Wednesday, July 8, 2015

ہلاکت خیز گرمی یا اللہ کا عذاب!



----

 ہلاکت خیز گرمی یا اللہ کا عذاب

از عابدہ رحمانی
میرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں--

گرمی تو پاکستان میں ہر سال آتی ہے لیکن یہ اس مرتبہ کیا ہوا آمد رمضان کے ساتھ کراچی اور سندھ کے جنوبی علاقوں میں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں انکی تعداد اب تقریبا 1500 تک پہنچ گئی ہے -- یہ اللہ کا عذاب ہے یا ایک بہت بڑی آزمائش--
اہل پاکستان اور اہل کراچی کی قسمت میں جو دکھ لکھے ہیں یہ انمیں سے تازہ ترین دکھ ہے -- اس بد نصیب شہر کو جو عروس البلاد کہلتا ہے پاکستان کا مصروف ترین مرکزی شہر ہے پانی سے محروم ، بجلی سے محروم اور اسپر یہ قیامت خیز گرمی کہ سمندری ہوائیں بالکل بند ہو گئیں،لو کے تھپیڑے، جھلسا دینے والا سورج، بجلی غائب درجہ حرارت کا تناسب نمی کے ساتھ 49 ڈگری تک پہنچ گیا -- بہت سے  لوگوں نے روزے کی حالت میں تڑپ تڑپ کر جانیں دیں --
بروقت طبی امداد نہ پہنچ سکی ، روزہ داروں کا روزہ نہ تڑایا گیا یا انہوں نے خود نہ توڑا -- بچے اور بہت بوڑھے تو ظاہر ہے روزے کی حالت میں نہ ہونگے --(اور اللہ تعالٰ کی اس سہولت سے تو ہر مسلمان کو آگاہی ہونی چاہیئے کہ بیماری اور شدید نقاہت کی حالت میں روزہ توڑا جاسکتا ہے اور صحت یابی پر قضا کی ادائیگی ہے بوڑھے، بیمار اور کمزور اگر صا حب استظاعت ہوں تو روزہ نہ رکھ کر فدیہ ادا کریں-)- جو بھی وجہ ہو اسقدر ہلاکتوں میں کہیں نہ کہیں انتظامی اور حکومتی غفلت اور بد انتظامی موجود ہے --
بجلی و پانی کے مرکزی وزیر عابد شیر علی نے اپنی کلی برآت ظاہر کی ہے کہ یہ سب اموات  انکی غفلت کانتیجہ ہرگز  نہیں ہے -وہ کراچی الیکٹریک کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں - کہنے کو تو ہمارا ایمان ہے کہ آیا ہوا وقت ٹالا نہیں جاسکتا اورموت کا لمحہ اور وقت معین ہے - یہی وجہ باعث سکون بھی بن جاتی ہے -- عمر رض کا مشہور و معروف قول ہے کہ دریائے فرات کے کنارے اگر کوئی کتابھی  پیاس سے مر جائے تو عمر اسکے لئے جواب دہ ہوگا -- جبکہ بحیرہ عرب کے کنارے پیاس اور گرمی سے مرنیوالوں سے ہماری صوبائی اور مرکزی حکومت کی کسی کوتاہی کا تعلق نہیں ہےاور وہ بالکل بری الذمہ ہیں  -- چند روز پہلے تحریک انصاف کی ایک رہنما سے ملاقات ہویئ " ہم نے جگہ جگہ پانی کی بوتلیں مہیا کیں " کہاں کیں کتنی کیں؟ ہنگامی صورتحال میں تدابیر بھی ہنگامی بنیاد پر ہونی چاہئیں جب شہر پر آگ برس رہی ہو اور عوام کے پاس نہ بجلی ہو نہ پانی تو انکے لئے مرجانا ہی بہتر ہے اور سونے پر سہاگا یہ کہ مر نیوالوں کے دفنانے کو بھی دو گز زمین بھی میسر نہیں ہے لیکن 15 ، 16 سو ہلاکتوں کے ساتھ یہ زمین بھی کافی بڑھ جاتی ہے -- یوں محسوس ہوتا ہے کہ گرمی نہین بلکہ کوئی مہلک  وباپھیل گئی ہو--بعد میں یہ عقلمندی اختیار کی گئی کہ اجتماعی تدافین کی گئیں--بجلی نہ ہونیکی وجہ سے مردہ خانوں میں تعفن پھیل گیا تھا --
کراچی  جو غریب پرور شہر کے طور پر مشہور ہے - جہاں پر تھکے ماندے مزدور، بھکاری  فٹ پاتھوں ، چوراہوں کے بیچ ایک چندر تان کر سو جاتے ہیں ۔۔ہاں وہاں وہ طبقہ بھی ہے جو اپنی بجلی خود بناتا ہے انکے پاس اپنے جنریٹر اور فیڈر ہیں ۔۔
اس شہر میں پانی کی قلت کرواکر ٹینکر مافیا کا راج کروا دیا گیا ہے ۔۔اسمیں میں حکمراں ادارے تک ملوث ہیں ۔۔ بلکہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔۔ 
 ٹی وی پر سندھ اسمبلی کا اجلاس دیکھ رہی تھی ایک ممبر نے استدعا کی کہ شہر کے حالات دیکھتے ہوئے ایک گھنٹے کے لئےائرکنڈیشنر بند کرتے ہیں جسپر خوب لے دے ہوئی لیکن ایر کنڈؑیشنر بند نیں ہوا-- انسان جب عیاشیوں کا عادی ہو جاتا ہے تو اسکے لئے مشکل جھیلنا ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا-- 
پچھلے دنوں بھارت میں گرمی کی وجہ سے ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں ، ہم چین سے تھے تو اس دکھ کا احساس نہیں ہوا لیکن جب یہ بلا اپنے سر آن پہنچی تو اسکی ہلاکت خیزیوں کا اندازہ ہوا--
گرمی پاکستان کے میدانی علاقوں میں ہمیشہ سے آتی ہے --سبی ، جیکب آباد ، ملتان، تھر وغیرہ میں درجہ حرارت 50 سنٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے - تمام پاکستان کے میدانی علاقے گرمی کی لپیٹ میں ہوتے ہیں --کراچی میں گرمی کی شدت رطوبت سے مذید بڑھ جاتی ہے - بارشوں کا وہاں کوئی ٹھکانہ نہیں ہے --جب کبھی بارش ہوتی ہے سال میں ایک آدھ مرتبہ، تو خوب ہوتی ہے سب جل تھل ہو جاتا ہے --اہل کراچی جہاں بارش سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں ہزاروں مہلک اور دیگر چھوٹے موٹے  حادثات بھی ہوتے ہیں اور پورا شہر اتھل پتھل ہو جاتا ہے،سڑکیں چاند کا منظر پیش کرتی ہیں  -- 
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بجلی کا غائب ہونا اسقدر مہلک ہو سکتا ہے؟ بجلی کا غائب ہونا تکلیف دہ اور اذیت ناک ضرور ہے اور فی زمانہ بجلی زندگی کے لوازمات میں سے ہے لیکن مجھے یاد ہے میرے بچپن میں ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں تھی اور شدید گرمی میں رمضان کا مہینہ تھا علی الصبح لوگ اپنے باہر کے کام کرکے فارغ ہوجاتے -- جھالروں والے دستی پنکھے سب کے پاس ہوتے تھے - کسان مزدور درختوں کی چھاؤں میں بان کی چار پایئاں چٹایئاں ڈالکر لیٹ جاتے- زیادہ گرمی کی صورت میں چٹایئوں کو بگھو دیا جاتا تھا - خربوزے اور تربوز پہلے سے قاشیں کرکے پراتوں میں رکھ دیے جاتے ۔ لسی ، گڑکے ، املی ، تخم ملنگا کے شربت-جسکو جو بھی میسر تھا 
  - پانی تو زندگی کے لوازم میں سے ہے بلکہ انسانی جسم کا ستر فیصد پانی ہے تو ٹھنڈے کنوؤں سے پانی حاصل کیا جاتا تھا -مجھے یاد ہے کہ میری والدہ تولیہ بھگو کر سر پر رکھ دیتیں ایک بڑا سا کٹ کا پنکھا کھینچھنے والا بچہ دوپہروں کو خود بھی بے خبر سو جاتا--
پانی کے بغیر جینا محال ہے لیکن بجلی کے بغیر تکلیف اور بے چینی تو بہت ہے لیکن گزارا ہو سکتا ہےاور جیا جا سکتا ہے  ۔۔ آجکل فیسبک پر واپڈا کی طرف سے ایک لطیفہ گردش  کر رہا ہے " روزے جب بھی رکھے جاتے تھے جب بجلی نہیں تھی تو خاموشی سے روزہ رکھو اور زیادہ ٹر ٹر نہ کرو"

