https://www.facebook.com/share/p/YWGfHr5RLJZxviBe/?mibextid=WC7FNe

cherished stay at Islamabad 2019-2020 !

After an amazing period of 4-1/2 months in Islam abad now going back to Toronto .
Alhamdolillah it went very well with good health,love and care provided by my brothers and sisters , especially Farooq n Salma. Traveled to so many new destinations, uzbekistan, Lebanon , Umra and Karachi.
Umra trip was quite fulfilling and rewarding. So was Karachi where had great get togethers with old friends and exteneded family members.
• Then visited famous Attock fort, Rohtas fort of Shershah Suri, Maosoleum of Shahabudin Ghauri, Kathas Raj Mandir @ choa sayden shah, Haveli Umar hayat and shrines at chiniot, Qila bala hisar at Peshawar, Khyber rifles Mess @ Landikotal, Machni fort and mess all with Salah's courtsey. Love you all ❤️❤️

Friday, November 10, 2023

ٹورنٹو میں موسم سرما کی آمدیہ موسم سرد ہواؤں کا ، کیوں لوٹ کے پھر سے آیا ہے۔۔از عابدہ رحمانی موسم نے کیا چولا بدلا ، یخ بستہ ہواوؤں کا راج ہوا اور اس سے بچاؤ کے لئے لوگوں نے موٹے کوٹ ، جیکٹ، دستانے ، ٹوپی گرم اور موٹے کپڑوں میں پناہ لی ۔(ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جو دو ماہ پہلے مختصر ترین لباس میں ملبوس تھے)۔ تقریبا ہر جگہ ہیٹنگ یا اندرون خانہ گرمائش کا نظام شروع ہوچکا ہے ۔ درختوں کے پتوں نےجو حسین رنگ برنگے پیرہن اوڑھ لئے تھے ، سبحان اللہ انکا حسن بے حد سحر انگیز ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جنگلوں میں صناعی ہو گئی ہے اور قدرت کی یہ صناعی لا جواب ہوتی ہے ۔لیکن ہر حسن کو زوال ہے اور اب ا سکے زوال کا وقت شروع ہوا یہی اس خطے میں قدرت کا قانون ہے ۔ رفتہ رفتہ زرد اور بھورے کملاتے ہوئے یہ پتے ایک تند و تیز ہوا کی لپیٹ میں آ کر زمین بوس ہو جاتے ہیں۔یہ ٹند منڈ درخت سخت سردی اور برفباری جھیلتے ہوئے موسم بہار کی آمد کےمنتظر ہوتے ہیں۔ہوا کےتیز و تند جھونکوں سے یہ پت جھڑ شروع ہوا اور سر سراتے ہوئے پتے ہر جانب رواں دواں ہوئے۔ تیز ہوا اڑاتے ہوئے انہیں کونوں کدروں میں سمیٹنے لگی ۔گھروں کے آس پاس لوگ ان پتوں کو سمیٹ کر خاکی ردی کاغذ کے بڑے تھیلوں میں سمیٹ کر کوڑا اٹھانے والی گاڑیوں کے لئے رکھ دیتے ہیں ۔ اور بعد میں ان سے کھاد تیار کی جاتی ہے۔درجہ حرارت جب تک دس سنٹی گریڈ یا اس سے اوپر ہے تو موسم خوشگوار ہے لیکن رفتہ رفتہ ہم منفی درجہ حرارت اور برف باری کی جانب بڑھ رہے ہیں اندرون خانہ تو گرم رہنے کے بہترین انتظامات ہیں لیکن باہر نکلنے کے لئے درجہ حرارت دیکھ کر اوڑھ لپیٹ کر نکلنا پڑتا ہے۔ کپڑوں کی تہیں چڑھانی پڑتی ہیں اسطرح کے جیکٹ اور اوور کوٹ جو اندر جاکر ہمیں اتارنے پڑیں تو کوئی دقت نہ ہو۔ اکثر تو اندر ون اسقدر گرمائش ہوتی ہے کہ ایک کے بعد ایک کافی ساری تہیں اتارنی پڑ جاتی ہیں اور اگر لٹکانے کی مناسب جگہ نہ ہو تو لادے لادے گھومنا پڑتا ہے۔بیشتر کھلے تفریحی مقامات موسم سرما کیلئے بند کر دئے گئے ہیں ۔ پارکوں اور تفریح گاہوں میں ایک ویرانی سی دکھائی دیتی ہے ۔ گرمیوں کی تمام چہل پہل ماند ہونے لگی ہے ۔ سردی کی وجہ سے راہگیر بہت کم دکھائی دیتے ہیں ایک تو وہ ہوتے ہیں جنہیں مجبورا نکلنا پڑتا ہے یا انکے پاس ذاتی سواری نہیں ہوتی۔ بصورت دیگر وہ شائقین جو اس سردی میں چہل قدمی اور جاگنگ کرتے ہیں۔برف پگھلانے والے مواد اور نمک کی خرید اری زوروں پر ہے اسے گزرگاہوں اور سڑکوں پر برف باری ہونے کے بعد ڈالا جائے گا ۔شدید برف باری کی صورت میں یہ بھی اکثر ناکافی اور بیکار ہو جاتا ہے۔ سردی اور سخت سردی کا یہ موسم ٹورنٹو اور کینیڈا کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس سے نمٹنے کی تدابیر اور کوشش کی جاتی ہے۔ مقامی باشندے اسے جھیلنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ معمر حضرات کی اکثریت سخت سردی سے نجات حاصل کرکے امریکہ کے گرم ریاستوں کا رخ کرتے ہیں ۔ ان میں کیلیفورنیا، فلوریڈا ، اریزونا ، ٹیکساس کے کچھ علاقے لوزیانا اور دیگر شامل ہیں ۔ کچھ مزید دور کریبئن اور میکسیکو چلے جاتے ہیں ۔ ان لوگوں نے سنو برڈ ( برفانی پرندے) ایسوسی ایشن بنا رکھی ہے ۔ گرمیوں کے آغاز پر انکی وطن واپسی ہوتی ہے۔کینیڈا کی مشہور بطخیں بھی جنوب کی جانب گرم علاقوں کی جانب مائل پرواز ہوتی ہیں موسم کی خنکی کے ساتھ ساتھ وہ ٹیں تیں کرتی ہوئی جھنڈ کی جھنڈ اڑان بھرتی ہیں۔ دنیا کے شمالی کرے میں موسم سرما اور جنوبی کرے میں موسم گرما کا آغاز ہو چکا ہے خط استوا سے دوری اور نزدیکی تغیر اور تبدیلی کا باعث بنتی ہے ۔کینیڈا مزید شمال کی جانب ہے جو شہر اور علاقے امریکہ کے ساتھ ہیں وہ یہاں کے گرم ترین علاقے ہیں ۔ جسقدر شمال کی طرف بڑھتے جائیں مزید ٹھنڈک کا راج ہوتا ہے۔ جہاں اگلو بنے ہوئے ہیں اور اسکیمو رہتے ہیں۔۔اس مرتبہ کینیڈا یا ٹورنٹو میں زوردار لمبی گرمیاں گزریں۔ایسی گرمیا ں آئیں کہ بہت سے تو بلبلا اٹھے ۔مونٹریال میں کئی لوگ گرمی کی شدت سے ہلاک ہوگئے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قدر شدید سردی کو جھیلنے والی قوم میں گرمی جھیلنے کی تاب نہیں ہے۔ گرمیوں کے یہ قصے اس موسم کی آمد کے ساتھ خواب و خیال ہوگئے ۔ یقین ہی نہیں آتا کہ یہاں کبھی کراچی جیسا حبس بھی تھا جبکہ ہمارے پیرہن پاکستان کے لون کے بنے ہوئے سوٹ تھے،ائر کنڈیشنر اور پنکھوں کے بغیر گزارہ مشکل تھا۔ گرمی کے موسم میں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہاں اس قدر شدید سردی بھی پڑتی ہے ۔ا۔یہاں کی سردی میں پاکستان کی طرح پکوان کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا وہاں پر گرم گرم گاجر کا حلوہ، گجریلا اور دیگر حلوہ جات ،ٹن ٹن کرتی ہوئی چھابڑیوں پر بھنی مونگ پھلی ، ریوڑیاں اور گجک، کوئلوں پر سنکے بھٹے ، نمک میں بھنے مکئی اور چنوں کے دانے ،بڑے کے پائے اور گرم گرم نان جبکہ نہاری تو اب عام کھانا ہوگیا ہے ۔ ہاں ہم پاکستانی اپنے طور پر اسکا اہتمام کرنیکی کوشش کرتے ہیں۔ ایک زمانے میں بھنے ہوئے چلغوزوں کا راج ہوتا تھا ۔ خشک میوےسے مہمانوں کی خاطر تواضع کی جاتی تھی۔ یہ میوہ جات سردیوں کا خاسہ ہوتی تھیں۔ان دنوں کرسمس کے لئے ا ٓرائش و زیبائش جاری ہے کرسمس اور برفباری کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ کرسمس اگر سفید نہ ہوا تو وہ بھی کیا کرسمس ہے ۔ ٹورنٹو اور کینیڈامیں عام طور سے برف کی کوئی قلت نہیں ہوتی لیکن بسا اوقات یوں بھی ہو جاتا ہے کہ برف کے ڈھیر کرسمس کے آنے سے پہلے ہی پگل گئےایسے میں لوگوں کی مایوسی دیدنی ہوتی ہے ۔ لوگ مایوس ہوں نہ ہوں میڈیا چلا چلا کر اعلانات کرتا ہے کہ ابکے کرسمس سفید نہ ہوئی۔ امریکہ میں تھینکس گیوینگ کے بعد کرسمس کا اہتمام ہوگا۔جھلملاتی ہوئی رنگ برنگی بتیاں اور آرائش اس ٹھنڈک میں رونق ڈال دیتی ہیں اب کرسمس تک سانٹا کلاز ، کرسمس ٹری ، اسکی سجاؤٹ اور رینڈئیر زکا راج ہوگا یہ تمام لوازمات یخ بستہ علاقوں سے متعلق ہیں ۔ عیسے علیہ السلام کی پیدائش سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔تمام سٹوروں میں کرسمس کی خریداری شروع ہوچکی ہے اسکا سب سے بڑا مظاہرہ بلیک فرائڈے اور اسکے بعد کی سیل پر ہوگا۔ کرسمس پریڈ ہونگے ، امریکہ میں میسی سٹور کا تھینکس گیونگ پریڈ راک فیلر سکو ائر کا ایک مشہور وقوعہ ہے ۔ کرسمس کے بعد نیو ائر کی رونق اور چھٹیوں کا موسم ۔ حالانکہ سردی اتنی شدید کہ سورج بھی پنا ہ مانگے ۔ سورج جو گرمی میں سوا نیزے پر تھا اب جیسے اپنی گرمی کہیں بھول آیا ہے جب چمکتا ہے تو شیشوں کے اندر سے محسوس ہوتا ہے کہ گرم ہے باہر نکلو تو گرمی نام کو نہیں ۔ایسی سردی ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے۔ خوش آمدید اے موسم سرما خوش آمدید

