نور بصارت
از
عابدہ رحمانی
پچھلے دو سال سے تو یہی محسوس ہو تا تھا کہ آنکھیں دھندلا گئی ہیں ۔ گھڑی گھڑی چشمہ لیکوئیڈ سوپ سے دھو نا ایک عادت سی بن گئی تھی پھر اسکو نرم کپڑے یا تو لئے سے پہونچنا ورنہ پھر مائع سپرے سے صاف کرنا ۔ اس سے کچھ دیر کیلئے لگتا تھا کہ صاف دکھ رہا ہے ۔۔ گاڑی چلاؤ تو دور کے سائن بورڈ چشمہ لگا کر بھی نظر نہیں آتے تھے ۔اور پھر سب ماہر امراض چشم یہی کہتے تھے کہ موتیا cataract تو ہے لیکن تیار نہیں ہے ۔ اسلئے ابھی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
ایک سال پہلے یہ طے پایا کہ اب اس آپریشن کا وقت آچکا ہے ۔ مختلف ماہر امراض چشم نے مختلف لینس دکھائے کہ اسمیں یہ فائدہ ہوگا اور اسمیں یہ ، لیکن پھر عمومی یا سٹینڈرڈ ( standard )لینس لگانے کا فیصلہ ہوا ۔۔آنکھیں انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمت ہے ۔۔ یوں تو جسم کا کوئی بھی حصہ خراب ہو جائے تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے لیکن کچھ اعضاء کے بغیر بھی گزر بسر ہو جاتی ہے ۔۔ جیسے کہ پتہ ( Gall bladder )یا گردہ ، اپنڈکس خراب ہو جائے تو نکال دیا جاتا ہے لیکن آنکھوں کے بغیر دنیا اندھیر ہے ۔۔
خدا خدا کر کے آپریشن کا وقت آیا ، سن تو یہ رکھا تھا کہ چھوٹا سا آپریشن ہے لیکن اتنا چھوٹا بھی نہیں اور آپریشن کے بعد پورے فوائد حاصل کرنے کیلئے اس قدر احتیاط۔۔۔چھوٹی بہن کا یہی آپریشن ایک ماہ پہلے ہو چکاتھا اسنے بھی کافی رہنمائی کی ۔۔
أپریشن کے بعد کم ازکم دو ہفتے تک جھکنا نہیں ہے ، بھاری وزن نہیں اٹھانا ، آنکھوں کو گیلا ہونے سے بچانا ہے ، آنکھ کے اندر کوئی صابن اور شیمپو نہیں جانا چاہئے ، آنکھوں کو تیز دھوپ سے بچانا ہے اور پھر آگ کے پاس نہیں جانا ہے ۔۔ آنکھ کے اندر ڈالنے کیلئے تین قسم کے قطروں کا استعمال کرنا ہے ۔۔ اینٹی بایوٹک ، کارٹی زون اور پھر آنکھ کو نم رکھنے والے قطرے ۔۔
پورے آپریشن کی تیاری تھی ،آپریشن سے آٹھ گھنٹے پہلے کھانا پینا بند کر دینا ہے۔ اینٹی بایوٹک قطرے چار روز پہلے سے استعمال کرنے تھے ۔۔
پہلے بائیں آنکھ کے آپریشن کا فیصلہ ہوا کیونکہ بقول ڈاکٹر اسمیں موتیا کافی موٹا ہو چکا تھا ۔۔صبح میرا بیٹا آنکھوں کی سر جری میں لے گیا ۔۔ مختلف کاغذات پر دستخط ہوئے ۔۔ امریکہ میں ڈاکٹر حفظ ما تقدم کے طور پر اور زیادہ احتیاط برتتے ہیں ۔۔میری دیکھ بھال پر مامور نرس نے مجھے جوتوں کپڑوں سمیت بستر پر لیٹنے کے لئے کہا ۔۔میں نے اسے کہا کہ جوتوں میں ،میں تنگ ہو نگی اسلئے جوتے اتار دیتی ہوں ،صرف موزے کافی ہیں ۔۔ فینکس میں ان دنوں شدید گرمی تھی لیکن اندر کافی ٹھنڈا تھا اسنے مجھے ایک کے بعد ایک گرم چادر جسکو وہ Blanket کہتے ہیں اوڑھائی اور میری دائیں آنکھ بند کرکے بائیں آنکھ میں ایک کے بعد ایک مختلف قطرے ڈالنے شروع کئے ۔بقول اسکے وہ میری آنکھ کو قطروں سے نہلانے والی ہے ۔۔میرے کان کے پاس اسنے موٹا سا تولیہ رکھا تاکہ یہ بہتے ہوئے قطرے کان میں نہ چلے جائیں ۔ ڈاکٹر نے جو وقت دیا تھا اس سے دیر ہو رہی تھی ۔۔ قطروں سے نہلاتے نہلاتے اسنے آنکھ میں میں کوئی جیلGel ڈالی جس سے آنکھ چپک گئی ۔