ہمارےقریبی گرم ترین خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں جہاں دن میں درجہ حرارت 52ٓ--54 کے درمیان ہوتی ہے۔ رمضان میں تمام تعمیراتی اور مشقتی کام رات کو یا افطاری سے سحری کے وقت تک جاری رہتا ہے --ہاں انکے پاس بجلی کی کوئی قلت نہیں ہے --
کراچی کے نوحوں میں ایک اور مر ثیے کا اضافہ ہوا کہ 1500 افراد کر بلا کی کیفیت سے دو چار ہوئے اور تڑپ ٹرپ کر جانیں دیں -- 
اللہ تبارک و تعالٰی انکو بلند ترین درجات پر فائز کردے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے-


-- 
Sent from Gmail Mobile

Saturday, June 6, 2015

قائد کے ذریں اصول




قائد کے ذریں اصول
اتحاد،ایمان،تنظیم
(Abida Rahmani,
Unity , faith ,discipline

فضائیہ کالونی سے باہر نکلتے ہوۓ اسلام آبادایکسپریس وے پر سامنے بنے ہوۓ ٹیلے پرقائداعظم کی نیون لائٹ سےمرصع ایک کافی بڑی تصویر پر نظر پڑتی ہے اسکے نیچے ایک جانب اردو میں اور دوسری جانب انگریزی میں اتحاد ،ایمان اور تنظیم بھی نظر آتے ہیں۔۔ابھی روشنی تھی اسلیۓ ان پر اندھیرا طاری تھآ لیکن جب  یہ روشن ہوتے ہیں تو خوب جگمگاتے ہیں؟ ہاں غور کا مقام یہ ہے  کہ کیا ہماری زندگی میں ان اصولوں کی چنداں اہمیت بھی ہے؟
اسوقت مجھے خواجہ معین آلدین کا لکھا ہوا تعلیم بالغان کا ڈرامہ شدت سے --یاد آیا جسمیں اتحاد ، تنظیم اور یقین محکم کی درگت بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے-اسوقت عمومی طور پر اگر ہم اپنے ملک اور اسکے حالات کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ قائدکے یہ ذریں اصول ہم نے بچپن سے رٹے توضرور تھے اور جا بجا ہمیں لکھے ہوئے بھی نظر آتے ہیں، لیکن انکا ہم نے جانے انجانے میں جو حشر کر دیا ہے کہ اپنے آپ سے بھی شرم آتی ہے-سب سے پہلے اتحاد کو لیجئے کہ ہم من حیث ا لقوم کسقدر متحد ہیں ہم مذہبی۔لسانی، علاقائی، رنگ و نسل ، فرقہ وارانہ اور اقتصادی گروہوں میں بری طرح منقسم ہیں- تقسیم محض تقسیم کی حد تک غیر فطری فعل ہرگز نہیں ہے لیکن ہم تو دوسرے گروہ کو برداشت کرنیکو ہرگز تیارہی نہیں ہیں- پورے ملک میں قتل و غارتگری، دھوکے اور لوٹ مار کا ایک بازار گرم ہے کہیں کس بہانے اور کہیں کس بہانے سے -- روزانہ پورے ملک میں جدال و قتال کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے- خود کش دھماکے ، فرقہ وارانہ کشیدگی،انتقامی کار روائیاں جنکی کوئی حد نہیں کوئی انتہا نہیں ہے- میں تو اسقدر مایوس ہوگئی ہوں یا دوسرے الفاظ میں، میرا قلم اس دہشت گردی اور قتل و غارتگری کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے-دہشت گرد اسقدر منظم اور ظالم ہیں کہ پورے ملک کو تخت و تاراج کرنے پر تلے ہوئے ہیں-جہاں جی چاہتا ہے وہاں آدھمکتے ہیں ۔ملک کے حفاظتی دستے، قانون نافذ کرنے والے ادارے  بسا اوقات بالکل بے بس اور بے دست و پاہ نظر آرہے ہیں- پھر تنظیم اور یقین محکم یا ایمان کا جو حشر ہے کہ خدا کی پناہ -اگر قوت ایمانی ہے تو سادہ لوح اور بے بس عوام میں جو ہر طرح کی صورتحال اور تشدد کے ساتھ جی رہے ہیں اور اس تمام صورتحال کو اپنا مقدر جانکر جینے کی کوشش کر رہے ہیں-
کبھی  کبھی جب کوئی مژدہ جانفزا سننے کو ملتا ہے جیسے کہ کل اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان میٹرو بس کا افتتاح ہوایہ بس اسکا راستہ ، اسکا ٹرمینل دنیا کے جدید ترین مواصلاتی نظام کے تحت بنایا گیا ہے -میں بذات خود اسمیں سفر کروں تو بہتر تبصرہ کر سکونگی --اسکے راستے کی تعمیر کے سلسلے میں مشکلات سے پنڈی اسلام آباد کے رہائشی کافی نالاں تھے اور نواز حکومت پر کافی نکتہ چینی کر تے رہے --میں تو نواز حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی بے حد مداح ہوں ۔اللہ بھلا کرے اس موٹروے کی تعمیر سے کیا مثبت تبدیلی آئی ہے- اس سے پیشتر گوادر سے لیکر خنجراب  تک اقتصادی شاہراہ کی تعمیر انشاءاللہ پاکستان کی ترقی میں ایک نیا باب رقم کریگی- چند تنگ نظر سیاستدان اس پر مؑعترض ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمارا پڑوسی ملک بھارت جو چین پاک تعلقات اور پاکستان کی ترقی سے خایف رہتا ہے-- اس سے پہلے ایک ایکسپریس ٹرین کا اسلام آباد تا کراچی افتتاح ہوا باقی تمام سہولتوں کے ساتھ ٹرین پر مفت وائی فائی کی سہولت ہے جو میرے جیسوں کے لئے اشد ضروری ہے-