Sunday, October 15, 2023

Case of the lost box

 Ok kvu by

The Case of the lost box:

Abida Rahmani 


On August 18, Friday morning our PTF group was supposed to leave for airport at 9:30 am to take a Nordwing flight to Kazan, Tatarstan, another part of Russia!

I decided to bring my big box down to the lobby when I was going for breakfast at 7:40 am. I told the receptionist that I am with Pakistani group and putting my box here. At that time an Iranian group was leaving .

When our group was ready to leave my box had vanished and couldn’t be found.

Our able and efficient group group leader Maj. Tariq Hayat assured me not to worry , took action and provided reception all the details and the contacted the departed group.

We embarked the bus and on our way he got the first news that the flight is delayed and after a few the good news came.The box was found and delivered at the airport!

It was taken by that group mistakenly and after realizing it was dropped at the airport.

I’m grateful to Tariq for his prompt action that saved me a lot of hassle and agony!

Thanks again dear Tariq!

Thursday, August 10, 2023

عازم سفر روس

1
عازم سفر روس 
از
عابدہ رحمانی

پاکستان ٹریول فورم  کے نگران میجر طارق حیات نے مئی کے اواخر میں جب وہ آذر بائیجان کے دورے پر تھے روس کے دورے کا اعلان کیا ۔ روس کے اس دورے میں مجھے کافی دلچسپی تھی  اسلئے سرسری سا  پروگرام یا  itinerary دیکھ کر حامی بھر لی۔۔میں اسوقت ٹورنٹو کےنواحی قصبے ملٹن میں اپنی ٹانگ کی چوٹ سے صحت یاب ہورہی تھی  ، چونکہ یہ دورہ  اگست میں تھا اسلئے میں نے سوچا کہ ایک مہینے پہلے جانا مناسب ہوگا  ۔۔ ٹڑ یول  ایجنٹ  سے بات کی تو ٹکٹ  کافی مہنگے تھے ایک نسبتأ  پی آئی اے کا   مناسب ٹکٹ لیکر پندرہ جولائی کی بکنگ کر ڈا لی ۔۔   اب جب ویزے کے لئے کاغذات کی تفصیلات دیکھیں تو معلوم ہوا کہ مقامی پولیس سے مجھے اپنے چال چلن کا سرٹیفیکیٹ   لینا ضروری ہے       اسکے علاوہ بنک سے اکاؤنٹ کی تفصیلات ، تصاویر ، اصلی پاسپورٹ  جون میں جمع کرانا پڑیگا  ۔  طارق صاحب سے مستقل رابطے میں تھی لیکن اب جولائی کی بکنگ کا کیا کیا جائے؟  چھوٹے بھائی سلیمان سے بات کی تو اسنے پہلے تو یقین دہانی کروادی کہ بن جائے گا لیکن قصہ مختصر کہ  اسکے لئے میری موجودگی ضروری تھی کیونکہ   تھانے میں میری تصویر اتار کر وہ مجھے سرٹیفیکیٹ دیتے ۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے  کہ یہ سفر میں پاکستانی پاسپورٹ پر  پاکستانی کی حیثیت سے کر رہی ہوں ۔۔ شمالی امریکہ کے  یو کرین کی جنگ کی وجہ سے روس سے تعلقات کافی کشیدہ ہیں  اور وہ اپنے باشندوں کو وہاں کا سفر نہ کر مشورہ دیتے ہیں بلکہ سفر پر  پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔۔ روس کے افغانستان پر قبضے کے وقت میرے روس کے  متعلق کافی منفی خیالات تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ کافی بدل چکے ہیں پھر روس یا یو ایس ایس آر کے  خود حصے بخرے ہوگئے اور کئی ریاستیں آزاد ہو گئیں اور آج افغانی کہتے ہیں کہ روسی تسلط میں انہوں نے بہترین وقت گزارا ۔۔۔۔ پاکستان میں اسے جہاد افغانستان کا نام دیا گیا  دنیاوی تاریخ اور سیاست کے داؤ پیچ بھی نرالے ہیں ۔۔
