Monday, February 9, 2026

انڈر دی ٹیبل ،Under the table

انڈر دی ٹیبل
Under the table:
تحریر از
عابدہ رحمانی

اپنےعزیز مادر وطن میں کیسے کیسے استعارے ،انداز اور طریقہ کارپنپ رہے ہیں ، خدا کی پناہ ۔۔بعض اوقات بہت کچھ ناقابل یقین سالگتا ہے ۔
پچھلے دنوں میں جائیداد کے چند سودوں میں بری طرح الجھی ہوئی تھی ۔۔ ایسے مواقع بھی آئے جن میں یوں لگ رہا تھاکہ خواہ مخواہ کام میں رکاؤٹ پڑ جائیگی لیکن میرے پراپر ٹی ڈیلر نے مجھ سے ایک معقول رقم لے کر اسکا سد باب کر رکھا تھا جسکا اسنے مجھے بعد میں حساب دیا ۔ کہ کیسے وہ رقم کس کس کو انڈر دی ٹیبل دی گئی ۔۔
خدا کی پناہ یہ انڈر دی ٹیبل کا حصول کرنے والے ایسے ویسے لوگ ہر گز نہیں تھے بلکہ حلیے اور جثے سے نمازی پر ہیز گار ، خدا ترس قسم کے لوگ تھے ۔۔ کیونکہ انڈر دی ٹیبل کے حصول کے بعد انہیں مجھ پر ترس آہی گیا—بعد میں ڈیلر نے مجھے ایک لمبی فہرست تھمائی کہ کس کس کو کتنی ادائیگی ہوئی اور یہ بھی اسکا دین و ایمان جانے۔۔۔
اسنے مجھے بتایا کہ فلاں شخص مجھے غسلخانے یا ٹوائلٹ (بیت الخلا) لے گیا کہ وہاں پر ادائیگی ہو جائے اسلئے کہ وہاں کیمرے نہیں تھے ۔۔
 کیا اس بات پر کسی نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ کی ذات اور کراما کاتبین پر کیمرہ کیسےفضیلت لے گیا ۔۔ جبکہ ٹوائلٹ تو کیا، اللہ کی ذات ہر جگہ ہر مقام پر ہے اور اس سے کسی کا ظاہر و باطن کیسے چھپا رہ سکتا ہے ۔ کاش کہ ہمارے مسلمان اسکو سوچتے ۔۔لیکن یہ اللہ کو ماننے والے اللہ کی کب مانتے ہیں ۔۔
اس ناجائز آمدنی کیلئے انکے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں اور اسکا نام انہوں نے فضل ربی رکھا ہوا ہے ۔۔ کسی بھی سرکاری دفتر میں کوئی کام درپیش ہو تو چوکیدار یا گارڈ سے لے کر چپڑاسی اور پھر حکام بالا سب کو خوش رکھنا پڑتا ہے اور یہ خوشی انکو مناسب رقم کی ادائیگی ہے ورنہ اتنی رکاوٹیں ہونگی کہ انسان خوار ہو جاتا ہے ۔۔
یہ ذلالت عدلیہ سے لے کر انکم ٹیکس ،پولیس اور شہری اداروں میں سب جگہ موجود ہے ۔
اللہ کا شکر ہے کہ ڈیفنس کے معاملات قاعدے کے مطابق ہوتے ہیں ۔ 
مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب سندھ ہائی کورٹ میں اپنے جائز کام کے سلسلے میں وکیل صاحبہ نے کہا “ بیگم صاحبہ خرچہ کرنا پڑے گا تو آپکے فائیل کو پہئیے لگ جائینگے ورنہ یہیں پڑی رہے گی “ اور پھر ان پہیوں سے بھی کام نہیں چلا اور جج صاحب کو متاثر کر نے کیلئے کچھ قریبی تعلقات کام أئے ۔ اسی طرح جب ایک انکم ٹیکس کمشنر نے این او سی دینے کے لئے کھلم کھلا رقم کا مطالبہ کیا اور میں انکے ماتھے پر سجدے کے نشان اور داڑھی کو دیکھتی رہی ، استغفراللٰہ ، اللہ جانے کیا مجبوریاں یا مطالبات انہیں اس حرام پر مجبور کرتے ہیں ۔۔
جابجا لکھا ہوتا ہے “ الراشی والمرتشی فی النار “ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔۔ تو کیا ہم دینے والے جو مجبوری سے دیتے ہیں اس گناہ سے بری الذمہ ہیں ؟؟