آجکل پاکستانی کبوتر کی بھارت میں گرفتاری پر سوشل میڈیا میں ایک غلغلہ مچا ہواہے --اس جدید ترین مواصلاتی دور میں کبوتری انحصار دلچسپ تجربہ ہے -شاید کسی دل جلے نے اپنے محبوب کو پیغام بھیجا ہو پہلے تو ہم لفافوں کے اوپر لکھتے تھے ۔۔
چلا چل لفافے کبوتر کی چال
محبت جو ہوگی تو دیگی یا دیگا جواب
اب اس بیچارے کبوتر کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا   یہ تو آنیوالا وقت ہی ؟بتائے گا -
ایسے ماحول میں جہاں آئے دن کی قتل و غارتگری کی خبریں دہلا اور لرزا دیتی ہیں اس قسم کی خبریں آب حیات کا درجہ رکھتی ہیں
ایک کمپنی ایگزیکٹ ، اسکے ٹی وی چینل بول کا بہت بول بولا ہوا - کچھ تفصیلات جانیں تو گھپلوں اور دھاندلیو ں کا کمال ہے خود بھی مالا مال ہوئے اور ہزاروں کو گھر بیٹھے بیٹھے اونچی اونچی ڈگریوں سے مالا مال کیا --یونیورسٹیوں کے وہ اعلے اعلے نام وضع کئے ہیں کہ امریکہ والوں کو بھی خوب جچ رہے ہونگے یا انہوں نے خواب و خیال میں بھی نہ سوچے ہونگے  -وہ تو بھلا ہو نیویارک ٹایمز کا کہ اس گورکھ دھندے سے پردہ اٹھایا -- اب دیکھنا یہ ہے کہ کن پردہ نشینوں کے نام سامنے آتے ہیں  یا بیچارہ شعیب اور اسکے ساتھی سب کے گناہوں کا کفارہ ادا کرینگے -- زیر لب تو بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن باآواز بلند سب خاموش ہیں-ارے ملک کے وہ بلند و بالا جاسوسی ادارے ؟؟  اور پھر ایک ایان علی بھی ہیں جو جیل اور عدالت میں اپنے جلوے دکھارہی ہیں-
اگر پچھلےچند دنوں کا جائیزہ لیں تو کیا کچھ نہیں ہوامستونگ بس حملے  میں 20 سے زیادہ ہلاکتیں ،کراچی کے صفورا گوٹھ میں  اسماعیلیوں کی بس پر حملہ 45  معصوم مرد ،عورتوں اور بچوں کو چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔۔ انکا قصور کیا اسماعیلی ہونا تھا ۔۔ بندوق کی گولیاں قصور نہیں د یکھتیں چشم زدن میں جانیں تلف کرتی ہیں جب بھی کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے حکومتی اور انتظامی مشنری حرکت میں آہی جاتی ہے اس سے پہلے کراچی میں سبین محمود کا قتل ایک مشہور شخصیت کا قتل تھا ورنہ کراچی کی قتل گاہ کی بھینٹ آئے دن کوئی نہ کوئی چڑھتا رہتا ہے اور پولیس والوں کا قتل تو روزمرہ کا واقعہ ہے ؐیں تو ان بچاروں کو سڑک پر دیکھتی ہوں تو یہی خیال آتا ہے کہ بیچارہ شام کو گھر حفاظت سے جائے ۔ کریم آغا خان ،اسماعیلی برادری اور پاکستان کے پرامن عوام اس قتل و غارت گری پر سراپا احتجاج بن گئے ۔ چیف آف آرمی اسٹاف ، وزیر اعظم سب کراچی پہنچے پہلا الزام را پر لگایا ایم کیو ایم بھی ملوث کی گئی ( یوں بھی ایم کیو ایم کے کردہ گناہ بے حساب ہیں ) لیکن ۔اب جو گرفتاریاں ہوئی ہیں تو ہوش اڑانے کو کافی ہیں نیک ، پارسا اچھے گھروں کے اعلے تعلیم یافتہ بچے ان جرائم میں ملو ث پائے گئے کیا ملک کا دانشور طبقہ اسکی تحقیقا ت کرنیسے قاصر ہے کہ ان بچوں نے یہ انتہا پسندانہ وحشت ناک اقدامات کیو ں کئے-
انکے اہل خانہ کے لئے یہ صدمہ زندہ درگور کرنیکو کافی ہوگا--

آج اس چوکی پر اتنے اہلکار اور اتنے شدت پسند ہلاک ہوئے" - میں نے خبریں سننی ہی چھوڑ دی ہیں - میں سنوں یا نہ سنوں اس تمام صورتحال میں میری اس مملکت خدادا د میں قاید کے اقوال کی کون پرواہ کرتا ہے جہاں پوری قوم اس میں الجھی ہوئی ہو کہ بجلی آئی، بجلی گئی - میں پچھلے کئی سال سے مسلسل خوشگوار موسم بہار میں آتی ہوں اور اذیت ناک گرمیاں جھیلتی ہوں الحمدللہ کہ اس مرتبہ موسم ابھی تک خوشگوار ہے ،ذراسی گرمی ہویئ ابر آیا برسا اور ٹھنڈک ہوگئ-اللہ سے دعا ہے کہ رمضان المبارک اسی طرح گزرے-

قدرتی گیس سی این جی رفتہ رفتہ بند ہی ہوگئی  کتنون نے اپنی گاڑیوں میں اسکا خصوصی کٹ لگوایا تھا -