 بہر کیف  میرے پاس دو راستے تھے یا تو میں ٹکٹ  کو کھلا رکھوں جو ایک سال تک قابل استعمال تھا  یا پھر فوری روانگی کی بکنگ کرواؤں۔  استخارہ بھی کیا ، بھائی اور بچوں سے مشورہ کیا   ۔۔ چھوٹا بھائی سلیمان جو روس یاترہ کر چکاہے اسنے اسقدر تعریف کی بقول اسکے ” آپ یوروپ امریکہ  کو بھول جائینگی روس جاکر ”۔
تو سوچا کہ   بسم اللہ کیا جائے ، پھر  مزید ۱۴۵ڈالر دے کر  جون کی بارہ تاریخ کی بکنگ کرائی ، اسمیں محض ایک ہفتہ باقی تھا ۔ ۔ خیر و عافیت سےپی آئی اے کی پرواز دوپہرکو  اسلام آباد  پہنچی  ، باہر شدید گرمی نے استقبال کیا ۔۔سامان   گھر میں رکھ کر سہولت پولیس سٹیشن شخصی کردار کی ضمانت کا سرٹیفیکیٹ بنا نے    گئی ، مجھے انکا طریقہ کار بہت بھایا ، تین روز کے بعد وصولی تھی  بنک اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کیں  ۔ تصاویر میں نے جلد بازی میں  ملٹن میں بنائی تھیں جسپر ۳۴ ڈالر کی لاگت آئی پاکستان میں یہ کام زیادہ سے زیادہ چار پانچ سو میں ہوجاتا ۔۔ طارق صاحب کی جانب سے کاغذات جلد جمع کروانے کی تاکید آرہی تھی ۔۔بمشکل تمام پندرہ جون کو تمام کاغذات  ایف سیون ٹو میں شکیل صاحب کے پاس جمع ہوئے اور پورے ڈیڑھ ماہ کے بعد ۳۱ جولائی کو  ویزہ  لگنے کی اطلاع ملی ۔۔  اس دوران شدید ترین گرم موسم کا سامنا کیا  جسکی عادت تقریبا ختم ہوچکی تھی  ایک دو روز تو  درجہ حرارت پچاس سے بھی اوپر تھا ۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ پکی پکائی خوراک مل جاتی ہے اور بجلی کی قلت محسوس نہیں ہوئی ۔۔ ساتھ میں سیاسی درجہ حرارت بھی تپ رہاتھا جسکو مختلف طریقوں سے ٹھنڈا کر نیکی کوشش ہو رہی ہے ۔۔
اس ڈیڑھ ماہ میں عزیز  واقارب سے ملنا ملانا اور سب سے بڑھ کر  SACP کے گروپ کے ساتھ چترال ، کالاش کا  چھ روزہ دورہ رہا  ( اسکا  احوال علیحدہ) لیکن اسکو  ان ڈیڑھ ماہ کا ماحاصل یا   icing on the cake کہا جاسکتا ہے ۔۔
اب روس روانگی کی تیاری آخری مراحل میں ہے  ۔۔سفر قدرے پیچیدہ ہے ۔۔اسلام آباد سے ہمارا گروپ ایک کوسٹر میں رات کو ساڑھے آٹھ بجے فیصل آباد کیلئے روانہ  ہوگا فیصل آباد ائر پورٹ سے صبح کے ساڑھے چار بجے دوبئی کیلئے روانگی ہے ، پوری رات کا سفر ہے ۔ دوبئی پہنچنے پر تین گھنٹے کے بعد ماسکو کی پرواز ہے ۔ ہماری طرح دیگر گروپ لاہور ، کراچی اور سیالکوٹ سے ماسکو پہنچیں گے ۔ انمیں ایک گروپ تو ازبکستان کے رستے جارہا ہے ۔۔ سوچا جائے تو سیاحت اور سیاحی کیلئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ دامے ، درمے سخنے  ۔۔۔لیکن جو پنجابی میں کہتے ہیں “ شوق دا کوئی مول نائیں “ اب اللہ تعالی بخیر و عافیت یہ سفر تمام کرے تو دیکھتے ہیں کہ روس کی باقی دنیا سے کیا  اور کیسے نرالی شان ہے ۔۔!!

