Wednesday, January 22, 2025
کن کون
Wednesday, January 15, 2025
Caribbean Cruise, سمندر کی تفریح
Exploring The Caribbean shores with Norwegian cruise!
سمندر کی تفریحی سیا حت( Cruising on the sea)
از
عابدہ رحمانی
جب سے بحری جہاز رانی سے سفر کا رواج ختم ہوا ہے ، جہاز راں کمپنیوں نے نئی تجاویز نکال لی اور بحری جہازوں کو تفریحی دوروں کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔۔کئی ناموں سے یہ کروز دنیا بھر میں سمندر کے مختلف خطوں کی طرف لے جاتے ہیں اور قریبی ساحلی شہروں میں اتارتے ہیں جہاں پر مزید اخراجات کر کے اس شہر کے تفریحی دلچسپ و دلفریب پروگرام منتظر ہوتے ہیں ۔
میں چند سہیلیوں کے ہمراہ پچھلے سال نارویجین کروز ( Norwegian cruise ) پر الاسکا گئی تھی اور آج اسی کمپنی کے ساتھ کریبئن کروز ( CaribbeanCruise ) کر کے واپس پہنچی ہوں ۔ تھکن سے چور ہوں لیکن سوچا کچھ یاد داشتیں قلمبند کردوں ۔۔
یہ جہاز سمندر کے سینے پر چلتے پھرتے ایک بہت بڑے رہائشی کمپلیکس کی صورت میں ہیں ۔۔ پچھلا جہاز بھی سترہ منزلہ تھا لیکن اسکی لمبائی چوڑائی قدرے کم تھی ۔
ہمارا یہ جہاز جسکا نام ( Epic) یعنی عظیم الشان تھا واقعی ایپک تھا ۔۔ ان دونوں جہازوں کا اندرونی نقشہ، طریقہ کار اور ڈیزائن ملتے جلتے تھے ۔۔ اسلئے پچھلے سفر کے تجربے کی روشنی میں کافی آسانی ہو گئی تھی کہ کونسی منزل میں کیا ہے پھربھی ہدایت اور رہنمائی کے لئے جا بجا تفصیلی بورڈ لگے ہوئے ہیں ۔۔
یہ سترہ منزلہ جہاز ہر قسم کی سہولت سے آراستہ ہیں اندرونی طور پر معتدل درجہ حرارت ، کمرے یا کیبن ہوٹل کے طرز پر لیکن قدرے چھوٹے ، ان میں گرم ، ٹھنڈے درجہ حرارت کے لئے تھرمو سٹیٹ ، غسلخانے ،بیت الخلا ،الماریاں ، لاکر ، چھوٹا فرج ،فون کی سہولت موجود، صفائی کرنے والے حاضر ہوتے ہیں باہر بورڈ سیٹ کرکے روز کمرہ درست کروائیں یا نہ کروائیں۔۔ ہمارے کیبن کے ساتھ بالکنی تھی جہاں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی اس بے پایاں قدرت کے مظہر سمندرکا نظارہ خوب کیا۔
یہاں پر ہر جانب ایلیویٹرز ( Elevators) لگے ہوئے ہیں ، سیڑھیاں بھی بنی ہیں اور کہیں کہیں خودکار سیڑھیاں بھی ہیں ۔۔ایلیویٹرز یا لفٹ پر بسا اوقات ایک اژدھام کی کیفیت ہو جاتی ۔بیچوں بیچ ایک خود کار وہیل چیئر ضرور آجاتی ۔ ایک بڑی تعداد معذوروں اور ضعیفوں کی تھی ۔ دو دس گیارہ سال کے معذور بچوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔۔کافی لوگ خوب لحیم شحیم تھے اور یہاں کے کھانوں سے خوب لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔
کہیں پر آرٹ کے فن پاروں کی نمائش اور فروخت تھی ، تو آگے فوٹو گرافر کھڑے یاد گار تصاویر اور پورٹریٹ بنا رہے تھے جہاں پر اکثر جوڑے اپنی تصویر بنا رہے تھے۔۔وہیں پر زیورات کی دکان میں ریفل ٹکٹ پر قرعہ اندازیاں ہو رہی تھیں اور انعامات نکل رہے تھے ۔۔میری سہیلی اور کمرے کی ساتھی کو اسی طرح قرعہ اندازی میں انعام ملا۔۔اسی طرح اور کئی دکانوں پر مختلف سیل جاری تھے ۔۔