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی -

ہم بات کر رہے تھے قائد کے ذرٰیں اصولوں کی-تنظیم، نظم ، ڈسپلن اس لفظ کو رفتہ رفتہ ہم اپنی لغت سے خارج کرتے جارہے ہیں - بھئی یہ اصطلاح تومسلح افواج پر جچتی ہے یا ترقی یافتہ ممالک پر ، ہم تو اس سے مبراء ہیں اور جسقدر بد نظمی اور افرا تفری پھیلا سکیں آخر کو ایک آزاد قوم ہیں - پچھلے ہفتے ایک بڑے ہوٹل میں یوم تکبیر پر پروگرام  اور کھانا تھا - ملک کے جغادری رہنما اور مقرر تھے - بعد میں کھانے پر جو لوٹ مار مچی اور جو افرا تفری اور بدنظمی نظر آئی کہ خدا کی پناہ -
نظم و ضبط کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
اور یہ مظاہرہ اکثر و بیشتر نظر آتا ہے - شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں جیسے کہ کئی روز کے فاقہ زدگان کا اجتماع ہو- ایک جگہ مجھے بطور خاص مدعو کیا گیا - تقریب کے اختتام پر میں نماز کی ادائیگی کے لئے کھڑی ہوگئی - واپسی پر خالی چائے کے تھرموس اور پلیٹیں میرا منہ چڑا رہے تھےیہی لوگ مغربی ممالک میں قطار در قطار کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں تو پھر اپنے ملک میں یہ بے صبری اور بد نظمی کیوں؟ اور پھر جسقدر خوراک کا ضیاع ہوتا ہے خدا کی پناہ -
اور ہماری مرضی جس طرح رہیں سب سے پہلے گندگی اور غلاظت ، اپنے گھروں کو صاف کرکے کوڑا باہر پھینکنا یا پھیلانا ،جابجا کوڑا گندگی توڑ پھوڑ،افرا تفری ہمارا قومی شعار ہے- فقیروں اور ہیجڑوں کی فوج ظفرموج ٹولیوں میں بھیک مانگتی نظر آتی ہے معذور اور اپاہج تو ایک جانب صحتمند ، ہاتھ پاؤن سے سلامت پورے پورے خاندان کے ساتھ بھیک مانگ رہے ہیں -یہ کون ہیں کہاں سے آتے ہیں اور ان تمام فلاح معاشرہ کی تنظیموں میں کوئی انکا پرسان حال نہیں ہے
لیکن قاید کے ذریں اصولوں کو شائد ہم کبھی تو سمجھ ہی لیں گے- ابھی تو صرف 68 سال ہونیکو جارہے ہیں--
اے  میرے پیارے وطن پاک وطن پاک وطن اے میرے پیارے وطن









Wednesday, June 3, 2015

Shabbi Baraat the 15th night of Shabaan






Shabi baraat , it's rituals, sunnah and Biddah !


by: Abida Rahmani


Tonight is the night of 15th Shaabaan. This night marks a night of festivity and celebrations in our culture and some of the Muslims all around the world.

Being a small kid, I remember impatiently waiting for this month of Shaabaan. This month marked the month of fireworks for us. We would make a big rag ball, dipped in kerosene oil for days. At night set it on fire and tried our muscles to throw it higher and higher.

Our elders would always participate in this fun. Sometimes this burning ball of rags would make ablaze here and there. Then we would get money from our elders for other fireworks, crackers, tracers, bombs (bums) and the innocent ones phuljarian , the twinkling stars. It was a month of celebrations and fun for us. 

Then after growing up a little bit, we were told to offer at least 100 rakaas of nawafil (nonobligatory prayers) on that night. Our maulvis or scholars were against the fireworks and called it a night of worship and salvation. In our families the ladies would gather and try to offer at least 100 rakaas,. The ladies used to make and distribute special meals among friends and families on that night. it was considered rewarding to be awake whole night and doing ibada.


In Urdu speaking families it was a big ritual of making different kind of halwas. So much toil and efforts were done in the preparations, days before this ritual would start. A variety of Halwas of suji, gram( channa), eggs, dry dates, coconut etc. the kid would distribute the delicacies among neighbors and friends. The scholars or maulvis then asked the ladies not to get tired in those preparations, it is not needed at all.They should preserve their energy for the night of worship, solitude and salvation. They have to fast the next day too.

Then after going through and interacting with more learned and authentic scholars of Islam came to know that even this is not a night of worship and salvation , therefore no extra efforts are required for this night and no fast is authentic according to sunnah for the next day. The Ahadith related   to this night are weak and this celebrated night of power is in the last 10 nights of Ramadan.

Once when I was visiting Egypt. On 14th of Shaabaan in Old Muslim Cairo, saw people buying beautifully made lanterns, sweets and vermicelli. On my query I was told that it is for the celebrations of this night the 15th Shabban.
Next day we were in haram baitullah for Umrah and many of the ladies were fasting.

It is great to practice authentic and pure religion and to simplify life but in this way we are taking all the beauty, fun and festivities from kids And families.

Here I ' m quoting some of the authentic narrations.

In preparation of Ramadan Muhammed (saaw) did fast frequently in the month of Sha’ban, and he recommended not to fast after 15th of Shabaan so that we can have full strength for Ramadan to fast.

There is no evidence of fasting on 15th of Sha'ban as compulsory/recommended ................ one can fast whenever, other than the obligatory fasting of RAMADHAN !

On The night of 15th Sha’ban the preparation for the Shab-e-Baraat festivities is also heating up. Most mainstream Sunni and Shia sects believe this night to be blessed and perform special prayers, keep a fast and distribute food. 

There is only one blessed night mentioned in the Qur’an, which is Laila tul   Qadr. The Qur’an was sent down in this night and it is one of the nights in the last 10 days of Ramadan. However, those who believe that 15th Sha’ban is blessed interpret the verses in Surah Ad-Dukhan to refer to this night rather than the night of Qadr.

 حمٓ (١) وَٱلۡڪِتَـٰبِ ٱلۡمُبِينِ (٢) إِنَّآ أَنزَلۡنَـٰهُ فِى لَيۡلَةٍ۬ مُّبَـٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ By the manifest Book (this Qur'ân) that makes things clear, (2) We sent it (this Qur'ân) down on a blessed night, addukhan 2,3

Many Scholars refer to this Ayah for Shabi Baraat or 15th of Shabaan anstead of Lailatul Qadar and made this night very special.


But is Surah Ad-Dukhan referring to the 15th Sha’ban or to the night of Qadr? The clue is in the reference to the revelation of the Qur’an:


Verily, We have sent it (this Qur’an) down in the night of Al-Qadr (Decree). [Surah Al-Qadr 97:1]
Therein descend the angels and the Ruh [Jibril (Gabril)] by Allah’s Permission with all Decrees. [Surah Al-Qadr 97:4]
The verses quoted above prove that the Qur’an was revealed on the night of Qadr, when Allah’s angels also descend with all Decrees (related to life, death and wealth). We then find the key evidence in Surah Al-Baqara which tells us exactly which month it is:

The month of Ramadan in which was revealed the Qur’an, a guidance for mankind and clear proofs for the guidance and the criterion (between right and wrong). So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Saum (fasts) that month, and whoever is ill or on a journey, the same number [of days which one did not observe Saum (fasts) must be made up] from other days. Allah intends for you ease, and He does not want to make things difficult for you. (He wants that you) must complete the same number (of days), and that you must magnify Allah [i.e. to say Takbir (Allahu Akbar; Allah is the Most Great] for having guided you so that you may be grateful to Him. [Surah Al-Baqara 2:185] [Emphasis added]

We can then conclude that the only night of blessing referred to in the Qur’an is the night of Qadr. There is no reference whatsoever to a Shab-e-Barat (or the night of 15th Sha’ban) as a blessed night.