Monday, July 3, 2023

عیدالاضحی پاکستان میں

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ تمام عزیزواقارب کو عید قربان کی قربانیاں اور عبادات مبارک ہوں-
ایک طویل عرصے کےبعد میں اپنے۔مادر وطن میں عیدالاضحی منارہی ہوں-جہاں جابجا بکروں کے ممیانے اور گائیوں کے ڈکرانےکی آواز یں آرہی ہیں ۔ ۔۔لیکن نہ تو میں مساجد میں ادا ہو نیوالے نماز عید کے نظام الاوقات دیکھ رہی ہوں اور نہ ہی ان میں شرکت کی جستجو ہے--
جن ممالک میں اب بسیرا ہے وہاں جانوروں کی آوازیں سنائی دیتی ہے ، نہ قصائی اور گوشت کی تقسیم اور سنبھالنے کاغم ، نہ ہی یہ فکر کہ کھال کسکو جائیگی--ہاں نماز عید میں حاضری لازمی، مرد و خواتین برابر تعداد میں بلکہ اکثر خواتین اور بچوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے -بلند آواز تکبیر ات ، جاندار خطبات اور جوش و خروش--کیا اب وہ ممالک اسلام کا قلعہ بن رہے ہیں یا بنائے جارہے ہیں، قربانیاں اور گوشت یہاں اور باجماعت نماز عید وہاں--- کیونکہ یہاں کی مساجد میں خواتین کا داخلہ ممنوع ہے --- سوائے معدودے چند کے -  مسیساگا میں ایک بہے بڑا اجتماع مشہور عالم اور قاری مشاری العفاسی کی امامت میں منعقد ہوا-خبروں کے مطابق تقریبا 20 ہزار افراد شریک ہوئے ، جنمیں ایک بڑی تعداد میں خواتین اور بچے تھے  - 
تمام اہل وطن کو پاکستان میں عیدالاضحی مبارک ہو--
طالب دعا--
عابدہ رحمانی