الاسکا ہم بحر الکاہل سے گئے تھے جبکہ اب بحر اوقیانوس میں سفر کر رہے تھے ، کچھ وقت کے لئے بحیرہ کیریبین میں بھی سفر کیا ۔۔۔
ہمارے اس جہاز میں ساڑھے چار ہزار مسافر اور ایک ہزار ملازمین تھے ۔۔ہم سات مسلمان اور پاک و ہند سے تعلق رکھنے والی خواتین تھیں ، ایک صومالی مسلمان جوڑے کو دو چھوٹے بچوں کے ہمراہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی اسکے علاوہ خریداری کے مرکز یا شاپنگ مال میں کئی بھارتی مسلمان لڑکوں کو اچھے عہدوں پر کام کرتے دیکھ کر بہت اچھا لگا ۔۔جنرل منیجر عامر ،میرے بڑے بیٹے کا ہم نام ،اسکا تعلق سلوواکیا سے تھا۔ سارے سٹاف کا تعارف جا بجا لگے سکرینوں پر آتا رہتا تھا۔ ملازمین میں ایک بڑی تعداد فلپائنی ، دوسرے انڈین اور تیسرے انڈونیشیا کے تھے دیگر ممالک کے لوگ بھی نظر آئے لیکن کوئی پاکستانی دکھائی نہیں دیا۔۔ان سب کو ایجنسیاں براہ راست انکے ممالک سے منتخب کرتی ہیں ۔حیرت ہے کہ پاکستانی ایجنسیوں کا اس طرف دھیان نہیں ہے یا آپس کی افرا تفری میں مصروف ہیں ۔۔
یہ کروز بنیادی طور پر خورد و نوش اور جوئے کے مراکز ہیں ۔۔ سمندر میں جوئے پر کوئی پابندی نہیں ہے اسلئے جہاز کی چھٹی منزل پر بہت بڑا جوا خانہ ہے جہاں پر جوئے کے شوقین مصروف ہوتے ہیں ۔ اورلینڈو ائر پورٹ پر ایک جوڑا ساتھ بیٹھا تھا ۔باتوں باتوں میں خاتون نے بتایا کہ وہ کارنیوال کروز پر جارہے ہیں اور یہ اسکے شوہر نے جوئے میں جیتا ہے ۔۔۔
یہاں پر چینی، جاپانی، اطالوی ( Italian) ، فرانسیسی اور دیگر کھانوں کے ریسٹورنٹس ہیں جو ہمارے پیکج یعنی کرائے کے معاہدے میں شامل ہوتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا بوفے ، انواع و اقسام کے کھانوں کے ساتھ Garden Cafe کے نام سے ہے جو ناشتے ، کھانے کیلئے ہمارا منتظر ہوتا ہے ۔۔یہاں بھانت بھانت کے کھانے ، روٹیاں ،پیزا،سلاد ، سبزی خوروں کے لئے مختلف سبزیاں ، دال ، مچھلی ، کئی قسم کے میٹھے، شربت اور آئس کریم میسر ہوتے ہیں ۔۔ یہاں پر دنبے کا گوشت حلال ملتاہے یہ گوشت نیوزی لینڈ کی طرف سے ساری دنیا میں حلال مہیا کیا جاتاہے ۔ لیکن اس مرتبہ معلوم ہواکہ مرغی کا گوشت بھی حلال ہے ۔۔ چاروں طرف مستعد بیروں کی ایک فوج پلیٹیں اٹھانے میں مصروف ہوتی ہے صاف ستھرے کپڑے کے سفید دھاری دارنپکن کے اندر کانٹا اور چھری لپٹا ہوا ہر میز پر موجود ہوتے ہیں ۔ بیشتر لوگ کھانے کے ضیاع کو شاید برا نہیں سمجھتے ، پلیٹیں بھر بھرکر لیتے ہیں ، تھوڑا کھاتے ہیں ، زیادہ پھینکتے ہیں ۔۔ اس بچے ہوئے کھانے کو ایک مشین میں باریک پیس کر سمندر میں ڈالدیا جاتاہے ۔
شراب پانی کی طرح مل رہی ہے ۔۔ہر طرف عوام نے مختلف الکحل والے مشروبات کے جام پکڑے ہوتے تھے اور انکو بیرے بھی بنا کر دیتے تھے ۔۔ یہ بکتی ہے لیکن غالبا خشکی کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے ۔۔کچھ شوقین اس کا پیکج پہلے سے خرید لیتے ہیں ۔۔۔۔