The practices and beliefs associated with this night are a strange mish-mash of information found in the Qur’an and Sahih Hadith. Of the many things associated with this, it is said that Prophet Muhammad (SAW) visited a graveyard on the night of 15th Sha’ban. He prayed for the forgiveness of those who died as believers and were buried in Al-Baqi). Based on this hadith, Muslims have now created a ritual whereby they visit graveyards on this night every year. This 15 Sha’ban hadith is found in Tirmidhi. There is jirah (criticism) on this hadith and Tirmidhi himself acknowledged that the reference to 15th Sha’ban was based on a single report (this means that the hadith is classed as weak and is unreliable).

Crucially, we find authentic reports of this incident in Sahih Muslim (Sahih Muslim, Book #004, and Hadith #2127). There is no mention at all of Sha’ban, or of any other month when this incident happened. In fact, the Prophet (SAW) explained that he was ordered by angel Gabriel (AS) to pray for the forgiveness of the inhabitants of Al-Baqi. This is an isolated incident, in the sense that the Prophet (SAW) did not repeat this practice as a matter of routine. What we do learn from this hadith is a prayer for forgiveness for those who died as believers but we find no mention of a particular date, so we do not know which night it was.

Despite this, the 15 Sha’ban myths has gained acceptance and Muslims have started to visit graveyards on the 15th Sha’ban every year; this is a ritual that can only be classed as a Bidd’ah. Rather than sending a prayer for forgiveness regularly, what they have started to do instead is to congregate in graveyards, put flowers and kewra (fragrance) on graves and say Salat un Tasbeeh prayers all night. It is worth pointing out that Salat un Tasbeeh itself is an innovated prayer not proven from Prophet (SAW). And while some spend this night saying prayers, others light up fireworks and sparklers. As we do not tire of repeating, Bidd’ah tend to grow into more Bidd’ah very quickly and what we see is that one innovated festival makes room for many more.

It is also believed by these sects that reports of actions or deeds are taken to Allah on this night and this is why one should fast on the day. What we find in Sahih Hadith is that all matters are taken to Allah on Monday and Thursday every week, which is why Prophet (SAW) used to fast on these days. (Sahih Muslim, Book #006, Hadith #2603)

Abu Huraim reported Allah’s Messenger (may peace be upon him) as saying, “The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancor against his brother and it would be said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation. (Sahih Muslim, Book #032, Hadith #6224)

It is also believed that Allah’s decisions regarding matters of life, death and wealth are revealed to angels on 15 Sha’ban. This view contradicts the Qur’an, where we are told clearly that all such Decrees are brought by angels on the night of Qadr, which is a night in Ramadan.

We can conclude that:

There is only one blessed night, the night of Qadr, mentioned in the Qur’an. The Prophet (SAW) recommended nafl Ibadah in the last 10 nights of Ramadan, one of which may be the night of Qadr. This is the night when the Qur’an was revealed and when angels bring Allah’s Decrees.

The Prophet (SAW) visited the graveyard of Al-Baqi one night and said a prayer for those who died as believers. There are no authentic reports which tell us exactly which night this was.


Here is  the Hadith:

Muhammad b. Qais said (to the people): Should I not narrate to you (a hadith of the Holy Prophet) on my authority and on the authority of my mother? We thought that he meant the mother who had given him birth. He (Muhammad b. Qais) then reported that it was ‘A’isha who had narrated this: Should I not narrate to you about myself and about the Messenger of Allah (may peace be upon him)? We said: Yes. She said: When it was my turn for Allah’s Messenger (may peace be upon him) to spend the night with me, he turned his side, put on his mantle and took off his shoes and placed them near his feet, and spread the corner of his shawl on his bed and then lay down till he thought that I had gone to sleep. He took hold of his mantle slowly and put on the shoes slowly, and opened the door and went out and then closed it lightly. I covered my head, put on my veil and tightened my waist wrapper, and then went out following his steps till he reached Baqi’. He stood there and he stood for a long time. He then lifted his hands three times, and then returned and I also returned. He hastened his steps and I also hastened my steps. He ran and I too ran. He came (to the house) and I also came (to the house). I, however, preceded him and I entered (the house), and as I lay down in the bed, he (the Holy Prophet) entered the (house), and said: Why is it, O ‘A’isha, that you are out of breath? I said: There is nothing. He said: Tell me or the Subtle and the Aware would inform me. I said: Messenger of Allah, may my father and mother be ransom for you, and then I told him (the whole story). He said: Was it the darkness (of your shadow) that I saw in front of me? She said: Whatsoever the people conceal, Allah will know it. He said: Gabriel came to me when you saw me.. He (gabriel) said: Your Lord has commanded you to go to the inhabitants of Baqi’ (to those lying in the graves) and beg pardon for them. I said: Messenger of Allah, how should I pray for them (How should I beg forgiveness for them)? He said: Say, Peace be upon the inhabitants of this city (graveyard) from among the Believers and the Muslims, and may Allah have mercy on those who have gone ahead of us, and those who come later on, and we shall, God willing, join you. this night was the 15th of Shaabaan.

 



عابدہ

Abida Rahmani

Sunday, April 26, 2015

The importance of family ties!

The importance of family/relatives in today's world - By : Abida Rahmani

imageThe family, which is the basic unit of civilization, is now disintegrating. Islam’s family system brings the rights of the husband, wife, children, and relatives into a fine equilibrium. It nourishes unselfish behavior, generosity, and love in the framework of a well-organized family system. The peace and security offered by a stable family unit is greatly valued, and it is seen as essential for the spiritual and emotional growth of its members. A harmonious social order is created by the existence of extended families and by treasuring children.

Human being is socially bonded to many relations. First of all there are blood relations, from whom you are born or who are born from you. One of the most important bondage or relation is that of a husband and wife or spouses. Then it goes on with kinship to different levels and categories.

A family bondage is very important for the wellbeing or nurturing of a person and it’s a great trial or impossible to survive without those family ties. These family ties are adorable but trying too at certain times. One badly needs a family or relatives support in hard, trying and sensitive times. Their consolation and moral support helps a lot in building up the self-esteem and handle the grief and pain.

In Islam respect of elders and to be kind and loving with Youngers is a great part of religion. Respect for others shows great amounts of self-esteem to them. It is interesting to see how a child-orientated and religious orientated culture operates. Sacrificing own whims and desires for the benefit of family is a great part of Islamic society.

Individuals comprising any society are tied together by related group bonds. The strongest of all societal bonds is that of the family. And while it can be justifiably argued that the basic family unit is the foundation of any given human society, this holds particularly true for Muslims. As a matter of fact, the great status that Islam affords to the family system is the most important factor that so often attracts many new converts to Islam, particularly women. Family values play an integral role in the formation of Muslim society.

So, what are the particular values or traits of Islamic family life that so many are finding so appealing? 