آپریشن تھیٹر جانے کا وقت آچکا تھا ڈاکٹر اور Anesthesiologist میری منتظر تھیں اسنے Anesthesia لگایا اور ڈاکٹر نے لینس نکالنے اور لگانے کا اپنا کام شروع گیا ۔۔ یہ انیستھیسیا اس قسم کا تھا کہ تکلیف کا احساس تو نہیں ہو رہا تھااورآنکھ کو کھلا رکھنا تھا ۔ ڈاکٹر نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ لینس لگا تے ہوئے تھوڑا دباؤ محسوس ہوگا ۔آپریشن مکمل ہوا تو میری آنکھ پر ایک پلاسٹک کی کٹوری سی لگا کر پٹی باندھ دی گئی جو اگلی صبح ڈاکٹر کے ہاں جا کر اسے کھولنی تھی ۔۔
گھر آنے کے بعد میرے بچوں نے کافی خیال رکھا ۔ قطروں کا چارٹ تھا ، دن میں چار چار مرتبہ دونوں قطرے ڈالنے تھے پھر اگلے ہفتے اینٹی بایوٹک بند کرکے سٹیرائیڈ تین مرتبہ ، اگلے ہفتے دو مرتبہ اور پھر ایک مرتبہ ڈالنا تھا ۔۔میں پہلے دن تو قدرے بے حال رہی ۔۔وضو احتیاط سے کیا ، آنکھ پر تو پٹی تھی ، نماز ایسے ادا کی کہ سر جھکانا نہ پڑے ۔
اس دن اتفاق سے میرا یوم پیدائش تھا ۔۔ میرے بیٹے اور بہو نے شام کو کھانا اور کیک لاکر میری سالگرہ منائی ۔۔
اگلی صبح ڈاکٹر کے ہاں اسکی اسسٹنٹ پٹی اتار رہی تھی کہ میرے بیٹے کو مذاق سوجھا ،”ڈاکٹر مجھے کچھ نظر نہیں آرہا ہے؟
۔ الحمد للہ نظر تو آرہا تھا لیکن قدرے دھندلا۔۔ ڈاکٹر نے تسلی دی کہ چونکہ اس آنکھ میں موتیا موٹا ہو گیا تھااس لئے رفتہ رفتہ بہتر ہو جائے گا ،ساتھ ہی سخت تاکید کی کہ آنکھ کو ہرگز کجھلانا یا ملنا نہیں ہے اور سوتے وقت آنکھ کو ڈھکنا ہے ۔
چھوٹی بہن کے تجربے کے مطابق ہر قسم کے سکرین فون ، کمپیوٹر، ٹی وی وغیرہ سے کم از کم ایک ہفتے تک گریز لازمی ہے ، اسکے ڈاکٹر نے یہی ہدایت کی تھی لیکن میری ڈاکٹر نے کہا کہ میں سب کچھ کر سکتی ہوں اور ٹی وی وغیرہ دیکھا جاسکتا ہے - سوتے وقت پلاسٹک والی کٹوری کے اوپر blinder پہن لیتی تھی ۔۔
آنکھ کو گیلا ہو نے سے بچانے کیلئے ایک ہفتے تک میں نے سر نہیں دھویا اور پھر بال پیچھے کرکے دھویا اور آنکھ کو پوری طرح بچایا ۔۔جنکی یہ سرجری ہوئی تھی انکے تجربات اور بھائی گوگل Google سے استفادہ کیا ۔۔
پورے ایک ہفتے کے بعد دوسری یعنی دائیں آنکھ کی سرجری ہوئی اوریہ سارا عمل اسی طرح دہرایا گیا البتہ جب اس آنکھ کی پٹی کھولی گئی تو سب کچھ بہت روشن اور صاف نظر آرہا تھا ۔۔
اب تقریبا دو ماہ ہو نے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر اور احسان ہے کہ بینائی بحال ہو گئی ہے ۔قریب ، باریک پڑھنے لکھنے کیلئے چشمہ کی ضرورت ہے ورنہ بغیر چشمے کے بھی نظر آجاتا ہے ۔۔ہاں تیز دھوپ سے بچنے کے لئے ہیٹ اور کالا چشمہ پہن لیتی ہوں ۔۔۔۔۔
فباي ألاء ربكما تكذبان ، أپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤگے ۔۔۔