الاسکن کروز ( Alaskan cruise) میں موسم ٹھنڈا تھا اسلئے مغربی عوام جامے میں تھے اور صرف جام ونوش اور جوئے میں مصروف تھے ۔۔۔۔ لیکن اس مرتبہ کریبئین میں گرم موسم کی وجہ سے خلقت جامے سے تقریبا باہر تھی ۔ مردوں کے جسموں پر ٹیٹو کی عجیب و غریب خوفناک چھاپیں تھیں ، جبکہ خواتین نیم تو نہیں تہائی عریاں تھیں اور اوپر کے عرشے پر پول اور جکوزی سے لطف اندوز ہونے کے علاوہ لمبی کرسیوں پر دراز غسل آفتابی لے رہے تھے۔۔ ہاں یہ بات قابل تعریف ہے کہ جو کوئی جو کچھ کر رہا ہے کسی کو اس سے کوئی مطلب نہیں ، نہ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ آوازہ کسنا۔۔ شاید یہی ترقی یافتہ ہونے کی نشانی ہو ۔۔
ہمارے جہاز کو ساحل پر چار مقامات پر رکنا تھا لیکن تین پر رکا ۔۔پورٹو پلاٹا ، ڈومینیکن ،سینٹ تھامس یو ایس ورجن آئی لینڈ ، ٹار ٹولا بر ٹش ورجن آئی لینڈ اور بہاماس ۔۔لیکن وہ موسم کی خرابی کی وجہ سے بہاماس میں نہیں رکا اور واپس اور لینڈو آگیا۔۔پورٹوپلاٹا پر ایک بس پر ہم شہر کا چکر لگایا بعد میں وہ ہمیں دوکانوں میں لے گئے ، جہاں آئس کریم کھائی اور کچھ خریداری کی ، معلوم ہوا کہ کولمبس پہلے یہیں آیا تھا۔۔۔ سخت گرمی اور حبس تھا لیکن بس ائر کنڈیشنڈ تھی ۔۔سینٹ تھامس میں ہم نے کیبل کار کی سیر کی اور شہر کا نظارہ کیا ، جبکہ ٹار ٹولا میں ایک لانچ اور بس سے سیر کی ۔ میں اس کشتی میں سامنے کے جانب تھی کہ اچانک موسم خراب ہوا، تیز بارش اور اونچی لہر سے میرے کپڑے بالکل بھیگ گئے اور مشکل سے پیچھے کی طرف آئے ۔۔ پھر ہم نے ایک کھلی بس میں اس شہر یا قصبے کادورہ کیا۔ بے انتہا سبزہ ، جا بجا ناریل اور آم کے درخت دکھائی دیے اور ہر طرف مرغیاں پھرتی ہوئی نظر آئیں ۔۔ یہاں کے گھر اور عمارات کی طرز تعمیرپاکستان جیسی لگی ۔۔
الحمد للہ یہ آٹھ روزہ سفر خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔۔۔۔
Tuesday, December 31, 2024
کرسمس
لفظ “ کرسمس “ پر کُشتی🤼♂️ جاری ہے 👇🏼
✒️ محمد اقبال،،،، یُو۔کے اسلامک مشن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحقیق کرنے والے اس وقت تھوڑی زیادتی کر جاتے ہیں جب تحقیق کرنے میں ان کا اپنا ذوق، رجحان اور پسند نا پسند ان کی تحقیق میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ تحقیق کو مولڈ / فولڈ کر دیتے ہیں ، یہی حال آج کل “ ہیپی کرسمس “ کے لفظ کے ساتھ ہو رہا ہے ۔
جیسے کہا جاتا ہے کہ لفظ “ کرائسٹ “ کا معنی تو ہے “ چنا ہوا مسیحا “ لیکن اس کا مطلب و مقصد یہی ہے کہ خدا کا بیٹا۔
او بھائی جب معنی “ چنا ہوا مسیحا “ ہے تو اس میں اپنا مقصد و مطلب زبردستی کیوں گھسیڑتے ہو ؟ خدا کا بیٹا ہونا یہ عیسائیوں کا عقیدہ ضرور ہے لیکن کرائسٹ کے لفظ میں یہ شامل نہیں ہے ۔