One can see that family values in Islam are one of its major attractions. These values stem from God and His guidance, through the Quran and the example and teaching of His Messenger, Muhammad, may the mercy and blessings of God upon him, who indicates the family unit as being one of the mainstays of religion and Islamic way of life. The importance of forming a family is underscored by a saying of the holy Prophet himself, who said:
“When a man marries, he has fulfilled half of his religion, so let him fear God regarding the remaining half. (al-Baihaqi)

The Family is a part of the Islamic social order. The society that Islam wants to establish is a clean pure society. It establishes an ideological society, with a high level of moral awareness, strong commitment, attitude and fulfillment of an amazing human behavior. Its discipline is not an imposed discipline, but one that flows out of every individual's commitment to the values and ideals of Islam. In this society a high degree of social responsibility prevails. The entire system operates in a way that strengthens and fortifies the family and not otherwise.
Thus we can truly claim that family relations are the back bone of Muslim society, which protect it from many evils.

A strong family is a great asset to value.


Saturday, April 25, 2015

ادھار

ادھار
حقیقت پر مبنی کہانی

عابدہ رحمانی


میں لاہور میں تھی کہ اسکا ٹیکسٹ (ایس ایم ایس )آیا ۔۔ "میری بیوی کی زچگی ہونیوالی ہے میں اسے فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال میں داخل کرنے آیا ہوں ۔۔ میرا ہاتھ بہت تنگ ہے بلکہ تہی دست ہوں ۔ آپ میری مدد کریں میں چند روز میں آپکو لازمی واپس لوٹا دونگا۔۔
مجھے اس بات سے کافی اچنبھا سا ہوا وہ میرا  پراپرٹی ڈیلر تھا ۔اسکے ذریعے میں نے دو سودے کروائے تھے اسنے اپنی کمیشن لی اور بات ختم ہوگئی۔۔میرا اس سے عرصہ دراز سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پاکستان آمد پر ایک اور ایجنٹ سے اسکا نمبر مانگا اور یوں میرا دوبارہ رابطہ ہوا وہ بھی ایک زمین کی قیمت کی تحقیق کے سلسلے میں ۔
میں نے اپنے بھائی کو اس قصے کا بتایا تو وہ اسے ایک جعل سازی سمجھے ۔۔ شمالی آ مریکہ میں اس قسم کے قصے انٹر نیٹ اور فون پر آئے دن ہوتے رہتے ہیں ۔۔ پھر بھی میں نے اسے جواب دیا کہ میں لاہور میں ہوں اور تمہاری مدد کرنے سے قاصر ہوں ۔۔ چند روز بعد از راہ ہمدردی میں نے اسے ٹیکسٹ کیا " تمہاری بیوی کی طبیعت اب کیسی ہے؟
میرا بچہ پیدا ہوا تھا لیکن فوت ہو گیا اور میں بیوی کو لیکر ملتان اپنے والدین کے پاس آگیا ہوں ۔۔"
مجھے کافی افسوس ہوا اور اس سے دریافت کیا کہ اسکے اور کتنے بچے ہیں؟
جی میرے دو اور بچے ہیں ۔
میں نے ان بچوں کے لئے دعائیں لکھیں۔۔
چند روز بعد اسکا فون ایا ،کیا آپ واپس آگئی ہیں ؟
میرا جواب سنکر وہ مجھے مختلف سودے دکھانے کی بات کرنے لگا ۔وہ بات چیت میں کافی نارمل لگ رہا تھا ۔میں نے بھی اسکا دکھ بڑھانے کی کوئی  بات نہ کی۔۔
دوپہر کو میں لیٹی تھی کہ اسکا فون آیا ۔۔ میں بہت پریشانی میں ہوں خدا کیلئے مجھے پانچ ہزار عنایت کریں میں نے ایک مکان کرائے پر لگایا ہے پرسوں لازمی مجھے کمیشن مل جائیگا اور میں آپکے مطالبے سے پہلے ہی ادائیگی کر دونگا ۔۔
مجھے اسکی یہ بات بہت عجیب لگی ۔۔" تمہارا اور میرا کاروباری تعلق ہے اور اس طرح کی باتیں اسمیں ہرگز زیب نہیں دیتیں ۔۔تم اپنے کسی دوست یا ساتھی سے کیوں نہیں مانگتے؟
جی ان سے بھی مانگتا ہوں ابھی کوئی دینے پر تیار نہیں ہے ۔۔
اسکی یہ صاف گوئی مجھے بری طرح کھٹکی۔۔"جی میں بہت مجبور ہوں اگر اسوقت آپ میری مدد کریں تو میں ہمیشہ یا د رکھو ں گا اللہ آپکو اسکا اجر دے گا۔۔ نہ جانے کیوں میں اسکی باتوں سے پسیج سی گئی۔۔ اچھا اب تو میں لیٹی ہوئی ہوں تم پانچ بجے آنا۔
ٹھیک پانچ بجے فون کی گھنٹی بجی وہ باہر دروازے پر موجود تھا ۔۔ ایسا کرو میں تمہیں چیک دے دیتی ہوں میں نے اسے فون پر ہی کہا۔۔ جی آب تو بنک بند ہو چکے ہیں اگر کیش دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔۔ میں نے بٹوے کی تلاشی لی تو پانچ ہزار نکل آئے۔۔میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ یہ پیسے واپس نہیں ملنے اور اگر نہیں ملتے تو زکوُٰةکی نیت سے دے دو۔۔
رقم لے کر میں گیٹ پر گئی تو اس سمارٹ ،خوش لباس نوجوان کی جگہ ایک نحیف و نزار شخص میلے کچیلے حلیے میں کھڑا تھا ۔۔زرد آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہوئے ،پاؤں میں ایک پرانی سی سینڈل ۔۔ اسے دیکھ کر مجھے عجیب دھچکا سا لگا۔۔
اسنے مجھے ایک للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا۔۔" یہ تمہارا کیا حلیہ بنا ہے کیا تم نشہ کرنے لگے ہو" ؟نہیں جی میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور پھر کاروبار ماندہ ہوگیا۔ وہ کچھ عجیب سے انداز سے کہنے لگا۔۔اور تمہاری فیملی؟
باپ تو فوت ہو گیا ہے ، ما ں جی ٹین میں رہتی ہے" اور بیوی بچے ؟ اپنی ماں کے گھر ہیں جی لے کے آؤنگا -وہ بالکل بھول چکا تھا کہ چند روز پہلے  اسنےمجھے۔کیا د استان سنائی تھی۔۔
 جلدی جلدی وہ مجھے ایک مکان کے بارے میں بتانے لگا اور پھر یہ یقین دہانی کہ وہ میری رقم پرسوں ضرورلوٹا دے گا۔۔میں نے اسے اتنا کہا کہ اگر تم نے یہ رقم مقررہ وقت میں ادا نہیں کی تو آئندہ مجھے اپنی شکل نہیں دکھانا اور نہ ہی کوئی رابطہ رکھنا۔۔
اسکے جانے کے بعد مجھے خیال آیا کہ مجھے آصف سے جسنے اسکا نمبر دیا تھا پوچھنا چاہئیے ۔۔کہ حقیقت کیا ہے ؟ اسنے میرے خدشات پر مہر تصدیق ثبت کی اور یہ یقین دہانی کہ آپ اس رقم کو بھول جائیں ۔۔ ساتھ ہی اسنے بتایا کہ وہ اسی طرح جھوٹ گھڑ کے لوگوں سے رقم لیتا  رہتا ہے۔ اور پچھلے ایک سال سے اس لت میں مبتلا ہو چکا ہے ۔ کیا اسکا کوئی دوست ،عزیز یا ہمدرد نہیں جو اسکا علاج کرے ۔جو اسکو ذلالت کے اس دلدل سے نکالے ۔؟۔
ایک ہفتہ گزرنے کے بعد میں نے اسے محض آزمانے کے لیئے ٹیکسٹ کیا"تم نے ابھی تک میری رقم واپس نہیں کی؟ 
دو ہفتے گزر چکے ہیں اور وہ خاموش ہے ۔۔
میری قوم کا ایک اور نوجوان اس طرح تباہ ہو رہا ہے ۔۔ افسوس صد افسوس