امام طبرانی کی کتاب سے --

امام طبرانی کی کتاب میں ایک واقعہ
پڑھا آنسو ہیں کہ رک نہیں رہے
آپ بھی پڑھیں

حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ دروازہ
رسول الله ﷺ
پر کلمہ پڑھنے آئے
مسلمان ہونے کے بعد
نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں
عرض کرنے لگے
یا رسول الله ﷺ ایک بات پوچھنی ہے
حضور ﷺ نے فرمایا پوچھو
کہنے لگے یا رسول الله ﷺ دور جاہلیت میں ہم نے جونیکیاں کی ہے
اُن کا بھی الله ہمیں آجر عطا کرے گا
کیا اُسکا بھی آجر ملے گا
تو
نبی کریمﷺ نے فرمایا تُو بتا
تُو نے کیا نیکی کی
تو کہنے لگے
یا رسول الله ﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کر
اپنے دو اونٹوں
کو ڈھونڈنے نکلا
میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اُس پار نکل گیا
جہاں پرانی آبادی تھی
وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا
ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا
اُس کو جا کر میں نے بتایا
کہ
یہ دو اونٹ میرے ہیں
وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئے تھے تمہارے ہیں تو لے جاؤ
اُنہی باتوں میں اُس نے پانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو
بوڑھا پوچھنے لگا
بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا
میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگر بیٹا ہوا تو
قبیلے کی شان بڑھائے گا
اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اُسے زندہ دفن کرا دوں گا
اِس لیئے کہ
میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا
میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا
میں ابھی دفن کرا دوں گا
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ فرمانے لگے
یا رسول الله ﷺ
یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا
میں نے اُسے کہا
پھر پتہ کرو بیٹی ہے کہ بیٹا ہے
اُس نے معلوم کیا تو پتہ چلا
کہ
بیٹی آئی ہے
میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا
کہنے لگا ہاں !
میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے
میں لے جاتا ہوں
یا رسول اللّٰه ﷺ وہ مجھے کہنے لگا
اگر
میں بچی تم
کو دے دوں تو تم کیا دو گے
میں نے کہا
تم میرے دو اونٹ رکھ لو
بچی دے دو کہنے لگا
نہیں
دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے
آیا ہے یہ بھی لے لیں گے
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو
یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اُسے واپس دےدیتا ہوں
یا رسول اللّٰه ﷺ
میں نے تین اونٹ دے کر ایک بچی لے لی
اُس بچی کو لا کے میں نے اپنی
کنیز کو دیا نوکرانی اُسے دودھ پلاتی
یا رسول الله ﷺ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی
وہ میرے سینے سے لگتی
حضور ﷺ پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا
کہ
کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے
یا رسول الله ﷺ
میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا
یا رسول الله ﷺ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ہے
میری حویلی میں تین سو ساٹھ
بچیاں پلتی ہیں
حضور ﷺ مجھے بتائیں
میرا مالک مجھے اِس کا اجر دے گا ؟
کہتے ہے حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا
میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے
یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے
رب نے تجھے دولتِ ایمان عطا کر دی ہے
نبی کریم ﷺ فرمانے لگے
یہ تیرا دنیا کا اجر ہے
اور
تیرے رسولﷺ کا وعدہ ہے
قیامت کے دن رب کریم تمہیں
خزانے کھول کے دے گا۔