دنیا کی کسی ڈکشنری میں کرسمس کا معنی خدا نے بیٹا جنا ، نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے “ عیسی کی پیدائش کی خوشی منانا”
ورنہ تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک نام “ مصطفی “ ہے اس کا معنی بھی یہی ہے کہ “ چنا ہوا” تو کیا اس لفظ سے زبردستی خدا کا بیٹا ہونا نکالو گے ؟ نعوذ باللہ۔
1: عیسائی بھی اللہ کو مانتے ہیں اور ہم بھی اللہ کو مانتے ہیں ، وہ اللہ کو ایک نہیں مانتے لیکن ہم ایک ہی مانتے ہیں ، تو بھائی جس اللہ کو وہ ایک نہیں مانتے تم اس کو کیوں مانتے ہو ؟ ہم یہی کہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ اپنا ہے اور ہمارا اپنا ، وہ کچھ اور مانتے ہیں لیکن ہم کچھ اور ، ان کا اپنا عقیدہ ہے ہمارا اپنا۔
2: ہم بھی انجیل کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں حالانکہ عیسائیوں نے اسے تبدیل کر دیا ہے تو بھائی آپ اس انجیل کو کیوں مانتے ہو ؟ جواب یہی ہوتا ہے جس انجیل کو وہ مانتے ہیں اور جیسے وہ مانتے ہیں ہم ایسے نہیں مانتے ، ہمارا ماننا اپنے طریقے سے اور ان کا ماننا اپنے طریقے سے ۔ جی چلیں ٹھیک ہو گیا۔ ان کا اپنا عقیدہ ہمارا اپنا۔
وہ حضرت عیسی کو خدا یا خدا کا بیٹا مانتے ہیں تو پھر آپ حضرت عیسی کو کیوں مانتے ہیں ؟ نہیں بھائی وہ اپنے حساب سے مانتے ہیں اور ہم اپنے حساب سے ، ان کا اپنا عقیدہ ہے اور ہمارا اپنا ۔
3: قران نے بتایا کہ “ بعل” ان کا خدا ( بت ) تھا جس کو وہ خدا کے مقابلے میں پوجتے تھے ( الیاس علیہ السلام کی قوم نے اس بت کی عبادت شروع کی اور عرب کے لوگوں میں یہ نام چلتا رہا )
یہی لفظ اور نام حضرت ابراہیم کی اہلیہ نے حضرت ابراہیم کے لئے استعمال کیا “ وَ هذا بَعْلی شَیْخاً” اور یہ میرا بعل تو بوڑھا ہو چکا ہے ( سورہ ہود ) تو کیا حضرت ابراہیم کی اہلیہ نے شرک کیا ؟ او نہیں بھائی مشرکین اس لفظ کو اپنے معنوں میں اپنے خدا کے لئے بولتے تھے لیکن اماں جی نے یہ لفظ اپنے معنی کے لحاظ سے استعمال کیا، وہی لفظ استعمال کر لینے سے شرک تھوڑی ہو جاتا ہے اپنا اپنا مفہوم، اپنا اپنا عقیدہ۔ جی ٹھیک ہے ہم نے مان لیا لیکن یہی بات “ ہیپی کرسمس “ کہنے میں کیوں نہیں مانتے ہو ؟ اس میں زبردستی دوسرا مفہوم کیوں داخل کر دیتے ہو ؟ جب Christ کا معنی عیسی ہے یا چنا ہوا ہے اور mass کا معنی سیلیبریشن ہے تو لفظ کرسمس میں زبردستی خدا کا بیٹا ہونا کیوں داخل کر دیتے ہو ؟ اگر عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسی اللہ کا بیٹا ہے اور اسی معنی میں وہ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو کرتے رہیں لیکن ہم تو اسے اپنے معنی “ اللہ کا بندہ / رسول کی برتھ کی سیلیبریشن “ کے لحاظ استعمال کرتے ہیں تو اس میں مسئلہ کیوں ہے ؟