Saturday, April 4, 2015

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے
از

عابدہ رحمانی



بینظیر بھٹو 

ائر پورٹ پر اترتےہی خنک ہوا نے استقبال کیا ۔۔ ائر پورٹ وہی پرانے ڈھب کا۔ لدھے پھندے سیڑھیوں سے نیچے اترے۔۔بس میں بیٹھ کر ٹرمینل آئے ۔۔ کچھا کچھ بھرے ہوئے بوئنگ 777 سے مسافر وں کا انخلاء شروع ہوا ۔۔ایمیگرشن پر مسافر قطار بنا کر کھڑے ہوئے تو منظم ہونے کا احساس ہوا ایک جانب معمر شہریوں اور بچوں والی خواتین کا کاؤنٹر بھی موجود تھا۔ 

میرے استقبال کو آنے والے میرے  عزیز بھائی نے سہولت کے پیش نظر سامان کی وصولی کا اہتمام کیا تھا ۔

میں اس خصوصی سہولت سے گھبرا سی گئی کہ کوئی اور میرا سامان وصول کر کے مجھے پہنچائے ۔کیا کریں کہ ہم ان خصوصی چونچلوں کے عادی ہی نہیں ۔۔سامان لیکر 
باہر نکلے تو مسلح فوجی اور بکتربند گاڑیاں جا بجا مستعد نظر آئیں جنہیں دیکھ کر طبیعت عجیب  پریشان اور افسردہ سی ہو گئی۔  
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں  احتیاطی تدابیر نے ملک کو  جنگی حالت میں مبتلا کیا ہوا ہے 

موسم قدرے گیلا اور ٹھنڈا،خشک موسم کے بعد کافی بارشیں ہو چکی ہیں ۔۔ مٹی دھول ،بے ہنگم ٹریفک، ہر جگہ بے پناہ رش ہر کوئی آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے۔ یہ میرا مادر وطن ہے ۔ میرا موبائل فون کام نہیں کررہا ۔سم بند کر دیا گیا ہے اسے چالو کرنے کیلئے مجھے دفتر جانا ہے کیونکہ پیغام یہی آرہا ہے ۔۔ایک نئی  اصطلاح مجھے پہلی مرتبہ  سنائی دے رہی ہے کہ وہاں  میرا" بائیو میٹرک "چیک کیا جائے گا--
میں اسکا درست ادراک نہیں کر پا رہی ہوں۔۔ دفتر کی کھڑکی پر میرے انگوٹھوں کی لکیروں کو بذریعہ مشین دیکھا جاتا ہے ۔۔ ۔۔ اور پھر مجھے بتایا جاتا ہے کہ میرے انگوٹھوں کے نشان میرے شناختی کارڈ کی نشان سے نہیں ملتے اس کی تشخیص کے لئے مجھے نادرا کے دفتر جانا ہوگا۔۔
پاکستان دہشت گردی کے تناظر میں احتیاطی تدابیر میں  کافی ترقی یافتہ ہوتا جارہاہے

دفتر کے باہر خواتین کی  ایک کھڑ کی ہے میں اسپر جاکر کھڑی ہوں مجھے یہاں سے ٹوکن حاصل کرنا ہے ۔ کھڑکی پر بیٹھی خاتون دوسرے کاموں میں مصروف ہے دروازے پر سے کئی دوسرے لوگ اندر جا جا کر اس سے اپنا کام کروارہے ہیں وہ میری طرف متوجہ ہی نہیں ہوتی۔۔ میری بے صبری
بڑھی تو گھر فون ملایا مجھے بتایا گیا کہ یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہوگا۔۔ اپکے اس مسئلے کے حل کیلئے ملاقات  کاانتظام کروایا جائے گا۔۔

اگلے روز میرے لئے نادرا کے دفتر میں ملاقات کا انتظام کر دیا گیا ۔ مینیجر پڑھا لکھا آدمی ہے۔مراد یہ کہ شستہ زبان اور شائستگی سے اسکے ادبی اور با ادبی ہونیکا اظہار ہو رہا ہے۔

یہ نیا شناختی کارڈ سمارٹ کارڈ کہلائے گا اسپر ایک چپ بھی نصب ہوگی کمپیوٹر پر میرے اگلے پچھلے کوائف سامنے آگئے اور اسطرح مجھے اپنے دونوں کارڈوں کو یکجا کرنا پڑا۔۔

اس مسئلے سے فراغت پاتے ہی پشاور روانگی ہو ئی جسے دنیا کا خطرناک ترین شہر قرار دیا جاتا ہے  

وہاں پر زندگی پوری طرح رواں دواں ،چہل پہل ، رونق ,گہما گہمی کہیں بھی کسی دہشت گردی کا پرتو نظر نہیں آتا لیکن سڑک سے گزرتے ہوئے اچانک آرمی پبلک اسکول دکھائی    دیا جسے حال ہی میں بد ترین دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے ۔ دیواروں پر چاروں جانب خاردار ،تیز دھار تار لپٹے ہوئے ہیں اس سانحے نے تو پوری قوم کو دہلا دیا اور قوم دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہوئی۔۔ پھر جا بجا شہداء کے نام کی سڑکیں ۔ بینرز اور چوک ۔صفوت غیور چوک سے گزرتے ہوئے دیگر خونریزی کے مقامات بھی مختلف ناموں سے نظر آئے ۔ آرمی پبلک اسکول کی خوںریز داستانیں ہر ایک کی زبان پر تھیں کہ کیسے اسکول کے اندر کینٹین میں اسلحہ رکھا گیا اور مخبری کی گئی ۔ جب تک معاونت اور آلہ کاری نہ ہو اس طرح کا خونریز معرکہ باآسانی طے نہیں پاتا۔ لواحقین اور طلباء کی دلجوئی مختلف طریقوں سے جاری تھی ۔۔ شہدا اور زخمیوں کے والدین کو عمرے کیلئے لے جایا گیا   انکے ساتھ وہ زخمی بھی تھے جو صحتیاب ہو چکے تھے۔۔ شدید زخمیوں کو علاج کیلئے سرکاری اور فلاحی اداروں کے اخراجات پر بیرون ملک بہتر علاج کیلئے بھیجا گیا ہے۔ میرے ایک قریبی عزیز کا بیٹا جسکو اللہ نے محفوظ رکھا تھا چین کی دعوت پر اسکول کے ایک گروپ کے ہمراہ اپنے والد کے ساتھ چین اور ہانگ کانگ کی سیر کو گیا تھا