یہ بات ذہن میں رہے کہ جہاں کسی پارٹی میں شراب، ڈانس یا بے حیائی وغیرہ ہو رہی ہو تو ہمیں ایسی کسی پارٹی کا حصہ بننے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ آپ ضرور ہی کسی کو ہیپی کرسمس کہیں ، بات صرف یہ ہے کہ اگر کسی کو کہنا پڑ جائے تو اس میں زبردستی شرک داخل نہیں ہو جاتا اور ایسا کہنے سے کوئی عقیدہ خراب نہیں ہوتا۔
# دعوت کے راستے بند نہ کریں ، اس سوسائٹی میں آگے بڑھنے کے لئے اور دلوں کو جیتنے کے لئے جتنے بھی جائز اور مثبت ذرائع ہو سکتے ہیں انہیں استعمال کریں اور خواہ مخواہ شکوک و شبہات کا شکار نہ ہوں۔
# جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تھے تو وہاں آپ مشرکین کے ساتھ رہتے تھے کیا آپ ان کی غمی و خوشی میں شریک ہوتے تھے یا نہیں ؟ ظاہر ہے بالکل ہوتے تھے۔
جب آپ مدینہ میں آ گئے تو یہاں یہودیوں کے ساتھ رہتے تھے کیا آپ ان کے سوشل معاملات میں شامل ہوتے تھے یا نہیں ؟ بالکل ہوتے تھے، دعوتیں کھاتے تھے ان کی غمی خوشی میں شامل ہوتے تھے، یہی آپ کا سلوک عیسائیوں کے ساتھ تھا ، اپنی مسجد میں ان عیسائیوں کو جو عیسی کو اللہ کا بیٹا مانتے تھے اپنے طریقے/مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی یا نہیں ؟ بالکل دی ، تو جس کی اجازت آپ نے دی وہ بڑا کام ہے یا ہیپی کرسمس کہنا بڑا ہے ؟
ایک عیسائی عورت جو عیسی کو اللہ کا بیٹا مانتی ہے اس کے ساتھ قران نے نکاح کی اجازت دی اس کو گھر لے آئیں اپنے بچوں کی ماں بنا لیں سب ٹھیک ہے لیکن ہیپی کرسمس کہنا جائز نہیں۔ عجیب منطق ہے۔
شریعت کو صاحبِ شریعت سے سمجھیں۔
محمد اقبال یوکے
کرسمس کی حقیقت
یہ ایک حقیقت ہے کہ کرسمَس سردیوں کا تہوار ہے - کرسمَس ٹری ، سانٹاکلاز وغیرہ کا عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے کوئی تعلق نہیں ہے -
میں بیت اللحم گئی ہوں اور الاقصی میں مریم علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام کے حجرے بھی دیکھے ۔پھر وہ گرجا بھی، جہاں عیسائی عقیدے کے مطابق عیسی علیہ السلام مصلوب ہوئے۔۔
بہر کیف حقیقت جو بھی ہے ہم جو مغربی ممالک میں رہتے ہیں تو یہ انکا بڑا اور اہم تہوار ہے
مجھے یاد ہے کہ پاکستان میں اسکو بڑادن کہا جاتاتھا -
میں اپنے جاننےوالوں کو عموما happy holidays کہتی ہوں لیکن Merry Christmas کہنے سے بھی الحمدللہ میرے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔ شکریہ
Wednesday, December 25, 2024
Coming back from Chitral
Coming back from Chitral:
At some points the road situation is pretty bad. Road to Kalash is rugged, narrow and unpaved.
We were lucky to go there, the next day roads were closed because of the landslide.
It took us 10 hours in jeep and Coaster with a few stops from Chitral to Swat Serena hotel!
انجر پنجر ہل گیا
Anyway overall it was an incredible and enjoyable trip with great company , history narratives in deep by Mr. Ziaul Haq and great arrangements by friendly, smart and supportive Yusuf of Syah group!
Thursday, November 28, 2024
سوشل میڈیا کے نامعلوم تخلیق کار
سوشل میڈیا کے نامعلوم تخلیق کار
از عابدہ رحمانی
ان تخلیق کاروں کے لئےمیرا دوسرا لقب ہے سوشل میڈیا کے نامعلوم سپاہی۔
یہ وہ بے نام تخلیق کار ہیں جو کہ پس پردہ رہ کر اپنی نت نئی تخلیقات سے ہمیں نوازتے رہتے ہیں ۔
ہم جیسے ہی سوشل میڈیا میں داخل ہوتے ہیں ۔ ایک سے ایک دیدہ زیب کارڈ، بر جستہ جملے ، انتہائی دلچسپ طنز ومزاح ، روح میں اترنے والے دلنشین اقوال ، پند و نصائح دور ماضی کی وہ تصاویر اور ویڈیو جنکے متعلق محض ہم نے محض کتا بو ں میں پڑھا تھا ، جدید و قدیم نغمات ، شاعری بزبان شعراء اور وہ مشہور شعرا جو اب ہم میں نہیں ہیں ،انکی نایاب کلپس اور ویڈیوز ہمارے اکثر بے رنگ لمحوں میں رنگ بھر دیتی ہیں ۔
دور حاظر کی ایک دلچسپ مصروفیت یا زیان وقت یہ سوشل میڈیا ہے ۔ اسمیں اب واٹس ایپ سب پر بازی لے گیا ہے ۔ اسکے بعد فیس بک اور ٹوئٹر ہے اور اسکے بعد دیگر کئی ہیں ۔
جو ذرائع معلومات اور حقیقی خبریں فراہم کرتے ہیں انکے بھی دلچسپ چبھتے ہوئے فقرے ، کلپ اور ویڈیو میسر ہیں ۔ دلچسپ تحاریر ، کالم ،شاعری کے نمونے ، خوش آمدیدی کلمات ، تہنیتی کلمات ،صبح بخیر ، جمعہ مبارک سالگرہ مبارک ، مختلف مذہبی تہواروں کے مبارکباد ، دعایئں ، قرآنی آیات ، احادیث ، مختلف علماء کی تقاریر انکا نقطہ نظر ، وظائف ،صحت کی بحالی اور دیکھ بھال کے بے شمار نسخے ، ٹوٹکے ، ورزش ، یوگا ،کسرت ،بیماریوں کے علاج ، مفید اور کارآمد پیڑ پودوں کی معلومات ، معلومات اور تفریح کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے ۔ اسی طرح سیاستدانوں کے متعلق انتہائی دلچسپ اور بسا اوقات اہانت آمیز کلپس ، ویڈیوز اور تحاریر منظر عام پر آتی ہیں ۔
لیکن ان تمام دلچسپ اور معلوماتی ٹو ٹوں کے ساتھ ساتھ ایک طویل سلسلہ جعلی اور جھوٹی خبروں ، ویڈیو ، کلپس ، تحاریر افواہوں اور دشنام طرازیوں کاہے ۔ اور انگریزی کے بقول you name it.
یہ تمام تخلیقات دنیا بھر سے نشر ہوتی ہیں ۔ لب و لہجے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انڈین ہے ، پاکستانی یا انگریز ۔
ہمار ا کام ان تمام کلپس ، ویڈیوز اور تحاریر سے لطف آٹھانا ہے یا عبرت حاصل کرنے کاہے ۔ اور پھر اسکو آگے فارورڈ کرنا اور پھیلانا ہے ۔ یوں بہت سے کلپس اور تحاریر کئی سالوں سے گردش میں رہتے ہیں ۔ بیشتر اوقات ہم بغیر سوچے سمجھے اسکو ایک کار خیر یا ایک فریضہ سمجھ کر آگے بڑھا دیتے ہیں اور پھر اس پر خفت بھی اٹھانی پڑ جاتی ہے ۔ اب تو غنیمت ہے کہ واٹس ایپ نے صرف پانچ افراد یا گروپ تک بہ یک وقت بڑھانا محدود کر دیا ہے ۔
سوچنے اور غور کرنے کا مقام یہ کہ آخر ان تمام کارڈز، کلپس اور ویڈیوز کو کون بناتا ہے اور کون نشر کرتا ہے آخر وہ اپنا نام کیوں نہیں دیتے اور جملہ حقوق محفوظ کیوں نہیں کرواتے؟
آخر کو ان سب تخلیقات پر انکی تخلیقی صلاحیتیں اور وقت صرف ہوا ہے ۔ انہیں آخر اس سے کیا فائدہ ہے ؟ میری سمجھ سے تو یہ راز بالا تر ہے۔
اگر آپ میں سے کسی کے پاس اسکا جواب ہے تو مجھے ضرور آگا ہ کریں۔ بے حد ممنون ہونگی ۔
سوچنے کا مقام ہے ا
Monday, November 11, 2024
Coming back to Orange County from Caribbean cruise
I and my friend are on united flight from Orlando to Chicago on way back to orange county.
The cruise went fantastic among bikinis and a lot many bars. We were seven Muslim or desi ladies among more than 4000 travellers. Met one Somali Muslim couple with two kids. The Caribbean was hot and humid. In a boat ride got almost soaked with a big wave.
Had a variety of cuisine, Chinese, Japanese, Italian, desi , Mexican etc.
Alhamdolillah for everything!