۔پشاور میں منعقدہ شادیوں میں  رونق اپنے عروج پرتھی ۔میرے میزبانوں نے خاطر داری میں کوئی کسر نہ چھوڑی چرسی کے تکے ،بوٹی ،کڑھائی ،باربی کیو مچھلی، دم پخت ، دیگی اور نہ جانے کیا کیا۔۔

اور پھراپنے ایک نادیدہ بزرگ و شفیق، برقی قلمی دوست اور انکی اہلیہ سے ملاقات اس دورے کا ما حاصل تھی۔۔۔

۔

 اسوقت وطن عزیز میں یوم جمہوریہ پاکستان کی کامیاب پریڈ کی گھن گرج جاری ہے۔۔      ۲۳ مارچ کی اس پریڈ کی زور شور سے  تیاریاں دیکھنے کا موقع ملا پہلے اسکی فل ڈریس ریہرسل دیکھنےکی سعادت ملی جو اس پوری پریڈ پر مشتمل تھی ۔۔ جوش و جذبوں اور امنگوں پر مشتمل یہ پریڈ پاکستان کی مسلح افواج کی شاندار کارکردگی اور ترقی کی آئینہ دار تھی۔پاکستان ائر فورس کی شاندار کارکردگی ، کرتب اور مہارت لاجواب تھی ۔۔سب سے لاجواب تو ڈرون طیارے تھے جنمیں پاکستان خود کفیل ہو گیا ہے ۔۔ مسلسل دہشت گردی کی وجہ سے یہ پریڈ عرصہ سات سال کے بعد ہو ئی ہے ۔۔ اسکے لئے حد درجہ حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔۔ بعد اآذاں 23مارچ کو دوبارہ اصلی پریڈ کو اصلی وزیراعظم ، صدر پاکستان اور دیگر عمائدین کے ہمراہ دیکھنے کا موقع ملا۔۔۔مسلح افواج میں خواتین کے دستے کی شمولیت پاکستانی خواتین کی نمائندہ ہے اس سے پہلے طبی شعبے میں خواتین شامل تھیں اب خواتین کا ملٹری کور ہے اور ائر فورس میں بطور پائلٹ کام کر رہی ہیں ۔۔ یہ خواتین حجاب پہنے ہوئے مناسب باپردہ وردی میں ملبوس تھیں  ۔۔

پاکستان اور پاکستانی اپنی مسلح افواج اور حربی صلاحیتو ں کے عموماً معترف ہوتے ہیں اور اپنی مسلح افواج پرناز کرتے ہیں ۔۔

اس پریڈ کے کامیاب انعقاد سے عوام میں حد درجہ اعتماد بحال ہوا ہے ۔۔

اس تمام شدت پسندی کے باوجود ترقیاتی منصوبے اور کام زور و شور سے جاری ہیں ۔راولپنڈی اسلام اباد میں میٹرو بس سروس کی بالائی گزگاہ تیار ہو رہی ہے اسکے لئے شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے ابھی کافی کام ہونآ باقی ہے۔ موسم بہار کاحسن اس دھول مٹی کے ساتھ شباب پر ہے جابجا پھولوں کے رنگ بکھرے پڑے ہیں ۔۔ایک سے ایک بڑھ کردکانیں ،خوشنما مال ،دیدہ زیب ملبوسات اور زیورات اعلی قسم کی طعام گاہیں (ریسٹورنٹ ) ان سب کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی پسماندگی کا احساس نہیں ہوتا۔۔ لیکن ہر اسٹاف پر پیشہ ور فقیروں ، ہیجڑوں ،اپاہجوںاور بچوں کو مانگتے ہوئے دیکھ کر ایک اور دنیا دکھائی دیتی ہے۔۔

لاہور کیلئے ڈائیو بس کی بس اور اسکی سروس انتہائی بہترین تھی۔۔ یہ پریمیم بس تھی کٹتی ملتی وائی فائی کی سہولت سے آحساس ہو رہا تھا کہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں دنیا کے بڑے بڑے ہوائی جہازوں میں اگر یہ سہولت ہے تو پاکستان کی بس میں بھی ہے۔۔ برابر کی سیٹ پر براجماں خاتون مجھے آگاہ کرتی۔ ابھی آرہی ہے ابھی بند ہے۔۔۔ !

لاہور کی شاندار سڑکوں نے ماسوائے چند علاقوں کے دل موہ لیا ۔۔کشادہ چار چار لین کی یکطرفہ انتہائی عمدہ بنی ہوئی سڑک اسکے ساتھ عمدہ ٹائلوں کی فٹ پاتھ سائیکل کی لین ، بین الاقوامی معیار کی  جسکے بیچوں بیچ سر سبز و شاداب گل و گلزار چوڑی  پٹی انتہائی دلکش اور دیدہ زیب تھی۔۔، شریف برادراں ملک کی انفرا سٹرکچر کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں ۔۔ لاہور میں اسوقت بہترین موسم ہے خوشنما پھولوں سے کیا ریا ں بھری ہوئی ہیں ۔لاہور میں بہت ہی پیار بھرے نئے تعلقات استوار ہوئے ۔اور خوب خاطریں ہوئیں ایک  عزیز کی شادی میں وقت کی پابندی ،کھانے میں ایک ڈِش یعنی چاول ،ایک سالن،روٹی ایک میٹھا خوب لگا اور سب سے زبردست یہ کہ ٹھیک دس بجے ہال کی بتیاں بجھنے لگیں اور رخصتی ہو گئی کراچی میں تو یہ حال تھا کہ برات رات کو بارہ ایک بجے روانہ ہوتی تھی ۔۔نہ جانے وہاں بھی کچھ سدھار  آیا ہے ؟۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن جاری ہے۔۔ پاکستان تحریک انصاف نے عزیز آباد میں جناح گراؤنڈ میں ڈیرے ڈال دئیے ہیں ۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں ۔۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔۔ ہماری تو بس یہی دعا ہے کہ اس ملک اور اسکے خلاف کام کرنیوالے راندہ درگاہ ہو جائیں اور ملک اور عوام چین اور سکھ کا سانس لیں ۔اور چین کی بانسری بجائیں۔